Translater

12 نومبر 2016

آسان نہیں ہوگی ڈونلڈ ٹرمپ کی پریسیڈینسی

امریکی صدر عہدے کے چناؤمیں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت نے تہلکہ مچادیا ہے۔ کسی کو بھی ایسی جیت کی امید نہیں تھی۔ ان کی کامیابی اس لئے بھی زیادہ غیر متوقعہ ہے کیونکہ ایک تو وہ سیاستداں کی روایتی تشریح میں پورے نہیں اترتے اور دوسرے یہ کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ ساتھ امریکی میڈیا تمام تھنک ٹینک، دانشور و چناوی پنڈت یہ پیشگوئی کررہے تھے کہ امریکی عوام ایسے بڑبولے و نا تجربہ کار ٹرمپ کو صدر بنانے کی غلط نہیں کرے گا۔ ابھی دو مہینے پہلے تک یہ مانا جارہا تھا کہ اس مرتبہ بھی امریکہ میں ریپبلکن پارٹی کیلئے امیدتھی کہ وہ اس کا ہی صدر بنے گا ۔ پھر ابھی ایک ہفتے تک یہ لگ رہا تھا کہ ڈیموکریٹک امیدوار ہلیری کلنٹن کو ٹرمپ سخت ٹکڑ دے رہے ہیں۔ پھر بھی نیویارک ٹائمس جیسے نامور روزنامہ اور سروے یہ دعوی کررہے تھے کہ ہلیری کی معمولی سی برتری ہے اور وہ ہی کامیاب ہوں گی لیکن جب نتیجے آئے تو نہ صرف ڈونلڈ ٹرمپ بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے بلکہ انہوں نے سب کا اندازہ غلط کر ڈالا۔ پہلی بار امریکہ کے بڑے میڈیا نے چناؤ میں کسی ایک امیدوار کو نہ صرف حمایت دی بلکہ اس کے حق میں ووٹ تک کرنے کی اپیل کردی۔ کبھی کھل کر امریکی میڈیا نے کسی امیدوار کے حق میں ایسی اپیل نہیں جاری کی تھی۔ سی این این نیویارک ٹائمس ، واشنگٹن پوسٹ سمیت 55 میڈیا گھرانوں نے سیدھے طور پر ہلیری کا ساتھ دیا لیکن ٹرمپ نے سبھی کو چاروں خانے چت کردیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے سب سے زیادہ عمر والے صدربنے ہیں، وہ70 سال کے ہیں۔ ان سے پہلے رونالڈ ریگل 69 سال کی عمر میں امریکہ کے سب سے بزرگ صدر بنے تھے۔ حالانکہ ہلیری کلنٹن کی عمر بھی 69 سال ہے۔ جس فرق سے جیتے وہ بتاتا ہے کہ چناوی سروے اور اندازے اکثریت بھارت میں ہی نہیں امریکہ میں بھی غلط ثابت ہو جاتے ہیں۔ یہ فرق بتاتا ہے کہ وہاں ٹرمپ کی حمایت میں ہوا چل رہی تھی جسے تمام طرح کے ماہرین سمجھنے میں ناکام رہے۔ جہاں تک ٹرمپ کی جیت اور بھارت کا سوال ہے دیکھنا یہ ہوگا کہ جہاں اوبامہ نے اپنی میعاد کے خاتمے تک نریندر مودی جیسے وزیر اعظم سے بہترین رشتے قائم رکھیں وہاں سے ٹرمپ انہیں آگے بڑھاتے ہیں یا نہیں؟ ان کے بھارت کے ساتھ رشتے کیسے ہوں گے؟ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد جہاں امید کی جارہی ہے کہ پوری دنیا میں ایک نیا محاذ بنے گا روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کھل کر ٹرمپ کی حمایت کی ہے۔ امریکہ، روس، اسرائیل اور بھارت یہ دنیا کا نیا محاذ بن سکتا ہے۔ یہ محاذ اسلامی کٹرواد کے سخت خلاف ہے اور امید ہے کہ اسلامی کٹر پسندی پر اب کھل کر لگام لگے گی۔ براک اوبامہ ڈبل گیم کھیلتے رہے ہیں آج عالمی آتنک واد کی ایک بڑی وجہ ہے امریکہ کا دوغلہ پن۔ ڈونلڈ ٹرمپ ایک پختہ عزم کے آدمی لگتے ہیں اور ان کی ترجیحات بھی صاف ہے لیکن جہاں ٹرمپ سے بہت سی امیدیں ہیں وہیں چناؤ کمپین کے دوران ان کے نظریات سے امریکی بھی خوفزدہ ہیں اور ڈرے ہوئے بھی ہیں۔ پوری دنیا جانتی ہے کہ عورتوں کے بارے میں ان کے نظریات کیا ہیں؟ سب کو پتہ ہے کہ اقلیتوں کے بارے میں اکثر ان کے منہ سے جس طرح کے پھول جھڑتے ہیں؟ ان کے چال اور کردار اور چہرے کے تمام ہاؤ بھاؤ پچھلے کچھ وقت سے پوری دنیا دیکھ رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے اقتصادی پالیسیاں ،غیر ملکی رشتوں پر ہم نے ان کے مشتعل تیور اور جارحانہ الفاظ والی تقریریں بھی سنی ہیں لیکن ہم نہیں جانتے کہ وہ ان پالیسیوں کو کونسی شکل دینے جا رہے ہیں۔ امریکی عوام کو تاریخ بنانے کا ایک موقعہ ملا تھا وہ ہلیری کو چنتے تو اس دیش کی پہلی خاتون صدر ہوتیں لیکن انہوں نے ٹرمپ کا ساتھ دے کر غیر سیاسی شخصیت کو صدر کی کرسی پر بٹھانے کی تاریخ بنا دی۔ یہ صاف ہے کہ امریکی عوام نے جہاں ٹرمپ کا تجزیہ ان کی نجی زندگی سے وابستہ تنازعوں کی بنیاد پر نہیں کیا ہے وہیں ہلیری کے معاملے میں وزیر خارجہ کے طور پر ان کا کردار پر خاص طور پر غور کیا گیا۔ لگتا ہے کلنٹن فاؤنڈیشن اور ای میل سرور سے وابستہ تنازعہ اور ان کی صحت کی وجہ سے ہلیری ہار گئیں۔ ان کو زیادہ ہی غرور تھا۔ اپنی چناؤ مہم کے دوران ٹرمپ نے جو کچھ بولا اس سے یہ سوال چاروں طرف پیدا ہورہا ہے کہ آخر اب وہ کیا کریں گے؟ لیکن جیتنے کے بعد محض خواب اور اسے پورا کرنے کے لئے جذبے کی بات اب کر رہے ہیں۔ امریکہ کے چاؤ کو لیکر خوفزدہ اور منقسم رہے ہیں وہ کہہ تو یہی رہے ہیں کہ وہ اب سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ اس سے بھی یہ پتہ چلتا ہے کہ ٹرمپ نے کچھ باتیں تو چناؤ جیتنے کے لئے کہیں اور کچھ واقعی کرنے کے لئے۔ ان کی فی الحال پوری توجہ امریکہ پر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس پورا روڈ میپ ہے لیکن اس کو انہوں نے پیش نہیں کیا۔ تو اب دیکھنا ہوگا ان کی صدارت کے شروعاتی دنوں میں کیا حالات رہتے ہیں۔ جہاں تک بھارت کا سوال ہے تو ٹرمپ نے دیش اور اس کی لیڈر شپ کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ ہر سطح پر بہتر بنانے کی بات کہی ہے اس لئے ہمیں ان پر کسی طرح کا شبہ نہیں کرنا چاہئے۔ بلا شبہ ڈونلڈ ٹرمپ سب سے طاقتور سربراہ مملکت ہوں گے لیکن ان کی راہ آسان تب ہوگی جب وہ اپنی ساکھ کے ساتھ ساتھ اپنی پالیسیوں کو لیکر بھی سنجیدہ ہوں گے۔ ان کا سب سے پہلا کام ہوگا امریکیوں کو متحد کرنا۔
(انل نریندر)

