کانگریس سکریٹری جنرل راہل گاندھی نے جمعرات کو کہا کہ وہ پارٹی اور سرکار میں اب زیادہ سرگرم رول نبھانے کے لئے تیار ہیں لیکن یہ سب کب ہوگا اس بارے میں قطعی فیصلہ کانگریس صدر اور وزیر اعظم کو کرنا ہے۔ راہل گاندھی پچھلے 10 برسوں سے ہندوستانی سیاست میں سرگرم ہیں لیکن انہوں نے یہ پہلی بار کہا ہے کہ وہ اور سرگرم رول نبھانے کو اب تیار ہیں۔ ان کا بیان کانگریس صدر و ان کی والدہ سونیا گاندھی کے یہ کہے جانے کے بعد آیا ہے کہ بڑے رول کے بارے میں فیصلہ راہل کو ہی لینا ہے۔ سال 2014 ء میں ہونے والے عام چناؤ میں وزیر اعظم کی شکل میں راہل کو پیش کرنے کی قیاس آرائیوں کے درمیان کانگریس لیڈروں نے حال کے دنوں میں پارٹی کو قومی دھارا میں لانے کیلئے راہل سے اپیل کی تھی۔ کانگریس سکریٹری جنرل دگوجے سنگھ اور مرکزی وزیر سلمان خورشید یہ مانگ کرچکے ہیں لیکن معاملے نے طول اس وقت پکڑا جب سلمان خورشید نے یہ کہہ دیا کہ راہل سے کوئی باقاعدہ ہدایت نہیں مل رہی ہے اور اب تک راہل کے نظریات اور خیالات کا بہت چھوٹا سا حصہ دیکھنے کو ملا ہے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کو یہ معلوم ہے کہ بطور پی ایم ان کی آخری پاری ہے۔ پارٹی میں یہ خیال بن چکا ہے کہ منموہن سنگھ2014ء میں کانگریس کو لوک سبھا چناؤ نہیں جتا سکتے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے راہل گاندھی کو ایک بار نہیں کئی مرتبہ سرکار میں شامل ہونے کی دعوت دی مگر راہل گاندھی تیار نہیں ہوئے۔ کہا تو یہاں تک جاتا ہے کہ پارٹی کا ایک طبقہ چاہتا ہے راہل گاندھی سیدھے وزیر اعظم کی کرسی سنبھالیں ۔ مگر راہل میں خود اعتمادی کی کمی ہے یا پھر کانگریس کی اس اتحادی سرکار میں مجبوریوں کی وجہ سے راہل اپنے آپ کو بڑے رول کے لئے تیار نہیں کرپا رہے تھے۔ دراصل ہمیں لگتا ہے کہ ان میں خود اعتمادی کی کمی ہے۔ انہوں نے بہار ، اترپردیش، پنجاب میں پارٹی کا چناؤ لڑوایا اور تینوں جگہ کانگریس بری طرح ہار گئی۔ راہل گاندھی کو وزیر اعظم بنانے کی مانگ نئی نہیں ہے ۔ جب سے سونیا گاندھی نے وزیر اعظم کا عہدہ لینے سے انکار کیا ہے اور اپنی جگہ منموہن سنگھ کو وزیر اعظم بنوایا ہے، یہ کہا جاتا رہا ہے کہ راہل گاندھی کو وہ پارٹی کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے تیار کررہی ہیں۔ اس امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ راہل گاندھی کو پارٹی کا ورکنگ صدر یا نائب صدر بنایا جائے۔ اس طرح سونیا گاندھی آہستہ آہستہ پارٹی کی باگ ڈور اپنے صاحبزادے کو سونپنا شرو ع کرسکتی ہیں اور پارٹی کی ایک سرپرستی کی حیثیت سے رہ سکتی ہیں۔ کانگریس کی یہ خوبی ہو یا برائی لیکن اس کی حقیقت یہ ہے کہ نہرو اور گاندھی واد سے وابستہ ہوکر ہی متحد اور مضبوط رہتی ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ سونیا گاندھی کے غیر ملکی ہونے کا اشو بنا کر کانگریس سے الگ ہوئے شردپوار اس یوپی اے اتحادمیں شامل ہوجائیں جس کی صدر سونیا گاندھی ہیں؟ یو پی اے سرکار سب طرح کے کرپشن اور گھوٹالوں میں چاہے آج کتنی ہی پھنسی کیوں نہ ہو لیکن کانگریسیوں کو بھروسہ ہے کہ کانگریس کا آج بھی کوئی متبادل نہیں ہے۔
دراصل ایک عرصے سے کانگریس کسی نہ کسی کرشمے کے سہارے ہی چل رہی ہے۔80 کی دہائی میں ابھری اور بدلتی شکل میں آج بھی جاری زمینی سیاست کے محاوے کانگریسی لیڈروں کی سمجھ میں نہیں آتے۔ گاؤں محلے کی سطح پر نیٹ ورک کھڑا کرنا اور لوگوں کے چھوٹے موٹے کام کرا دینا ان کے معیار سے میل نہیں کھاتا۔ وہ اسے ذات، خطہ یا فرقہ کی اوچھی سیاست بتاتے ہیں۔ حالانکہ بات بڑھ جانے کی امید ہو تو خود ان میں سے کوئی فارمولہ اپنانے سے نہیں ہچکتے۔ ان کی خواہش یہ ہی رہتی ہے کہ ان کے پاس کوئی ایسا کرشمائی لیڈر اور کوئی معجزاتی نظریہ ہو جس کی مدد سے اقتدار پکے ہوئے آم کی طرح ان کے منہ میں ٹپک جائے۔ جس نہرو ۔گاندھی واد پر دیش میں اتنی باتیں ہوتی ہیں اس کی زمین اسی ذریعے سے تیار ہوتی ہے۔
یوپی اے محاذ راشٹرپتی اور نائب صدر کے چناؤ میں بیشک این ڈی اے پر نمبروں میں بھاری پڑ جائے لیکن اس سے زمینی حقیقت کا دور دور کا تعلق نہیں ہے۔ آج یہ نہیں کہا جاسکتا کہ زمینی حقیقت یوپی اے یا کانگریس کے حق میں ہے۔ اس لئے اگر راہل گاندھی کوئی بڑا رول سنبھالتے ہیں تو ان کا پہلا بڑا کام 2014ء کے لوک سبھا چناؤ کے لئے تنظیم کو کارگر ڈھانچہ دینے کا ہوگا۔ راہل گاندھی یوپی اے سرکار میں چاہے جتنی بڑی ذمہ داری سنبھال لیں لیکن مہنگائی ، بے روزگاری ،ترقی اور مفاد عامہ سے وابستہ دیگر مورچوں پر یہ سرکار اپنے بچے دو سوالوں میں ایسا کوئی معجزہ شاید ہی کر پائے جو 2014ء میں لوگوں کو اس کی واپسی کے لئے پولنگ بوتھوں پر لائن لگانے کو مجبور کردے۔
یہ ایک پائیدار جمہوریت اور اپنے سیاستدانوں سے صبرو تحمل اور نرم گوئی اور دور اندیشی ہونے کی مانگ کرتا ہے۔ 2009ء کے عام چناؤ میں راہل جب اترپردیش میں 22 ایم پی بالکل ہوا کی طرح نکل آئے تھے تو یہ ان کی اسی الگ ساکھ کے ذریعے حاصل کئے گئے گیم چینر کردار کے ذریعے ممکن ہوا تھا۔ کانگریس کے اندر بھی راہل گاندھی کو لیڈر شپ سونپنے پر سوال کھڑے ہورہے ہیں۔ کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ ابھی راہل کو پرائمری بنیادی تعلیم تک نہیں ہے اور ایسے میں انہیں دیش کی لیڈر شپ سونپے جانے جیسی بات بچکانی ہی سی لگتی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ سینئر کانگریسیوں میں راہل کو ذمہ داری سونپنے کو لیکر کوئی جوش نہیں ہے۔ یوپی، بہار ، پنجاب میں راہل پرچار کے دوران پارٹی کی بد سے بدتر حالت کے باوجود ان کا بڑا رول سنبھالنا اب وقت سے پہلے جلد بازی نہ ہوجائے؟ پارٹی کی ایک لابی کی ایک صاف رائے ہے کہ پہلے راہل تنظیم میں بڑی ذمہ داری لیں اور سرکار میں کیبنٹ وزیر بن کر سرکار چلانے کا تجربہ لیں۔
راہل گاندھی کی جانب سے خود آگے آکر بڑی ذمہ داری لینے کی بات کرنے کے بعد ان امکانات کو تقویت ملنا فطری ہی ہے کہ وہ2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں وزیر اعظم عہدے کے امید وار ہوسکتے ہیں۔ یہ فطری بھی ہے ،لیکن بات تبھی بنے گی جب وہ اگلے چناؤ تک یوپی اے II- کے بچے دو برسوں کی میعاد میں کچھ ٹھوس کام کردکھانے میں کامیاب ہوتے ہیں؟
Translater
Prime Minister لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Prime Minister لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
22 جولائی 2012
18 جولائی 2012
سرکار میں نمبر2-کی لڑائی کھل کر سامنے آئی
