Translater

23 فروری 2023

بھاجپا کو 100سیٹوں تک سمیٹا جا سکتا ہے؟

بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے سنیچر کو کہا کہ کانگریس کو راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا سے بنے ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاجپا مخالف پارٹیوں کو متحدہ محاذ بنا نا چاہئے ۔ جنتا دل متحدہ کے لیڈر کا کہنا تھا کہ یہ محاذ جلدی بننا چاہئے تاکہ لوک سبھا میں 300سیٹوں سے زیادہ والی بھاجپا کو اگلے سال ہونے والی عام چناو¿ میں 100سیٹوں تک ہی محدود کیا جا سکے ۔ پٹنہ میں منعقدہ ایک پروگرام میں نتیش کمار نے کانگریس نیتا سلمان خورشید کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا کہ میںکانگریس میں اپنے ساتھیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا بہت کامیاب رہی ۔ لیکن انہیں یہی تک نہیں رکنا چاہئے اس پر کانگریس نیتا سلمان خوشید کا کہنا تھا کہ جہاںتک اپنی پارٹی کے بارے میںمیرا خیال ہے جو آپ چاہتے ہیں وہاںبھی سبھی یہی چاہتے ہیں ۔ کانگریس پر اپوزیشن اتحاد کا دباو¿ بڑھا ہے۔نتیش کمار ،آر جے ڈی لیڈر و نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے ان کے سر میں سر ملاتے ہوئے کانگریس کو اپوزیشن اتحاد کو آگے بڑھنے کی دعوت دی یا یوں کہیں کہ فیصلہ لینے کا دباو¿ بڑھایا ہے۔ بہار میں سماج وادی کانگریس اور لیفٹ پارٹیوں کی اتحاد کی سرکار ہے۔ایک اسٹیج سے نتیش و تیجسوی نے جس طرح کانگریس پر دباو¿ بنایا اس سے صاف ہو گیا ہے کہ گیند اب کانگریس کے پالے میں ہے اب اسی کی طرف سے دیر ہے دوسری اپوزیشن اتحاد ہے بڑی بات چیت ہونے سے سیاسی گلیاروں میںجو غلط فہمی جے ڈی یو و آر جے ڈی کے رشتوں کو لیکر پیدا ہو رہی تھی وہ بھی ایک طرح سے دور ہوگئی ۔ تیجسوی نے کہا کہ نتیش کے ساتھ آنے سے اپوزیشن کو طاقت ملی ہے ۔ اجلا ج میں نتیش سے سلمان خورشید کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی لیڈرشپ سے کہہ دیجئے کہ میری اپنی کو ئی شخصی خواہش نہیں ہے ہماری ایک تمنا ہے سبھی کو متحد کریںگے تو غلطی کرنے والوں سے دیش آزاد ہوگا۔ وہیں کانگریس کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے کانگریس کے 24فروری سے شروع ہورہے اجلا س میں لوک سبھا چناو¿ کیلئے اپوزیشن اتحاد پر غور و خوض ہوگا اور اس کے بعد ہی آگے کا مو قف اپنا یا جائے گا۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ کانگریس کی موجودگی کے بغیر اپوزیشن اتحاد کی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی ۔کانگریس اکلوتی پارٹی ہے جس نے بی جے پی کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہمیں کسی کو سرٹیفیکٹ دینے کی ضرورت نہیں ۔ وہیں اپوزیشن اتحاد کی کوششوں پر طنز کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت داخلہ نتیہ آنند رائے اور ایم پی ششیل مودی اور روی شنکر پر ساد کا کہنا تھا کہ اپوزیشن اتحاد کا مرکز کی مودی سرکار پر کوئی اثر پڑ نے والا نہیں۔ رائے نے دعویٰ کیا کہ 2024میں مہا گٹھ بندھن کا صفایا ہو جائےگا۔ ادھر سشیل مودی نے سوال کیا کہ کیا اپوزیشن دیش اور گجرات کی طرح کمزور سرکار بنانا چاہتا ہے؟ روی شنکر پر ساد نے الزام لگایا کہ جے ڈی یو میں بھگدڑ ہونے کا اشارہ ہے۔سی ایم بہار تو سنبھال نہیں پا رہے ہیں بات مہا گٹھ بندھن کی کر رہے ہیں۔ (انل نریندر)

سوروس کے الزامات پر سیاسی گھمسان !