تھیریسا اور مودی میں اچھی کیمسٹری سے دونوں کا فائدہ

وزیر اعظم کے ذریعے 1000 اور 500 کے نوٹوں کے سرجیکل اسٹرائک کے درمیان پیدا افراتفری میں برطانیہ کی وزیر اعظم محترمہ تھریسا میتھ کا دورہ ہنددب گیا۔ سبھی کی توجہ اس سرجیکل اسٹرائک پر چلی گئی۔ تھیریسا کا یوروپ کے باہر یہ پہلا دورہ تھا۔ انہوں نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ کئی اشوز پر بات کی۔ یہ اتفاق بھی ہوسکتا ہے لیکن خود برطانیہ میں ان کے اس دورہ کو جس طرح سے بہت امیدوں سے جوڑ کر دیکھا گیا اس سے یہی لگتا ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں تھا۔ دراصل اس دورہ کو یوروپی فیڈریشن سے الگ تھلگ ہونے کے فیصلے کے بعد برطانیہ کے مستقبل کی تیاریوں سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ برطانیہ میں یہ عام خیال ہے کہ اقتصادی مواقعوں میں اضافے کے لئے برطانیہ کے لئے اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ وہ چین ، بھارت اور برازیل جیسے ملکوں کے ساتھ کاروباری رشتے بڑھائے۔ برطانیہ کی پی ایم کا دورہ ہند کے کئی معنی ہیں۔چاہے وہ ہندوستانی پس منظر میں ہو یا پھر برطانوی پس منظر میں۔ جس طرح دونوں دیشوں کے ہم منصب سربراہ مملکت کے درمیان کئی اشوز پر اتفاق رائے بنا ہے وہ مستقبل کے لئے بہت اہم اور ضروری تھا۔ دونوں ملکوں نے میک ان انڈیا تکنیک منتقلی اور کئی نئے امکانات پر بھی غور وخوض کیا۔ ساتھ ہی ریسرچ کے ذریعے آپسی تعاون پر بھی خاص اتفاق رائے جتایا۔ یہ قدم ہر نقطہ نظر سے لائق خیر مقدم ہے۔ دوسرا اہم کارنامہ یہ رہا کہ دونوں ملکوں نے آن لائن دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے سائبر سکیورٹی فریم ورک بنانے کا عہد کیا ہے جس سے دہشت گردوں کی ساری سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں بیحد آسانی ہوگی۔ بھارت کے لئے برطانیہ کئی معنوں میں اہم ہے۔وہ یوروپ میں بھارت کا سب سے بڑا کاروباری سانجھیدار رہا ہے اس کے علاوہ باقی یوروپ میں بھارت کے لئے ایکسپورٹ بڑھانے میں مددگار بھی اس لئے 2014ء میں ہی مودی نے بجلی ڈیفنس اور میڈیکل سمیت کئی سیکٹروں میں آپسی اشتراک بڑھانے میں دلچسپی دکھائی تھی لیکن برطانیہ کی سخت ویزا اور امیگریشن پالیسی کی وجہ سے وہ پروان نہیں چڑھ پائی اس لئے یہ فطری ہی تھا کہ تھیریسا سے ہوئی بات چیت میں مودی نے برطانیہ کی ویزا پالیسی کے سبب آنے والی مشکلات کا ذکر کیا۔ برطانوی پی ایم نے کاروباریوں کے لئے ویزاپالیسی کو آسان بنانے کا بھروسہ دلایا لیکن ہندوستانی طلبا کے بارے میں انہوں نے نرمی کا کوئی تسلی بخش وعدہ نہیں کیا۔ برطانیہ کو اس بات کی شکایت ہے کہ اسٹڈی ویزا پر وہاں آنے والے بہت سے لوگ ویزا کی میعاد پوری ہونے کے بعد بھی وہاں سے واپس نہیں جانا چاہتے۔ مشترکہ بیان میں پی ایم مودی نے اقوام متحدہ میں ہندوستان کی ممبر شپ اور این ایس جی میں بھارت کی دعویداری کو مسلسل حمایت دینے کیلئے بھارت کی کمپنیوں سے کہا کہ بھارت کے ڈیفنس سیکٹر میں ان کے لئے کافی مواقع ہیں۔ تھیریسا نے کہا کہ برطانیہ یوروپی یونین سے الگ ہورہا ہے اور بھارت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس لئے دونوں کو اس موقعہ کا فائدہ مل جل کر اٹھانا چاہئے کیونکہ برکزیٹ کے حمایتی ممالک مانتے ہیں کہ اب برطانیہ کو یوروپ سے باہر اپنے پیر پھیلانے ہوں گے۔ پچھلے کچھ عرصے سے ہندوستانی صنعتکاروں نے برطانیہ میں سرمایہ کاری کرنے میں خاصی دلچسپی دکھائی ہے ان میں برطانیہ کی کئی کمپنیوں کا تحویل میں لینا بھی شامل ہے۔ دہشت گردی کے خلاف بھارت کے ساتھ تعاون کا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے برطانیہ نے دو ٹوک کہا کہ کسی دہشت گرد کو شہید کہہ کر اس کی قصیدہ خانی نہیں کی جانی چاہئے۔ سمجھا جاسکتا ہے کہ اشارہ برہان وانی کی طرف ہی ہوگا جسے پاکستان نے شہید اعلان کیا تھا۔ کل ملا کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستانی دورہ کے دوران برطانوی وزیر اعظم اور ہندوستانی وزیر اعظم میں ایک اچھی کیمسٹری بنی ہے جس کا آنے والے دنوں میں دونوں دیشوں کو فائدہ ہوگا۔
(انل نریندر)

