Translater

09 جولائی 2011

کیا راہل کی پدیاتراسے کانگریس کو یوپی میں فائدہ ہوگا؟


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 9th July 2011
انل نریندر
 ماننا پڑے گا کے راہل گاندھی اپنے یوپی مشن 2012ء پر پوری طرح اتر چکے ہیں۔ وہ دن رات ایک کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ بھٹہ پارسول سے راہل گاندھی کی کسان سندیش یاترا رنگ لانے لگی ہے۔ وہ گاؤں گاؤں پیدل یاترا کررہے ہیں۔ یوپی میں بگڑتے امن و قانون نظم اور ترقی کے مسئلے کے مقابلے مایا سرکار کی زمین تحویل پالیسی پر زبردست چوٹ کرکانگریس نے یوپی میں ایک طرح سے ہلہّ بول دیا ہے۔ راہل گاندھی نے دہلی سے ملحق گریٹر نوئیڈا کے بھٹہ پارسول گاؤں سے اپنی کسان سندیش یاترا شروع کی ہے جو علی گڑھ جا پہنچی ہے۔ راہل کے مطابق اس پد یاترا کا مقصد بھٹہ سے آگرہ اور علیگڑھ تک ہورہے زمین ایکوائر اور اس سے پیدا ہورہی پریشانیوں کو سمجھنا اور متاثرہ لوگوں کے نظریات جاننا ہے۔ بھٹہ پارسول وہی گاؤں ہے جہاں کچھ دن پہلے اپنی زمین کو تحویل میں لئے جانے کی مخالفت کررہے کسانوں کی مشتعل بھیڑ پر پولیس نے گولیاں چلائی تھیں جس میں چار لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ اسی واقعہ کے بعد راہل گاندھی بھی وہاں جاکر دھرنے پر بیٹھے تھے اور انہوں نے گرفتاری بھی دی تھی۔ بھارت میں بہت دنوں کے بعد کسی لیڈر نے پد یاترا کی ہے۔ آج کل تو نیتا لوگ ہیلی کاپٹروں یا کاروں کے قافلے کے ساتھ محض رسم ادائیگی زیادہ کرتے ہیں۔ ایسے میں راہل کا پد یاترا کرتے ہوئے گاؤں میں جانا اور کسانوں کے ساتھ دال روٹی کھانا را ت میں پلنگ پر ہی سونا ، ان کے مسائل کو سننا ، نہ صرف اترپردیش کے لئے ہیں ایک سیاسی واقعہ ہے بلکہ پورے دیش میں اس کا ایک سندیش جارہا ہے۔ یوں تو پدیاترا کی روایت نئی نہیں ہے۔ سب سے پہلے اس کی بنیاد مہاتما گاندھی نے رکھی تھی، ان کے بعد ونوبابھاوے ، بابا آمٹے، سابق وزیر اعظم چندر شیکھر اور اداکار سے نیتا بنے سنیل دت کی طویل پد یاترائیں بھی کافی سرخیوں میں رہی ہیں۔ اب دہائیوں کے بعد راہل گاندھی کی شکل میں کوئی سیاستداں کسانوں کے سوالوں کو لیکر پد یاترا پر نکلے ہیں۔ کانگریس کے شہزادے راہل دھول ، دھوپ، بارش اور مٹی اور گرمی کے درمیان گاؤں کی گلیوں کی خاک چھان رہے ہیں تو دوسری طرف کانگریسی انہیں مل رہے ہیں۔کانگریس عوامی حمایت کے بلبوتے پر اقتدار کی واپسی کا سپنا دیکھنے لگی ہے۔ یہاں تک کہ 9 جولائی یعنی آج علیگڑھ کے نمائش میدان میں کسان مہا پنچایت کے لئے تیاریاں پوری ہوچکی ہیں۔ یووراج کے کرشمے کو دیکھنے کیلئے وہاں لوگ دور دور سے پہنچ رہے ہیں۔ کانگریسیوں کو لگنے لگا ہے کہ اگلے سال ہونے والے یوپی اسمبلی چناؤ میں پارٹی حکمراں بہوجن سماج پارٹی کو سیدھے ٹکر دینے کی پوزیشن میں آگئی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جنتا سے یہ براہ راست رابطہ رنگ لائے گا اور 21 سال بعد اترپردیش کے اقتدار میں واپسی ممکن ہو سکے گی۔ یہاں تک کہ علیگڑھ میں راہل کی گرفتاری کے امکان سے بھی کانگریسی کافی خوش ہیں۔ پارٹی کے لیڈروں کا خیال ہے کہ اگر مایاوتی راہل کو گرفتار کرتی ہیں یا کوشش کرتی ہیں تو ان کے عہد کیلئے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی۔ حالانکہ انتظامیہ کی طرف سے آرہی خبروں کے مطابق دفعہ144 نافذ ہونے کے باوجود راہل کو گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
کسانوں کو انصاف دلانے کے مقصد سے راہل کی پد یاترا سے وزیر اعلی مایاوتی بے چین ضرور ہوں گی۔ ادھر عدالتی فیصلوں نے بہن جی کی سرکار کی ناک میں دم کررکھا ہے۔ ادھر راہل کو مل رہی عوامی حمایت بہن جی کے لئے تشویش کا موضوع ضرور بن گئی ہیں۔ بیشک بہن جی اور ان کے حکمت عملی ساز یہ دلیل دیں کہ مغربی اترپردیش ہمیشہ سے اجیت سنگھ کا گڑھ رہا ہے، جاٹ بیلٹ ہے جو بسپا کے ساتھ نہیں ہے۔ اگر راہل گاندھی کی پد یاترا سے جاٹ ووٹ کانگریس کو جاتا ہے تو بسپا کو کوئی نقصان نہیں ہونے والا۔ یہ ووٹ تو ان کے خلاف پڑنا ہی تھا۔ لیکن بہن جی کو یہ سمجھنا چاہئے کہ راہل کی پدیاترا کا اثر محض گریٹر نوئیڈا سے لیکر علیگڑھ بیہٹ تک ہی محدود نہیں رہے گا۔ اس کا اثر پورے اترپردیش پر پڑے گا۔ اگر میں یہ کہوں کہ پوری ریاست میں کسان بیلٹوں پر اثر پڑے گا تو شاید غلط نہ ہو۔ کسان بھولے بھالے ، سیدھے سادے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک بار ان کے ساتھ حقہ پانی لے لو اور بڑے بزرگ سر پر ہاتھ رکھ کر آشیرواد دے دیں تو وہ اتنی آسانی سے نہیں پلٹتے۔ راہل کی محنت ضرور رنگ لائے گی۔ راہل نے آج کے دوسرے سیاستدانوں کو بھی ایک طرح سے بے نقاب کردیا ہے۔جو جنتا کے مفادات کی کسانوں کے مفاد کی باتیں تو لمبی چوڑی کرتے ہیں لیکن کچھ نہیں کرتے۔ راہل نے یہ سب کر کے دکھا دیا ہے۔
 Tags: Aligarh, Anil Narendra, Bhatta Parsaul, Congress, Daily Pratap, Greater Noida, Mayawati, Rahul Gandhi, Uttar Pradesh, Vir Arjun

