Translater

10 جون 2016

سوئٹزرلینڈ نے کہانہیں چاہئے کام کے بدلے مفت میں پیسہ

بنا کچھ کئے اور دئے اگر آپ کے کھاتے میں ہر مہینے قریب ڈیڑھ لاکھ روپے ڈالے جائیں، تو آپ کا رد عمل کیا ہوگا؟ سوئٹزر لینڈ میں قریب ڈیڑھ سال سے ایک کمپین چل رہی تھی جس میں مانگ کی جارہی تھی کہ دیش کے سبھی لوگوں کو سرکار کم از کم تنخواہ کی شکل میں ہر ماہ قریب ڈیڑھ لاکھ روپے دئے جائیں۔ بچوں کے لئے قریب42 ہزار روپے اور بڑوں کے لئے 171 لاکھ روپے مہینہ ہو۔ اسے نام دیا ’’یونیورسل بیسک انکم‘‘۔ مانگ نے زور پکڑا اور حمایت میں 1 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دستخط کردئے۔ سوئٹزرلینڈ میں قاعدہ ہے کہ کسی کمپین کی حمایت میں اگر 1 لاکھ سے زیادہ شہری دستخط کردیں تو ووٹنگ کرائی جائے۔ آخر کار ایتوار کو اس طرح اس پہلی رائے شماری کے لئے سوئس عوام نے ووٹ کیا اور شام تک نتیجے آبھی گئے۔ اس کے جو نتیجے آئے وہ بہت چونکانے والے ہوسکتے ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے 78فیصدی لوگوں نے اس عجیب تجویز کو مسترد کردیا۔ صرف22 لوگوں نے تجویز کی حمایت کی۔اس طرح یہ تجویز خارج ہوگئی۔ ایسی مانگ کو اٹھا کر ووٹنگ کرانے والا سوئٹزرلینڈ دنیا کا پہلا ملک ہے۔ اگر تجویز پاس ہوجاتی تو سرکار کو ہر مہینے دیش کے سبھی شہریوں اور پانچ سال سے یہاں رہ رہے غیر ملکیوں کو جنہوں نے وہاں کی شہریت لے لی ہے، بیسک سیلری دینی ہوتی۔ اس مہم کو چلانے والوں کی دلیل تھی کہ دیش میں زیادہ تررو بو کام کررہے ہیں اور فیکٹریاں بھی آٹومیٹک ہوچکی ہیں ایسے میں دیش میں کام کی کمی ہوتی جارہی ہے۔ لوگ بے روزگار ہورہے ہیں۔ کام کم ہونے سے دیش میں غریبی اور بے چینی بڑھتی جارہی ہے۔ ’’یونیورسل بیسک انکم‘‘ لاگو ہونے سے اس پر روک لگے۔ دیش میں 50 فیصدی سے زیادہ کام مفت میں ہوتا ہے۔
بیسک انکم ملنے سے لوگوں کو گھر پریوار کی دیکھ بھال کرنے میں آسانی ہوگی۔ ساتھ ہی سماج میں تبدیلی لانے میں بھی کارگر ثابت ہوگی۔اس کے برعکس تجویز کے مخالفین کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے تو کام کرنے والے بھی مفت کی کھانے لگیں گے۔ سوئٹزرلینڈ کی زیادہ تر سیاسی پارٹیاں بھی اس مہم کے خلاف کھڑی ہوگئیں۔ ایسی تجویز سے معیشت بگڑ جائے گی۔ اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟ بغیر کچھ کئے اگر لوگوں کو ہر ماہ ڈیڑھ لاکھ روپے کی سیلری ملنے لگے گی تو وہ واقعی کچھ کام نہیں کریں گے۔ لوگ نوکریاں چھوڑ کر گھر بیٹھ جائیں گے۔ یہ سماج کے لئے برا ہوگا۔ اگر سوئٹزرلینڈ ٹاپو ہوتا تو ایسا کربھی دیتے۔ یہ قاعدہ لاگو ہوگیا تو دنیا بھر کے لوگ سرحد پار کر یہاں آنے لگیں گے اور پانچ سال رہیں گے اور اس کے بعد بیسک سیلری کی مانگ کرنے لگیں گے۔ حالانکہ سوئس حکومت کے ساتھ ماہرین بھی اس تجویز کی مخالفت میں کھڑے تھے۔ ہیں نہ کام کے لوگ۔
(انل نریندر)

پہلوان سشیل کمار کا ریو جانے کا خواب ٹوٹا

پچھلے کئی دنوں سے پہلوان سشیل کمار بنام پہلوان نرسنگ یادو کا تنازعہ سرخیوں میں چھایا ہوا ہے۔ اولمپک میں دوبار میڈل واحد ایک ہندوستانی کھلاڑی پہلوان سشیل کمار کے ریو اولمپک کوٹا حاصل کرچکے نرسنگ یادو سے ٹرائل کرانے کی عرضی کو دہلی ہائی کورٹ نے خارج کردیا جس میں سشیل کا ریو جانے کا سپنا ٹوٹ گیا۔ ہائی کورٹ نے اس معاملے میں پانچ بار سماعت ہونے کے بعد جسٹس منموہن نے پیر کو اپنا فیصلہ سنایا اور سشیل کی عرضی خارج کردی۔ سشیل کی عرضی خارج ہونے کے بعد یہ صاف ہوگیا ہے کہ ریو اولمپک میں 74 کلو گرام کی فری اسٹائل زمرے میں بھارت کی رہنمائی نرسنگ ہی کریں گے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کھیل کے بین الاقوامی سیکٹر میں میڈل طاقت سے نہیں بلکہ دماغ سے جیتا جاتا ہے۔ کھلاڑی ذہنی پریشانی اور اس کی تیاری باقاعدہ کھیل کو متاثر کرسکتی ہے۔ عدالت نے سشیل کی عرضی خارج کر یہ ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی عرضی سلیکٹڈ کھلاڑی کے جیتنے کے امکانات کو خطرے میں ڈال سکتی ہے جو قومی مفاد کے لئے تباہ کن نتیجہ ہوسکتی ہے۔ اتنا ہی نہیں اس طرح کے اندھیرے میں دیش کو ہار ہی مل سکتی ہے۔ اسی طرح ٹرائل میں کسی کو بھی چوٹ کے امکان کو بھی درکنار نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس منموہن نے کہا کھیلوں میں دیش کی نمائندگی کون کرے گا یہ عدالت کی بہ نسبت ماہرین یعنی نیشنل اسپورٹ فیڈریشن ہی طے کرسکتی ہے۔ 
فیڈریشن کے پاس پاوراور ذمہ داری ہے اور وہ ہی یہ طے کرسکتی ہے کہ کس کھلاڑی میں کیا صلاحیت ہے۔ اسپورٹس کوڈ 2011 میں یہ پابندی نہیں ہے کہ فیڈریشن طے نہیں کرسکتی کھلاڑی کا وہ انتخاب کرسکے۔ اسی طرح اس کوڈ میں ایسی بھی کوئی سہولت نہیں ہے کہ چمپئن شپ سے 2یا3 مہینے پہلے کھلاڑی کے سلکشن کے لئے ٹرائل ہو۔ یہ فیڈریشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ طے کرے کہ بین الاقوامی سطح پر دیش کی نمائندگی کون کرے گا۔ عدالت نے کہا سشیل پیشہ ور پہلوان ہیں اورجانتے ہیں کہ اولمپک سے دو دہائی مہینے پہلے انہوں نے سلیکشن عمل کو چنوتی دی ہے۔انہیں اس بات کا علم ہے کہ اس طرح کے ٹرائل سے بھارت کی جیت کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ سشیل کی عرضی خارج ہونے کے بعد اولمپک سلور ونر پہلوان سشیل پہلوان کی پیروری کرتے ہوئے ان کے گورو مہا بلی ستپال نے کہا کہ ہائی کورٹ کی سنگل بینچ اور سپریم کورٹ میں جانے کا راستہ بھی کھلا ہے۔ ہم نے ابھی امید نہیں چھوڑی ہے۔ دوسری طرف نرسنگ یادو نے کہا کہ میں نے دیش کو اولمپک میں گولڈ میڈل دلانے کی تیاری کرلی ہے اور اس وقت وہ پوری طرح سے کھیل کے لئے وقف ہیں اور تیاری کررہے ہیں۔
(انل نریندر)