میں نے اسی کالم میں لکھا تھا کہ مسٹر پرنب مکھرجی کے یوپی اے سرکار سے رخصت ہونے کے بعد سے اس منموہن سنگھ سرکار کو چلانا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔ پرنب دا اس حکومت کے سنکٹ موچک تھے وہ ہر سیاسی مسئلے کا حل نکال لیا کرتے تھے۔ اب منموہن سرکار کو پرنب بابو کی کمی محسوس ہوگی۔ یہ سلسلہ شروع ہوبھی گیا ہے۔ یوپی اے سرکار میں نمبر دو کا معاملہ الجھ گیا ہے۔ یوپی اے سرکار میں نمبردو کی حیثیت رکھنے والے پرنب مکھرجی کے صدر کے عہدے کے امیدوار بننے کے بعد ان کی کرسی کے لئے جنگ چھڑ گئی ہے۔ پرنب کے سرکار سے باہر جانے کے بعد راشٹروادی کانگریس پارٹی کے چیف شرد پوار کی جگہ وزیر دفاع اے کے انٹونی کو وزیر اعظم کے بعد نمبردو کی جگہ دینے کا اشو یوپی اے اتحاد میں رسہ کشی کا سبب بن گیا ہے۔ بہت غور و فکر کے بعد منہ کھولنے والے مراٹھا سردار شرد پوار نے نائب صدر چناؤ کے لئے بلائی گئی میٹنگ سے دور رہ کر اپوزیشن کو یوپی اے کے اتحاد پرسوال اٹھانے کا ایک اور موقعہ دے دیا ہے۔ این سی پی کا کہنا ہے کہ وزیر ذراعت شرد پوار یوپی اے I اورII میں کیبنٹ کی سینیرٹی میں پرنب مکھرجی کے بعد وہ آتے تھے۔ مکھرجی کے سرکار سے استعفیٰ دینے کے بعد نمبردو کی حیثیت انہیں ملنی چاہئے۔ مکھرجی کے استعفے کے بعد ہوئی کیبنٹ کی میٹنگ میں شردپوار کو وزیر اعظم کی بغل میں بٹھایاگیا۔ پی ایم او کی وزرا کی سیریز والی ویب سائٹ سے بھی ان کا نام دوسرے نمبر پر تھا مگر بعد میں ویب سائٹ سے فہرست ہٹا دی گئی۔ ادھر میٹنگ کے دو دن بعد کیبنٹ میں وزرا کی سینیرٹی کے زمرے میں تبدیلی کرتے ہوئے وزیر دفاع اے کے انٹونی کو سرکار میں نمبردو بنا دیا گیا ہے۔ اس کے احتجاج میں این سی پی نے سنیچر کو نائب صدر کا امیدوار طے کرنے کیلئے بلائی گئی یوپی اے کی میٹنگ میں حصہ لینے سے منع کردیا۔ این سی پی کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق آزادی کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب کیبنٹ میں سینیرٹی میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس نیتا نے کہا کہ این سی پی ایسی پارٹی نہیں ہے جو چھوٹے چھوٹے اشوز پر ہنگامہ کرتی آئی ہے لیکن ایسا رویہ ہماری بے عزتی ہے اور ہم یہ بے عزتی برداشت کرنے کو قطعی تیار نہیں ہیں۔ این سی پی نے کبھی بھی اس سے پہلے کیبنٹ میٹنگ کا بائیکاٹ کیا ہے یہ پہلا موقعہ ہے اور وجہ ہے شرد پوار کی بے عزتی۔ اپوزیشن نے اسے یوپی اے میں بکھراؤ کا ایک اور اشارہ دے دیا ہے۔ بھاجپا سکریٹری جنرل مختار عباس نقوی نے کہا کہ کانگریس اتحادی دھرم کی تعمیل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ صدارتی چناؤ کے بعد یوپی اے ٹوٹ جائے گا اور دیش کو وسط مدتی چناؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شیو سینا لیڈر سنجے راوت نے کہا کہ شرد پوار کا تجربہ اور سینیرٹی پرنب مکھرجی کے برابر ہے۔این سی پی کے ایک نیتا نے کہا کہ اس مسئلے پر رسمی خانہ پوری سے پارٹی اپنی طرف سے کانگریس سے کوئی بات نہیں کرے گی لیکن جو ہوا وہ بیحد اعتراض آمیز ہے۔
02 جون 2012
جذباتی جواب دیکر منموہن سنگھ اپنی ذمہ داری ٹال نہیں سکتے
ٹیم انا کے الزامات پر وزیر اعظم منموہن سنگھ کا جواب شاید کسی کو تسلی بخش نہ لگے۔ وزیر اعظم کا یہ جذباتی قول کے اگر ان کے خلاف کرپشن کا کوئی الزام ثابت کرسکتا ہے تو وہ سیاست سے سنیاس لے لیں گے۔ یہ بیان ہمارے گلے سے نہیں اترتا نظر آرہا۔ ہمیں تو وزیر اعظم کا جواب خاص اشو سے ہٹ کر اپنے سارے داغی ساتھیوں کو بچانے کا لگتا ہے۔ ٹیم انا نے وزیر اعظم اور ان کے 15 وزرا کی فہرست جاری کی ہے۔ انہوں نے بس یہ ہی تو کہا ہے کہ کوئلہ کھدائی الاٹمنٹ کو لیکر سی اے جی کی ایک رپورٹ میں کچھ کرپشن کی بو آرہی ہے اور کیونکہ یہ وزارت وزیر اعظم کے ماتحت ہے اس لہٰذا سے وہ ذمہ دار ہیں۔ اگر وزیر اعظم بے قصور ہیں تو وہ جانچ کیوں نہیں کروالیتے؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ اس دیش کے وزیر اعظم بھی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ سانجھہ ذمہ داری کی بنیاد پر سربراہ ہونے کے ناطے وہ اپنی کیبنٹ ساتھیوں کے برتاؤ کے لئے بھی ذمہ دار ہیں۔ ٹیم انا نے ان کی کیبنٹ کے 15 افراد پر کرپشن کا الزام لگایا ہے۔ اگر سرکار کا سربراہ اپنی ٹیم کے لئے ذمہ دار نہیں توکون ذمہ دار ہے۔ یہ وقت جذباتی بیان دینے اور خود کو ٹیم انا سے دکھی دکھانے کا نہیں بلکہ دیش کے سامنے وضاحت کرنے کا ہے۔ آپ پچھلے آٹھ برسوں سے وزیر اعظم چلے آرہے ہیں۔ اس دوران آپ گھوٹالوں پر روک لگانے میں ناکام کیوں ہیں؟غبنو گھوٹالوں کا سلسلہ پچ نہیں رہا ہے۔ کامن ویلتھ کھیلوں کی تیاری کے نام پر بے قاعدگیوں کے ساتھ ہی ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ سامنے آیا۔ اس کے بعد تو ایک کے بعد ایک گھپلوں کی لائن سی لگ گئی۔ کبھی 16 آنے ایماندار مانے جانے والے منموہن سنگھ اس سودے میں شامل ہوں گے یہ آج بھی کسی کو یقین آنے والا نہیں لیکن وہ سب کچھ جان بوجھ کر آنکھ بند کئے ہوئے ہیں یا اتحاد کی مجبوری یا پھر صرف راج کرنے کے لالچ میں خاموش ہیں۔ اس بات پر شک ضرور ہونے لگا ہے آخر سربراہ ہونے کے ناطے منموہن جی نے کوئی بھی گھوٹالہ روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی اور یہ جانتے ہوئے گھوٹالے پر گھوٹالہ ہورہا ہے وہ چپ چاپ تماشہ دیکھتے رہے، کا مطلب صاف ہے کہ انہیں نہ تو اس کی پرواہ ہے اور نہ ہی وہ اسے روکنے کے خواہش مند ہیں۔ وہ تو بس وزیر اعظم بنے رہنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اب اگر وزیر اعظم کی کرسی سے ہٹ گئے تو اور کوئی دوسرا راستہ ان کے لئے نہیں ہوگا۔ جب تک ممکن ہو کرسی سے چپکے رہو۔ آج حالت یہ بن گئی ہے کہ اپنے کرپٹ ساتھیوں کو بچاتے بچاتے خودشکھنڈی کا خطاب دینے والے پرشانت بھوشن کو بھی کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ الٹا جذبات سے بھرے بیانات سے سارے معاملے کو دبانا چاہ رہے ہیں۔ ٹیم انا کے اہم مشیر اروند کیجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم کسی جانچ کے بغیر اپنے آپ کو پاک صاف کیسے ثابت کررہے ہیں؟ وہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ معاملے کی جانچ کروالو ۔ لیکن وزیر اعظم کی ذمہ داری سے کہیں بڑا سوال یہ ہے کہ اس یو پی اےII- سرکار کی جوابدہی جو نظر نہیں آتی اور نہ ہی وہ ایسا قدم اٹھانے کو تیار ہیں جس سے دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی ہوجائے۔
(انل نریندر)
29 مئی 2012
ٹیم انا کی نئی چارج شیٹ میں نشانے پر وزیر اعظم
