Translater

09 مئی 2026

ایران نے خلیجی ملکوں پر حملہ کیوں کیا؟

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی جوابی کاروائی روایتی نشانوں سے آگے بڑھ گئی ہے ، اس نے خلیجی ملکوں میں مسلسل حملے کئے اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے ۔متحدہ عرب امارات نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اس پر میزائل اور ڈرون سے حملہ کیا ،جنہیں ایئر ڈیفنس سسٹم نے روکا۔ فوٹیج میں ایک تیل فیسلٹی پر ایک ڈرون گرنے سے آگ لگ گئی جس میں تین ہندوستانی زخمی ہو گئے ۔اس سے پہلے ٹینکر پر ڈرون حملے کی واردات سامنے آئی تھی ۔امریکہ -ایران کے درمیان سیز فائر کے بعد اس طرح کا پہلا حملہ ہے ۔الجزیرہ اخبار کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای کے وزارت دفاع نے پیر کی شام بتایا کہ دیش کے الگ الگ حصوں میں بیلسٹک میزائل ،کروز میزائل اور ڈرون کو انٹرسیپٹ کیا جارہا ہے ۔ایران نے خلیجی ملکوں میں امریکہ سے وابستہ ڈیجیٹل ہب ، کلائیڈ انفراسٹرکچر اور ڈیٹا سنٹرس کو نشانہ بنا کر جنگ کے دائرہ کو مزید پھیلا دیا ہے ۔ایران کی اسلامک ریبولیوشنری گارڈس کارف (آئی آر جی سی ) نے کہا کہ اس نے یو اے ای اور بحرین میں ڈیٹا سنٹرس پر ڈرون حملے کئے یہ آج کی جنگ میں ایک اہم ترین واقعہ ہے جس میں صرف سائبر دراندازی کے بجائے عام لوگوں سے جڑے کلائیڈ انفراسٹرکچر پر سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت حملے کئے گئے ہیں ۔ایرانی سرکار میڈیا نے بتایا کہ اس کا مقصد ان ڈیٹا سنٹروں کی ورمن کی فوجی اور دیگر سرگرمیوں میں مدد کرنے والے رول کو سامنے لانا اور اسے روکنا ہے ۔موجودہ دور میں کلائیڈ انفراسٹرکچر اب دہرے استعمال والی حکمت عملی ہب کے طور پر ابھرا ہے ۔یہ بینکنگ ایویشن ،ہیلتھ کیئر ،کارپوریٹ کام کاج اور ای گورنمنٹ جیسے سیکٹروں میں عام لوگوں کو خدمات دیتا ہے ۔اس کے علاوہ وہ فوج اور خفیہ ایجنسیوں کے کاموں میں مدد بھی کرتا ہے جس میں اے-آئی پر مبنی تجزیہ ،سیٹلائٹ تصاویر کی پروسیسنگ ،لاجسٹکس کے پلان بنانا اور کمانڈ اینڈ کنٹرول میں مدد کرنا شامل ہے ۔امریکہ خاص طور پر بڑے پیمانہ پر کلائیڈ سیوائیں دینے والی کمپنیوں پر منحصر ہے ان میں ایمازون ،مائیکروسافٹ اور گوگل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں شامل ہیں ۔ایران کا خیال ہے کہ ان سنٹروں کو نشانہ بنانے سے جنگ کی حکمت عملیاں پوری طرح بدل جائیں گی۔ اور اس سے لڑائی کی سمت پر گہرا اثر پڑسکتا ہے ۔یو اے ای اس لئے بھی ایران کے نشانہ پر ہے کیوں کہ اس کا ماننا ہے کہ یہ امریکہ ،اسرائیل کے اشاروں پر کام کرتا ہے اور اپنی زمین کا ایران پر امریکی حملوں کے لئے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ریسرچ کنندہ خالد ولید نے لندن سے شائع اخبار القدوس العربی میں لکھا : یہ دکھاتا ہے کہ ان کی حکمت عملی میں بہت سی تبدیلی آئی ہے اب جگہوں کو نہیں بلکہ اس سسٹم کو نشانہ بنایاجارہا ہے جو نگرانی کا کام کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا ، اس نظریہ سے دیکھیں تو یہ کمپنیاں اب صرف تکنیکی خدمات دینے تک محدود نہیں رہ گئی ہیں بلکہ وہ ایک سیدھے یا درپردہ طور سے فوج کے فیصلے لینے کی کاروائی کی چین کا حصہ بن گئی ہے ۔
(انل نریندر)

