Translater

FDI in Retail لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
FDI in Retail لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

08 دسمبر 2011

ایف ڈی آئی پر رول بیک یا ہولڈ بیک پوزیشن واضح نہیں



Published On 8th December 2011
انل نریندر
ایف ڈی آئی پر سرکار کی پوزیشن ابھی تک صاف نہیں ہے۔ دراصل منموہن سنگھ سرکار کی نیت صاف نہیں لگتی۔ پہلے تو ممتا بنرجی سے کہہ دیا کہ آپ اس کوروکنے کا اعلان کردو لیکن جب اپوزیشن اس بات پر اڑ گئی کہ سرکار کو اعلان کرنا چاہئے تاکہ ایک اتحادی پارٹی کو تو وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے لوک سبھا میں اپوزیشن کی لیڈر سشما سوراج، بھاجپا کے سینئر لیڈر ایل کے اڈوانی، مارکسی ایم پی سیتا رام یچوری سمیت اپوزیشن کے لیڈروں سے تبادلہ خیال کر بتایا کہ ملٹی برانڈ ریٹیل میں 51 فیصدی ایف ڈی آئی کا فیصلہ روک لیا گیا ہے۔
سبھی پارٹیوں کے اتفاق رائے کے بعد ہی اس پر آخری فیصلہ کیا جائے گا لیکن تازہ خبر ہے کہ بدھوار کو ہوئی آل پارٹی میٹنگ میں اس پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ یعنی کل ملاکر سرکار نے اسے واپس لیا ہے یا اسے ٹالے رکھا ہے۔ ارون جیٹلی نے منگلوار کو کہا بھاجپا کو ایف ڈی آئی کے مسئلے پر رول بیک پر کوئی ڈھیل نہیں دی جائے گی۔ جیٹلی نے کہا ایف ڈی آئی سے کسانوں ،چھوٹے دوکانداروں اور عام لوگوں کے مفادات پر صرف غیر ملکی کمپنیوں کو ہی فائدہ ہوگا۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا بی جے پی اصلاحات کے حق میں ہے لیکن ایسی اصلاحات نہیں چاہئے جس میں مفادات کو نظر انداز کیا جائے۔ اس پرستاؤ کے پیچھے غیر ملکی دباؤ لگ رہا ہے اور ہم کسی بھی صورت میں اس کی حمایت نہیں کریں گے کیونکہ اس سے بھارت کے بازار چین میں بنے سستے سامان سے لد جائیں گے۔ ادھر سی پی ایم نے کہا کہ فیصلہ روکنے سے کوئی حل نہیں نکلے گا۔ پارٹی تب تک اس کی مخالفت کرتی رہے گی جب تک اسے واپس نہیں لیا جائے گا۔ مارکسوادی جنرل سکریٹری پرکاش کرات نے ایک پریس کانفرنس میں کہا سرکار کی منشا پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے بعد اسے لاگو کرنے کی ہے لیکن اسے پورا نہیں ہونے دیا جائے گا۔ سرکار پہلے اس ریزولوشن کو منسوخ کرے تبھی پارلیمنٹ چل پائے گی۔
