Translater

Prashant Bhushan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Prashant Bhushan لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

02 جون 2012

جذباتی جواب دیکر منموہن سنگھ اپنی ذمہ داری ٹال نہیں سکتے


ٹیم انا کے الزامات پر وزیر اعظم منموہن سنگھ کا جواب شاید کسی کو تسلی بخش نہ لگے۔ وزیر اعظم کا یہ جذباتی قول کے اگر ان کے خلاف کرپشن کا کوئی الزام ثابت کرسکتا ہے تو وہ سیاست سے سنیاس لے لیں گے۔ یہ بیان ہمارے گلے سے نہیں اترتا نظر آرہا۔ ہمیں تو وزیر اعظم کا جواب خاص اشو سے ہٹ کر اپنے سارے داغی ساتھیوں کو بچانے کا لگتا ہے۔ ٹیم انا نے وزیر اعظم اور ان کے 15 وزرا کی فہرست جاری کی ہے۔ انہوں نے بس یہ ہی تو کہا ہے کہ کوئلہ کھدائی الاٹمنٹ کو لیکر سی اے جی کی ایک رپورٹ میں کچھ کرپشن کی بو آرہی ہے اور کیونکہ یہ وزارت وزیر اعظم کے ماتحت ہے اس لہٰذا سے وہ ذمہ دار ہیں۔ اگر وزیر اعظم بے قصور ہیں تو وہ جانچ کیوں نہیں کروالیتے؟ ڈاکٹر منموہن سنگھ اس دیش کے وزیر اعظم بھی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ سانجھہ ذمہ داری کی بنیاد پر سربراہ ہونے کے ناطے وہ اپنی کیبنٹ ساتھیوں کے برتاؤ کے لئے بھی ذمہ دار ہیں۔ ٹیم انا نے ان کی کیبنٹ کے 15 افراد پر کرپشن کا الزام لگایا ہے۔ اگر سرکار کا سربراہ اپنی ٹیم کے لئے ذمہ دار نہیں توکون ذمہ دار ہے۔ یہ وقت جذباتی بیان دینے اور خود کو ٹیم انا سے دکھی دکھانے کا نہیں بلکہ دیش کے سامنے وضاحت کرنے کا ہے۔ آپ پچھلے آٹھ برسوں سے وزیر اعظم چلے آرہے ہیں۔ اس دوران آپ گھوٹالوں پر روک لگانے میں ناکام کیوں ہیں؟غبنو گھوٹالوں کا سلسلہ پچ نہیں رہا ہے۔ کامن ویلتھ کھیلوں کی تیاری کے نام پر بے قاعدگیوں کے ساتھ ہی ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ سامنے آیا۔ اس کے بعد تو ایک کے بعد ایک گھپلوں کی لائن سی لگ گئی۔ کبھی 16 آنے ایماندار مانے جانے والے منموہن سنگھ اس سودے میں شامل ہوں گے یہ آج بھی کسی کو یقین آنے والا نہیں لیکن وہ سب کچھ جان بوجھ کر آنکھ بند کئے ہوئے ہیں یا اتحاد کی مجبوری یا پھر صرف راج کرنے کے لالچ میں خاموش ہیں۔ اس بات پر شک ضرور ہونے لگا ہے آخر سربراہ ہونے کے ناطے منموہن جی نے کوئی بھی گھوٹالہ روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی اور یہ جانتے ہوئے گھوٹالے پر گھوٹالہ ہورہا ہے وہ چپ چاپ تماشہ دیکھتے رہے، کا مطلب صاف ہے کہ انہیں نہ تو اس کی پرواہ ہے اور نہ ہی وہ اسے روکنے کے خواہش مند ہیں۔ وہ تو بس وزیر اعظم بنے رہنا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اب اگر وزیر اعظم کی کرسی سے ہٹ گئے تو اور کوئی دوسرا راستہ ان کے لئے نہیں ہوگا۔ جب تک ممکن ہو کرسی سے چپکے رہو۔ آج حالت یہ بن گئی ہے کہ اپنے کرپٹ ساتھیوں کو بچاتے بچاتے خودشکھنڈی کا خطاب دینے والے پرشانت بھوشن کو بھی کچھ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ الٹا جذبات سے بھرے بیانات سے سارے معاملے کو دبانا چاہ رہے ہیں۔ ٹیم انا کے اہم مشیر اروند کیجریوال نے کہا کہ وزیر اعظم کسی جانچ کے بغیر اپنے آپ کو پاک صاف کیسے ثابت کررہے ہیں؟ وہ یہ کیوں نہیں کہتے کہ معاملے کی جانچ کروالو ۔ لیکن وزیر اعظم کی ذمہ داری سے کہیں بڑا سوال یہ ہے کہ اس یو پی اےII- سرکار کی جوابدہی جو نظر نہیں آتی اور نہ ہی وہ ایسا قدم اٹھانے کو تیار ہیں جس سے دودھ کا دودھ ، پانی کا پانی ہوجائے۔
(انل نریندر)

