Translater

12 جنوری 2023

4کو پھانسی کل 40کو سزائے موت!

ایران میں حجاب کے خلاف جاری چار ماہ سے تحریک کو طاقت کے بل پر کچلنے کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔ایسے مظاہروں میں شامل ہونے کے الزام میں سابق نیشنل کراٹے چیمپئن محمد مہدی کریمی اور بچوں کے کراٹے کو چ سید محمد حسینی کو پھانسی دے دی گئی ۔ایران کے محکمہ انصاف کے حوالے سے خبر رساں ایجنسی میزان کے مطابق کریمی حسینی کو 3نومبر کو پہلا میلٹری افسر روہلا ازامیان کے قتل کا قصور وار پایا گیا۔ حجاب مخالف مظاہروں سے وابسطہ چار لوگوں کو پھانسی دی جا چکی ہے ۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق مظاہرے سے وابسطہ 40سے زیادہ مظاہرین کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پھانسی پر لٹکائے گئے چاروںمظاہرین سمیت 26مظاہرین کے نام سامنے آئے ہیںجنہیں پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے ۔ ان میں سے تین کو جلد پھانسی دی جا سکتی ہے ۔ حجاب نہ پہننے کے جرم میں 16ستمبر کو طالبہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد پورے دیش میں حجاب کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے اب تک 19262مظاہرین گرفتار ہو چکے ہیں اور ان میں سے 576مظاہرین کی کاروائی میں جان جا چکی ہے ۔ اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کمشنر سمیت تمام انسانی حقوق رضاکار تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ ایران میں منصفانہ سماعت اور بچاو¿ کا مو قع دیے بنا ہی مظاہرین کو من مانی طریقے پھانسی دی جا رہی ہے ۔ دونوں مظاہرین کو پھانسی کی سز دینے کے خلاف یورپین یونین کے محکمہ خارجہ و سیکورٹی کمیٹی کے چیف جوسف وورل نے ایران میں پھانسی کی سزا پر نکتہ چینی کی ۔ ایران کیلئے امریکہ کے خاص نمائندے روبرٹ مالے میں انہیں جوڈیشری کا قتل قرار دیا ۔ ایسے ہی بر طانیہ کے وزیر خارجہ نے کہ ہم اس بے رحمی کو فوراً روکنے کی مانگ کرتے ہیں۔ فرانس کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران سرکار بہت ہی گھنونے طریقوں سے اپنے ان لوگوں جو قتل کئے جارہے ہیں جو واجب حق مانگ رہے ہیں ایران میں انسانی حقوق گروپوں نے بتایا کہ 15دیگر لوگوں کو سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ ان کے خلاف لگائے گئے الزامات میںموت کی سز اہے ۔انسانی حقوق تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب ایشور کے خلاف جنگ چھیڑنا ہے ۔ اس الزام میں موت کی سزا سنائی جاتی ہے ۔ سبھی لوگوں پر انقلابی عدالت بند کمرے میں مقدمہ چلاتی ہے ان میں سرکاری وکیل ملزمان کی پیروی کرتے ہیں ۔ اکثر جھوٹے کیس پیش کئے جاتے ہیں اور زبردستی قبول نامے اور دھوندھلے ویڈیو کے بنیا دپر سزا دی جا تی ہے ۔یہ ویڈیو اسی حساب سے بنائے جاتے ہیں۔ (انل نریندر)

بے کنٹرول ترقی نے پہاڑو ں کی بنیاد ہلائی!