09 جون 2016

راہل کی تاجپوشی سے پہلے پارٹی کو دوہرا جھٹکا

ایک طرف آسام اور کیرل میں کراری ہار کے بعد کانگریس نے اترپردیش چناؤ کیلئے اپنی فوجیں سجانے پر منتھن شروع کردیا ہے تو دوسری طرف پارٹی کو سرکردہ افراد کے ذریعے توڑنے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ آئی ٹی حکمت عملی ساز پرشانت کشور کی صلاح پر پارٹی عہدیداران اور امیدوار طے نہیں ہوں گے لیکن انتخاب میں ان کے فارمولہ کو ترجیح دی جائیگی۔ اترپردیش و پنجاب میں پارٹی کی حکمت عملی اور چناؤ کمپین کا پس منظر تیار کررہی ٹیم نے نوجوان لیڈر شپ پر زوردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق راہل گاندھی کے جنم دن 19 جون سے پہلے ان کی ٹیم کی تاجپوشی ممکن ہے اور 19 جون کے بعد انہیں ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے۔دوسری طرف پارٹی کے سینئر لیڈر اور سکریٹری جنرل و سابق ومرکزی وزیر گوروداس کامت نے کانگریس کی ابتدائی ممبر شپ سے استعفیٰ دے کر سیاست سے سنیاس لینے کا اعلان کیا ہے۔ ایشیا کی سب سے بڑی طاقتور ممبئی میٹرو پولیٹن کارپوریشن چناؤ سے پہلے کامت کا استعفیٰ کانگریس کے لئے بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے۔ وہیں کامت کے استعفیٰ بم سے بھاجپا کے ایکناتھ کھڑسے کے قریب جانے کی کانگریس کی خوشی میں بھی خلل پڑ گیا ہے۔ گوروداس کامت44 سال سے کانگریس میں تھے انہیں گاندھی پریوار کا وفادار مانا جاتا رہا ہے لیکن انہوں نے پارٹی ہائی کمان سے ناراض ہوکر اچانک کانگریس سے استعفیٰ دے دیا۔
میڈیا میں بھیجے گئے سندیش میں انہوں نے لکھا ہے کہ گذشتہ چار دہائی سے زیادہ عرصے تک کانگریس میں کام کیا اور پچھلے کچھ مہینے سے سوچ رہا تھا کہ اب پارٹی میں دیگر لوگوں کو بھی موقعہ ملنا چاہئے۔ کانگریس کے لئے دوسرا بڑا جھٹکا پیر کو اس وقت لگا جب چھتیس گڑھ کے سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے سینئر لیڈر اجیت جوگی نے نئی پارٹی بنانے کا اعلان کردیا۔ جوگی کا چھتیس گڑھ میں کانگریس کے پردیش پردھان بھوپیش بگھیل کے ساتھ چھتیس کا آنکڑا ہے انہوں نے پارٹی پر ریاست میں بھاجپا کی بی ٹیم کے طور پر کام کرنے کا الزام لگا کر بغاوت کا جھنڈا پہلے ہی بلند کردیا تھا۔ اپنے بیٹے امت جوگی کے انتخابی حلقے مارواہی میں ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے اجیت جوگی نے باقاعدہ اعلانیہ خط جاری کیا۔ اس میں انہوں نے 2018ء کے اسمبلی چناؤ میں ریاست میں بھرپور اکثریت سے سرکار بنانے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ میرے ساتھ لوگوں کی دعائیں ہیں۔ دلچسپ یہ ہے کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے مستقل مدعو ممبر اجیت جوگی نے ابھی تک نہ تو کانگریس سے استعفیٰ دیا ہے اور نہ ہی پارٹی نے انہیں نکالا ہے۔ چناوی نعرے بازی اور بھاری بارش کے درمیان جوگی نے ریاست کی کانگریس یونٹ پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ اب چھتیس گڑھ کے فیصلے دہلی میں نہیں ہوں گے۔ اب سارے فیصلے چھتیس گڑھ میں ہی ہوں گے۔
(انل نریندر)