ایف ڈی آئی کا پرستاؤ ہولڈ ہو یا بولڈ دونوں ہی صورت میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی یہ شخصی ہار ہے اور وہ ایک بار پھر بری طرح سے بے نقاب ہوگئے ہیں۔ اپنے اتنے برسوں کے عہد میں بطور وزیر اعظم منموہن سنگھ صرف دو مسئلوں پر اپنا سب کچھ داؤ پر لگا چکے ہیں پہلا تھا امریکہ سے نیوکلیائی سمجھوتہ، دوسرا یہ ایف ڈی آئی کا ریزولوشن ۔ وزیر اعظم بار بار کہتے رہے ہیں کہ یہ تجویز کسی بھی حالت میں واپس نہیں ہوگی۔
اگر ایسا ہوا تو سرکار کی ساکھ پر دھبہ لگے گا۔ سیاسی حلقوں میں یہ عام اشارہ دیا جارہا ہے کہ منموہن سنگھ سرکار نے ریٹیل میں ایف ڈی آئی کا فیصلہ امریکی دباؤ میں لیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتیہ ملٹی نیشنل لابی اسی مسئلے پر کام کررہی ہے تاکہ چالاکی سے چال کو عملی جامہ پہنایا جاسکے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں وزیر تجارت آنند شرما اس معاملے کو لاگو کرنے کے لئے ایک ایسی طاقت کی شکل میں کام کررہے ہیں جس کا اس معاملے پر ایک خاص لابی سے رشتہ ہے۔ ایف ڈی آئی پر کیبنٹ کے فیصلے کے اعلان کرنے کے فوراً بعد چنئی روانہ ہوگئے انہوں نے اپنے اسٹاف کو ایک خاص ملٹی نیشنل کمپنی سے رابطہ قائم کرنے کو کہا ہے۔اور ساتھ ہی اس فیصلے کی حمایت میں کسانوں کا رد عمل جاننے کے لئے ایک پروگرام منعقد کرنے کو بھی کہا ہے۔یہ سب اس وقت پتہ چلا جب ایک ٹی وی چینل نے اگلے ہی دن پنجاب کے کچھ کسانوں کی باتیں دکھائیں جو اس فیصلے کو لیکر اپنی خوشی ظاہر کررہے تھے۔ ان کسانوں نے سبزیوں کے دام مارکیٹ کی بہ نسبت زیادہ ملنے کے لئے ملٹی نیشنل کمپنیوں کی تعریف بھی کی تھی۔جنتا میں یہ پیغام جارہا ہے کہ منموہن سنگھ اور ان کے وزیر امریکہ اور ہندوستانی صنعتکاروں کے لئے کام کررہے ہیں۔وہ ان کے مفادات کو دیش کے جنتا کے مفادات سے اوپر دیکھ رہے ہیں۔ دیکھنا اب یہ ہے کہ اس مسئلے پر منموہن سنگھ کیا آخری فیصلہ کیا ہوتا ہے۔ رول بیک یا ہولڈ بیک۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, FDI in Retail, UPA, Congress, Pranab Mukherjee, Mamta Banerjee,