10 نومبر 2016

اب 130 سال پرانی کانگریس میں راہل یگ کا عروج

کانگریس پارٹی کے 130 سال کی تاریخ میں پہلی بار ورکنگ کمیٹی میں صدر کے لئے کسی نام کی سفارش کی ہے اور سمجھنا زیادہ مشکل نہیں کہ یہ نام کس کا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ ہم یووراج راہل گاندھی کی بات کررہے ہیں۔ ان کو کانگریس صدر کی کمان سونپنے پر لمبے عرصے سے قائم سسپنس اب ختم ہورہا ہے۔ 130 سال پرانی کانگریس میں پہلی بار ورکنگ کمیٹی نے ایک آواز میں کسی لیڈر کے نام کی سفارش کی ہے۔ ریزولوشن پیش کرنے والے سابق وزیر دفاع اے۔ کے۔ انٹونی نے کہاکہ ایسا پہلی بار ہورہا ہے اس لئے امید ہے کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی مناسب توجہ دیں گی۔ ورکنگ کمیٹی نے راہل کو کانگریس صدر بنانے کی تجویز پارٹی صدر کو بھیج دی ہے۔ راہل گاندھی کو کانگریس صدر کی ذمہ داری سونپے جانے کی مانگ نئی نہیں ہے۔ ورکنگ کمیٹی میٹنگ میں اے کے انٹونی کی تجویز اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کی توثیق پر اتفاق رائے بن بھی گیا لیکن پرستاؤ کم لاگو ہوگا اور راہل کمان کب سنبھالیں گے اس پر پارٹی کا سرکاری بیان ہے کہ اگلی ورکنگ کمیٹی تک انتظار کریں۔ دراصل راہل مخالف خیمہ لگاتار سرگرم ہورہا ہے اور پارٹی صدر بنانے کی مانگ پر اتفاق رائے تو ہوگیا لیکن کوئی وقت طے نہیں ہوپانے کی اپنی حکمت عملی میں کامیاب رہا۔ کچھ مہینے بعد یوپی اور پنجاب کے چناؤ ہیں۔ نتیجہ مناسب نہ ہونے پر راہل کی قابلیت پر سوال اٹھا کر اسے پھر سے ٹال دیا جائے گا۔ ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ ڈھائی سال بعد ہوئی اور سونیا گاندھی کو ایک سال اور مل گیا۔ پارٹی کے سینئر لیڈروں کی ایک لابی سونیا گاندھی کے قریب رہی ہے۔ وہ ہمیشہ سے چاہتی ہے کہ پارٹی کا اسٹئرنگ انہی کے ہاتھ میں رہے۔ کبھی پارٹی ٹوٹنے کا ڈر اور پرینکا واڈرا کو راہل کے یکساں بتا کر پارٹی میں ان کی اینٹری کی خبر پھیلا کر انہیں پریشانی میں ڈالا۔ سونیا گاندھی کافی دنوں سے بیمار چل رہی ہیں ۔ وہیں اگلے سال اترپردیش سمیت پانچ ریاستوں میں چناؤ میں ڈسپلن کا مظاہرہ کرنے کا بھی پارٹی پر دباؤ بھی پارٹی ہائی کمان کو ہلکا کئے ہوئے ہے۔پارٹی کے پالیسی سازوں کو یہ بخوبی احساس ہے کہ سونیا کی غیر موجودگی میں راہل ہی فطری طور پر اس عہدے کے دعویدار ہیں اور یہ فیصلہ لینے میں زیادہ وقت گنوانا پارٹی کی صحت کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔ ویسے 2013ء میں پارٹی کے نائب صدر بننے کے بعد راہل کی اننگ کافی دھیمی رہی ہے۔ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے یہ ٹھیک نہیں کہ جب بھاجپا نئے علاقوں میں پھیلتی جارہی ہے تب کانگریس سمٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ آج کے دن کانگریس قومی سطح پر بھاجپا کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ یہ جمہوریت کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ دیش میں حکمراں طبقے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط اپوزیشن بھی اتنی ہی ضروری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ راہل گاندھی کی لیڈر شپ میں کانگریس یہ رول نبھا پائے گی؟
(انل نریندر)