نابالغ پر بالغ کی طرح مقدمہ کا تاریخی فیصلہ

دیش میں پہلی بار ایک نا بالغ پر بالغ کی طرح مقدمہ چلانے کا فیصلہ تاریخی ہے۔ میں بات کررہا ہوں دہلی کے سول لائن علاقہ میں ہوئے مرسڈیز ہٹ اینڈ رن معاملے کی۔ اس معاملے میں سنیچروار کو جوینائل جسٹس بورڈ نے نابالغ ملزم کے جرم کو گھناؤنے جرم کے زمرے میں مانتے ہوئے اس کے خلاف سیشن کورٹ میں بالغ کی طرح مقدمہ چلانے کی اجازت دے دی ہے۔ پرنسپل جج نے سنیچروار کو اپنے تاریخی فیصلے میں کہا کہ ملزم کا جرم گھناؤنے زمرے میں آتا ہے۔ بورڈ نے دہلی پولیس کی مانگ کو نا منظور کرتے ہوئے معاملے کی سماعت کے لئے سیشن عدالت میں منتقل کردیا۔
نابالغ پر والد کی مرسڈیز گاڑی چلاتے ہوئے 32 سال کے ایک شخص کو کچلنے کا الزام ہے۔ جس وقت واردات ہوئی لڑکے کی عمر بالغ ہونے سے چار دن کم تھی۔ یہ اس لئے بھی تاریخی فیصلہ ہے کیونکہ جوینائل جسٹس (کےئر اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 2015ء میں ترمیم کے بعد یہ پہلا معاملہ جس میں کسی نابالغ پر بالغ کی طرح سے مقدمہ چلے گا۔ بورڈ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ واردات کے وقت ملزم اس واقعہ کے نتیجے کو سمجھنے کے لئے جسمانی اور ذہنی طور سے بالغ تھا۔ اس کے من میں انسانی جان کے تئیں کوئی ہمدردی نہیں۔ کورٹ کے جج وشال نے دہلی پولیس و متوفی کے رشتے داروں کی عرضی پر سماعت کے بعد سبھی فریقین کو 9 جون کو تیس ہزاری عدالت میں پیش ہونے کی اجازت دی تھی۔ 
چارج شیٹ کے مطابق نابالغ 80 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کار چلا رہا تھا۔ کار کی ٹکر لگنے کے بعد سدھارتھ شرما قریب 15 میٹر دور جاکر گرا۔ نابالغ نے اس کے بعد جے جے بی کے سامنے سرنڈر کردیا تھا جس کے بعد اسے اصلاح گھر بھیج دیا گیا۔ پولیس نے اس معاملے میں مرسڈیز کے مالک اور نابالغ کے والد منوج اگروال کو بھی غیر ارادی قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا بعد میں انہیں ضمانت دے دی گئی تھی۔ اس فیصلے سے نابالغ جرائم پیشہ میں ڈر پیدا ہوگا کیونکہ گھناؤنے جرائم کرنے کے باوجود کم عمر کی آڑ میں وہ بچ جاتے ہیں۔ پیشہ ور ملزم بھی لڑکوں کا گھناؤنے الزامات کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے سنگین جرم میں کسی لڑکے کے گرفتار ہونے سے پہلے اس کی عمر کی دلیل دی جاتی ہے۔ وسنت وہار اجتماعی بدفعلی کانڈ میں سب سے زیادہ بے رحمی بھی ایک نابالغ نے ہی دکھائی تھی لیکن جوینائل ایکٹ کا فائدہ اٹھا کر وہ آسانی سے چھوٹ گیا اوراس واقعہ کے بعد سے ہی نابالغ کی عمر بڑھانے کی مانگ تیز ہونے لگی تھی اور یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی گیا لیکن عدالت نے کوئی ترمیم کرنے سے انکار کردیا۔ ترمیم قانون کے مطابق اب قتل ، بدفعلی جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث 16سے18 سال کے لڑکوں پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ جے جے بی کرے گا۔ بورڈ ہی طے کرے گا کہ مقدمہ اس کے ہاں چلے یا عام عدالت میں۔
(انل نریندر)