بس اب اسی کی کسر بچی تھی کہ ٹیم انا نے وہ کام کردیا جو کسی نے نہیں کیا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ پر پہلی بار کرپٹ ہونے کا الزام جڑدیا۔ وزیر اعظم کے بارے میں اکثر یہ ہی کہا جاتا تھا کہ وہ ایک کرپٹ حکومت میں ایک ایماندار لیڈر ہیں لیکن ٹیم انا نے تو پہلی بار براہ راست وزیر اعظم اور وزیر خزانہ پر سیدھا حملہ کردیا۔ ٹیم انا نے منموہن سنگھ کیبنٹ میں شامل دیگر13 وزرا کو بھی اپنی فہرست میں ڈال لیا ہے جنہیں وہ کرپٹ مانتی ہے۔ وزیر اعظم کو اس لئے کرپٹ کہا گیا ہے کیونکہ کوئلہ سے متعلق سی اے جی کی ایک رپورٹ میں کچھ تبصرے کئے گئے ہیں اس مبینہ رپورٹ میں کوئلہ وزارت کے جس دور کی گڑ بڑی کا ذکر کیا گیا ہے اس وقت یہ وزارت خود وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے پاس ہوا کرتی تھی۔ جن وزراء پر الزام لگائے گئے ہیں ان میں وزیر داخلہ پی چدمبرم، (ٹو جی اسپیکٹرم ،ایئر سیل ،میکسس سودہ) شردپوار (گیہوں درآمد، لواسہ اسکیم) تیلگی اسٹام پیپر معاملہ، ایس ایم کرشنا وزیر اعلی کی شکل میں نجی کھدائی کمپنیوں کو نامناسب فائدہ پہنچانا۔ کملناتھ (چاول درآمدات گھوٹالہ) پرفل پٹیل (ایئر انڈیا۔ انڈین ایئرلائنس کے انضمام میں گھوٹالہ) ولاس راؤ دیشمکھ (آدرش سوسائٹی، سبھاش گھئی کو زمین الاٹمنٹ) ویر بھدر سنگھ (ہماچل کے وزیر اعلی رہتے ہوئے غیر قانونی تقرریاں) کپل سبل (ریلائنس ٹیلی کام پر لگے جرمانے کو کم کرنا) سلمان خورشید (ٹوجی اسپیکٹرم میں ریلائنس اور ایسار کو بچانا) جی کے واسن (کانڈلا بندرگاہ کی زمین کوڑیوں کے بھاؤ پٹے پر دینا)، فاروق عبداللہ( جموں کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن گھوٹالہ) اے ۔کے آلہ گری(مندر کی زمین ہڑپنا،چناؤ افسر کو دھمکانا)، سشیل کمار شنڈے(آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی گھوٹالہ) ۔ ٹیم انا نے آگے کہا کہ وزیر اعظم سمیت سرکار کے ان 15 وزرا کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے ایک مخصوص تفتیشی ٹیم بنائی جائے۔ انہوں نے کہا ایسا نہ کرنے پر وہ 25 جولائی سے تحریک چلائیں گے۔ وزیر اعظم کو لکھے خط میں انا اور اس کی ٹیم نے کہا کہ انہیں سرکار کی جانچ ایجنسیوں پر بھروسہ نہیں اس لئے جانچ سپریم کورٹ کے تین ریٹائرڈ ججوں کی خصوصی ٹیم سے کروائی جائے۔ انہوں نے 6 ججوں کے نام بھی گنائے ہیں۔ یہ امکان تھا کہ جس طرح لوکپال اشو پر منموہن سرکار نے ٹال مٹول کا رویہ اپنایا سول سوسائٹی نے تو اب ایک نیا مورچہ ہی کھول دیا ہے حالانکہ وزرا کے نام اور ان پر کرپشن کے نام وہی پرانے ہیں جو انا پہلے لگا چکے ہیں لیکن وزیر اعظم کا نام لینا پوری لڑائی کو ایک نیا موڑ ضرور دیتا ہے ۔ اب یہ لڑائی ایک تلخ موڑ لیتی جارہی ہے۔ ٹیم انا نے سیدھا ٹکراؤ کا راستہ اختیار کرلیا ہے۔ ہم نے دیکھا کہ اترپردیش اسمبلی چناؤ میں ٹیم انا کا کوئی زیادہ اثر نہیں پڑا۔ اس کی طرف سے داغے گئے الزامات کے مبینہ ثبوتوں کے ساتھ وزرا کے نام کھلے عام طور سے لینے سے یوپی اے سرکار خاص کر وزیر اعظم منموہن سنگھ کی ساکھ پر یہ ایک اور داغ لگا ہے اور اس کا نقصان یہ ضرور ہوا ہے کہ اس پر کرپشن کے کچھ اور چھینٹے پڑے ہیں۔ یہ اس سرکار کے لئے اچھا اشارہ نہیں مانا جاسکتا۔ منموہن سنگھ پر پہلی بار سیدھا حملہ کیاگیا ہے۔ ویسے ٹیم اناکی اپنی بات سے مکرنے کی عادت بن چکی ہے۔دیکھتے ہیں وزیر اعظم پر جو الزام ان کی ٹیم نے لگائے ہیں انا اس بارے میں کیا بولتے ہیں۔
(انل نریندر)
31 مارچ 2012
جنرل وی کے سنگھ کے خط نے کھڑے کئے سوال
Published On 31 March 2012
انل نریندر
زمینی فوج کے سربراہ جنرل وی کے سنگھ کے ذریعے وزیر اعظم کو لکھے خط جس میں بتایا گیا ہے کہ ہماری سکیورٹی فورس کے پاس ہتھیاروں کی کمی ہے۔ گولہ بارود وغیرہ کی کمی ہے، نے کئی سوال کھڑے کردئے ہیں۔ کیا جنرل کو ایسا خط لکھنا چاہئے تھا؟کیا ریٹائرمنٹ سے پہلے یہ خط لکھنے کا صحیح وقت تھا؟ یہ خط کس سے اور کیوں افشاں کرایا گیا؟ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ یہ ہیں کچھ سوالات جو آج زیربحث ہیں۔ جہاں تک جنرل کا خط ہے تو میں سمجھتا ہوں کے اگر زمینی فوج دیش کے وزیر اعظم کو یہ فوکس کرنا چاہتی ہے کہ ان کی لچر پالیسیوں اور بے قاعدگیوں کے سبب ہماری فوج میں ضروری سامان کی سپلائی نہیں ہورہی ہے اور اگر جنگ ہوتی ہے تو ہم اسے جیت نہیں سکتے، تو اس میں غلط کیاہے؟ کیا فوج کے سربراہ کو یا سیاستدانوں کو بتانا نہیں چاہئے کہ ہندوستانی فوج کی صلاحیت سے سمجھوتہ کیوں کیا جارہا ہے اور اگر اس کمی کو بلا تاخیر دور نہیں کیا گیا تو یہ فوج کے لئے خطرناک ہوگا۔ جہاں تک اس خط کے لکھنے کے وقت کی بات ہے جنرل کی عمر کے تنازعے کے بعد لکھنے سے تھوڑی سی بد نیتی کی بو ضرور آتی ہے۔ کچھ لوگ کہہ سکتے ہیں کیونکہ حکومت نے جنرل کی عمر میں ان کی مخالفت کی تھی اس لئے جنرل نے بدلے کے جذبے سے یہ خط لکھا ہے۔ سب سے اہم سوال جو ہے وہ یہ کہ خط کس نے آؤٹ کیا ہے؟ یہ خط یا تو فوج سے لیک ہوسکتا ہے یا پھر وزیر اعظم کے دفتر سے۔ مجھے نہیں لگتا کہ جنرل نے خود اسے افشاں کیا ہوگا۔ مجھے شبہ پی ایم او پر ہے۔ اکثر پی ایم او سے خفیہ دستاویزات افشاں ہوتے رہتے ہیں۔ ٹوجی گھوٹالے میں بھی کئی دستاویزات وزیر اعظم کے دفتر سے لیک ہوئے۔ رپورٹ ہے کہ جنرل نے یہ خط چین کی بڑھتی فوجی طاقت کو لیکر لکھا تھا؟ خط میں سیدھے طور پر چین کی تیاریوں کے مقابلے بھارت کی تیاریوں کو دکھایا گیا تھا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کی ڈیفنس مشینری کے جدیدی کرن پر نوکرشاہی اڑنگے ڈال رہی ہے۔ جنرل سنگھ نے لکھا ہے مختار تبت علاقے میں چین کھلے عام تعمیرات کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہیں ہندوستانی فوج کی موجودگی تسلی بخش نہیں ہے۔ بھارت کی فوجی تیاریاں کھوکھلی ہیں۔ فوجی ماہرین کا خیال ہے کہ ہم چین کے سامنے طاقت کے حساب سے کہیں کھرے نہیں اترتے اور پاکستان کو ہم آج بھی ہرانے کی پوزیشن میں ہیں۔ ویسے فوجی سامان کی سپلائی میں فوجی حکام کا بھی قصور کم نہیں ہے۔ جنرل کے خط سے یہ تو صاف ہوہی گیا ہے کہ کئی فوجوں کے افسر بطور کمیشن ایجنٹ کام کررہے ہیں۔ اب ڈسپلن کی کمی ہے مشقوں میں اتنا گولہ بارود کیوں برباد کیا گیا؟ 1971ء کے بعد سے ہماری فوج نے کوئی بڑی جنگ نہیں لڑی اس لئے صحیح معنی میں ہمیں اپنی فوجوں کی تازہ حالت کی صحیح معلومات نہیں ہے۔ جنرل سنگھ پچھلے کئی مہینے سے اپنی عمر کے تنازعے میں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں فوج کی تیاری کی فکر نہیں ہے ، کیا جنرل سنگھ نے یہ مزائل اس لئے تو نہیں داغی کے یوپی اے سرکار ڈیفنس بجٹ پر پوری توجہ دے رہی ہے اور فوجی سازو سامان کی سپلائی کو ترجیح دے۔ جو کچھ بھی ہو لیکن یہ دیش کے لئے اچھا نہیں ہے اور نہ ہی ہماری فوجوں کے لئے اچھے اشارے ہیں کہ ہماری تیاریاں پچھڑ چکی ہیں۔ تازہ جانکاری کا دیش کے دشمن زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ سرکار اور فوج کے چیف میں اتنی خلیج بھی دیش کے مفاد میں نہیں ہے اس لئے میں یہ سوال پوچھتا ہوں کہ کیا جنرل سنگھ جھوٹ بول رہے ہیں؟ کیا فوجی سازو سامان کی سپلائی کافی نہیں ہے؟ کیا پی ایم او سے یہ خط افشاں ہوا ہے؟ جواب ہے جزوی طور سے یہ سبھی صحیح نہیں ہے۔Anil Narendra, Daily Pratap, General V.k. Singh, Indian Army, Manmohan Singh, Prime Minister, Vir Arjun
21 مارچ 2012
ممتا نے ثابت کردیا کہ وہ اپنی ضد کی پکی ہیں!
