Translater
05 مارچ 2022
بہو کو مشترکہ گھر میں رہنے کا حق نہیں !
دہلی ہائی کورٹ نے ایک اہم ترین فیصلے میں ان بزرگوں کو بڑی راحت دلائی ہے جن کی وجہ سے گھر کا ماحول خراب ہوتاہے ۔ جس سے بیٹے -بہو کی کچ کچ سے خلل پڑتاہے ۔ ہائی کورٹ نے صاف کہا کہ گھریلو تشدد انسداد ایکٹ کے تحت بہو کو مشترکہ گھر میں رہنے کا حق نہیں ہے ۔اس کا کہنا تھا کہ بہو بیٹے میں جھگڑا ہوتا رہے تو بزرگ ماں باپ کو اختیار کہ وہ بہو کو گھر سے علیحدہ کرسکتے ہیں ۔عدالت نے یہ رائے زنی سسرال کے بزرگوں (ساس سسر ) کی جانب سے بہو کو مشترکہ گھر سے بے دخل کیا جا سکتاہے تاکہ وہ پر امن زندگی گزار سکیں ۔سا س سسر کو سکون سے زندگی جینے کا حق ہے۔ جسٹس یوگیش کھنہ نے کہا کہ گھریلو تشدد ایکٹ کی دفعہ 19کے تحت رہائش کا حق مشترکہ گھرمیں رہنے کا ایک زبردستی حق نہیں ہے۔خاص کر ان معاملوں میں جہا ں بہو اور سال سسر کے درمیان مقدمہ چل رہا ہو ۔ عدالت نے بہو کی جانب سے نچلی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر عرضی کو نپٹارا کرتے ہوئے یہ رائے زنی کی اس کا کہنا تھا کہ بہو کو سسرا ل کے مشترکہ گھر میں رہنے کا حق نہیں دیا تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میںکہا کہ ایک مشترکہ گھر کے معاملے میں پروپرٹی کے مالک پر اپنی نہو کو گھر سے بے دخل کرنے کو لیکر کوئی پابندی نہیںہے۔ جہاں تک موجودہ کیس کا سوال ہے یہ تو بہتر اور مناسب ہوگاکہ عرضی گزار بہو کو اس کی شادی برقرار رہنے تک رہائش کیلئے متبادل گھر کا انتظا م کیا جا ئے۔ عدالت نے کہا معاملے میں بچاو¿ فریق سینئر سیٹزن ہیں وہ پر امن زندگی جینے اور بیٹے بہو کے درمیان ازدواجی جھگڑ ے سے وہ دور رہنے کے حقدار ہیں۔ جج کا کہنا تھا کہ میری رائے ہے کہ دونو فریقین کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں ا س لئے زندگی کے آخری دور ساس سسر کیلئے عرضی گزار بہو کے ساتھ رہنا منا سب نہیں ہوگا۔ اس لئے بہو بیٹے کو کوئی متبادل گھر مہیا کرا دیا جائے ۔عدالت نے سسر کی جاب متبادل گھر مہیاکرانے پر حامی بھر لی ہے ۔سسر نے 2016میں نچلی عدالت کے سامنے اس بنیا د پر گھر پر قبضے کیلئے مقدمہ کیا تھا ۔کیوں وہ پروپر ٹی کے اصل مالک ہیں۔ عرضی گزار شوہر ان کا بیٹا کسی دوسرے جگہ رہتاہے وہ اپنی بہو کے ساتھ رہنا چاہتا۔ وہیں بہو نے کہا تھا کہ پتی خاندان کی مشترکہ سرمائے کے علاوہ آبائی پروپرٹی کی بکری سے ہوئی آمدنی سے یہ گھر خریدا گیا ۔ لہذا اسے بھی اس گھر میں رہنے کا حق ہے۔ نچلی عدالت نے بہو کے اس دعوے کو خارخ کر دیا تھا۔
(انل نریندر)
یوکرین میںہندوستانی طالب علم کی موت!
یوکرین کے دوسرے بڑے شہر کھارکیو میں روسی حملے میں ایک ہندوستانی طالب علم نوین روکھرپا کی موت کی تائید تکلیف دہ ہے ۔ کرناٹک سے میڈیکل کی رتعلیم حاصل گئے نوین کے بارے میں پتہ چلاہے کہ وہ کھارکیو میں کچھ ضروری چیزیں خریدنے کیلئے بنکر سے بارہر نکلا تھا کہ وہ روسی بمباری کی زد میں آگیا۔ حملے میں بہت سے شہری بھی ہلاک ہوگئے ہیں اور یوکرین کے صدر زیلنسکی نے اسے جنگی جرم قرار دیاہے ۔یہ حملہ یہ بھی ظاہر کر رہاہے کہ روس کو روکنے کیلئے کس قدر جنگ چھڑی ہوئی ہے ۔ایسے میں یہ ضروری ہے کہ جنگی علاقے میں پھنسے ہندوستانی شہریوں کو جلد سے جلد وطن لایا جائے ۔کرناٹک کے اس طالب علم کی موت کی خبر ہونے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ باسو راج بومئی نے طالب علم کی مو ت پر دکھ ظاہر کیا۔اور ان کے گھر والوں سے اظہار تعزیت کی ۔نوین کے والد نے اپنے بیٹے کی موت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریاست میں میڈیکل تعلیمی نظام پر بھی سوال کھڑے کئے ہیں۔ اس کے والد نے کہا کہ میرے بیٹے نے 97فیصد نمبر حاصل کئے تھے لیکن ریاست میں کسی بھی میڈیکل کالج میں سیٹ حاصل نہیں کر سکا اور میں مجبوری میں اسے پڑھنے کیلئے یوکرین بھیجا تھا لیکن اب ہم نے اسے گنواں دیاہے۔ ایم بی بی ایس کے چوتھے برس میں پڑھ رہے نوین ریاست کے دور دراز مال گیٹی گاو¿ں کے رہنے والے تھے ۔ ان کے والد نے میڈیا سے کہا کہ میں سبھی سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں کہ داخلے کیلئے کیا ڈونیشن بہت بری بات ہے۔بھارت کے ہونہار طلبہ کو پڑھنے کیلئے بیرن ملک جانا پڑتاہے۔ یہ بچے جب بھارت میں پڑھنا چاہتے ہیں تو ان سے میڈیکل سیٹ کیلئے کروڑوں روپے کی ڈونیشن مانگی جاتی ہے۔اس سے اچھی تعلیم وہ باہر جاکر کم پیسے میں حاصل کرلیتے ہیں ۔ نوین کے پیتا پیشے سے میکنیکل انجینئر ہیں اب ریٹائرمنٹ کے بعد گاو¿ں میں کھیتی کرتے ہیں ۔ انہوں نے زیاتر وقت آبائی وطن ہاویر ی کے باہر گزارا ہے۔یوکرین میںہلاک طالب علم نوین کے ساتھی نے بتایا کہ وہ کرفیو کے بعد کھانا لینے گئے تھے پھر نہیں لوٹے۔یوکرین میں ہندوستانی طالب علم پیدل چل کر بارڈر تک پھر کیا ہوا نوین کے بارے میں پتا نہیں چلا ۔ ایک دوسرے ساتھ کریکانت نے بتایا کہ واردات کے وقت کھانے پینے کا سامان لینے گئے ہوئے تھے۔جب وہ کافی دیر تک نہیں لوٹا تو میں نے اس کا فون ملایا لیکن اس نے نہیں اٹھایا ۔کسی نے اس کا فون سنا وہ یوکرینی زبان میں بات کرنے لگا مجھے اس کی بات سمجھ میں نہیں آئی ۔سریکانت نے نوین کے ساتھ اپنا وقت گزارا اس کی خوبیاں اس کے پڑھائی کے بارے میں جانکاری دی کہ وہ ذہین تھا اور میڈیکل کے تھرڈ ایئر کورس کے امتحان میں 95فیصد نمبر حاصل کئے تھے ۔ خیر وہ تو چلا گیا لیکن حکومت ہند نے نوین کی موت کے بعد یوکرین میں پھنسے باقی ہندوستانی طالب علموں کو وطن واپس لانے کیلئے آپریشن گنگا مہم چھیڑی ہوئی ہے اور اس کے تحت باری باری سے طلبہ و شہریوں کو وطن لانے میں لگی ہے۔واضح وہ کہ حکومت ہند نے منگلوار کو راجدھانی کیو سے جلد سے جلد اپنے شہریوں سے لوٹنے کی اپیل کی تھی ۔پورا دیش اس ہونہار طالب علم نوین کی موت سے دکھی ہے ہم اس کو اپنی شردھانجلی دیتے ہیں اور پریوار کے دکھ میں شامل ہیں۔
(انل نریندر)
04 مارچ 2022
رشوت کا ثبوت ضروری ہے !
سپریم کورٹ نے پیر کو کہا کہ کرپشن انسداد قانون کی روح کے تقاضے کے تحت کسی بھی سرکار کرمچاری کو رشوت مانگنے اور اسے لینے کے جرم کو ثابت کرنے کیلئے ثبوت کا ہو نا ضروری ہے۔ عدالت نے کہا کہ کرپشن انسداد قانون کی دفعہ سات کے تحت سرکار ایکٹ کے سلسلے میں قانونی غور و خوض کے علاوہ ناجائز فائدے سے متعلق پیسہ لینے والے سرکار ملازمین کو ان کے جرم سے متعلق ہے۔ جسٹس اجے رستوگی اور ابھئے سرنیواس موکا کی بنچ نے تلنگانہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاتون سرکاری خادم کی سزا کا برقرا ر رکھا تھا ہائی کورٹ نے ۔ یہ عورت ایک اکاو¿نٹ آفیسر کی شکل میں کام کرتی تھی کو کرپشن انسداد ایکٹ کی دفعہ7کے تحت مبینہ جرائم کیلئے قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے 17صفحات کے فیصلے میں کہا کہ کسی ایکٹ کی دفعہ 7کے تحت سرکا ری ملازمین کے ذریعے رشوت مانگنے سے متعلق ہے۔سرکار کرمچاری کے ذریعے رشوت مانگے جانے اور اسے قبول کرنے کے جرم کو ثابت کرنے کیلئے ثبوت ہونا ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے ملزم مہیلا افسر کے ذریعے تلنگانہ ہائی کے فیصلے کو چنوتی دینے والی اسپیشل اجازت عرضی یہ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اپیل کنندہ کے ذریعے رشوت کی مانگ کرنے کے الزام کو ثابت کرنے کیلئے شکایت کنندہ کا وقت بالکل بھروسہ لائق ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ اس لئے ہم اس نتیجے پر پہونچے ہیں کہ اپیل کنند ہ کی مانگ ثابت نہیں کی گئی۔
(انل نریندر)
پی ایم کی اپیل رنگ لائی!