08 جون 2016

جے گورو دیو اور ان کے تین چیلوں کی پوری کہانی

متھرا کی پوتر سرزمیں کو خونی لڑائی کا میدان جنگ میں بدل دینے والے رام برکش کی کہانی دراصل اس کے گورو رہے جے گورودیو اور ان کی وراثت سے جڑی ہوئی ہے۔جے گورو دیو کے ٹرسٹ اور ان کی جانشینی کو لیکر الہ آباد ہائی کورٹ میں چلے لمبے تنازعہ میں حقائق چونکانے والے ہیں۔ سنت مت کے تپسوی جے گورو دیو کا اصلی نام تلسی داس مہاراج تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جے گورو دیو نے اپنے جیتے جی ملک و بیرون ملک میں لاکھوں انویائیوں کے ساتھ ساتھ تقریباً15 ہزار کروڑ کی جائیداد بنائی اور ان کے 250 سے زیادہ آشرم ،3 مذہبی اور چیریٹیبل ٹرسٹ قائم کئے۔ مئی 2012ء میں ان کی موت تو ہوئی ان سب پر دعوی کرنے کے لئے 3 نام سامنے آئے ان میں سے ایک تھا رام برکش یادو۔ جے گورو دیو کی موت کے بعد متھرا کے ان کے آشرم میں13 ویں پر بھنڈارے کے فوراً بعد ان کے ششیہ پھول سنگھ نے ایک خط ممبران کو پیش کیا ۔ اس میں بتایا گیا کہ جے گورو دیو نے پنکج کمار یادو کو ٹرسٹ کا چیئرمین مقرر کیا ہے۔ پنکج ہی ان کی ڈرائیور تھا اور بعد میں قریبی ہوگیا۔ اس نے ہی جے گورو دیو کی چتا کو آگ دی تھی۔ بعد میں اور دعویدار سامنے آئے اور جے گورو دیو کی جانشینی کا تنازعہ متھرا ضلع عدالت و الہ آباد ہائی کورٹ جا پہنچا۔ پنکج یادو نے ڈپٹی رجسٹرار کے سامنے دعوی کیا کہ جے گورو دیو نے انہی ہی چیئرمین نامزدکیا تھا۔ پنکج کو ٹرسٹ کا چیئرمین بنائے جانے کو جے گورو دیو کے دوسرے ششیہ اما کانت تیواری نے تسلیم ہیں کیا۔ اس نے خود کو چیئرمین کی شکل میں مخاطب کروانا شروع کردیا اور اجمیر میں ایک دھرم سبھا میں خود کو قانونی طور سے چیئرمین کی شکل میں پیش کیا۔جب معاملہ ہائی کورٹ پہنچا تو اما کانت نے بھی ایک فہرست ڈپٹی رجسٹرار کے سامنے پیش کی جس میں خود کو جے گورودیو دھرم کا پرچارک تنظیم کا صدر بتایا۔ جانشینی کے تنازعہ میں تیسری کڑی رام برکش یادو تھی۔ وہ1980ء میں جے گورو دیو کے رابطے میں آیا اور بابا کی دوردرشی پارٹی سے غازی پور سے چناؤلڑا مگر ہار گیا۔ متھرا میں جے گورو دیو دھرم پرچارک سنستھا کے ساتھ کام کرنے کے دوران 2006 ء میں اس کے جارحانہ برتاؤ کی شکایت جے گورو دیو کے پاس پہنچی ، اس پر اسے سنستھا سے ہٹا دیا گیا۔تب رام برکش نے سوادھین بھارت سنگٹھن بنایا۔ جے گورو دیو کی موت کے بعد اپنے حمایتیوں کی طاقت پر خود کو ان کے جانشین کے طور پر دیکھنے لگا۔ ان کے حمایتیوں میں زیادہ تر جے گورو دیو کے انویائی تھے۔ اپنی جبراً مانگوں کو منوانے کیلئے وہ ’سوادھین بھارت ودھک ستیہ گرہ‘ کرنے کے نام پر کئی حمایتیوں کو مدھیہ پردیش سے لاکر 11 جنوری 2014ء کو دہلی کے لئے چلا۔ مہاراشٹر، گجرات، راجستھان ہوتے ہوئے متھرا پہنچا اور جواہر باغ میں آکر جم گیا۔ یہاں جے گورودیو کے انویائی رام برکش سے جڑتے گئے اور پونے تین سو ایکڑ کے جواہر باغ میں پورا گاؤں بسادیا۔جانشینی کے اس پورے تنازعہ میں کہیں نہ کہیں جے گورو دیو کے ذریعے اکھٹی کی گئی پراپرٹی اور پیسے کی رغبت بھی تھی۔2012ء میں جے گورو دیو کی موت کے بعد میڈیا رپورٹ میں سامنے آئی معلومات کے مطابق ٹرسٹ کے پاس12 ہزار کروڑ اور 15 ہزار کروڑ کے درمیان املاک تھی۔ وہیں بینکوں میں ٹرسٹ کے 100 کروڑ روپے جمع تھے۔ دوسری طرف جے گورو دیو کی کاروں کے بیڑے میں بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز بینچ سمیت 250 کاریں شامل ہیں ان کی قیمت150 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ جواہر باغ میں قبضہ جمائے بیٹھے لوگوں کی قیادت کرنے والے رام برکش یادو کا بریڈ روم کسی راجہ سے کم نہیں تھا۔ اس نے ضلع باغبانی افسر کو بھگا کر ان کی رہائش گاہ پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس رہائش گاہ کو اس نے اپنی آرام گاہ بنا لیا تھا۔اس گھر میں اس کے لئے سوئمنگ پول کا بھی انتظام تھا۔ مکان میں بنے بیڈ روم میں اے سی لگا تھا۔ڈبل بیڈ پر اچھی کمپنی کے گدے پڑے ہوئے تھے۔ ڈریسنگ ٹیبل پر برانڈڈ تیل اور پرفیوم وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔بیڈ روم میں کئی طرح کے اچار کے ڈبے بھی تھے۔ مکان کے باہر تیار سوئمنگ پول میں وہ نہایا کرتا تھا۔ ایک چونکانے والی حقیقت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ رام برکش یادو 3 ہزار لوگوں کا پورا خرچ یوں ہی نہیں اٹھاتا رہا۔ اس کے اڑیسہ، جارکھنڈ، چھتیس گڑھ کے نکسلیوں سے روابط تھے ۔ وہاں سے لاکھوں کی رقم ہر مہینے اس کے لئے آتی تھی۔جواہر باغ میں رہنے والے قبضہ داروں کو وہ کمانڈر کی طرح ہدایت دیاکرتا تھا۔ جواہر باغ کے اندر بھنڈار گرہ میں پولیس کو ایک بھیگا اور موٹا رجسٹر ملا تو اس میں رام برکش یادو اور اس کی مبینہ آزاد ہند سرکار کو ملنے والی اقتصادی مدد اور خرچ کی پوری تفصیل درج تھی۔ اس میں اڑیسہ کے رنگ لال راٹھور سے ہر ماہ 22 لاکھ روپے ملنا درج ہے۔بنارس کے نارائن سنگھ سے 10 لاکھ روپے، قنوج کے مان سنگھ سے 7 لاکھ روپے اور اناؤ کے ایک شخص سے 8 لاکھ روپے سے زیادہ رقم ملنے کی تفصیل بھی درج ہے۔ اس کے علاوہ نکسلی متاثرہ شہروں میں اڑیسہ ، جھارکھنڈ اور ساردھا کی پہاڑیوں میں واقع نکسلی علاقہ کے درجنوں لوگوں کے نام اور لاکھوں کی رقم کے بھنڈارے کے نام کی تفصیل درج ہے۔ جواہر باغ کا ماسٹر مائنڈ رام برکش 22 لاکھ کی پزیرو گاڑی میں باہر نکلتا تھا ساتھ ہی 5سے7 گاڑیوں کے قافلے میں 24 سے زیادہ لوگ ہوا کرتے تھے۔ یہ معاملہ صرف ناجائز قبضے کا نہیں ہے اس کے پیچھے بہت کچھ چھپا ہے۔
(انل نریندر)

محمدعلی دی گریٹسٹ

باکسنگ کی دنیا کے جادو گر محمد علی کلے پاکیسن مرض سے 32 سال لڑنے کے بعد اپنی آخری لڑائی ہار گئے۔ دو دہائی تک باکسنگ ونگ میں راج کرنے والے 74 سال کے اس عظیم امریکی مکہ باز نے جمعہ کو دیرشام ایریزونا کے فنکس میں واقع ہسپتال میں آخری سانس لی۔6فٹ 3 انچ لمبے دنیا کے ہیوی ویٹ باکسنگ چمپئن کی پیدائش 17 جنوری 1942ء کو لوئس ولیم میں ہوئی تھی۔ ان کا بچپن کا نام کے سی ایس کلے تھا لیکن سیاہ فاموں کے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والے کے سی ایس نے 1964 میں اسلام اپنا لیا اور پھر انہیں ’محمد علی‘ کے نام سے جانا جانے لگا۔ وہ تین بار 1964,1974 اور 1978ء میں ورلڈ ہیوی ویٹ چمپئن بنے۔ علی رنگ کے جتنے تیز اور پھرتیلے اور چاق و چوبند تھے اتنے ہی بلند ان کے خیالات تھے۔ چاہے بات ویتنام جنگ میں شامل ہونے سے انکار کرنے کی ہو، خود کو گریٹسٹ اعلان کرنے کی ہو یا پھر سیاہ فاموں کے حق میں کھڑے ہونے کی ہو، انہوں نے کبھی اپنے قدم پیچھے نہیں کھینچے۔ علی1980ء میں دہلی بھی آئے تھے اور بھارت ہیوی ویٹ باکسر کورسنگھ اور برج موہن سنگھ سے دو دو ہاتھ کئے تھے۔ کور سنگھ کو یاد ہے کہ انہوں نے علی سے چار راؤنڈ کی فائٹ لڑی تھی۔ انہیں لگا علی صحیح سے نہیں لڑ پا رہے ہیں باوجود اس کے وہ ان کے کہیں آس پاس نہیں تھے۔ بعد میں سنگھ نے 1982ء کے ایشیائی کھیلوں میں گولڈ میڈل جیتا۔ امریکہ میں60 سے70 کی دہائی میں نسل پرستی حاوی تھی۔ علی 1960 ء میں روم اولمپک میں گولڈ میڈل جیت کر جبکہ امریکہ میں ایک ریستوراں میں ڈنر کرنے گئے تو ویٹر نے ایک سیاہ فام کا آرڈر لینے سے منع کردیا۔ اس بے عزتی سے دکھی علی نے باہر آکر غصے میں اپنا گولڈ میڈل یہ کہتے ہوئے پھینک دیا کہ جس دیش میں اس قدر نسلی تعصب ہو وہاں کا میڈل مجھے نہیں پہننا۔علی نے مذہبی اعتقادوں اور ویتنام جنگ کے خلاف 1967ء میں امریکی فوج میں بھرتی ہونے کے لئے منع کردیا۔ ان کو اس معاملے میں گرفتار کیا گیا اور ان کا مکہ بازی کا خطاب چھین لیا گیا۔ وہ تین سال لڑ نہیں سکے۔ بعد میں وہ قانونی لڑائی جیتے ۔ محمد علی نے ’دی گریٹسٹ‘ یعنی ’عظیم‘ کا خطاب بھلے ہی باکسنگ میں اپنی مہارت کی بدولت حاصل کیا ہو لیکن ان کی زندگی اور شخصیت میں اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ایسا تھا جو انہیں اس خطاب کا حقدار بناتا تھا۔ علی 9 سال تک باکسنگ رنگ میں نہیں اترے لیکن کبھی بھی وہ اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے۔ آج جب امریکہ میں سیاہ فام اور گوروں کے درمیان خلیج چوڑی ہوتی دکھائی دے رہی ہے اور بھارت میں بھی بات بات پر ملک دشمنی کا ٹھپہ لگنے کا ٹرینڈ تیز ہو رہا ہے تب محمد علی کی زندگی اور جدوجہد سے سبھی کو تلقین حاصل کرنی چاہئے۔
(انل نریندر)

07 جون 2016

متھرا کی اس کنس لیلا میں بھاری قیمت چکانی پڑی

کلیگ کے کنس نے متھرا کی سرزمیں پر ایسا خونی کھیل کھیلا جسے کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔ اس میں ہم نے پولیس کے دو جوانوں کو کھودیا۔ یوں تو قبضہ ہٹانے کے سلسلے میں پولیس فورس کا استعمال پرتشدد احتجاج کی بہت سی مثالیں مل جائیں گی لیکن اترپردیش کے متھرا کے جواہر باغ کے ناجائز قبضے داروں کو ہٹانے کی جیسی قیمت چکانی پڑی اس کی دوسری مثال شاید ہی ملے۔ قبضہ ہٹانے پر پولیس ٹیم پر قبضہ داروں نے حملہ کردیا،دستی گولے پھینکے، گولیاں چلائیں۔ قبضہ داروں کو ہٹانے کے لئے پولیس ٹیم کے لیڈر ایس پی سٹی مکل دویدی کی موت گولی سے نہیں ہوئی ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ رام برکش یادو اور ان کے غنڈوں نے دویدی کو چاروں طرف سے گھیر کر لاٹھی ڈنڈوں سے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں آیا ہے کہ ایس پی سٹی کے سر کی کئی ہڈیاں ٹوٹی ہوئی تھیں وہیں ان کے جسم کے کئی حصے میں گہری چوٹ کے نشان پائے گئے۔ متھرا میں جے گورو دیو سنگٹھن سے نکلے بھارت ودھک سنگھ کے مبینہ ستیہ گرہیوں نے قریب دو سال پہلے متھرا کے جواہر پارک پر قبضہ کیا ہوا تھا جو کہ محکمہ باغبانی کی جائیداد ہے۔ ہائیکورٹ کے حکم کے بعد قبضہ ہٹانے کے لئے پولیس ایک ٹکڑی بدھوار کی شام جواہر باغ کی ٹوہ لینے گئی تھی تو ستیہ گرہیوں نے اس پر بم اور گولیوں سے حملہ کردیا۔ پولیس کو ایسے تشدد کی کوئی امید نہ تھی اور ایس پی سٹی اور تھانہ انچارج مارے گئے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں 22 لوگوں کی موت ہوگئی اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔ سمجھنا مشکل ہے کہ پولیس نے اتنی لاپروائی کیوں برتی جبکہ یہی لوگ پہلے بھی اس پر حملہ کرچکے تھے۔ انتظامیہ نے 15 فروری 2015ء کو ہی رپورٹ بھیج کر کہہ دیا تھا کہ قبضہ داروں کے پاس اسلحہ ہے یہ لوگ کبھی بھی ماحول بگاڑ سکتے ہیں۔ حالات کبھی بھی خراب ہوسکتے ہیں مگر پولیس اور انتظامیہ کی اس مشترکہ رپورٹ پر حکومت نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ جواہر باغ خالی کرانے کی کوشش کافی عرصے سے چل رہی تھی۔ خفیہ محکمہ بھی اس مسئلے پر سرکار کو رپورٹ دیتا رہا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ آزاد بھارت ودھک ستیہ گرہ اور سوادھین بھارت سبھاش سینا کے بینر تلے کئی لوگ رام برکش یادو کی لیڈر شپ میں سرکاری جواہر باغ میں پلاسٹک کی پٹیوں سے جھونپڑیاں تیار کررہے ہیں یہ لوگ بابا جے گورو دیو کی موت کا ثبوت نامہ، سوادھین بھارت کی کرنسی نافذ کرنے اور ایک روپے میں 60 لیٹر ڈیزل دینے کی مانگ کرتے ہیں۔ ضلع افسر نے چیف سکریٹری کو اس خط میں یہ بھی بتایا تھا کہ ان لوگوں کی تعداد 5 سے6 ہزار تک ہے اور اس کے پاس ناجائز اسلحہ بھی ہے جن کا استعمال وہ کرسکتے ہیں۔ جواہر باغ کو رام برکش یادونے چھاؤنی میں تبدیل کرلیا تھا اوراس کی مرضی کے بغیر کوئی باغ میں آ جا نہیں سکتا تھا، پولیس بھی نہیں۔ اس کی دہشت ایسی تھی کہ باغ میں موجود ضلع باغبانی افسر و اراضی تحفظ افسر ، ضلع زرعی افسر اپنے دفتر اور سرکاری گھر چھوڑ کر چلے گئے تھے۔باغ کا داخلہ گیٹ ایس پی کے دفتر سے ملا ہوا تھا۔ایسا نہیں کہ متھرا کے ایس پی سٹی مکل دویدی کو خطرے کا احساس نہیں تھا۔ ان کے پاس ایک جانکاری پہنچی تھی کہ احتجاجیوں کے پاس نہ صرف اے کے۔47 ہے بلکہ جواہر باغ میں بارودی سرنگیں بھی بچھائی گئی ہیں۔ پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ انہیں افسروں نے ہدایت دی تھی کہ جواہر باغ کو جمعرات تک خالی کرانا ہے۔ یہ بھی خیال رہے کہ پولیس گولی نہ چلائے ورنہ معطل کردیا جائے گا۔ مکل نے یہ بات اپنے قریبیوں کو سمجھا دی تھی۔ ان لوگوں میں سے ایک نے بتایاکہ وہ بہت کشیدگی میں تھے جب جواہر باغ پہنچے تو بہت کم فورس تھی ان کے پاس باڈی پروٹیکٹر اور بلٹ پروف جیکٹ بھی بہت کم تھے، اسی کا نتیجہ رہا کہ ان کی اس حادثے میں موت ہوگئی۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک 70 سال کا آدمی دو سال تک بم اور طمنچے، گولہ بارود کی طاقت پر پورے دیش کو چنوتی دیتا رہے اور سرکاروں کو بھنک نہیں لگے؟کھلے عام کلیکٹریکٹ کی دیواروں پر خود کی کرنسی نہ ماننے والوں کو دیش چھوڑنے کا فرمان دے اور پرارتھنا کی شکل میں صبح شام بھارت مخالف گیت گائے گئے، پھر بھی نہ پولیس کو پتہ چلے اور نہ ہی آئی بی، سی آئی ڈی کو؟ ناممکن یہ صرف ایک تشدد کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ دیش کی سلامتی سے بیحد سنگین معاملہ ہے۔ بغیر سیاسی سرپرستی کے کسی کی مجال نہیں کے وہ اپنا خودساختہ اقتدار قائم کرلے، سینکڑوں ایکڑ زمین قبضہ لے اور بھاری بھرکم ہتھیار جمع کرلے اور کوئی کارروائی نہ ہو؟ جب جانباز پولیس والے اس آتنکی فوج سے لڑرہے تھے تو لکھنؤ میں بیٹھے حکومت نے فوری کارروائی کے احکامات کیوں نہیں دئے؟ ریاست کے وزیر شیو پال یادو کا نام کیوں آرہا ہے؟ کیا اکھلیش سرکار نے جان بوجھ کر اس آتنکی کو پنپنے دیا؟ یا پھر انہیں کچھ پتہ نہیں تھا؟ دونوں ہی صورت میں سرکار اور انتظامیہ ناکارہ ثابت ہورہی ہے۔ جس صوبے میں اگلے سال اسمبلی چناؤ ہونے والے ہیں اس کے ایک بیحدحساس ترین شہر میں ہتھیاروں کے ذخیرے پر پولیس انتظامیہ کی لاچاری بہت کچھ بیاں کردیتی ہے۔ تنظیم کی آڑ میں کچھ لوگ اپنی دبنگئی قائم کرنے اور سرکاری املاک پر قبضہ کرنے کی فراق میں تھے۔ متھرا کا یہ واقعہ اکیلا نہیں ہے دیش میں نہ جانے کتنے چالاک لوگ ادھیاتم کے نام پر اپنا سامراجیہ چلا رہے ہیں۔ ان ڈیروں میں بڑھتے ہتھیاروں کا جماوڑہ بھی تھا۔
(انل نریندر)