ڈی ایم کے کا تیسرا کرپٹ وکٹ ڈاؤن، مارن کا استعفیٰ



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 9th July 2011
انل نریندر
وپی اے کی کچھ اتحادی پارٹیوں نے منموہن سنگھ حکومت کا ساتھ و حمایت اس لئے دی تھی کہ وہ دیش کو لوٹ سکیں۔ ان کا واحدمقصد پیسہ کمانا تھا اور ہے۔ ان میں خاص ہے ڈی ایم کے حالانکہ این سی پی بھی اسی زمرے میں آتی ہے لیکن فی الحال ڈی ایم کے کا نمبر لگا ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ میں ڈی ایم کے کو آخر کار تیسرا وکٹ گنوانا پڑا۔ مرکزی وزیر کپڑا دیاندھی مارن کا معاملہ جیل میں بند اے راجہ اور ڈی ایم کے ایم پی کروناندھی کی بیٹی کنی موجھی سے بھی ایک قدم آگے ہے۔ دیا ندھی مارن نے یوپی اے حکومت میں مرکزی وزیر مواصلات رہتے ہوئے کمال ہی کرڈالا۔ سی بی آئی نے بدھوار کو سپریم کورٹ میں اسٹیٹس رپورٹ پیش کرتے ہوئے بیان دیا کہ مارن نے ایئر سیل کمپنی کی حصہ داری ملیشیائی کمپنی میکسس کو فروخت کروائی۔ پھر اسے لائسنس دے کر بدلے میں 675 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری اپنے سن ٹی وی میں کروا دی۔ سی بی آئی کے وکیل کے کے وینوگوپال نے جسٹس جی ایس سنگھوی اور اے کے گانگولی کی بنچ کو بتایا کہ 2006 ء میں ٹیلی کام وزیر رہتے ہوئے مارن نے چنئی کی کمپنی ایئر سیل کی لائسنس درخواست جان بوجھ کر التوا میں رکھی۔ اسے اپنی حصے دار ملیشیائی کمپنی میکسس کو بیچنے کے لئے مجبور کیا۔ میکسس ، ایئرسیل کو لائسنس دینے کے بدلے میں اپنی ڈی ٹی ایم کمپنی سن ٹی وی کے لئے بڑا سرمایہ حاصل کیا۔ مارن کا فارمولہ آسان تھا ۔ اس ہاتھ لو اس ہاتھ دو۔ میکسس کے وی آنند کرشنن مارن کے رشتہ دار ہیں اس لئے مارن نے ان کے ذریعے یہ فائدے کا سودا کیا۔ دیکھئے یہ کھیل مارن نے کیسے کھیلا۔ دباؤ بنانے کیلئے پہلے تو مارن نے ایئر سیل کے ٹو جی اسپیکٹرم لائسنس درخواست کو دو سال تک روکے رکھا۔ پھر 2006 ء میں ایئر سیل کو اپنی حصے دار میکسس کو بیچنے کے لئے مجبور کیا۔ بدلے میں میکسس نے اپنی ایک ساتھی کمپنی کے ذریعے مارن کی سن ٹی وی میں 675 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی۔ اس کے عوض میں ایئر سیل کی 74 فیصدی حصے داری کو لیکر میکسس کو 23 سرکل کے لائسنس دے دئے۔ کنی موجھی تو کل 200 کروڑ روپے کے گھوٹالے میں شامل تھیں، دیا ندھی مارن نے تو 675 کروڑ روپے کا براہ راست گھپلہ کیا ہے۔
یہ دوسرا موقعہ ہے جب مارن کو وزارت چھوڑنی پڑی ہے۔ اس سے پہلے انہیں 2007ء میں عہدہ اس وقت چھوڑنا پڑا تھا جب کروناندھی خاندان میں اندرونی اختلافات کا شکار ہوئے تھے۔ چنئی سینٹرل سے لوک سبھا کے ممبر مارن عام چناؤ کے بعد مئی 2009ء میں پھر سے کیبنٹ میں شامل ہوئے لیکن اس بار انہیں ٹیلی وزارت نہیں ملی جیسا کے وہ چاہتے تھے۔ بلکہ انہیں کپڑا وزارت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کانگریس نے بدھوار کو جہاں دیاندھی مارن کے استعفے پر تبصرہ کرنے سے منع کردیا وہیں یہ بھی کہا کہ ڈی ایم کے پارٹی کے ساتھ ان کا اتحاد جاری رہے گا۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ بنیادی حقیقت کی ترجیحات پر سیاسی اتحاد قائم ہوتا ہے۔ ہمارا اتحاد ڈی ایم کے کے ساتھ سال2004 سے جاری ہے اور اس صورت میں کوئی بھی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
کیا اسے محض اتفاق ہی مانا جائے گا کہ منموہن سرکار سے ان تمام کرپٹ وزیروں کا صفایا سپریم کورٹ کے کہنے پر ہورہا ہے یا یہ سب کسی طے شدہ حکمت عملی کے تحت ہورہا ہے؟ ڈی ایم کے کے بعد اب اگلا نمبر این سی پی کے بدعنوان وزیروں کا ہونا چاہئے۔
Tags: 2G, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, Manmohan Singh, NCP, Supreme Court, Vir Arjun