20 اکتوبر 2011

انا اور ان کی ٹیم پر چوطرفہ حملے



Published On 20th October 2011
انل نریندر
انا ہزارے اور ان کی ٹیم پچھلے کچھ دنوں سے چاروں طرف سے مسائل سے گھرتی جارہی ہے۔ ایک ایک کرکے کئی مسئلے کھڑے ہوگئے ہیں۔ انا نے خود مون برت اختیار کیا ہوا ہے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے کہا ہے کہ سوالوں سے پریشان انا نے جواب نہ دینے کیلئے مون برت کیا ہے۔ان کے سپہ سالاراروند کیجریوال پر لکھنؤ میں ایک شخص نے چپل پھینکی۔ اترپردیش میں انا کا سندیش لے کر دورہ کررہے کیجریوال راجدھانی میں گومتی ندی کے کنارے جھولے لال پارک میں منعقدہ ایک پروگرام میں حصہ لینے کیلئے کار سے اترکر اسٹیج کی طرف بڑھ رہے تھے کہ 40 سالہ شخص جتیندر پاٹھک نے ان پر چپل پھینک دی۔ حملہ آور کا الزام ہے کہ کیجریوال لوگوں کو ورغلا رہے ہیں ۔اس لئے ان پر حملہ کیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کسی تنظیم کے علاوہ سیاسی پارٹی سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ فی الحال جتیندر پاٹھک پولیس حراست میں ہے۔
ٹیم انا کے دو بڑے ممبر پی وی راج گوپال اور راجندر سنگھ نے تحریک کے سیاسی رنگ اختیار کرنے پر اعتراض ظاہرکرتے ہوئے کور کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ غلط فہمی کا شکار ہوگئی ہے۔ ادھر منگلوار کو ہی کانگریس سے صلح کرنے کی کوشش پر اس وقت پانی پھر گیا جب انا ہزارے کے گاؤں کے سرپنج اور ان کے ساتھی خاص طور سے دہلی آئے تاکہ راہل گاندھی سے ملاقات ہوسکے لیکن ان کے ہاتھوں مایوسی لگی۔ جب وقت دے کر راہل گاندھی انا کے نمائندوں سے نہیں ملے۔ سوموار کو یوگ گورو بابا رام دیو نے ٹیم انا پر ہی حملہ کردیا اور انہوں نے کہا پرشانت بھوشن کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ بابا رام دیو نے کہا کہ اظہار آزادی کے نام پر دیش کو توڑنے والی بیان بازی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا سماجی تحریک میں شامل لوگ بھی دیش کو توڑنے والے بیان دیتے ہیں۔ جو دیش اور تحریکوں کے لئے بہت خطرناک ہے۔ انہوں نے انا ہزارے کو پرشانت بھوشن کے بیان پر اپنا موقف واضح کرنے کی صلاح دی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں رام دیو نے کہا کہ پرشانت بھوشن کے خلاف معاملہ درج ہونا چاہئے۔
آخر میں ٹیم انا کے خلاف ایک اور جھٹکا لگا جب سپریم کورٹ نے انا ہزارے کے ہند سوراج ٹرسٹ کو ملنے والے سرکاری پیسے کا غلط استعمال معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ والی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے لئے منظوری دے دی۔ جسٹس آفتاب عالم ، جسٹس رجنی دیسائی کے بنچ نے سرکاری وکیل منوہر لال شرما کی جانب سے دائرعرضی پر سرکار سے جواب طلب کیا۔ شرما نے الزام لگایا کہ سال 1995 میں ہزارے ٹرسٹ بنا تھا لیکن اسے غیر قانونی بتاتے ہوئے ایک مالی سال پہلے اقتصادی مدد دے دی گئی تھی۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ صاف ہے کہ یہ دھوکہ دھڑی سرکاری خزانے کے بیجا استعمال کا معاملہ ہے جومدعالیہ نمبر چار کی جانب سے کیا گیا۔ ساونت کمیشن کی 2005 میں آئی رپورٹ میں اس کا خلاصہ کیا گیا ہے۔ ان کے کچھ ساتھیوں یا گروپ سیاسی دوستوں نے ایسا کیا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹ نے غیر قانونی طریقے سے ایک کروڑ روپے سے بھی زیادہ کی رقم کونسل فار ایڈوانسمینٹ آف پیپلز ایکشن اینڈ رورل ٹیکنالوجی سے حاصل کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 1995 میں انا نے کپارٹ سے 75 لاکھ روپے لئے تھے۔ عرضی گذار نے کہا کہ 2001 میں کپارٹ نے 5 کروڑ روپے دیہی ہیلتھ کے نام پر جاری کئے تھے۔ کل کتنی رقم ٹرسٹ کو غیر قانونی طریقے سے دی گئی اس کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جانی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کرنے پر اپنی حامی بھردی ہے اور مرکز و مہاراشٹر سرکار کو جواب دینے کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ ٹیم انا پر چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں۔ انا خود تو بے داغ ہیں لیکن ان کے ساتھی یقینی طور سے انا کی تحریک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Baba Ram Dev, CBI, Daily Pratap, Digvijay Singh, Lokpal Bill, Prashant Bhushan, Supreme Court, Vir Arjun