اپولو میں کڈنی ریکٹ کا سنسنی خیز پردہ فاش

روپیوں کا لالچ دے کر غریب کی کڈنی امیر لوگوں کے جسم میں لگوانے والے کڈنی ریکٹ کا پردہ فاش کرتے ہوئے دہلی پولیس کے 5 لوگوں کو گرفتار کرنے کی خبر چونکانے والی ہے۔اس سے بھی زیادہ چونکانے والی بات یہ ہے کہ اس کڈنی ریکٹ میں اپولو جیسے نامی گرامی ہسپتال کے دو معاون اسٹاف کی شمولیت پائی گئی ہے۔ اپولو ہسپتال میں پکڑے گئے اس کڈنی ریکٹ میں پچھلے چھ مہینوں میں پانچ معاملوں کا ریکارڈ مل چکا ہے۔ویسٹ بنگال اور کانپور سے غریب لوگوں کو دہلی لاکر ان کے فرضی دستاویز تیار کر امیر لوگوں کو کڈنی بیچی جاتی رہی تھی۔ گرفتار ہسپتال کے دو معاون اسٹاف کی پہچان ادتیہ سنگھ اور سیلیش سکسینہ کی شکل میں ہوئی ہے۔ دونوں ملزم اپولو ہسپتال میں بطور کنسلٹنٹ ڈاکٹر کے نجی معاون کے طور پر کام کرتے تھے۔ اس کے علاوہ گرفتار کئے گئے تین ملزمان کی پہچان عاصم سکندر(37 سال)، ستیہ پرکاش (30 سال) اور دیو آشیش مولی (30 سال ) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنوب مشرقی رینج کے پولیس کمشنر آر پی اپادھیائے نے بتایا کہ 30 مئی کو سریتا وہار تھانہ پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ پیسے کا لالچ دے کر ایک گروہ لوگوں کو کڈنی ڈونیٹ کرنے کے لئے تیار کرتا ہے۔ فرضی دستاویزات کے ذریعے ثابت کیا جاتا ہے کہ کڈنی ڈونر اور مریض ایک ہی خاندان کے فرد ہیں۔ جانچ میں اپولو ہسپتال کے اسٹاف کے چامل ہونے کی بھی بات آئی۔2 جون کو ڈونر اور مریض کے درمیان ملاقات کی اطلاع کی بنیاد پر پولیس نے چھاپہ ماری کر ستیندر، ستیہ پرکاش اور مولی کو گرفتار کیا۔ ٹرانس پلانٹ کے لئے کڈنی دستیاب کرانے کے عوض مریض کے رشتے داروں کو20 سے25 لاکھ روپے وصولے جاتے تھے۔ وہیں ان پیسوں میں سے محض 3-4 لاکھ روپے کڈنی ڈونیٹ کرنے والے شخص کو دے دئے جاتے تھے۔ اپولو ہسپتال میں کڈنی کا علاج کروا رہے ایسے مریضوں پر ادتیہ اور شیلیش کی نگاہ رہتی تھی۔ ان کی جانکاری ملزم کڈنی ریکٹ میں سرگرم افراد کو دے دیتے تھے جو کڈنی مریض کے رشتہ داروں سے رابطہ قائم کرسودے بازی میں لگ جاتے تھے۔ اپولوہسپتال نے پولیس کی جانچ میں تعاون کا یقین دلایا ہے۔ دہلی کے وزیر صحت ستیندر جین کا کہنا ہے کہ انہیں میڈیا کے ذریعے اطلاع ملی جس میں پتہ چلا ہے کہ اپولو میں اس معاملے کو لیکر گرفتاریاں ہوئی ہیں اور کہا کہ آرگن ٹرانسپلانٹ کی اجازت نہیں دیتا۔ اس معاملے سے جڑے سبھی لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ دہلی، یوپی، پنجاب، مغربی بنگال، تاملناڈو میں بھی یہ دھندہ چل رہا ہے۔ عموماً آرگن ٹرانسپلانٹ ایکٹ 1994 کے مطابق صرف خون کے رشتے والے ہی ایک دوسرے کو اپنا آرگن ڈونیٹ کرسکتے ہیں۔
(انل نریندر)