یوکرین کے شہر سومی میں پھنسے 694طلبہ کو محفوظ جگہ پر پہونچانے کی خبر آئی جو واقعی بڑی راحت دینی والی تھی ۔کیوں کی وہاں حالات بد سے بدتر ہو رہے تھے ۔ انہیں منگلوار کو بسوں میں بٹھاکر ایلیا کی طرف روانہ کر دیا گیا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی روسی صدر ولادی میر پوتن و یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی سے بات چیت کے الگے دن جنگ زدہ سومی سے سبھی 694طلبہ کو محفوظ نکالا گیا ۔ مرکزی وزیر ہر دیپ سنگھ پوری نے بتایا کہ منگل کی صبح محفوظ ہیومن گلیارے گھومنے کے بعد سبھی ہندوستانی طلبہ کو بسوں سے دو لت آباد شہر کیلئے روانہ کیا گیا یوکرین کی نائب وزیر اعظم مارینا نے بتایا کہ روسی فوج نے ریڈ کراس کو خط لکھ کر جنگ بند ی پر رضامندی جتائی اس کے بعد مقامی وقت کے مطابق صبح 9بجے سے رات 9بجے تک گولے نہیں برسائے گئے ۔سومی کے علاوہ کیو اور کھارکیو وغیرہ علاقوں میں گولہ باری روک دی گئی ہے۔ اس گلیارے کے ذریعے انسانی ضرورت کا سامان جنگ زدہ شہر سومی میں بھیجا گیا۔نائب وزیر اعظم بیرے سچک نے دوہرایا کہ لوگوں کو روس اور بےلاروس کے راستے نکلنے کی تجویز قطعی منظور نہیں تھی۔ دو دنوں تک سومی میں جم کر گولہ باری اور بھاری تباہی ہوئی ۔ پوتن نے طلبہ کو نکالنے کو لیکر پی ایم مودی کو واقف کرایا تھا اقوام متحدہ کی جانکاری کے مطابق یوکرین سے اب تک لاکھو ں جا چکے ہیں ۔ سومی پھنسے ہزروں لوگ کھانا پانی اور دواو¿ں کی کمی سے پریشان ہیں۔ان حالات میں 694ہندوستانی طلبہ نے ویڈیوں کے ذریعے بتایا تھا کہ وہ ابھی پیدل ہی جائیں گے ۔ حالاںکہ بھارت سرکار ان سے وہیں رہنے کی اپیل کرتے ہوئے جلد مدد پہونچانے کا وعدہ کیا تھا ۔ اس بارے پیر کو پی ایم مودی نے یوکرین اور روس کے صدر سے بات کی تھی یہ سب دکھاتا ہے کہ جنگ آخر کار انسان کیلئے کتنی بڑی ٹریٹی ہے ۔ ان سب بچوں کے جنگ زدہ علاقے سے نکلنے پر راحت کی سانس ملی ہے۔
(انل نریندر)
ہرشد مہتہ کے کانڈ سے بھی بڑا گھوٹالہ !
آپ کو اچھی طرح یاد ہوگا کہ 1990کی دہائی میں قریب 4ہزار کروڑ روپے کے ہرشد مہتہ کانڈ نے شیئر مارکیٹ کی نیو ہلا کر رکھ دی تھی ۔تازہ معاملہ نیشنل اسٹوک اکسچنج کانڈ این ایس ای سے جڑا ہے یہ ہرشد مہتہ کانڈ سے بڑا گھوٹالہ ثابت ہو سکتاہے۔کو لوکیشن فیسلیٹی میں ہیر پھیر ی کے ذریعے انجام دیا گیا ۔ دراصل یہ اسٹوک اکسچنج سر ور کے بالکل پا س کی جگہ ہوتی ہے۔یہی اپنا سسٹم لگاکر کاروبار کر نے کیلئے دلال زیادہ فیس ادا کرتے ہیں ۔مگر اس کا فائدہ یہ ہے کہ سرور سے زیادہ پاس ہونے کے سبب دلال کی لیٹنسی آرڈر کے بعد اسے پورا کرنے میں لگنے والا وقت بڑھ جاتاہے ۔یعنی دوسرے دلالوں کے مقابلے انہیں کچھ سیکنڈ پہلے ہی ڈیٹا مل جاتا تھا ۔ایسے میں انہوں نے سب سے پہلے آرڈر دیکر کے اربوں روپے کا منافع کمایا ۔ سی بی آئی کی جانچ کے مطابق اس گھوٹالے میں او میجی سیکورٹی نامی دلال فرم کو فائدہ پہونچانے کیلئے اسے کو -لوکیشن فیسلٹی کا اکسس کیا گیا تھا ۔ سی بی آئی نے اکسچنج کے سابق گروپ آپریٹنگ افسر آنند سبرامنیم کو گرفتار کر لیاہے۔ ان کو چنئی میں حراست میں لیا گیا تھا۔ سی بی آئی کو اندیشہ ہے کہ سبرامنیم کا پر اسرار دعویٰ ہے کہ حکام نے بتایا کہ آنند سے اسی ہفتے کی شروعات میں کچھ دن پوچھ تاچھ کی گئی تھی لیکن وہ سوالوں کا جواب دینے سے بچتے رہے ۔ انہیں دہلی میں اسپیشل عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے انہیں چھا مارچ تک کیلئے حراست میں بھیجا گیا۔ سیبی نے 11فروری کو چترا و دیگر پر سبرامنیم کی اہم حکمت عملی مشیر جی او ایم ڈی کے مشیر کی شکل میں تقرری میں مبینہ کوتاہی برتنے کا الزام لگایا تھا۔ سیبی نے چترا پر 3کروڑ روپے این ایس ای ،سبرامنیم ، روی نارائن پر 2-2کروڑ روپے کی چیف ریگولیٹری افسر اور نو کمپلائنس افسر رہے وی آر نرسہما پر 6کروڑ کا جرمانہ لگا یا ہے۔ این ایس ای کی سی ای او چترا رام کرن نے سیبی کا بتایاکہ ہمالیہ کے ادھربھئے بابا کی ہدایت پر انہوں نے کئی فیصلے لئے قریب 20سال پہلے ہمالیہ رینج میں گنگا ساحل ترتھ کے دوران وہ ان سے ملی تھی ۔ چترا ای میل کے ذریعے پوچھتی تھی کہ کس ملازم کو کتنی ریٹنگ دینی ہے اور کسے پروموشن دینا ہے۔ این ایس ای کی عام جانکاریاں بھی شیئر کرتی تھی ۔ 2013میں چترا نے ارنب کو سی ای او بنا یا ۔ انہیں شیئر بازار کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ سالانہ سیلری 15لاکھ سے بڑھاکر 1.38کروڑ روپے کر دی ۔پھر بھی سی ای او عہدہ لیکر سیلری 4کروڑ روپے کر دی ۔2018سے جانچ کررہی سی بی آئی کو پہلی بار کامیابی ملی جو سبرامنیم کو اس کیس کے انڈر میں گرفتار کیا گیا ۔ اب آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتاہے۔
(انل نریندر)
03 مارچ 2022
یوکرین جنگ کا فائدہ نہ اٹھا سکے چین -پاک!
