Translater

07 دسمبر 2013

پھر فرقہ وارانہ کارڈ کھیلنے کی کوشش ہے یہ فرقہ وارانہ تشدد روک تھام بل!

پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہوچکا ہے۔ موجودہ لوک سبھا کا آخری کام کاجی اجلاس ہونے کے سبب حکومت اس کا استعمال التوا میں پڑے بلوں کو پاس کروانے میں کرنا چاہے گی۔ خاص طور سے وہ بل جو یوپی اے سرکار کو 2014ء کے عام چناؤ میں سیاسی فائدہ پہنچا سکتے ہیں ان میں متنازعہ انسداد فرقہ وارانہ فساد بل بھی شامل ہے۔حالانکہ کام کی فہرست میں شامل بلوں کی تعداد کو دیکھتے ہوئے محض12 دن کے اس قلیل المدت اجلاس میں کتنا آئین سازیہ کا کام نمٹایا جاسکے گایہ اپنے آپ میں ایک سوال ہے۔ آج میں بات کرنا چاہتا ہوں فرقہ وارانہ انسداد بل کی۔ اپوزیشن کی سخت مخالفت کی وجہ سے ٹھنڈے بستے میں چلے گئے اس بل کو مظفر نگر فسادات کے بعد یوپی اے سرکار نے پھر سے جھاڑپونچھ کر باہر نکال لیا ہے۔ بھاجپااپنے ہندوتو ایجنڈے کی لائن پر آگے بڑھتی دکھائی دے رہی ہے تو کانگریس نے بھی جواب میں سیکولرازم کے اشو پر جارحانہ طور پر آگے بڑھنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ دراصل یہ بل اپنے آپ میں ایک طرفہ تو ہے ہی ہے بلکہ اکثریتی مخالف بھی ہے۔ کل ملاکر یہ ایک ایسا بل ہے جو اگر قانون بنا تو سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچانے کا کام کرے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس بل کو تیار کرنے والے لوگ اس ذہنیت سے آلودہ ہیں کہ صرف اکثریتی ہی سماج میں فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کا کام کرتی ہے۔
یہ بل محض اکثریتوں کو ہی فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کا قصوروار مانتا ہے بلکہ ان پر یہ سخت شرط بھی تھونپتا ہے کہ خود کو بے قصور ثابت کرنے کے لئے ذمہ داری بھی ان کی ہی ہوگی۔ یہ ممکنہ طور پر پہلا ایسا بل ہے جس کا استعمال محض درجہ فہرست ذاتوں ،قبائلیوں اور اقلیتی سماج کے ہی لوگ کرسکیں گے کیونکہ یہ بل ریاستوں کے دائرہ اختیار سے سیدھا ٹکراتا ہے اس لئے غیر کانگریسی وزرائے اعلی نے اس کے خلاف زور شور سے آواز اٹھانا شروع کردی ہے۔ پیر کو تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا نے اس کی جم کر مخالفت کی تھی۔ اگلے ہی دن بھاجپا نے بل کو فرقہ وارانہ قراردیتے ہوئے پارلیمنٹ میں اس کی مخالفت کا اعلان کردیا۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی نے اسے دیش کے فیڈرل ڈھانچے کے خلاف قرار دیا ہے۔ ترنمول کانگریس سپریمو و مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے اپنے ممبران کو بل کی مخالفت کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ تمام مخالفتوں کے درمیان منگلوار کو داخلہ سکریٹری نے اتفاق رائے کے لئے سبھی ریاستوں کے چیف سکریٹریوں اور قانون سکریٹریوں کی میٹنگ بلا لی ہے۔ ارون جیٹلی نے مرکز پر پولارائزیشن کی پالیسی کا الزام لگتے ہوئے کہا کہ متعلقہ فریقین کے ساتھ ضروری غور و خوض کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی گئی۔
دو سال پہلے قومی ایکتا پریشد کی میٹنگ میں سبھی وزراء اعلی نے ایک آواز میں اس بل کی مخالفت کی تھی۔ جیٹلی نے یاد دلایا کے اس وقت سبھی وزراء اعلی نے صاف کردیا تھا کہ یہ بل دیش کے فیڈرل ڈھانچے کے خلاف ہے۔ بھاجپا کے نائب صدر مختار عباس نقوی نے مرکزی سرکار پر زور دار حملہ کیا اور کہا کہ یہ سرکار جب پہلی بار اقتدار میں آئی تھی تو اس نے آتنک وادیوں کو خوش کرنے کے لئے ان کے خلاف بنے سخت قانون پوٹا کو ختم کردیا۔ آج جب اس کی رخصتی کا وقت آگیا ہے تو وہ ایک بار پھر فسادیوں کو خوش کرنے کے لئے یہ فرقہ وارانہ تشدد روک تھام بل لیکر آئی ہے۔ نقوی نے سرکار کے ذریعے بل کے وقت پر سوال کھڑے کرتے ہوئے کہا جب بھی چناؤ کا موسم آتا ہے تو کانگریس کو مسلمانوں کی یاد ستانے لگتی ہے۔ یہ بڑے دکھ کی بات ہے۔ یہ بل فسادیوں کی پہچان اور ان کے مذہب کی بنیاد پر بنایا جارہا ہے۔ رہی سہی کثر گجرات کے وزیر اعلی اور پی ایم ان ویٹنگ نریندر مودی نے وزیر اعظم کو لکھے خط نے نکال دی۔مودی نے پی ایم کو خط لکھ کر فرقہ وارانہ تشدد بل کی مخالفت کی ہے اور کہا مجوزہ بل تباہی کا نسخہ ہے۔
بل کو ریاستوں کے دائرہ اختیار میں قبضہ کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہوئے کہا اس سلسلے میں آگے کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اس پر ریاستی سرکاریں اور سیاسی پارٹیوں، پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں سے وسیع غور و خوض کیا جانا چاہئے۔ بھاجپا نیتا نے کہا کہ سیاسی اسباب اور حقیقت جانے بغیر ووٹ بینک کی سیاست کے چلتے بل کو لانے کا وقت صحیح نہیں ہے۔مجوزہ قانون سے لوگ مذہبی بنیاد پر بٹ جائیں گے۔ مجوزہ بل سے مذہبی اور زبان کی شناخت اور بھی مضبوط ہوگی اور تشدد کے معمولی واقعات کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دیا جائے گا اس طرح یہ بل جو اختیار حاصل کرنا چاہتا ہے اس کا الٹا نتیجہ سامنے آئے گا۔ مودی کی جانب سے فرقہ وارانہ اور انسداد تشدد بل کو تباہی کا نسخہ قراردئے جانے کے درمیان وزیراعظم نے کہا کہ وہ ان سبھی اشو پر عام رائے بنانے کی کوشش کریں گے۔ 
انہوں نے کہا کہ سرکار بلوں کو عام رائے سے پاس کرانا چاہتی ہے اور اس میں ہم سبھی کا تعاون چاہتی ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں فرقہ وارانہ جھگڑے سماج کے لئے چنوتی بنتے جارہے ہیں لیکن ان پر روک لگانے کا یہ کوئی طریقہ نہیں ہے ایک امتیاز بھرا قانون بنایاجائے۔اگرحکومت فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کے لئے سنجیدہ ہے تو وہ سب سے پہلے فرقہ وارانہ نفرت کا کارڈ کھیلنا بند کرے۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کے سیاسی پارٹیاں اپنے ووٹ بینک کی سیاست کے چلتے خود ایسے فرقہ وارانہ فسادات کو بڑھاوا دیتی ہیں۔ حال میں مظفر نگر کے فسادات اس کا ثبوت ہیں۔ ہمیں تو شبہ ہے کہ جس سمت میں کام کرنا چاہئے اس پر تو کچھ کام نہیں کیا گیا اور یہ فرقہ وارانہ بل لانے کی کوشش کی گئی۔ امید کی جاتی ہے کہ مرکزی حکومت اپوزیشن کے اعتراضات پر توجہ دے گی اور زور زبردستی کرکے اس بل کو موجودہ شکل میں پاس کرانے کی کوشش نہیں کرے گی۔ لیکن اگر کوئی سیاسی نیت کے ارادے سے اس بل کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی تو اس سے دیش کے ماحول کو بھاری نقصان پہنچ سکتا ہے۔
(انل نریندر)

06 دسمبر 2013

دہلی اسمبلی انتخابات نے کئی نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں!