08 جولائی 2011

مرلی دیوڑا کے سامنے کرسی چھوڑنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 8th July 2011
انل نریندر
کمپنی امور کے وزیر مرلی دیوڑا نے شخصی اسباب کا حوالہ دیکر منموہن وزارت سے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے اپنی پیشکش میں کہا ہے کہ وہ اب پارٹی کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور ان کی جگہ ان کے صاحبزادے ملن دیوڑا کو وزارت میں وزیر مملکت کی حیثیت سے شامل کیا جائے۔ مرلی دیوڑا کے استعفے کے پیچھے دراصل کچھ اور وجوہات ہیں۔ انہوں نے یوں ہی استعفیٰ نہیں دیا۔ بطور وزیر پیٹرولیم ریلائنس پیٹرولیم کو فائدہ پہنچانے میں ان کے کردار پر کمپٹرولر و آڈیٹر جنرل (کیگ) کی جانب سے سوال اٹھائے جانے کے بعد ان کا جانا طے تھا۔ اس کے اشارے انہیں مل چکے تھے۔ 2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے کی طرح کیگ میں ریلائنس انڈسٹریز کی جانب سے لگائے جارہے کے جی ڈی۔6 تیل سیکٹر کی لاگت بے تحاشہ بڑھا کر سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے پر انگلی اٹھائی ہے۔ کیگ کی رپورٹ کے مطابق حکومت کو امبانی بھائی چلا رہے ہیں نہ کہ یوپی اے۔ یہ اس حکومت میں کھلے عام ہو رہی لوٹ پاٹ کی علامت ہے۔ کیگ رپورٹ میں لاگت بڑھنے کی میعاد کے دوران وزارت پیٹرولیم میں امبانی حمایتی مرلی دیوڑا وزیر تھے۔ سرکار اس معاملے میں کسی بھی کارروائی سے بچنے کے علاوہ تاخیر کرنے کی پوری کوشش کررہی ہے اور اس سرکار کے بچے ہوئے تین برسوں کی میعاد کے دوران امبانی بھائیوں کو پوری سرپرستی ملتے رہنا یقینی ہے۔ کیگ نے کے جی ڈی ۔6 سیکٹر کی لاگت میں بھاری بھرکم اضافے پر اعتراض کیا ہے۔ سی بی آئی نے بھی 2009 میں الزام لگائے تھے کہ ہائیڈرو کاربن ڈائریکٹر جنرل وی کے سبل نے آر آئی ایل کو فائدہ پہنچاتے ہوئے کہ جی ڈی 6 سیکٹر کی لاگت 2.4 بلین ڈالر سے بڑھا کر 8.8 بلین ڈالر کی اجازت دی تھی۔ ستمبر اور دسمبر2006 ء میں یہ اجازت دی گئی تھی اور سی بی آئی پی آر نمبر6 2009 کے ذریعے سی بی آئی کی بد عنوانی انسدادیونٹ نے ریلائنس انڈسٹریز لمیٹڈ کو شخصی فائدہ و خدمات کے سلسلے میں دائر کی گئی تھی۔ ان سب کے باوجود منموہن سنگھ میں امبانی یا پھر کسی صنعت کار کے خلاف کارروائی کرنے کی ہمت نہیں ہے۔ اس لئے امبانی کیگ کی رپورٹ یا کسی دیگر ایجنسی کی رپورٹ سے نہیں ڈرتے، ان کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ کیگ کی جس رپورٹ میں مرلی دیوڑا پر انگلی اٹھائی گئی ہے سرکار پارلیمنٹ کے آنے والے اجلاس میں اسے اپنے لئے نئی مصیبت کی شکل میں دیکھ رہی ہے۔ بتاتے ہیں کہ اسے ڈر یہ ستا رہا ہے کہ اپوزیشن اسے ضرور اشو بنائے گی اور پارلیمنٹ میں سرکار کی فضیحت ہوسکتی ہے۔ لہٰذا پارٹی نے انہیں (مرلی دیوڑا) کو خود ہی ہٹنے کے لئے پہلے ہی اشارے دے دئے تھے۔غور طلب ہے کہ مرلی دیوڑا نے وزارت کا عہدہ اس وقت چھوڑا ہے جب وزیر اعظم منموہن سنگھ کیبنٹ میں توسیع کو قطعی شکل دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ مرلی دیوڑا نے جو کچھ کرنا تھا وہ کرلیا ہے، اب ان کے بیٹے کو کیبنٹ میں شامل کیا جاتا ہے یا نہیں یہ بہت سی دیگر باتوں پر منحصر کرتا ہے۔ مرلی دیوڑا کے عہد میں امبانی بھائیوں کا ٹکڑاؤ تیل کی ریکارڈ قیمتوں کے ارن ویدانتا سودے میں دیری خاص باتیں رہیں۔ جب امبانی بندھوؤں کے درمیان ٹکراؤ شباب پر تھا تب انل امبانی نے بطور وزارت پیٹرولیم دیوڑا پر ریلائنس انڈسٹریز کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا تھا۔ بتاتے ہیں دیوڑا نے کچھ ہفتے پہلے ہی کانگریس اعلی کمان کے سامنے اپنا استعفیٰ رکھا تھا۔ استعفیٰ قبول کرلیا گیا ہے یا نہیں اس کو لیکر ابھی سسپینس بنا ہوا ہے۔
Tags: Anil Narendra, CAG, Congress, Daily Pratap, Manmohan Singh, Mukesh Ambani, Murli Deora, Sonia Gandhi, Vir Arjun