07 مئی 2026

مناب اسکول پر حملے کیلئے پینٹاگن کی خاموشی

سابق سرکردہ فوجی وکیل سمیت امریکہ کے پانچ سابق حکام نے اس سال کی شروعات میں ایران کے ایک اسکول پر ہوئے خوفناک حملے میں امکانی امریکی رول کو تسلیم کرنے پر پینٹاگن (امریکی وزارت دفاع) کی نکتہ چینی کی ہے ۔ان میں سے کچھ نے کہا کہ اتنے لمبے عرصہ بعد بھی حملے کی بنیادی تفصیلات تک جاری نہ کرنا بے حد غیر موضوع ہے ۔ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری کو امریکہ ،اسرائیل جنگ کی شروعاتی کاروائی کے دوران مناب میں ایک پرائمری اسکول پر میزائل گری جس میں قریب 110 بچوں سمیت 168 لوگوں کی موت ہوئی تھی ۔اس کے بعد گزرے دو ماہ میں پینٹاگن نے صرف اتنا کہا ہے کہ اس واقعہ کی جانچ جاری ہے ۔مارچ کے آغاز میں امریکی میڈیا نے خبر دی تھی کہ امریکی فوجی جانکاروں کا خیال ہے کہ شاید امریکی فورس انجانے میں اسکول پر حملے کے لئے ذمہ دار تھے لیکن آخری نتیجہ تک نہیں پہنچے تھے ۔بی بی سی نے اس حملے اور اس کی شفافیت کی کمی کے الزامات پر کئی سوال پوچھے جس پر پینٹاگن کے ایک افسر نے بتایا کہ اس واقعہ کی جانچ جاری ہے ۔لیفٹننٹ کرنل ریملائی وین لینگڈز کہتی ہیں کہ امریکہ کی موجودہ حالات عام رد عمل سے صاف طور پر الگ ہے ۔انہوں نے امریکی ایئر فورس میں جج ایڈوکیٹ جنرل رہ چکی ہیں نے بتایا کہ پچھلی حکومتوں نے کم سے کم جنگ قانون کے تئیں وفاداری اور عزم دکھائی تھی ۔موجودہ انتظامیہ کے بیانوں میں جوابدہی کے عزم غائب ہے ۔سب سے اہم یہ یقینی کرنا بھی کہ ایسا دوبارہ نہ ہو ۔امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے 7 مارچ کو کہا تھا کہ ان کے نظریہ میں مناب حملے کے لئے ایران ذمہ داری ہے لیکن انہوں نے کوئی ثبوت نہیں دیا ۔کچھ دن بعد جب ان سے مناب اسکول کے پاس فوجی اڈے پر امریکی ٹام ہاک میزائل گرنے کا ویڈیو دکھائے جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا : میں نے یہ نہیں دیکھا ساتھ ہی ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت دعویٰ کیا کہ ایران کے پاس بھی ٹام ہاگ میزائلیں تھیں ۔11 مارچ کو جب ان سے ان خبروں کے بارے میں پوچھا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ شروعاتی فوجی ملیٹری جانچ میں پایا گیا کہ امریکن اسکول پر حملہ کیا تھا ۔تو ٹرمپ نے کہا مجھے اس کے بارے میں نہیں پتہ ۔امریکہ کے وزیر دفاع ویٹ ہیگ سیتھ سے چار مارچ کو بی بی سی نے اس حملے پر سوال کیا تھا تو انہوں نے کہا کہ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم اس کی جانچ کررہے ہیں ۔یہی نہیں امریکی محکمہ دفاع نے اس حملے پر کئی سوالوں کے جواب دینے سے انکار کر دیا ۔پچھلے مہینے بی بی سی نے آزادانہ طور سے حملے کے ویڈیو کی تصدیق کی تھی جس میں اسکول کے پاس ایرانی ریوولوشنری گارڈس کور (آر آر جی سی) کے اڈے پر امریکی ٹام ہاگ میزائل گرتی نظر آرہی تھی ۔پینٹاگن کے ایک سینئرسابق مشیر ویس برانچر نے بھی بی وی سی کو بتایا تھا کہ شرعاتی فوجی جانچ عام طور پر دو باتیں طے کرنے کے لئے ہوتی ہیں ۔پہلی کہ کیا شہری نقصان حقیقت میں ہوا ؟دوسرا کیا اس وقت علاقہ میں امریکہ سرگرم تھا یا نہیں ؟ جب دونوں شرطیں پوری ہو جاتی ہیں تبھی باقاعدہ جانچ شروع کی جاتی ہے ۔پروسیس کے لحاظ سے یہ اور بھی صاف اشارہ دیتا ہے کہ وہ پہلے سے جانتے ہیں کہ یہ امریکہ کی وجہ سے ہوا نہیں تو وہ یہ جانچ نہیں کررہے ہوتے وہ بس اسے تسلیم کرنا چاہتے ہیں یا اس پر بولنا نہیں چاہتے ۔پچھلے سال امریکہ کے ڈیفنس محکمہ نے نوکریوں کی چھٹنی کی تھی اس میں فوجی عملہ بھی شامل تھے ۔امریکہ قبول کرے نہ کرے اس نے انسانیت کا قتل کیا ہے۔ جسے کبھی معاف نہیں کیاجاسکتا ۔
(انل نریندر)

