Translater
Narender Modi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Narender Modi لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
30 اپریل 2024
مودی کے بیان پر بین الاقوامی میڈیا !
حکمراں بی جے پی مسلسل تیسری بار اقتدار میں آنے کیلئے اپنا پورا دم خم لگا رہی ہے تو وہیں انڈیا اتحاد بھی ایڑھی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے ایسے میں نیتاو¿ں کی تقریر اور ان کے دعوے اور دوسری پارٹیوں کے نیتاو¿ں کو لیکر دئیے بیان ہر روز اخبارات کی سرخیاں بن رہے ہیں لیکن پہلے مرحلے کی پولنگ کے بعد اب وزیراعظم کا دیا ایک بیان خاص طور سے بحث کا موضوع بنا ہوا ہے ہندوستانی میڈیا کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی میڈیا نے بھی اسے اپنے صفحات پر جگہ دی ہے۔استعمال کئے گئے کچھ خاص لفظوں کے سبب یہ تقریر چناو¿ کمیشن میںپی ایم مودی کی شکایت کا سبب بنی ہے ۔19 اپریل کو پہلے مرحلے کی پولنگ ختم ہوئی اس کے بعد 21 اپریل کو راجستھان کے بانسواڑہ میں چناو¿ ریلی میں دی گئی تقریر میں پی ایم مودی نے سابق وزیراعظم منموہن سنگھ کے ایک پرانے بیان کا حوالہ دیا اور مسلمانوں پر رائے زنی کی ۔پی ایم مودی نے اپنی تقریر میں فرقہ خاص کو درانداز اور زیادہ بچے پیدا کرنے والا جیسی باتیں کہیں اپنی تقریر میں مودی نے کہا تھا کہ جب پہلے ان کی سرکار تھی تو انہوں نے کہا تھا کہ دیش کی املاک پر پہلا حق مسلمانوں کا ہے اس کا مطلب یہ پراپرٹی اکھٹا کرکے اس کوبانٹیں گے جن کے زیادہ بچے ہیں ۔ان کو بانٹیں گے گھسپیٹھیوں کو بانٹیں گے کیا آپ کو یہ منظور ہے ۔حالانکہ پی ایم مودی نے منموہن سنگھ کے جس 18 سالہ پرانی تقریرکا ذکر کیا ہے اس میں منموہن سنگھ نے ایسا کچھ نہیں کا تھا سال 2006 میں منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ درج فہرست ذاتوں ،قبائلیوں کو نئی زندگی دینے کی ضرورت ہے انہیں نئی اسکیمیں لاکر یہ یقینی کرنا ہوگا کہ اقلیتوں کا خاص کر مسلمانون کی بھی بھلائی ہو سکے ۔وکاس کا فائدہ انہیں مل سکے ۔ان سبھی کا وسائل پر پہلا دعویٰ ہونا چاہیے ۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے 22 اپریل کو اسے لیکر مودی پر چناوی ریلی میں مسلمانوں کے خلاف نفرتی تقریر کرنے کے الزام کے عنوان سے رپورٹ اپنی ویب سائٹ پر شائع کی ہے ۔اس میں اس نے لکھا ہے کہ بانسواڑہ میں دی گئی تقریر کے بعد 22 اپریل کو اتر پردیش کے علی گڑھ میں مودی نے اسی طرح کا ایک اور تقریر کی ۔اس رپورٹ میں بھارت کی شہریت قانون کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔لکھا گیا ہے کہ اس قانون کی یہ کہہ کر تنقید کی گئی کہ اس میں مذہب کی بنیاد پر شہریت دینے کی بات کی گئی ہے جو دیش کے سیکولرزم کے اصولوں سے الگ ہے ۔ٹائم میگزین نے لکھا ہے کہ بھارت کی آبادی 1.44 ارب ہے اور مودی کی بی جے پی کی تنقید مسلمان فرقہ کو باہر سے آئے غیر ملکیوں کی شکل میں دیکھنے کے لئے ہوتی رہی ہے ۔تنقید نگار کہتے ہیں کہ مودی کے تبصرے کی بنیاد تقسیم کاری ہندو راشٹر واد ہے ۔جس کے تار حکمراں بی جے پی سے جڑتے ہیں ۔نیویارک ٹائمس نے اس پر 23 اپریل کو اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مودی نے بھارت کے مسلمانوں کو گھس پیٹھیا کیوں کہا کیوں کہ وہ ایسا کر سکتے تھے ۔نیویارک ٹائمس نے لکھا ہے کہ اپنے اقتدار کو محفوظ مان کر پی ایم مودی اقتصادی اور سفارتی سطح پر دیش کی ترقی کو لیکر ورلڈ لیڈر کے طور پر خود کو پیش کررہے تھے ایسا کرکے وہ پارٹی کی رائج تقسیم کاری رویہ سے خود کو الگ رکھے ہوئے تھے ۔اس طرح کے معاملوں میں ان کی خاموشی تھی اس درمیان کٹر پسند نظریہ والے غیر ہندو فروقوں کو نشانہ بنا رہے تھے اور ان کی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ میں نسلی اور نفرتی الفاظ کا استعمال کررہے تھے ۔ایک اور اخبار الجزیرہ نے لکھا ہے کہ مقامی چناو¿ حکام نے تصدیق کی ہے کہ انہیں مودی کی تقریر سے جڑی شکایتیں ملی ہیں جن کی وہ جانچ کررہے ہیں ۔
(انل نریندر)
27 مئی 2012
دنیا جھکتی ہے جھکانے والا چاہئے
بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن گڈکری اورآر ایس ایس دونوں پرگجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی بھاری پڑ گئے۔ پارٹی کو سنگھ کے چہیتی سنجے جوشی کو بھاجپا ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ سے پہلے باہر کا راستہ دکھانا پڑا۔ مودی کے دباؤ میں گڈکری اور سنگھ سرخم دکھے۔ پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ مودی نے صاف کہا کہ اگر ورکنگ کمیٹی میں سنجے جوشی آئے تو وہ میٹنگ سے خود کو دور رکھنے کے لئے مجبور ہوں گے۔ گڈکری نے بدھوار کی شام فون سے بات کی تھی۔ گڈکری نے کور کمیٹی کی میٹنگ میں مودی سے بات چیت کی تفصیل رکھی۔ ذرائع کے مطابق کچھ سینئر لیڈر بھاجپا نیتا مودی کی دھمکی کو قبول کرنے کے خواہش مند نہیں تھے مگر گڈکری اور آر ایس ایس کے دباؤ کے چلتے سنجے جوشی کو دو لائن کا استعفیٰ فیکس سے بھیجنا پڑا۔ دراصل مودی اور گڈکری میں سودے کی خوشبو آرہی ہے۔ مودی نے شرط رکھی کے جوشی کو باہر کرو اور گڈکری نے شرط رکھی کے مجھے دوسری میعاد دینے کیلئے آپ حمایت کریں۔ اب لگتا ہے کہ گڈکری کی دوسری میعاد ملنے میں تمام رکاوٹیں دور ہوگئی ہیں۔ انہیں اب دوبارہ صدر بنانا طے ہوچکا ہے۔ گڈکری کی تین سالہ میعاد25 دسمبر کو پوری ہونے جارہی ہے۔ اس تجویز کے لئے باقاعدہ بھاجپا کے آئین میں ترمیم کی گئی جسے عملی جامہ پہنا دیا گیا ہے۔ پارٹی کے سابق صدر راجناتھ سنگھ نے رسمی طور پر میٹنگ میں صدر کی میعاد میں توسیع کے لئے ایک تجویز رکھی جس کی دوسرے سابق صدر وینکیانائیڈو توثیق کردی۔ جس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مرکزی لیڈرشپ میں جلدی ہی یہ منظور کرلی گئی۔یہ نہ تو بھاجپا کے لئے اچھا اشارہ ہے اور نہ ہی آر ایس ایس کے لئے۔ قومی پارٹی کی ساکھ کو لیکر جس بھاجپا کو قومیت اور ڈسپلن کے لئے جانا جاتا تھا اب وہ بے اصولی راستے پر چلتی نظر آرہی ہے۔ بھاجپا کی بونی ہوتی لیڈر شپ اور اس پر حاوی ہوتے ریاستی نیتا سنگھ کے لئے چنوتی بن گئے ہیں۔ راجستھان میں بیک فٹ پر وسندھرا راجے ،گجرات میں نریندر مودی، کرناٹک میں بی ایس یدی یروپا سے تو چنوتی مل رہی ہے وہ بھاجپا کو کانگریس کے متبادل کے طور پر ابھر نے میں آڑے آرہی ہے۔ بھاجپا صدر گڈکری کی میعاد کو بڑھا کر سنگھ بھاجپا پر اپنی پکڑ ضرور ثابت کرنا چاہ رہی ہے لیکن وہ شعور اور وہ استقبال نہیں نظر آرہا ہے جو بھاجپا میں پہلے ہوا کرتا تھا۔ بھاجپا کی تاریخ میں یہ پہلا موقعہ ہے جب بھاجپا کو سنگھ کی جانب سے مقرر کرائے گئے شخص کو ہرانا پڑا ہے۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے سنگھ کی بھاجپا پر پکڑ کمزور ہوتی جارہی ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ بھاجپا کے اوپر ایسے بھی لیڈر ہیں جو چاہتے ہیں کہ سنگھ کی بھاجپا معاملوں میں دخل اندازی کم ہو۔ پورے معاملے میں جہاں نریندر مودی کی جیت ہوئی ہے وہیں آر ایس ایس کی ایک معنی میں ہار بھی ہوئی ہے۔ اس سے نریندر مودی کا عہدہ اور قد بڑھے گا اور دنیا کے سامنے انہوں نے ثابت کردیا ہے کہ دنیا جھکتی ہے جھکانے والا چاہئے۔
(انل نریندر)
11 مئی 2012
ایمائکس کیوری کی نریندر مودی پر مقدمہ چلانے کی سفارش
Published On 11 May 2012
انل نریندر
2002ء کے گجرات فسادات وزیر اعلی نریندر مودی کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ ایس آئی ٹی کی جانب سے کلین چٹ ملے ابھی کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ ان کے سامنے نئی پریشانی کھڑی ہوگئی۔ سپریم کورٹ کے ذریعے مقرر ایمائکس کیوری (عدالت کے دوست) نے کہا ہے کہ 2002ء کے دوران مختلف طبقوں کے خلاف دشمنی بھڑکانے کے لئے آئی پی سی کے مختلف دفعات کے تحت نریندر مودی پر مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ زکیہ جعفری کی شکایت پر راجو رامچندر کی رپورٹ عدالت کے ذریعے مقرر اسپیشل تفتیشی ٹیم ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے ایک دم برعکس ہے۔ ایس آئی ٹی نے اس سے پہلے مودی اور دیگر کو کلین چٹ دے دی تھی۔ ایمائکس کیوری رامچندر نے رپورٹ میں کہا کہ ''میری رائے میں مودی کے خلاف ایک نظر میں جو کرائم کا معاملہ بنتا ہے وہ آئی پی سی کی دفعہ 153(A)(1)(B) کے تحت آتا ہے۔جس کے معنی نے مذہب کی بنیاد پر مختلف فرقوں کے درمیان دشمنی بھڑکانا۔ اسی طرح 153B(1) قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے۔ مودی پر دفعہ 166 کے تحت بھی مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ ایس آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں معطل آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا کہ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف غصہ نکالنے اور انہیں سبق سکھانے دیا جائے۔ بھٹ نے سپریم کورٹ کے سامنے اس سلسلے میں حلف نامہ داخل کیا تھا۔ ایس آئی ٹی نے گلبرگ سوسائٹی فسادات پر اپنی رپورٹ ذکیہ جعفری کو سونپی تھی۔ گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے فسادات میں ذکیہ جعفری کے شوہر سابق ایم پی احسان جعفری سمیت 69 لوگ مارے گئے تھے۔ سپریم کورٹ کے وکیل ڈی کے گرگ کے مطابق ایمائکس کیوری کی رپورٹ کو ذکیہ ہائی کورٹ میں بنیاد بنا سکتی ہیں۔ نچلی عدالت کی جانب سے انکار کے بعد یہ رپورٹ ان کے موقف کو مضبوط کرنے کے لئے کافی ہے۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ مودی اس سچائی سے نہیں بھاگ سکتے کہ گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے قتل عام کے لئے وہ ذمہ دار ہیں۔ دوسری طرف بھاجپا نیتا ارون جیٹلی کا ماننا ہے کہ مجرمانہ سزا عمل دفعہ یا شہادتی قانون کے تحت کسی وکیل یا ایمائکس کیوری کے نظریئے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جانچ پولیس کا کام ہے، کسی وکیل کا نہیں۔ ایس آئی ٹی کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر بھاجپا پیر کو نریندر مودی کی حمایت میں کھل کر کھڑی ہوگئی۔ بھاجپا نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ سے ثابت ہوگیا ہے کہ گجرات اور نریندر مودی کے خلاف کانگریس اور کچھ خودساختہ سماجی تنظیموں نے بدنامی کرنے کی مہم چلائی تھی۔ آخر سچائی کی جیت ہوئی ہے۔'' بھاجپا ترجمان جاویڈکر نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اس کی تشکیل سپریم کورٹ نے کی تھی اور اس میں گجرات سرکار کا کوئی بھی افسر نہیں تھا۔جاویڈکر کا کہنا ہے گجرات دنگوں پر سوال اٹھانے والی کانگریس پچھلے وقت کے دنگوں میں ملوث فسادیوں کو اب تک کیوں سزا نہیں دلا سکی جبکہ گجرات دنگوں کے قصورواروں کو سزا ملی ہے اور مل رہی ہے۔ کانگریس بلا وجہ گجرات کو دنیا میں بدنام کررہی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, Narender Modi, Supreme Court, Vir Arjun
24 اپریل 2012
بھاجپا میں اقتدار کی تین دھریاں
Published On 24 March 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی میں دہلی میونسپل کارپوریشن جیتنے کے بعد ایک نیا حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی بازی مار سکتی ہے لیکن سب سے بڑی کمی جو سامنے آرہی ہے وہ ہے کلیئر لیڈر شپ کی کمی۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں پارٹی کے ایک بڑے گروپ خاص کر ممبران پارلیمنٹ کے دل میں یہ ایک سوال بار بار گھر کر رہاتھا کہ آخر یوپی اے II- میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیاد ت والی حکومت مہنگائی، کرپشن اور گھپلوں کے اشو پر گھری رہی لیکن سرکار کی ناکامی کا بھاجپا کو توقع سے زیادہ فائدہ نہیں مل سکا۔ اس کے چلتے مرکزی سرکار کے خلاف ماحول کو بھنانے کے لئے پارٹی کو لوک سبھا چناؤ سے پہلے اپنا وزیر اعظم کا امیدوار اعلان کرنے ہے۔ یہ وقت اور یہ صورتحال ہے کہ بھاجپا تین دھریوں پر چل رہی ہے۔ سب سے پہلے شری نتن گڈکری جو پارٹی کے صدر ہیں انہیں آر ایس ایس کی حمایت ہے۔ دوسری طرف ڈی فور نیتا ان میں اڈوانی جی، سشما سوراج، ارون جیٹلی قابل ذکر ہیں تیسری دھری نریندر مودی ہیں جو اپنے آپ کو پارٹی سے بالاتر مانتے ہیں اور خود کو وزیر اعظم کے عہدے کا سب سے مضبوط دعویدارمانتے ہیں۔ ان تینوں دھریوں میں سبھی نیتا اپنی الگ الگ سمت میں چل رہے ہیں۔ نتن گڈکری کے ایک طرف نریندر مودی سے اختلافات ہیں اور دوسری طرف دیگر سے اکثر کھینچ تان ہوتی رہتی ہے۔ تازہ مثال سریندر سنگھ اہلووالیہ کی ہے جن کا پہلے راجیہ سبھا سے ٹکٹ کٹنا پھر جب ڈی فور نے زور دار مخالفت کی تو انہیں پھر سے امیدوار اعلان کرنا۔ کئی ماہ سے گڈکری اور نریندر مودی کے درمیان بات چیت تک نہیں ہورہی ہے۔ بات چیت کی کمی کی اس حالت کو گڈکری نے خود تسلیم کیا ہے۔ سوال یہ بھی کیا جارہا ہے کہ گڈکری نے مودی سے نہ ہوئی بات چیت کے بارے میں عام کیوں نہیں کیا؟ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ نریندر مودی بھاجپا کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری سنجے جوشی کو دوبارہ سے بھاجپا میں سرگرم کئے جانے کے فیصلے سے ناراض ہیں۔ گڈکری نے سنجے جوشی کو اترپردیش اسمبلی چناؤ میں خاص اہمیت دی تھی۔ اسی کے بعد دونوں میں 'کٹی' ہوگئی۔ اس سوال کا جواب بھاجپا کی جانب سے کون دے گا۔ وزیر اعظم کے امیدواری کے بارے میں بھاجپا کے سینئر لیڈر وینکیانائیڈونے حیدر آباد میں کہا کہ اگلے عام چناؤ سے پہلے پارٹی اپنے وزیر اعظم عہدے کے لئے امیدوار کا نام اعلان کردے گی ابھی اس کا صحیح وقت نہیں آیا ہے۔ادھر نریندر مودی نے مرکزی سیاست میں آنے کے واضح اشارے کردئے ہیں۔
پچھلے دنوں مجوزہ قومی انسداد دہشت گردی سینٹر کی مخالفت میں سارے وزراء اعلی دہلی میں جمع ہوئے تھے مودی نے خاص طور سے تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا اور بیجو جنتا دل کے چیف اور اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ حالانکہ اعلی سطح پرتو یہ میٹنگ مرکزی سرکار کے مجوزہ این سی ٹی سی کو لیکر تھی لیکن اندر خانے یہ وزراء اعلی 2014ء میں ہونے والے عام چناؤ کے بارے میں غور وخوص کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ مودی نے اپنے آپ کو وزیر اعظم کا امیدوار دکھانے کی چالیں چلنی شروع کردی ہیں۔ آنے والے دنوں میں رسہ کشی اور تیز ہونا ممکن ہے۔
Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Daily Pratap, Jayalalitha, L K Advani, Manmohan Singh, Narender Modi, NCTC, Nitin Gadkari, Sanjay Joshi, Sushma Swaraj, Tamil Nadu, UPA, Vir Arjun
13 اپریل 2012
کیا نریندر مودی پردھان منتری عہدے کے سب سے مضبوط امیدوار ہیں؟
Published On 13 March 2012
انل نریندر
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ ملک کے اندر تو ان کی اتنی چرچا نہیں ہورہی جتنی غیر ملکوں میں۔ امریکہ کے معروف اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار سیمون ڈینار نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی 2014ء کے عام انتخابات کے بعد پردھان منتری عہدے کے سب سے مضبوط دعویدار ہوں گے۔ بھارت میں کافی لوگ انہیں رول ماڈل کی شکل میں دیکھتے ہیں۔ کچھ لوگوں کی نظر میں وہ ملک کے سب سے اہل نیتا ہیں۔ حالانکہ ایک بڑا طبقہ آج بھی انہیں مسلمانوں کے مجموعی قتل عام کے لئے معاف نہیں کرپایا ہے۔رپورٹ میں لکھا ہے کہ نریندر مودی کو بھارت کی سیاست میں قدآور نیتا مانا جاسکتا ہے۔ مودی کی رہنمائی میں گجرات جیسے راجیہ کو اقتصادیات کی نئی اونچائیوں کو چھوا ہے۔ لیکن وزیراعلی کی ہندو راشٹریہ وادی ساکھ سے کافی لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کی رہنمائی میں کٹر مذہبی طاقتوں کو فروغ ملے گا۔ جمہوریت کی پرانی سیکولر ساکھ کو دھکا لگ سکتا ہے۔ نریندر مودی کو راجیہ میں بھرشٹاچار ختم کرنے کے ساتھ اقتصادی اور انڈسٹری ڈولپمنٹ کو نئی رفتار دینے کا سہرہ جاتا ہے۔تیزی سے آگے بڑھتی گجرات کی اقتصادی حالت میں نہ صرف ملکی کمپنیاں بلکہ بڑی تعداد میں غیر ملکی کمپنیوں نے بھی گجرات میں سرمایہ کاری کی ہے۔ مودی کے تنقید کار بھی انہیں شخصی طور پر بھرشٹ نہیں مانتے۔سال 2014ء میں ہونے والے عام چناؤ کے بعد بھاجپا کی طرف سے وزیر اعظم کے سب سے مضبوط دعویدار ہوسکتے ہیں نریندر مودی۔ شری نریندر مودی کی اس طرح کی پروجیکشن سے جہاں مسلم برادری پریشان ہے وہیں ان کی اپنی پارٹی کے کچھ لوگ بھی خوش نہیں ہیں۔غیر مقیم ہندوستانیوں کے درمیان مودی کو مل رہے وسیع سمرتھن کے چلتے سنگھ پریوار کے اندر بھی تبصرے چل رہے ہیں۔ اس کی وجہ ہے کہ سنگھ کی غیر مقیم ہندوستانیوں میں گہری پیٹ ہے۔ امریکہ، چین اور جاپان کا انڈسٹری حلقہ مودی کے ساتھ معیشت تعلقات کو بہتر بنانے میں لگا ہے۔ حالانکہ بھاجپا اور سنگھ کا ایک بڑا طبقہ مودی کو کنارے لگانے میں لگا ہے تاکہ 2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں مودی وزیر اعظم عہدے کے امیدوار کی شکل میں طاقتور ہوکر نہ ابھرپائیں۔ اس لئے تنظیمی سطح پرمودی کی چھوی کھلنائک والی بنانے کی بھی کوشش ہورہی ہے۔ اور کچھ حد تک مودی خود ایسی چھوی بنانے کے لئے بارود دے رہے ہیں۔مثال کے طور پر اترپردیش اسمبلی چناؤ میں پرچار نہ کرنا اور دہلی میں ہوئی قومی عہدیداروں کی میٹنگ میں نہ آنا مودی کی تنظیم مخالف سرگرمیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ بہت سے بھاجپائیوں کا کہنا ہے کہ مودی اپنے آپ کو پارٹی سے اوپر سمجھنے لگے ہیں۔ مودی کے دماغ میں اب غرور آگیا ہے۔ دنیا کے سو اثر دار طاقتور کے لئے کرائے جارہے ٹائمس رسالے کے سروے میں مودی نے اوبامہ اور ولادیمیر پوتن کو پچھاڑ دیا ہے۔ مانا جارہا ہے کہ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار یعنی وزیر اعظم عہدے کے امیدوار ہوسکتے ہیں لیکن دیش ودیش میں ہورہے سروے میں مقبولیت کے حساب سے نتیش کمار نریندر مودی سے پیچھے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Modi, Narender Modi, Nitin Gadkari, Nitish Kumar, RSS, Vir Arjun
23 مارچ 2012
گڈکری کی ہٹّی پھل پھول رہی ہے، پارٹی جائے بھاڑ میں!