گلے کی ہڈی بنتا تلنگانہ اشو


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 8th July 2011
انل نریندر
چاروں طرف مسائل سے گھری یوپی اے حکومت اب ایک اور مسئلے میں پھنس گئی ہے۔ کانگریس لیڈر شپ اور سرکار کے لئے نیا مسئلہ علیحدہ تلنگانہ ریاست مانگ کا ہے۔ آندھرا پردیش کے علیحدہ تلنگانہ پردیش کو لیکر حالات انتہائی سنگین رخ اختیار کر گئے ہیں۔ پیر تک کانگریس کے 10 ممبران پارلیمنٹ اور47 ممبران اسمبلی نے اپنے اپنے استعفے بھیج دئے تھے۔ تلنگانہ ریاست بنوانے کیلئے سبھی پارٹیوں نے سیاسی مہم تیز کردی ہے۔ اپوزیشن پارٹی ٹی ڈی پی کے بھی37 ممبران اسمبلی نے اسمبلی اسپیکر کو اپنا استعفیٰ بھیج دیا ہے۔ بھاجپا اور کانگریس کے ممبران نے بھی اپنے استعفے سونپ دئے ہیں۔ استعفیٰ دینے والوں میں 9 کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ بھی ہیں۔ کانگریس پارٹی کے لئے علیحدہ تلنگانہ کی تشکیل گلے کی ہڈی بن گئی ہے جو نہ تو اگلتے بنتی ہے اور نہ ہی نگلتے۔ یہ بات کانگریس کے ریاستی انچارج غلام نبی آزاد نے بھی تسلیم کی ہے۔ حالانکہ تلنگانہ کا مطالبہ نیا نہیں ہے۔ تلنگانہ ریاست کی مانگ 50 سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ مگر ہر حکومت اسے ٹالتی رہی ہے۔ اٹل بہاری واجپئی سرکار میں اقتدار میں شامل تیلگو دیشم کا دباؤ تھا تو اپنے چناوی منشور میں تلنگانہ کی مانگ کی حمایت کرنے والی یوپی اے سرکار خودساختہ اتفاق رائے نہ بناپانے کے سبب اس مانگ کو پورا کرنے میں ناکام رہی اور تلنگانہ راشٹر سمیتی (ٹی آر ایس) کے نیتا چندر شیکھر راؤ کو کیبنٹ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ اپنی مانگ کو لیکر کی گئی ان کی بھوک ہڑتال کے پس منظر میں دسمبر2009 ء میں وزیر ادخلہ پی چدمبرم نے تلنگانہ ریاست بنانے کی یقین دہانی کرائی تھی جس کے بعد جسٹس بی ایس کرشنا کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔ جس کی ثالثی کے بعد کوئی ایک رائے نہ دیکر کئی متبادل سامنے رکھے گئے۔ اس درمیان مرکزی حکومت تلنگانہ کی مانگ کو لیکر ایک بار پھر الجھ گئی ہے۔ اب جب مانگ پھر سے اٹھائی گئی ہے اور استعفوں کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا ہے تو کانگریس اور اس کی لیڈر شپ والی یوپی اے سرکار ایک بار پھر سوچنے پر مجبور ہوئی ہے۔
سرکار قدم پھونک پھونک کر رکھ رہی ہے۔ دراصل منموہن سنگھ سرکار نہیں سمجھ پا رہی ہے کہ وہ کرے تو کیا کرے؟ اگر وہ علیحدہ تلنگانہ کی تشکیل کرتی ہے تو پھر کم سے کم 6 آزاد ریاستوں کی مانگ تیزی سے اٹھے گی اور اگر نہیں کرتی تو پھر آندھرا پردیش کے ساتھ ساتھ دہلی میں مرکزی سرکار پر بھی سنکٹ آسکتا ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری غلام نبی آزاد نے مانا ہے کہ صورتحال پیچیدہ ہے لیکن انہیں امید ہے کہ وہ اپنے ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کو منا لیں گے۔ وہ ان کے جذبات کو سمجھ رہے ہیں اور انہیں تھوڑا انتظار کرنے کی صلاح دے رہے ہیں۔ منموہن سرکار ہوسکتا ہے کہ انا ہزارے مسئلے کی طرح اس مسئلے پر بھی کل جماعتی میٹنگ بلائے جس سے تلنگانہ کے مسئلے پر دوسری پارٹیوں کی رائے جانی جاسکتی ہے۔ کانگریس اور سرکار کو ڈر اس بات کا ستا رہا ہے کہ اگر تلنگانہ کی مانگ قبول کرلی جاتی ہے تو بندیلکھنڈ ، ہرت پردیش، روہیل کھنڈ، پوروانچل ودربھ اور رائل سیما اور کونکن جیسے علاقوں میں حالات بگڑنے کے امکان بڑھ جائیں گے جوکہ کانگریس فی الحال نہیں چاہتی۔ دوسری جانب اگر وہ اس مانگ کو مسترد کرتی ہے تو بہت بڑا خطرہ اٹھانا ہوگا۔ آندھرا پردیش میں جگن پہلے ہی وزیراعلی کرن ریڈی کی ناک میں دم کئے ہوئے ہیں۔ مرکز کی جانب سے مانگ نامنظور کرنے سے نہ صرف کرن ریڈی سرکار گر سکتی ہے بلکہ آنے والے وقت میں اس کے قریب ایک درجن سے زائد ممبران پارلیمنٹ بھی کم ہوجائیں گے۔ آنے والے وقت میں اس سب سے مضبوط گڑھ میں کانگریس بیحد کمزور ہوگی۔ کانگریس کو معاملے کو لٹکانے میں ہی فائدہ ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کیا علیحدہ تلنگانہ ریاست کی مانگ کرنے والے ایسا ہونے دیں گے؟
Tags: Andhra Pradesh, Anil Narendra, Daily Pratap, Hyderabad, TDP, Telangana, TRS, Vir Arjun