ذراعت سیکٹر میں محض1.6 فیصدی اضافہ تشویش کا موضوع ہے

ہندوستان نہ صرف ایک ذراعت کفیل ملک ہے بلکہ ہندوستانی معیشت کی بنیاد بھی ذراعت ہے۔ بھارت کے جی ڈی پی میں ذراعت اور اس سے متعلق سیکٹروں کا اشتراک 2010-11 ء میں 14.5 فیصد رہا۔ 12 ویں پانچسالہ منصوبے کے تحت پہلے چار سال میں فی برس ذراعت سیکٹر کو اوسطاً 4فیصدی اضافہ شرح کے ساتھ ٹارگیٹ تک پہنچنے کے لئے جدوجہد کرنا پڑا ہے۔ محض 1.6فیصدی شرح سے کھیتی میں جھنڈے نہیں گاڑھ سکتے۔ اوسط سے کم اضافے کے سبب دیش کی تشویشات بڑھنا فطری ہی ہے۔ 2 سال بعد اس سال مانسون ٹھیک رہنے سے ذراعتی پیداوار کے ٹھیک رہنے کی امید کی جارہی ہے جس سے اس سیکٹر میں بہتر کارکردگی کی امیدیں روشن ہوئی ہیں۔ نیتی آیوگ کے ایک سینئر ممبر نے مانا کہ پچھلے کچھ برسوں میں قیمت رعایت پر زیادہ ہی انحصار نے ذراعت اضافے کو کمزور بنا دیا ہے۔ سال 2012ء سے 2017ء کے درمیان 12 ویں پانچسالہ منصوبہ میں ذراعت میں بھارت کے پہلے چار سال میں 1.6فیصد اضافہ رہا جو کہ 4فیصد کے ٹارگیٹ سے بھی بہت دور ہے۔ سال2005ء سے2012ء تک ذرعی اضافہ 3.5 فیصد سے زیادہ تھا لیکن خاص طور سے قیمتوں کی وجہ سے کسی بھی اضافے میں کمزوری آئے گی۔ قلیل مدت میں قیمت فروغ کا نتیجہ سامنے آسکتا ہے لیکن وسطی اور قلیل مدت میں نہیں۔ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اضافے میں سلسلہ وار تبدیلیوں کو کیسے دور کر سکتے ہیں۔ ہمیں اقدامات پر زور دینے کی ضرورت ہوگی تاکہ کسی بھی برس میں 2.5فیصد سے نیچے اضافہ نہ رہے۔ قیمت کا استعمال ذراعت کے نشانے پر ہے لیکن قلیل مدت میں ذراعتی پیداوار میں اضافہ حاصل کرنے کے لئے عمدہ سورس نہیں ہے۔ اگر اضافہ کافی حد تک قیمتوں پر منحصر ہوتا ہے اسے برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔ قیمتوں کی مدد اضافے کے ٹارگیٹ کو حاصل کرنے کیلئے لی جانی چاہئے نہ کہ اضافے کو کمزور بنانے کے لئے۔ اس کے بجائے اضافہ بنیادی ڈھانچہ، سنچائی ،نجی سرمایہ کاری، مقابلہ جاتی اور ٹکنالوجی پر مرکوز ہونا چاہئے۔ سرکار ذراعت میں غیر قیمت عوامل کی صلاحیت کا استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے جو اہم ہے۔ اسپرنگ کلر اور ڈرپ سینچائی اور کھاد کے کفایتی استعمال لاگت کنٹرول سسٹم ، کھاد سبسڈی کو بادلیل بنانے کیلئے سوشل ہیلتھ کارڈ کے ذریعے کھاد کے بہتر استعمال کر پیداوار بڑھانے کی سمت میں ہمیں اپنی توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔ سرکار کی کوشش پیداوار کی لاگت بڑھائے بغیر اضافے کو مضبوط رکھنا ہوگی۔ خیال رہے کہ اگر دیش کا کسان خوشحال ہے تو دیش خوشحال ہے۔ دیہی علاقوں میں ڈھانچہ بندی ،تعمیراتی کام کے ذریعے کسانوں کی آمدنی بڑھانے پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
(انل نریندر)

09 نومبر 2016

اندھیرے سے اجالے کی جانب: کمزور ہوتا آتنک واد

ایک طرف پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی فوجیوں کی سرجیکل اسٹرائک سے دہشت گردوں کے حوصلے پست ہوئے ہیں تو دوسری طرف عراق ۔شام میں اسلامک اسٹیٹ کمزور پڑنے لگی ہے۔ حالانکہ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ کافی لمبی چلنے والی ہے۔ ابھی کئی آتنکی تنظیموں اور ان کے آقاؤں کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ پہلے بات شام۔ عراق میں آئی ایس کی کرتے ہیں اس کے پاؤں اکڑ رہے ہیں۔ ان دنوں آئی ایس کے ایک بڑے اڈے موصل پر عراقی فوج کی آخری جنگ لڑی جارہی ہے۔ عراقی کرد فوجیوں نے امریکی ایئر فورس کی بمباری کی مدد سے آئی ایس کے پاؤں اکھاڑ دئے ہیں۔ اب مشکل سے بغدادی کے قبضے میں 28 فیصدی علاقہ رہ گیا ہے۔ بھاگتے آئی ایس کے دہشت گردوں نے تیل کے کنوؤں میں آگ لگادی ہے اور خود بغدادی موصل سے بھاگ گیا ہے۔ اس وقت 67 دیشوں کی فوج آئی ایس کے خلاف لڑائی لڑ رہی ہے۔ بھارت نے 25 دیشوں میں آئی ایس اور دہشت گردی کے خلاف نیٹ ورک تیار کرلیا ہے۔ ادھر جموں و کشمیر میں سرجیکل اسٹرائک کے بعد چاہے جتنا بھی شور مچا ہو لیکن دہشت گردانہ سرگرمیوں کو حمایت دے رہے پاکستان کو سبق سکھانے میں بھارت کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتا۔ پچھلے دنوں بھارت نے بغیر کنٹرول لائن پار کئے پاکستان کی چارچوکیوں کو گولہ باری سے اڑادیا۔ اس میں تین درج سے زیادہ پاکستانی فوجیوں کے مارے جانے کی اطلاع ملی تھی۔ پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کو دراندازی کرانے کی 18 کوششوں کو بھی ہمارے بہادر جوانوں نے ناکام کردیاہے۔ پچھلے ماہ دوبارہ بھارتیہ فوج نے پاکستان کے چھکے چھڑانے کے لئے کئی برس بعد بھاری توپوں کا بھی استعمال کیا۔ اسی کارروائی میں توپوں سے پاکستان کی چارچوکیوں کو اڑایا گیا۔ اس کارروائی میں 40 پاک فوجی بھی مارے گئے تھے۔ 13 سال میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف توپوں کا استعمال کیا۔ غور طلب ہے کہ سال 2003ء میں بھارت۔ پاک کے درمیان امن سمجھوتہ ہوا تھا اس کے بعد پہلی بار ایسا ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ہندوستانی فوج کے جوان کی لاش کو نقصان پہنچانے کا بدلہ لینے کے لئے ایسا کیا گیا۔ غور طلب ہے کہ 28 اکتوبر کو کشمیر میں ماگھل سیکٹر میں دراندازی کررہے دہشت گردوں سے مڈ بھیڑ میں فوج کے ایک جوان مندیپ سنگھ شہید ہوگئے تھے۔ دہشت گردوں نے شہید مندیپ سنگھ کا سر کاٹ دیا تھا۔ اس دوران پاک فوج کی چوکی سے دہشت گردوں کو کور فائردیا جارہا ہے۔ وادی میں حالات بدلے ہیں۔ سکیورٹی فورس کا کہنا ہے کہ برہان وانی کی موت کے بعد ہر روز 60 سے65 تشدد کے واقعات ہورہے تھے لیکن اب یہ گھٹ کر 6 سے8 واردات تک سمٹ گئے ہیں۔ پچھلے ایک دو ہفتوں میں حالات اور بھی بہتر ہونے کی امید ہے۔ سکیورٹی فورس اور فوج کا کنٹرول بڑھا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے سرجیکل اسٹرائک اور فوج کے ذریعے جوابی کارروائی کا اثر ہوا ہے۔ بارہمولہ سمیت کئی علاقوں میں ہتھیار ضبط کئے گئے ہیں، سینکڑوں لوگوں کو پکڑا گیا ہے جس کے چلتے گھروں میں دہشت گردوں کو پناہ دینے والے اب کترا رہے ہیں۔ دباؤ میں ہتھیار پکڑنے اور پتھر بازی کرنے والے لوگ بھی آہستہ آہستہ سست پڑ رہے ہیں۔ سکیورٹی فورس مقامی دہشت گردوں کو ہتھیار ڈالنے پر ا ن کے بچاؤ کا موقعہ بھی دے رہی ہے۔ حریت کی اپیل کا اب اثر دن بدن کم ہوتا جارہا ہے۔ جوبی کشمیر میں بھی اب عوام علیحدگی پسندوں کے ہڑتال کے کلینڈرپر پہلی جیسی تعمیل نہیں کررہے ہیں۔ بچوں کو واپس بلائے جانے کے لئے ترغیب دی جارہی ہے۔ آہستہ آہستہ صحیح وادی میں عام زندگی بحال ہوتی جارہی ہے۔ دہشت گردی کل ملا کر بھارت اور دنیا کے دیگر حصوں میں کمزور ہورہی ہے۔
(انل نریندر)