05 مئی 2026

آپ اور ٹرمپ لگاتار جھوٹ بول رہے ہیں

امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی ایران جنگ پر جنتا کو جھوٹ بولنے اور گمراہ کرنے و سینئر فوجی افسران کو ہٹانے کے الزامات کو لے کر نمائندہ سبھا کی مسلح سروس کمیٹی میں سماعت ہوئی ۔پہلی بار جنگ شروع ہونے کے بعد وزیر دفاع پیٹ ہیگس سیدھ کو ایران جنگ پر ڈیموکریٹک ممبران کا سامنا کرنا پڑا ۔گزشتہ بدھوار کو وہ ہاؤس آف آرمڈ سروس کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے ان کے ساتھ جوائنٹ چیف آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین اور وزارت دفاع کے چیف فائنانشیل افسر جولس ہسرٹ بھی موجود تھے ۔بحث کی شروعات میں ہیگ سیتھ نے ڈیموکریٹس اور کچھ رپبلکن نمائندوں کے بیان کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے تبصرے امریکہ کے سب سے بڑے دشمن ہیں ۔اس دوران ہیگس سیتھ اور ڈیموکریٹ ایم پیز سے تلخ بحث ہو گئی ۔چھ گھنٹے کی سماعت میں ماحول گرم رہا ۔پارلیمنٹ کی نچلی ایوان میں ٹرمپ انتظامیہ کے 1500 ارب ڈالر کے ڈیفنس بجٹ پر بحث کے دوران یہ نوک جھونک ہوئی ۔پینٹاگون کے ذریعے جنگ کی تخمینہ لاگت 25ارب ڈالر بتانے پر ڈیموکریٹ بھڑک گئے اور انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی دماغی صحت پر ہی سوال کھڑے کر دئیے ۔اس پر ہیتھ سیتھ نے پلٹ وار کیا کہ ٹرمپ سب سے تیز اور سوجھ بوجھ والے کمانڈر ان چیف ہیں ۔انہوں نے ڈیموکریٹ ممبر سے الٹا سوال کیا کہ کیا انہوں نے سابق صدر جوبائیڈن کی صلاحیت پر کمی کے سوال اٹھائے ۔ڈیموکریٹ ممبران نے امریکہ کے ذریعے شروع کی گئی ایران جنگ کو وار آف مائس بتایا ۔جسے کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کیا گیا ۔کیلکو ڈیموکریٹ ایم پی جون گرامینڈی نے کہا کہ آپ اور صدر شروع سے ہی اس جنگ کے بارے میں امریکی جنتا سے جھوٹ بول رہے ہیں ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ وسط مشرق کی ایک اور جنگ کے دلدل میں پھنس گئے ہیں ۔ہیگ سیتھ نے اس بیان کو لاپرواہی بھرا بتایا اور کہا کہ ٹرمپ کسی دلدل میں نہیں ہیں ۔انہوں نے آگے کہا کہ صدر ٹرمپ کے تئیں آپ کی نفرت آپ کو اندھا کررہی ہے ۔