ماحولیاتی ماہرین کا خیال ہے کہ اتراکھنڈ کے اونچے علاقوں میں جاری بلا رکاوٹ ترقیاتی کاموں نے جوشی مٹھ شہر کی بنیاد ہلاکر رکھ دی ہے۔ یہ کرائسس کافی سنگین ہے اور حکومت کو فوری طور پر اس خطے میں سرنگ بنانے اور پہاڑوں میں ہو رہے دھماکوں پر فوراً روک لگادینی چاہئے ۔ کلائمیٹ ٹرینڈس کی طرف سے جاری بیان میں ماہرین نے ان پر گہری تشویش ظاہر کی ہے ۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک پالیسی ،انڈین اسکول آف بزنس کے معاون ایسوسئٹ پروفیسٹر آئی پی سی سی رپورٹ کے ایک مصنف ڈاکٹر انجل پرکاش نے کہا ہے کہ 2019اور 2022میں شائع دو رپورٹ میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ یہ علاقہ قدرتی آفات کیلئے بے حد حساس ہے ،اس لئے اس خطے کے ڈھانچے بند ترقی کیلئے ماحولیات مناسب اسکیمیں بنانی چاہئے ۔ جہاں تک بجلی پیداوار کی بات ہے اس کے لئے دیگر طریقوں کی تلاش کی جانی چاہئے ۔ اس خطے میں تھرمل پاور پروجیکٹس سے جتنا فائدہ ہوگا اس سے کہیں زیادہ ماحولیات کو نقصان ہوگا۔ کڑھوال یونیورسٹی کے جیوگرافیائی سائنس شعبے کے پروفیسر وائی پی سندریال کے مطابق جوشی مٹھ میں جاری کرائسس صاف طور سے انسانی سرگرمیوں کے سبب ہے ۔ یہاں آبادی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے اور بنیادی ڈھانچے میں بنا کنٹرو ل اضافہ ہوا ہے ۔ اس کے باوجود قصبے میں پانی کے نکاسی کا مکمل انتظام نہیں ہے ۔ملبے کی چٹانوں کے بیچ باریک سامان پتھر وغیرہ کے علاوہ پانی کے بہنے سے چٹانوں کی طاقت کم ہوئی ہے ۔جس سے چٹانیں گریں اور جس وجہ سے گھروں میں دراڑیں آگئی ہیں ۔ دوسرے تھر مل پاور پروجیکٹس کیلئے ان سرنگوں کو بنانے کیلئے دھاماکوں کے ذریعے کام چل رہا ہے اور اس سے مقامی طور پر زلزلے کے جھٹکے آ رہے ہیں ۔حکومت نے 2013کی کیدار ناتھ ٹریجڈی اور 2021کی رشی کیش گنگا کے سیلاب سے کچھ نہیں سیکھا ۔جیوگرافیائی ہل چل کو لیکر جوشی مٹھ بیشک ان دنوں سرخیوںمیں ہے بلکہ وہ ہی نہیں اتراکھنڈ کے نینی تال ،اتر کاشی و چمپاوت کو سائنسدانوں نے چٹانیں دھنسنے ،زمین میں گڈھے پڑنے کے لحاظ سے کافی سنگین بتایا ہے ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ نیچر سے چھیڑ چھاڑ کے بجائے اسے بنائے رکھنے کی ٹھوس پالیسی کی ضرورت ہے ۔کماو¿ یونیو سٹی کے جیوگرافی سائنس شعبے کے سائنسدانوں پروفیسر بی ایم کوٹالیا کا کہنا ہے کہ نینی تال کے چوٹی پر واقع بلیا نالا علاقہ جیوگرافیائی اور زمین دھسنے کے نظرے سے انتہائی حسا س ہے ۔ ریسرچ میں پایا گیا ہے کہ علاقے کی پہاڑی ہر برس ایک میٹر ڈھہ رہی ہے ۔ اترکاشی چونے کی پہاڑیاں ہے ٹھیک جوشی مٹھ کی طرز پر ہی اتر کاشی کی بنیاد ٹیکی ہوئی ہے ۔چمپاوت میں چٹان کمزور ہیں اور سوکھی ڈانگ میں سب سے زیادہ کمزور پہاڑ ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس مسئلے کو کافی سنجیدگی سے لیا ہے ۔جوشی مٹھ معاملے کو لیکر وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری پی کے مشرانے اتراکھنڈ کے جوشی مٹھ کے حالات کو لیکر اعلیٰ سطحی میٹنگ اور اس سے امید یہی کی جاتی ہے کہ سرکار مسئلے کی سنگینی کو سمجھے اور مناسب پالیساں بنائے جس سے ماحولیات کا خاص دھیان رکھا جاسکیں ۔ضرورت پڑے تو ماہرین کو بھی پالیسی بنانے میں شامل کریں ۔ (انل نریندر)

10 جنوری 2023

راتوںرات50لوگوں کو بے گھر نہ کریں!

