Translater

18 جولائی 2026

ٹرمپ : مجتبیٰ خامنہ ای 90 فیصدی ختم ؟

ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے والد کی آخری رسوم میں بھی نہیں نظر آئے تھے ۔اور تب سے ہی ان کی صحت کو لے کر کئی طرح کی قیاس آرائیاں جاری ہیں ۔اس درمیان امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات چیت میں کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای مارے جاچکے ہیں ۔اورا ن کے بیٹے آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای بھی 90 فیصدی ختم ہو چکے ہیں ۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کے پاس اب کوئی بحری فوج نہیں بچی ہے ۔ان کی ایئر فورس بھی نہیں بچی ہے ۔سب کچھ ختم ہو چکا ہے۔ ان کا ایئر ڈیفنس سسٹم بھی تباہ ہو چکا ہے ۔ان کے سبھی لیڈر مارےجاچکے ہیں ۔ان کے سب سے بہترین لیڈر مارے جاچکے ہیں ۔ا س سے پہلے مجتبیٰ خامنہ ای کے نام سے سنیچر کو جاری ایک تحریری بیان میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلالینے کی کھائی قسم بیان میں کہا گیا تھا کہ ہمیں اپنے پاک خون اور ان دونوں جنگوں میں شہید ہوئے سبھی لوگوں کے خون کا بدلہ لینے کی قسم کھاتے ہیں ۔دنیا بھر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بدلہ لینے کو تیارہیں ۔اسی سال 23 اپریل کو امریکی اخبار نیویارک ٹائمس نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایاگیا تھا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای امریکہ اسرائیل کے اس حملے میں شدید طور پر زخمی ہو گئے تھے جس میںان کے والد علی خامنہ ای کی موت ہو گئی تھی ۔حالانکہ وہ ذہنی طور سے پوری طرح سرگرم ہیں ۔اخبار نے حکام کے حوالے سے کہا کہ ان کے ایک پیر کا تین بار آپریشن کیا گیا ہے اور اب انہیں آرٹیفیشل پیر لگائے جانے کا انتظار ہے ۔ان کے ایک ہاتھ کی بھی سرجری ہوئی ہے اور اس کی کام صلاحیت آہستہ آہستہ لوٹ رہی ہے ان کے چہرے ہونٹ پوری طرح جھلس گئے ہیں جس سے انہیں بولنے میں دشواری ہوتی ہے ۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آخر کار انہیں پلاسٹک سرجری کی بھی ضرورت ہوگی بتادیں اسی سال 28فروری کو امریکی ،اسرائیل ہوائی حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کےبعد مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر بنایاگیا تھا ۔تقرری کے بعد سے ہی وہ پبلک میں سامنے نہیں آئے انہوں نے کوئی ویڈیو پیغام بھی جاری نہیں کیا ہے ۔اس سب کو لے کر سوال اٹھے ہیں کہ اسی حملے میں وہ کتنے زخمی ہوئے تھے ؟ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دیگر تین بیٹے مسعود ،مصطفیٰ اور میسم اتوار کو منعقدہ تعزیتی مجلس میں شامل ہوئے تھے ان کے ساتھ صدر مسعود پزیشکیان اور ریبولوشنری گارڈس کے چیف احمد وحیدی سمیت کئی سینئر افسر بھی موجود تھے ۔جون میں جاری ایک بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا تھا کہ اصولی طور سے وہ امریکہ کے ساتھ ڈیل کے حق میں نہیں تھے لیکن صدر مسعود پزشکیان کی یقین دہانیوں کے بعد ہی انہوں نے اس کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ۔کویتی اخبار الجریدہ نے مارچ 2026 میں ایک رپورٹ شائع کی تھی اس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو شروعات میں علاج کے لئے ماسکولے جایا گیا تھا اس کے بعد مجتبیٰ کی صحت کو لے کرکوئی خبرنہیں آئی ۔اس وقت ماسکوخود غیر محفوظ ہے ۔وہاں لگاتار یوکرین حملے ہورہے ہیں ۔ اس لئے اس وقت چین کو مجتبیٰ کے لئے محفوظ ماناجاتا ہے ۔ایرانی عوام چاہتی ہے کہ جلد آیت اللہ مجتبیٰ عوام کے سامنے آئیں تاکہ دنیا دیکھے کہ وہ ٹھیک ہیں اورمحفوظ ہیں ۔
(انل نریندر)

16 جولائی 2026

آنکھ کے بدلے آنکھ !

