Translater

Scams لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Scams لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

25 اپریل 2012

یوپی اے سرکار کی تین سالہ رپورٹ کارڈ


Published On 25 March 2012
انل نریندر
اترپردیش ، پنجاب، گوا اسمبلی انتخابات میں ہار کے بعد دہلی میونسپل کارپوریشن میں کانگریس کی 
مسلسل پانچویں ہار ہے۔ کانگریس قیادت والی یوپی اے حکومت 22 مئی کو اپنے تین سال پورے کرنے جارہی ہے۔ روایت کے مطابق سرکار اسی دن ''رپورٹ ٹو دی پیوپل'' جاری کرے گی۔ پتہ نہیں منموہن سنگھ سرکار اور کانگریس پارٹی اس دوران اپنے کیا کیا کارنامے گنائے گی۔ وقت آگیا ہے کانگریس پارٹی جائزہ لے کے آخر وہ کس طرف جارہی ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اب لوک سبھا چناؤ زیادہ دور نہیں ہیں اور اس سے پہلے پارٹی کو گجرات، ہماچل ،مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اور دہلی میں اسمبلی چناؤ کا سامنا کرنا ہے۔ یوپی اے حکومت کی دوسری پاری مسلسل تنازعات میں گھری رہی۔ کامن ویلتھ گیمز ، ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ اور آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی جیسے تمام گھوٹالے مہا گھوٹالے سرخیوں میں رہے۔ ان کے چلتے کانگریس کو مسلسل فضیحت جھیلنی پڑ رہی ہے۔ کہیں سے بھی سیاسی راحت نہیں ملتی دکھائی پڑتی۔ پارلیمنٹ میں پچھلے کئی مہینوں سے غیر کانگریسی لیڈر یوپی اے سرکار کے خلاف مورچہ بندی تیز کررہے ہیں۔ خود بھی یوپی اے کے اندر کئی پارٹیاں حکومت کا درد سر بڑھا رہی ہیں۔ سب سے زیادہ دقت ممتا بنرجی کی قیادت والی ٹی ایم سی کی طرف سے ہے۔مسلسل ایک معمہ بنا ہوا ہے کہ ٹی ایم سی کب تک سرکار میں بنی رہے گی؟ کیونکہ وہ ہر مہینے یوپی اے سرکار کے خلاف کوئی نہ کوئی سیاسی واویلا کھڑا کردیتی ہے۔بگڑتے ٹریک ریکارڈ کے چلتے یوپی اے ۔II سرکار اور پارٹی عدم اعتماد کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کانگریس کے تمام لیڈر اب ایک دوسرے پر الزام تراشی میں لگے ہوئے ہیں۔سرکار اور پارٹی میں تال میل کی باتیں ضرور ہورہی ہیں لیکن تصویر کچھ اور ہی ہے۔ بڑے نیتاؤں کی نوراکشتی اس وقت پورے شباب پر ہے۔10 جن پتھ میں بڑی بڑی میٹنگیں ہورہی ہیں لیکن پارٹی کی سپریم پالیسی متعین کرنے والی یونٹ کانگریس ورکنگ کمیٹی میں حال میں ایک بھی بڑے اشو پر بحث نہیں ہوپائی۔اگر مل رہی خبروں پر یقین کیا جائے تو مہاراشٹر کے وزیر اعلی اشوک چوہان کو گزشتہ ملاقات میں پارٹی صدر سونیا گاندھی نے دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ وہ یا توا لتوا میں پڑے معاملوں پر فیصلہ لے کر کام شروع کریں ورنہ پارٹی لیڈر شپ ان سے آگے کے بارے میں غور وخوص کرے گا۔ اسی طرح راجستھان میں لیڈر شپ تبدیلی کی مانگ زور پکڑ رہی ہے۔