05 جون 2016

14 سال دیری سے ہی صحیح گلبرگہ سوسائٹی فیصلہ

آخرکار 14 سال بعد ہی صحیح گجرات کے 2002ء کے دنگوں کے سب سے زیادہ سرخیوں میں چھائے معاملوں میں سے ایک گلبرگہ سوسائٹی میں ہوئے قتل عام کیس میں فیصلہ آہی گیا۔ گجرات میں گودھرا کے بعد 27 فروری 2002ء کو 59 لوگوں کو زندہ ریلوے بوگی میں جلانے کے بعد چمن پورہ علاقہ میں واقع گلبرگہ سوسائٹی پر 20 ہزار لوگوں نے حملہ بول دیا تھا۔ جس میں69 لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔ 39 لاشیں تو برآمد ہوگئی تھیں جبکہ کانگریس کے سابق ایم پی احسان جعفری و 14 سال کے ایک بچے اظہر مالی سمیت 31 لوگ لاپتہ ہوگئے تھے۔ 7 سال بعد ان 31 میں سے30 کو مردہ قرار دے دیا گیا اور مظفر شیخ 2008ء میں زندہ ملے۔ ان کو ایک ہندو خاندان نے پالا اور نام وویک رکھا۔ یہ دنگا اس وقت کے گجرات کے حالات کو سمجھنے کے لئے کافی ہے، جہاں گلبرگہ سوسائٹی سمیت9 بڑے معاملوں کی جانچ سپریم کورٹ نے ایس آئی ٹی کے ذریعے اپنی نگرانی میں لے لی تھی۔14 سال دیری کے بعد ایک خصوصی عدالت نے تشدد اور قتل کی ایک خوفناک واردات کے لئے 24 لوگوں کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ اس معاملے کے قصورواروں میں 11 پر قتل کا جرم ثابت ہوا ہے۔ وشو ہندو پریشد کے لیڈر اتل وید سمیت باقی 13 کو دیگر الزامات میں بری کردیا گیا ہے۔ اسپیشل سرکاری وکیل نے کہا کہ ہم 11 قصورواروں کے لئے موت جبکہ 13 قصورواروں کے لئے 10-12 سال جیل کی مانگ کریں گے۔سزا کتنی ہوگی اس کا اعلان 6 جون یعنی پیر کو ہونے والا ہے۔ عدالت نے 36 ملزمان کو بری کردیا۔ ان میں بی جے پی کے کونسلر وپن پٹیل، کانگریس کے کونسلر مید سنگھ چودھری اور گلبرگہ سوسائٹی علاقہ کے اس وقت کے پولیس انسپکٹر رہے کے ۔ جی۔ اریڈا بھی شامل ہیں۔ جمعرات کو فیصلہ سنانے میں جج ٹی۔ وی۔ ڈیسائی نے محض 20 منٹ کا وقت لیا۔ سب سے پہلے بری کئے گئے ملزمان کے نام پکارے اور کہا آپ سب کھڑے ہوجائیں۔ میں آپ کے چہرے پر ہنسی دیکھنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد انہوں نے قصورواروں کے نام لئے اور کہا کہ ان کی سزا کا اعلان 6 جون کو کیا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد2002ء کے گجرات دنگوں کے9 میں سے8 معاملوں میں فیصلہ آچکے ہیں۔ اب صرف ایک نروڈہ گاؤں کا فیصلہ آنا باقی ہے۔ ان دنگوں میں اپنا سب کچھ گنوا چکے لوگوں کو لمبی قانونی لڑائی لڑنی پڑی اور کہا نہیں جاسکتا ان کی لڑائی ختم ہوگئی ہے ۔ خاص طور سے اس لئے کیونکہ عدالت نے اس علاقہ کے بھاجپا کونسلر وپن پٹیل سمیت36 لوگوں کو بری کردیا ہے۔ دوسری طرف جن لوگوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا ہے وہ بھی اس فیصلے کو چیلنج کرسکتے ہیں۔ آخر کار متاثرین کو انصاف ملا لیکن اگر فیصلہ آنے میں اتنی زیادہ دیری نہیں ہوتی تو شاید متاثرین کو زیادہ تشفی ہوتی اور ساتھ ہی فیصلے کا اثر بھی کہیں زیادہ ہوتا۔ یہ فطری ہے کہ اس فیصلے سے سبھی مطمئن نہیں اور ناراضگی کی وجہ یہ ہے ایک تو عدالت نے 24 میں سے11 لوگوں کو ہی قتل کا قصوروار پایا ہے اور 36 ملزمان کو بری کیا ہے۔ دوسرے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ واردات کے پیچھے کوئی مجرمانہ سازش تھی۔ دیکھنا یہ ہے کہ اونچی عدالتیں ،اسپیشل عدالت کے فیصلے میں کوئی ردوبدل کی ضرورت محسوس کرتی ہیں یا نہیں؟ جو بھی ہو ، زیادہ ضروری یہ ہے کہ بڑی عدالتوں کا فیصلہ آنے میں اور زیادہ دیری نہ ہو۔ اس وقت گجرات کے وزیر اعلی ہونے کے ناطے فطری طور سے نریندر مودی سب کے نشانے پر تھے اور جعفری کی بیوی زکیہ جعفری نے انہیں بھی ملزم بنائے جانے کی عرضی دائر کی تھی لیکن ایس آئی ٹی نے مودی کو کلین چٹ دے دی۔ اس فیصلہ کی چاہے جیسے بھی تشریح کی جائے اس کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ گجرات میں تشدد اور قتل کی جو سنگین وارداتیں ہوئی تھیں ان میں سے8کا فیصلہ آچکا ہے۔ اس پر تعجب نہیں کہ گلبرگہ سوسائٹی کے اس واقعہ پر خصوصی عدالت کا فیصلہ آتے ہی سیاسی رد عمل کا دور بھی شروع ہوگیا ہے اور کچھ سیاسی پارٹیوں کی طرف سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ گلبرگہ قتل عام سمیت جو دیگر سنگین واقعات رو نما ہوئے ان کی سازش اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی طرف سے ہی رچی گئی تھی۔ ظاہر ہے کہ ان کا اشارہ گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی کی ہی طرف ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ اس حقیقت کو جان بوجھ کر نظرانداز کرنا چاہتے ہیں کہ گلبرگہ معاملہ میں اسپیشل جانچ ٹیم کی طرف سے نریندر مودی سے بھی پوچھ تاچھ کی گئی تھی اور اس نے یہ بھی پایا تھا کہ دنگے کے اس واقعہ اور دیگر واقعات میں ان کا کوئی رول نہیں تھا۔ ایس آئی ٹی کے اس نتیجے پر دیش کی سب سے بڑی عدالت نے بھی اپنی مہر لگائی تھی لیکن مودی مخالف لابی اسے ماننے کو تیار نہیں اور اب بھی کہہ رہی ہے کہ دنگے اس وقت کی سرکار کی سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ ہیں۔ نریندر مودی کی میڈیا ٹرائل بھی 14 سال سے چل رہی ہے اور رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ کوئی بھی گودھرا میں مارے گئے درجنوں کارسیوکوں کو زندہ جلانے کے انتہائی تکلیف دہ واقعہ پر بحث نہیں کرنا چاہتا۔ یہ حقیقت سبھی کو دھیان میں رکھنا چاہئے کہ ہمارے دیش میں دنگوں کے قصورواروں کو مشکل سے ہی سزا سنائی جاتی ہے۔گجرات دنگوں سے کہیں زیادہ سنگین 1984ء کے سکھ دنگے تھے اور یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور توقع سے کم ہی لوگوں کو سزا سنائی گئی ہے۔ شاید یہ ہمارے سسٹم کی خامی ہے کہ کئی بار پورے سماج کو یہ اشو قانون کی نظر میں سچ ثابت ہونے میں محروم رہا ہے۔
(انل نریندر)