07 جولائی 2011

ناجائز کالی کمائی کو واپس لانے کی سپریم کورٹ کی لائق تحسین کوشش


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 7th July 2011
انل نریندر
اگر حسن علی اور کاشی ناتھ تاپوریہ نے سوچا تھا کہ وہ اتنی آسانی سے ساری کارروائی سے بچ جائیں گے تو انہوں نے غلط سوچا تھا۔ سپریم کورٹ ایسا نہیں ہونے دے گی۔ سپریم کورٹ نے بیرونی ممالک میں جمع کالی کمائی کے معاملے میں اس دولت کو واپس لانے اور اس کی نئے سرے سے جانچ کرنے کیلئے ایک اعلی سطحی اسپیشل ٹاسک فورس قائم کردی ہے۔ سوموار کو عدالت کے جسٹس ڈی سدرشن ریڈی اور ایس ایس ندھر کی ڈویژن بنچ نے اس معاملے کی سماعت کرتے ہوئے حکومت ہند کو زبردست پھٹکار لگائی۔ انہوں نے حسن علی خاں کیس کو نشانہ بناتے ہوئے سالیسٹر جنرل گوپال سبرامنیم سے سوال کیا کہ انفورسٹمنٹ ڈائریکٹرویٹ (ای ڈی) نے حسن علی معاملے میں صرف 44 کروڑ روپے کی دولت کو ضبط کرکے کیا پیغام دینا چاہا ہے؟ ڈویژن بنچ نے سوال کیا کہ وہ جیرومو کا کیا ہوا؟ انکم ٹیکس نے تو 40 ہزار کروڑ روپے کی انکم ڈیمانڈ نکالی تھی؟ حسن علی کے ساتھی کاشی ناتھ تاپوریہ کے خلاف 20580 کروڑ روپے کا ڈیمانڈ نوٹس دیا تھا۔ اب آپ عدالت کو بتا رہے ہیں کہ آپ نے 44 کروڑ روپے کی املاک کو ضبط کیا ہے باقی جیرومو کا کیا ہوا؟ مطلب صاف تھا کہ انکم ٹیکس محکمہ حسن علی خاں کو بچا رہا ہے، کیوں ؟ عدالت نے یہ بھی کہا کہ یہ پہلی بار نہیں جب اس معاملے میں عدالت کو مایوسی ہوئی ہے، پہلے بھی اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی کارروائی پر سوالیہ نشان لگ رہا ہے۔ عدالت نے سوال کیا کہ 2007 ء میں ای ڈی نے سنسنی خیز خلاصہ خود کیا تھا کہ 2001-2005 کے درمیان حسن علی خاں کا لین دین 1.6 بلین ڈالرکا تھا۔ 2007 ء میں جب حسن علی کے پونے میں بنے گھر پر چھاپہ مارا گیا تھا تو وہاں سے 8.04 بلین ڈالر کے یوبی ایس بینک، سوئٹزر لینڈ کو لین دین کے دستاویز ملے تھے۔ عدالت نے پوچھا کہ حسن علی کے بوفورس دلال عدنان خشوگی سے سب کو کیا ملاہے؟ حسن علی نے خشوگی کا یو بی ایس بینک میں کھاتہ کھلوانے میں مدد کی تھی۔ سرکار کے پاس عدالت سے کسی بھی سوال کا تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بیرون ملک میں چھپائے گئے کالے دن کی جانچ میں سرکار کی لیپا پوتی اور گمراہ کرنے والی کارروائی سے ہی تنگ آکر سپریم کورٹ نے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصلہ کیا۔ ایک اسپیشل ٹاسک فورس کی تشکیل کا فیصلہ اسی مقصد سے لیاگیا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق تقریباً1456 ارب ڈالر یعنی 70 لاکھ کروڑ روپے بیرونی ممالک میں جمع ہیں۔ اس حساب سے دیش کی املاک کا 40 فیصد بلیک منی کی شکل میں بیرونی ملکوں میں جمع ہے۔ امریکہ کی قانونی دھمکیوں کے بعد سوئٹزر لینڈ کے یو بی ایس بینک نے نہ صرف کھاتہ ہولڈر امریکی شہریوں کے نام بتائے، 78 کروڑ ڈالر کا ہرجانہ بھی دیا۔ جبکہ بھارت نے پچھلے 20 برسوں سے کالی کمائی کو واپس لانے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ سپریم کورٹ نے پیر کو صاف کہا کہ مرکزی حکومت اس مسئلے پر سنجیدہ نہیں ہے۔ اس سلسلے میں اس نے یہ دو ٹوک تبصرہ بھی کیا کہ سرکار نے جو قدم اٹھائے ہیں ان پر اسے زبردست اعتراض ہے۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی پایا کہ کالے دھن کی جانچ پوری طرح سے رکی ہوئی ہے۔ آخر بڑی عدالت کے ایسے سخت موقف کے بعد سرکار کس منہ سے یہ کہہ سکتی ہے کہ وہ کالے دھن کے مسئلے پر سنجیدہ ہے؟ دیش کی معیشت اور سکیورٹی سے وابستہ ایسے حساس معاملے میں سرکار کی بے رخی سے تنگ آکر عدالت کو خود ہی اس پر سیدھی کارروائی کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ چھ مہینے سے عدالت مسلسل سرکار کو وارننگ دے رہی تھی کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے اور ان سبھی لوگوں کی نشاندہی کرے جنہوں نے اپنی ناجائز دولت بیرونی ملکوں میں چھپا رکھی ہے لیکن سرکار کورے وعدوں یا بچنے کی کارروائیوں سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں نظر آرہی تھی۔سرکاری لاچاری کا عالم یہ ہے کہ وہ بیرونی ملک میں چھپائی گئی کالی کمائی کو محض ٹیکس سے بچنے کا معاملہ بتا رہی ہے جبکہ خود دیش کی بڑی عدالت مانتی ہے کہ یہ پیسہ دیش کی ترقی کی مد سے چرایا گیا ہو سکتا ہے۔ یا ہتھیاروں اور نشیلے سامان کی اسمگلنگ کے ساتھ آتنک وادیوں کی مدد کے لئے بھی ہو سکتا ہے۔ تعجب تو یہ ہے کہ نہ صرف سپریم کورٹ بلکہ بابا رام دیو سمیت دیش کے نامی گرامی شہریوں نے بار بار اس سنگین مسئلے کو اٹھایا ہے۔ بابا رام دیو کی تو یہ اہم مانگ ہی رہی ہے۔ اس پیسے کو قومی اثاثہ قرار دیا جائے۔ ان سب کے باوجود سرکار کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ خفیہ امریکی دستاویزوں کو سامنے لاکر دنیا میں سنسنی مچانے والی وکی لکس کے اسانجے نے یہ معمہ کھولا تھا کہ بیرونی ممالک میں کالی کمائی جمع کروانے والے ممالک میں ہندوستان سب سے اوپر ہے۔ اور جہاں امریکہ ، جرمنی، یوروپی ممالک بیرونی ممالک میں جمع پیسے کی واپسی کے لئے جارحانہ طریقے سے کارروائی کررہے ہیں وہیں حکومت ہند نے حیرت انگیز خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ ہماری حکومت کی خاموشی حسن علی معاملے میں بھی دیکھی جاسکتی ہے، گھوڑے اور کباڑ کے کاروبار کی آڑ میں دیش کا سب سے بڑا حوالہ کاروباری اربوں کی دولت کو باقاعدہ طور سے بیرون ملک بھیجتا تھا۔ الزام یہ ہے کہ وہ دیش کے بااثر لوگوں کی دولت کا حساب کتاب بھی لگاتا تھا، جن میں سیاستداں افسر شاہ بھی شامل تھے۔تعجب کی بات یہ تھی کہ کارگزاریوں کی بھنک ہونے کے باوجود حسن وی آئی پی بن کر ملک میں کھلا گھومتا تھا۔ اگر سپریم کورٹ نے سخت رویہ نہ اپنایا ہوتا تو کیا حسن علی آج سلاخوں کے پیچھے ہوتا؟ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ حسن علی جن کی کالی کمائی کا حساب کتاب رکھتا تھا وہ لوگ کون ہیں؟ اصل چور تو یہ لوگ ہیں جنہوں نے کرسی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر دیش کو لوٹا اور لوٹ کا مال بیرونی ممالک میں چھپایا۔ سرکار ان کے نام بتانے میں غیر ملکی قوانین اور قواعد کی آڑ لے رہی ہے اس لئے بار بار سپریم کورٹ نے براہ راست حکم دیا ہے کہ ویسے تمام لوگوں کو جن میں ایسی کالی کمائی پر نوٹس دیا گیا ہے ان کے نام عدالت میں رکھے جائیں۔ عدالت نے تو یہاں تک تبصرہ کیا کہ اگر وہ سرکار کی جگہ ہوتی تو وہ ایسا معاہدہ کبھی نہ کرتی جس سے دیش کا مفاد متاثر ہوتا ہو۔ سپریم کورٹ نے جس طرح اسپیشل ٹاسک فورس کی تشکیل کی ہے اور اس میں بڑی عدالت کے دو سابق جج صاحبان کو جگہ دینے کے ساتھ یہ کہا ہے کہ یہ فورس پیسے سے وابستہ معاملوں سے نمٹنے کی ایک وسیع حکمت عملی تیار کرے۔ اس سے تو یہ ہی ظاہر ہوتا ہے اسے اس منموہن سرکار سے کوئی امید نہیں رہ گئی ہے۔ ایسی دیدہ دلیری کے لئے سپریم کورٹ کو ہمارا سلام۔ دلچسپ یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی سختی سے بچنے کے لئے سرکار نے پچھلے دنوں آناً فاناً میں 8 افسروں کی کمیٹی بنادی تھی جس کے چیئرمین مرکز کے محصول سکریٹری ہیں۔ اب سپریم کورٹ کی اسپیشل ٹاسک فورس کے ساتھ اس ٹیم کو جوڑدیا جائے گا تب جاکر شاید صحیح معنوں میں بیرونی ملک میں جمع کالی کمائی اور اس سے وابستہ لوگوں کی پہچان کے کام کی سمت میں اور تیزی آئے گی۔
Tags: Anil Narendra, Black Money, Corruption, Daily Pratap, Hasan Ali Khan, Manmohan Singh, Supreme Court, Vir Arjun