جیسا کہ امید تھی ویسا ہی ہوا دہلی اسمبلی چناؤ میں ریکارڈ پولنگ ہوئی اور یہ 66 فیصد سے زیادہ ہوئی۔ پچھلے چناؤ2008ء میں 58.58فیصدی ووٹ پڑے تھے اس بار پانچ ریاستوں میں پولنگ کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے ہیں۔ راجستھان میں 75.2فیصد ، مدھیہ پردیش 72.66فیصد، چھتیس گڑھ75 فیصد اور میزورم میں 81.19فیصد اور اب دہلی میں 66 فیصد پولنگ ہوئی ہے۔ اگر ہم دہلی کی بات کریں تو یہاں زیادہ ووٹ پڑنے کی کئی وجوہات دکھائی پڑتی ہیں۔ سب سے پہلے تو چناؤ کمیشن کی انتہائی کوشش مانی جاسکتی ہے۔دہلی چناؤ کمشنر وجے دیو اور ان کی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے انہوں نے جو کہا وہ کر دکھایا۔ پولنگ کرنے جارہے ووٹروں کو اکثر دل میں یہ پریشانی ستاتی رہتی ہے کہ شناختی کارڈ نہیں ہے، کیا ہم ووٹ ڈال سکیں گے؟ کئی کے ووٹر فہرست سے نام ہی غائب ہوجاتا تھا۔ بہتوں کو پولنگ بوتھ تک پہنچے پر پتہ چلتا تھا کہ ان کا ووٹ ڈل چکا ہے۔پولنگ بوتھ میں موبائل لیکر جائیں یا نہیں کچھ ایسی دقتیں ووٹروں کواپنا ووٹ ڈالنے سے روکتی تھیں۔ انہیں باتوں کو ذہن میں رکھ کر دہلی چناؤ میں پہلی بار کچھ نئے قدم اٹھائے گئے۔ چناؤ کمیشن نے 70 سیٹوں کے سبھی پولنگ اسٹیشنوں کو گوگل میپ سے جوڑدیا اور اسٹیشن کو آپ گوگل سرچ میں جاکر دیکھ سکتے تھے۔ اس کا لنک چناؤ کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود تھا۔ اسمارٹ فون رکھنے والے مرکز تک پہنچنے کیلئے جی پی ایس کا استعمال کرنے کی سہولت تھی۔اگر آپ کے پاس ووٹر شاختی کارڈ نہیں ہے پھر بھی آپ ووٹ ڈال سکتے تھے۔ چناؤ کمیشن نے 10 طرح کے پہچان کاغذات کو تسلیم کیا۔ اس میں پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس، بینک یا ڈاک گھر کی جاری فوٹو ،پاس بک وغیرہ وغیرہ۔ کمیشن نے ایس ایم ایس کے ذریعے پہلی بار ووٹر لسٹ میں نام جاننے کی سہولت دی تھی۔ اس مرتبہ شراب اور پیسے کا کام نہیں چل سکا۔ کل ملاکر ووٹ فیصد بڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ چناؤ کمیشن کے ٹھوس قدم۔ اس کے لئے چناؤ کمیشن مبارکباد کا مستحق ہے۔ اب بات کرتے ہیں ایگزٹ پول کی۔ چناؤ سے پہلے آئے چناؤ تجزیوں میں اور چناؤ کے بعد ایگزٹ پول کے نتیجوں میں اتنا زیادہ فرق نہیں ہے۔ دونوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو سب سے زیادہ سیٹیں ملنے کے امکان دکھایا گیا ہے۔ تھوڑا فرق ’آپ‘ پارٹی کی پرفارمینس میں ضرور دکھائی دیا۔ اس کو بہت اچھے ووٹ ملتے دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ اروند کیجریوال کی شاندار کامیابی ہے۔ اکیلے اپنے دم خم پر بھاجپا اور کانگریس جیسی بڑی پارٹیوں کے سامنے کھڑا ہونا آسان کام نہیں ہے۔ پھر نہ پیسے سے اور نہ تنظیم سے اور نہ پبلسٹی میں کیجریوال ان دونوں کا مقابلہ کرسکتے تھے لیکن پھر بھی وہ ڈٹے رہے اور اگر ایگزٹ پول کی بات صحیح نکلی تو عام آدمی پارٹی نے نہ صرف دونوں پارٹیوں کے ووٹ میں سیند لگانے میں کامیابی پائی بلکہ دہلی اسمبلی چناؤ میں پہلی بار ایک تیسرا متبادل کھڑا کردیا ہے۔ ابھی تک تو صرف بھاجپا اور کانگریس میں سیدھی ٹکر ہوا کرتی تھی۔ ایگزٹ پول میں عام آدمی پارٹی کو 6 سے لیکر31 سیٹیں جیتتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ پارٹی کو8تاریخ کو پتہ چلے گا کہ اس کو کتنے فیصد ووٹ ملا ہے اور وہ کتنی سیٹیں جیت رہی ہے لیکن لگتا یہ ہے عام آدمی پارٹی کو جتنا بھی ووٹ ملا اس کا زیادہ تر حصہ کانگریس کے ووٹ کا ہے۔ بیشک بھاجپا کا ووٹ بھی اسے ملا لیکن زیادہ کانگریس کا ووٹ کٹنے کا امکان ہے۔ اگر اس چناؤ کا کوئی صاف پیغام ہے تو وہ یہ ہے مینڈیٹ حکمراں کانگریس کے خلاف ہے۔ یہ ووٹ تبدیلی کے لئے ہے۔ لوگ 15 سال سے کانگریس سرکار سے تنگ آچکے تھے۔ کانگریس جنتا سے پوری طرح کٹ چکی تھی اور یہ بات ہم بار بار بتاتے رہے ہیں لیکن کانگریس نے پرواہ نہیں کی۔ 
چاہے اشو مہنگائی کا رہا ہو چاہے کرپشن کا یا بجلی کا دہلی کے باشندے چیختے رہے لیکن کانگریس حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ نوجوانوں کو کانگریس سے زبردست مایوسی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کانگریس کی حکومت میں ان کا مستقبل محفوظ رہی ہے۔عورتیں دو مورچوں پر کانگریس سے سخت ناراض تھیں۔ سلامتی کے معاملے میں اور رسوئی کے معاملے میں۔ آلو، ٹماٹر، پیاز کی آسمان چھوتی قیمتوں نے گرہستنوں کا بجٹ بگاڑدیا تھا اور جنتا اس کمر توڑ مہنگائی کو کانگریس کے کرپشن سے سیدھا جوڑتی تھی۔ دکھ کی بات یہ بھی تھی کہ کانگریس سرکار نے اسے روکنے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی۔ 15 برسوں میں ایک علاقہ جہاں بہت گراوٹ آئی وہ ہے میڈیکل سیکٹر۔ ہسپتال ،ڈاکٹر اتنے مہنگے ہوگئے کے عام آدمی اگر بیمار ہوجاتا تو سمجھو اسے تو موت ہی آگئی ہے۔ ذرا سی بیماری کے لئے لاکھوں کے بل بن جاتے تھے۔ بھاجپا کو ڈاکٹر ہرش وردھن کو بطور وزیر اعلی پیش کرنے کا فائدہ ملا۔ تنظیم میں کوئی اختلاف نہیں تھا سبھی نے اپنے اپنے سطح پر پوری طاقت لگائی۔ آر ایس ایس نے بھی اس بار کھل کر بھاجپا کی مدد کی ہے۔ نریندر مودی ایک بہت بڑا پلس پوائنٹ ثابت ہوا۔ نریندر مودی کی ریلیوں میں جس طرح نوجوان شامل ہوئے اس سے کانگریس کا حوصلہ ٹوٹ گیا۔ راہل گاندھی کی فلاپ ریلی کے بعد کانگریس نے دہلی میں آخری سات دنوں میں پبلک جلسے کرنے کی ہمت نہیں دکھائی۔ ادھر مودی نے تابڑ توڑ ریلیاں کرکے بھاجپا کے حق میں ماحول بنایا۔ نوجوانوں کو مودی کی شکل میں ایک نئی امید دکھائی دے رہی ہے جو شاید صحیح پالیسیوں سے ان کا مستقبل سنوار سکے گی۔ اس چناؤ میں کانگریس مخالف لہر نظر آرہی ہے جو کانگریسی امیدوار جیتے گا وہ آسانی سے شخصی ساکھ اور عوامی رابطہ اور اپنے برتاؤ کے سبب جیتے گا۔ کئی معنوں میں یہ چناؤ الگ ہی تھا۔ اگر شیلا جی جیت جاتیں تو وہ پہلی کانگریس کی وزیر اعلی ہوتیں جو چوتھی بار اس عہدے پر فائض ہوتیں لیکن اب اس کا امکان کم لگ رہا ہے۔ چناؤ میں ہم نے دیکھا کہ ایک سابق افسر شاہ اور سماجی رضاکار اروند کیجریوال کی قیادت میں عام آدمی پارٹی نے چناوی لڑائی کو سہ رخی بنا دیا۔ اس پارٹی کے زیادہ تر لیڈر یا تو سماجی رضا کار، صحافی یا تعلیم سے جڑے ہیں جنہوں نے پہلی بار سوشل میڈیا کا اپنی بات ووٹر تک پہنچانے میں کامیابی پائی ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال بھاجپا نے بھی خوب کیا۔ پہلی بار نوجوان طاقت کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا اور نوجوان ووٹر بھی ووٹ ڈالنے کیلئے گھر سے باہر نکلے۔ یہ سب باتیں ہندوستانی جمہوریت کے لئے اچھا اشارہ ہیں اور جنتا کا یوں کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرنا اچھی علامت ہے۔
  1. (انل نریندر)