مہا گٹھ بندھن پر بھاری پڑتی چاچا بھتیجے کی جنگ

اسمبلی چناؤ کے پہلے اترپردیش میں مہا گٹھ بندھن کی امیدوں کے درمیان سماجوادی پارٹی کے سلور جوبلی فنگشن میں بھی چاچا ۔بھتیجے کے درمیان تلخیاں کم نہیں ہوئیں۔ سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیو گوڑا سے لیکر آر جے ڈی چیف لالو پرساد یادو تک نے شیو پال یادو اور اکھلیش یادو کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں کیں لیکن وہ پروان نہیں چڑھ سکیں۔ بھلے ہی سپا چیف ملائم سنگھ یادو یہ کہتے رہیں کہ چاچا بھتیجے کی لڑائی اب ختم ہوچکی ہے اور خاندان متحد ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہے۔ باہری طور پر تو سب کچھ ٹھیک نظر آرہا ہے لیکن اندرونی طور پر لگی آگ بجھنے کو تیار نہیں ہے۔سنیچر کو سماجوادی پارٹی کی سلور جوبلی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی اکھلیش یادو نے اپنے چاچا اور سپا کے پردیش پردھان شیو پال یادوپر درپردہ طور پر تنقید کرتے ہوئے بولا بھاجپا کے خلاف مضبوط متبادل تیار کرنے کے خواب کے ساتھ سپا کے جلسے میں پہنچے دیو گوڑا ، جے ڈی یو کے سابق پردھان شرد یادو ، لالو یادو، آر جے ڈی چیف چودھری اجیت سنگھ سمیت تمام سرکردہ ہستیوں کی موجودگی میں شیوپال نے اکھلیش پر کٹاش کیا تو باری آنے پر اکھلیش نے بھی اپنے انداز میں جواب دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔یہ کہا جاسکتا ہے کل ملا کر مہا گٹھ بندھن پر چاچا بھتیجے کی تلخی بھاری پڑی۔ سلور جوبلی تقریب کے بہانے کبھی جنتا پارٹی میں رہے نیتاؤں کو ساتھ لاکر مہاگٹھ بندھن کی زمین تیار کرنے کی سپا کی کوشش ضرور تھی لیکن مہمانوں کے استقبال کے ساتھ ہی شیو پال نے اکھلیش کو لیکر جس طرح اپنا درد بیاں کیا اس کے بعد اصل اشو پیچھے چلا گیا۔ حالانکہ جلسہ شروع ہوتے ہیں دیو گوڑا ۔لالو نے اکھلیش اور شیو پال کا ہاتھ پکڑ کرایک ساتھ کھڑا کرکے اتحاد اور صلح کا پیغام دینے کی کوشش کی تھی۔ اکھلیش نے بھی اسٹیج پر چاچا شیوپال کے پیر چھوئے لیکن شیو پال کی تقریر کے ساتھ تلخیاں پھر سطح پر آگئیں۔ بہرحال یوپی چناؤ کے ٹھیک پہلے بھاجپا کے خلاف بکھرے جنتا دل لیڈروں نے تھرڈ فرنٹ بنانے کی زمین تیار کرنے کی کوشش ضرور کی ، اس کا گواہ بنا لکھنؤ کا جنیشور مشر پارک اور نئے بننے والے گٹھ بندھن کی قیادت سپا چیف ملائم کے ذریعے کرنے پر بھی اتفاق رائے ہوا۔کانفرنس میں سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیو گوڑا، لالو یادو، شرد یادو، اجیت سنگھ، ابھے چوٹالہ ایک اسٹیج پر سپا چیف و وزیراعلی اکھلیش کے ساتھ موجود تھے۔ یہ سبھی نیتا ایک وقت غیر کانگریس، غیر بھاجپا مہم کے تحت جنتا دل کی شکل میں متحدہوئے تھے مگر بعد میں سبھی بکھر گئے۔ موجودہ وقت میں ان سبھی کے سامنے بھاجپا بڑی چنوتی ہے یہی وجہ ہے کہ یوپی میں اقتدارمیں رہنے کے باوجود سپا کی چنتا بھاجپا تو ہے ہی توہریانہ میں انڈین نیشنل لوک دل ۔ بہار میں لالو جے ڈی یو نیتا نتیش کمار کے ساتھ اقتدار میں ضرور ہیں اگر انہیں بھی قومی سطح پر بھاجپا کو لیکر بے چینی اور تشویش ضرور ہے۔یہی وجہ بنی کے ملائم کے اسٹیج سے جنتا دل (ایس) کے صدر دیو گوڑا نے سیدھے فرقہ وارانہ طاقتوں(بھاجپا) کے خلاف ملائم سنگھ کو قیادت سنبھالنے کی دعوت دی۔ مہا گٹھ بندھن پہلے بھی بنے ہیں اور بکھرے بھی ہیں، کیا اس بار کوئی موثر گٹھ بندھن بن سکے گا؟ سب سے ضروری تو یہ ہے کہ سبھی پارٹیوں میں اس کے لئے اتحاد ہونا چاہئے۔ایک اسٹیج پر تقریر سے اتحاد نہیں ہوتا جبکہ اس کے روح رواں ملائم سنگھ یادو اپنے ہی کنبے میں اتحاد نہیں قائم کرسکے تو اتنے بڑے سماجوادی۔بھاجپامخالف اسٹیج کو کتنا منظم رکھ پائیں گے؟ میری موٹی بات یہ ہے کہ مہا گٹھ بندھن کی یکساں پالیسیوں کی وجہ سے نہیں بنا یہ تو سب کی شخصی مجبوری یا صوبے کی مجبوری ہے۔ ابھی سے گٹھ بندھن میں پینچ پھنس رہا ہے سپا چیف ملائم سنگھ اور اکھلیش کی ہری جھنڈی کے باوجود کئی دشواریاں آ رہی ہیں۔ سارا دارومدار اب کچھ حدتک کانگریس پر ہے۔ گٹھ بندھن کے لئے خاص طور سے سپا ، کانگریس اور ایل ڈی ، جے ڈی یو نے پہل کی ہے۔ پرشانت کشور نے کانگریس گٹھ بندھن کے امکان تلاشنے کے لئے ملائم سے بات کی۔ ذرائع کے مطابق ملائم نے صاف کردیا ہے کہ سبھی پارٹیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ 125 سیٹیں رہیں گی۔ اسی میں کانگریس کے علاوہ سب کو ایڈجسٹ کرنا ہوگا۔ یعنی کانگریس کے حصے میں 80 سے90 سیٹیں آئیں گی۔ کانگریس کو طے کرنا ہے کہ وہ اس پر مانے گی یا نہیں؟ یا گٹھ بندھ بنتا ہے یا نہیں اور بنتا ہے تو کیا گل کھلائے گا یہ جلد پتہ چل جائے گا۔
(انل نریندر)