کیا ایران نے امریکہ کے جدید ڈرون جہاز کو مار گرایا ہے؟



Published On 8th December 2011
انل نریندر
کیا ایران نے امریکہ کے سب سے جدید بغیر پائلٹ جہاز آر کیو170 ڈرون کو مار گرایا ہے۔ایران نے ایتوار کو دعوی کیا تھا کہ اس نے امریکہ کے اس جہاز کو مشرقی حصے میں مار گرایا ہے۔ نیویارک ٹائمس کے مطابق امریکی خفیہ جہازوں کے بیڑے میں آر کیو170 سب سے جدید تکنیک والا جنگی جہاز ہے۔
اخبار لکھتا ہے کہ ان جنگی جہازوں کی تعیناتی حال ہی میں کی گئی تھی اور اس نے ہی ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کے اوپر سے پرواز کی شروعات کی تھی لیکن پاکستان کا ایئرڈیفنس سسٹم اسے پکڑ نہیں پایا تھا۔ یعنی پاکستانی راڈار اس کا پتہ نہیں کرسکے۔امریکہ کو اب یہ پریشانی ستا رہی ہے کہ ایران امریکی تکنیک تک جزوی پہنچ بنانے میں اہل ہوگیا ہے۔ امریکہ کو اس بات کا ڈر ہے کہ اس کے انتہائی جدید ڈرون جہاز میں لگے آلات کا ایران کو پتہ چل جائے گا۔ اس میں کیا تکنیک اپنائی گئی ہے اس کی ایران کو جانکاری ہوجائے گی۔ حالانکہ ابھی تک ایرانی حکومت نے اس گرائے گئے جہاز کی کوئی تصویر جاری نہیں کی ہے۔ غیر مصدقہ خبروں کا دعوی ہے کہ ایک سائبر اٹیک کی وجہ سے یہ جہاز گرایا گیا۔ اس کا کیا مطلب ہوسکتا ہے یہ سمجھ میں نہیں آیا۔ ہوسکتا ہے آنے والے دنوں میں اس کا پتہ چلے۔ دوسری طرف امریکی افسر اب بھی ماننے کو تیار نہیں کہ اس ڈرون جہاز کو ایران گرانے میں اہل ہے۔ امریکی ڈیفنس محکمہ پینٹاگان کے ایک افسر نے کہا کہ ہمارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اس جہاز کو دشمن نے مار گرایا ہے۔ لیکن اگر ایران نے واقعی اسے مارگرایا ہے تو یہ ایک معمولی بات نہیں ہے۔ اور امریکہ کے ڈیفنس محکمے کے لئے بھاری جھٹکا ہے۔
اہم سوال یہ ہے کہ ایران اتنا اہل ہوگیا ہے کہ وہ امریکی تکنیک کابھی پتہ لگا سکے؟نیویارک ٹائمس کے مطابق امریکی خفیہ جہازوں کے بیڑے میں آر کیو170 سب سے جدید تکنیک والا جہاز ہے۔ یہ وہی جہاز ہے جس نے اسامہ بن لادن کے ایبٹ آباد میں واقع اڈے کی نگرانی کی تھی بلکہ اسی کے ذریعے سے وائٹ ہاؤس میں صدر براک اوبامہ نے اپنے دفتر میں بیٹھ کر لادن کے خلاف نیوی سیلس کی ساری کارروائی دیکھی تھی۔
اسی جہاز میں ایسے جدید ترین ویڈیو کیمرے لگے ہوئے ہیں جو اسامہ کے براہ راست حالات پہنچا رہے تھے۔ ممکن ہے ایران کے خفیہ ایٹمی ٹھکانوں یا میزائلوں کی تلاشی کے مشن پر اس ڈرون کو لگایا گیا ہو حالانکہ امریکہ کی رہنمائی والی انٹر نیشنل سکیورٹی اسسٹنٹ فورس نے ایک بیان میں کہا کہ ایران جس ڈرون کا ذکر کررہا ہے وہ ایک امریکی چھان بین کرنے والا جہاز ہو سکتا ہے جو پچھلے ہفتے مغربی افغانستان سے اڑا تھا۔ آئی ایس اے ایف نے کہا کہ ڈرون جہاز کو چلانے والے اس پر سے کنٹرول کھو بیٹھے تھے۔ اس نے ڈرون جہاز یا اس کے کھونے کی وجہ کے بارے میں حالانکہ کچھ نہیں بتایا۔ اس جہاز کو ریموٹ کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ادھر امریکہ کے ایک دوسرے اخبار لاس اینجلس ٹائمس کے مطابق امریکی خفیہ حکام نے بتایا کہ پچھلے مہینے تہران کے قریب ایک فوجی ٹھکانے پر دھماکہ اور امریکہ ،اسرائیل اور دیگر ملکوں کے بھی خفیہ آپریشن کا حصہ تھا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, FDI in Retail, UPA, Congress, Pranab Mukherjee, Mamta Banerjee,