05 دسمبر 2013

نابالغ کیا اسی وجہ سے صاف چھوٹ جائے کیونکہ وہ نابالغ ہے؟

جب 16 دسمبر 2013ء کو وسنت وہار گینگ ریپ معاملہ ہوا تھا میں نے تبھی اپنے اسی کالم میں لکھا تھا کہ اس قتل کانڈ کے ماسٹر مائنڈ کو اس لئے نہیں چھوڑا جاسکتا کیونکہ وہ نابالغ ہے اور اس کی عمر18 سال سے تھوڑی کم تھی۔ اب متاثرہ کے والدین نے اپنی سپریم کورٹ میں داخل عرضی میں اس سوال کواٹھایا ہے۔ عدالت نے پیرکو دہلی گینگ ریپ متاثرہ کے والد کی عرضی پر مرکزی حکومت کو نوٹس بھیج دیا ہے اور سرکار سے پوچھا ہے کہ آخر گھناؤنے جرائم میں شامل ملزمان کا نابالغ ہونا کیسے طے کیا جائے؟ متاثرہ کے والد نے اپنی عرضی میں جیونائل انصاف ایکٹ قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے یہ قانون سنگین جرائم میں ملوث کمسنوں پر عام مقدمہ چلانے سے روکتا ہے۔ دہلی گینگ ریپ کا بنیادی ملزم نابالغ واقعے کے وقت ساڑھے ستارہ سال کا تھا جسے جیونائل انصاف بورڈ نے اپنی زیادہ سے زیادہ تین سال کی سزا دی تھی۔ ایسے میں وہ بڑی سزا سے بچ گیا۔ بہرحال عرضی پر سماعت کے بعد جسٹس بی۔ ایس چوہان کی بنچ نے مرکزی خواتین و اطفال ترقی وزارت کو چارہفتے کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کوکہا ہے۔ اس معاملے میں اہم ملزم کی عمر اس کے گاؤں کے اسکول پرنسپل کے سرٹیفکیٹ کے مطابق جرم کے وقت 18 سال سے چھ مہینے کم تھی اس لئے اس کا مقدمہ بچوں کی عدالت میں چلانا پڑا۔ اسکے بعد ممبئی کے مقبول ترین شکتی مل آبروریزی کانڈ میں بھی کم عمر کے جرائم پیشہ کے ملوث ہونے نے اس بحث کو طول دے دیا۔ ایسی اور بھی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ میرا تو ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ جب ایک جرائم پیشہ شخص ایسے گھناؤنے واقعے کی پلانگ کرسکتا ہے اس پر عمل کرسکتا ہے جو بالغوں کی طرح ہوں ،وہ نابالغ کہاں رہ گیا؟ اس کی عمر کا جرم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک بالغ جرم ہے اور سزا بھی بالغوں جیسی ہونی چاہئے۔ ان واقعات کے پیش نظر سنگین جرائم کے معاملوں میں جیونائل کورٹ قانون پھر سے نظرثانی ضروری ہوگئی ہے۔ موجودہ قانو ن میں ترمیم ضروری ہے۔ خاتون و اطفال ترقی وزارت کی تجویز ہے کہ گھناؤنے جرائم کے معاملوں میں نابالغ کی عمر حد 18 سال کے بجائے16 سال طے کردی جائے۔ یہ قابل خیر مقدم تجویز ہے۔16 دسمبر کے واقعے کے بعد مرکزی حکومت نے جنسی تشدد سے متعلق قانون کے جائزے کیلئے سپریم کورٹ کے سابق جسٹس جے۔ ایس ورما کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی تھی۔ اسکی سفارشوں کی بنیاد پر آئی پی سی میں ترمیم کیلئے ایک آرڈیننس جاری کیا گیا اور پھرا س ترمیم کو بل کے ذریعے پارلیمنٹ میں منظوری ملی۔ بھارت میں ابھی تک18 سال سے کم عمر کے جرائم پیشہ کی وجہ سے کئی پریشانیاں کھڑی ہورہی ہیں۔ ایک مسئلہ تو یہ ہو رہا ہے کہ شاطر مجرم گروہ قتل یا ڈکیتی جیسے سنگین جرائم کے لئے بچوں کا استعمال سوچی سمجھی سازش کے تحت کرنے لگے ہیں کیونکہ اگر وہ پکڑے بھی گئے تو زیادہ سے زیادہ تین سال تک انہیں اصلاح گھر میں کاٹنے ہوں گے۔ پولیس کا کہنا ہے جرائم میں بچوں کا استعمال بڑھ رہا ہے بچوں کے اصلاحتی گھروں کی الگ پریشانیاں ہیں اس لئے کل ملاکر اس پیچیدہ اشو پر ملک گیر بحث ہونی چاہئے اور نابالغ کی عمر گھٹانے پر قانون میں ترمیم ضروری ہے۔
(انل نریندر)

تھائی وزیر اعظم کیخلاف تختہ پلٹ تحریک !