08 نومبر 2016

ٹاکسز گیس چیمبر میں تبدیل ہوتی راجدھانی

آلودگی کی سطح بڑھنے سے دہلی ٹاکسز گیس چیمبر کی طرح بنتی جارہی ہے۔ اس کا اثر دہلی کے شہریوں کی صحت پر پڑ رہا ہے۔ دہلی میں آلودگی پچھلے 17 سال میں سب سے خطرناک سطح پرہے۔ نیشنل گرین ٹریبیونل نے جمعہ کو مرکزیاور دہلی حکومت کو جم کر پھٹکار لگائی اور کہا کہ آلودگی روکنے کے ٹھوس قدم اٹھانے کے بجائے دونوں حکومتیں ایک دوسرے پر ذمہ داری تھونپ رہی ہیں۔ ذرا سوچئے ہم اپنے بچوں کوکتنا خوفناک مستقبل دے رہے ہیں۔ این جی ٹی کے چیئرمین سوتنتر کمار نے سوال کیا کہ آلودگی روکنے کیلئے کن قدموں پر غور و خوص ہوا۔ مرکزی اور دہلی سرکار اس کا ٹھوس جواب نہیں دے پائی۔ این جی ٹی نے آلودگی روکنے کے لئے کنسٹرکشن مقامات کے اڑتی دھول، جلتا کوڑا پلاسٹک اور گاڑیوں کے دھوئیں پر بھی کنٹرول کرنے کو کہا۔ بنچ نے کہا یہ چیزیں بھی دہلی کے لوگوں کو مارنے کیلئے کافی ہیں۔دہلی سرکار نے این جی ٹی سے کہا کہ ہریانہ ، پنجاب اور راجستھان میں پرالی جلانے کی وجہ سے بھی دہلی میں آب و ہوا کی کوالٹی متاثر ہوئی ہے۔اس پر ٹریبیونل نے کہا کہ دہلی میں کہیں بھی پرالی نہیں جلائی جارہی ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ پرالی ہریانہ، پنجاب اور راجستھا ن میں جل رہی ہے ان دنوں ہوا تو چل نہیں رہی ہے ایسے میں ان ریاستوں سے دہلی دھنواں نہیں آسکتا۔ دیوالی کے بعد سے آلودگی کی سطح بڑھنے کے چلتے دہلی میونسپل کارپوریشن نے اسکولوں کی چھٹی کردی ہے۔ کارپوریشن کے تقریباً 1500 اسکول بند ہیں وہیں دہلی سرکار نے بھی اگلے تین دن کے لئے اپنے اسکول بند کردئے ہیں۔اس سے پہلے اسکول کھلنے کے دوران اساتذہ اور طلبا کو کلاس سے باہر نہ جانے اور پریئر میدان کے بجائے کلاس میں ہی کرانے کی ہدایت دی گئی تھیں۔ بچوں سے لیکر بزرگوں تک کی پریشانی آلودگی نے بڑھا دی ہے۔ آلودگی کی بڑھتی سطح کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے، برین ہیمرج اور ہائپرٹینشن کا خطرہ دہلی کے شہریوں پر بڑھ گیا ہے۔ اس کے علاوہ دمے کے مریضوں کو زیادہ دقت ہورہی ہے۔ آلودگی کی وجہ سے آنے والے دنوں میں سانس اور دل سے متعلق بیماریوں کا مسئلہ بڑھے گا۔باریک دھول کے ذرات پھیپھڑوں میں چلے جاتے ہیں اور بلڈ سرکولیشن میں شامل ہوجاتے ہیں اس کی وجہ سے فری ریڈیکلس ، کولسٹرول بڑھ جاتا ہے اور ہارٹ اٹیک اور ہائپر ٹینشن وغیرہ کی پریشانی کھڑی ہوتی ہے۔ دیوالی کے بعد سے ہی دہلی کالے دھنوئیں کے غبار سے گھری ہوئی ہے۔ دہلی ایک ٹاکسز گیس چیمبر میں تبدیل ہوچکی ہے۔ پہلے آتشبازی کی وجہ سے آب و ہوا میں نقصاندہ گیس کوپر زنک سوڈیم ،پٹیشیم،میگنیس جیسے چھوٹے چھوٹے ذرات نے ہوا کو زہریلا بنا دیا ہے۔ آلودگی کی وجہ سے آنکھوں میں جلن کی پریشانی بھی بڑھ گئی ہے۔ تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس بڑھتے مسئلے کا کوئی حل نکلتا نظر نہیں آرہا ہے۔
(انل نریندر)