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آنکھ کے بدلے آنکھ نام سے ایک فوجی آپریشن شروع کرتے ہوئے خلیجی خطہ میں موجود اڈوں پر میزائل حملے کئے ہیں ۔ایران کا کہنا ہے کہ اس نے یہ کاروائی حالیہ امریکی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے ۔اس دعوے کے بعد پورے خطہ میں جنگ تیز ہو گئی ہے ۔امریکہ اور ایران کے درمیان طویل عرصہ سے معاملہ چلاآرہا ہے اور کشیدگی اب ایک بار پھر کھلی جنگ کی شکل لے چکی ہے ۔یہ لڑائی اب صرف محدود علاقوں تک ہی نہیں رہی بلکہ پورے مشرقی وسطیٰ میں ، عالمی تیل مارکیٹ اور بین الاقوامی تجارت تک پھیل چکی ہے ۔یہ کہنا غلط نہیں ہوگاکہ اب یہ جنگ بڑھتی جارہی ہے اور خوفناک رخ اختیار کر سکتی ہے ۔ایران کے سرکار ی میڈیا کے مطابق اس آپریشن کے تحت خلیجی خطہ میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایاگیا ہے ۔ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کا مقصد ان اڈوں پر کاروائی کرنا تھا جہاں سے اس کے خلاف فوجی کاروائی کی گئی تھی ۔ایرا ن نے اس فوجی کاروائی کو آنکھ کے بدلے آنکھ ’’آئی فار این آئی ‘‘ کا نام دیاہے۔ اس نام کا سیدھا پیغام ہے کہ وہ اپنے خلاف ہوئی ہر فوجی کاروائی کا جواب دے گا ۔ایران طویل عرصہ سے کہتاآرہا ہے کہ اگر اس کے دیش کی سلامتی یا اس کے فوجی اڈوں پر حملہ ہوگا تو وہ جوابی کاروائی کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا اسی پالیسی کے تحت اس نے پہلے بھی کئی بار جوابی کاروائی کا اعلان کیا ہے ایران کی آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آئی فار این آئی آپریشن کے تحت یردن ،بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے ۔پہلے مرحلے میں یردن کے پرنس حسن ایئربیس پر میزائل اور ڈرون سے حملے کئے گئے ہیں دوسرے مرحلے میں بحرین کے شیخ عیسیٰ ایئربیس پر حملہ کر ہیلی کاپٹر اور ڈرون سہولیات کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔تیسرے مرحلے میں کویت کے علی السلیم ایئر بیس اور احمد الزبر ایئر بیس پر حملے کا دعویٰ گیا ہے ۔ایران نے کہا کہ یہ کاروائی امریکی فوجی حملوں کے جواب میں کی گئی ہے ۔خلیجی خطہ دنیا کو ایندھن سپلائی کا سب سے اہم مرکز ماناجاتا ہے ۔یہیں سے دنیا کے بڑے حصے میں کچے تیل اورنیچرل گیس کی سپلائی ہوتی ہے ۔اگر امریکہ ایران کے بیچ جنگ اور تیز ی پکڑتی ہے تو اس کا سیدھا اثر ہرمز اسٹریٹ پر پڑے گا بلکہ پڑنا بھی شروع ہو گیا ہے ۔امریکہ کے لگاتار حملوں کے جوا ب میں ایران نے ہرمز بند کرنے کا اعلان بھی کر دیا ہے ۔اس کا سیدھا اثر بین الاقوامی بازار میں قیمتوں اور شپنگ لاگت اور عالمی سپلائی چین پر پڑے گا۔ بھارت جیسے دیش جو اپنی تیل ضرورتوں کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے پورا کرتا ہے ۔وہ بھی اس سے متاثر ہو سکتا ہے ۔یہ پہلی بار نہیں جب ایران نے بدلے کے لئے فوجی کاروائی کا وعدہ پورا کر نے کی کوشش کی ہے ۔جنوری 2020 میں جنرل قاسم سلیمانی کی موت کے بعد ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل داغی تھیں ۔اپریل 2024 میں دمشق میں قائم ایرانی سفارت خانہ پر حملے کے بعد بھی ایرا ن نے پہلی بار سیدھے اپنی زمین سے اسرائیل پر ڈرون اور میزائل حملے کئے تھے اس سے صاف ہے کہ ایران اپنی سیکورٹی پالیسی میں جوابی کاروائی کو اہم ترین حکمت عملی مانتا ہے ۔
(انل نریندر)

14 جولائی 2026

ٹرمپ کے قتل کی سازش!

اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ ایسی نئی معلومات دینے کا دعویٰ کیا ہے ، جس میں ایران پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قتل کی سازش تیار کرنے کا الزام لگایا ہے ۔امریکی میڈیا میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے ٹرمپ اس پر بھڑک گئے اور اپنا آپا کھو بیٹھے ہیں ۔امریکہ کے مشہور اخبار دی وال اسٹریٹ جنرل میں ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس کے مطابق ،اسرائیل نے امریکہ کو بتایاہے کہ اس کے پاس خفیہ رپورٹ ہے اور خفیہ جانکاری ہے جس کے مطابق تہران ٹرمپ کے قتل کی نئی پلاننگ بنا رہا ہے ۔موساد نے یہ انٹیل شیئر کی ہے اور ٹرمپ سے کہا ہے کہ ایران کے ٹارگیٹ نمبر 1 پر ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوا نیٹو کی سمٹ کے بعد ٹرمپ نے ڈر کر اپنا ایئرفورس وین بدل ڈالی اور امریکہ سے پرانا ایئر فورس 1 جہاز منگوایا اور اس میں واپس امریکہ پہنچے ۔اِدھر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر ایران ان کے قتل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو انہوں نے پہلے ہی ایک حکم دے رکھا ہے کہ اگر ایران امریکہ پر حملہ کرتا ہے جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا ایسا جواب دیاجائے گا ۔ٹرمپ نے کہا کہ 1000 میزائلیں ایران کو اپنے نشانہ پر لیے ہوئے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ اگر ایران ان کا قتل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو انہوں نے پہلے ہی ایک حکم دے رکھا ہے ۔نیویارک پوسٹ میں دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ اس حکم کے مطابق ایران پر اتنا بڑا جوابی حملہ کریں جیسا دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا ۔سوال اٹھتا ہے کہ کیا ٹرمپ ایسا کوئی حکم دے بھی سکتے ہیں یا پھر تاریخ میں کسی لیڈر نے ایسا حکم دیا تھا۔امریکی آئین کے تحت کوئی بھی صدر ایسا حکم نہیں چھوڑ سکتا کہ اس کی موت کے بعد اپنے آپ کسی دیش پر حملہ کر دیاجائے ۔کسی بڑی فوجی کاروائی کا فیصلہ اس وقت جو صدر ہوتا ہے وہی تب فیصلہ کرے گا کیوں کہ کمانڈر ان چیف کے حکم پر ہی امریکی فوج ایسا کچھ کرسکتی ہے ۔ٹرمپ کا یہ بیان صرف ایران کے لئے نہیں ،بلکہ امریکی عوام کے لئے بھی ایک سیاسی پیغام ماناجارہا ہے ایک طرف وہ اپنے حمایتیوں کے سامنے یہ ایمیج بنانا چاہتے ہیں کہ وہ نڈر ہیں اور وہ سخت لیڈر ہیں جو کسی بھی دھمکی کے آگے نہیں جھکیں گے ۔دوسری طرف ایران کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر اس کے خلاف کوئی کاروائی ہوئی تو جواب پورے دیش کو ملے گا۔ سبھی جانتے ہیں کہ اسرائیل امریکہ ایران کے درمیان امن مذاکرات سے پریشان ہے اور اسے ہر حالت میں توڑنا چاہتا ہے۔ وہ ٹرمپ کتنے بہادر ہیں یہ بھی جانتا ہے اس سے بہتر کیا ہوسکت ہے کہ یہ خبر چلا دو کہ آپ ایران کے ٹارگیٹ نمبر 1 ہیں اس سے ٹرمپ ایران پر مجبوراً حملہ کر دیں گے اورا یک بار پھر جنگ شروع ہو جائے گی ۔ہوا بھی یہی امریکہ نے ایران پر تابڑ توڑ حملے کر دئیے اور ایران نے بھی زبردست جوابی کاروائی شروع کر دی ہے ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کو جنگ کی آگ میں دھکیل دیا گیا ہے۔ ویسے ہم ٹرمپ اور نتین یاہو سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ جب آپ نے 28 فروری کو آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے تقریباً پورے خاندان کو نشانہ بنایا تھا جس میں ان کی 14 ماہ کی معصوم بچی بھی شامل تھی 40 سے زائد بڑے ملیٹری کمانڈروں کو بھی نشانہ بنایاگیا تھا تب آپ کو یہ خیال نہیں آیا تھا کہ ایران بھی ایسا کرسکتا ہے۔ اور اپنے سپریم لیڈر کے قتل کا بدلہ لے سکتا ہے ؟ اب جب اپنے اوپر پڑی تو آپ کو نانی یاد آگئی ۔ویسے بھی اسرائیل کے وزیر نے کھلے عام ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کو قتل کرنے کی کھلی دھمکی دی تھی ۔شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسوم میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ کس طرح کروڑوں لوگوں نے اپنے رہبر کے قتل کا بدلہ لینے کی قسم کھائی تھی ۔ایران آپ سے بدلہ لے سکتا ہے اور لے بھی رہا ہے لیکن اس طرح نہیں جیسے نیتن یاہو اور موساد آپ کو بے وقوف بنا کر اپنے مفاد کی تکمیل کررہا ہے ۔
(انل نریندر)

مہنگی چینی : کیا وجہ اتھنول تو نہیں ؟

بھارت میں چینی کے دام پچھلے ماہ سے تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرس کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف اسی ماہ بھارت میں چینی کی قیمتوں م...