پچھلے ایک ہفتے سے ہمارے پڑوسی ملک تھالی لینڈ میں حکومت کے خلاف زبردست تشدد آمیز مظاہرے اور تحریکیں چل رہی ہیں۔ سرکار مخالف مظاہروں نے خطرناک شکل اختیار کرلی ہے۔ 30 ہزار سے زیادہ مظاہرین نے وزیر اعظم چنگلک شیونواترا کے خلاف ’’عوامی تختہ پلٹ‘‘ تحریک چھیڑتے ہوئے ایک پولیس کمپلیکس پر ہی حملہ بول دیا۔ یہاں نوجوان وزیر اعظم شیونواترا میڈیا سے بات کرنے والی تھیں لیکن انہیں کمپلیکس چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ مظاہرین نے وزیر اعظم کے دفتر کے آس پاس سکیورٹی گھیرے کو بھی توڑنے کی کوشش کی۔ سنیچرسے جاری پرتشدد مظاہروں میں سرکار کی حمایت میں اترے لوگ اور مخالف مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 5لوگ مارے گئے ۔ اس درمیان حکومت نے ان افواہوں کی تردید کی ہے جن میں دعوی کیا گیا تھا کہ وزیر اعظم نے ملک چھوڑدیا ہے لیکن وہ کہاں ہیں اس کا پتہ نہیں ہے۔ مشکلات سے گھری تھائی لینڈ کی وزیر اعظم شیو نواترا نے پیر کو اپوزیشن کی جانب سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبے کو مسترد کردیا۔ وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹنے کیلئے دباؤ بنانے میں لگے اپوزیشن کے حمایتیوں کی سکیورٹی فورسز سے جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ایک عدالت نے سرکار گرانے کے لئے بغاوت کرنے والے ایک بڑے لیڈر کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔پچھلے کچھ دنوں سے اپوزیشن چنگلک شیو نواترا سے عہدہ چھوڑنے اور اقتدارغیر منتخبہ پیپلز کونسل کو سونپنے کا الٹی میٹم دے رکھا ہے۔ مظاہرین موجودہ سرکار کو اقتدار سے آزاد کرانے کے لئے حکومت پیپلز کونسل کے ہاتھوں میں دینا چاہتی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ شیو نواترا کی حکومت کو ان کے بھائی اور قدامت پسند لیڈر تھکاسن شیونواترا کے ہاتھوں میں ہے۔ تھکاسن سال 2006ء میں فوجی تختہ پلٹ میں معذول ہوئے تھے۔ ادھر چنکلک نے شیونواترا نے اخباری کانفرنس میں کہا کہ میں سبھی سے مسئلے کا حل تلاشنے کی کوشش کرنے کے لئے کہتی ہوں لیکن یہ قانون کے دائرے میں ہونا چاہئے۔ سرکارمخالف مظاہروں کے لیڈر سپیتھ کی مینڈیٹ واپس کرنے اور جنتا کی کونسل قائم کرنے کی مانگ آئین کے تحت ممکن نہیں ہے۔ وزیر اعظم نے کہا میں کوئی شرط نہیں رکھوں گی اگر میں شانتی لوٹانے کے لئے کچھ کرنے میں اہل ہوں تو میں وہ کرنا چاہوں گی لیکن یہ آئینی تقاضوں کے تحت ہی ہونا چاہئے۔ مجھے نہیں پتہ کے میں آئینی ڈھانچے میں کس قانون کے تحت عوامی کونسل کی مانگ پوری کرسکتی ہوں۔ ان مظاہرین کے بیچ ایک عدالت نے سرکار گرانے کی کوشش کرنے پر بغاوت کے لئے مظاہرین کے لیڈر اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سابق ایم پی سپیتھ کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا۔ انہوں نے ایتوار کوکہا کہ شیونواترا اگلے دو دن میں استعفیٰ دے دیں۔ ابھی تک تھائی لینڈ کے سیاسی بحران میں سرکار مخالف مظاہروں میں چار لوگوں کی موت ہوئی ہے اور 100 سے زیادہ زخمی ہیں۔ مظاہرین نے وزیر اعظم شیو نواترا کو ایک پولیس کمپلیکس سے فرار ہونے پر مجبور کردیا فی الحال وہ کسی نامعلوم جگہ پر ہیں۔ امید کرتے ہیں کہ تھائی لینڈ کی شورش جیسی سیاسی صورتحال کا کوئی جلد حل نکل آئے گا اور عوام کا راج قائم ہوگا۔
(انل نریندر)

04 دسمبر 2013

لو ان ریلیشن نہ تو جرم ہے اور نہ پاپ:سپریم کورٹ

پچھلے کچھ برسوں سے لو ان ریلیشن شپ کا سلسلہ بڑھ گیا ہے۔ لڑکے لڑکیاں شادی جیسے روایتی بندھن میں بندھے بغیر ایک ساتھ رہنے لگے ہیں۔آج سے کچھ سال پہلے ایسے رشتوں کو سماج نہ توجائز مانتا تھا اور نہ ہی اچھی نظروں سے دیکھتا تھا لیکن جیسے جیسے مغربی تہذیب کا اثر ہمارے معاشرے پر پڑا نوجوانوں نے یہ سلسلہ شروع کردیا اور آہستہ آہستہ یہ رشتہ بھی قابل قبول ہونے لگا۔ اور باعزت زندگی کے گزر بسر کے لئے تمام قانونی تقاضوں کے باوجود عورتیں کہیں نہ کہیں ایسی پیچیدہ حالت کا سامنا کرتی رہی ہیں جس کے سبب دیش کی عدالتوں کو وقتاً فوقتاً ان کے مفادات کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ سانجھی زندگی یعنی ’لو ان ریلیشن شپ‘ ایک ایسی پوزیشن ہے جس پر دیش کی بڑی عدالت نے سنجیدگی سے سرکار کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ عدالت نے بڑھتے لو ان ریلیشن اور قانون کی موجودگی میں ایسے رشتوں میں رہ رہے لوگوں کی پریشانیوں پر تشویش جتائی ہے۔ جسٹس کے۔ ایس رادھا کرشنن کی سربراہی والی بنچ نے ایک دوررس فیصلے میں بغیر شادی کئے میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرنے والے لڑکی لڑکوں کے رشتوں کو ازدواجی رشتوں کے دائرے میں لائے جانے سے متعلق قانون بنانے کی بات کہی ہے۔ سپریم کورٹ نے لو ان ریلیشن رشتوں پر پارلیمنٹ سے باقاعدہ قانون بنانے کو کہا ہے جس میں ایسے رشتوں میں شامل عورتوں اور بچوں کے مفادات کی حفاظت کے لئے کافی سہولت ہوں۔ فیصلے میں عدالت نے کہا کہ پارلیمنٹ اس طرح کے رشتوں کو دھیان میں رکھتے ہوئے قانون بنانے پر غورکرے۔ بنچ نے کسی رشتے کو لو ان ریلیشن شپ کو تسلیم کرنے کے لئے گائڈ لائنس طے کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ وقت میں سماج میں اس طرح کے رشتوں کا چلن ہے لیکن جب یہ رشتہ ٹوٹتا ہے تو اس میں رہنے والی عورتیں زندگی گزر بسر کرنے میں لاچار دکھائی پڑتی ہیں۔ ایسی عورتوں ایسے رشتوں کے سبب پیدا ہوئے بچوں کوپریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا بچوں کا ہونا یہ مضبوط اشارہ دیتا ہے کہ رشتوں میں قدرتاً قربت پیدا ہوئی ہے۔ اس سے یہ صاف ہوتا ہے کہ یہ رشتہ لمبے وقت سے چل رہا ہے۔ غور طلب ہے گھریلو تشدد کے خلاف بنے قانون کے تحت بغیر شادی شدہ کسی مردکے ساتھ رہنے والی عورت اور اس سے پیدا بچوں سے متعلق اس شخص کی منقولہ غیر منقولہ جائیداد پر کوئی حق نہیں بنتا۔ یعنی رشتے ٹوٹنے کی صورت میں عورت کواپنے بچوں کے ساتھ در در کی ٹھوکرے کھانے کو مجبورہونا پڑ سکتا ہے۔ حالانکہ مغربی ملکوں کی طرز پر ہندوستان جیسے روایتی سماج والے دیش میں سانجھہ زندگی یا لو ان ریلیشن شپ کو کسی بھی نقطہ نظر سے سماجی منظوری حاصل نہیں ہے۔ اس طرح کے رشتوں کو ہمیشہ بری نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔دونوں لڑکے لڑکی والے کنبے کے لوگ اس طرح کی حرکتوں کو برداشت نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے بچوں سے کوئی رشتہ ناطہ تسلیم کرتے ہیں لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ پرانے وقت سے ہی گاؤں دیہات سے لیکر قصبوں، بڑے شہروں میں ایسی مثالیں ملتی رہی ہیں جہاں کوئی عورت بغیر شادی کئے کسی مرد کے ساتھ اپنی زندگی گزر بسر کرتی ضرور سنائی پڑجاتی ہے۔ کئی حالات میں تو بچے بھی ہوجاتے ہیں۔ بنچ نے حالانکہ یہ صاف کردیا کہ ایسے سبھی لو ان ریلیشن اور خاص طور پر غیر شادی کے رشتوں کو سماجی نظریئے کے رشتوں کے دائرے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ بنچ نے کہا کہ مرد کے شادی ہونے کی پکی جانکاری کے باوجود اگر کوئی عورت اس سے لو ان ریلیشن شپ بناتی ہے تو اس عورت کو گھریلو تشدد تحفظ ایکٹ 2005 کے دائرے میں گزارا بھتہ نہیں دیا جاسکتا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارا سماج کیا ایسے رشتوں کو سماجی حیثیت دینے کو تیار ہے؟
(انل نریندر)