چین ۔ پاک اقتصادی گلیارہ، سی پی ای سی پر کاروبار شروع

بھارت کے تمام اعتراضات کے باوجود چین۔ پاکستان اقتصادی گلیارے (سی پی ای سی) پرکاروبار شروع ہوگیا ہے۔ اس کے تحت پیرکو 100 سے زیادہ چینی کنٹینر ایکسائز کی منظوری کے بعد پھاٹک پہنچے۔ پھاٹک کا افتتاح ایک دن پہلے ہی کرلیا گیا تھا۔ 650 کلو میٹر لمبا حصہ سی پی ای سی کا گلگت ۔بلتستان سے گزرتا ہے،جو بھارت کا حصہ ہے۔ پاکستان اس یوجنا کومنظوری دینے کے لئے مجاز نہیں ہے کیونکہ یہ بھارت کے خلاف ہے اور ان حصوں سے پاکستانی مقبوضہ کشمیر سے گزرتا ہے جو بھارت کا حصہ ہیں۔ اس کا اعتراض وزیر اعظم نریندر مودی نے چین کے صدر سے بھی کیا تھا۔ 51 ارب ڈالر کی لاگت سے بن رہا یہ پروجیکٹ 3 ہزار کلو میٹر لمبا ہے اور یہ سڑک پاکستان کے گوادر کو چین کے کاسگر سے جوڑتی ہے۔ سڑک کے ساتھ ساتھ ریل لائن ،گیس پائپ لائن بچھانے کی تجویز ہے۔شنترپاس ، بابو سرمارگ اور گلگت ۔اسکائی مارگ کی تعمیر کرانے کا بھی وعدہ ہے۔ 100 سے300 کے قریب کنٹینر پہلے دن پاکستانی مقبوضہ کشمیر کی سرحد میں داخل ہوئے۔ 1 ہزار ٹرک ہر ہفتے قراقرم شاہراہ سے ہوکر گلگت۔ بلتستان میں داخل ہوں گے۔ بتادیں سورنت پاک مقبوضہ کشمیر کے گلگت۔ بلتستان کے ہنجا علاقے کا ایک گاؤں ہے یہ چینی سرحد سے پہلے قراقرم شاہراہ پر آخری گاؤں ہے۔ چینی کنٹینر ایکسائز کی منظوری کے بعد گوادر کے لئے روانہ ہوئے۔ پھاٹک کی افتتاحی تقریب میں گلگت۔بلتستان کے وزیر اعلی حفیظ الرحمان اور گلگت ۔بلتستان کے فورس کمانڈر ثاقب محمود ملک کے ساتھ چین کے کئی افسرا بھی شامل ہوئے۔تقریب میں اپنے افتتاحی خطاب میں رحمان نے کہا سی پی ای سی کے ذریعے گلگت۔ بلتستان کی قسمت بدل جائے گی۔ 16 لاکھ لوگوں کو اس پروجیکٹ سے درپردہ طور پر روزگار ملنے کی امید کی جارہی ہے۔ پروجیکٹ کی سکیورٹی کے لئے پاکستان نے پوری طاقت جھونکی ہے۔ ساحلی فورس سے لیکر ایئر فورس کو لگایا ہے اور 14503 پاک سکیورٹی ملازم سی پی ای سی کی تعمیر میں کام کررہے 7036 چینی مزدوروں کی سکیورٹی میں تعینات ہیں۔ اس پروجیکٹ سے چین مغربی وسطیٰ سے تیل کی سیدھی سپلائی پائپ لائن کے ذریعے ہوسکے گی۔ بھارت سے کشیدگی کی صورت میں بحر ارب پر حکمت عملی بڑھا سکے گا۔ جغرافیائی ساگر کے راستے بھارت کو ہونے والے کاروبار پر نظر رکھ سکے گا۔ چین کے توقع سے کم تیار مغربی علاقوں کی ترقی ہوسکے گی۔ چین اور پاکستان کی بڑھتی دوستی کے پیچھے ایک بڑی وجہ ہے کہ یہ ذاتی گلیارہ۔ جہاں دونوں دیشوں کو فائدہ ہوگا وہ ہیں دونوں کے دشمن بھارت کو نقصان ہوگا۔
(انل نریندر)

06 نومبر 2016

لشکر کے آپریشن فائر میں وادی کے اسکولوں کو جلانا

پچھلے کچھ دنوں سے جموں و کشمیر میں بچوں کے اسکولوں کو آگ لگانے کی وارداتیں ہورہی ہیں۔ وادی میں تین مہینے سے جاری شورش ماحول میں اب تک 27 اسکول جلانے کے واقعات اس بات کی ایک اور مثال ہیں کہ آخر کس طرح سے وادی کی علیحدگی پسندتنظیمیں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن چکی ہیں۔ اب وہ اپنے بچوں کا مستقبل تباہ کرنے پر آمادہ ہوگئیں ہیں۔ لگتا ہے کہ وادی میں عام زندگی ٹھپ کرنے کے بعد اسکولوں کو آگ لگانے کا پاکستان کا اگلا قدم ہے ۔ایسا کرکے آئی ایس آئی کے اشارے پر ناچنے والے یہ علیحدگی پسند کشمیر میں اسکولوں کو جلا کر وہاں انپڑھ نوجوانوں کی فوج تیارکرنا چاہتے ہیں جو نوجوان پتھر پھینکنے و ان کے بھارت مخالف آپریشن کو آگے بڑھا سکیں۔ یہ جو اسکولوں کو جلایا جارہا ہے یہ کسی حکمت عملی کے تحت کیا جارہا ہے۔ بھارت سرکار کی خفیہ ایجنسیوں کو اس بارے میں جانکاری مل چکی ہے۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ریاستی حکومت و انتظامیہ جانتے ہوئے بھی ایسے واقعات کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اس بارے میں محبوبہ مفتی سرکار کو متعلقہ ایجنسیوں نے اطلاع دے دی تھی کہ دہشت گرد اب سرکاری عمارتوں ،خاص کر اسکولوں کو آگ کے حوالے کرنے کے پلان پر کام کررہے ہیں۔ یہ بھی صاف بتایا گیا تھا کہ علیحدگی پسند اور ان کے اشاروں پر کام کرنے والے دہشت گردوں کو آئی ایس آئی نے صاف حکم دے دیا ہے۔ آئی ایس آئی ایسا کرکے دوہرا مقصد پورا کرنا چاہتی ہے۔ پہلا فائدہ تو یہ ہوگا کہ کشمیر میں بین الاقوامی میڈیا میں ایسے واقعات کو اہمیت ملے گی اور بھارت کو بدنام کرنے کا موقعہ ملے گا۔ اس سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جب اسکول بند ہوں گے تو نوجوانوں کی فوج سے انہیں اپنے لئے آتنکی تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ صاف ہے کہ وہ عناصر جو وادی میں عام حالات کو لوٹتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے وہ لوگ بھی اسکولوں میں آگ کے واقعات کے پیچھے ہیں۔ شاید انہیں اب ڈر لگ رہا ہے کہ وادی میں عام زندگی کو زیادہ دن تک ٹھپ نہیں رکھا جاسکتا۔ ویسے کشمیری عوام کی آوازیں بھی ان واقعات کے خلاف اٹھنے لگی ہیں۔ کشمیر میں اسکولی عمارتوں کو لگاتار جلائے جانے کے واقعات سے علیحدگی خیمہ ایک بار چوطرفہ گھر چکا ہے۔ اس نے ان الزاموں کو حالانکہ مسترد کردیا ہے اور اب اس نے اسکولوں کو بچانے کی خاطر اپنے ہڑتالی کلینڈر میں اسکول سرکشا دوس کو شامل کیا ہے۔ لیکن چونکانے والی خبر یہ ہے کہ کشمیر میں فی الحال آگ زنی کے واقعات سے نجات نہیں ملے گی کیونکہ لشکر طیبہ نہیں مان رہا ہے جس نے آپریشن فائر کے تحت نافرمانی کرنے والی گاڑیوں اور دوکانوں اور اداروں کو راکھ کر دینے کی چیتاونی دی ہے۔
(انل نریندر)