Published On 23 March 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ادھیکش نتن گڈکری کے کام کرنے کے طور طریقوں سے زیادہ تر بھاجپا نیتا راضی نہیں ہیں۔ گڈکری کو آر ایس ایس کا نمائندہ مانا جاتا ہے۔ وہ سنگھ کے سمرتھن سے ہی بھاجپا ادھیکش بنے۔ گڈکری ایک تاجر ہیں جو بھاجپا کو اپنی نجی دکان کی طرح چلا رہے ہیں۔ تازہ بوال راجیہ سبھا کی ٹکٹوں کے بٹوارے کو لیکر ہے۔ راجیہ سبھا میں پارٹی کے صحیح امیدواروں کو درکنار کرنے اور مبینہ طور سے پیسے کے زور پر ٹکٹ دینے کے مدعے پر منگلوار کو بھاجپا ممبر پارلیمنٹ کی میٹنگ میں جم کر بوال ہوا۔ یشونت سنہا نے ایک تاجر انشومان مشرا کو سمرتھن دینے کو لیکر سیدھے پارٹی رہنمائی پر سوال اٹھادیا ہے۔ سنہا نے کہا کہ پارٹی ودھائکوں کو ہورس ٹریڈنگ کی منڈی میں نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اس میں پارٹی کا انوشاسن بھنگ ہوتا ہے اور امیج خراب ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جھارکھنڈ میں موجودہ راجیہ سبھا چناؤ میں پالیسی کو نہیں بدلا گیا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ زیادہ تر ممبر پارلیمنٹ ایم ایس اہلووالیہ کو دوبارہ جارکھنڈ سے ٹکٹ دینے پر ناراض تھے۔ بتاتے ہیں کہ اہلووالیہ پر سنگھ نے ویٹو لگادیا تھا۔میٹنگ میں ہماچل سے ممبر پارلیمنٹ شانتا کمار نے کہا کہ اہلووالیہ ایوان میں ایک اثردار نیتا ہیں اور انہیں ایک اور موقعہ ملنا ہی چاہئے تھا۔ نوادہ کے ممبر پارلیمنٹ بھولا سنگھ نے کہا کہ پارٹی کا ضمیر مر چکا ہے اور وہ پیسے کے سامنے جھک رہی ہے۔ بھاولا سے ممبر پارلیمنٹ مینکا گاندھی نے مرکزی رہنمائی سے کرناٹک کے سنکٹ کو ختم کرنے اور یدی یروپا کی مانگ پر دھیان دینے کی اپیل کی۔ اہلووالیہ کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ نہ ملنے سے کانگریس اور مایاوتی کی مراد پوری ہوگئی ہے۔ اہلووالیہ یوپی اے سرکار کو تمام مدعوں پر سب سے زیادہ گھیرتے رہے ہیں جن کی وجہ سے سرکار کئی بار پریشانی میں پڑی ہے۔مایاوتی بھی چاہتی تھیں کہ اہلووالیہ کا راجیہ سبھا سے پتا صاف ہوجائے تاکہ ممبر پارلیمنٹ نہ رہنے پر ان کو (اہلووالیہ) اپنا سرکاری بنگلہ 10 گورودوارہ رقاب گنج خالی کرنا پڑے۔ گڈکری چاہتے تو اہلووالیہ کو بھیج سکتے تھے انہیں جیتنے کے لئے بس11 ووٹ کی کمی پڑ رہی تھی جسے وہ جنتا دل (یو) سے پورا کرسکتے تھے لیکن گڈکری اور سشیل نے مل کر وہ سیٹ جنتادل (یو ) کے لئے چھوڑدی ۔جس پر بہار جنتا دل (یو) ادھیکش وششٹھ سنگھ نے نامزدگی کردی جبکہ اہلووالیہ نے اس سیٹ پر گڈکری سے پہلے سے ہی بات کررکھی تھی۔ ممبر پارلیمنٹ کی میٹنگ میں سب سے نازک حالت اڈوانی جی کی تھی۔ پوری میٹنگ میں وہ ایک تماشائی بنے رہے۔ممبر پارلیمنٹ کے بغاوتی تیور کا اثر فوراً دیکھنے کو ملا۔ کہا جارہا ہے کہ جھارکھنڈ میں جب پارٹی راجیہ سبھا چناؤ میں اپنے ودھائکوں کو کسی آزاد امیدوار کے ووٹ دینے کے لئے دباؤ نہیں دے گی بلکہ کوشش ہورہی ہے کہ بھاجپا ودھائک چناؤ کا ہی بائیکاٹ کریں۔ ادھیکش نتن گڈکری نے اترپردیش ودھان سبھا چناؤ میں ہٹلری اسٹائل سے چناؤ مہم چلائی۔ سب سے پہلے گڈکری نے سپا کے سمرتھن کے بل پر پارٹی کے قد آور نیتا اور گجرات کے مکھیہ منتری نریندر مودی کی مخالفت کے باوجود سنگھ کے پرچارک رہے سابق سنگٹھن منتری سنجے جوشی کو یوپی چناؤ پرچار کا انچارج بنا دیا۔ دوسرا گڈکری نے سبھی پارٹی نیتاؤں کی مخالفت کے باوجود بسپا سے نکالے ہوئے بابو سنگھ کشواہا اور بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں شامل کیا۔
پارٹی نے بندیلکھنڈ سے جتنے بھی تجربے کئے سوائے اوما بھارتی کے سب فیل ہوئے۔ مسلم بھتوں کے پولارائزیشنکو روکنے کیلئے اپنے سبھی فائر برانڈ نیتاؤں ورون گاندھی،یوگی ادتیہ ناتھ کو جہاں اپنے حلقے تک محدود کردیا وہیں دوسری طرف ہندووادی چہرہ مانے جانے والے نریندر مودی کو دعوت نامہ بھیجا لیکن جب ان کی ناراضگی ظاہر ہوئی تو انہیں منانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔پارٹی کی سبھی کوششوں کے بعد بھی پارٹی مسلم بھتوں کا پولارائزیشنتو نہ روک سکی بلکہ اپنی اس کوشش میں اس نے اپنے روایتی ووٹ بھی گنوا دئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پارٹی 2007ء کا بھی مظاہرہ نہ دوہرا سکی۔ چاہے معاملہ اتراکھنڈ کا رہا ہو یا پنجاب کا دونوں ہی راجوں میں بھاجپا کی حالت خراب ہوئی ۔ گڈکری جب سے ادھیکش بنے ہیں بھاجپا کا گراف گرتا ہی جارہا ہے لیکن اس میں نتن گڈکری کو کوئی فرق نہیں پڑتا وہ تو پارٹی کو بطور ہٹّی (دکان) چلا رہے ہیں۔جس کا واحد مقصد ہے پیسہ بنانا اور یہ کام وہ بخوبی کررہے ہیں۔ گڈکری کی ہٹّی تو پھل پھول رہی ہے ،پارٹی جائے بھاڑ میں۔
Anil Narendra, Babu Singh Kushwaha, BJP, Daily Pratap, Jharkhand, Narender Modi, Nitin Gadkari, RSS, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Varun Gandhi, Vir Arjun
12 فروری 2012
نریندرمودی کو ملی کلین چٹ
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے تھوڑی راحت کی سانس ضرور لی ہوگی خبر ہے کہ گجرات دنگوں پر اپنی انترم رپورٹ میں اسپیشل جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) نے وزیر اعلی مودی کو کلین چٹ دینے سے متعلق اپنی رپورٹ میٹروپولیٹن عدالت کو سونپ دی ہے۔ فسادات میں مارے گئے سابق کانگریسی ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری کی عرضی پر جانچ ٹیم بنائی گئی تھی۔لفافے میں بند رپورٹ سماجی رضاکار تستا سیتل واڑ جن سنگھرش منچ اور ذکیہ کے وکیل کی موجودگی میں 13 فروری کو یہ رپورٹ عدالت میں کھولی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی مودی اور ان کے کیبنٹ ساتھیوں اور سرکاری افسران کے خلاف جانچ ٹیم کو کوئی ثبوت ہاتھ نہیں لگا ہے۔ گجرات دنگوں کے معاملوں سمیت کئی اہم اشوز پر خاص عدالت کا کردار نبھا رہے سینئر وکیل راجو رام چندرن نے بھی ایس آئی ٹی سے اتفاق کیا ہے۔ رام چندرن اور ایس آئی ٹی دونوں کا خیال ہے کہ گودھرا کانڈ میں مارے گئے کارسیوکوں کی لاش احمد آباد لانے کا فیصلہ صحیح تھا۔ مودی نے فساد روکنے کی پوری کوشش کی جبکہ ان کے خلاف آئی پی ایس افسر کی طرف سے دئے گئے ثبوت اور گواہی کو مخالفین کی سیاست سے مبنی مانتے ہوئے ان پر زیادہ غور نہیں کیا گیا۔
اوپر والے کا کھیل بھی نرالہ ہے۔ کئی بار اچھی دھوپ کھلی ہوتی ہے اور آسمان سے بارش ہونے لگتی ہے یا تیزی ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں ایسے ہی قدرت کی طرح ہی مودی کو طوفانی تھپیڑوں کے ساتھ راحت دینے والی چھاؤں مل جاتی ہے۔ بدھوار کو گجرات ہائی کورٹ نے 2002ء میں گودھرا کانڈ کے بعد بھڑکے فسادات کے دوران مناسب کارروائی نہ کرنے اور لاپروائی برتنے کے ریمارکس کے ساتھ مودی سرکار کی مذمت کی تھی۔ عدالت نے ایک مفاد عامہ کی عرضی کو صحیح مانتے ہوئے فسادات کے دوران بڑے پیمانے پر مذہبی مقامات کے ڈھہ جانے کے لئے ریاستی سرکار کے نکمے پن کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ عدالتی حکم کی زخم پر24 گھنٹوں میں ہیں اس دوسری جانچ رپورٹ نے نہ صرف مرحم ہی لگا دیا بلکہ مودی کو کلین چٹ دے کر ایک بہت بڑے داغ کو دھو دیا۔ اگر اس رپورٹ کو صحیح مانا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اب اس کیس کو بند کردینا چاہئے۔ دو مختلف جانچ رپورٹوں نے مودی کو کلین چٹ دے دی ہے اور یہ صاف ہے کہ جو لوگ اپنے اپنے سیاسی ایجنڈے کے تحت مودی کو بدنام کرنے پر تلے ہیں وہ بری طرح سے ناکام ہوگئے ہیں۔ ایس آئی ٹی نے خودساختہ ثبوتوں اور گواہوں کو کوئی اہمیت نہیں دی اور صاف کہہ دیا کہ مودی کے خلاف سیاسی اغراز پر مبنی جھوٹے الزام لگائے گئے ہیں۔ جمعرات کو عدالت میں دی گئی رپورٹ سرکاری طور پر افشاں نہیں ہوئی ہے لیکن انتظامی سطح پر ہی چھن چھن کر باہر آئی اطلاعات کے مطابق رپورٹ میں فسادات کے لئے وزیر اعلی نریندر مودی کو پوری طرح سے الزام سے بری کردیا گیا ہے۔ 13 فروری کو جب یہ رپورٹ عدالت میں سرکاری طور سے کھولی جائے گی تب اس کے بارے میں اور مفصل جانکاری ملے گی فی الحال تو نریندر مودی کے لئے بہت بڑی اچھی خبر ہے جس سے انہوں نے راحت کی سانس ضرور لی ہوگی۔
اوپر والے کا کھیل بھی نرالہ ہے۔ کئی بار اچھی دھوپ کھلی ہوتی ہے اور آسمان سے بارش ہونے لگتی ہے یا تیزی ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں ایسے ہی قدرت کی طرح ہی مودی کو طوفانی تھپیڑوں کے ساتھ راحت دینے والی چھاؤں مل جاتی ہے۔ بدھوار کو گجرات ہائی کورٹ نے 2002ء میں گودھرا کانڈ کے بعد بھڑکے فسادات کے دوران مناسب کارروائی نہ کرنے اور لاپروائی برتنے کے ریمارکس کے ساتھ مودی سرکار کی مذمت کی تھی۔ عدالت نے ایک مفاد عامہ کی عرضی کو صحیح مانتے ہوئے فسادات کے دوران بڑے پیمانے پر مذہبی مقامات کے ڈھہ جانے کے لئے ریاستی سرکار کے نکمے پن کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ عدالتی حکم کی زخم پر24 گھنٹوں میں ہیں اس دوسری جانچ رپورٹ نے نہ صرف مرحم ہی لگا دیا بلکہ مودی کو کلین چٹ دے کر ایک بہت بڑے داغ کو دھو دیا۔ اگر اس رپورٹ کو صحیح مانا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اب اس کیس کو بند کردینا چاہئے۔ دو مختلف جانچ رپورٹوں نے مودی کو کلین چٹ دے دی ہے اور یہ صاف ہے کہ جو لوگ اپنے اپنے سیاسی ایجنڈے کے تحت مودی کو بدنام کرنے پر تلے ہیں وہ بری طرح سے ناکام ہوگئے ہیں۔ ایس آئی ٹی نے خودساختہ ثبوتوں اور گواہوں کو کوئی اہمیت نہیں دی اور صاف کہہ دیا کہ مودی کے خلاف سیاسی اغراز پر مبنی جھوٹے الزام لگائے گئے ہیں۔ جمعرات کو عدالت میں دی گئی رپورٹ سرکاری طور پر افشاں نہیں ہوئی ہے لیکن انتظامی سطح پر ہی چھن چھن کر باہر آئی اطلاعات کے مطابق رپورٹ میں فسادات کے لئے وزیر اعلی نریندر مودی کو پوری طرح سے الزام سے بری کردیا گیا ہے۔ 13 فروری کو جب یہ رپورٹ عدالت میں سرکاری طور سے کھولی جائے گی تب اس کے بارے میں اور مفصل جانکاری ملے گی فی الحال تو نریندر مودی کے لئے بہت بڑی اچھی خبر ہے جس سے انہوں نے راحت کی سانس ضرور لی ہوگی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, Narender Modi, Vir Arjun
31 جنوری 2012
کیا دیش کے اگلے وزیر اعظم نریندر مودی ہوسکتے ہیں؟
Published On 31st January 2012
انل نریندر