02 دسمبر 2011

پارلیمنٹ کا تعطل توڑنے کیلئے بیچ کا راستہ نکالنے میں حکومت ناکام


Published On 2nd December 2011
انل نریندر
خوردہ میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو لیکر کھڑے ہوئے واویلے سے نکلنے کے راستے کو لیکر منموہن سنگھ حکومت شش و پنج میں مبتلا ہے۔ سرکار کی جانب سے پھینکے گئے سارے پانسے بے اثر ثابت ہورہے ہیں۔ کانگریس کے اندر شروع ہوئی کھلی مخالفت میں بھی حکومت کے لئے مشکلیں بڑھا دی ہیں۔ پہلے مہنگائی، کرپشن اور اب ایف ڈی آئی کے مسئلے پر گھری منموہن حکومت اور کانگریس کو بحران سے نکالنے کے لئے ایک طرف کانگریس صدر سونیا گاندھی کھل کر میدان میں آگئی ہیں۔ وہیں دوسری طرف ایف ڈی آئی کو لیکر اپوزیشن کے حملوں کی دھار کو کند کرنے کے لئے اترپردیش کے ایم پی اور سونیا کے قریبی سنجے سنگھ نے اس مسئلے پر وزیر اعظم اور سونیا گاندھی سے دوبارہ سے نظرثانی کرکے کسانوں ، تاجروں اور صارفین کے مفادات کی سلامتی کے کوچ کے ساتھ ایف ڈی آئی لانے کی درخواست کی ہے۔ جہاں کیبنٹ کی میٹنگ میں اے کے انٹوٹی ، جے رام رمیش سمیت وزرا کی غیر رضامندی دنیا کے سامنے ظاہر ہوچکی ہے وہیں اب سلطانپور کے ایم پی سنجے سنگھ نے حکومت اور پارٹی کو اس پر دوبارہ سے غور کرنے کی اپیل کرکے اترپردیش میں پارٹی کے ڈیمیج کنٹرول کی پہل کروادی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے یوپی کے زیادہ تر لیڈروں اور ممبران پارلیمنٹ کی رائے ہے کہ راہل گاندھی کے دورہ کے بعد کانگریس کے حق میں ماحول کو لیکر ایف ڈی آئی کے فیصلے سے نقصان ہوسکتا ہے۔ اس لئے سنجے سنگھ نے پہل کرکے کانگریس کے خلاف بسپا، سپا، بھاجپا کے ذریعے پیدا کی جارہی عوامی ناراضگی کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ ممکن ہے سنجے سنگھ نے سونیا گاندھی کی پہل پر ہی یہ بیان دیا ہو تاکہ منموہن سنگھ کو سمجھ میں آجائے کہ ان کی ضد پارٹی پر بھاری پڑ سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے وزیر خزانہ اور کانگریس کے سنکٹ موچن پرنب مکھرجی بھاجپا کی شرن میں گئے تھے۔ انہوں نے بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی سے ملاقات کرکے کوئی بیچ کا راستہ نکالنے اور تعطل کو ختم کرانے کی اپیل کی تھی لیکن اس میں انہیں کوئی کامیابی نہیں ملی۔ بھاجپا نے بدھوار کو الزام لگایا کہ سرکار نے یہ فیصلہ امریکہ ، فرانس اور برطانیہ جیسے ملکوں کے دباؤ میں لیا ہے۔ اس نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ دنیا کی خوردہ کمپنیوں میں اس کے لئے کافی لابنگ کی ہے اور پیسہ بھی دیا ہے۔ بھاجپا نے کہا کہ سرکار پارلیمنٹ کی کارروائی چلانے کا راستہ ہموار کرنے کیلئے اپنے فیصلے کو واپس لے یا پھر کام کو ملتوی کرنے کے پرستاؤ کے تحت اس موضوع پر بحث کرانے کے پارلیمنٹ کے جذبے کو قبول کرے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے کہا ملٹی برانڈ خوردہ میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری یعنی ایف ڈی آئی کی اجازت دئے جانے کی سبھی پارٹیوں اور حکومت میں شامل اتحادی پارٹیوں نے بھی مخالفت کی ہے لیکن حکومت نے ملک کے مفاد کے خلاف ایک طرفہ طور سے پارلیمنٹ اجلاس کے دوران یہ فیصلہ لیا۔ انہوں نے کہا سرکار کو دو تجویزیں دی گئی ہیں یا تو وہ اس فیصلے کو واپس لے کر پارلیمنٹ کے کل مہنگائی، کالی کمائی پر بحث شروع کروائے ، یا پھر خوردہ سیکٹر میں ایف ڈی آئی پر تحریک التوا کے تحت بحث کرائے۔انہی حالات میں پارلیمنٹ چل سکتی ہے اس میں بیچ کا اب کوئی راستہ نہیں ہے۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Corruption, Daily Pratap, FDI in Retail, Inflation, Manmohan Singh, Murli Manohar Joshi, Sonia Gandhi, Vir Arjun