حالانکہ کمیٹی کے کئی رپبلکن ممبران نے پینٹاگون کی حمایت کی ہے ۔فلوریڈا کے ایم پی کارلوس جی مینیل نے کہا کہ ایران سے امریکہ کے وجود کو خطرہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی 47 سال سے کہہ رہا ہے کہ وہ ہمیں مارنا چاہتے ہیں تو میں اس کی بات کو سنجیدگی سے لوں گا ۔تیل کی قیمتوں میں اضافے اور اس کی وجہ سے چیزوں کی قیمتوں پر اثر پر ایک ایم پی نے کہا کہ آپ کو شرم آنی چاہیے کہ آپ نے مناب میں ہوئے حملے میں 168 لوگ مارے گئے جن میں قریب 110 بچے شامل تھے ۔آج ہر امریکن بڑھتی مہنگائی سے پریشان ہیں ۔تیل کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھ رہی ہیں اور اس کے ذمہ دار آپ کے صدر اور آپ جیسے مشیر ہیں ۔کمیٹی کے سینئرڈیموکریٹ ممبر ایڈم اسمتھ نے کہا کہ ہم سے غلطی ہوئی اور جنگ میں ایسا ہوتا ہے لیکن دو ماہ تک چپ رہ کر ہم نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ ہمیں پرواہ نہیں ہے ۔کیلیفورنیا کے بھارت نژاد ایم پی روکھنّا نے اس حملے کی لاگت پر سوال اٹھایا ۔اس پر ہیگ سیتھ نے کہا یہ حملہ ابھی انصاف کے دائرے میں ہے اور وہ اس کی لاگت پر رائے زنی نہیں کریں گے ۔اس کے علاوہ ڈیموکریٹ ایم پی سارا جیکس نے وزیر دفاع پیٹھ گیس سیتھ سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دماغی حالت پر بھی سوال کھڑا کیا اس سوال پر پیٹھ گیس سیتھ اور سارا جیکف کے درمیان تلخ بحث ہوئی ۔ خبر ہے کہ اپوزیشن ڈیموکریٹ ممبر نے ہیگ سیتھ کے خلاف ہاؤس آف نمائندگان میں مقدمہ چلانے کی تجویز بھی لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس تجویز کے آنے کےبعد ایران جنگ معاملے میں ٹرمپ اور ہیگ سیتھ کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں ۔میگزین آؤٹ لیٹ ایکسس کے مطابق ہاؤس آف ڈیموکریٹس میں پانچ سنگین الزام لگاتے ہوئے ہیگ سیتھ کے خلاف مقدمہ چلانے کا فیصلہ دیا ۔وزیر دفاع کوکابینہ سے ہٹانے کے لئے سینٹ اور ہاؤس میں دو تہائی ممبران پارلیمنٹ کی ضرورت ہوگی ۔
(انل نریندر)

ٹرمپ پر آگ بگولہ ہوئے نیتن یاہو

امریکہ اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی لیکن اب اس جنگ کو روکنے کے لئے دونوں دیش آپس میں متفق نہیں ہوپارہے ہیں ۔میڈیا رپورٹ ک...