چناوی جائزوں میں بھاجپا آگے کیا جادوئی نمبر پا سکے گی؟

فیصلے کا وقت آگیا ہے۔ دہلی کے شہری آج بدھوار کے دن یعنی4 دسمبر کو اپنے ممبر اسمبلی اور اپنی سرکار کے انتخاب کے لئے ووٹ ڈالیں گے۔13 دنوں تک چناوی گھمسان اور دعوے اورالزام در الزام کا سلسلہ جاری رہا۔سروے پرسروے ہورہا تھا۔ بدقسمتی تو یہ ہے کہ ان سب کے باوجود چناؤ نتیجے کیا ہوں گے یہ تصویر ابھی تک صاف نہیں ہوسکی۔ سٹہ بازار سے لیکر تمام سروے یہ نہیں بتا پائے کے اگلی حکومت کس پارٹی کی بنے گی۔ اشوز میں ہماری رائے میں سب سے اہم رہا مہنگائی کا اشو۔ جس نے بلا شبہ دہلی کے شہریوں کو پریشان کیا ہوا ہے۔ عام اس مہنگائی کو کرپشن سے سیدھا جوڑتی ہے اور وہ یہ بھی محسوس کررہی ہے کہ حکومت اسے روکنے میں ناکام رہی۔ یہ نظریہ حکمراں کانگریس پارٹی کے خلاف جا سکتا ہے۔ دوسری طرف کانگریس کا ترقی کا نعرہ اور آگے کے کام اس کے حق میں جاسکتے ہیں۔ خاتون حفاظت سے لیکر بجلی ،پانی، ہسپتال، مہنگا علاج کچھ اور ایسے اشو ہیں جن پر دہلی کے ووٹر غور کررہے ہیں۔ بھاجپا کے حق میں مودی فیکٹر کام کر سکتا ہے۔ کچھ ووٹر یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ 15 برسوں سے کانگریس کی حکومت ہے اب اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔ اروند کیجریوال اور ان کی عام آدمی پارٹی نے کافی محنت کی ہے اور دہلی کے ووٹروں پر اپنا اثر چھوڑا ہے۔ اگر ہم بات کریں چناوی جائزوں کی توایک بہت دلچسپ سروے سامنے آیا ہے، وہ ہے سی ووٹرکا۔ جس نے پچھلے8مہینوں کے سرووں کے تجزیئے کی بنیاد پر کانگریس کو26 بھاجپا کو 30 اور عام آدمی کو12 سیٹیں ملنے کا امکان جتایا ہے۔ حالانکہ ایتوار کو عام آدمی پارٹی نے خود کو38 سے50 سیٹیں ملنے کا امکان ظاہرکیا تھا۔ کانگریس نے ان سرووں سے خود کوالگ کیا ہوا ہے۔ بھاجپا نے اپنے اندرونی سروے میں 33 سیٹوں پر جیت کا بھروسہ جتایا ہے۔2008 ء میں کانگریس نے43 جبکہ بھاجپا نے24 سیٹیں جیتی تھیں۔ سروے کے تجزیئے میں 31 فیصد ووٹ، بھاجپا کو34 فیصدی اور ’آپ‘ کو21 فیصدی ووٹ ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ 2 اپریل (ٹائمس ناؤ سی ووٹر)سے 1 دسمبر کے درمیان ہوئے14 سرووں کی بنیاد پر یہ اوسط نمبر نکالے گئے ہیں۔ کانگریس کا ووٹ فیصد 2 اپریل میں36 فیصد اور ستمبر میں 34 فیصد(ہندوستان سی ووٹر سروے) پرآگیا ہے جبکہ نومبر میں37 فیصد (انڈیا ٹو ڈے او آر جی) کا رہ گیا۔ وہیں بھاجپا اپریل میں 39 فیصد(ٹائمس ناؤ سی ووٹر)سے نومبر میں37 فیصدرہ گیا حالانکہ ان چناوی جائزوں میں عام آدمی پارٹی کا گراف بڑھا ہے۔ ’آپ‘ کا اپریل میں 8 فیصد(ٹائمس ناؤ سی ووٹر) اور دسمبر میں 24 فیصد دکھایا گیا ہے۔ دہلی اسمبلی چناؤ اس لحاظ سے تاریخی ہونے والا ہے۔ عام طور پر پانچ فیصد ووٹ بینک ہر بار اپنی رائے بدلتا ہے۔ سروے سے یہ پتہ چلا ہے کہ ووٹر اس بار کشمکش میں ہیں۔ پولنگ کے آخری لمحوں میں یہ رائے دہندگان فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ نوجوانوں اور عورتوں، لڑکیوں کاپولنگ کے دن قابل ذکر کردار رہے گا۔ دہلی کے چیف الیکٹرول آفیسر شری وجے دیو کمار نے اس بار کافی سختی دکھائی ہے۔ جھگی جھونپڑی و کچھ درمیانے طبقے کے ووٹروں کو لبھانے کے لئے شراب ،پیسہ بانٹ کر ووٹ خریدے کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ تمام ہتھکنڈوں کی جانکاری چناؤ کمیشن کو ہے اور وہ دہلی میں اس بار آزادانہ ،صاف ستھرے چناؤ کرانے کے لئے ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ دیکھیں8 دسمبر کو اونٹ کس کرونٹ بیٹھتا ہے؟ لیکن سبھی سے درخواست ہے کہ آپ اپنا قیمتی ووٹ ضرور ڈالیں۔
(انل نریندر)

03 دسمبر 2013

چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور اب راجستھان میں ریکارڈپولنگ!