06 جولائی 2011

آل پارٹی میٹنگ میں سرکار زیادہ کامیاب رہی



Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 6th July 2011
انل نریندر
اگر منموہن سنگھ سرکار کی کل جماعتی میٹنگ بلا کر یہ ہی منشا تھی کہ انا ہزارے کی تحریک کی ہوا نکالنے کیلئے اپوزیشن پارٹیوں کا استعمال کیا جائے تو وہ اس میں پہلے کامیاب نہیں ہوسکیں تھیں۔ اب بیشک کچھ حد تک اس کو کامیابی ضرور ملی ہے۔ مختلف سیاسی پارٹیوں نے سیول سوسائٹی کی مانگوں پر اپنے پتتے نہیں کھولے۔ اس بات پر اتفاق رائے ضرور بن گیا کہ ایک مضبوط لوکپال بل ضرور ہونا چاہئے۔ اس مقصد پر اتفاق رائے بننے کی کوئی امید نہیں تھی۔ بھاجپا کا ہمیشہ سے ہی یہ موقف رہا ہے کہ پہلے سرکار پارلیمنٹ میں بل پیش کرے پھر اس پر ہم بحث کریں گے۔ اپوزیشن کی لیڈر و بھاجپا نیتا سشما سوراج کا کہنا تھا کہ کل جماعتی میٹنگ میں مسودے کی نکات پر بحث نہیں ہوئی۔ ہمیں ایسا لوکپال چاہئے جو شفافیت طریقے سے چنا جائے اور آزادانہ طور پر کام کرے۔ ہمارے سرکاری مسودے کے تقاضوں پر مختلف اختلاف ہیں۔ اس میں لوکپال کے انتخاب کا عمل دائرہ اختیار شامل ہے۔ تقریباً سبھی پارٹیوں کی رائے عام طور پر یہ ہی سامنے آئی تھی کہ سرکار کو سول سوسائٹی کے سامنے نہیں جھکنا چاہئے۔ کچھ سیاستداں انا کی ٹیم پر بھی بھڑکے۔ آپ نے انا اور ان کی سول سوسائٹی کے بنائے ہوئے جن لوکپال بل کا مسودہ تو ہمیں دے دیا۔ ذرا انا کی بایو گرافی بھی دیجئے ، جس سے ہمیں ان کے بارے میں کچھ پتہ چل جائے۔ اپنے اختیارات پر اٹھتے سوال سے خار کھائی کچھ سیاسی پارٹیوں کا غصہ اس میٹنگ میں سماج وادی پارٹی کی جانب سے ایسے انداز میں بیان کیا گیا۔’’ پہلے تو آپ کو ہماری یاد نہیں آئی۔ اب جب پریشان ہوگئے تو ہمیں بلا لیا۔ اب آپ پارلیمنٹ میں پہلے طے عمل کے تحت بل لائیں۔ اس کے بعد ہی ہمیں جو کچھ کہنا ہوگا کہیں گے‘‘۔
اس کل جماعتی میٹنگ میں عام رائے ہونا تو دور کی بات رہی سبھی پارٹیاں اس بات کی زیادہ خواہشمند تھیں کہ کس پارٹی کا کیا موقف ہے۔ مرکزی سرکار اس لحاظ سے کامیاب رہی کہ سبھی پارٹیوں نے ایک آواز میں یہ کہہ دیا کہ وہ اپنے اختیاروں سے کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے اور جنتا کے چنے ہوئے نمائندے کسی بھی سول سوسائٹی سے چھوٹے نہیں ہیں اور انہیں سول سوسائٹی ڈکٹیٹ نہیں کرسکتی۔ سرکار اپنے ارادے کو چھپا رہی تھی اور اس کی خواہش بھی معاملے کو سلجھانے کے بجائے لٹکانے میں زیادہ تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو دونوں مسودوں جو انا نے دیا تھا اور جو پانچ وزراء نے بنایا تھا، سب کوملا جلا کر اپنی طرف سے ایک ایسا مسودہ پیش کرتی جس میں دونوں کی بڑی شرطیں شامل ہوتیں تو شاید کوئی اتفاق رائے ہوجاتا۔ لیکن سرکار نے ایسا نہیں کیا۔ کل ملاکر اس کل جماعتی میٹنگ کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آسکا۔ ٹیم انا نے میٹنگ کے بعد کہا کہ کل جماعتی میٹنگ میں تو کوئی نتیجہ نکلنا ہی نہیں تھا۔ سرکار نے کیبنٹ سے پاس کوئی مسودہ بھی نہیں تیار کیاتھا۔ سول سوسائٹی کے ممبر منیش سسودیا کا کہنا تھا 16 اگست سے انا ہزارے کا انشن اس بات پر منحصر کرے گا کہ سرکار اتنا پائیدار بل مانسون کے اجلاس میں پیش کرتی ہے۔ ہماری نگاہیں کیبنٹ سے پاس کردہ مسودے پر لگی ہیں۔ کرن بیدی کا کہنا تھا کہ ایتوار کی میٹنگ میں کم سے کم سیاسی پارٹیوں نے لوکپال بل بنوانے کی ذمہ داری تو لے لی۔ ہمیں لگتا ہے کہ لوکپال بل صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ کرن جی کے نظریات سے کتنے لوگ متفق ہوں گے؟
Tags: Anil Narendra, Anna Hazare, Civil Society, Corruption, Daily Pratap, kl, Lokpal Bill, Manmohan Singh, Samajwadi Party, Sushma Swaraj, Vir Arjun
 