بھارتیہ جنتا پارٹی نے امریکی بزنس مین جارج سوروس پر جم کر تنقید کی ہے ۔ جمعہ کے روز مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے پریس کانفرنس کر کہا کہ جارج سوروس کا بیان ہندوستان کی جمہوری عمل کو بر باد کرنے کا اعلان ہے ۔جارج سوروس نے جرمنی کے میونخ ڈیفنس کانفرنس میں کہا تھا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی جمہوری نہیںہےں اور مودی کے تیزی سے بڑا لیڈر بننے کی اہم وجہ ہندوستان مسلمانوں کے ساتھ تشدد ہے۔انہوںنے کہ کہ بھارت روس سے کم قیمت پر تیل خرید تا ہے ۔ ان کے مطابق گوتم اڈانی معاملے میں مودی فی الحال ایک پارٹی ہے لیکن غیر ملکی سرمایہ کاروں اور پارلیمنٹ میں سوالوں کا جواب دینا ہوگا۔ اس سے سرکار پر ان کی پکڑ کمزور ہوگی ۔ ان کا یہاں تک دعویٰ تھا کہ اس سے بھارت میں جمہوری عمل کو دوبارہ کھڑاکرنا ہوگا ۔ اس سے پہلے جنوری 2020میں داو¿س میں ہوئی ورلڈ ایکنومک فورم کی اجلاس میں مودی کو نشانے پر لیتے ہوئے سوروس نے کہا تھا کہ بھارت کو ہندو راشٹر وادی ملک بنا یا جارہا ہے۔ جارج سوروس نے اس وقت کہا تھاکہ بھارت کیلئے سب سے بڑا خطرناک جھٹکا ہے جہاں جمہوری طور سے چن کر آئے نریندر مودی بھارت کو ایک ہندو راشٹر بنا رہے ہیں اور یہ بھی کہا تھاکہ مودی کشمیر پر پابندیاں لگاکر وہاں کے لوگوں کو سزا دے رہے ہیں اور شہریت قانون (سی اے اے ) کے ذریعے لاکھوں مسلمانوں کی شہریت چھیننے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ جمعہ کو سوروس پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ غیرملکی سرزمین سے بھارت کی جمہوری ڈھانچے کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان کے مطابق یہ بھارت کے اندرونی معاملے میں دخل اندازی کی کوشش ہے۔ سبھی ہندوستانیوں سے سوروس کا منہ توڑ جواب دینے کی اپیل کی ۔ کانگریس نے بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے ۔ پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور میڈیا چیف جے رام رمیش نے ٹویٹ کرکے کہا کہ پی ایم سے وابسطہ اڈانی گھوٹالہ بھارت میں جمہوریت کو نقصان پہنچاتا ہے یا نہیں یہ پوری طرح کانگریس اپوزیشن ہماری چناوی عمل پر منحصر ہے اس کا جارج سوروس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہمارے نہرو وادی وراثت یقینی کرتی ہے کہ اس سے لوگ ہمارے چناوی نتائج طے نہیں کر سکتے ۔ انہوںنے ٹویٹ کیا کہ جارج سوروس کون ہے؟ بی جے پی کا منترالیہ ان پر پریس کانفرنس کیوں کر رہا ہے؟ ویسے منتری جی بھارت کے چناوی عمل میں اسرائلی ایجنسی کی دخل اندازی پر آپ کچھ کہنا چاہیںگی؟ بھارت کی جمہوریت کیلئے وہ زیادہ بڑا خطرہ ہے۔ تریمنول کانگریس کی لوک سبھا ایم پی مہوا موئترا نے اسمرتی ایرانی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ محترمہ کیبنٹ منتری جی نے ہر ہندوستانی سے جارج سوروس کا منہ توڑ جواب دینے کو کہا ہے۔ آج شام چھ بجے تھالی پیٹیں ۔ جارج سوروس ایک امریکی صنعت کار ہیں ۔ برطانیہ میں انہیں ایک ایسے شخص کی طرح جانا جاتا ہے جس نے 1992میں بینک آف انگلینڈ کو برباد کر دیا تھا۔ (انل نریندر)

21 فروری 2023

جسٹس ایس عبدالنظیر !