پہلے چھتیس گڑھ پھر مدھیہ پردیش اور ایتوار کو راجستھان میں ریکارڈ پولنگ ہوئی ہے۔لوگوں میں اپنے حق کے تئیں بڑا جوش وخروش دکھائی دیا۔ راجستھان کی اگلی حکومت کے لئے74 فیصدی سے زیادہ ووٹ پڑے۔ ریاست میں اکا دکا واقعات کو چھوڑ کر پولنگ پرامن رہی۔ ریاست کے چیف الیکٹرول آفیسر اشوک جین نے بتایا کہ ریاست کی 14 ویں اسمبلی کی تشکیل کے لئے 200 میں سے199 سیٹوں کیلئے 74.38 فیصدی پولنگ ہوئی۔چورو اسمبلی سیٹ سے بسپا امیدوار کی موت ہونے کے سبب وہاں اب 13 دسمبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے جبکہ چھتیس گڑھ میں بھاری پولنگ ہوئی تو کانگریس خوش ہوگئی۔ بھاری پولنگ ضرور حکمراں رمن سنگھ سرکار کے خلاف ناراضگی ووٹ مانا جارہا ہے اور کانگریس جیت گئی ہے۔ عام طور پر مانا یہ ہی جاتا ہے کہ اگر ووٹ فیصد زیادہ ہوتو وہاں حکمراں سرکار کے خلاف ووٹ جاتا ہے لیکن ایسا ضروری نہیں۔ کبھی کبھی یہ ووٹ ترقی کے نام پر بھی زیادہ پڑ جاتا ہے۔ موجودہ سرکار سے یہ تشفی کی بھی علامت ہوتی ہے لیکن جب یہ ہی ٹرینڈ مدھیہ پردیش میں نظر آیا تو بھاجپا نے اسے اپنی کامیابی سے تشبیہ دے ڈالی کیونکہ تمام سروے یہ ہی دکھا رہے ہیں شیو راج سنگھ چوہان چناؤ جیت رہے ہیں۔ اب راجستھان میں بھی بھاری پولنگ کیا ظاہرکرتی ہے؟ کیا یہ حکمراں اشوک گہلوت سرکار کیلئے اچھا ووٹ ہے یا پھر ناراضگی کی علامت ہے؟ وسندرا راجے خیمہ تو یہ ہی مان رہا ہے۔ بھاجپا تو اب کھل کر کہہ رہی ہے کہ راجستھان میں اقتدار پلٹ ہوگا۔ ویسے بھی راجستھان کا 1998 ء سے ٹرینڈ رہا ہے وہ ہر پانچ سال میں سرکار بدلتے ہیں۔ راجستھان کے گوپال گڑھ میں ایک واقعہ رونما ہوا تھا جب پولیس نے مسجد میں کچھ مسلمانوں کو چانٹا مارا تھا اور اقلیتوں میں تب سے گہلوت سرکار کے خلاف ناراضگی چل رہی ہے۔ کسی طرح سے گوجر بھی گہلوت سرکار کے خلاف ہیں کیونکہ وہ مانتے ہیں کہ اس سرکار نے ان کے لئے ریزرویشن کے اشو پر کچھ نہیں کیا۔ اشوک گہلوت بیشک ایک صاف ستھری ساکھ کے لیڈر مانے جاتے ہیں جنہیں راجستھان کا چانکیہ بھی مانا جاتا ہے لیکن انتظامیہ اور اپنے وزرا پر ان کی کمزور پکڑ رہی ہے۔ کرپشن اور گھوٹالوں سے ان کا دور بھرا رہا۔ پھر بات آتی ہے مودی فیکٹر کی۔ بھاجپا کا کہنا ہے پولنگ میں جو زیادہ ووٹ پڑے ہیں یہ نریندر مودی کی مقبولیت اور ان کی حمایت کیلئے ہیں۔ نوجوان طبقے میں نریندر مودی کا جادو چل رہا ہے۔بیشک یہ صحیح ہوسکتا ہے لیکن مقامی اشو پر تھوڑا فرق پڑے گا۔ وزرا اور ممبران اسمبلی کی ذاتی کارگذاری اور ساکھ بھی ووٹر ضرور دیکھیں گے۔ جس شخص نے کام کیا ہے ترقی کروائی ہے، جنتا کے دکھ درد میں ساتھ دیا ہے وہ کوئی لہر نہیں دیکھتا، وہ کسی طرح کی لہر نہ حکمراں پارٹی کے لئے ہے اور نہ اپوزیشن کے لئے دیکھنے کو ملی ہے۔ بھاجپا نیتاؤں کوا مید ہے کہ بھاری پولنگ کا یہ سلسلہ دہلی میں بھی جاری رہے گا۔ اروند کیجریوال نے تو خودکو دہلی کا اگلا وزیر اعلی بھی اعلان کردیا ہے۔ ایک نیوز پورٹل کے ذریعے کچھ نیتاؤں کے خلاف دئے گئے اسٹنگ آپریشن کے باوجود عام آدمی پارٹی نے دعوی کیا ہے کہ 4دسمبر کو اسے دہلی اسمبلی چناؤ میں 70 سیٹوں میں سے50 سیٹیں ملیں گی۔ جانے مانے چناؤ تجزیہ کار یوگیندر یادو نے دعوی کیا کہ ’آپ‘ کے حق میں لہر چل رہی ہے۔ یوگیندر یادو نے اس دعوے سے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔ آج شاید کوئی ان کے اس دعوے سے متفق ہو لیکن اب زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ 8 تاریخ کو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ ووٹوں کے اضافے کی وجہ کیا رہی ہے۔
(انل نریندر)