آندھرا پردیش ، ہریانہ، اتراکھنڈ میں بھی لیڈر شپ کے لئے پریشانیاں کھڑی ہیں۔ ان حالات میں پارٹی کے حکمت عملی سازوں کو ایک مضبوط اور کارگر حکمت عملی بنانی ہوگی جس سے کے منصوبہ بند طریقے سے آگے آنے والی چنوتیوں سے موثر ڈھنگ سے نپٹا جاسکے۔ کانگریس کے ایک بڑے نیتا کا کہنا ہے یوپی اے کے دوبارہ مرکز میں برسر اقتدار ہونے کے بعد اس کی ساکھ ایک کرپٹ اور مہنگائی بڑھانے والی حکومت کی بنتی چلی گئی ہے اور آج تک یہ ہی ساکھ دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے جس کے سبب کانگریس کو پچھلے تین سالوں میں دیش بھر میں ہوئے چناؤ اور ضمنی انتخابات میں تقریباً ہر جگہ ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے لہٰذا پارٹی کے حکمت عملی ساز چاہتے ہیں تنظیم کے سبھی بڑے لیڈر اس بات کے لئے مل بیٹھ کر آتم چنتن کریں اور غور خوض کریں کے مرکزی سرکار کون کون سے ایسے قدم اٹھائے جس سے اس کی ساکھ بہتر ہو۔ انہیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اتحادی پارٹیوں کے دباؤ سے کیسے آزاد ہواجائے۔ تال میل پر مبنی سیاست کو کتنی اہمیت دی جائے۔ عام لوگوں کے قریب آنے اور پرانی مقبولیت کو حاصل کرنے کے لئے کیا کیا جائے جس سے کے پارٹی ورکر پھر سے نئے جوش کے ساتھ میدان میں اتر سکیں۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے کام نہیں چلے گا۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Mamta Banerjee, Manmohan Singh, Scams, UPA, Vir Arjun