افسر شاہی یا عدلیہ سے جڑے لوگوں کو بڑا عہدہ چھوڑتے ہی سرکاری یا سیاسی عہدہ حاصل کرنا چاہئے یا نہیں ؟ اس پر ایک بار پھر بحث چھڑ گئی ہے۔ بحث یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق جج عبدالنظیر کو ریٹائر ہونے کے بعد ہی آندھرا پردیش کا گورنر بنا دیا گیا ہے۔وہ بنیادی طور سے کرناٹک کے رہنے والے ہیںاور اس سال 4جنوری کو جج کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے ۔ وہ سپریم کورٹ میں کئی اہم فیصلے دینے والے بنچ میں شامل رہے ہیں۔ جس میں نومبر 2019میں بابری مسجد رام جنم بھومی جھگڑے پر تاریخی فیصلہ دینے والی مقدمے کی بنچ میں شامل تھے ۔اس طرح وہ نوٹ بند ی کے فیصلے کو بھی چیلنج کرنے والی سماعت کیلئے بنی بنچ کا بھی حصہ تھے ۔ اور اس بنچ کا بھی حصہ تھے جس نے تین طلاق کو ناجائز ٹھہرایا تھا۔ اب جسٹس نظیر کو گورنر بنائے جانے کے فیصلے پر اپوزیشن پارٹیاں سوال اٹھا رہی ہیں۔لیکن جسٹس نظیر ایسے پہلے جج نہیں ہیں جنہیں ریٹائر ہونے کے بعد اہم عہدہ ملا ہے ۔ سال 2014میں سرکار نے سپریم کورٹ کے ریٹائر ڈ چیف جسٹس پی سدا شیوم کو کیرل کا گورنر بنا یا تھا۔ سپریم کورٹ سے ریٹائر ہونے کے بعد وہ اپنے گاو¿ں لوٹ گئے تھے ان کی میعاد متنازعہ نہیں رہی ۔انہوںنے کئی اہم فیصلے دئے ۔حال ہی میں بھارت کے 46ویں چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو سابق صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے مارچ 2020میں راجیہ سبھا کیلئے نامزد کیا تھا۔ کیوں کہ 2019میں ایودھیا تنازعہ پر فیصلہ دینے والی سپریم کورٹ کی بنچ کی سربراہی رنجن گوگوئی نے ہی کی تھی۔ اس کے علاوہ انہوںنے رفائیل سودے کا بھی جائزہ لیا اور راہل گاندھی کے خلاف توہین عدالت کے معاملوں کی بھی سماعت کی ۔ رفائل سودے میں سرکار پر کرپشن کے الزام لگے تھے ۔ لیکن رنجن گوگوئی کی بنچ نے رفائیل سودے کی جانچ کی مانگ کرنے والی عرضی کو خارج کردیاتھا۔ ساتھ ہی انہوںنے جمو ں وکشمیر میں آرٹیکل 370کو چیلنج کرنے والی عرضی کو بھی خارج کردیا تھا۔ یہ معاملہ صر ف ججوں کے سرکار عہدوں پر مقرر کرنے تک محدود نہیں ہے۔ چناو¿ سے ٹھیک پہلے اعلیٰ سول افسر اور اعلیٰ سول پولیس افسران بھی نوکری چھوڑ کرچناوی میدان میں اترتے ہیں ۔ الزام لگتے رہے ہیں کہ وہ کئی بار اپنی نوکری کے آخری دنوںمیں سیاسی آقاو¿ں کی وجہ سے ایسے افسر خاص سیاسی پارٹی کے نزدیک ہو جاتے ہیں جس سے ان کی وفاداری متاثر ہوتی ہے۔ ریٹائرمنٹ کے فوراً بعد سیاست میں داخل ہونے کے معاملے میں چناو¿ کمیشن اور سیاسی پارٹیوں کا شروع سے ہی مخالفت ہو رہی ہے۔ چناو¿ کمیشن نے اسے غلط روایت مانتے ہوئے ریٹائرمنٹ کے بعد کم سے کم دو سال تک چناو¿ لڑنے پر روک لگانے کی تجویز رکھی ہے۔اسے کولنگ آف پیرئڈ بھی کہا جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کی دلیل تھی کہ ریٹائرمنٹ کے بعد پرائیویٹ کمپنیوں میں کام میں بھی کولنگ آف پرییڈ دو سال کا ہوتا ہے۔ حالاںکہ 2015میں اس میں تبدیلی لاتے ہوئے دو سال سے گھٹا کر اسے ایک سال کردیا گیا تھا۔ کانگریس اور اپوزیشن پارٹیوں کا کہنا ہے کہ جسٹس عبدالنظیر کو سرکار کے حق میں اہم مقدموں میں فیصلے اہم فیصلے دینے میں اشتراک کیلئے انعام دیا گیا ہے۔ (انل نریندر)

سرکار کو سپریم کورٹ کا جھٹکا!