میرا موازنہ ترون تیج پال سے نہ کیا جائے، جسٹس گانگولی

تہلکہ کے مدیر ترون تیج پال جنسی استحصال معاملے میں پھنسے تو اس کی آنچ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈر جج اشوک کمار گانگولی تک پہنچ گئی ہے۔ ہر طرف سے دباؤ بڑھ رہا ہے کہ انہیں جنسی استحصال کے ایک معاملے میں قانونی گھیرے میں لیا جائے۔ یہ سوال کھڑے کئے جارہے ہیں کہ وہ دیش کے سب سے بڑے انصاف کے مندر کے جج رہ چکے ہیں، ایسے میں انہیں کوئی رعایت نہیں ملنی چاہئے۔ ویسے بھی ان دنوں تیج پال کا معاملہ گرمایا ہوا ہے اسی کے چلتے اب جسٹس گانگولی کے معاملے میں بھی لمبی لڑائی جھیلنی پڑ سکتی ہے۔ ایک خاتون وکیل نے ان پر الزام لگایا تھا کہ وہ جب قانون کی تربیت میں اپنے دادا کی عمر والے ان جج موصوف کے ساتھ کام کررہی تھی تو ایک دن ہوٹل کے کمرے میں ان جج موصوف نے ان کا جنسی استحصال کیا تھا لیکن اس وقت وہ چپ رہی۔ پچھلے دنوں جب جانباز صحافی ترون تیج پال کے کارنامے کا انکشاف ہوا تو تب ایک غیر سرکاری انجمن میں کام کرنے والی ایک نوجوان خاتون وکیل نے بلاگ میں لکھ کر اس کا خلاصہ کیا تھا کہ پچھلے سال دہلی سمیت پورا دیش نربھیا آبروریزی کانڈ سے کافی ناراض تھا اسی دور میں سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج نے اس پر بھی جھپٹا مارا تھا۔ کسی طرح سے وہ بچ گئی لیکن کافی عرصے تک صدمے میں رہی۔ یہ انکشاف ہونے کے بعد سنسنی پھیل گئی ہے۔ کیونکہ معاملہ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کا تھا ایسے میں چیف جسٹس سداشیوم نے سپریم کورٹ کے تین ججوں کی ایک جانچ سمیتی جسٹس آر لودھا کی سربراہی میں بنا دی ہے۔ اس جانچ سمیتی میں جسٹس لودھا کے ساتھ جسٹس ایم۔ ایل۔ گٹو اور جسٹس رنجنا دیسائی ہیں۔ یہ تین نفری جانچ سمیتی 12 سے 27 نومبر تک 8 میٹنگیں کر چکی ہے۔ کمیٹی کے سامنے متاثرہ خاتون وکیل اور ملزم جسٹس اے۔کے۔ گانگولی بھی پیش ہوئے تھے۔ متاثرہ نے کمیٹی کے سامنے پورے واقعے کی تفصیل رکھی اور بتایا کہ پچھلے سال 24 دسمبر کو اس کے ساتھ یہ حادثہ ہوا تھا۔ یہ وہی وقت تھا جب دہلی میں نربھیا کانڈکو لیکر ایک بڑی تحریک چل رہی تھی۔ قابل ذکر ہے دسمبر 2008ء سے 12 تک جسٹس گانگولی سپریم کورٹ کے جج رہے ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ ایک کتاب لکھ رہے ہیں۔ اس کی تصنیف میں یہ لڑکی ان کا تعاون کررہی تھی۔اسی دوران یہ حادثہ ہوا۔ اب متاثرہ ایک این جی او میں کام کررہی ہے۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ چیف جسٹس کو سونپ دی ہے۔ اس میں جسٹس گانگولی کا بیان درج ہے۔ بدفعلی کے الزام میں نام آنے کے بعد وہ خود سامنے آئے اور صفائی دی ۔ کہا میں الزامات سے دکھی ہوں اور مجھے تکلیف پہنچی ہے۔ میں نے جانچ کمیٹی کو بتایا کہ لڑکی کے الزام غلط ہیں۔ نہیں جانتا کے ایسے الزام میرے خلاف کیوں لگے ہیں؟ اس معاملے کا موازنہ تیج پال سے نہیں ہونا چاہئے۔ جسٹس گانگولی نے کہا اس وقت میرے ساتھ دو انٹرن کام کیا کرتی تھیں۔ ایک شادی کے بعد بیرونی ملک چلی گئی اس کی جگہ یہ لڑکی آئی۔ میں نے اس کے لئے پوسٹر نہیں لگائے تھے وہ خود آگئی تھی۔ ہوٹل میں بلاوے کے الزام پرجسٹس گانگولی نے کہا میں دہلی میں تھا وہ بھی دہلی میں تھی اسے پتہ تھا کہ میں دہلی میں ہوں اور وہ خود مجھ سے ملنے آئی تھی۔ ہوٹل میں کام کے بعد میرے ساتھ ڈنر کیا اگر اسے میرے ساتھ کام کرنا اچھا نہیں لگ رہا تھا تو وہ کسی بھی لمحے جا سکتی تھی۔ اس کے بعد وہ کئی بار ملتی رہی اور میرے گھر بھی آئی۔ میں نے اس کے ساتھ ہمیشہ اپنی بچی کی طرح برتاؤکیا۔ بے گناہی ثابت کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا میں ان الزامات کو منفی کیسے ثابت کرسکتا ہوں؟ ٹی وی چینلوں پر جسٹس گانگولی نے کہا میں حالات کا شکار ہوا ہوں لیکن کسی بات کے لئے شرمندہ نہیں ہوں۔ میں نے اس لڑکی سے بھی رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مجھے امید ہے کے لوگ میرے کام کاتجزیہ اس واقعے کی بنیاد پر نہیں کریں گے۔ اس طرح کے الزامات سے سپریم کورٹ میں ایماندار ججوں کا کام کرنا مشکل ہوجائے گا۔ سوال ہے کہ اب آگے کیا ہوگا؟ سپریم کورٹ کے وکیل روہت شنکر کے مطابق معاملہ چیف جسٹس کے پاس ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ پر وہ ہی کوئی ہدایت دے سکتے ہیں۔ اگر انہیں لگتا ہے کہ یہ معاملہ بنتا ہے تو وہ پولیس کو جانچ کرنے کی ہدایت بھی دے سکتے ہیں۔ وہیں دہلی ہائیکورٹ کے وکیل دگپال کا کہنا ہے چونکہ خاتون وکیل نے جوالزام لگائے ہیں اس میں جھول ہے لہٰذا پولیس خود ایف آئی آر درج کر سکتی ہے جیسا کہ ترون تیج پال کے معاملے میں ہوا لیکن چیف جسٹس کے پاس معاملہ ہے اس لئے پولیس ان کے موقف کا انتظار کرے گا۔ اب آگے کا سارا دارومدار چیف جسٹس پی سداشیوم کے ضمیرپر ہے۔
(انل نریندر)

01 دسمبر 2013

دہلی میں پولنگ سے پہلے تین دنوں میں کئی فیکٹر کام کرسکتے ہیں!