دنیا کے سب سے بڑے ڈرگس ریکٹ کا پردہ فاش

راجستھان میں دیش کے سب سے بڑے ڈرگس ریکٹ کا چونکانے والا پردہ فاش ہوا ہے۔ ریوینیو خفیہ ڈائریکٹوریٹ نے ادے پور میں ممنوعہ ڈرگس کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ برآمد کی ہے۔ مینڈریکس کی گولیوں سمیت کچھ اور ممنوعہ دواؤں کی قریب 2 کروڑ گولیاں ضبط کی گئی ہیں۔ ادے پور کے کلڑواس انڈسٹریل ایریا میں واقع فیکٹری کے گودام میں ڈی آر آئی کے ڈائریکٹر جنرل جینت مشرا کے مطابق نشیلی دوائیوں کی چھاپہ ماری کی کارروائی یہ دنیا کی سب سے بڑی کارروائی ہے۔ اب تک نشیلی دواؤں کی ضبطی کی تعداد 20 ٹن سے بڑھ کر23.5 ٹن تک پہنچ گئی ہے۔ اس کی بین الاقوامی بازار میں قیمت 4700 کروڑ روپے بتائی جارہی ہے۔ ڈی آر آئی کے چیف مشرا نے بتایا کہ اتنے بڑے پیمانے پر نشیلی دوائیاں دنیا میں کہیں بھی چھاپے میں نہیں پکڑی گئیں۔ ادے پور میں ڈی آر آئی کی نگرانی میں 28 اکتوبر سے پہلے صبح سے2 نومبر شام تک کارروائی کی گئی۔ نشیلی دوائیں بنانے کے ملزم 63 سالہ سبھاش دودانی اور معاون بھتیجے 45 سالہ روی دودانی سے بی ایس ایف کی نگرانی میں افسر پوچھ تاچھ کررہے ہیں۔ بتادیں اسمگلر سبھاش دودانی بالی ووڈ کی اے کلاس مووی ’وکلپ‘ کا پروڈیوسر بھی رہ چکا ہے۔ 25 برس پہلے سبھاش ادے پور سے ممبئی گیا تھا۔ ممبئی کے سب سٹی اندھیری ویسٹ میں لوکھنڈ والا میں اس کا مکان بھی ہے۔ سبھاش پچھلے کچھ ماہ سے دوبئی میں رہ رہا تھا۔ دیوالی منانے بھارت آرہے سبھاش کو28 تاریخ کو دھن تیرس کے دن ممبئی ایئرپورٹ پر سی بی آئی نے دبوچ لیا تھا۔ ڈی آر آئی کی ممبئی میں ہوئی پوچھ تاچھ میں اس نے مینڈرکس پروڈکٹس مینڈرکس کی تیاری اور اسمگلنگ سے متعلق سارے راز اجاگر کردئے تھے۔ اسے ممبئی سے ادے پور لایا گیا۔ اس بین الاقوامی ریکٹر چلانے والے ادے پور کے چاچا بھتیجے سبھاش ایس روی دودانی کے تایا انڈرورلڈ ڈان داؤد ابراہیم سے جڑے ہونے کے امکان کے پیش نظر ڈی آر آئی نے جانچ تیز کردی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق اتنا بڑا ڈرگس ریکٹ بغیر داؤد کے اشارے پر نہیں چلایا جاسکتا۔ اس سے پہلے یہ جانکاری بھی سامنے آچکی ہے کہ اداکارہ ممتا کلکرنی کے شوہر وکی گوسوامی بھی شامل رہا ہے جو بالی ووڈ کی پارٹیوں میں چاچا بھتیجے کی طرف سے تیار ڈرگس کی گولیاں سپلائی کرتا تھا۔ واقف کاروں کا کہنا ہے کلرڈ واس میں واقع فیکٹری پر روی رات کو ہی آتا جاتا تھا۔ تقریباً سوا مہینے پہلے اسی علاقے میں پولیس نے اسے مزدوروں کے ساتھ آتے جاتے وقت روک کر ٹوکا تھا۔ مزدوروں کا چہرہ اور حلیہ دیکھ کر روی سے پولیس نے پوچھ تاچھ بھی کی تھی لیکن اس نے کارخانے کے مزدوروں کو کام کاج کے بہانے لے جانے کی بات کہہ کر پولیس کو گمراہ کردیا تھا۔ پولیس اگر اس وقت سنجیدگی سے معاملے میں پوچھ تاچھ کرتی تو سارا معاملہ کھل جاتا۔ راجستھان کے وزیر داخلہ نے قبول کیا ہے کہ ہم سے چوک ہوگئی۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...