04 اپریل 2012

مہنگائی منہ پھاڑے جات ہے۔۔۔


Published On 4 April 2012
انل نریندر
پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر فیصلہ بیشک کچھ دنوں کے لئے ٹل جانے سے بھلے ہی لوگوں کے لئے تھوڑی راحت مل گئی ہو لیکن نئے کاروباری سال کے آغاز میں تقریباً سبھی چیزوں کے دام بڑھنے سے ہورہا ہے۔ بجٹ میں بڑھی ایکسائز ڈیوٹی اور سروس ٹیکس بڑھنے سے کھانا پینا، گھومنا پھرنا سب کچھ مہنگا ہونے جارہا ہے۔ عام آدمی کو ڈس رہی مہنگائی ڈائن کا ڈنک اور تیز ہوگیا ہے۔ سرکار کے بجٹ میں وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے پروڈکشن ٹیکس میں اضافہ اور سروس ٹیکس کی شرح کا دائرہ دونوں بڑھا کر عام جنتا کی پیٹھ پر 45 ہزار کروڑ روپے کے ٹیکس کا بوجھ لاد دیا ہے۔ ان دونوں ٹیکسوں میں اضافہ ایتوار سے لاگو ہوگیا ہے۔ پروڈکشن ٹیکس کی شرح کو 10 سے بڑھا کر12 فیصدی کرنے کا اثر بازار میں دستیاب تمام سامان پر ہوگا۔ سیمنٹ برانڈڈ ،ریڈیمیٹ گارمینٹ سے لیکر سونا اور زیورات سبھی چیزوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ پروڈکشن ٹیکس کے ساتھ سروس ٹیکس بھی صارفین پر بھاری پڑ رہا ہے۔ اب اس کے دائرے میں ان علاقوں کی سرکاری خدمات بھی جڑ رہی ہیں جہاں وہ نجی سیکٹر سے مقابلہ آرا ہیں۔ اس کے تحت ٹرینوں میں AC1-AC2 ٹائر میں سفر کرنے والے مسافروں کو ایتوار سے زیادہ کرایہ دینا پڑے گا۔ پلیٹ فارم ٹکٹوں کے لئے بھی 3 روپے کے بجائے5 روپے ادا کرنے پڑیں گے۔ بجلی، زمین، فلیٹ و موٹر سائیکل، کار کے لئے زیادہ پیسے چکانے ہوں گے۔ سونا ،چاندی خریدنا مہنگا ہوگیا ہے۔ شراب مہنگی ہوگئی ہے، چیک ڈرافٹ و پوسٹل آرڈر کی میعاد 6 مہینے سے گھٹا کر 3 مہینے کردی گئی ہے۔ پوسٹ آفس میں ڈپازٹ، پی پی ایف ،این ایم سی میں زیادہ سود ملے گا۔ لائف انشورنس سے بنے رہنے کے ساتھ آٹو انشورنس میں بھی اضافہ ہوگا۔ مہنگائی کی مار جھیل رہے عام آدمی کو اب موٹربیمہ کی بڑھی ہوئی شرحوں کا بوجھ بھی اٹھانا ہوگا۔ بھارتیہ بیمہ ریگولیٹری ڈولپمنٹ اتھارٹی نے مختلف زمروں میں تھرڈ پارٹی موٹر پریمیم چارج 5 سے 20 فیصدی تک بڑھایا ہے۔ تھرڈ پارٹی بڑھی ہوئی قسط شرحوں کے پریمیم کے ساتھ صارفین کو دو فیصدی بڑھا ہوا سروس ٹیکس بھی چکانا ہوگا۔ نئی شرحیں جمعہ سے نافذ العمل ہوگئی ہیں۔ مہلائیں بھی اس سے اچھوتی نہیں۔ ان کے بیوٹی سامان سمیت بیوٹی پارلر کا خرچ بھی مہنگا ہوا ہے۔ دیش کے نامی گرامی ایسوسی ایشن ایسوچیم نے بھی مہنگائی کے بارے میں سروے کرایا ہے۔ اس سے زیادہ تر عورتوں نے کہا ہے کہ گھریلو بجٹ کے قابو میں رکھنے کے لئے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ بڑھتے خرچ پر لگام لگانا مشکل ہورہا ہے۔
70 فیصدی عورتوں کا خیال ہے کہ زیادہ سروس ٹیکس کے سبب فون سروس سمیت سبھی ضروری چیزیں مہنگی ہوں گی۔ اتنا ہی نہیں پروڈکشن ٹیکس میں اضافے سے عام آدمی کی روز مرہ کی زندگی متاثر ہوگی۔ آمدنی تناسب کے حساب سے نہیں بڑھے گی۔ جس حساب سے خرچ بڑھ جائے گا ۔ مہنگائی آنے والے دنوں میں اور بڑھے گی۔ اگر پیٹرول ،رسوئی گیس وغیرہ کے دام بڑھتے ہیں تو ان کا سیدھا اثر عام آدمی پر پڑے گا۔ پہلے سے ہی مہنگائی کی مار سے پریشان عام آدمی کی کمر ٹوٹ جائے گی لیکن اس سرکار کو عام آدمی کی فکر کہاں ہے؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ جو جانے مانے ماہر اقتصادیات ہیں ،کی پالیسیوں نے غریب آدمی کا تو بیڑا غرق کردیا ہے دوسری طرف گھوٹالے پر گھوٹالہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ یہ پیسہ کہاں سے آرہا ہے؟ غریب جنتا کی جیب میں ڈاکے سے ہی تو آرہا ہے۔
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Inflation, Petrol Price, Price Rise, Scams, Vir Arjun