سابق خارجہ سیکریٹری ششنک نے کہا کہ روس یوکرین کے درمیان جنگ سے دنیا کی ساری توجہ اس پر ہے ۔ اس بحران سے نمٹنے کیلئے صبر و تحمل بھرے رخ کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بھارت غیر جانبدار طریقے سے بحران سے نمٹنے کیلئے سفارتی حکمت عملی اپنائے ۔ اس صور ت کا فائدہ ہماری سرحدوں پر اٹھانے کی کوشش کہیں نہ کی جائے ۔ انہوں نے چین اور پاکستان کے رویہ پر نظر رکھنے اور اپنی حکمت عملی طے کرنی ہوگی ۔ چین کوئی مغالطے میں نہ رہے یہ بھی دیکھنا ہوگا ۔ یہ اچھا ہے کہ یوکرین نے ہم سے سفارتی مدد مانگی ہے ۔یہ ایک طرح اچھے اشارے ہیں کہ یوکرین نیٹو کے ساتھ شاید نہ جائے بھارت کے رشتے روس سے اچھے ہیں ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کس طرح سے رشتوں کا استعمال قیام امن کیلئے کیا جا سکتاہے۔ جب دنیا کے کئی بڑے دیش لڑنے کی کوشش نہیں کررہے تو ہم سے امید نہیں کی جانی چاہیے کہ ہم کسی کی طرف سے جنگ کریں گے ۔ ہمارا رول امن کیلئے ہونا چاہئے اور سرکار اسی سمت میں چل رہی ہے۔یوکرین میں پھنسے ہندوستانیوں کی حفاظت بھی ہے ۔ بھارت مضبوط جمہوریت ہے ایسے میں ہمیں مشکل کے وقت دوست ملکوں کے رول کے ساتھ مفادات سے تال میل رکھتے ہوئے حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں چین اور پاکستان کی سرگرمیوں پر بھی خاص توجہ دینی ہوگی۔
(انل نریندر)
پوروانچل ہر چناو ¿ میں چونکاتا ہے !
یوپی چناو¿ اپنے موڑ پر پہونچ گیاہے پانچ مرحلوں میں اب تک 292سیٹوں پر پولنگ پوری ہو چکی ہے۔ اب دو مرحلوں میں پوروانچل کی111سیٹو ں پر ووٹ پڑنا باقی ہے ۔اگر گزرے ٹرینڈ کو دیکھیں یہ علاقہ سیاسی پارٹیوں کی ہا ر کو چونکاتاہے ۔2007میں بسپا کی لہر چلی تو 2012میں سائکل کی اور 2017میں بھاجپا نے یہ قلعہ فتح کرکے اپنی سرکار بنائی ۔2017میں اسمبلی چناو¿ اور 2019میں لوک سبھا چناو¿ میں کئی علاقوں میں مودی لہر تب بے اثر رہی تھی ۔ وہیں بھاجپا کی سب سے بڑی چنتا یہ ہے ۔ مثلاً 2017میں اعظم گڑھ کی 10میں سے 1سیٹ بھاجپا کے حق میں آئی ۔ ایسے ہی 2017میں پور ا زور لگانے کے بعدبھی بھاجپا کو مﺅ اور بلیا میں بڑی کامیابی نہیں ملی تھی ۔ اس علاقے میں نشاط ،راجبھر ،موریہ اور کشواہا ووٹر بڑی تعداد میں جو بڑی طاقت رکھتے ہیں ۔ جونپور کی 9میں سے 4سیٹ بھاجپا کے ہاتھ لگی تھی۔ 3سپا 1بسپا نے جیتی تھی ۔دو بار 2019کے عام چناو¿ میں تو اعظم گڑھ میں سپا چیف اکھلیش یادو زیرو تھے ۔ غازی پور سے ریل منتری رہے منوج سنہا کو افضال انصاری نے شکست دی تھی ۔جونپور لال گنج اور گھوسی سیٹ بسپا نے فتح کرلی تھی ۔2017میں سپا اور بسپا کے گڑھ رہے اس علاقے میں بھاجپا نے سوشل انجینئر نگ کے دم پر فتح کی تھی ۔ان دونوں مرحلوں میں بھاجپا ایم وائی فیکٹر کے بھروسے ہیں یعنی ایم یعنی مودی اور وائی یعنی یوگی ۔چھٹھے مرحلے میں وزیر اعلیٰ یوگی کے گڑھ گورکھپور و رانسی اور اس کے آپ پاس کے ضلعوں کی 54سیٹوں پر ووٹنگ 111میں ایک درجن ایسی سیٹیں ہیں جہاں شخص خاص یا پریوار کا سکہ چلتا ہے۔
(انل نریند)
پتن،اس لئے نیوکلیائی حملے کی دھمکیوں پر اترے!
انگریزی اخبار نیویارک ٹائمز نے ڈیفنس ماہرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ روس کو امید نہیں تھی کہ یوکرین کی فوج اسے بڑے شہروں میں داخل ہونے سے روک دے گی ۔ اب گزرتا ہوا ہر ایک دن تین بڑی پریشانیا ںکھڑ ی رہا ہے۔پہلی جنگ میں روز سوا لاکھ کروڑ خرچ ہو رہے ہیں جو اس وقت تک ممکن نہیں دوسری یوکرین کے شہری روسی فوج کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں شہریوں کو نشانہ بناتے ہوئے روسی فوج آگے بڑھتی ہے تو پتن کی اخلاقی حال طے ہے ہے ۔ تیسری وقت گزرنے کے ساتھ یوکرین کو پڑوسی ملکوں سے ہتھیاروں کی مدد مل رہی ہے۔ د اکونومسٹ نے یوروپی ماہرین کے حوالے سے لکھا ہے کہ پتن ابھی صر ف ڈرا رہے ہیں تاکہ نیٹو یا پڑوسی دیش یوکرین کے حق میں دخل اندازی نہ کرے لیکن نیٹو اور امریکہ کو لگتاہے کہ اگر روسی فوج کو یوکرین نے کچھ دنوں تک اور روک کر رکھا تو پتن نیو کلیائی ہتھیا روں کا محدود استعما ل کر سکتے ہیں ۔ ایسا ہوا تو یہ تیسری جنگ عظیم کی شروعا ت ہوگی ۔ایک طرف روس اکیلا ہوگا۔ کیوں کہ ایسی صور ت میں چین بھی اکیلا رہنا چاہے گا۔ پتن پر دباو¿ کیوں بڑھ رہا ہے؟ کیوں کی فوجی حکمت عملی ابھی تک کامیاب نہیں ہو پارہی ہے۔ پتن کا تازہ بیان بتا تا ہے کہ ان کی فوج ٹائم لائن سے پچھڑ چکی ہے ۔اس لئے وہ بار بار فوج کا حوصلہ بڑھا کر کہہ رہے ہیں کہ کاروائی وقت کے حساب سے چل رہی ہے ۔ دراصل ،روس کو ہونے جارہے اقتصادی نقصان وقت کے ساتھ بڑھتا جائے گا۔ اس لئے پتن جلد سے جلد یوکرین کا تختہ پلٹ کر وہاں اپنے وفادار لیڈر کو بٹھانا چاہتے ہیں ۔د گارجین کے مطابق یوکرین کے نقصان کی بھرپائی یوروپی دیش کر لیں گے ۔ لیکن روس کی بھرپائی مشکل ہے ۔ایسے میں روس جو پہلے فوجی طریقے سے حل کرنا چاہتا تھا اب وہ بات چیت کے لئے مسئلے کے حل کےلئے ٹیبل پر آچکا ہے۔
(انل نریندر)
02 مارچ 2022
نواب ملک کے خلاف الزام صحیح لگتے ہیں!