آپریشن سے لڑکیوں کے جنس کی تبدیلی


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 6th July 2011
انل نریندر
مدھیہ پردیش کے اندور ضلع سے ایک چونکانے والی خبر آئی ہے۔ یہاں سرجری کرکے بچیوں کو لڑکا بنا دیا گیا ہے۔ میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق اندور میں ہر سال سینکڑوں کی تعداد میں 6 سال تک کی بچیوں کوجینوے پلاسٹی سٹی نامی سرجری سے لڑکوں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ این سی پی سی آر نے اندور میں کی جارہی اس حرکت کو سرا سر اطفال حقوق کی خلاف ورزی مانا ہے۔انسانی حقوق کمیشن کا کہنا ہے کہ اس سے سماج میں جنسی امتیاز کے جذبے کو فروغ ملے گا۔کمیشن نے مدھیہ پردیش سے نہ صرف ان سارے معاملوں کی رپورٹ مانگی ہے بلکہ ان کاموں میں شامل ڈاکٹروں کی فہرست کے ساتھ ساتھ ان کے خلاف اٹھائے گئے قدموں کی بھی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ اندور کے چیف میڈیکل اینڈ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شاردا پنڈت کے حوالے سے بچوں پر جنسی تبدیلی کے لئے کسی بھی طرح کی سرجری کئے جانے کی بات سے حالانکہ انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا شہر میں ایسے دس ہسپتال ہیں جہاں پر بچے کے غیرفروغ جنسی اعضاء کے علاج کیلئے پلاسٹک سرجری کی جاسکتی ہے۔ یہاں ایسا کوئی سرکاری ہسپتال نہیں، جہاں میڈیکل کونسل آف انڈیا کے قواعد کے تحت ایسی کوئی سرجری (آپریشن) کی جا سکے۔ ویسے بھی ایک صحتمند اور ہرلحاظ سے ٹھیک ٹھاک بچے یا بچی کاسیکس تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ممکن نہیں ہے۔
بیٹیوں کے خلاف سماجی امتیازیا اس سے بدسلوکی کرنا اور میڈیکل سائنس کا اس طرح کا استعمال کیسے ہوسکتا ہے۔ اس رپورٹ سے پتہ چلتا ہے اندور کے کچھ پلاسٹک سرجن ہر سال ایسے سینکڑوں آپریشن کرتے ہیں جن میں سے پانچ سال کی بچیوں کے پوشیدہ حصوں کو مردوں کے پوشیدہ حصوں میں بدلا جاتا ہے۔ ظاہری طور پر اس میں کوئی اخلاقی یا قانونی دقت درپیش نہیں ہے۔ اخلاقی اس لئے کیونکہ جن بچیوں کا آپریشن کیا جاتا ہے وہ مبینہ طور سے انٹر سیکس ہوتی ہیں یعنی ان کے اندرونی پوشیدہ مقام پر مردوں جیسے اعضاء کے آثار ہوتے ہیں اور وہ عورتوں کے جسم سے باہر دکھائی یا ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ ڈاکٹروں کا دعوی یہ ہے کہ وہ تو بچے کو اس کی اصلی پہچان دے رہے ہیں تاکہ مستقبل میں وہ اپنے پوشیدہ (لنگ) کے بارے میں غلط فہمی یا الجھن میں نہ مبتلا رہیں۔ اس میں قانون دقت اس لئے نہیں ہے کیونکہ بھارت میں اس کے بارے میں کوئی قانون پہلے سے نہیں ہے۔
ہماری رائے میں اس طرح کا آپریشن بلا خوف خطر واقعی ہو رہے ہیں تو یہ نہ تو سماجی نقطہ نظر سے اور نہ اخلاقی نقطہ نظر سے اور نہ ہی آئینی نقطہ نظر سے جائز ہیں۔پھر یہ قدرت کو ایک طرح سے چیلنج کرنے والا عمل ہے۔ لیکن اگر یہ ہورہے ہیں تو ظاہر سی بات ہے کہ والدین کی منظوری کے بعد ہی ڈاکٹر ایسا کررہے ہوں گے اس لئے ان کا بھی قصور کم نہیں ہے۔ ہمارے سماج میں بچیوں کو پیدا ہوتے ہی کئی جگہوں پر مار دیا جاتا ہے اور قصور سماج کا بھی ۔ پھر اب تک تو صرف بچہ پیدا ہونے سے پہلے جنس کا پتا لگانے اور اسقاط حمل کا مسئلہ سامنے آتا تھا۔ اب یہ میڈیکل سائنس کا اتنا بیجا استعمال ہے۔ ان آپریشنوں کے لئے اپنی بیٹیوں کو لے جانے والے ماں باپ بیٹا پانے کے لالچ میں اپنی اولاد کی زندگی تباہ کررہے ہیں اور پیسہ کمانے کے لئے ڈاکٹروں نے بھی ساری حدیں پار کردی ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ ایسے آپریشن کرنے پر بلا تاخیر قانونی پابندی لگے اور سماج میں ایسے ماں باپ ، ڈاکٹر، اسپتالوں کے خلاف ماحول بنایا جائے اور بچیوں کو بچایا جائے۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Sex Change, Vir Arjun

05 جولائی 2011

داؤد اور چھوٹا راجن کی دشمنی کا ہوئے شکار جے ڈے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 5th July 2011
انل نریندر
مڈ ڈے کے سینئر صحافی جے ڈے کے قتل کے معاملے میں چھوٹا راجن کا نام آرہا ہے۔ سینئر صحافی جوترمے ڈے کے قتل کے معاملے میں ایتوار کو مافیہ سرغنہ چھوٹا راجن کے مبینہ ساتھی اور دلال کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ جے ڈے کے قتل میں اس شخص کا کردار تھا۔ چھوٹا راجن کے مبینہ ساتھی اور دلال ونود اسرانی عرف ونود چینگور سمیت 216 لوگوں کو اب تک اس قتل کے معاملے میں گرفتار کیا جاچکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے جے ڈے کے قتل کے پیچھے چھوٹا راجن کا ہاتھ ہے۔ راجن کو اندیشہ تھا کہ جے ڈ ے اس کے ٹھکانے کے بارے میں انکشاف کرسکتے ہیں، اس لئے اس نے اس صحافی کا ہی صفایا کرنے کا ارادہ بنا لیا۔ ممبئی پر انڈر ورلڈ راج چلتا ہے۔ بیرونی ممالک میں محفوظ ٹھکانوں میں بیٹھے یہاں زندگی اور موت کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ چھوٹا راجن کون ہے؟ چلئے اس کے بارے میں آپ کو بتائیں۔ راجن سداشیو نکھلجے عرف چھوٹا راجن کی پیدائش ممبئی کی درمیانی کلاس بستی تلک نگر میں ہوئی تھی۔ 80 کی دہائی میں وہ سنیما گھروں کے باہر ٹکٹ بلیک کرتا تھا۔ جلد ہی اس کی پہچان راجن نائر عرف بڑا راجن سے ہوگئی۔ لڑکے کا حوصلہ راجن کو پسند آگیا ہے اور اس نے نکھلجے کو اپنا داہنا ہاتھ بنا لیا۔ جب بڑا راجن کا قتل ہوا تو نکھلجے نے اس کی جگہ لے لی اور تب سے وہ چھوٹا راجن بن گیا۔
چھوٹا راجن داؤد ابراہیم کاسکر گروہ میں شامل ہوگیا اور داؤد کا قریبی بن گیا۔ داؤد تب ممبئی کا سب سے بڑا ڈان تھا۔1986ء میں داؤد کے دوبئی چلے جانے کے بعد راجن اور چھوٹا شکیل اس کے ہندوستانی کاروبار میں نمائندے بن گئے۔ 1992ء میں ایودھیا میں بابری مسجد گرادی گئی ۔1993ء کی شروعات میں ممبئی میں سلسلہ وار دھماکے ہوئے اس میں داؤد کا ہاتھ تھا۔ اس واقعے نے چھوٹا راجن کو بغاوت کے لئے مجبور کردیا ۔ ظاہر ہے ڈی کمپنی میں فرقہ وارانہ پھوٹ پڑ چکی تھی۔ داؤد اور راجن تب سے پکے دشمن بنے ہوئے ہیں اور بھارت میں کاروبار کے لئے لڑ رہے ہیں۔ چھوٹا راجن کا دعوی ہے کہ وہ ہندوستان سے پیار کرتا ہے اس لئے داؤد کی بے پناہ طاقت کو چیلنج کرتا ہے۔ اپنے ہندوستانی پریم کی مثال دینے کیلئے اس نے 1996 ء میں نوپالی ممبر پارلیمنٹ مرزا دلشاد بیگ کو مروادیا تھا۔بتایا جاتا ہے مرزا، داؤد اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا آدمی تھا۔ اس کے ذریعے نیپال سے بھارت میں منشیات اور آتنک واد ایکسپورٹ کئے جاتے تھے۔
حالانکہ کوئی اسے قبول نہیں کرے گا لیکن عام رائے ہے کہ ہندوستانی خفیہ ایجنسیاں چھوٹے راجن کے رابطے میں رہتے ہیں۔ اسے داؤد کے خلاف جنگ میں استعمال کرتی ہیں اس لئے راجن کے چھوٹے موٹے جرموں کو نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہر بڑی کارروائی سے پہلے ہندوستانی خفیہ ایجنسیاں اور پولیس راجن کو مطلع کردیتی ہے تاکہ ان کے لوگوں پر قہر نہ ٹوٹے۔ چھوٹا راجن مشرقی ایریا میں کہیں روپوش ہے۔ شاید ملیشیا یا پھر انڈونیشیا میں اس کی طبیعت ابھی تک ٹھیک نہیں رہتی۔ اس کا سکہ بھی آج بدستور جاری ہے۔ اس سال مئی میں بائیکرس نے داؤد کے بھائی اقبال کاسکر کے ڈرائیور کو مارڈالا۔ تب لگا کے کچھ برسوں کی خاموشی کے بعد دوبئی میں ایک بار پھر سے گروہی جنگ چھڑنے والی ہے۔ اس کے بعد اگلے دو مہینے میں جے ڈے کا قتل ہوگیا جس کے پیچھے راجن اور داؤد کی آپسی دشمنی ہو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔
Tags: Anil Narendra, Babri Masjid, Chhota Rajan, Daily Pratap, Dawood Ibrahim, ISI, J Dey, Vir Arjun