Published On 21 March 2012
انل نریندر
14مارچ کو دینش ترویدی نے پارلیمنٹ میں ریل بجٹ پیش کیا تھا۔ اس میں انہوں نے مسافر کرایے میں اضافے کی تجویز رکھی تھی۔ اس تجویزکو لے کرترنمول کانگریس کی چیف ممتا بنرجی اتنی خفا ہوئیں کہ انہوں نے ترویدی سے فوراً اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینے کو کہہ دیا ۔انہوں نے اعلان کیاکہ ترویدی نے کانگریس کے کچھ لیڈروں سے سانٹھ گانٹھ کرکے مسافروں کا کرایہ بڑھانے کافیصلہ کرلیاہے جب کہ اس بارے میں انہوں نے کسی بھی سطح پر پارٹی سے مشورہ نہیں کیا۔ ایسے میں انہوں نے پارٹی کا اعتماد کھو دیا ہے۔ ناراض ممتا نے اسی دن وزیراعظم کو ایک فیکس پیغام کے ذریعہ کہاتھا کہ دینش ترویدی کی جگہ ان کی پارٹی سے مکل رائے کو وزیرریل بنادیا جائے۔ چاردن کے ہائی وولٹیج ڈرامے کے بعد دنیش ترویدی کو آخر کار استعفیٰ دینا پڑا جو منظور بھی ہوگیا۔ دینش ترویدی نے دراصل وہ کام کیا جو سابق وزیرریل ممتابنرجی خود لالو پرساد یادو کے آٹھ سال وزیررہتے کرایہ نہ بڑھانے کے فیصلہ کی روایات کو ہی توڑدیا۔ویسے دینش ترویدی ویسے ایک اچھے لیڈر ہیں۔ 61سالہ ترویدی ترنمول کانگریس کے قیام کے بعد سے ہی ممتا کے خاص رہے ہیں ان کی وفاداری کی وجہ سے ہی انہیں ممتانے اپنی جگہ مرکزی کیبنٹ وہ جگہ دلادی ہے۔ ممتا نے مغربی بنگال کا وزیراعلی بننے کے بعد وزیرمملکت خاندانی وبہود وصحت سے ترقی کرکے انہیں اپنی جگہ وزیرریل بنوایا ہے ۔ترویدی سیاست کے جرائم کرن کے خلاف برسوں سے لڑرہے ہیں اور انہوں نے کئی مفاد عامہ کی عرضیا بھی دائر کی ۔وہرہ کمیٹی کی وجہ سے ہی اطلاعات حق کاقانون بن سکا۔ یہ کمیٹی ترویدی کی عدالت میں دائر کردہ عرضی کی وجہ سے تشکیل دی گئی تھی۔ اناہزارے کے پچھلے پانچ اپریل کو جنترمنتر پر انشن شروع ہوا تھا۔ تو ترویدی نے انہیں خط لکھ کر عہدہ چھوڑنے کی بھی خواہش جتائی تھی۔ وہ انا ہزارے اور اروندگیجری وال سے بھی وابستہ رہے ہیں۔ان سے دنیش ترویدی نے کہا کہ وہ کرپشن کے خلاف لڑائی کو مضبوطی دینے کو تیار ہے۔ راجیہ سبھامیں دوبار چنے گئے ترویدی نے 2009 کے لوک سبھاچناؤ کے مارکسوادی کے مضبوط امیدوار تارت توپ دار کو بیرک پور سے ہرایا تھا بنیادی طور سے کانگریسی رہے ترویدی وی پی سنگھ کی قیادت والے جنتادل میں بھی شامل ہوئے تھے۔ کولکتہ یونیورسٹی سے بی کام اور ٹیکساس یونیورسٹی سے ایم بی اے پاس ترویدی پائلٹ کابھی لائسنس حاصل کیاتھا۔ دنیش ترویدی کو ریل کا کرایہ بڑھانے میں اپنے بہادرانہ فیصلے کے سبب اپناعہدہ گنوانا پڑا۔ ترویدی نے اپنے ریل بجٹ میں سبھی زمروں کے ریل کرایے میں اضافی کی تجویز رکھی تھی۔ سب سے پہلے اس کی مخالفت انہیں کی پارٹی کے نیتا اور مرکزی وزیر سدیب بند اپادھیائے نے کی تھی۔وزیراعظم اور وزیرخزانہ دونوں نے ہی ممتا کو بہت سمجھانے کی کوشش کی کہ بجٹ اجلاس ختم ہونے دیجئے پھر بدل دیں گے اس کے لئے ممتا تیار نہیں ہوئی۔ چار دنوں تک سیاسی ڈرامہ چلتا رہا۔ اپوزیشن کو بھی ہتھیار مل گیا۔ سرکار کو کٹگھرے میں کھڑے کرنے کا ۔دنیش ترویدی نے بھی کہہ دیا کہ مجھ سے لکھ کر استعفیٰ مانگا جائیگا تب دوں گا ۔ لیکن جب میں ممتا سے ان کی ٹیلی فون پر بات ہوئی تو استعفیٰ دینے کو تیار ہوگئے۔ اس سے ممتا نے ایک بار پھر ثابت کردیا وہ اپنی ضد کی پکی ہیں۔ اور ایک بار وہ جو کچھ ٹھان لے اسے پورا کروا کر ہی مانتی ہے۔ ایسا کرنے کی قیمت چاہے انہیں کچھ بھی چکانی پڑے۔ اب مکل رائے نئے وزیرریلوے بن گئے ہیں۔Anil Narendra, Daily Pratap, Mamta Banerjee, Manmohan Singh, Prime Minister, Rail Minister, Vir Arjun
19 نومبر 2011
پیٹرول کے دام پر سرکاری دلیلوں کا پردہ فاش
Published On 19th November 2011
انل نریندر
محض 15 دن میں پیٹرول کی بڑھی قیمتیں واپس ہونا اگر معجزہ نہیں تو حیرت انگیز ضرور ہے۔ پچھلے33 مہینوں میں یہ صرف دوسرا موقعہ ہے جب پیٹرول کی خوردہ قیمتوں میں کٹوتی کی گئی ہے اور پیٹرو مصنوعات پر آخر کنٹرول کس کا ہے؟ کانگریس پارٹی اس کا پورا فائدہ لینے کے چکر میں ہے۔ کیا اترپردیش میں چناوی مہم کا آغاز کرکے کانگریس جنرل سکریٹری راہل گاندھی کو مرکزی سرکار ہر طرح سے حمایت دے رہی ہے؟ یہ ہی وجہ ہے کہ راہل کی مہم شروع کرنے کے ایک دن بعد ہی حکومت کو تیل کمپنیوں نے راحت دیتے ہوئے پیٹرول کی خوردہ قیمت میں 2.25 روپے تک کی کٹوتی کردی ہے۔ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہونے جارہا ہے شاید سرکار نے سوچا ہوگا کہ دباؤ کم کیا جائے پھر پبلک کی ناراضگی بھی سرکار کے لئے بھاری پڑ رہی تھی۔ جنتا کے ساتھ سرکار کی اتحادی پارٹیاں خاص کر ترنمول کانگریس کا دباؤ بھی ایک وجہ ضرور رہی۔سوال یہ ہے کہ آخر پیٹرول کے داموں پر کنٹرول کس کا ہے؟ یوپی اے سرکار سے جب قیمت بڑھانے کی وضاحت مانگی گئی تو اس کے نمائندے کی شکل میں وزیر مالیات پرنب مکھرجی نے کہا تھا کہ پچھلے سال جون میں ہوئے ڈی ریگولیشن کے بعد پیٹرول کی قیمتیں طے کرنے کا حق پوری طرح سے تیل مارکٹنگ کمپنیوں کے پاس چلا گیا ہے۔ خود وزیر اعظم نے بیرون ملک سے اس بارے میں رائے زنی کی تھی۔ پیٹرول تو پیٹرول ہے آہستہ آہستہ ساری چیزوں کی قیمتیں طے کرنے کا کام بھی پوری طرح سے بازار پر چھوڑنا ان کی حکومت کی ترجیح ہے۔ یہ ہی نہیں ڈاکٹر منموہن سنگھ نے یہاں تک کہا تھا کہ بڑھے ہوئے پیٹرول کے دام کم نہیں ہوں گے؟ ایسے میں یہ معجزہ آخر کیسے ہوگیا۔ تیل مارکٹنگ کمپنیاں پیٹرول کے دام حالیہ اضافے کی سطح سے تھوڑا نیچے لانے کو تیار ہوگئیں؟ ان کمپنیوں کے علاوہ اعلی افسروں کا کہنا ہے کہ ایسا انہوں نے بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں اور ڈالر کے مقابلے روپے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے کیا ہے۔ ان دونوں رجحانات کو غور سے دیکھیں تو لگے گا کہ اس فیصلے کے حق میں اس سے زیادہ لچر دلیل اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ ڈالر کے مقابلے روپیہ فی الحال پچھلے33 مہینوں میں سب سے نچلی سطح پر چل رہا ہے لہٰذا او ایم سی منیجروں کے لئے اس مورچے پر کچھ کرنے کی کوئی جگہ نہیں بنتی۔ کچے تیل کی قیمتیں روزانہ گھٹتی بڑھتی رہتی ہیں۔لیکن اس بازار کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پچھلے 15 روز میں ہندوستان کے لئے اس کی اوسط قیمت108 سے بڑھ کر110 فی بیرل ہوگئی ہے۔ ظاہر ہے پیٹرول کی قیمتیں بازار کے کسی رجحان کے تحت نہیں بلکہ سیاسی دباؤ کے چلتے نیچے آئی ہیں اور سرکار نے ایسا کرکے اپنے آپ کو بے نقاب کردیا ہے۔ بین الاقوامی بازار میں کچے تیل کی قیمتوں میں گراوٹ کی دلیل بے جواز لگتی ہے۔جون2010 میں پیٹرول قیمت ڈی کنٹرول کئے جانے کے بعد سے قیمتوں میں تقریباً 23 روپے کا اضافہ ہوا ہے اس لئے یہ کمی اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہی لگتی ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو پچھلے ڈیڑھ سال میں پیٹرول کی قیمتوں میں 13 بار اضافہ کیا گیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ چوطرفہ دباؤ کو دیکھتے ہوئے یوپی اے سرکار بوکھلا گئی ہے۔ اس دباؤ کو دیکھ کر کانگریس اعلی کمان اور سرکار نے دیر سے ہی آتم منتھن تو کیا لیکن مہنگائی کے مسئلے پر پہلے ہی پارٹی کی کرکری ہوچکی ہے۔ ایسے میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اسے اسمبلی چناؤ میں کہیں نقصان نہ پہنچادے، ان حالات کو دیکھتے ہوئے مرکزی سرکار حرکت میں آگئی ہے اور اس نے پیٹرول کمپنیوں پر قیمت کم کرنے کا دباؤ بنایا۔ ویسے یہ سب ناٹک تھا کیونکہ انڈین آئل کے چیئرمین پہلے ہی کہہ چکے تھے کہ اگر سرکار کہے گی تو ہم قیمتیں کم کرنے کو تیار ہیں۔ کل ملا کر سرکار کی دلیل کی ایک جھٹکے میں ہوا نکل گئی ہے کہ سرکار کا پیٹرو مصنوعات کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں۔ اور ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ سرکار نے پیٹرول کی قیمتوں میں یہ کمی صرف ووٹروں کو خوش کرنے کے خاطر کی ہے اور چناؤ ختم ہوتے ہی تیل کمپنیوں کو خوش کرنے کے لئے قیمتوں میں دوگنا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Petrol Price, Prime Minister, Trinamool congress, UPA, Vir Arjun