آج اگر لوک سبھا چناؤ ہوجائیں تو ایک عوامی ریفرنڈم کے دعوے کے مطابق یوپی اے محاذ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے اور کانگریس کی قیادت والے راہل گاندھی کے مقابلے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو وزیر اعظم کی شکل میں بڑھت مل سکتی ہے۔ او آر جی نیلسن کی جانب سے کرائے گئے ملک گیر سروے کے جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ آج کی حالت میں چناؤ ہونے پر این ڈی اے کو 180 سے190 سیٹیں اور تیسرے مورچے کو بھی اتنی ہی سیٹیں ملیں گی جبکہ یوپی اے کو 168 سے177سیٹیں ملنے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ سروے میں ایک دلچسپ سوال یہ بھی تھا کہ اگر انا ہزارے اور راہل گاندھی آمنے سامنے ایک ہی سیٹ پر مقابلہ کررہے ہوں تو آپ کس کو ووٹ دیں گے؟ اس سوال پر60 فیصد لوگوں نے انا ہزارے کی حمایت میں اپنا ووٹ دیا۔سب سے دلچسپ سوال تھا کہ وزیر اعظم کس کو دیکھنا چاہیں گے؟ وزیراعظم کے امیدوار کی شکل میں اگست2010 ء کے سروے کے مقابلے راہل گاندھی کی مقبولیت کا گراف 24 فیصد سے گھٹ کر17 فیصد آگیا ہے جبکہ نریندر مودی کا گراف12 سے بڑھ کر 45 فیصد تک پہنچ گیا ہے باقی لیڈر بہت نیچے ہیں۔ مثال کے طور پر اس سروے کے مطابق بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کی مقبولیت حالانکہ 4 سے بڑھ کر10 فیصد ہوگئی ہے لیکن مودی کے وہ بہت پیچھے ہیں۔ تازہ سروے میں اڈوانی، منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی کی مقبولیت ایک ساتھ یعنی10-10 فیصد پر آگئی ہے۔ یہ سروے ایسے وقت آیا ہے جب پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات جاری ہیں۔ سروے میں 19 ریاستوں میں اندازاً90 فیصد پارلیمانی حلقوں کے 12 ہزار سے زیادہ لوگوں کی رائے لی گئی۔ نریندر مودی آج جنتا کی نمبرون پسند ہیں۔ نریندر مودی کو ماننا پڑے گا کہ ان کے ستارے روشن ہیں۔ بدقسمتی دیکھئے کے مودی کی سب سے کٹر سیاسی مخالف پارٹی کانگریس نے بھی غلطی سے ان کی تعریف کر ڈالی۔خبر پھیل گئی لیکن ایسا ہوا ہے کہ یوم جمہوریہ کے موقعہ پر بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے گجرات کے کچھ حصوں میں اخبارات کے ساتھ دو صفحے کا ایک اشتہار شائع کروایا اس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ گجرات وجود میں آنے کے ساتھ ہی ترقی یافتہ ریاست بن گیا۔ اس میں نریندر مودی سمیت ریاست کے سبھی وزراء اعلی کے اشتراک کو دکھایاگیا ہے۔اس میں مودی کی تصویر کے ساتھ انہیں با صلاحیت تنظیمی منتظم اور ماہر چناوی حکمت عملی بتایا گیا ہے۔گجرات میں اس سال دسمبر میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ چناؤ مہم تقریباً شروع ہوچکی ہے۔ اشتہار میں مودی کی اہم کامیابیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مودی گجرات کو طاقتور ریاست میں تبدیل کرنے کے لئے بڑی محنت کررہے ہیں ۔ انہوں نے بایو ٹیکنالوجی کے لئے الگ محکمہ بنایا ہے۔ اس اشتہار کے شائع ہوتے ہی کانگریس میں گھماسان مچنا فطری ہی تھا۔ پارٹی کے بڑے لیڈر جہاں اسے بیوقوفی بھرا قدم بتا رہے ہیں تو وہیں ہائی کمان نے پردیش یونٹ اور انچارج موہن پرکاش سے جواب طلب کیا ہے۔ حالانکہ کانگریس لیڈر و مرکزی وزیر راجیو شکلا نے اسے مودی کی تعریف والا نہیں بلکہ ان پر ایک بڑا تنقید کرنے والا قراردیا ہے۔ اس اشتہار میں طنز کہاں ہے، اپنی سمجھ سے تو باہر ہے۔ اس میں سیدھی مودی کی تعریف بیان کی گئی ہے۔Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Manmohan Singh, Narender Modi, Vir Arjun
26 جنوری 2012
نتن گڈکری کا تازہ میزائل نریندرمودی وزیر اعظم
Published On 26th January 2012
انل نریندر
اپنے متنازعہ بیانات کے لئے مشہور بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر نتن گڈکری نے پھر نیا واویلا کھڑا کردیا ہے۔ ایک ٹی وی چینل سے بات چیت میں ایک سوال کے جواب میں گڈکری نے کہا ''نریندر مودی پارٹی صدر بن سکتے ہیں، ان میں وزیر اعظم بننے کی بھی قابلیت ہے۔'' پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ اتنے قریب ہو ں اور بھاجپا صدر ایسابیان دے؟ اس میں پہلے کشواہا معاملے میں پارٹی کو منہ کی کھانی پڑی تھی۔ اس سے پارٹی سنبھلی نہیں نتن جی نے نیا تیر چل دیا۔ اس بیان سے جہاں بھاجپا میں کھلبلی مچی وہیں کانگریس اپنے ڈھنگ سے اس کا مطلب، مقصد نکال رہی ہے۔ کانگریس کا خیال ہے کہ نتن گڈکری نے یہ سوچا سمجھا بیان دیا ہے جس کا مقصد یوپی میں ہندو ووٹ بینک کو منظم کرنا ہے۔ مودی کی ساکھ کا فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے اترپردیش کو خاص ذہن میں رکھ کر یہ بیان دیا گیا ہے۔ اترپردیش میں راہل گاندھی کے دوروں سے اپرکاسٹ ووٹ کانگریس کی طرف جھک رہا ہے۔ مایاوتی کا اپنا حساب بھی بھاجپا کے روایتی ووٹ بینک کو ہلاتا لگ رہا ہے۔ اسی کو ذہن میں رکھ کر پہلے اوما بھارتی کو یوپی میں آگے کیا گیا اور اب نریندر مودی کی وزیر اعظم کی بات اچھالی گئی۔ وہیں بھاجپا کے اندر اس بیان نے نئی ہلچل پیدا کردی ہے۔ نتن کے اس بیان کا پارٹی کے اندر یہ مطلب نکالا جارہا ہے کہ نریندر مودی گڈکری اور سنگھ کی پی ایم کی پہلی پسند ہوں گے۔لال کرشن اڈوانی، سشما سوراج اور ارون جیٹلی جیسے بڑے لیڈروں سے دور ہٹ کر گڈکری نے اب مودی کے ساتھ کھڑا ہونے کی کوشش کی ہے۔ کشواہا معاملے کے بعد پارٹی بچاؤ کے دوسرے مطلب بھی اب سامنے آرہے ہیں۔ این ڈی اے کے کنوینر اور جنتا دل کے قومی صدر شرد یادو نے نتن گڈکری کی اس رائے کی کھل کرمخالفت کی ہے جب یادوسے پوچھا گیا کہ اس بارے میں ان کا کیا کہنا ہے تو انہوں نے فوراً کہا کہ ابھی2014ء بہت دور ہے۔ آپ لوگ 2012ء کی بات کیجئے۔ جب یہ بات سامنے آئے گی تب ہم دیکھیں گے کہ اپنے پردھان کے بیان پر بھاجپا نے پیر کو کہا کہ یہ ایک غیر ضروری سوال کردیا گیا ہے اور اس کا موزوں جواب تھا ۔ پارٹی ترجمان روی شنکر پرساد سنگھ نے کہا کہ ایسے معاملوں پر پارٹی مجموعی طور پر فیصلے کرتی ہے۔ اس بارے میں دورائے نہیں ہے کہ مودی میں بھاجپا پردھان یا پردھان منتری بننے کی پوری صلاحیت ہے۔ سارا دیش اور ہم سبھی یہ بات مانتے ہیں ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا لیکن کسی کو وزیر اعظم یا پارٹی صدر بنانا بھاجپاکا کوئی کنبہ پرستی والا معاملہ نہیں ہے۔ کون پارٹی صدر ہوگا یا وزیر اعظم کا امیدوار بنے گااسے پارٹی مناسب وقت پر طے کرے گی۔ بھاجپا اور کانگریس میں سب سے بڑا فرق یہ ہی ہے کہ کانگریس لیڈر شپ صاف ہے اور جو فیصلہ سونیا گاندھی کردیں وہ ہی آخری ہوتا ہے۔ بھاجپا میں تو درجنوں لیڈر سپریموں ہیں ۔کوئی ایک دوسرے کی بات ماننے کو تیار نہیں۔ جس کے منہ میں جو آتا ہے وہ کہہ دیتا ہے پھر ابھی لوک سبھا چناؤدور ہیں۔ ابھی سے وزیر اعظم امیدوار کی بات چھیڑنے سے کیا فائدہ ہوگا۔ ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ بھاجپا کا پہلا مقصد تو یوپی میں اچھی کارکردگی دکھانے ،پنجاب اور اتراکھنڈ میں پھر سے سرکار بنانے کا ہونا چاہئے۔ انہیں کے نتائج سے ایک اشارہ ملے گاکے پارٹی جنتا کی نظروں میں کہاں کھڑی ہے؟ گھر بیٹھے بیٹھے خیالی پلاؤ بنانے سے شاید ہی کوئی فائدہ ہو؟
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Narender Modi, Nitin Gadkari, Vir Arjun
21 جنوری 2012
گجرات ہائی کورٹ نے لوک آیکت معاملے میں دیا مودی کو جھٹکا
Published On 21th January 2012
انل نریندر
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو لوک آیکت معاملے میں یقینی طور سے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے سے جھٹکا لگا ہے۔ گجرات ہائی کورٹ نے گورنر کی جانب سے لوک آیکت مقرر کرنے کو پوری طرح سے آئینی اور قانونی طور پر جائز ٹھہرایا ہے۔ لوک آیکت کی تقرری کو لیکر مودی حکومت کے ٹال مٹول کے بعد گورنر محترمہ کملا بینی وال نے پچھلے سال25 اگست کو ریٹائرڈ آر اے مہتہ کو ریاست کا لوک آیکت مقرر کیا تھا۔ گجرات میں نومبر 2003ء سے لوک آیکت کا عہدہ خالی پڑا تھا۔گورنر نے جسٹس مہتہ تو لوک آیکت قانون 1986 کی ضمنی دفعہ3 کے مخصوص اختیارات کا استعمال کرکے مقرر کیا تھا۔ 26 اگست کو گجرات حکومت نے ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔ تین مہینے پہلے ہائی کورٹ نے منقسم فیصلہ دیا تھا۔ بدھوار کو تیسرے جج وی ایم سہائے کی عدالت نے اختلافی نقطوں پر سماعت کے بعد گورنر کے فیصلے کو صحیح ٹھہرایا تھا۔ دونوں فریقین کے وکیلوں کی رائے اپنے حساب سے رکھی گئی تھی۔ عقیل قریشی کا کہنا تھا کہ لوک آیکت کی تقرری صحیح اور آئین کے تحت ہے جبکہ سونیا بین گونکنی کا کہنا تھا کہ مہتہ کو لوک آیکت مقرر کرنے کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔ اب معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ گجرات حکومت نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کردیا ہے۔ یہ اچھا ہوا کہ یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں پہنچ گیا۔ پچھلے سال پورے وقت دیش میں کرپشن پر روک لگانے کیلئے لوکپال قانون کی مانگ گونجتی رہی۔ اس شور و غل کے درمیان لوگوں کو یاد نہیں رہا کہ کئی ریاستوں میں کرپشن پر نظررکھنے کے لئے لوک آیکت نامی ایک ادارہ پہلے سے ہی قائم ہے۔ ہم نے گذشتہ دنوں بھی یہ دیکھا کہ لوک آیکت کیا کیا کرسکتے ہیں۔ اترپردیش میں لوک آیکت نے مایاوتی سرکار کا ناک میں دم کررکھا ہے اور نتیجے کے طور پر کئی وزرا ء کو باہرکا راستہ دکھانے پر مایاوتی مجبور ہوئیں یہ بات اور ہے کہ ریاستوں میں لوک آیکتوں کے وجود اور ان کے اختیارات وہاں کی حکومتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔کئی ریاستوں نے تو اتنے ہنگامے کے باوجود لوک آیکتوں کو اب تک ضروری نہیں سمجھا اور کچھ ریاستوں نے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس عہدے کو بنایا تو لیکن اپنے حساب سے کاٹ چھانٹ کرتے ہوئے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے لوک آیکت کے معاملے میں پورے دیش میں ایک رائے سامنے آئے گی اور پارٹیوں کو مرکز بنام ریاست کی آڑ میں سیاست کرنے کا موقعہ نہیں ملے گا۔ گجرات کا نمونہ آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے ۔ گجرات بیشک اپنے صنعت اور کاروبار کے لئے سب سے معقول ریاست ہونے کا پروپگنڈہ کرتا رہے لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ریاست پچھلے 8 برسوں سے لوک آیکت کے بغیر چل رہی تھی۔ وہاں کے گورنر اور وزیر اعلی کی چخ چخ کے بارے میں سبھی جانتے ہیں۔ویسے بھی پچھلے کچھ عرصے سے لگتا ہے کہ نریندر مودی میں تھوڑا غرور آگیا ہے۔ یہ جھٹکا ان کیلئے بھی اچھا ہے۔ اب وہ تھوڑا زمین پراتریں گے۔ مودی سرکار کہہ رہی ہے کہ گورنر نے ریاستی کیبنٹ کی توثیق کے بغیر لوک آیکت بنا کر ریاست کے اختیارات میں مداخلت کی ہے جبکہ 2-1 سے آئے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے میں وزیراعلی کے طریقہ کار کی بخیا ادھیڑی گئی ہیں۔ فیصلے میں مودی کی نکتہ چینی میں بھی کہا گیا ہے کہ وہ ریاست میں لوک آیکت قانون میں تبدیلی لا کر چیف جسٹس کو ہی تقرری عمل سے ہٹانا چاہتے تھے۔ سچائی کیا ہے یہ تو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی پتہ چلے گا لیکن اندرونی طور سے ابھی دونوں فریق صحیح لگ رہے ہیں۔ بیشک گورنر مرکز کے نمائندے ہوتے ہیں اس لئے اپنی من مرضی ریاست کی منتخبہ سرکار پر نہیں تھونپ سکتے۔ مودی کو ان ریاستوں سے حمایت مل سکتی ہے جہاں غیر کانگریسی حکومتیں ہیں لیکن آج کی تاریخ میں کرپشن روکنے کے کسی بھی عمل کو روکنے کی کوشش جنتا کو نہیں پسند آئے گی۔ مودی کی لڑائی سیاسی ہے دائرہ اختیارات کے قبضے کا معاملہ ہے وہ کرپشن کو روکنے کے خلاف نہیں دکھانا چاہئے۔ دلچسپ یہ بھی ہے کہ جو بھاجپا مضبوط لوکپال کی وکالت کرتی نظر آتی ہے اور جس نے متعلقہ بل میں ایک ترمیم یہ بھی تجویز کی تھی کہ لوکپال کے انتخاب میں مرکزی حکومت کا رول کم کیا جائے۔ وہ اس بات کو لیکر ناراض رہی ہے کہ گجرات میں لوک آیکت کی تقرری ریاستی حکومت کی مرضی سے کیوں نہیں کی گئی۔ کیا پارٹی یہ چاہتی ہے کہ لوک آیکت کون ہو ، اور اس کے اختیارات کیا ہوں ، اس کا فیصلہ ریاستی حکومتوں کے اوپر چھوڑ دیا جائے؟ پھرکیا ایسا سسٹم کرپشن کو روکنے میں پائیدار ثابت ہوسکتا ہے؟Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, Lokayukta, Narender Modi, Vir Arjun
15 جنوری 2012
یوپی چناؤ میں نریندر مودی و نتیش کمار آمنے سامنے
Published On 15th January 2012
انل نریندر
یوپی کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس ، بھاجپا، سپا و بسپا کے اہم کمپینر کون کون ہوں گے۔ لوگوں کی اس کو لیکر دلچسپی بنی ہوئی ہے۔ خاص طور سے اترپردیش میں۔ مشن 2012ء فتح پر دیو بھومی اتراکھنڈ و یوپی میں کانگریس کوئی کسر نہیں چھوڑنا چاہتی۔ امیدواروں کے نام کے اعلان کے ساتھ پارٹی اب چناؤ مہم کیلئے اشتہار کمپینروں کی فہرست بنانے میں لگ گئی ہے۔ ظاہرہے محترمہ سونیا گاندھی ، راہل گاندھی خاص کشش کا مرکز ہوں گے۔ مسلم ووٹروں کو رجھانے کیلئے سلمان خورشید دگوجے سنگھ، راشد علوی، رشید مسعود کا استعمال ہوسکتا ہے۔ پتہ نہیں وزیر اعظم بھی جائیں گے یا نہیں؟ اس کے علاوہ دہلی ۔
راجستھان کے وزرائے اعلی کا بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ ہریانہ کے وزیر اعلی بھی چناؤ مہم میں شامل ہوسکتے ہیں۔ نوجوانوں کو راغب کرنے کیلئے راہل کے ساتھ سچن پائلٹ، جوتر ادتیہ سندھیہ، جتن پرساد بھی عوام سے خطاب کرسکتے ہیں۔ جہاں تک بھاجپا کا سوال ہے پارٹی صدر نتن گڈکری،ایل کے اڈوانی، سشما سوراج،ارون جیٹلی اہم کمپینر ہوسکتے ہیں۔ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی پر بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ وہ یوپی میں ضرور چناؤ پرچار کے لئے آئیں گے۔ نتیش کمار اور نریندر مودی سیاست میں ایک دوسرے سے نظریں ملانے سے بھی پرہیز کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ اترپردیش میں دونوں آمنے سامنے ہوں گے۔
بھاجپا کے ذریعے وقاری سیٹیں نہ دئے جانے کے سبب پہلے نتیش نے اترپردیش سے الگ رہنے کا فیصلہ لیا تھا۔ اب جبکہ ان کی پارٹی (جنتا دل یو) سبھی403 سیٹوں پر تنہا لڑنے کی کوشش کررہی ہے تو چناؤ مہم کے لئے ان کا یوپی آنا طے مانا جارہا ہے۔ ادھر بھاجپا نے نریندر مودی کو اپنے سٹار کمپینر کے طور پر پیش کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔بہار اسمبلی چناؤں میں بھاجپا نے وزیر اعلی نتیش کمار کی شرط کو قبول کرلیا تھا اور چناؤ مہم چلانے کیلئے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو بہار نہیں آنے دیا تھا۔ مودی کی ساکھ کٹر پسند ہندو لیڈر کی رہی ہے اس وجہ سے نتیش ان سے پرہیز کرتے ہیں۔ نتیش کو اقلیتوں کی بھاری حمایت ملتی رہی ہے اور وہ کسی قیمت پر اس مینڈیڈ کو کھونا نہیں چاہتے۔
ماضی میں بھی این ڈی اے کے وزراء اعلی کی کانفرنس میں نتیش اور مودی آمنے سامنے ایک اسٹیج پرتھے۔ دونوں لیڈروں کے ساتھ والی تصویر سے سیاست میں طوفان کھڑا ہوگیا تھا۔ بھاجپا کی قومی ایگزیکٹوکمیٹی کی میٹنگ کے دوران اس تصویر کے چھپنے پر نتیش اتنے ناراض ہوگئے کہ انہوں نے بھاجپا کی ریلی میں شرکت کرنے سے منع کردیا۔ یہ ہی نہیں نتیش نے گجرات سرکار کے دئے پانچ کروڑ بھی واپس لوٹا دئے جو سیلاب راحت کے لئے مودی نے بھیجے تھے۔ حالانکہ اب بھی بہار میں دونوں پارٹیوں کا اتحاد قائم ہے۔ ان دونوں سیاستداں حریفوں کے درمیان ایک چناؤ میں آمنے سامنے دیکھیں کیا حالات بنتے ہیں؟ سماجوادی پارٹی کے اسٹار کمپینرملائم سنگھ یادو ان کے بیٹے اکھیلیش یادو اور اعظم خاں اہم ہوں گے۔ بسپا میں تو ایک ہی اسٹار کمپینر ہیں بہن جی۔ مایاوتی اکیلے اپنے ہی دم خم پر پارٹی کو جتانے کی کوشش کریں گی۔ یوپی میں ان بڑی پارٹیوں کے علاوہ درجنوں چھوٹی پارٹیاں بھی چناؤ میدان میں ہیں۔ وہ سب ہی اپنی تال ٹھوکیں گی۔ کل ملا کر دلچسپ ہوگا ان سٹار کمپینروں کے آپس میں بھڑنے کا نظارہ۔
راجستھان کے وزرائے اعلی کا بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ ہریانہ کے وزیر اعلی بھی چناؤ مہم میں شامل ہوسکتے ہیں۔ نوجوانوں کو راغب کرنے کیلئے راہل کے ساتھ سچن پائلٹ، جوتر ادتیہ سندھیہ، جتن پرساد بھی عوام سے خطاب کرسکتے ہیں۔ جہاں تک بھاجپا کا سوال ہے پارٹی صدر نتن گڈکری،ایل کے اڈوانی، سشما سوراج،ارون جیٹلی اہم کمپینر ہوسکتے ہیں۔ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی پر بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے بارے میں بھی کہا جارہا ہے کہ وہ یوپی میں ضرور چناؤ پرچار کے لئے آئیں گے۔ نتیش کمار اور نریندر مودی سیاست میں ایک دوسرے سے نظریں ملانے سے بھی پرہیز کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ اترپردیش میں دونوں آمنے سامنے ہوں گے۔
بھاجپا کے ذریعے وقاری سیٹیں نہ دئے جانے کے سبب پہلے نتیش نے اترپردیش سے الگ رہنے کا فیصلہ لیا تھا۔ اب جبکہ ان کی پارٹی (جنتا دل یو) سبھی403 سیٹوں پر تنہا لڑنے کی کوشش کررہی ہے تو چناؤ مہم کے لئے ان کا یوپی آنا طے مانا جارہا ہے۔ ادھر بھاجپا نے نریندر مودی کو اپنے سٹار کمپینر کے طور پر پیش کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔بہار اسمبلی چناؤں میں بھاجپا نے وزیر اعلی نتیش کمار کی شرط کو قبول کرلیا تھا اور چناؤ مہم چلانے کیلئے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو بہار نہیں آنے دیا تھا۔ مودی کی ساکھ کٹر پسند ہندو لیڈر کی رہی ہے اس وجہ سے نتیش ان سے پرہیز کرتے ہیں۔ نتیش کو اقلیتوں کی بھاری حمایت ملتی رہی ہے اور وہ کسی قیمت پر اس مینڈیڈ کو کھونا نہیں چاہتے۔
ماضی میں بھی این ڈی اے کے وزراء اعلی کی کانفرنس میں نتیش اور مودی آمنے سامنے ایک اسٹیج پرتھے۔ دونوں لیڈروں کے ساتھ والی تصویر سے سیاست میں طوفان کھڑا ہوگیا تھا۔ بھاجپا کی قومی ایگزیکٹوکمیٹی کی میٹنگ کے دوران اس تصویر کے چھپنے پر نتیش اتنے ناراض ہوگئے کہ انہوں نے بھاجپا کی ریلی میں شرکت کرنے سے منع کردیا۔ یہ ہی نہیں نتیش نے گجرات سرکار کے دئے پانچ کروڑ بھی واپس لوٹا دئے جو سیلاب راحت کے لئے مودی نے بھیجے تھے۔ حالانکہ اب بھی بہار میں دونوں پارٹیوں کا اتحاد قائم ہے۔ ان دونوں سیاستداں حریفوں کے درمیان ایک چناؤ میں آمنے سامنے دیکھیں کیا حالات بنتے ہیں؟ سماجوادی پارٹی کے اسٹار کمپینرملائم سنگھ یادو ان کے بیٹے اکھیلیش یادو اور اعظم خاں اہم ہوں گے۔ بسپا میں تو ایک ہی اسٹار کمپینر ہیں بہن جی۔ مایاوتی اکیلے اپنے ہی دم خم پر پارٹی کو جتانے کی کوشش کریں گی۔ یوپی میں ان بڑی پارٹیوں کے علاوہ درجنوں چھوٹی پارٹیاں بھی چناؤ میدان میں ہیں۔ وہ سب ہی اپنی تال ٹھوکیں گی۔ کل ملا کر دلچسپ ہوگا ان سٹار کمپینروں کے آپس میں بھڑنے کا نظارہ۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Elections, Narender Modi, Nitish Kumar, State Elections, Uttar Pradesh, Vir Arjun
21 اکتوبر 2011
کیا نریندر مودی پارٹی سے اوپر ہوچکے ہیں؟
Published On 21st October 2011
انل نریندر
کچھ وقت پہلے سے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی اور ان کی پارٹی بھاجپا کے درمیان کچھ حساب کتاب ٹھیک نہیں لگ رہا ہے۔ بھاجپا میں مودی کو لیکردونوں ناراضگی اور علیحدگی پسندی کا جذبہ پیدا ہونے لگا ہے۔ بھاجپا کی لیڈر شپ کا ماننا ہے کہ نریندر مودی کو اب غرور ہوگیا ہے اور وہ اپنے آپ کو پارٹی سے اوپر ماننے لگے ہیں۔ پارٹی نے مودی کو ان کی حیثیت کا احساس کروانا شروع کردیا ہے۔ لال کرشن اڈوانی کی جن چیتنا یاترا پر آنکھیں دکھانے والے نریندر مودی کو اس یاترا میں بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے۔ وہ کہیں نظر نہیں آرہے ہیں اور اب اخباروں میں ان کی سرخیاں بھی کم دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ اڈوانی جی نے اپنی یاترا میں بھاجپا کی طرف اور تمام وزیر اعلی کے کام کاج اور کارناموں کا ذکر کیا ہے لیکن انہوں نے ابھی تک کسی بھی بڑے جلسے میں نریندر مودی کا نام تک نہیں لیا ہے۔ یہ ہی اڈوانی پہلے نریندر مودی کو ایک مثالی وزیر اعلی کے طور پر پیش کرتے نہیں تھکتے تھے۔ بھاجپا لیڈر شپ کا خیال ہے کہ مودی کا سیاسی قد کافی بڑا ہوسکتا ہے اور انہیں احساس کرانے کی ضرورت ہے ۔پارٹی ان کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ پارٹی سے ہیں۔ اس مسئلے پر اب غور کیا جارہا ہے کہ اگلے سال اترپردیش و دیگر ریاستوں میں اسمبلی انتخابات میں مودی کو پرچار کے لئے نہ بلایا جائے۔ پارٹی کو لگتا ہے کہ وہ اپنی کٹر پسند ہندوتو ساکھ کے سبب اگر مودی پرچار کرتے ہیں تو تمام مسلمان بکھرجائیں گے۔ بھاجپا کا مودی کی وجہ سے اختلاف کرنا شروع کردیں گے۔ بھاجپا کو یہ معلوم ہے ایک بھی مسلمان ووٹ اسے ملنے والا نہیں لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتی کہ بلاوجہ مسلمان پارٹی کے خلاف جارحانہ رویہ اختیارکرلے۔ پارٹی اترپردیش میں پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقے کو اپنے ساتھ جوڑنے کیلئے نتیش کمار کی مدد لینا بہتر متبادل سمجھنے لگی ہے۔ نتیش کمار نریندر مودی کے کٹر مخالف مانے جاتے ہیں یہ محض اتفاق نہیں کہ مسٹر اڈوانی نے اپنی جن چیتنا یاترا کو بہار سے شروع کیا اور اس یاترا کو ہری جھنڈی بھی نتیش کمار نے ہی دکھائی تھی۔ بہار اسمبلی چناؤ کے دوران بھی انہوں نے مودی کو ریاست میں نہ بھیجنے کی وارننگ دی تھی۔ بھاجپا نے اس پر عمل کیااور نتیجے سب سامنے ہیں۔آج نتیش کمار این ڈی اے کے سب سے طاقتور امیدوار بن کر ابھرے ہیں۔ بھاجپا کو بھی یہ اچھا لگتا ہے کہ وہ این ڈی اے کو آگے بڑھائے اور اس راستے سے وہ اقتدار تک پہنچے۔ مودی کا قد چھوٹا کرنے کے لئے بھاجپا لیڈر شپ اور سنگھ نے مل کر جان بوجھ کر سنجے جوشی کو ذمہ داری سونپی ہے۔ نریندر مودی سنجے جوشی کو بیحد نا پسند کرتے ہیں۔ انہیں تنظیمی سکریٹری کے عہدے سے ہٹوانے میں ان کا بہت اہم کردار رہا۔ ویسے تو لال کرشن اڈوانی بھی سنجے جوشی کو پسند نہیں کرتے کیونکہ جناح معاملے میں سنجے جوشی نے ہی اڈوانی کو پارٹی صدارت سے استعفیٰ دینے کو کہا تھا۔ عام طور پر پردھان اپنا استعفیٰ نائب پردھان کو دیتا ہے لیکن اڈوانی نے اپنا استعفیٰ سنجے جوشی کو بھیجا تھا۔شری نریندر مودی کی پریشانیاں بڑھتی جارہی ہیں وہ اپنے گھر میں ہی گھرتے جارہے ہیں۔ گجرات دنگوں کے معاملے میں نریندر مودی کو پھنسانے کے لئے جھوٹے ثبوت گھڑنے والے معطل اور پھر گرفتار کئے گئے آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو مقامی عدالت نے تمام اختلاف کے باوجود ضمانت دے دی۔ عدالت نے اس معاملے پرشبہ ظاہر کیا جس کے تحت اسے گرفتار کیا گیا۔ رہا ہوتے ہی بھٹ نے مودی پر حملہ بول دیا اور ان کو مجرم بتاتے ہوئے کہا کہ میرے لئے مودی صرف ایک مجرم ہیں جو وزیر اعلی بن گئے ہیں۔ مودی اور ان کے لوگ خود کو بچانے کے لئے میرا قتل کروا سکتے ہیں جیسا کہ ہریند پانڈیہ کا کرایا گیا تھا۔
یہ یقینی ہے کانگریس جو سنجیو بھٹ کو اکسارہی ہے۔ ان کو ضمانت پر چھڑوانے اور باہر آنے کا پورا فائدہ وہ اٹھائے گی۔ حیرانگی تو اس بات پر بھی ہے کہ گجرات کے تین سینئر پولیس افسران نے سنجیو بھٹ کی کھلی حمایت کی ہے۔ 30 ستمبر کو بھٹ کی گرفتاری کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب افسران بھٹ کے خاندان سے ملنے گھر گئے اور سنجیو کی بیوی شویتا سے ملاقات کی، جو دو گھنٹے چلی۔ شویتا نے بتایا کہ تینوں افسران نے سنجیو کے ساتھ ہورہی نا انصافی پر افسوس ظاہر کیا اور مدد کا یقین دلایا۔ آنے والے دنوں میں لگتا ہے کہ نریندر مودی کی پریشانیاں بڑھنے والی ہیں گھٹنے والی نہیں۔
Anil Narendra, Bihar, BJP, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Nitin Gadkari, Nitish Kumar, Rath Yatra, Sanjay Joshi, Sanjeev Bhatt, Vir Arjun
09 اکتوبر 2011
آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ ہیرو یا ولین
گجرات کے آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ پچھلے کچھ دنوں سے بحث کے موضوع بنے ہوئے ہیں۔گجرات کے یہ متنازعہ پولیس افسر جو آج کل معطل ہے دراصل ایک ہیرو ہے یا ایک ولین ۔ کانگریس کی نظروں میں تووہ ہیرو ہے سنجیو بھٹ کانگریس کے پسندیدہ بنتے جارہے ہیں۔ کانگریس کاایک طبقہ یہاں تک کہنے لگاہے کہ سنجیو بھٹ کی گرفتاری مودی حکومت کے زوال کی شروعات مانی جاسکتی ہے۔ اس طبقہ کاکہناہے کہ بدلے کے جذبہ سے بھٹ کے خلاف کی جارہی انتقامی کارروائی مودی حکومت کو بھاری پڑے گی۔ دراصل نریندرمودی کانگریس کی آنکھ میں کانٹا بنے ہوئے ہیں اور کانگریس کو ہمیشہ کوئی ایسا اشو ضرور چاہئے ہوتا ہے جس سے وہ مودی پر حملہ کرسکیں۔ کبھی مودی کے اپواس میں ایڈوانی سمیت دوسرے بڑے بھاجپا نیتاؤں کی غیرموجودگی کو ہوا دی جاتی ہے تو کبھی ایڈوانی کی گجرات سے اپنی یاترا شروع نہ کرنے کو اشو بنایا جاتا ہے۔ وزیراعظم کے عہدے کی دعوی داری کو لے کر بھاجپا میں جاری گھمسان لڑائی کوا چھالا جاتا ہے اب سنجیو بھٹ معاملے کو طول دیاجارہا ہے ۔ کہاں جارہا ہے کہ مودی حکومت کے بدلے کے جذبے سے کام کررہی ہے اور سنجیو بھٹ کو اس لئے نشانہ بنایاجارہا ہے کیونکہ وہ مودی کے خلاف کھل کر الزام لگارہے ہیں۔ بھٹ کی اہلیہ کے وزیرداخلہ پی چدمبرم کو ایک خط لکھ کرکہاہے کہ گجرات پولیس ان کے شوہر کے ساتھ دہشت گردوں کے ساتھ برتاؤ کررہی ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے ریاستی حکومت پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ وہ بھٹ کی ضمانت نہ ملنے پانے کے لئے طر ح طرح کے ہتھکنڈے اپنارہی ہے کچھ دن پہلے بھٹ کی بیوی نے شویتا نے چدمبرم کو ایک اور خط لکھا تھا جس میں اپنے شوہر کی جان کو خطرہ بتایا تھا۔
سوال یہ ہے کہ سنجیو بھٹ کیا ایک وفادار ایمان دار اور صاف ستھری ساکھ کے افسر ہے جنہیں مودی سرکار جان بوجھ کر نشانہ بنارہی ہے اور بدلہ لے رہی ہے کیونکہ انہوں نے مودی کے خلاف مہم چھیڑی ہوئی ہے یا پھر وہ ایک داغ دار افسر ہے جو اپنی سرگرمیوں کے پردہ فاش ہونے سے اس لئے حملہ کررہے ہیں تاکہ ان کے خلاف لگے الزامات سے بچا سکے۔ سنجیو بھٹ کے پولیس ریکارڈ پر اگر ہم نظر ڈالے تو پائیں گے ان پر وقتا فوقتا سنگین الزام لگتے رہے ہیں 30 اکتوبر 1990 جام نگر ضلع کے جمود پور تعلقہ میں ایک فرقہ وارانہ فساد ہوا اس میں 133 لوگوں کو گرفتارکیا گیا۔ وشنو ہندو پریشدکے پریم بربھو داس ویش نانی پکڑے جانے کے 11دن بعد پولیس حراست میں مرگئے۔ کیونکہ پولیس ان کی ضرورت سے زیادہ پٹائی کردی تھی۔ ان کے بڑے بھائی امرت لال ویش نانی نے حراست میں موت سے متعلق جو مقدمہ کیا اس میں وہ اس وقت کے بنیادی ملزم ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجیو بھٹ کوبنایا گیا تھا۔ جام نگر کے اس وقت کے ایڈیشنل سیشن جج این ٹی سولنکی نے بھٹ کے خلاف ایک گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا۔
بھٹ کے خلاف گجرات سی آئی ڈی نے سی آر پی سی کی دفعہ (9) کے تحت مقدمہ چلانے کے لئے باقاعدہ ریاستی حکومت سے اجازت مانگی تھی لیکن 1995میں مودی حکومت نے عدالت میں بھٹ کابچاؤ کیا عدالت نے یہ کیس بند کرنے کی حکومت کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ معاملہ چلانے لائق ہے اس لئے اسے بند نہیں کیاجاسکتا ہے لیکن مودی سرکارنے 1996 کی اس عرضی کو واپس لے لیا۔ اب بھی عدالتی کارروائی بھٹ کے خلاف جاری ہے سنجیو بھٹ ایک اور داغی چہرہ ہے 1995 میں وہ احمد آباد ضلع پولیس کے ایس پی تھے وہیں ایک سیشن جج آر کے جین تھے ان کی بہن کے ایک کرایہ دار تھے جن کے خلاف مقدمہ چل رہاتھا۔ لیکن کرایہ دار مقدمہ جیت گئے اور گھر خالی کرانے کے لئے سبھی قانونی راستے بند ہوگئے۔ جسٹس جین نے سنجیو بھٹ سے پھر سے گھر کسی بھی طریقے سے خالی کروانے کی اپیل کی۔ بھٹ نے کرایہ دار کوبلایا اور گھر خالی کرنے کو کہا اس نے کہاکہ اگر اس نے گھر خالی نہیں کیاتو اسے نتیجہ بھگتنے ہوں گے پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ سنجیو بھٹ نے کرایہ دار کے گھر پر منشیات رکھوا کر اسے گرفتار کروادیا او رگرفتار ہوتے ہی زبردستی گھر خالی کرالیا بعد میں یہ ضلع جج کی عدالت میں کرایہ دار نے دعوی پیش کیا تو اس میں سنجیو بھٹ کو پارٹی بنایا گیا۔سنجیو بھٹ کے خلاف ایک لاکھ پچاس ہزار کا جرمانہ لگا جس کی ادائیگی آپ کو سن کر تعجب ہوگا کہ ریاستی حکومت نے کی اور وہ پیسہ ان کی تنخواہ قسطوں میں کٹتا رہا۔ اس معطل آئی پی ایس افسر کی مودی سرکار سے دشمنی اور اسکے مخالفوں سے سانٹھ کانٹھ پرانی ہے ایسی کئی مثالیں ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کانگریس سنجیو بھٹ کو مودی سرکار اور وہ خود وزیراعلی کے خلاف اکساتی رہی ہے اور اکساتی رہے ہیں سنجیو بھٹ کاریکارڈ عدالتوں کے سامنے ہے اور ہوسکتاہے کہ اگلی اسمبلی چناؤ وہ امیدوار بنے اور اب آپ خودفیصلہ کرلیں۔ سنجیو بھٹ ایک ایماندار اور صاف ستھری ساکھ کے شخص ہے جسے مودی سرکار جان بوجھ کر نشانہ بنارہے ہیں یا پھر وہ کانگریسی شطرنجی چال میں ایک مہرہ بنے ہوئے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, P. Chidambaram, Sajeev Bhatt, Vir Arjun
02 اکتوبر 2011
اڈوانی اور نریندر مودی میں ٹکراؤ بڑھ رہا ہے
Published On 2nd October 2011
انل نریندر
منموہن سنگھ کی کیبنٹ میں اندرونی رسہ کشی اور ٹکراؤ کا الزام لگانے والی
بھاجپا بھی خود ایسی صورتحال سے دوچار ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی دو روزہ
قومی ایگزیکٹو کی میٹنگ میں پارٹی صدر نتن گڈکری کی اپیل کے باوجود گجرات
کے وزیر اعلی نریندر مودی سمیت کرناٹک اور اتراکھنڈ کے سابق وزراء اعلی بی
ایس یدی یرپا اور رمیش پوکھریال نشنک میٹنگ میں شامل نہیں ہوئے۔ بھاجپا
پردھان نتن گڈکری نے حالانکہ یہ کہا کہ پارٹی کوشش کررہی ہے کہ مودی میٹنگ
میں شامل ہو جائیں۔ کچھ ہی لوگ شاید اس دلیل کو مانیں گے کے مودی نوراتری
کا برت رکھ رہے ہیں اس لئے وہ میٹنگ میں نہیں آ پائے۔ اصلی وجہ کچھ وار ہی
ہے8 ستمبر کو پارٹی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے اچانک مل گیر رتھ
یاترا کرنے کا اعلان کردیا۔ اس سے بھاجپا لیڈر شپ بھی حیران رہ گئی۔ اس
اعلان کے ساتھ ہی چترماس لگنے لگے کے اڈوانی کی اس رتھ یاترا کا مطلب ایک
بار پھر پی ایم ان ویٹنگ کا پیغام دینا ہے۔ آر ایس ایس نے 2009ء کے چناؤ
میں ہار کے بعد شری اڈوانی کو پیچھے کرکے نمبر دو کے لیڈروں کو آگے کرنے
کی اسکیم بنائی۔ اس میں نریندر مودی سشما سوراج ، ارون جیٹلی اور خود نتن
گڈکری شامل تھے۔ لیکن اڈوانی کی اچانک رتھ یاترا کے اعلان نے یہ سارے
تجزیئے بگاڑ دئے۔ اڈوانی کی یاترا کا سب سے زیادہ جھٹکا گجرات کے وزیر اعلی
نریندر مودی کو لگا ہے۔ طویل عرصے تک ان کی پہچان اڈوانی کے خاص سپہ سالار
کی شکل میں ہورہی تھی لیکن اب مودی بڑے استاد بن گئے ہیں۔ کچھ معنوں میں
وہ اپنے آپ کو پارٹی سے اوپر سمجھنے لگے ہیں۔ بھاجپا کے ذرائع کے مطابق
بھاجپا میں وزیر اعظم کے عہدے کے ان دو امکانی دعویداروں مودی اور اڈوانی
کے درمیان ٹکراؤ بڑھتا جارہا ہے۔ اڈوانی کی مجوزہ رتھ یاترا مودی کو راس
نہیں آرہی ہے۔ اسی کے چلتے انہوں نے بھی اڈوانی کی طرز پر پچھلے دنوں احمد