28 ستمبر 2011

اب کیا ہوگا آگے: نظریں سپریم کورٹ پر لگیں



Published On 28th September 2011
انل نریندر
دیش کے لئے کتنے دکھ کی بات ہے کہ امریکہ میں وزیراعظم اور وزیر مالیات سے ٹو جی گھوٹالے پر سوال پوچھے جارہے تھے ۔ ساری دنیا میں گھوٹالوں کی اس حکومت نے پورے دیش کی عزت مٹی میں ملا دی ہے۔ پتہ نہیں دنیا بھارت کے بارے میں کیا سوچتی ہوگی؟ ادھر دیش میں اس حکومت کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ ٹوجی گھوٹالے میں روز نئی پرتیں کھل رہی ہیں جیسے جیسے نئے نئے معاملے سامنے آرہے ہیں پتہ چل رہا ہے کہ اس گھوٹالے کی اوپر سے نیچے تک سب کو خبر تھی لیکن کسی نے بھی اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ بیشک وزیر اعظم ، وزیر خزانہ بھلے ہی خود گھوٹالے میں شامل نہ رہے ہوں لیکن اس سے تو اب وہ انکار نہیں کرسکتے کہ سب کچھ ان کی جانکاری میں اور کچھ حد تک ان کی رضا مندی سے ہوا ، بیشک وزیر اعظم اس وقت کے وزیر خزانہ کو کلین چٹ دے رہے ہوں اور کہہ رہے ہوں کہ انہیں وزیر داخلہ پر پورا بھروسہ ہے لیکن اس سے اب تک بات بننے والی نہیں۔ٹوجی گھوٹالے پر پوری طرح سے گھر چکی حکومت کے سنکٹ موچکوں کے قدم اب ختم ہونے لگے ہیں۔ سرکار کی سینئر لیڈر شپ کو اب اس گھوٹالے کے جال سے بچانے کیلئے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ سابق وزیر مواصلات اے راجہ کے فیصلے سے دیش کے خزانے کو کسی طرح کا نقصان نہیں ہوا ہے۔ گذشتہ ہفتے عدالت کے سامنے پیش ٹی آر اے آئی کی رپورٹ اسی کوشش کا حصہ تھی جو اوندھے منہ گر پڑی۔ گھوٹالے کی جانچ کررہی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی اس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔ راجہ کے فیصلوں میں سرکار کی سینئر لیڈر شپ کی رضامندی کو ثابت کرنے والے تمام دستاویزی ثبوت دیش اور عدالت کے سامنے ہیں۔اے راجہ کے فیصلوں سے جو محصول کو نقصان ہوا اس کے بارے میں پہلے اگر قانونی طور پرثابت ہوجاتا تو پھر وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خزانہ اس نقصان کی درپردہ ذمہ داری سے بچ سکیں۔ لائسنس لینے والی ایک کمپنی ایئر ٹیل کی ایک چٹھی سرکار کے لئے مصیبت بنے گی۔ وزیر اعظم کو معلوم تھا کہ کمپنیاں ٹوجی اسپیکٹرم کی اونچی قیمت دینے کو تیار تھیں۔ نومبر 2007 میں سیدھی منموہن سنگھ کو لکھی چٹھی میں ایئرٹیل نے اسپیکٹرم کے لئے 6 ہزار کروڑ روپے دینے کی پیشکش کی تھی۔ کمپنی نے بعد میں اسے بڑھا کر13752 کروڑ روپے تک کردیا تھا۔ بازار میں ان اشاروں کے باوجود راجہ نے اسپیکٹرم کو کم قیمت پر فروخت کردیا اور پی ایم او اس فیصلے میں راجہ کے ساتھ کھڑا رہا۔ اسپیکٹرم میں کل کتنا خسارہ ہوا یا گھوٹالہ ہوا اس نقصان کے اندازہ میں کیگ نے ایئر ٹیل کی چٹھی میں مجوزہ قیمت کو ہی اہمیت اشو بنایا ہے۔ راجہ کے فیصلے سے وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خزانہ کی بے توجہی کی دلیل سامنے آگئی۔ راجہ کے فیصلوں سے بدعنوانی تو صاف ہے البتہ اس فیصلے سے محصول کو نقصان کی دلیل ابھی تنازعات میں ہے۔ کیگ 1 لاکھ76 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ لگا چکی ہے جس کو سرکار نے مسترد کردیا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں تازہ جانکاری کے بعد یہ ثابت کرنے کی آخری کوشش ہوگی کہ 2001 کی قیمتوں پر2008 میں اسپیکٹرم بیچنے سے خزانے کو کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ یہ ہی آخری راستہ ہے جس سے بدعنوانی کا ٹھیکرا اے راجہ کے سر پھوٹے گا اور سرکار کی لیڈر شپ دیش کا نقصان کرنے کے الزام سے بچ سکے گی۔ ویسے سی بی آئی نے اے راجہ پر کرپشن کا جو مقدمہ چلایا اس میں یہ درج ہے کہ وزیر مواصلات کے فیصلوں سے دیش کو قریب 30 ہزار کروڑروپے کا نقصان ہوا۔ سی بی آئی کو سابق وزیر مواصلات یا بے ضابطگی پر مقدمے کے لئے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ راجہ کے فیصلے سے خزانے کو بھاری چپت لگی ہے۔ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ آج وزیر داخلہ پی چدمبرم کی اسپیکٹرم میں کردار کی جانچ کو لیکر کیا فیصلہ لیتی ہے۔ یوپی اے اور کانگریس ایک ناگزیں بحران میں پھنس گئی ہیں۔ جس کا فی الحال توکوئی توڑ نہیں نکل پارہا ہے۔ کانگریس صرف اس بات سے فکر مند نہیں چدمبرم پر حملہ کیا جارہا ہے بلکہ اس کی اصلی پریشانی بھاجپا کی وزیر اعظم کو لپیٹنے کی اسکیم سے ہے۔ اگر بھاجپا ایک بار پھر چدمبرم کے خلاف جانچ شروع کرانے میں کامیاب ہوگئی تو اس جانچ کی آنچ اپنے آپ وزیر اعظم تک پہنچ جائے گی۔منگلوارکو سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت ہوئی ہے۔ لیکن تازہ اطلاع کے مطابق یہ معاملہ آج تک یعنی بدھوار تک کے لئے ملتوی ہوگیا ہے۔ دیکھیں عدالت میں آج کیا ہوتا ہے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, CAG, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Prime Minister, Scams, Supreme Court, Vir Arjun