پیسہ کمانا روک تھام ایکٹ سے متعلق معاملوں کی سماعت کرنے والی اسپیشل عدالت نے کہا ہے کہ پہلی نظر میں مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک کے خلاف لگے الزام صحیح ظاہر ہو رہے ہیں ۔انفوسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے مہاراشٹر کے وزیر اقلیت امور نواب ملک کو اثاثہ اکٹھا کرنے کے ایک معاملے کی جانچ کے سلسلے میں بدھوار کو گرفتار کیا تھا اس معاملے میں معاملے کی سماعت کر رہی عدالت کے اسپیشل جج آر این روکڑے نے کہا کہ جرم کی جانچ کیلئے ای ڈی کو کافی وقت دینے کی ضرور ت ہے۔کیوں کہ ملک کو حراست میں لیکر ان سے پوچھ تال کرنا ضروری ہے۔ عدالت نے بدھوار کو این سی پی کے سینئر لیڈر نواب ملک کو تین مارچ تک کیلئے ای ڈی کی حراست میں بھیجا تھا عدالت کے حکم کی کاپی جمعہ کو دستیاب ہونے کے بعد یہ جانکاری سامنے آئی ۔ ای ڈی کا کہنا ہے کہ یہ جانچ بھگوڑے ،بدمعاش سرغنہ داو¿د ابراہیم اور اس کے ساتھیوں اور ممبئی انڈر ورلڈ کی سرگرمیوں سے جوڑی پیسہ اکٹھا کرنے کی جانچ سے متعلق ہے ۔عدالت کا کہنا تھا کہ ایسا لگتاہے کہ ملزم نے اہم ترین پہلوو¿ں پر جانچ میں تعاون نہیں دیا ۔اور کہا کہ پہلی نظر میں یہ ماننے کیلئے مناسب بنیاد ہے کہ الزام ای ایم ایل اے کے تحت صحیح ہے ۔ عدالت نے مانا کہ جانچ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور ملک کو حراست میںلیکر پوچھ تاچھ کرنا جرم میں شامل لوگوں کا پتہ لگانے کیلئے ضروری ہے۔ جج نے کہا کہ جرم سے متعلق یہ سرگرمیاں پچھلے 20برسوں یا اس سے زیادہ سے چلی آرہی ہیں ۔ اس لئے جرم کی جانچ کیلئے مناسب وقت دیے جانے کی ضرورت ہے۔ ادھر مہاراشٹر کے وزیر نواب ملک کو برخاست کرنے کی بھاجپا کی مانگ کا شیو سینا نیتا سنجے راوت نے جواب دیا ۔ ان کا کہنا تھاکہ کسی بھی ساتھی وزیر کا استعفیٰ منظور کرنا یا نہ کرنا وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کا مخصوص اختیار ہے۔خیال رہے کہ ای ڈی کے ذریعے گرفتاری کے بعد سے ہی بھاجپا نواب ملک کو کیبنٹ سے ہٹانے کی مانگ کررہی ہے۔ وہیں ملک کو طبی اسباب سے یہاں کے سرکاری اسپتال میں علاج چل رہاہے۔ یہ جانکاری ملک کے دفتر نے دی ہے۔
(انل نریندر)
کیا یوکرینیوں کی بہادری کے سامنے پتن جھک گئے ؟
یوکرین پر روس کے حملے کے پانچ دن گزر گئے ہیں اس دوران مغربی میڈیا اور انٹر نیٹ میڈیا میں کچھ ایسی تصویریں اور ویڈیوں وائرل ہو رہے ہیں جس سے لگتاہے کہ یوکرین نے روسی فوجیوں کو عام لوگوں کی مخالفت کا سامنا کر نا پڑرہاہے ۔ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ کیا روسی صدر ولادی میر پتن نے دوسری جنگ عظیم سے کوئی سبق نہیں لیا جس میں سب سے اچھے سوویت فوجی یوکرینی ہی تھے ۔ یوکرین کے خفیہ حکام کے حوالے سے مغربی میڈیا میں آرہی خبروں کے مطابق پتن کا حقیقت سے دور ایک الگ دنیا میں رہتے ہیں ۔ یوکرینی حکام بتاتے ہیں کہ پتن کو لگتا ہے کہ کیا یوکرین کے لوگ روسی فوجیوں کا استقبال کریں گے ۔ روسی حکام پتن کو وہی بتاتے ہیں جو وہ سننا چاہتے ہیں۔ روس کی مسلح افواج کے چیف اور پتن کے سب سے بڑے سپریم فوجی کمانڈر ویلری گورسکوک نے بھی انہیں آگاہ کیا تھا ۔یوکرین پر حملے کے بعد سے یہ مانا جا رہا تھا کہ دو یا تین دنوں کے اندر روس اس پر قبضہ کر لے گا۔ لیکن پانچویں دن بھی یوکرین لڑرہاہے ۔ ڈیفنس ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے دو تین دن روس کیلئے بے حد اہم ہے لیکن ماہرین کچھ واقعات کو اس شکل میں دیکھ رہے ہیں کہ روس کو الجھا کر یوکرین جنگ کو لمبا کھینچنے کی کوشش کر رہاہے۔ پانچ دن کے جار ی جنگ کے دوران جو بات نئی دیکھی گئی ہے اس میں جر منی سمیت کئی مغربی دیشوں کا یوکرین کو ہتھیار دینے کا اعلان کر نا اور یوکرین میں شہریوں کو جنگ کے میدان میں اتار نا ان دو واقعات کو لیکر یہ روس کو لمبے وقت تک الجھا نے کیلئے حکمت عملی ہو ۔ ہو سکتاہے کہ یوکرین خود یہ کہہ رہا ہو یا پھر مغربی دیشوں کے اشاروں پر کر رہا ہو ۔ روس پر دباو¿ ہو گا وہ کچھ دنوں میں یوکرین پر پوری کنٹرول حاصل کرلے ۔ اگر وہ ناکام رہتا ہے تو اس کیلئے بڑی چنوتی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس درمیان یوکرین نے اپنے شہریوں کو جنگ کیلئے تیار کرنا شروع کردیا ہے ۔ایجنسیوں کے ذریعے لوگوں کا انتخاب کر ہتھیار دے رہا ہے ۔ وہ پیشہ ور فوجی نہیں ہیں لیکن گوریلا جنگ جیسے حالات روسی فوج کیلئے پیدا کرائے ہیں ان پر قابو پانا روس کیلئے مشکل ہو سکتاہے کیوں کہ ایسے لوگ چھوٹے چھوٹے گروپوں میں حملے کرتے ہیں ان کے خلاف کاروائی کرنے میں روسی فوج کو شہری علاقوں کو نشانہ بنا نا پڑرہاہے ۔ روس افغانستان سے جنگ بھولا نہیں اس کی کوشش ہوگی کہ اگلے کچھ دنوں میں یوکرین پر قبضہ کرلے ۔جنگ لمبی چلتی ہے تو روس کیلئے ٹھیک نہیں ہوگا ۔ اس کے مضر نتیجے سامنے آ سکتے ہیں۔
(انل نریندر)
01 مارچ 2022
پوتن کٹھ پتلی سرکار کو ریموٹ کنٹرول سے چلائیںگے!
روس -یوکرین جنگ بڑھتی جا رہی ہے۔ روسی فوجیں یوکرین کی راجدھانی کیو میں داخل ہو چکی ہیں ۔اپنی ہار کے سامنے دیکھ یوکرین کے صدر نے پوتن کو بات چیت کی دعوت دی ہے ۔پوتن نے اپنا نمائندہ وفد بھیجنے کی بات کہی ہے اور یقین دلایا ہے کہ روس یوکرین پر قبضہ نہیں کرے گا۔بلکہ اسے آزاد کر رہاہے ۔یوکرین میں نیوکلیائی بم نہیں بننے دے گا۔ روسی وزارت خارجہ نے صاف کر دیاہے کہ یوکرین سرکار کو سرینڈر کرنے پر ہی فوجی کاروائی بند ہوگی۔اسے دیکھتے ہوئے واشکٹن ڈی سی کے حکام و ماہرن یہ کہہ رہے ہیں کہ پوتن اپنے منصوبوں میں تقریباً کامیاب ہو چکے ہیں ۔وہ اب جلد ہی یوکرین میں روسی حمایتیوں کی نئی سرکار بنائیں گے۔جس کا ریموٹ کنٹرول ماسکو میں رہے گا۔جنگ بندی کے کچھ ہفتے بعد روسی فوج نے چھوٹی ٹکڑیا ں لوٹ جائیںگی ۔ پوتن اب یوکرین میں کٹھ پتلی سرکار بناکر یوروپی یونین اور امریکہ کیلئے نئی چنوتیاں پیدا کر دیں گے ۔دوسری طرف امریکہ ،یوروپی یونین ،نیٹو اور اقوام متحدہ جیسی سبھی طاقتوں نے دوسرے دن بھی بچاو¿ جاری رکھا ۔فوجی استعمال کے پہلے ہی انکار کرچکی ہیں ۔
(انل نریندر)
نیٹو کیاہے اور روس کو اس پر بھروسہ کیوں نہیں؟
یوکرین پر روس کے حملے نے نیٹوکے سامنے اپنی 73سالہ تاریخ میں سب سے بڑی چنوتی پیش کی ہے ۔نیٹو خطہ کی مشرقی ایشیا کے ٹھیک بغل میں جنگ ہو رہی ہے اور نیٹوں کے کئی ممبر ملکوں کو لگ رہا ہے کہ روس آگے ان پر حملہ کر سکتاہے۔ فوجی اتحاد نیٹو جس میں امریکہ ،برطانیہ ،فرانس و جرمنی جیسے طاقتور دیش شامل ہیں۔مشرقی یوکرین میں زیادہ فوجی بے شک تعینات کر رہاہے نیٹو حالاںکہ امریکہ اور برطانیہ یہ صاف کر چکے ہیں کہ ان کا یوکرین میں اپنے فوجی بھیجنے کا کوئی ارادہ نہیںہے۔نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن یعنی نیٹو 1949میں بنی ایک فوجی انجمن ہے جس میں شروعات میں 12دیش شامل تھے جس میں امریکہ ،کینیڈا ،برطانیہ ،اور فرانس وغیرہ شامل ہیں۔اس آرگنائزیشن کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اگر کسی ممبر ملک پر حملہ ہوتاہے تو باقی دیش بھی اس کی مدد کیلئے آئیں گے ۔ یہ یوروپی ملکوں کی ایک فوجی انجمن ہے اس میں جیوگرافیائی حالت کے حساب سے فوجی طاقت کو بڑھانے کیلئے ممبر جوڑے جاتے ہیں ۔ اپنی جیوگرافیائی پوزیشن اور سفارتی اسباب سے بھارت نیٹو کا ممبر نہیں ہے۔دراصل یہ نیٹو میں کوئی ایشیائی ممبر نہیںہے اس کا بنیادی مقصد دوسری جنگ عظیم کے بعد روس کے یوروپ میں پھیلاو¿ کو روکنا تھا۔1955میں سوویت روس نے نیٹو کے جواب میں مشرقی روس کے سماج وادی ملکوں کے ساتھ مل کر اپنا الگ فوجی آرگنائزیشن کھڑی کی تھی ۔جسے وارسا پیکٹ نام دیا گیا تھا ۔ لیکن 1991میں سوویت یونین کے بکھراو¿ کے بعد وارسا پیکٹ کا حصہ کئی دیشوں نے دل بدل لیا اور وہ نیٹو میں شامل ہوگئے ۔