ہلدوانی میں قبضہ اور ان کو بسانے کے معاملے میں سپریم کورٹ نے فوری راحت دی ہے جو قابل خیر مقدم کام ہے ۔ہلدوانی میں ریلوے کی زمین پر بسی ناجائز کچی بستیوں کو ہٹانے کے اتراکھنڈ ہائی کورٹ کے حکم پر سپریم کور ٹ نے فوری روک لگاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انسانی ہمدردی کا اشو ہے مگر اس کیلئے باقاعدہ حل نکالنے کی ضرورت ہے عدالت کا کہنا تھا کہ 50ہزاور لوگوں کو سات دنوںمیں راتوں رات نہیں نکا لا جا سکتا پہلے بسایا جائے ۔واضح ہو کہ 20دسمبر 2022کو اتراکھنڈ ہائی کورٹ نے ہلدوانی میں ریلوے کی زمین سے قبضہ ہٹانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد احتجاجی مظاہروں کے درمیان ریلو ے حکام نے ان ناجائز بستیوکا سروے کیا تھا ۔مانا جا رہا ہے کہ قبضہ ہٹانے سے 50ہزار لوگ اجڑ جائیںگے۔ 10جنوری کے آپ پاس توڑ پھوڑ کی کاروائی ہونی تھی اور فیصلے سے متاثر لوگوں نے مناسب قدم اٹھاتے ہوئے سپریم کورٹ میں آخیر اپیل دائر کردی اس کے بعد عدالت عظمہ نے ہمدردی کا ثبوت دیتے ہوئے توڑ پھوڑ پر فوری روک لگاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک عوام زندگی کا مسئلہ ہے ۔ بھلے ہی لوگ یہاں ریلوے کی زمین پر دہائیوں سے رہ رہے ہیں اور یہاں بجلی پانی اور اسکول وغیر جیسی رہنے کی ساری سہولیا ہے ۔جہاں ووٹ بینک کے چلتے سبھی پارٹیاں ان لوگوکی پوشیدہ حمایت کرتی ہیں اور چناو¿ میں ووٹ لیتی ہیں ۔اب دلیل یہ دی جارہی کہ یہاں ناجائز تعمیرات ہیں ۔ تو پھر سہولیات کیوں دی گیں ۔ سہی غلط کی بحث اور سیاسی نفع نقصان کی سیاست جاری رہے گی ۔لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سرکار کو انسانی ہمدردی کے طور پر قانون سے اوپر اٹھ کر سوچنا ہوگا ۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کے دوران اترا کھنڈ سرکار اورریلوے کو نوٹس جاری کیا۔ اب اگلی 7فروری کو ہوگی۔ سپریم کورٹ کی روک سے اس کڑاکے کی ٹھنڈ میں ہزاروں لوگوں کو راحت ملی ہے عدالت نے حکم میںریلوے کی جانب سے پیش وکیل سے کہا کہ زمین کی ریلوے کو ضرورت ہے لیکن یہ دیکھنا بھی ضروری ہوگا کہ یہ زمین پوری طرح سے ریلوے کی ہے یاکچھ حصہ ریاستی سرکار کا بھی ہے؟ عدالت نے کہا کہ عرضیوںمیں دعویٰ ہے کہ ان کے پاس پٹے کے کاغذ ہیں اور وہ 1947میں ہجرت کرکے آئے ہیں اور زمین کی نیلامی ہوئی تھی ان کایہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ یہاں برسوں سے رہ رہے ہیں ایسے میں انہیں بسانا تو چاہئے ہی ۔ جبکہ ریلوے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ان لوگوںپر کاروائی راتوں رات نہیں ہوئی ہے مقدمہ کافی دنوں سے چل رہا ہے معاملہ بے حد نازک ہے ۔ زمین ریلوے کی ہے ،ریاست کے وکاس کا معاملہ ہے یہ علاقہ ریاست کاگیٹ وے ہے ۔ جسٹس کول کا کہنا ہے کہ ہم اس معاملے میںکوئی حل چاہتے ہیں ور ر اب آگے کوئی تعمیر یا قبضہ نہ ہو ۔ جسٹس نے اڈیشنل سولیسیٹر جنرل سے کہا کہ جنہیںبھی زمین کی ضرورت ہے پہلے لوگوں کو بسانا چاہئے اہم ترین کسوٹی سپریم کورٹ نے یہ کہتے ہوئے دی کہ معاملے کا کوئی پائیدار حل نکالنا ہوگا۔ امید کرنی چاہئے کہ سپریم کورٹ کی رائے زنی ایسے دیگر معاملوںمیں خیال رکھا جائے گا۔ (انل نریندر)

پتھر تو دکھائی دے رہے پر رام سیتو کے باقیات نہیں کہہ سکتے !