دہلی اسمبلی چناؤ میں پولنگ کیلئے مشکل سے تین چار دن بچے ہیں۔یہ دن انتہائی اہمیت کے حامل ثابت ہوسکتے ہیں، خاص کر2 اور3 دسمبر ۔ اس دن کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ابھی تک موصولہ سروے سے لگتا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی آگے چل رہی ہے۔ پولنگ سے ٹھیک پہلے اے بی پی نیوز سروے کے مطابق بھاجپا کے سی ایم امیدوار ڈاکٹرہرش وردھن دہلی کے وزیر اعلی کے لئے پہلی پسند بن کر ابھرے ہیں۔ انہیں34 فیصدی لوگوں نے پسند کیا ہے۔ دوسرے نمبر پر اروند کیجریوال ہیں انہیں 33 فیصد لوگ چاہتے ہیں۔ وزیر اعلی شیلا دیکشت تیسرے نمبر پر ہیں انہیں26 فیصد لوگ پسند کرتے ہیں۔ سیٹوں کے حساب سے بھاجپا کو40، کانگریس کو21، عام آدمی پارٹی کو7 اور دیگر کو 2 سیٹیں ملنے کے آثار ہیں۔ چناوی اشوز میں مہنگائی سب سے بڑا اشو ہے۔ سٹہ بازار کے مطابق بھاجپا اگلی سرکار بنائے گی۔ بھاجپا پر سب سے کم بھاؤلگا ہے۔ دہلی کے چناؤمہم کے آخری دنوں میں یہ اشو اثر ڈال سکتا ہے۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں وزیراعلی دیکشت کا عام آدمی پارٹی سے چناؤ بعداتحاد بارے متنازعہ بیان وزیر اعلی شیلا دیکشت نے چناؤ میں مکمل اکثریت حاصل کرنے میں پیچھے رہنے پر عام آدمی پارٹی سے حمایت لینے سے پرہیز نہ کرنے کے بیان نے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ کانگریس کے کئی لیڈر اسے لیکر حیرت میں ہیں۔ ایک ٹی وی چینل پر شیلا جی سے سوال کیا گیا تھا کہ واضح اکثریت نہ آنے پر کیا ’آپ ‘ کے ساتھ اتحاد کے بارے میں سوچ سکتی ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا ہاں۔ یہیں سے ان کے بیان کو لیکر واویلا کھڑا ہوگیا ہے۔ مطلب آپ کو جیت کا بھروسہ نہیں ہے۔ آپ کو اپنی پارٹی کی حالت پتلی لگ رہی ہے۔ آپ نے اپنی ہار مان لی ہے؟ بھاجپا نے ردعمل پر کہا کہ کانگریس نے ہار مان لی ہے۔ پارٹی لیڈروں کا کہنا ہے کہ اس بیان سے صاف ہے کانگریس ہار رہی ہے۔ اور یہ بھی صاف ہوگیا ہے عام آدمی پارٹی کانگریس کی ’بی‘ ٹیم ہے۔تبھی تو وزیر اعلی کو اتحاد سے پرہیز نہیں ہے۔بھاجپا نیتا اپنی چناؤ مہم میں اسی بیان کو زور شور سے اچھالیں گے۔ بھاجپا کی بات کریں تو وجے جوئلی کی عجیب و غریب حرکت سے کہیں پارٹی کو نقصان نہ ہوجائے۔ تہلکہ کے منیجنگ ایڈیٹر کے عہدے سے مستعفی شوما چودھری کے گھر کے باہر وجے جوئلی کے ذریعے ان کی نام کی پلیٹ اور فرش پر کالک پوت کر کار روکنے کی کوشش جیسی حرکتوں سے پارٹی کو ووٹنگ میں اثر پڑ سکتا ہے۔ دہلی کے سیاسی منظر پر عام آدمی پارٹی اور اروند کیجریوال کا بہت زور شور ہے۔ آپ والے تو یہ دعوی کررہے ہیں اروند کیجریوال تو شیلا دیکشت کو ہرا سکتے ہیں لیکن بہت سے ووٹر یہ بھی کہہ رہے ہیں ’آپ‘ کو ووٹ دینا کہیں اپنا قیمتی ووٹ ضائع کرنے کے برابر نہ ہو کیونکہ آپ اکثریتی سیٹیں جیتنے والی نہیں۔ ایک فیکٹر جس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی وہ ہے مایاوتی فیکٹر۔ بی ایس پی کو اتنی اہمیت نہیں دی جارہی تھی لیکن پارٹی چیف مایاوتی کی دو ریلیوں سے چناوی ماحول میں گرمی آگئی ہے۔ مایاوتی کی ریلیاں چناؤ پر کیا اثر ڈالیں گی اس کا تو 4 دسمبر کو ہی پتہ چلے گا۔ آخر میں بات کرتے ہیں مودی فیکٹر کی۔دہلی میں ان کی تین تین۔ چا چار ریلیاں ہوئی ہیں۔ بھاجپا کا خیال ہے کہ پہلے چھتیس گڑھ میں پھر مدھیہ پردیش میں ووٹ فیصد بڑھنے کی وجہ مودی ہیں۔ اگر یہ ووٹ فیصد بڑھا تو اس کا مطلب ہے نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر مودی کے نام پر بھاجپا کو ووٹ دیا ہے۔ انہیں امید ہے کہ سنیچر کو ہوئی مودی کی ریلیوں کے بعد دہلی میں بھاجپا کی حمایت بڑھے گی لیکن جیسا میں نے کہا یہ سب اندازے ہیں۔ اصلی تصویر تو 8دسمبر کو ہونے والی گنتی کے بعد ہی پتہ چل پائے گی۔
(انل نریندر)

پاکستان میں انتہائی اہم عہدوں پر تبدیلیاں!

پڑوسی ملک پاکستان میں ایک ساتھ کئی اہم عہدوں پر تقرریاں ہوئی ہیں۔ نئے فوج کے سربراہ، نئے چیف جسٹس، نئے وزیر دفاع وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب تبدیلیاں پاکستان کے مستقبل کے لئے کیا اشارہ دیتی ہیں؟ نئے فوج کے سربراہ کے انتخاب کے ساتھ چیف جسٹس کی تقرری اور ساتھ ہی کچھ وزرا ء کے محکموں میں ردوبدل کے ساتھ نئے وزیر دفاع کا اعلان حالانکہ ویسا ہی ہے لیکن یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ لیکن پڑوسی ہونے کے ناطے بھارت سمیت بین الاقوامی برادری اس تبدیلی کا تجزیہ ضرور کرے گی۔ اس تبدیلی کے ساتھ پاکستان کی پالیسیوں اور نقطہ نظر میں کوئی فرق دیکھنے کو ملے گا؟ ’’دودھ کا جلا مٹھا پھونک پھونک کر پیتا ہے‘‘۔ پاکستانی فوج کو اس کا نیا چیف سونپنے میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف نے اس کہاوت کا بخوبی خیال رکھا ہے۔ دنیا کی چھٹی سب سے بڑی فوج کی کمان سنبھالنے والے نئے سربراہ راحل شریف اپنے دیش میں ایک چنتک فوجی کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایسے موقعے پر ذمہ داری سنبھالی ہے جب پاکستان سنگین چیلنجوں سے گزر رہا ہے۔نواز شریف کے لئے یہ چوتھا موقعہ تھا جب انہوں نے فوج کے سربراہ کا انتخاب کرنا تھا۔ پہلے دو موقعوں پر اپنے ہاتھوں سے ہی بنائے فوج کے سربراہوں سے نواز شریف مات کھا چکے تھے اور کرسی کے ساتھ دیش تک چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔ تیسرے موقعے پر چنے گئے فوج کے چیف کو مشرف کی بغاوت کے سبب کرسی پر بیٹھنے کا موقعہ نہیں ملا۔ اس بار نواز شریف نے نیا فوجی چیف چننے میں بہت احتیاط سے کام لیا۔ راحل نے موجودہ سینا چیف جنرل اشفاق کیانی کی جگہ ذمہ داری سنبھالی ہے۔راحل شریف پنجاب سے ہیں۔ ایسے فوجی خاندان سے آتے ہیں جس کے کئی ممبروں نے پاکستانی فوج میں کافی نام کمایا۔ وہ اپنے سابق جانشین اشفاق کیانی کے برعکس جہاد کی سیاست میں اعتماد نہیں رکھتے۔ دہشت گردوں کو دیش کیلئے خطرناک مانتے ہیں۔ راحل کو کئی سینئر افسروں کو نظرانداز کر چیف بنایا گیا ہے۔ نواز شریف پاکستانی فوج کا سیاست میں دخل کم کرنا چاہتے ہیں اس قدم کو اسی نظر سے دیکھا جارہا ہے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ پاکستانی فوج کا پاکستانی پالیسیوں پر کیا اثر پڑے گا؟ پاکستان میں جنٹلمین جج کے نام سے مشہور تصدق الحسین گیلانی کو دیش کا نیا چیف جسٹس بنایا گیا ہے وہ افتخار چودھری کی جگہ لیں گے جنہوں نے کرپشن اور کرپٹ انتظامیہ کے خلاف تحریک کی قیادت کی تھی۔ صدر ممنون حسین نے جیلانی کی تقرری پر مہر لگا دی ہے۔ چیف جسٹس افتخار چودھری کی ساکھ عدلیہ کو مضبوط بنانے والے جج کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ کئی بار حکومت اور طاقتور کردار فوج کے ساتھ ان کے ٹکراؤ کی نوبت آئی اور ان کی کارروائی کے نتیجے میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو عہدے سے ہٹنا پڑا تھا۔ اس وقت کے صدرآصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے معاملے کو دوبارہ کھولنے کے لئے گیلانی کو سوئس حکام کو خط لکھنے سے منع کردیا گیا تھا۔ خواجہ محمد آصف کوپاکستان کا نیا وزیر دفاع بنایا گیا ہے۔ جون میں عہدہ سنبھالنے کے بعد ابھی تک نواز شریف نے یہ عہدہ اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ نئے فوج کے سربراہ ، نئے وزیر دفاع کی تقرری کا پاکستان کی، خاص کربھارت و امریکہ کے تئیں کیا پالیسی ہوتی ہے؟ پاکستان کے اندر بھی چنوتیاں کم نہیں ہیں۔ یہ اہم تبدیلی ہے امید ہے کہ یہ مثبت سمت میں کارآمد ہوں گے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...