آباد میں ایک بڑا سیاسی شو کرڈالا تھا۔ گورنر کے خلاف حال ہی میں گجرات میں
منعقدہ مودی کی ریلی میں اڈوانی سمیت کسی بڑے نیتا نے شرکت نہیں کی تھی۔
احمد آباد میں مودی اپواس کا جس طرح سے پروپگنڈہ کیا گیا اس سے پارٹی کی
سینئر لیڈر شپ خوش نہیں ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ مودی خود کو بھاجپا کی طرف
سے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ ادھر آر ایس ایس نے
اڈوانی پر دباؤ ڈالا کہ وہ یہ صاف کردیں کہ ان کی یاترا کا ان کی وزیر اعظم
کی امیدواری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ سنگھ کے ناگپور میں واقع ہیڈ
کوارٹر میں آر ایس ایس کی لیڈر شپ سے ملاقات کے بعد مسٹر اڈوانی نے اعلان
کیا تھا کہ وزیر اعظم کے عہدے کی امیدواری کو لیکر وہ یہ یاترا نہیں کررہے۔
سب سے پہلے مودی نے ہی ان کی یاترا کی مخالفت کی تھی۔ ذرائع کے مطابق جب
اڈوانی نے ان سے اس یاترا کے بارے میں بات کی تو مودی نے اپنی عادت کے
مطابق ان سے دو ٹوک پوچھ لیا کے اس سے کیا فائدہ؟ آپ کیا حاصل کرنا چاہتے
ہیں؟ اتنا ہی نہیں مودی نے گجرات میں یاترا شروع کرنے میں مدد کرنے معذوری
ظاہر کردی۔ آخر کار مسٹر اڈوانی نے اپنی یاترا بہار سے شروع کرنے کا فیصلہ
کیا۔ اس کے پیچھے ایک اور مقصد بھی نظر آتا ہے ۔ شاید اڈوانی جی این ڈی اے
کی طرز پر سیاست کو بڑھا وا دینا چاہتے ہیں۔ پہلے بھی انہوں نے محمد علی
جناح کی تعریف کرکے اسی لائن پرچلنے کی کوشش کی تھی جس پر اٹل جی چلتے تھے۔
اڈوانی جی کی کوشش ہے کہ وہ این ڈی اے کی طرز پر پھر سے مرکز میں سرکار
بنائیں اور اس کی قیادت کریں۔ اس مقصد کو نہ تو آر ایس ایس حمایت کرے گا
اور نہ ہی مودی جیسے تلخ لیڈر۔ جن کی پہچان ہندوتو لیڈر کی ہے۔ مسٹر اڈوانی
کی مجوزہ یاترا کو لیکر جو تنازعہ کھڑا ہوا ہے یہ رکنے والا نہیں۔ بھاجپا
لیڈر شپ میں اس وقت زبردست ٹکراؤ ہے اور اس رتھ یاترا نے فوکس میں لاکر
کھڑا کردیا ہے۔ ادھر کانگریس لیڈر شپ میں گھماسان ہو رہا ہے۔ رہی سہی کثر
بھاجپا کی اندرونی رسہ کشی نے پوری کردی ہے۔
21 ستمبر 2011
مودی کے سدبھاونا مشن پر ’’ٹوپی‘‘ پہنانے کی کوشش
Published On 21th September 2011
انل نریندر
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کا تین روزہ انشن پیر کو ختم ہوگیا۔ گجرات یونیورسٹی کے کنونشن ہال میں تین دنوں کے لئے سدبھاونا برت پر بیٹھے مودی نے پیر کی شام 6:15 بجے دھرم گوروؤں کے ہاتھوں لیموں پانی پی کر انشن ختم کردیا۔ نریندر مودی کے اپواس کو جس طرح سے پارٹی کے اندر سے لیکر پورے دیش میں حمایت ملی ہے اس سے صاف ہے کہ لال کرشن اڈوانی کے بعد وہ بھاجپا کے سب سے بڑے لیڈربن کر ابھرے ہیں۔ حالانکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے مودی اب بھاجپا کی جانب سے اگلے وزیر اعظم بننے کے سب سے قد آور نیتا بن گئے ہیں اور شری مودی نے اپنی خواہش بھی نہیں چھپائی۔ وزیراعظم بننے کی خواہش کھل کر ظاہر کئے بغیر مودی نے سنیچر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک نیا نعرہ دیا ۔’’سب کا ساتھ ۔سب کا وکاس‘‘ اگلے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی پرچار کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اپنا اپواس توڑنے کے ساتھ ہی نریندر مودی نے گجرات میں چناؤ سے ایک سال پہلے ہی اپنی مہم کا رتھ شروع کردیا ہے۔ تین دن کے اپواس کے بعد گجرات کے سبھی 26 ضلعوں میں باری باری سے سارا دن اپواس پر بیٹھنے کے پلان کے ساتھ نریندر مودی نے اب بڑے مشن کا بھی شری گنیش کردیا ہے۔منفی سیاست کے مقابلے ترقی کے مورچے پر خوشحالی رپورٹ کارڈ کی بدولت آگے بڑھنے کے ایجنڈے کو بھی مودی نے دیش کے سامنے رکھ دیا۔ اتنا ہی نہیں اپواس کے تینوں دنوں میں وزیر اعظم کے عہدے پر اپنی دعویداری کی ہوا بنا کر گجراتیوں کے وقار کی شکل میں بھی خود کو ابھارا ہے۔ ساتھ ہی سدبھاونا مشن کے سہارے ایک پاؤں مسلموں کی طرف بڑھایا لیکن کہیں بھی اپنی بنیادی طاقت ہندوتو کی زمین نہیں چھوٹنے دی۔ احمد آباد شہر کے پاس واقع پیرانا گاؤں میں ایک چھوٹی سی درگاہ کے شاہی امام مولانا سید نے ایتوار کو مودی کے اپواس کی جگہ اسٹیج پر جاکر ان سے ملاقات کی تھی۔ مولانا نے مودی کو ایک ٹوپی پہننے کی پیشکش کی لیکن وزیر اعلی نے بڑی معذوری سے ٹوپی پہننے سے منع کردیا اور اس کے بجائے شال اڑھانے کو کہا۔ امام نے مودی کو شال اڑھایا جسے انہوں نے منظور کرلیا۔ نریندر مودی نے بغیر کسی پر الزام لگائے اور حملے کئے اور خود پر لگنے والے فرقہ وارانہ الزامات کا جواب گجرات میں ترقی اور امن کے ریکارڈ کے ساتھ دیا۔ مودی نے صاف کہا کہ لیڈر شپ کی کسوٹی ایکشن پر منحصر کرتی ہے۔ آج ہم نے دنیا کو دکھا دیا کہ یہ راستہ ہے سب کو جوڑ کر، سب کو ساتھ لیکرچلنے کا۔ جب تک ووٹ بینک کی سیاست سے اٹھ کر ترقی کی سیاست نہیں اپناتے تب تک بھارت اوپر نہیں اٹھ پائے گا۔ اسی کڑی میں گجرات کے وزیر اعلی نے ہی سچر کمیٹی کے ساتھ کچھ سال پہلے ہوئی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میری سرکار اقلیتوں یا اکثریتوں کے لئے کچھ نہیں کرتی میری سرکار چھ کروڑ گجراتیوں کے لئے کام کرتی ہے۔ میں ہر چیز کو اکثریتی یا اقلیتی میں نہیں تولتا۔ میرے ساتھ میری ریاست کے شہری سبھی ایک ہیں۔
مودی کے اپواس ختم ہونے کے دن پیر کے روز بھاجپا نے زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اب کانگریس کی باری ہے۔ مودی کے اپواس کے خلاف گاندھی آشرم کے سامنے جوابی انشن پر بیٹھے کانگریس لیڈر شنکر سنگھ واگھیلا نے منگل کی صبح اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی۔ کانگریس کے مرکزی عہدیدار کی شکل میں گجرات کانگریس کے انچارج موہن پرکاش نے مودی سرکار پر جم کر حملہ بولا۔ گجرات سرکار پر برستے ہوئے موہن پرکاش نے کہا کہ 100 کروڑ روپے قرض لیکر نریندر مودی کونسی سدبھاونا دکھانا چاہتے ہیں۔ موہن پرکاش نے کہا مودی سرکار بدعنوانی میں انتہا تک ڈوبی ہوئی ہے۔ کیگ کی رپورٹ میں گجرات سرکار کا کرپشن پوری طرح اجاگر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کانگریس مودی سرکار کے بھرشٹاچار کو اجاگر کرنے کیلئے جنتا کی عدالت میں جائے گی۔ واگھیلا نے کہا اخباروں میں بڑے بڑے اشتہار دیکر اپواس نہیں کیا جاتا۔ مودی کا اپواس محض ایک دکھاوا ہے اور ایک سیاسی تکڑم بازی ہے۔ واگھیلا الزام لگایا کہ مودی نے پہلے 72 گھنٹے کے اپواس کا اعلان کیا تھا لیکن 55 گھنٹوں میں ہی انہوں نے انشن توڑدیا۔ کل ملاکر دیکھا جائے تو نریندر مودی کا یہ سیاسی انشن ویسے تو کامیاب رہا۔ جہاں تک اس کے ہندوستانی سیاست میں اثر کا سوال ہے وہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
Anil Narendra, BJP, CAG, Congress, Corruption, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Vir Arjun
مودی کے اپواس ختم ہونے کے دن پیر کے روز بھاجپا نے زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اب کانگریس کی باری ہے۔ مودی کے اپواس کے خلاف گاندھی آشرم کے سامنے جوابی انشن پر بیٹھے کانگریس لیڈر شنکر سنگھ واگھیلا نے منگل کی صبح اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی۔ کانگریس کے مرکزی عہدیدار کی شکل میں گجرات کانگریس کے انچارج موہن پرکاش نے مودی سرکار پر جم کر حملہ بولا۔ گجرات سرکار پر برستے ہوئے موہن پرکاش نے کہا کہ 100 کروڑ روپے قرض لیکر نریندر مودی کونسی سدبھاونا دکھانا چاہتے ہیں۔ موہن پرکاش نے کہا مودی سرکار بدعنوانی میں انتہا تک ڈوبی ہوئی ہے۔ کیگ کی رپورٹ میں گجرات سرکار کا کرپشن پوری طرح اجاگر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کانگریس مودی سرکار کے بھرشٹاچار کو اجاگر کرنے کیلئے جنتا کی عدالت میں جائے گی۔ واگھیلا نے کہا اخباروں میں بڑے بڑے اشتہار دیکر اپواس نہیں کیا جاتا۔ مودی کا اپواس محض ایک دکھاوا ہے اور ایک سیاسی تکڑم بازی ہے۔ واگھیلا الزام لگایا کہ مودی نے پہلے 72 گھنٹے کے اپواس کا اعلان کیا تھا لیکن 55 گھنٹوں میں ہی انہوں نے انشن توڑدیا۔ کل ملاکر دیکھا جائے تو نریندر مودی کا یہ سیاسی انشن ویسے تو کامیاب رہا۔ جہاں تک اس کے ہندوستانی سیاست میں اثر کا سوال ہے وہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
Anil Narendra, BJP, CAG, Congress, Corruption, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Vir Arjun
14 ستمبر 2011
نریندرمودی کی اگنی پریکشا
گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی کے سیاسی حریفوں کو بہت امیدتھی کہ سپریم کورٹ پیر کے روز مودی کو2002 کے گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے دنگوں پرمقدمے میں لپیٹ لے گی اور انہیں کٹہرے میں کھڑا کردے گی۔ وزیر اعلی نریند مودی اور یگر 62 افسران پر الزام لگایاگیا تھا انہوں نے2002ء میں ہوئے گلبرگ سوسائٹی فسادات کو روکنے کیلئے جان بوجھ کر کوئی قدم نہیں اٹھایا اور تشدد کو فروغ دیا۔ لیکن مودی کو نیچا دکھانے کی کوشش کررہے ان کے حریفوں کو سپریم کورٹ سے مایوسی ہاتھ لگی۔ بڑی عدالت نے دنگا روکنے میں ان کے کردار میں لاپرواہی پر کوئی فیصلہ سنانے سے انکارکردیا۔جسٹس ڈی کے جین کی سربراہی والی تین ججوں کی ڈویژن بنچ نے مودی اور دیگر سرکاری افسران کے خلاف مقدمہ درج کرانے کیلئے کوئی بھی خاص ہدایت دینے سے انکارکردیا۔مودی اور ان سرکار حکام کو سابق کانگریس ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ کے ذریعے شکایت میں بتایا گیا تھا جعفری کی احمد آباد فسادات میں گلبرگ سوسائٹی قتل عام میں جان چلی گئی تھی۔ جسٹس پی سداشیورام اور جسٹس آفتاب عالم کی بنچ نے بڑی عدالت کے حکم پر اسپیشل جانچ عدالت (ایس آئی ٹیٌ) کے ذریعے جانچ کی انترم رپورٹ مجسٹریٹ کے سامنے داخل کرنے کو کہا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی جانچ کے لئے مخصوص اسپیشل جانچ کمیٹی یعنی ایس آئی ٹی کو ہدایت دی کہ وہ اپنی رپورٹ گجرات کی نچلی عدالت کو سونپے۔ یعنی اب نچلی عدالت یہ طے کرے گی کہ گجرات دنگوں میں وزیر اعلی نریندر مودی کے خلاف معاملہ بنتا ہے یا نہیں؟ فیصلے پر اپنے اپنے ڈھنگ سے رد عمل سامنے آیا ہے۔ اس فساد میں مارے گئے احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری نے عدالت کے اس فیصلے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بیحد مایوس کن ہے۔ میرے پاس ایک بار پھر اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ 2002ء میں جو بھی کچھ ہوا تھا اس کے بارے میں تفصیل میں نے ایس آئی ٹی کو دے دی تھی۔ اتنے برسوں کے بعد ایک ہی حقیقت کو میں کب تک دوہراؤں گی؟ ذکیہ جعفری کا کہنا ہے کہ ریاست کی عدالت کو اس معاملے کو سونپ دئے جانے کا مطلب یہ ہی ہے کہ نریندر مودی کے حق میں فیصلہ آئے گا۔ حالانکہ سماجی ورکر اور نریندر مودی کی کٹر حریف تستا سیتل واد نے کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا اس فیصلے کو کلین چٹ کی شکل میں نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا یہ لڑائی بہت لمبی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا غلط مطلب نکالا جارہا ہے۔ اب ہماری عرضی ایس آئی ٹی کی رپورٹ اور راجو رامچندر کی رپورٹ گجرات کے مجسٹریٹ دیکھیں گے۔ ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ نریندر مودی اور دیگر لوگوں کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے ۔ اگر مودی یا کسی اور کے خلاف معاملہ بند ہونے کی بات ہوتی تو ذکیہ جی اور ہماری دلیل سنی جائے گی۔ ہمیں بھروسہ ہے کہ گجرات کی عدالت اس معاملے میں جائز فیصلہ سنائے گی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نریندر مودی نے محض تین لفظوں میں اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ ’’ایشور مہان ہے‘‘ بھاجپا نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا پارٹی کو یقین تھا کہ مودی کو بدنام کرنے کی مہم زیادہ دن تک ٹک نہیں پائے گی۔ پارٹی کے ترجمان پرکاش جاویڈکر نے مسکراتے ہوئے کہا ’’مودی سے نفرت کرنے والوں اور انہیں نشانہ کی تاک میں رہنے والوں کی موجودہ حالات میں سمجھ سکتا ہوں۔ قانون نے وہ راستہ اپنایا ہے جو بالکل صحیح ہے۔ ‘‘کانگریس نے اس مسئلے پر بہت ہی سوجھ بوجھ والا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے مودی کو کلین چٹ نہیں دی ہے۔ ترجمان شاہد علوی نے کہا ’’اس سے مایوسی کی کوئی بات نہیں ہے ۔ نریندر مودی کو کلین چٹ تھوڑے ہی ملی ہے؟ ہماری قانونی کارروائی میں اصلاح کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ذکیہ جی اور ان کے خاندان کے لئے میں ہمدردی جتانا چاہوں گا‘‘۔
Anil Narendra, Arun Jaitli, Godhra, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Supreme Court, Sushma Swaraj
01 جولائی 2011
بھاجپا کے اسمبلی ضمنی چناؤ میں کامیابی کے اسباب
![]() |
| Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily |
Published On 1st July 2011
انل نریندر
دو ریاستوں میں ہوئے اسمبلی ضمنی چناؤ میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے دونوں سیٹوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ مدھیہ پردیش کی جبیڑا سیٹ پر بھاجپا کے امیدوار دشرت لودھی نے کانگریس کی ڈاکٹر تانیہ سالومن کو 11738 ووٹوں کے فرق سے ہرایا۔ بھاجپا نے یہ سیٹ کانگریس سے چھینی ہے۔ ادھر بہار میں پورنیہ صدر سیٹ پر بھاجپا کی کرن کیسری نے کانگریس کے رام چرتر یادو کو23665 ووٹوں سے ہرایا۔ اس سیٹ پر بھاجپا کا قبضہ برقرار ہے۔ان شاندار کامیابیوں سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کانگریس کی ساکھ اور حالت اتنی خراب ہوگئی ہے اس کی ایک اور اہم وجہ ہے کے ان ریاستوں میں طاقتور لیڈر شپ بھاجپا حکمراں ریاستوں میں اچھی ساکھ کی سب سے بڑی وجہ ہے کہ وہاں پارٹی کے لیڈر کی ساکھ صاف ستھری اور ایماندارانہ اور جنتا کے تئیں حساس اور افسرشاہی پر کنٹرول و صحیح ترجیحات کو رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ نیتا پروگراموں کو اپنے پاس رکھیں اور اقتدار میں ان سے سانجھے دار کریں۔ مجھے بی جے پی کے وفادار اور ہارڈ کور ورکر نے ایک پتے کی بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا اور کانگریس میں ایک بڑا بنیادی فرق کیا ہے؟ کانگریس جب اقتدار میں آتی ہے تو وہ ستہ کا سکھ اور فائدہ، انعام اپنے ورکروں سے بانٹتی ہے ۔ یعنی ورکر کو اقتدار کا فائدہ ملتا ہے۔ دوسری طرف بھاجپا نیتا چناؤ سے پہلے تو ورکروں کو بھائی ، باپ بنا لیتے ہیں اور چناؤ جیتنے کے بعد جب اقتدار کا فائدہ بانٹنے کی باری آتی ہے تو وہ اپنے ایئر کنڈیشننگ روم میں بند ہوکر رہ جاتے ہیں، ورکر ان کے پاس دفتر میں گھس بھی نہیں سکتا۔ وہ اقتدار کا فائدہ ، اقتدار کا سکھ اور پرساد خود ہی بھوگنا چاہتے ہیں، ورکروں سے بانٹنے کو تیار نہیں ہوتے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اگلے چناؤ میں وہ ورکر گھر پر بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہماری بلا سے یہ جیتے یا ہارے ہمیں کیا لینا دینا ہے؟ دوسری جانب کانگریس ورکر اگلے چناؤ میں پورا دم خم لگا دیتا ہے۔ اس لئے کیونکہ اپنے نیتا کو جتانے میں اس کا مفاد وابستہ ہوتا ہے۔ جب تک بھاجپا مرکزی لیڈر شپ کو یہ معمولی سی بات سمجھ میں نہیں آتی وہ شاید ہی اقتدار میں آسکے۔ اگر مدھیہ پردیش ، بہار یا گجرات میں بھاجپا کو اتنی کامیابی مل رہی ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ وہاں پارٹی کے وزیر اعلی ہیں۔ عام ورکر اپنے آپ کو اپنے نیتا سے شناخت بیان کرتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ اس کا کوئی بھی مسئلہ ہو گا یا اس کا کوئی کام ہوگا تو وہ اپنے نیتا پر بھروسہ کر سکتا ہے۔ کانگریس میں کچھ نیتا چاہے جتنی بھی برعکس ہوا ہو ، چناؤ جیت جاتے ہیں کیونکہ ان کے ورکر انہیں جتانے کے لئے دن رات ایک کردیتے ہیں۔
آج بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی لیڈر شپ میں اتنی گروپ بندی ہے کہ پردھان منتری بننے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ انہیں سوائے اپنا جوڑ توڑ کرنے کے کسی کی فرصت نہیں ہے۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا، نمبر گھٹانے کے کھیل میں یہ دن رات لگے ہوئے ہیں۔ یہ بات میں اکیلا نہیں کہہ رہا خود پارٹی کے سرکردہ لیڈر لال کرشن اڈوانی نے حال ہی میں کہی ہے۔ سابق نائب وزیر اعظم اور بھاجپا پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین لال کرشن اڈوانی فرماتے ہیں کہ ایمانداری کے معاملے میں پارٹی کی ساکھ گری ہے۔ انہوں نے کہا پارٹی میں اب گروپ بندی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سے بھاجپا کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ بھاجپا کے اندرونی ذرائع کے مطابق اڈوانی نے دہلی میونسپل کارپوریشن کے بھاجپاکونسلروں کے لئے دہلی کے چھتر پور مندر میں منعقدہ ٹریننگ کیمپ کے افتتاحی اجلاس میں کہا کہ پارٹی کی کارپوریشن کے کاموں میں تو کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے ۔ ایمانداری کے معاملے میں پارٹی کی ساکھ گری ہے۔ اس معاملے میں انہوں نے احمد آباد میونسپل کارپوریشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ایمانداری سے کام ہورہا ہے۔ انہوں نے دہلی پردیش بھاجپا میں پہلے بھی گروپ بندی تھی اور اب بھی یہ گروپ بازی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے صاف کہا کہ پارٹی کی ساکھ گرانے کے لئے خود پارٹی کے کچھ لیڈر ہی ذمہ دار ہیں۔ اڈوانی جی نے بیشک یہ باتیں دہلی پردیش بھاجپا کے لیڈروں کے لئے کہی ہوں لیکن اشاروں اشاروں میں وہ ایک تیر سے کئی شکار کر گئے ہیں۔ آج کی ضرورت یہ ہے کہ بھاجپا کی مرکزی لیڈر شپ کو دوسری لائن کے لیڈر پردھان منتری بننے کا خواب چھوڑیں اور بھاجپا ایسے شخص کو وزیر اعظم کے طور پر سامنے لائے جو پوری پارٹی کو ساتھ لیکر چل سکے۔ موجودہ لیڈر شپ میں تو مجھے ایسے تین متبادل نظر آتے ہیں جنہیں تجربہ ہے ،جو ایماندار ساکھ کے ہیں جو پارٹی ورکروں کو ساتھ لیکر چل سکتے ہیں۔ ان میں غرور اتنا نہیں آیا ہے کہ وہ اپنی زمین ہی بھول جائیں یہ ہیں شری لال کرشن اڈوانی، شری مرلی منوہر جوشی اور شری نریندر مودی۔
آج بھارتیہ جنتا پارٹی کی مرکزی لیڈر شپ میں اتنی گروپ بندی ہے کہ پردھان منتری بننے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ انہیں سوائے اپنا جوڑ توڑ کرنے کے کسی کی فرصت نہیں ہے۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنا، نمبر گھٹانے کے کھیل میں یہ دن رات لگے ہوئے ہیں۔ یہ بات میں اکیلا نہیں کہہ رہا خود پارٹی کے سرکردہ لیڈر لال کرشن اڈوانی نے حال ہی میں کہی ہے۔ سابق نائب وزیر اعظم اور بھاجپا پارلیمانی بورڈ کے چیئرمین لال کرشن اڈوانی فرماتے ہیں کہ ایمانداری کے معاملے میں پارٹی کی ساکھ گری ہے۔ انہوں نے کہا پارٹی میں اب گروپ بندی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس سے بھاجپا کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ بھاجپا کے اندرونی ذرائع کے مطابق اڈوانی نے دہلی میونسپل کارپوریشن کے بھاجپاکونسلروں کے لئے دہلی کے چھتر پور مندر میں منعقدہ ٹریننگ کیمپ کے افتتاحی اجلاس میں کہا کہ پارٹی کی کارپوریشن کے کاموں میں تو کارکردگی اچھی نہیں رہی ہے ۔ ایمانداری کے معاملے میں پارٹی کی ساکھ گری ہے۔ اس معاملے میں انہوں نے احمد آباد میونسپل کارپوریشن کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ایمانداری سے کام ہورہا ہے۔ انہوں نے دہلی پردیش بھاجپا میں پہلے بھی گروپ بندی تھی اور اب بھی یہ گروپ بازی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے صاف کہا کہ پارٹی کی ساکھ گرانے کے لئے خود پارٹی کے کچھ لیڈر ہی ذمہ دار ہیں۔ اڈوانی جی نے بیشک یہ باتیں دہلی پردیش بھاجپا کے لیڈروں کے لئے کہی ہوں لیکن اشاروں اشاروں میں وہ ایک تیر سے کئی شکار کر گئے ہیں۔ آج کی ضرورت یہ ہے کہ بھاجپا کی مرکزی لیڈر شپ کو دوسری لائن کے لیڈر پردھان منتری بننے کا خواب چھوڑیں اور بھاجپا ایسے شخص کو وزیر اعظم کے طور پر سامنے لائے جو پوری پارٹی کو ساتھ لیکر چل سکے۔ موجودہ لیڈر شپ میں تو مجھے ایسے تین متبادل نظر آتے ہیں جنہیں تجربہ ہے ،جو ایماندار ساکھ کے ہیں جو پارٹی ورکروں کو ساتھ لیکر چل سکتے ہیں۔ ان میں غرور اتنا نہیں آیا ہے کہ وہ اپنی زمین ہی بھول جائیں یہ ہیں شری لال کرشن اڈوانی، شری مرلی منوہر جوشی اور شری نریندر مودی۔
Tags: Anil Narendra, Bihar, BJP, Daily Pratap, L K Advani, Madhya Pradesh, Murli Manohar Joshi, Narender Modi, Vir Arjun
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل
جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...