22 جون 2011

کیا ڈاکٹر منموہن سنگھ کا پتاّ کٹنے والا ہے؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
22جون 2011 کو شائع
انل نریندر
وزیر اعظم منموہن سنگھ کی مخالفت میں اب آوازیں تیزی سے اٹھنے لگی ہیں۔ عوام میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کی ساکھ دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے۔ اب تو کانگریس پارٹی میں بھی ان کے خلاف ایک خیمہ کھل کر بولنے لگا ہے۔ حکومت اور کانگریس میں دراڑ پڑ چکی ہے اور پارٹی کے ایک طبقے کو لگنے لگا ہے کہ منموہن سنگھ کانگریس پارٹی کی لٹیا ڈبو دیں گے۔ پچھلے دنوں جنتا دل متحدہ کے قومی صدر شرد یادو نے بھوپال میں اپنی پارٹی کی کانفرنس میں وزیر اعظم کو کچھ ان الفاظ میں بیان کیا۔ وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ ایسی گائے ہیں جودیکھنے میں سیدھی لگتی ہے لیکن نہ دودھ دیتی ہے نہ گوبر۔ ان کے سامنے ایک کے بعد ایک آزادی کے بعد سے سب سے بڑے گھوٹالے ہوئے ہیں اور وہ آنکھیں ٹکائے دیکھتے رہے۔ انہوں نے گڑ بڑ گھوٹالے کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی کوئی پہل نہیں کی تھی۔ کارروائی تب شر وع ہوئی جب کورٹ نے انہیں حکم دیا۔ یادو کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کے الزام میں ابھی کئی اور لوگ جیل جائیں گے۔ انہیں کوئی بچا نہیں پائے گا۔ آج دیش میں ہر طرف اوپر سے نیچے تک لوٹ مچی ہوئی ہے لگتا ہے کہ پورے کنوئیں میں افیم پھیل گئی ہے۔ کہیں ووٹ بک رہے ہیں تو کہیں ایمان۔
اگر میڈیا میں شائع خبروں پر یقین کیا جائے تو کانگریس میں بھی منموہن سنگھ کے خلاف اب آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔ پارٹی صدر سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ میں نظریاتی اختلافات پیدا ہوچکے ہیں۔ منموہن سنگھ اب اپنا خیمہ بنا رہے ہیں۔ ٹیلی کمیونی کیشن گھوٹالے اور پھر لوک پال بل کی تحریک کے حوالے ڈاکٹر منموہن سنگھ میں یہ ڈر بٹھا دیا گیا ہے کہ کچھ کرنا ہی ہوگا نہیں تو بدعنوانی کے سیدھے ملزم بنیں گے اور بے عزت ہوکر اقتدار چھوڑنا پڑے گا۔ اور جان لیں آج اسی ڈر سے منموہن سنگھ کام کررہے ہیں۔ اگر لوک پال بل بنا اور لوک پال کی تقرری ہوئی تو سب سے پہلے منموہن سنگھ کے خلاف ہی مواصلات گھوٹالے کی جانچ کی شکایت ہوگی۔ لوک پال ان کے لئے مصیبت ثابت ہوگا اس لئے نوٹ کرلیں کہ لوک پال بل کے دائرے میں وزیر اعظم کے عہدے کا آنا تب تک ممکن نہیں جب تک منموہن سنگھ وزیر اعظم ہیں۔ لگتا ہے کے شریمتی سونیا گاندھی یہ سمجھ چکی ہیں اور وہ پارٹی کو بچانے کیلئے منموہن سنگھ کے متبادل پر غور کررہی ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی کو ایک بار پھر وزیر اعظم بنانے کی مانگ نے زور پکڑ لیا ہے۔ رام لیلا میدان میں لاٹھی چارج کا فیصلہ بھی پردھان منتری خیمے نے کیا تھا۔ سونیا پورے معاملے سے نمٹنے کے طریقے سے ناراض ہیں۔
وزیر اعظم اور ان کے پی ایم او کو سارے گھوٹالوں کی پوری جانکاری تھی۔ دہلی کامن ویلتھ کھیلوں کے تنازعوں میں گھری آرگنائزنگ کمیٹی کی کارگزاریوں کے بارے میں پی ایم او کو پہلے ہی جانکاری تھی لیکن اس نے اس معاملے میں کوئی کارروائی کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ آر ٹی آئی ورکر سبھاش چندر اگروال نے اطلاعات کے حق کے تحت جو جانکاری حاصل کی ہے اس کے تحت وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزیر کھیل کے درمیان کامن ویلتھ کھیلوں کے بارے میں 52 صفحات کا تبادلہ ہوا تھا۔ سال 2007 ء میں وزیر کھیل رہے منی شنکر ایئر نے کھیلوں کے بارے میں غیر سرکاری تنظیم کی طرف سے ایک رپورٹ وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجی تھی۔ ایئر نے ساتھ ہی کہا تھا کہ وہ ان کھیلوں کے تئیں سنجیدہ ہیں لیکن دستاویز ہمیں سوچنے کو مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم اس راستے پر چلیں جس سے دیش کو بھاری نقصان ہوسکتا ہے؟ اس مسئلے پر وزیر اعظم کے دفتر نے اپنی ایک اندرونی رپورٹ منظور کی ہے کہ وزارت کھیل اور آرگنائزنگ کمیٹی کے درمیان گھیرے اختلافات ہیں۔ وزارت کھیل جہاں شفافیت اور جوابدہی پر زور دے رہا ہے وہیں آرگنائزنگ کمیٹی اس کے لئے قطعی تیار نہیں تھی لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم منموہن سنگھ اور ان کے پی ایم او نے کوئی کارروائی کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ایسے ہی ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کا بھی معاملہ ہے۔ پی ایم او کو سب جانکاری تھی لیکن اس نے روکنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔اسی کے چلتے آج کانگریس پارٹی منموہن سنگھ کو ایک ذمہ داری ماننے لگی ہے اور انہیں ہٹانے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔
Tags:2G, Anil Narendra, Congress, Corruption, Daily Pratap, Lokpal Bill, Mani Shankar Aiyar, Manmohan Singh, Scams, Sharad Yadav, Sonia Gandhi, Vir Arjun

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...