30 نومبر 2011

خوردہ میں ایف ڈی آئی کا فیصلہ سرکار کو ٹال دینا چاہئے



Published On 30th November 2011
انل نریندر
خوردہ بازار میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کی منظوری کا اشو منموہن سنگھ سرکار کے لئے بڑا سیاسی درد سر بن گیا ہے۔ پارلیمنٹ سے لیکر سڑکوں تک حکومت کوایف ڈی آئی کے معاملے پر سخت اختلاف کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ یوپی اے سرکار کے ملٹی برانڈ ریٹیل میں 51 فیصدی اور سنگل برانڈ ریٹیل میں 100 فیصدی کی اجازت دیکر کیبنٹ نے ایسی مصیبت مول لے لی ہے کہ کانگریس کے مخالفین تو ایک طرف سرکار کی کچھ اتحادی پارٹیاں بھی اس کے خلاف منظم ہوگئی ہیں۔ ہمیں تو یہ سمجھ میں نہیں آیا ایسے وقت میں جب یہ حکومت مہنگائی، بلیک منی اور بیرونی ممالک میں جمع پیسے کو واپس لانے ، جن لوک پال کے مسئلے سے گھری ہوئی تھی اسے بھی اسی وقت یہ ایف ڈی آئی کا مسئلہ لانا تھا؟ حکومت کی ٹائمنگ پر حیرانی ہورہی ہے۔ پہلے کرپشن، گھوٹالوں، مہنگائی کے مورچے پر یوپی اے سرکار کی ناکامیوں کا اثر اس کی رہنمائی کررہی کانگریس کی صحت پر بھی پڑنے لگا ہے۔ سرکار کے فیصلوں کے چلتے ایک کے بعد ایک نئی مشکل پیدا ہونے سے کانگریس پارٹی کے چہرے پر بھی بل پڑنے لگا ہے۔ پارٹی کے لئے سب سے بڑی پریشانی اگلے سال پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ہیں۔ پنجاب اور جھارکھنڈ میں تو اگلے دو تین مہینے میں چناؤ ہونے والے ہیں۔ اس کے بعد اترپردیش جیسے پردیش کے ملک کے سامنے سب سے بڑی ریاست کا چناؤ ہے۔ جس میں پارٹی کی ہار جیت پر سکریٹری جنرل راہل گاندھی کا سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔ ہمیں سمجھ میں نہیں آیا کہ وزیر اعظم نے یہ کیسے سوچ لیا کہ بغیر تیاری کے ہوم ورک کئے اتنے بڑے قدم کو اٹھایا جائے؟ اس لئے تعجب فیصلے پر نہیں بلکہ اس فیصلے کی ٹائمنگ پر ہے کہ مخالفین کی بارش کے بیچ سرکار نے ریٹیل کی پتنگ اڑانے کا جو خطرہ اٹھایا ہے ۔ بھارت کا منظم اور غیر منظم خوردہ کاروبار یقیناًبہت بڑا ہے۔ 2008-09 میں کل خوردہ بازار 17594 ارب روپے کا تھا۔2004-05 کے بعد سے اوسطاً 12 فیصدی سالانہ بڑھ رہا ہے۔ 2020ء تک 53517 ارب روپے کا ہونے کا امکان ہے۔ نبارڈ کی رپورٹ بتاتی ہے منظم ریٹیل قریب855 ارب روپے کا ہے۔ اس میں 200 فٹ کے چھوٹے اسٹور سے لیکر 25 ہزار فٹ تک کے ملٹی برانڈ ہائپر مارکیٹ(بگ بازار، اسپنسر، ایزی ڈے، ریلائنس ) وغیرہ آتے ہیں۔ خوردہ کاروبار میں تیزی سے پیداوار کے باوجود ریٹیل اس اربوں کے کاروبار میں پچھلی ایک دہائی میں صرف پانچ فیصدی حصہ لے پایا ہے۔ مگر اس پانچ فیصدی حصے نے قریب ایک کروڑ روزگار پیدا کئے ہیں جو2020ء تک بڑھ کر1.84 کروڑ ہوجائیں گے۔ خوردہ بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاری کمپنیوں کا خوف پرانا ہے۔ چھوٹے ملکوں میں چیزکوم، والمورٹ، ٹرانسکو وغیرہ جارحانہ طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ جیسے ریٹیل کے بڑے دوکانداروں کے اثر کی کہانیوں سے یہ ڈر اور بڑھ جاتا ہے کیونکہ منظم ریٹیل اگر صارفین کی سہولت اور بے کاروں کو روزگار کے پھول دیتا ہے تو بدلے میں غیر منظم اور چھوٹے تاجروں کے کاروبار کو کانٹوں میں گھیر لیتا ہے۔ بھارت کے معاملے میں اس خطرے کو کچھ حقائق کے تحت پرکھنے کی ضرورت ہے۔ بھارت میں کل ریٹیل کا قریب 61 فیصدی حصہ غذائی اجناس(اناج، دال، سبزی، چائے، کافی، انڈا، چکن، مسالے) خوردہ کاروبار کا حصہ ہیں۔ یہ قریب11 ہزار ارب روپے کا بیٹھتا ہے۔ اس کاروبار پر غیر منظم سیکٹر کا راج ہے۔ ریٹیل کو لیکر صارفین کے برتاؤ کو نبارڈ کے ایک تازہ سروے میں قریب سے پکڑا گیا ہے۔ دیش کے 23 شہروں میں مختلف عمر و نوجوان صارفین کے درمیان ہوا یہ سروے ظاہر کرتا ہے کہ میٹرو شہروں میں قریب 68 فیصدی اناج، دال، مسالے اور 80 سے90 فیصدی دال، سبزیاں، دودھ، گوشت، انڈے وغیرہ چھوٹی دوکانوں سے خریدے جاتے ہیں۔ دوسرے درجے کے شہروں میں یہ 79 فیصدی اور 92 سے98 فیصدی (پھل، سبزی ،دودھ )وغیرہ کے درمیان ہے یعنی ریلائنس، بگ بازار، اسپنسر، ای ڈی جے جیسے بڑی کمپنیوں غذائی اجناس کے معاملے میں صارفین کا دل نہیں جیت پائیں۔ غذائی اجناس کا کل کاروبار میں منظم ریٹیل دو فیصدی سے بھی کم ہے۔ نبارڈ کے سروے کے مطابق غیر منظم ڈیلر صارفین کے گھر سے اوسطاً280 میٹر کی دوری پر واقع ہیں جبکہ منظم سیکٹر کی دکانوں کی دوری اوسطاً ڈیڑھ کلو میٹر ہے۔منظم خوردہ سے مہنگائی گھٹے گی ایسا نہیں لگتا۔ بیشک کچھ ملکوں میں ایسا ہوا ہو لیکن ہمیں نہیں لگتا بھارت میں اس کا مہنگائی پر کوئی خاص اثر پڑنے والا ہے۔ زیادہ تر خوردہ سامان کی خرید مقامی منڈیوں ، تھوک تاجروں، ایجنٹوں کے ذریعے ہی ہوتی ہے اور یہاں قیمتیں کم کرنے کی خاص گنجائش نہیں ہوتی۔ اس لئے غذائی اجناس کے معاملے میں منظم و غیر منظم سیکٹر کی قیمتوں میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بھارتیہ صارفین کا 80 فیصدی استعمال خرچ اور اس خرچ پر بڑھتی مہنگائی کو ریٹیل انقلاب سے کوئی مدد نہیں ملنے والی ہے۔ کسانوں کو بھی اس کا کوئی بڑا فائدہ نہیں ہوا کیونکہ اسٹور اور سپلائی کا ڈھانچہ نہیں ہے۔
دیش کے درمیانے اور چھوٹے شہروں میں ریڑھی، ٹھیلہ لگانے، پھل سبزی بیچنے والے چھوٹے دوکاندار اور کسان اپنے مستقبل کو لیکر اگر فکر مند ہیں تو انہیں قصوروار نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ ماہرین کا کہنا ہے بھارت کے خوردہ کاروبار سے ساڑھے تین کروڑ لوگوں کو روزگار ملتا ہے ۔ اگر ایک خاندان میں پانچ افراد کو بھی بنیاد مانا جائے تو 18 کروڑ لوگ اس خوردہ کاروبار پر منحصر ہیں۔ سرکار کیلئے ان کا متبادل سسٹم ایک بہت بڑا سوال ہے۔ ان سوالوں کے باوجود منموہن سنگھ کی یوپی اے سرکار اپنے فیصلے پر اٹل ہے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس کے اندر اور باہر تلخ مخالفت کے باوجود وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر کانگریس کور گروپ کی میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا ہے کہ سرکار ایف ڈی آئی کے کیبنٹ کے فیصلے واپس نہیں لے گی۔ وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر ہوئی اس میٹنگ میں سونیا گاندھی، منموہن سنگھ، پرنب مکھرجی، آنند شرما، احمد پٹیل موجود تھے۔ سیاسی مخالفت کے چلتے ریٹیل میں غیر ملکی دوکانیں کھولنا آسان نظر نہیں آرہا ہے۔ مغربی بنگال ، یوپی کے بعد تاملناڈوکے ذریعے غیر ملکی دوکانوں کی اجازت نہ دینے کے اعلان سے مخالف ریاستوں کی تعداد 28 ہوگئی ہے۔ جن ریاستوں نے ایف ڈی آئی کی کھل کر مخالفت کی ان میں خاص ہیں اترپردیش، مدھیہ پردیش،گجرات، کرناٹک، تاملناڈو، بہار، جھارکھنڈ، مغربی بنگال اور چھتیس گڑھ وغیرہ۔ بھاجپا، انا ڈی ایم کے، ڈی ایم کے، لیفٹ پارٹی، سماج وادی پارٹی و ترنمول کانگریس سبھی اس کی مخالفت کررہی ہیں۔ سرکار کو چاہئے کہ وہ ایف ڈی آئی کے مسئلے کو اپنے وقار کا سوال نہ بنائے اور اپنے فیصلے کو ٹال دے۔ ابھی اس مسلے پر بحث بہت ضروری ہے۔ اس کے فائدے نقصان کا صحیح تجزیہ ہونا چاہئے تبھی یہ قابل قبول ہوگا۔ صرف پارلیمنٹ میں ہی نہیں پورے دیش میں اس مسئلے پر اتفاق رائے ہونا  ضروری ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, FDI in Retail, Manmohan Singh, Pranab Mukherjee, Rahul Gandhi, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...