نیٹو اتحاد کے اب 30ممبر ہیں ۔یوکرین ایک سابق سوویت ریپبلک ہے جو ایک طرف روس سے اور دوسری طرف یو روپی یونین سے لگاہوا ہے۔یوکرین میں روسی نزاد لوگوں کی بڑی آبادی ہے اس کے روس کے ساتھ سماجی و تہذیبی رشتے رہے ہیں ۔حکمت عملی کی شکل میں روس اسے اپنا حصہ مانتا ہے اور حال میں روس کے صدر ولادمیر یوتن نے کہا تھا کہ یوکرین حقیقت میں روس کا حصہ ہے۔حالیہ برسوں میں یوکرین کا جھکاو¿ مغرب کی طرف زیادہ رہاہے۔ اس کا یوروپی یونین اور نیٹو کا حصہ ہونے کا ارادہ اس کے آئین میں لکھا ہے۔ فی الحال یوکرین نیٹو کا ایک اتحادی ملک ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کو لیکر مستقبل میں کبھی یوکرین کو نیٹوں میں شامل کیا جا سکتاہے۔حالاںکہ امریکہ اور اس کے اتحادی ملک یوکرین کو نیٹو میں شامل ہونے سے روکنے کے خلاف ہیں۔ ان کی دلیل ہے کہ یوکرین ایک آزاد ملک ہے جو اپنی حفاظت کو لیکر فیصلے لے سکتاہے ۔اتحا د بنا سکتاہے ۔روسی صدر ولادمیر پوتن نے یوکرین کے دو علاقوں کو آزاد خطے کے طور پر تسلیم کرلیا ہے ۔ ان کا دعویٰ ہے کہ مغربی ممالک نیٹو کا استعمال روس کے علاقے میں گھسنے کیلئے کر رہے ہیں۔وہ چاہتاہے کہ نیٹو مشرقی یوروپ میں اپنی فوجی سرگرمیاں روک دے وہ دلیل دیتے رہے ہیں کہ امریکہ نے 1990میں کیا وعدہ توڑ دیا ہے جس میں یقین دلایا گیا تھا کہ نیٹو مشرق کی طرف داری نہیں کرے گا۔ وہیں امریکہ کا کہنا ہے کہ اس نے کبھی بھی ایسا کوئی وعدہ کیا ہی نہیں تھا۔نیٹو کا کہنا ہے کہ اس کے کچھ ممبر ملکوں کی سرحدیں بھی روس سے لگی ہیں ۔ اور یہ محفوظ اتحاد ہے ۔روس کے کرمیا پر کنٹرول کرنے کے بعد سے نیٹو نے مشرقی یوروپ میں اپنی موجودگی بڑھائی ہے ۔نیٹو نے انٹونیا ،لاطویہ ،لنکو،ارمینیا اور پولینڈ میں چار بٹالین کے برابر جنگی گروپ ہے ۔جبکہ رومانیا میں کئی ملکوں کی بریگیڈ ہے ۔نیٹو نے بالٹک ممالک اور مشرقی یوروپ میں ہوائی نگرانی بھی بڑھائی ہے تاکہ ممبر ملکوں کے ایئر زون میںگھسنے سے روسی جہازوں کو روکا جا سکے ۔ روس کا کہنا ہے کہ وہ چاہتا ہے یہ فورس علاقے سے نکل جائیں ۔ بالٹک ممالک میں پہلے سے ہی اس کے جنگ باز گروپ موجودہیں۔
(انل نریندر)
27 فروری 2022
ثمیر وانکھیڑے پر جعلسازی کا مقدمہ !
ٹھانے پولیس نے این سی بی کے ممبئی زون کے سابق ڈائریکٹر ثمیر وانکھیڑے کے ملکیت والے ایک ہوٹل اور بار لائسنس حاصل کرنے میں جعلسازی کرنے کے الزامات میں ان کیخلاف مقدمہ درج کیا ہے ۔ٹھانے کے ضلع افسر راجیش نارویکر نے نویں ممبئی میں قائم وانکھیڑے کے ہوٹل اور بار کا لائسنس منسوخ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اسے غلط جانکاری دے کر دھوکہ دھڑی کرکے حاصل کیاگیا تھا ۔ٹھانے پولیس ڈپٹی کمشنر وجے راٹھور کے مطابق اسٹیٹ لیکر حکام کی شکایت کے بعد وانکھیڑے کے خلاف دھوکہ دھڑی کے معاملے میں یہاں ایف آئی آر درج کی گئی ۔مہاراشٹر کے کیبنیٹ وزیر نواب ملک نے پچھلے سال نومبر مین الزام لگایاتھا وانکھیڑے کا نویں ممبئی کے وشیع میں ایک پرمٹ شدہ بارہے جس کے لئے لائسنس 1997میں لائسنس لیاگیا تھا تب وانکھیڑے نابالغ تھے ۔اس لئے یہ ناجائز ہے ۔ملک نے یہ بھی دعویٰ کیاتھا سرکاری نوکری میںہونے کے باوجود وانکھیڑے کے پاس پرمٹ روم چلانے کا لائسنس ہے جو سروس قواعد کیخلاف ہے ۔وانکھیڑے نے وزیر کے دعوو¿ں کو خارج کر دیا تھا ۔ا س کے بعد سٹیٹ محکمہ شراب نے بعد میں وانکھیڑے کے بار کے لائسنس کے متعلق نوٹس جاری کیاتھا حکام کے مطابق نوٹس کے جواب اور معاملے کی جانچ کے بعد ضلع مجسٹریٹ اس نتیجے پر پہونچے کہ وانکھیڑے نے 27اکتوبر 1997کو لائسنس حاصل کیاتھا اس وقت ان کی عمر 21 سال تھی ۔جبکہ جائز عمر 18سال سے کم نہیں تھی ۔بتا دیں یہ وہی وانکھیڑے ہیں جنہوں نے شاہ رخ خان کے بیٹے کو ملزم بنایاتھا ۔
(انل نریندر)
روس کے بعد اب چین تائیوان پر حملہ کرسکتا ہے !