28 اکتوبر 2011
سرو شکشا ابھیان کی حقیقت
Published On 28th October 2011
انل نریندر
میرا بھارت مہان! ساری دنیا میں اس وقت بھارت کا ڈنکا بج رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت کی اقتصادی حالت موجودہ وقت میں دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی اقتصادی حالت ہے لیکن زمینی حقیقت جب ہم دیکھتے ہیں تو تھوڑی حیرانی ضرور ہوتی ہے کہ آج بھی ایجوکیشن جیسا اہم حلقہ اتنا پچھڑا ہے؟ تعلیم کا حق قانون اور سرو شکشا ابھیان کے باوجود پچھلے سال قریب 82 لاکھ بچوں کا اسکول میں داخلہ نہیں ہوپایا ہے۔ اتنا ہی نہیں اسکولوں کی بدانتظامی کا عالم یہ ہے کہ لڑکیوں کے 41 فیصدی اسکولوں میں ٹوائلٹ تک نہیں ہیں۔ راجیوں میں پرائمری شکشا پر تبصرہ کرنے کے لئے انسانی بہبود برائے ترقی وزیر شری کپل سبل کی صدارت میں راجیوں کے تعلیمی وزیروں کی ایک میٹنگ میں بچوں کے اسکولوں پر سنجیدگی سے تبصرہ ہوا۔ 6 سے14 سال تک کے بچوں کو ضروری طور پر سکولوں میں بھیجنے کے لئے تعلیم کا حق قانون نافذ کیا گیا تھا۔ اس کے نافذ ہونے کے ایک سال سے زیادہ کا وقت گذر جانے کے باوجود پرائمری شکشا کی حالت تسلی بخش نہیں ہے۔ سکولوں اور ٹیچروں کی کمی تو الگ موضوع ہے حالات یہ ہے کہ سروشکشا ابھیان کی بھی ہوا نکل گئی ہے اور مرکزی سرکار کو اسی سے ملتا جلتا نیا ابھیان چلانے کا فیصلہ لینا پڑا۔ مگر اس میں فرق یہ ہوگا کہ اسے غیر سرکاری مشینری سے ملایا جائے گا۔ اب پرائمری سکولوں میں اس مشینری کا سیدھا دخل رہے گا۔ اس مشینری کے ورکروں کا کام ہوگا کہ وہ سکول اور سماج کے درمیان پل کا کام کریں گے۔ اگر کسی گاؤں میں کوئی بچہ سکول نہیں جارہا ہے تو اس کی جانکاری علاقے کے سکول کو دینی ہوگی اور بچے کے گھر والوں کو بیدار کرنا ہوگا کہ وہ اپنے بچے کو سکول بھیجیں۔ سبل نے بتایا کہ اس ابھیان کا نام ''تعلیم کا حق'' رکھا گیا ہے۔ جس کی شروعات پردھان منتری 11 نومبر کو کریں گے۔ اس ابھیان کے تحت13 لاکھ سکولوں کو شامل کیا جائے گا جن کے پرنسپلوں کو پردھان منتری کی اپیل جاری کی جائے گی جس کا پیغام ہوگا کہ وہ کسی بھی بچے کو سکول جانے سے محروم نہ ہونے دیں۔کپل سبل نے راجیوں کے تعلیمی وزیروں سے کہا ہے کہ وہ پرائمری سکولوں کی حالت ٹھیک کریں۔ انہوں نے کئی راجیوں میں اب بھی تعلیم کا ادھیکار قانون نافذ نہ کرنے پر افسوس ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک سال میں کئی بار راجیوں سے اپیل کی جاچکی ہے مگر صرف18 راجیوں نے ہی اس قانون کو نافذ کیا ہے۔ مہاراشٹر، پشچم بنگال، گجرات اور تاملناڈو جیسے کئی بڑے راجیہ ایسے ہیں جنہوں نے اس قانون کو اب تک نافذ نہیں کیا ہے۔ اس کے چلتے لاکھوں بچے سکول نہیں جارہے ہیں۔سکولوں کی بلڈنگوں کی بدحالی اور ٹیچروں کی کمی پر بھی دھیان دینا بہت ضروری ہے۔ اس وقت قریب 44 لاکھ ٹیچر پورے دیش میں کام کررہے ہیں۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ شری کپل سبل نے اس حقیقت کو اجاگر کرنے کی ہمت دکھائی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ وہ دن پورے دیش میں جلد آئے گا جب ہر گاؤں میں کوئی بچہ سکول جانے سے محروم نہیں ہوگا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Education, India, Kapil Sibal, Prime Minister, Vir Arjun
ہندوستانی فوج کے چیتا ہیلی کاپٹر لوٹانے کی اصل کہانی
Published On 28th October 2011
انل نریندر
خراب موسم کی وجہ سے ہندوستانی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر ایتوار کو پاکستان کے قبضے والے کشمیر (پی او کے) میں غلطی سے پہنچ گیا۔ ہندوستانی فضائی سینا کا چیتا ہیلی کاپٹر دوپہر قریب ایک بجے راستہ بھٹک کر کنٹرول لائن کے دوسری طرف پہنچ گیا۔ پاکستانی سینا نے اپنے دو لڑاکو جہازوں کو اڑا کر ہیلی کاپٹر کو اسکائی علاقے میں اترنے پر مجبور کردیا۔ ہیلی کاپٹر میں سوار چاروں ہندوستانیوں سے قریب چار گھنٹے تک پوچھ تاچھ کی گئی اور انہیں چھوڑدیا گیا۔ شام قریب 6 بجے دومیجر (پائلٹ اور اسسٹنٹ پائلٹ) ایک لیفٹیننٹ کرنل اور ایک جونیئرافسر واپس کارگل پہنچے۔ حادثے کی جانکاری ملتے ہی بھارت کے فوجی سرگرمیوں کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی ایم او) سرگرم ہوگئے اور معاملے کو سلجھانے کے لئے ہاٹ لائن پر اپنے پاکستانی افسروں سے بات کی۔پاکستان نے بھارت کا چیتا ہیلی کاپٹر واپس کرکے ساری دنیا میں اپنی نیک نیتی کا پیغام دینے کی کوشش کی۔اس نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ اتنے تناؤ کے بعد بھی وہ انسانیت کا تقاضہ نہیں بھولا ہے اور بھارت کو اس کے اس قدم کی تعریف کرنی چاہئے۔ ہم پاکستان کا اس بات کے لئے تو شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ اس نے ہماری غلطی کو سمجھا اور ہمارے فوجی اور ہیلی کاپٹر کو صحیح سلامت چھوڑدیا لیکن پاکستان کے ذریعے ہندوستانی ہیلی کاپٹر کو چھوڑنے کے پیچھے اصل کہانی اور ہے۔ فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمارا ہیلی کاپٹر دو وجوہات سے واپس کیا ہے۔ پہلا کہ ہیلی کاپٹر میں کل چار سواریاں تھیں اور اس بات کا کوئی امکان نہیں تھا کہ کوئی پانچواں آدمی ہیلی کاپٹر میں رہا ہو جو جاسوسی کرنے کے لئے بیچ میں کہیں اترا ہو اور دوسری بات یہ کہ چیتا ہیلی کاپٹر میں جاسوسی کرنے کے لئے کوئی آلات نہیں تھے۔ ہیلی کاپٹر کوئی جاسوسی مشن پر نہیں تھا۔ دراصل ہیلی کاپٹر لیہہ سے بمبار (دراس سیکٹر) میں ایک مینٹیننس مشن پر تھا۔خراب موسم کی وجہ سے وہ راستہ بھٹک گیا تھا۔ کہا گیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کو پاکستان نے نیک نیتی کی وجہ سے نہیں بلکہ امریکہ کے دخل کے بعد چھوڑا تھا۔ ایک نیوز چینل کے ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا گیا ہے کہ ہندوستانی فوج کے سینئر افسروں نے امریکہ سے جڑے معاملے میں دخل دینے کو کہا تھا۔ امریکہ نے پاکستان پر دباؤ بنایا اور آخر میں بھارت اور پاکستان کے سینئر فوجی افسروں نے آپس میں بات چیت کی۔ جس کے بعد سنکٹ کا حل نکلا اور چیتا ہیلی کاپٹر بھارت واپس آیا۔ دلچسپ اور چونکانے والی بات یہ بھی ہے کہ جس پاکستان آرٹیلٹی ہیلی پیڈ (نمبر90) پر جو ایل او سی کے بالکل قریب بنایا گیا ہے ، کے بارے میں ہندوستانی فوج کو کوئی معلومات ہی نہیں تھی۔ ہمیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ ایل او سی کے اتنے قریب پاکستانی فوج نے کب یہ ہیلی پیڈ بنایا۔ خیر! خبریہ ہے کہ پاکستان نے اس چیتا ہیلی کاپٹر کا جی پی ایس ڈاٹا چورا لیا۔ بتایا جارہا ہے کہ اس ڈاٹا میں بہت اہم جانکاریاں تھیں۔ یہ ہندوستانی حفاظت نظریئے سے بہت اہم تھیں۔ ڈاٹا میں ہیلی کاپٹر سے بھارت کے تمام ہیلی پیڈ کے رابطے کا بیورہ تھا۔ ڈاٹا میں بھودوے کوٹ کے حلقے میں آنے والے فوج کے سبھی ہیلی پیڈ کا کوڈ نیم بھی درج تھا۔ ہندوستانی فوج کے سینئر افسر چیتا ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے پوچھ تاچھ کررہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب ہیلی کاپٹر میں جی پی ایس لگا ہوا تھا تو وہ کیسے راستے سے بھٹک گیا؟ شرمناک تو یہ ہے کہ چیتا ہیلی کاپٹر ایل او سی کے پار بھیرول سیکٹر کے جس ہیلی پیڈ پر اترا (پاکستانی آرٹیلٹی نمبر90)، وہ کارگل سیکٹر سے لگا ہوا ہے۔ اس کے باوجود ہندوستانی فوج کو اس کی جانکاری نہیں تھی۔ شروعاتی تفتیش سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ پاکستان کا ہیلی کاپٹر کو جبراً اتارنے کے لئے مجبور کرنے کا دعوی بھی غلط ہے۔ نہ تو ہندوستانی پائلٹ کو پتہ تھا کہ انہوں نے ہیلی کاپٹر کہاں اتارا ہے اور نہ ہی پاکستان کو اس کی بھنک لگی تھی۔ ذرائع کے مطابق بھودوے کوٹ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل روی دستانے ایتوار کی صبح کارگل کے پاس دورے پر جانے کے لئے نکلے تھے۔ان کے ایڈوانسڈ لائٹ ہیلی کاپٹر (اے ایل ایچ) میں کوئی تکنیکی خرابی آگئی اور اسے اترنا پڑا۔ دستانے کو دوسرے ہیلی کاپٹر سے سرینگر لے جایا گیا۔ اے ایل ایچ کو ٹھیک کرنے کے لئے مینٹی ننس انجینئر کو لیکر چیتا نے اڑان بھری۔ باقی کی کہانی تو آپ کو پتہ ہی نہیں ۔ اصل میں کیا ہوا اس کا شاید ہی صحیح پتہ چلے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Education, India, Kapil Sibal, Prime Minister, Vir Arjun
