Translater

FBI لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
FBI لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

04 اکتوبر 2011

امریکہ کا القاعدہ کو دوہرا جھٹکا



Published On 4th October 2011
انل نریندر
امریکہ اور القاعدہ لشکر طیبہ کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ لشکر اور القاعدہ نے مل کر امریکہ کے ڈیفنس ہیڈ کوارٹر پینٹاگان کو اڑا نے کی سازش رچی تو ادھر یمن کی پہاڑیوں پر امریکہ نے ایک ہوائی حملہ کرکے القاعدہ کی یمن شاخ کو خطرناک آتنک وادی انور الاولاکی کو مار ڈالا۔ پہلے بات کرتے پنٹاگان پر حملے کی سازش کی۔ امریکہ کے محکمہ انصاف نے بتایا کہ ایک 26 سالہ امریکی شہری رضوان فردوس پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیم خاص کر القاعدہ کو بیرونی ممالک میں امریکی فوجیوں پر حملے کرنے کیلئے دھماکوں سامان اور وسائل مہیا کرانے کی کوشش کا الزام لگایا گیا ہے۔ رضوان فردوس کو فرسنگم سے گرفتار کیا گیا۔ ایک حلف نامے کے مطابق 2011 جنوری کے آغاز میں تعاون کرنے والی گواہوں کی گواہی ریکارڈ کی گئی۔ بات چیت میں فردوس نے بتایا تھا کہ اس نے پنٹاگان پر چھوٹے بے پائلٹ جہازوں سے حملہ کرنے کی سازش تیار کی تھی۔ اس میں د ھماکو ہوتے ہیں اور جہاز کو جے پی سی سسٹم کے ذریعے چلایا جانا تھا۔ اپریل 2011ء میں فردوس نے اپنی سازش کی تفصیل بنا کر اس میں ایک دوسرے مقام پر حملے کو بھی شامل کیا۔ 2011ء کے مئی اور جون میں فردوس نے چھپا کر دو پین ڈرائیو سونپے جس میں پنٹاگان اور کیپرول پر حملے کی سازش کا قدم بہ قدم اور باقاعدہ تمام تفصیل تھی۔ سازش کے مطابق اس حملے کیلئے ریمورٹ کنٹرول سے چلنے والے تین جہازوں اور چھ افراد کا استعمال کیا جانا تھا جس میں وہ شخص بھی شامل تھا جس نے خود کوامیر بتایا ہے۔ عربی زبان میں امیر کا مطلب قیادت کرنے والا ہوتا ہے۔ فردوس کی گرفتاری امریکی سکیورٹی ایجنسیوں کی ایک شاندار کامیابی ہے۔ وقت رہتے ایک خطرناک سازش کا پردہ فاش کرکے انہوں نے ایک بڑا سازشی حملہ ہونے سے بچا لیا۔
ادھر اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد امریکہ نے القاعدہ کو ایک اور زبردست جھٹکا دیا ہے۔ یہ جھٹکا القاعدہ کی یمن شاخ کے خونخوار آتنک وادی انور الاولاکی کا مارا جانا ہے۔ اولاکی امریکی نژاد دہشت گرد تھا۔ فٹا فٹ انگریزی بولنے اور انٹر نیٹ کے ذریعے امریکہ میں حملوں کے ذریعے آتنک وادیوں کی بھرتی کرنے کے چلتے اس نے القاعدہ میں اہم درجہ حاصل کرلیا تھا۔ ایک بار پھر امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے قابل قدر کام کرکے دکھایا ہے۔ اس کار میں اولاکی سفر کررہا تھا اس پر ڈرون اور جیٹ جہازوں سے حملہ کیا گیا۔ وہ حملے میں مارا گیا۔ یمن کی حکومت نے کہا پہاڑی صوبہ جاف کے کاشف شہر کے باہر صبح9:55 پر الاولاکی کو نشانہ بنایا گیا، وہ ماراگیا ہے۔ جاف راجدھانی ثنا سے 40 کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ مقامی قبائلیوں اور سکیورٹی ایجنسیوں نے کہا کہ اولاکی دو کاروں کے ساتھ سفر کررہا تھا۔ اس کے ساتھ القاعدہ کی یمن شاخ کے دو اور آتنکی بھی تھے۔ جس وقت اس پر ہوائی حملہ ہوا وہ الجاف کے پاس واقع مرند صوبے میں جارہا تھا۔ اولاکی میکسیکو میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین یمن کے تھے۔ اس نے اپنی تعلیم یونیورسٹی سے امریکہ میں حاصل کی۔ اولاکی سینڈیگو میں دو لوگوں سے رابطے میں تھا جنہوں نے9/11 کے حملے میں خودکش اغوا کاروں کا کردار نبھایا تھا۔ ایف بی آئی نے اس سے پوچھ تاچھ کی لیکن ایجنسی کو اسے حراست میں لینے کی کوئی وجہ نہیں ملی اور اسے چھوڑدیا گیا۔2004 ء میں اولاکی یمن آیا۔ وہ ایک مذہبی پیشوا بن گیا اور اس نے برسوں سے انٹرنیٹ پر اپنے رہنما اصولوں میں امریکہ کی مخالفت کی اور جہاد کی اپیلیں کرتا رہا۔ امریکہ کو یہ دوہری کامیابی اس کی آتنک مخالف چوکسی کے سبب ملی۔ اس کی خفیہ جانکاری حاصل کرنے کی مشینری ایک بار پھرایک طرف تو اپنے دیش میں خطرناک حملے کو روکنے میں کامیاب رہی دوسری طرف ایک کٹر امریکی مخالف آتنک وادی کو صاف کرنے میں کامیابی حاصل کر پائی۔ ہندوستان کی خفیہ اور جانچ ایجنسیوں کو امریکی سسٹم سے کچھ سیکھنا چاہئے۔ ہم آج تک کسی بھی جانچ میں کامیاب نہیں ہوئے اور نہ ہی ہمیں حملے سے پہلے کوئی اطلاع بھی ملتی ہے۔ یوں ہی نہیں امریکہ کی سرزمین پر9/11 حملے کے بعد سے ایک بھی حملہ نہیں ہوسکا۔
 9/11, Al Qaida, America, Anil Narendra, CIA, Daily Pratap, FBI, Haqqani Network, USA, Vir Arjun