پچھلے کچھ برسوں سے خاص کر پچھلا عام چناو¿ بھاجپا نے شری رام کے نام پر لڑا تھا اب پھر سے شری رام کے نام پر ہی چناو¿ لڑنے کی تیار میں ہیں ۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے چناوی ریاست تریپورہ میں ایک ریلی سے خطاب میں اعلان کردیا کہ اگلے سال 1جنوری 2024تک ایودھیا میں عظیم الشان رام مندر بن کر تیا رہو جائے گا یعنی اسی اشو پرلو ک سبھا چناو¿ لڑا جا ئے گا۔ ایک طرف تو بھاجپا شری رام کی شرن میں آتی ہے اور ان کے سہارے اقتدار تک پہنچتی ہے وہیں اقتدار میں آنے کے بعد ایک دوسری ٹیون اپنا لیتی ہے ۔ میں بات کر رہا ہوں شری رام کے ذریعے بنائے گئے رام سیتو کی ۔ مرکزی حکومت نے رام سیتو کو لیکر راجیہ سبھا میں جمعہ کو اپنا موقف رکھا ۔ نیوکلیائی توانائی اور اسپیس ٹکنالوجی وزیر جتیندر سنگھ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ٹکنالوجی کے ذریعے کچھ حد تک ہم رام سیتو کے ٹکرے آئی لینڈ اور ایک طرح کے لائم اسٹون کے ڈھیر کی پہچان کر پائے ہیں یہ پل کے حصہ ہیں یا باقیات کہہ نہیں سکتے ۔ رام سیتو کی تلاش میں ہماری کچھ حدیں ہیں اس کی تاریخ 18ہزار سال پرانی ہے جس پل کی بات ہو رہی ہے وہ 56کلو میٹر لمبا تھا ۔ سرکار قدیم دور کے اور ایسے معاملوں میں جانچ کر رہی ہے 2007میں یو پی اے سرکارنے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ جیسے کوئی آئینی ثبوت نہیں ہے یہ سیتو انسانوں نے بنایا تھا ۔ جب اس مسئلے زبردست احتجاج ہواتو سرکار نے حلف نامہ واپس لے لیا ۔اب سرکار کہہ رہی ہے کہ پتھر تو نظر آ رہے ہیں اور رام سیتو کے باقیات ہیں ،یہ کہہ نہیں سکتے ؟ بھارت میں رام سیتو پر تنازعہ اور سیاست خوب ہوئی ہے ۔ایک بار پھر سے رام سیتو سیاسی پارٹیوں کے جنگ کا اکھاڑہ بن گیا ہے۔ ہندو دھرم کے قدیمی گرنتھو کے مطابق اس سیتو کو بھگوان رام نے بنوایا تھا جبکہ انگریز اسے اڈم برج کہتے ہیں ۔تو مسلمانوں کے مطابق اسے حضرت آدم نے بنوایا تھا ۔کہتے ہیںکہ جب لنکا کے راجہ راون نے جب ماں سیتا کا ہرن کر لیا تھا تو بھگوان رام نے وانر سینا کی مدد سے اس پل کو بنوایا تھا ۔ اس سیتو کے ذریعے پوری وانر سینا لنکا پہنچی تھی اور راکشسوں کو گھیر کر کے ماتا کو آزاد کرایا تھا ۔بھارت میں رام سیتو کو لیکر اصلی تنازعہ 2005میں شروع ہوا جب اس وقت کی سرکار نے سیتو سمندرم شپنگ نہر پروجیکٹ کو منظوری دے دی تھی اس پروجیکٹ کے تحت اس سیتو کو توڑ کر ایک راستہ تیار کرنا تھا جس سے خلیج بنگال سے آنے والے جہازوں کو سری لنکا کا چکر نہ لگانا پڑے اس سے وقت اور دوری سے اندھن بچانے کا مقصد تھا ۔حالاںکہ ہندو انجمنوں نے اس کی جم کر مخالفت کی اور معاملہ سپریم کور ٹ پہنچا ۔ بتادیں سیتو سمندرم پروجیکٹ کو واجپائی سرکار نے منظوری دی تھی ۔رام سیتو کا اشو کروڑوں ہندوو¿ں کی عقیدت سے جڑا ہے اس سے انکار کرنا نقصان دہ ہوگا۔ اگر آپ بھگوان رام پر یقین کرتے ہیں تو رام سیتو پر بھی یقین کرنا ہوگا۔ کروڑوں ہندو¿ں کا خیال ہے کہ یہ سیتو بھگوان رام نے ہی بنوایا تھا اس کا اگر کوئی سرکار مخالفت کرے گی تو نقصان ہی اٹھائے گی ۔ سرکار کو نہ صرف اسے ماننا ہوگا بلکہ سے قومی وراثت ڈکلیئر بھی کرنا ہوگاجے شری رام! (انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...