28 ستمبر 2011
اب کیا ہوگا آگے: نظریں سپریم کورٹ پر لگیں
دیش کے لئے کتنے دکھ کی بات ہے کہ امریکہ میں وزیراعظم اور وزیر مالیات سے ٹو جی گھوٹالے پر سوال پوچھے جارہے تھے ۔ ساری دنیا میں گھوٹالوں کی اس حکومت نے پورے دیش کی عزت مٹی میں ملا دی ہے۔ پتہ نہیں دنیا بھارت کے بارے میں کیا سوچتی ہوگی؟ ادھر دیش میں اس حکومت کی مشکلیں بڑھتی جارہی ہیں۔ ٹوجی گھوٹالے میں روز نئی پرتیں کھل رہی ہیں جیسے جیسے نئے نئے معاملے سامنے آرہے ہیں پتہ چل رہا ہے کہ اس گھوٹالے کی اوپر سے نیچے تک سب کو خبر تھی لیکن کسی نے بھی اس کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ بیشک وزیر اعظم ، وزیر خزانہ بھلے ہی خود گھوٹالے میں شامل نہ رہے ہوں لیکن اس سے تو اب وہ انکار نہیں کرسکتے کہ سب کچھ ان کی جانکاری میں اور کچھ حد تک ان کی رضا مندی سے ہوا ، بیشک وزیر اعظم اس وقت کے وزیر خزانہ کو کلین چٹ دے رہے ہوں اور کہہ رہے ہوں کہ انہیں وزیر داخلہ پر پورا بھروسہ ہے لیکن اس سے اب تک بات بننے والی نہیں۔ٹوجی گھوٹالے پر پوری طرح سے گھر چکی حکومت کے سنکٹ موچکوں کے قدم اب ختم ہونے لگے ہیں۔ سرکار کی سینئر لیڈر شپ کو اب اس گھوٹالے کے جال سے بچانے کیلئے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ سابق وزیر مواصلات اے راجہ کے فیصلے سے دیش کے خزانے کو کسی طرح کا نقصان نہیں ہوا ہے۔ گذشتہ ہفتے عدالت کے سامنے پیش ٹی آر اے آئی کی رپورٹ اسی کوشش کا حصہ تھی جو اوندھے منہ گر پڑی۔ گھوٹالے کی جانچ کررہی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی اس نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کررہی ہے۔ راجہ کے فیصلوں میں سرکار کی سینئر لیڈر شپ کی رضامندی کو ثابت کرنے والے تمام دستاویزی ثبوت دیش اور عدالت کے سامنے ہیں۔اے راجہ کے فیصلوں سے جو محصول کو نقصان ہوا اس کے بارے میں پہلے اگر قانونی طور پرثابت ہوجاتا تو پھر وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خزانہ اس نقصان کی درپردہ ذمہ داری سے بچ سکیں۔ لائسنس لینے والی ایک کمپنی ایئر ٹیل کی ایک چٹھی سرکار کے لئے مصیبت بنے گی۔ وزیر اعظم کو معلوم تھا کہ کمپنیاں ٹوجی اسپیکٹرم کی اونچی قیمت دینے کو تیار تھیں۔ نومبر 2007 میں سیدھی منموہن سنگھ کو لکھی چٹھی میں ایئرٹیل نے اسپیکٹرم کے لئے 6 ہزار کروڑ روپے دینے کی پیشکش کی تھی۔ کمپنی نے بعد میں اسے بڑھا کر13752 کروڑ روپے تک کردیا تھا۔ بازار میں ان اشاروں کے باوجود راجہ نے اسپیکٹرم کو کم قیمت پر فروخت کردیا اور پی ایم او اس فیصلے میں راجہ کے ساتھ کھڑا رہا۔ اسپیکٹرم میں کل کتنا خسارہ ہوا یا گھوٹالہ ہوا اس نقصان کے اندازہ میں کیگ نے ایئر ٹیل کی چٹھی میں مجوزہ قیمت کو ہی اہمیت اشو بنایا ہے۔ راجہ کے فیصلے سے وزیر اعظم اور اس وقت کے وزیر خزانہ کی بے توجہی کی دلیل سامنے آگئی۔ راجہ کے فیصلوں سے بدعنوانی تو صاف ہے البتہ اس فیصلے سے محصول کو نقصان کی دلیل ابھی تنازعات میں ہے۔ کیگ 1 لاکھ76 ہزار کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ لگا چکی ہے جس کو سرکار نے مسترد کردیا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں تازہ جانکاری کے بعد یہ ثابت کرنے کی آخری کوشش ہوگی کہ 2001 کی قیمتوں پر2008 میں اسپیکٹرم بیچنے سے خزانے کو کوئی نقصان نہیں ہوا تھا۔ یہ ہی آخری راستہ ہے جس سے بدعنوانی کا ٹھیکرا اے راجہ کے سر پھوٹے گا اور سرکار کی لیڈر شپ دیش کا نقصان کرنے کے الزام سے بچ سکے گی۔ ویسے سی بی آئی نے اے راجہ پر کرپشن کا جو مقدمہ چلایا اس میں یہ درج ہے کہ وزیر مواصلات کے فیصلوں سے دیش کو قریب 30 ہزار کروڑروپے کا نقصان ہوا۔ سی بی آئی کو سابق وزیر مواصلات یا بے ضابطگی پر مقدمے کے لئے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ راجہ کے فیصلے سے خزانے کو بھاری چپت لگی ہے۔ اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر لگی ہیں ۔دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ آج وزیر داخلہ پی چدمبرم کی اسپیکٹرم میں کردار کی جانچ کو لیکر کیا فیصلہ لیتی ہے۔ یوپی اے اور کانگریس ایک ناگزیں بحران میں پھنس گئی ہیں۔ جس کا فی الحال توکوئی توڑ نہیں نکل پارہا ہے۔ کانگریس صرف اس بات سے فکر مند نہیں چدمبرم پر حملہ کیا جارہا ہے بلکہ اس کی اصلی پریشانی بھاجپا کی وزیر اعظم کو لپیٹنے کی اسکیم سے ہے۔ اگر بھاجپا ایک بار پھر چدمبرم کے خلاف جانچ شروع کرانے میں کامیاب ہوگئی تو اس جانچ کی آنچ اپنے آپ وزیر اعظم تک پہنچ جائے گی۔منگلوارکو سپریم کورٹ میں اس معاملے کی سماعت ہوئی ہے۔ لیکن تازہ اطلاع کے مطابق یہ معاملہ آج تک یعنی بدھوار تک کے لئے ملتوی ہوگیا ہے۔ دیکھیں عدالت میں آج کیا ہوتا ہے؟
2G, A Raja, Anil Narendra, CAG, Corruption, Daily Pratap, Manmohan Singh, P. Chidambaram, Pranab Mukherjee, Prime Minister, Scams, Supreme Court, Vir Arjun
30 اگست 2011
انا کی تحریک! سنسد میں نوجوان برگیڈچھائی رہی
Published On 31st August 2011
انل نریندر
سنیچر کو لوک سبھا میں جب انا کی تین شرطوں پر بحث چل رہی تھی تو ایک بات
خاص طور پر سامنے آئی۔ وہ یہ تھی کہ دونوں کانگریس اور بھاجپا نے اپنی
نوجوان پیڑھی کو آگے کرکے انہیں بولنے کا اور اپنی بات رکھنے کا موقعہ دیا۔
وہ اتنی اہم بحث میں اپنا ہنر دکھا سکیں۔ کانگریس کے نوجوان ممبر پارلیمنٹ
سندیپ دیکشت اپنی والدہ محترمہ شیلا دیکشت کی چھایا سے بھی باہر نکل آئے۔
انہوں نے اپنے دم خم پر آگے بڑھنے کا جو فیصلہ کیا وہ لائق تحسین ہے۔ سندیپ
دیکشت نے نہ صرف اپنی پارٹی میں اپنا قد بڑھایا ہے بلکہ اپوزیشن نے بھی
کئی بار ان کی دلیلوں سے اتفاق ظاہر کیا۔ جب انا کو گرفتار کیا گیا تھا تو
سندیپ پہلے ممبر پارلیمنٹ تھے جنہوں نے کھلے طور پر کہا تھا یہ غلط ہوا ہے۔
پہلے دن سے ہی وہ صلاح صفائی میں لگ گئے تھے۔ جب ایتوار کو ولاس راؤ
دیشمکھ وزیر اعظم کا خط لیکر رام لیلا میدان پہنچے تو ان کے ساتھ پارٹی اور
حکومت نے سندیپ دیکشت کو بھیج کر یہ واضح کردیا کہ اب ان پر کتنا بھروسہ
ہے۔ سندیپ دیکشت کے تئیں سب کی نظروں میں عزت بڑھی ہے اور یہ ان کے آگے کام
آئے گی۔ ادھر ورون گاندھی کو اتارنے کے پیچھے بھاجپا کا خاص مقصد یہ ثابت
کرنا تھا کہ ان کا گاندھی انا ہزارے کی تحریک اور عوامی جذبے کے زیادہ قریب
ہے۔ اس سے پہلے ورون گاندھی نے ٹیم انا کے عوامی لوکپال کو بطور پرائیویٹ
ممبر بل لوک سبھا میں لانے کی کوشش کی تھی۔ وہ رام لیلا میدان بھی گئے تھے۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ ورون گاندھی نے سشما سوراج کے ساتھ پارٹی کے دوسرے
مقرر کے طور پر بحث کی دفعہ کے برعکس بیان دے ڈالا۔ جہاں سبھی مقررین نے