اڈانی -ہنڈن برگ معاملے میں ریگولیٹری ادارہ سیبی کے کام کاج کی نگرانی کیلئے ماہرین کی کمیٹی عدالت خود بنائے گی۔اس مسئلے پر چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی بنچ نے جمعہ کو اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ۔ بنچ نے کہا کہ وہ اس معاملے میں حکم جاری کرے گی جس میں کمیٹی بنانے کے بارے میں جانکاری دی جائےگی ۔اور کمیٹی کے ممبران کیلئے ناموں کی تجویز کو مہر بند لفافے میں قبول نہیں کرے گی۔ کیوں کہ عدالت اس معاملے میں پوری شفافیت بنائے رکھنا چاہتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ کمیٹی اس پر کا م کرے گی کہ اس طرح سے معاملوں میں عام سرمایہ کاروں کے مفادات کی حفاظت کیسے ہواب و اس کے لئے سیکورٹی ریگولیٹری کومضبوط کیسے کیا جائے۔ دراصل شیئر بازا ر کیلئے قانونی اقدامات کو مضبوط کرنے کے معاملے میں ماہرین کمیٹی کے مسئلے پر سرکار نے عدالت کی تجاویز کو مہر بند لفافے میں دینے کی تجویز رکھی تھی ۔عدالت نے صاف انکار کردیا کہ بنچ میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس پی ایس نرسمہا ،جسٹس جے بی پاردیوالہ بھی شامل ہیں۔ سپریم کورٹ کانگریس لیڈو جیا ٹھاکر کی عرضی پر سماعت کر رہا تھا۔ عرضی میں بڑی عدالت کی کسی بھی موجود ہ جج کی نگرانی میں جانچ کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ اور ساتھ ہی بڑی تعدادمیں لوگوں کو پیسہ اڈانی کی کمپنیوںمیں سرمایہ لگانے میں بیمہ کارپوریشن اور اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے رول کے جانچ کیلئے گائڈ لائنز دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کی طرف سے پیش وکیل تشار مہتا نے کہا کہ عدالت کسی سابق جج کو تجویز پر تعمیر کرنے کیلئے تقرری کرسکتی ہے۔ لیکن سب ایسا نہ ہو کہ شیئر بازار پر کوئی اثر پڑے ۔ ہم سرمایہ کاروں کی سیکورٹی کیلئے مکمل صاف ستھراپن چاہتے ہیں ہم ایک کمیٹی بنائیں گے۔ عدالت کے تئیں بھروسے کا جذبہ ہوگا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے موجودہ جج معاملے کی سماعت کرسکتے ہیں۔ لیکن وہ کمیٹی کا حصہ نہیں ہو سکتے ۔ امریکہ کمپنی ہنڈن برگ ریسرچ کے ذریعے اڈانی گروپ کی کمپنیوں پر جعل سازی اور شیئر کے دام میں رد وبدل کرنے کے لگائے گئے الزامات کو کسی کمیٹی یا سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں مرکزی ایجنسیوں سے جانچ کرانے والی ایک اور عرضی جمعرات کو عدالت میں داخل کی گئی ۔ مرکز کی طرف سے پیش ہوئے وکیل تشار مہتا نے کہا کہ عدالت کسی سابق جج کو تجویز پر تعمیل کیلئے مقرر کرسکتی ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ شیئر بازار پر کوئی اثر پڑے ۔ لیکن جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ عرضی گزاروں کو آپ نے کمیٹی کے دائرے اختیار کی تجویز سے متعلق دستاویز نہیں دستیاب کرائے ۔ ہم پوری طرح سے شفافیت چاہتے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ ہم سیل بند لفافے میں مرکز کی تجاویز کو قبول نہیں کریںگے۔ ہم شفافیت کو یقینی کرنا چاہتے ہیں۔ (انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...