امریکہ میں دوائیوں کی اوور ڈوزباء بن گئی

دوائیں کبھی کبھی موت کا سبب بن جاتی ہیں۔ ایسے ہی ایک دوا ہے ’اوپی اوریڈ‘ اس کے بیجا استعمال سے امریکہ میں سنگین بحران کھڑا ہوگیا ہے۔ 1999ء کے بعد سے امریکہ میں ڈاکٹروں کے ذریعے تجویز اس دوا کی اوور ڈوز کے معاملہ میں چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کا بیماری کنٹرول مرکز (سی ڈی سی) کے مطابق 2014ء میں دوائیوں کی اوور ڈوز سے47 ہزار امریکیوں کی موت ہوئی ہے۔ جس میں سے60 فیصد سے زیادہ اموات اوپی اوریڈ کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ امریکہ میں ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈ میں ہر دن1 ہزار سے زیادہ افراد اس گولی کے دئے جانے کے بیجا استعمال کاعلاج کرانے آتے ہیں۔ زیادہ وقت نہیں گزرا جب امریکہ کے دیہی علاقے اسپرنگ ویلی الینیارڈ میں واقع ایک ہسپتال میں ایمرجنسی ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹر نے ایک ایسے مریض کا علاج کیا۔ دیش کے دوسرے ہسپتالوں میں ایسے ہی مریض عام طور پر آتے ہیں جن میں پیٹ درد کی شکایت کے لئے خاص طور سے ڈیلاؤٹڈ پین کلر کی مانگ کی جاتی ہے۔ اس سے انجکشن کی عادت پڑ جاتی ہے۔ایک شخص کے پرانے نسخے دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ طویل عرصے سے افیم سے بننے والی دوائیاں لے رہا ہے۔اس پر ڈاکٹر نے کم طاقتور دوا لینے کی تجویز رکھی لیکن مریض کا زور تھا کہ اسے مورفن جیسی دوا چاہئے۔ یہ تعجب کی بات لگتی ہے کہ افیم اور اس کی جیسی دواؤں سے بنی دوائیاں او پی او ایڈ کی لت امریکہ میں قومی وباء بن چکی ہے۔ اس صورتحال کو امریکی صدر براک اوبامہ کے افورڈایبل کیئر ایکٹ کے تحت کئے گئے اصلاحات کا براہ راست نتیجہ مانا جارہا ہے۔ اوبامہ کیئر اسکیم میں بہترین ہیلتھ سروسز کے لئے ہسپتالوں کو پیسہ دینے کی سہولت ہے۔ امریکی سرکار کا میڈیکیئر اینڈ میڈیکل سروس سینٹر (سی این ایس) ہسپتالوں کو مریضوں کے تسلی بخش علاج کے سلسلے میں ہوئے سروے کی بنیاد پر تقریباً99 ارب روپے کی میڈیکیئر ادائیگی کرتا ہے۔ پبلک نمائندے اس حالت سے فکر مند ہیں۔ ریپبلکن ایم پی سوسن کولنس نے سروے اور مجوزہ نسخوں کے درمیان معاملوں کی جانچ کی مانگ کی ہے اور آبادئی ریاست مینے میں 2013-14ء میں دواؤں کے اوور دوز سے موت کی شرح 27.3 فیصد بڑھی ہے۔ اپریل میں 4 ممبران پارلیمنٹ (دو ڈیموکریٹک پارٹی اور دو ریپبلکن) نے ایک بل پیش کیا جس میں درد ازالہ سے متعلق معاملات کے لئے پیسہ الاٹمنٹ سے الگ تھلگ کرنے کی تجویز ہے۔ پہلے ایسی تجاویز کو امریکی پارلیمنٹ کے سبھی فریقین کی حمایت حاصل نہیں تھی۔ اوور ڈوز نے اب امریکہ میں وباء کی شکل اختیار کر لی ہے۔ 
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...