بار بار پارلیمنٹ کی سرداری اور پارلیمانی جمہوریت کی اپیل دوہرائی وہیں
ورون گاندھی نے ٹیم انا کے نمائندوں کی زبان بولتے ہوئے کہا کہ بیشک قانون
پارلیمنٹ میں بنتے ہیں اور ممبران پارلیمنٹ کا مخصوص اختیار ہے مگر عوام
بالاتر ہے۔ اس سے پہلے ایوان میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے اپوزیشن کی
لیڈرمحترمہ سشما سوراج نے جمعہ کے روز راہل گاندھی کی تقریر پر سخت اعتراض
کیا۔ ان کا الزام تھا کہ راہل گاندھی نے جو کہا اس سے انا ہزارے کا انشن
ختم کرنے کیلئے پارلیمنٹ کی اپیل کے لئے کئے کرائے پر پانی پھر گیا ہے۔
کانگریس کے دوسرے مقررین تھے نوجوان وزیر جوترادتیہ سندیہ۔انہوں نے سول سوسائٹی کو اہمیت دینے کیلئے سونیا گاندھی کو سہرہ دیا ہے۔ اور ان کوششوں میں بھاجپا کے کردارپر بھی سوال اٹھایا۔ راشٹریہ لوک دل کی جانب سے متھرا کے ممبر پارلیمنٹ جینت چودھری نے اپنی بات رکھی۔ انہوں نے ٹیم انا کے تمام مطالبات کی حمایت کی ہے۔ اس سے کئی دیگر پارٹیوں کے نوجوان ممبران پارلیمنٹ میں بھی جوش پیدا ہوگیا۔ انہوں نے بھی اسپیکر صاحبہ سے موقعہ دینے کیلئے پرزور درخواست کی تھی۔ ان میں سپا کے نیرج شیکھر و دھرمیندر یادو اور بسپا کے دھننجے سنگھ قابل ذکر ہیں۔ پروین سنگھ سرن نے اناکا جن لوکپال بل پارلیمنٹ کی اسٹیڈنگ کمیٹی کے سامنے پیش کیا۔ پریہ دت، سنجے نروپم، ملند دیوڑا، سچن پائلٹ وغیرہ نوجوان ممبران نے انا کی حمایت کی اور حکومت اور پارٹی پر دباؤ بنایا۔ کل ملاکر انا کی تحریک پر پارلیمنٹ میں ہوئی بحث میں نوجوان برگیڈ ہی چھائی رہی۔
15 جولائی 2011
کیبنٹ ردوبدل : پرانی بوتل میں نئی شراب
آخر کار وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنی کیبنٹ میں کافی دیر انتظار کرا کر ردوبدل کر ہی دی ہے۔ وزیر اعظم نے اسے اپنی وزارتی کونسل کی آخری ردوبدل اعلان کرکے اس کی پائیداری کا اشارہ تو دے دیا لیکن دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ وہی پرانی بوتل میں نئی شراب ڈالنے کے برابر ہے۔ کھودا پہاڑ اور نکلی چوہیا ثابت ہوا ہے۔ چاروں طرف سے گھری منموہن سرکار سے امید کی جاتی تھی کہ وہ ایسی ردو بدل کریں گے جس سے آنے والے دنوں میں اس حکومت کی گرتی ساکھ اور بھروسے پر لگام لگے۔ امید تو یہ بھی کی جاتی تھی کہ اہم وزارتوں میں بھی ضروری تبدیلی کرنے کی ہمت دکھائیں گے۔جس سے منہ پھاڑتے مسائل سے نمٹنے کیلئے عزم نظر آئے۔ لیکن وزیر اعظم پھر لاچار سیاستداں و ریمورٹ سے چلنے والے وزیر اعظم ثابت ہوئے ہیں۔ نہ تو وزیر مالیات بدل سکے اور نہ ہی وزیر داخلہ۔ ہاں کچھ نئے نوجوان چہروں کوکیبنٹ میں ضرور شامل کیا گیا ہے جس میں راہل گاندھی کا بڑھتا اثر صاف جھلکتا ہے۔ ماحولیات وزارت سے جے رام رمیش کا تبادلہ صاف اشارہ کرتا ہے یہ حکومت محض صنعت کاروں کوخوش کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ جے رام رمیش کو دیہی ترقی وزارت دے کر اپنا سیاسی فائدہ دیکھ رہی منموہن سرکار کو ویدانتا ، کوسکو اور لواسا سمیت ماحولیات سے وابستہ تمام معاملوں میں بڑھتے کارپوریٹ ورلڈ کی مداخلت پر لگام لگانے والے وزیر کو ہٹانے کا جواب دینا پڑ سکتا ہے۔ کیبنٹ ردوبدل نے وزیر اعظم کے اتحاد کی اس سیاسی مجبوری کو بھی اجاگر کیا ہے جس کا ذکر انہوں نے مدیروں کے ساتھ کیا تھا۔ ڈی ایم کے کیلئے دو وزارت کے عہدے محفوظ رکھنے کے اتحادی دھرم بتا رہے منموہن سنگھ نے دراصل اسی اتحادی دھرم کا ثبوت دیا ہے۔ جیسے ممتا کے دباؤ میں ریل وزارت انہی کے نمائندے کو دے دی گئی ہے۔ بیشک وہ اس وزارت کے قابل ہوں یا نہ ہوں۔ وزیر اعظم کی یہ کیبنٹ ردوبدل محض سیاسی ضرورت کے حساب سے کچھ خالی جگہ بھرنے کی ایک کوشش کا آئینہ بن کر رہ گئی ہے۔ اس کا صاف سندیش تو یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم پر سونیا گاندھی کی بالادستی اور درمیانے طبقے کی سیاست بھاری پڑی۔ اس لئے وزارت داخلہ ،مالیات ، ڈیفنس اور خارجہ سمیت تمام بڑے محکمو ں میں ادھر ادھر کرنے کی وزیر اعظم کی چاہت کانگریس کے سیاسی کردار کے بیریئر کو توڑ نہیں پائی۔ اگر بینی پرساد ورما کو کیبنٹ سطح اور راجیو شکلا کو اس لئے شامل کیا گیا ہے کہ اتر پردیش میں اسمبلی چناؤ ہونے والے ہیں تو پنجاب کا کوئی نمائندہ کیوں نہیں لیا گیا۔ کیونکہ چناؤ تو پنجاب میں بھی ہونے والے ہیں۔ ویرپا موئلی کو وزارت قانون سے ہٹا نے کے پیچھے ان کی اپنی ذمہ داریوں کی صحیح طرح سے تکمیل نہ رہی ہے۔ کیا سرکار یہ چاہتی تھی کہ موئلی اس کے سارے غلط کاموں کا بچاؤ کرتے؟ اگر یہ وزیر اعظم کی کیبنٹ میں آخری ردوبدل ہے جیسا کہ انہوں نے خود کہا ہے تو اس کی امید کم ہی ہے کہ سرکار کا چال چلن بدلے گا اور کچھ بہتر ہونے کی امید رکھی جائے۔ اس ردوبدل کے ذریعے کوئی مثبت پیغام دینے کی کوشش کررہی ہے۔ مرکزی اقتدار کے لئے سب کچھ نہیں ہوسکتا ۔ دو نیتا تو وزارت میں حلف لینے نہیں پہنچے اور باقی میں ناراضگی کا لاوا پھوٹ گیا ہے۔ اس لیپا پوتی سے پتہ نہیں یوپی اے سرکار اور کانگریس پارٹی کو کتنا فائدہ ہوگا؟
Tags: Anil Narendra, Cabinet, Daily Pratap, Manmohan Singh, Prime Minister, Sonia Gandhi, UPA, Vir Arjun
26 جون 2011
راہل کی تاجپوشی کی جلدی کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟
کانگریس کے اندر گھمسان جاری ہے۔ پارٹی کا ایک طبقہ جو کافی بڑا ہے ، کا خیال ہے کہ راہل گاندھی کو جلد سے جلد وزیر اعظم بنایا جائے۔ اگر راہل اس کے لئے تیار نہ ہوں تو انہیں پارٹی کی خاطر، دیش کی خاطر منایا جائے۔ سونیا گاندھی کے دباؤ میں بھلے ہی دگوجے سنگھ کو راہل گاندھی کے وزیر اعظم بننے والے اپنے بیان سے پیچھے ہٹنا پڑا ہو لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پارٹی اب ڈاکٹر منموہن سنگھ کو ہٹانا نہیں چاہتی۔ کانگریس کے ترجمان جینتی نٹراجن کو بھی یہ صفائی دینی پڑی ہے کہ راہل مستقبل کے لیڈر ہیں اور منموہن سنگھ ہمارے وزیر اعظم ہیں۔ راہل کب وزیر اعظم بنیں گے یہ فیصلہ پارٹی اور خود راہل کو کرنا ہے۔ لیکن سونیا راہل کے وفادار کانگریسی لیڈروں کے درمیان راہل کی تاجپوشی کے وقت کو لیکر منتھن جاری ہے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اترپردیش کے انتخابات کے نتیجے کے بعد اس پر فیصلہ کردیا جائے جبکہ کچھ کا کہنا ہے اترپردیش کے نتیجے پارٹی کے حق میں نہ آئے تو راہل گاندھی کی تاجپوشی مشکل ہوجائے گی اور پھر 2014ء کا چناؤ بھی منموہن سنگھ کی موجودہ حکومت کی رہنمائی میں ہی لڑنا ہوگا۔ ابھی جس طرح کے حالات ہیں اس سے2014ء کا چناؤ سنگرام جیتنا بہت مشکل ہوگا اور تب راہل کے لئے دلی دور است والا جملہ ہی صحیح ثابت ہوجائے گا۔ اس لئے اگر راہل کو لانا ہے تو جلدی ہی لانا ہوگا۔
دراصل کانگریس اعلی کمان کے ہاتھ پیر 2009-11 کے درمیان تقریباً20 لاکھ کروڑ کے مبینہ مہا گھوٹالوں سے پھول گئے ہیں۔ زیادہ تر جائزوں میں کانگریس، یوپی اے سرکار کو سب سے بدعنوان ترین مانا ہے۔ ٹرانسپیرینسی انٹر نیشنل نے بھی بدعنوان ملکوں کی فہرست میں بھارت کا مقام آگے آنے کا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ نتیجتاً کانگریس کی مقبولیت کا گراف دو برسوں میں سانپ سیڑھی کے کھیل کی طرح آسمان سے زمین پر آگیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج بھی اتنا کچھ ہونے کے باوجود ڈاکٹر منموہن سنگھ کی شخصی طور پر ساکھ صاف ہے لیکن ڈاکٹر سنگھ بدعنوانی کے الزامات سے تار تار سرکار کی قیادت کررہے ہیں۔ گذشتہ ایک برس میں وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے تین موقعوں پر دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ ریٹائرڈ نہیں ہورہے ہیں، وہ استعفیٰ بھی نہیں دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں ابھی ادھورے کام کرنے ہیں۔ سیاسی طور سے ان پیچیدہ حالات میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کو ہٹانے پر پارٹی میں مہابھارت کو ٹالا نہیں جاسکتا۔