مندر میں 1 لاکھ کروڑ کا خزانہ ملا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 5th July 2011
انل نریندر
 ہمارے مندروں کی نایاب املاک تاریخ میں کئی غیر ملکی لٹیروں کی بحث کا شکار بنی ہے۔ مندروں میں اتنی لوٹ مار کے بعد آج بھی اربوں کی دولت ہے۔ اس نکتہ نظر سے جنوبی ہندوستان کے مندر تب بھی غیر ملکی لٹیروں سے بچے رہے۔ کیرل کے ایک مندر شری پدمنابسوامی مندر میں آج کل سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کمیٹی کے سات افراد مندر کے خزانے کی فہرست بنانے کے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ پہلے اس مندر کی دیکھ بھال کی ذمہ داری شراون کوٹ کے شاہی خاندان کی تھی۔ مندر کے 6 خفیہ کمروں پر ایک طرح کی پہچان سبط کی گئی۔ حال ہی میں ٹی پی سندر راجن نام کے ایک وکیل نے مندر کی بدانتظامی کو لیکر سپریم کورٹ میں ایک عرضی داخل کی تھی۔ اسی کے بعد عدالت نے ان سبھی کمروں کو کھولنے کا حکم دیا تھا۔ ان میں سے اے اور بی 1874 سے بند پڑے تھے۔ گذشتہ پیر کو سی ڈی اور ایک کمرے کو کھولا گیا تھا جس میں سے 1 ہزار کروڑ کی دولت ملی تھی۔کیرل کا یہ مندر دیش کا سب سے امیر مندر ہوسکتا ہے۔غیر سرکاری تجزیے کے مطابق اس مندر کے کمروں میں رکھے گئے سونے ، ہیرے جواہرات وغیرہ کی تقریباً قیمت 1 لاکھ کروڑ روپے تک تجویز کی گئی ہے۔
گذشتہ جمعرات کو ایک ٹیم نے شری پدمنابسوامی مندر کے تہہ خانے میں بنی تجوری A کھولی۔ مندر میں A سے F تک اس طرح کی کل 6 تجوریاں ہیں۔ تجوریA سے ہزاروں سال پرانے سکے، 2.5 کلو وزنی 9 فٹ لمبے نیکلس اور کان کی بالیوں کے سائز میں ایک ٹن سونا اور سونے کی چھڑیں اور ہیرے جواہرات سے بھرے بورے اور سونے کی زنجیریں ، ہیرے جڑے زیور، تاج اور دوسری چیزیں برآمد ہوئی ہیں۔ جمعہ کو ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور کے 17 کلو سونے کے سکے ملے ہیں۔ اس کے علاوہ نیپولین عہد کے 18 سکے، ریشم میں لپٹے قیمتی جواہرات سکوں اور زیوروں کی شکل میں 1 ہزار کلو سونے کا ایک چھوٹا ہاتھی ملا ہے۔ کچھ چیزوں پر 1722 سن لکھا ہوا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ راجہ کارتک ترونل رائے ورما کے عہد کے ہیں۔
ان 6 تجوریوں میں سے A اور B کو 1882 ء کے بعد سے نہیں کھولا گیا۔ فی الحال صرف تجوری A کی ہی اتنی موجودہ دولت کی قیمت کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ابھی ان کی پختہ ویلیو نہیں لگائی گئی ہے پھر بھی ایسا مانا جارہا ہے یہ مندر تروپتی بالا جی مندر کو پیچھے چھوڑ کر دیش کا امیر ترین مندر بن گیا ہے۔ انتظامیہ نے مندر کی سکیورٹی بڑھادی ہے۔ چاروں طرف سکیورٹی کیمرے اور الارم سیٹ لگا دئے گئے ہیں۔ کیرل کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل کا کہنا ہے کہ مندر کی سکیورٹی کے لئے ایک کمانڈو فورس بنائی جائے گی۔ سپریم کورٹ کی طرف سے مبصر مقرر کئے گئے ہیں۔ کیرل ہائی کورٹ کے سابق جسٹس سی ایس راجن اور جسٹس ایس این کرشنا کا کہنا ہے کہ ہر سامان کی فہرست تیار کی جارہی ہے۔ قیمت کا صحیح اندازہ لگانا کافی مشکل ہے۔ کمرہ B اورE کا کھلنا ابھی باقی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اس میں ایک ہفتہ اور لگ سکتا ہے۔
Tags:  Anil Narendra, Daily Pratap, Gold Ornaments, Kerala, Kerala High Court, Sri Padmaswami Temple, Travancore, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...