30 جولائی 2011

آئی ایس آئی سے 18 کروڑ لئے اور وہ ہی طے کرتی تھی ایجنڈا

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 30th July 2011
انل نریندر
پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایجنٹ غلام نبی فئی کو بدھ کے روز امریکی عدالت نے ایک لاکھ ڈالر یعنی 45 لاکھ روپے کے مچلکے پر ضمانت دے دی ہے۔اسے نظر بند رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کے پیرو ں میں ریڈیو بیڑیاں باندھ دی جائیں گی جس سے اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھی جاسکے۔ امریکی فیڈرل ایجنسی ایف بی آئی نے گذشتہ ہفتہ فئی کو آئی ایس آئی سے پیسہ لیکر غیر مناسب طریقے سے کشمیر پر امریکی پالیسی کو اثر انداز کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ الیگزینڈریا کی ضلع عدالت کے جسٹس رابرٹ جونس نے فئی کو ضمانت دینے اور ریڈیو ٹیک کے ساتھ نظربند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ہندوستان کے کشمیر میں پیدا فئی کو ورجینا کے فیئر فیکس میں واقع اپنے گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ فئی اور ان کی چینی نژاد بیوی کو پاسپورٹ جمع کرانے کو کہا گیا ہے۔ فئی نے کہا ہے کہ کشمیر کے لوگوں کو امریکہ سے ڈرنا نہیں چاہئے۔ اس نے ایک تحریری بیان میں کہا ’’کشمیر کے لوگوں کو یہ سوچ پر ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ عالمی طاقتیں خاص کر امریکہ انہیں مایوس کرے گا‘‘۔ فئی کے وکیل نے ضمانت ملنے پر ان کے ذریعے تحریر کردہ بیان کی کاپی تقسیم کی۔ اس میں فئی نے کہا ’’جموں و کشمیر ریاست کے لوگوں کے تئیں میری عمر بھر وفاداری رہے گی، چاہے وہ کسی بھی پس منظر میں ہو۔ میرا عزم انہیں بھی اپنا مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے خود اعتمادی کا اختیار حاصل کرنے میں مدد کرنے کا ہے۔‘‘
اس سے پہلے غلام فئی نے عدالت میں کہا کہ میں آئی ایس آئی کے اشاروں پر کام کرتا تھا اور آئی ایس آئی سے میں نے40 لاکھ ڈالر قریب 18 کروڑ روپے لئے۔ فئی کے وکیلوں نے حالانکہ دلیل دی کہ کشمیری امریکن کونسل کے سربراہ فئی نے ہمیشہ آزاد کشمیر کی حمایت کی ہے۔ ایف بی آئی ایجنٹ ساراویب لڈین نے عدالت کو بتایا کہ فئی کی ہر میٹنگ کا ایجنڈا اور تقریر آئی ایس آئی طے کرتی تھی۔ امریکی اٹارنی جنرل گارڈن کرومبرک نے الزام لگایا کہ فئی پچھلی دو دہائی سے امریکہ میں آئی ایس آئی کے ایجنٹ کے طور پر کام کررہا تھا۔ حلف نامے میں الزام لگایا گیا کہ کے اے سی اپنے آپ کو ایسی کشمیری تنظیم بتاتی ہے جو کشمیریوں کے ذریعے چلائی جاتی ہے۔ اور اسے امریکیوں سے پیسہ ملتا ہے۔ جب تین سینٹروں میں سے ایک ’’کشمیر سینٹر‘‘ آئی ایس آئی اور پاکستان سرکار کے کچھ لوگ چلا رہے ہیں ، دو دیگر سینٹر لندن اور براسیلز میں قائم ہیں۔ حکومت ہند کو اس معاملے میں خصوصی دلچسپی لینی چاہئے تاکہ اسے پتہ چلے کہ پاکستان کس کس سیکٹر میںآپریٹ کرتا ہے۔ دکھ کی بات تو یہ ہے کہ بھارت کے نامی گرامی صحافی غلام فئی کے آئی ایس آئی اسپانسر شدہ پروگراموں میں حصہ لیتے رہے ہیں۔
Tags: America, Anil Narendra, Daily Pratap, Fai, FBI, ISI, Jammu Kashmir, Pakistan, USA, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...