راہل کو سرکار کی کمان سونپنے کے پیچھے ایک دلیل یہ بھی دی جارہی ہے کہ اگر راہل وزیر اعظم بنتے ہیں تو ان کی لیڈر شپ میں لوک پال قانون بنا کر اس کی جانچ کے دائرے میں کچھ شرطوں کے ساتھ وزیر اعظم کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے وزیر اعظم رہتے پردھان منتری کو لوک پال بل میں شامل کرنا خطرے بھرا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ کئی گھوٹالوں میں سیدھے سیدھے پی ایم او جانچ کے دائرے میں آرہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی راہل کی لیڈر شپ میں زمین تحویل ترمیم بل پاس کراکر کسانوں کی ہمدردی اسی طرح اور سرکار کے ساتھ کی جاسکتی ہے جیسے کسانوں کے قرضے معاف کرکے یوپی اے سرکار نے حاصل کی تھی۔’ راہل لاؤ‘ مہم کے حمایتیوں کی دوسری مضبوط دلیل یہ ہے کہ راہل گاندھی کے وزیر اعظم بننے کا سب سے بڑا فائدہ اترپردیش میں ہوگا جہاں نہ صرف کانگریس ورکروں میں جان آجائے گی بلکہ اترپردیش میں پارٹی کی جیت کے آثار بھی بڑھ جائیں گے۔ ساتھ ہی اتراکھنڈ اور پنجاب اسمبلی انتخابات میں بھی پارٹی بہتر مظاہرہ کر سکے گی جو راہل کی تاجپوشی کے کھاتے میں چلی جائے گی۔ اس سے نہ صرف کانگریس کے خلاف چلنے والی مہم کی دھار کچھ ہلکی پڑے گی بلکہ اس کے بعد گجرات ہماچل پردیش کے انتخابات اور 2013 میں ہونے والے دہلی،راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات اور 2014 ء کے لوک سبھا انتخابات کے لئے بھی پارٹی کو تقویت ملے گی۔ اس کے علاوہ سونیا راہل کے وفادار کانگریس لیڈر اس لئے بھی راہل کی تاجپوشی جلدی چاہتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ کس طرح پچھلے ایک سال سے یوپی اے سرکار اور کانگریس کے خلاف جو مہم چل رہی ہے اس کے نشانے پر سب سے زیادہ سونیا اور راہل ہی ہیں۔ اس کے خلاف عام جنتا میں راہل کو اس وقت وزیر اعظم بنانے پر غیر رضامندی نظر آتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق71 فیصدی لوگوں نے صاف کہا ہے کہ راہل کو صرف اس لئے وزیر اعظم بنانے کی مہم چل رہی ہے کیونکہ وہ نہرو گاندھی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ ان میں وہ قابلیت، تجربہ نہیں ہے جو اس وقت دیش کے وزیر اعظم کو ہونا چاہئے۔ موٹے الفاظ میں ان کی رائے میں راہل گاندھی پرائم منسٹر میٹریل کے نہیں ہیں۔ صرف 27 فیصدی لوگ مانتے ہیں کہ راہل نوجوان طاقت، امید کی علامت ہیں۔ اور دیش کو ایسی لیڈر شپ کی سخت ضرورت ہے۔ فیس بک پر بھی 65 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ راہل وزیر اعظم بننے کے لئے ابھی تیار نہیں ہیں۔ نہ وہ خود بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی ان میں اتنی صلاحیت ہے۔
دراصل کانگریس اعلی کمان کے ہاتھ پیر 2009-11 کے درمیان تقریباً20 لاکھ کروڑ کے مبینہ مہا گھوٹالوں سے پھول گئے ہیں۔ زیادہ تر جائزوں میں کانگریس، یوپی اے سرکار کو سب سے بدعنوان ترین مانا ہے۔ ٹرانسپیرینسی انٹر نیشنل نے بھی بدعنوان ملکوں کی فہرست میں بھارت کا مقام آگے آنے کا سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ نتیجتاً کانگریس کی مقبولیت کا گراف دو برسوں میں سانپ سیڑھی کے کھیل کی طرح آسمان سے زمین پر آگیا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج بھی اتنا کچھ ہونے کے باوجود ڈاکٹر منموہن سنگھ کی شخصی طور پر ساکھ صاف ہے لیکن ڈاکٹر سنگھ بدعنوانی کے الزامات سے تار تار سرکار کی قیادت کررہے ہیں۔ گذشتہ ایک برس میں وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے تین موقعوں پر دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ ریٹائرڈ نہیں ہورہے ہیں، وہ استعفیٰ بھی نہیں دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں ابھی ادھورے کام کرنے ہیں۔ سیاسی طور سے ان پیچیدہ حالات میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کو ہٹانے پر پارٹی میں مہابھارت کو ٹالا نہیں جاسکتا۔
راہل کو سرکار کی کمان سونپنے کے پیچھے ایک دلیل یہ بھی دی جارہی ہے کہ اگر راہل وزیر اعظم بنتے ہیں تو ان کی لیڈر شپ میں لوک پال قانون بنا کر اس کی جانچ کے دائرے میں کچھ شرطوں کے ساتھ وزیر اعظم کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے وزیر اعظم رہتے پردھان منتری کو لوک پال بل میں شامل کرنا خطرے بھرا ہوسکتا ہے۔ کیونکہ کئی گھوٹالوں میں سیدھے سیدھے پی ایم او جانچ کے دائرے میں آرہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی راہل کی لیڈر شپ میں زمین تحویل ترمیم بل پاس کراکر کسانوں کی ہمدردی اسی طرح اور سرکار کے ساتھ کی جاسکتی ہے جیسے کسانوں کے قرضے معاف کرکے یوپی اے سرکار نے حاصل کی تھی۔’ راہل لاؤ‘ مہم کے حمایتیوں کی دوسری مضبوط دلیل یہ ہے کہ راہل گاندھی کے وزیر اعظم بننے کا سب سے بڑا فائدہ اترپردیش میں ہوگا جہاں نہ صرف کانگریس ورکروں میں جان آجائے گی بلکہ اترپردیش میں پارٹی کی جیت کے آثار بھی بڑھ جائیں گے۔ ساتھ ہی اتراکھنڈ اور پنجاب اسمبلی انتخابات میں بھی پارٹی بہتر مظاہرہ کر سکے گی جو راہل کی تاجپوشی کے کھاتے میں چلی جائے گی۔ اس سے نہ صرف کانگریس کے خلاف چلنے والی مہم کی دھار کچھ ہلکی پڑے گی بلکہ اس کے بعد گجرات ہماچل پردیش کے انتخابات اور 2013 میں ہونے والے دہلی،راجستھان، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اسمبلی انتخابات اور 2014 ء کے لوک سبھا انتخابات کے لئے بھی پارٹی کو تقویت ملے گی۔ اس کے علاوہ سونیا راہل کے وفادار کانگریس لیڈر اس لئے بھی راہل کی تاجپوشی جلدی چاہتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ کس طرح پچھلے ایک سال سے یوپی اے سرکار اور کانگریس کے خلاف جو مہم چل رہی ہے اس کے نشانے پر سب سے زیادہ سونیا اور راہل ہی ہیں۔ اس کے خلاف عام جنتا میں راہل کو اس وقت وزیر اعظم بنانے پر غیر رضامندی نظر آتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق71 فیصدی لوگوں نے صاف کہا ہے کہ راہل کو صرف اس لئے وزیر اعظم بنانے کی مہم چل رہی ہے کیونکہ وہ نہرو گاندھی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ ان میں وہ قابلیت، تجربہ نہیں ہے جو اس وقت دیش کے وزیر اعظم کو ہونا چاہئے۔ موٹے الفاظ میں ان کی رائے میں راہل گاندھی پرائم منسٹر میٹریل کے نہیں ہیں۔ صرف 27 فیصدی لوگ مانتے ہیں کہ راہل نوجوان طاقت، امید کی علامت ہیں۔ اور دیش کو ایسی لیڈر شپ کی سخت ضرورت ہے۔ فیس بک پر بھی 65 فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ راہل وزیر اعظم بننے کے لئے ابھی تیار نہیں ہیں۔ نہ وہ خود بننا چاہتے ہیں اور نہ ہی ان میں اتنی صلاحیت ہے۔
Tags: Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Digvijay Singh, Manmohan Singh, Prime Minister, Rahul Gandhi, Transparency International, Uttar Pradesh, Vir Arjun
سبسکرائب کریں در:
اشاعتیں (Atom)
پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل
جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...
-
سرخیوں میں چھائے سہراب الدین شیخ عشرت جہاں معاملہ میں پھنسے گجرات کے آئی پی ایس افسر ڈی جی ونجارا 8 سال کے بعد جمعہ کو اپنی آبائی ریاست گج...
-
کئی دنوں کی قیاس آرائیوں کے بعد آخر کار بھارتیہ جنتا پارٹی نے اپنے پانچ نئے پارٹی ریاستی صدور کے ناموں کا اعلان کردیا ہے۔ نو تقرر ریاستی ص...
-
ریت مافیہ کے خلاف مہم چلانے والے ایماندار آئی اے ایس افسر ڈی ۔کے۔ روی کی موت کی گونج کرناٹک اسمبلی سے سڑک تک سنائی دے رہی ہے۔ اپوزیشن پا...