مشرقی یوروپ میں یوکرین اور روس کے درمیان جنگ چھڑ گئی ہے اس سے ایشیا کے نارتھ ایشٹ حصہ میں واقع دیش تائیوان کی پریشانی بڑھ گئی ہے ۔تائیوان کو لگتا ہے کہ ایسے میں جب امریکہ اور مغربی دیشوں کی پوری توجہ یوکرین بحران کی طرف ہے ،چین اس کافائدہ اٹھاتے ہوئے اس کیخلاف ہمت والا قدم اٹھا سکتا ہے ۔تائیوان پر چین اپنا دعویٰ کرتا ہے اور اسے اپنا اٹوٹ حصہ بتاتا ہے ۔یوکرین بحران کے بعد سے بھی تائیوان سرکار زیادہ ہی چوکس ہو گئی ہے اس نے نیشنل سیکورٹی کونسل کے تحت یوکرین ورکنگ گروپ بی بنا لیا ہے ۔گزشتہ دنوں اور ورکنگ گروپ کی میٹنگ میں تائیوانی صدر سائی انگ وین نے کہا کہ ہمیں علاقہ میں فوجی سرگرمیوں کو لے کر چوکسی اور نگرانی بڑھا دینی چاہیے ۔اور دوسرے ملکوں کے ذریعے پھیلائی جارہی گمراہ کن اطلاعات سے بھی چوکس رہنا چاہیے ۔حالانکہ انہوں نے چین کا سیدھے سیدھے نام نہیں لیا لیکن اشارتاً صاف کہا پچھلے ہفتے برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے بھی تائیوان کے لئے خطرے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا تھا اگر مغربی دیش یوکرین کی آزادی کولیکر وعدے نہیں نبھاتے دنیا میں اس کے سنگین نتائج ہوں گے ۔اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بیجنگ میں چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان و یوپنگ نے کہا تائیوان یوکرین نہیں ہے ۔تائیوان ہمیشہ سے چین کا اٹوٹ حصہ رہا ہے ۔اور یہ بلا تنازعہ اور ایک تاریخی حقیقت ہے تائیوان اور یوکرین کی حالت تو برابر بتانے کی کوشش کو بھی تائیوان نے خارج کر دیا ہے ۔بتا دیں پچھلے دو سال سے چین نے چینی فوجی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں ۔
(انل نریندر)
ڈاکٹروں کو مفت تحفے سے بڑھتی دواو ¿ں کی قیمت!
سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ دوائیں تیار کرنے والی فرموں و کمپنیوں کی طرف سے ڈاکٹروں کو دئیے جانے والے تحفے مفت نہیں ہوتے اس کا اثر دواو¿ں کی قیمتوں میں اضافہ کی شکل میں سامنے آتا ہے جس سے ایک خطرناک عام ٹرینڈ بن جاتا ہے یہ کمنٹس کرتے ہوئے بڑی عدالت نے فارما کمپنیوں کو مفت تحفہ دینے کے خرچ کو انکم ٹیکس چھوٹ میں جوڑنے سے متعلق درخواس کو خارج کر دیا ہے ۔بڑی عدالت کا کہنا تھا میڈیکل پریکٹیشنرس کو تحفہ دےش کا قانون میں منع ہے ۔فارما کمپنیاں اس پر انکم ٹیکس قانون کی دفعہ 37(1) کے تحت انکم ٹیکس چھوٹ کا فائدہ نہیں لے سکتیں ۔اس دفعہ کے تحت ایسا کوئی خرچ جسے کاروبار کو بڑھانے کے لئے کیاگیاہے اس پر انکم ٹیکس چھوٹ ملتی ہے ۔اس معاملے میں فیصلے کے جسٹس میتھو للت کی بنچ نے کہا ڈاکٹر کا مریض کے ساتھ ایک ایسا رشتہ ہے جن کا لکھا ایک بھی لفظ مریض کے لئے آخری سانس ہو سکتا ہے ۔ڈاکٹر کی لکھی دوا چاہے مہنگی اور مریض کی پہونچ سے باہر ہو تو وہ بھی اسے خریدنے کی کوشش کرتا ہے ۔ایسے میں بہت ہی تشویش کا معاملہ بنتا ہے ۔جب یہ پتہ لگتا ہے کہ ڈاکٹر کی طرف سے لکھے نسخے کا تعلق فارما کمپنیوں کے مفت تحفے سے جڑا ہے ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ فری جانچ فیس سونے کا سکہ ، لیپ ٹاپ ،فریج ،ایل سی ڈی ٹی وی اور سفر خرچ وغیرہ ) کی سپلائی مفت نہیں ہوتی انہیں دواو¿ں کے خرچوں میں جوڑا جاتا ہے اس سے دوا کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔مفت تحفہ دینا پبلک پالیسی کے بالکل خلاف ہے ۔اس سے صاف طور سے قانون کے ذریعے روکا گیا ہے ۔انڈین میڈیکل کونسل ریگولیشن 2002 کے ضمنی قاعدے 6.8 کے مطابق ڈاکٹروں کو فارمہ کمپنیوں کا فری سہولت دینا قابل سزا ہے ۔اس کے مطابق ہی سی بی ڈی ٹی نے فیصلہ کیا تھا کہ کمپنیوں کے ذریعے ڈاکٹروں کو تحفہ دینا ناجائز ہے اس لئے اس مد میں خرچ کو کمپنیوں کی آمدنی اور بزنس میں حوصلہ افزائی سے نہیں جوڑا جا سکتا ۔کیوں کہ یہ ناجائز کام میں خرچ کیا گیا ہے ۔اور ناجائز خرچ کو انکم ٹیکس کی فائدے کی چھوٹ نہیں دی جا سکتی اس فیصلے کو دوا کمپنیوں نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...