15 اکتوبر 2011

پرشانت بھوشن کی چیمبر میں جم کر پٹائی



Published On 15th October 2011
انل نریندر
سپریم کورٹ کے وکیل اور ٹیم انا کے ممبر پرشانت بھوشن پر بدھوار کو تین لڑکوں نے ان کے سپریم کورٹ میں واقع چیمبر میں گھس کر پٹائی کردی۔ حملہ آوروں نے بھوشن کو کرسی سے اٹھا کر زمین پر پھینکا اور لاتوں گھونسوں سے دھنائی کرنے لگے۔ وہاں موجودہ لوگوں نے ایک حملہ آور اندر ورما کو پکڑلیا اور پولیس کے حوالے کردیا۔ باقی دونوں فرار ہوگئے جو بعد میں پکڑے گئے۔ پرشانت بھوشن کے چہرے و گردن پر چوٹ آئی ہے۔ آر ایم ایل میں علاج کے بعد انہیں چھٹی دے دی گئی۔ تلک مارگ تھانے میں تینوں حملہ آوروں کے خلاف کیس درج ہوا۔ جس وقت تینوں حملہ آوروں نے پرشانت بھوشن کے چیمبر میں گھس کر ان پر حملہ کیا اس وقت وہ ایک نیوز چینل کو انٹرویو دے رہے تھے لہٰذا یہ حملہ کیمروں میں قید ہوگیا اور شام تک یہ ہر چینل پر دکھایا جانے لگا۔ حملہ آوروں نے بعد میں پرچے بھی پھینکے اور کہا کہ کچھ دنوں پہلے کشمیر پر دئے گئے بیان سے وہ ناراض ہیں اور اس کی مخالفت کرنے کے لئے انہوں نے یہ حملہ کیا ہے۔ دراصل پرشانت بھوشن کے ذریعے 26 ستمبر کو وارانسی میں دئے گئے اس بیان سے ناراض تھے جس میں انہوں نے کہا تھا "سینا کے دم پر کشمیریوں کو بہت دنوں تک دباﺅ میں نہیں رکھا جاسکتا۔ کشمیر کا مستقبل طے کرنے کے لئے جموں و کشمیر میں ریفرینڈم کرایا جانا چاہئے۔" گرفتاراندر ورما نے خود کو شری رام سینا کا پردیش پردھان بتایا۔ حملے کے بعد جو پرچے بانٹے گئے ان پر لکھا تھا "کشمیر ہمارا تھا، ہمارا ہے اور ہمارا رہے گا۔ تم کشمیر توڑو گے تو ہم تمہارا سر توڑ دیںگے، وندے ماترم" حملہ کرنے والے لڑکوں کو پٹیالہ ہاﺅس میں پیش کیا گیا۔ تیجندر پال بگا سمیت سب کوعدالت میں پیش کیا جہاں ایک دن کے لئے انہیں عدالتی حراست میں بھیجا اور اسے اپنے کئے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے اور دھمکی دی کہ وہ پرشانت پر پھر حملہ کرسکتے ہیں۔ بھوشن کے حملہ آوروں کی عدالت میں پیشی کے دوران کچھ لوگوں نے انا حمایتیوں پر بھی حملہ کردیا اور دھنائی کی۔ بتایا جارہا ہے حملہ آوروں میں بھگت سنگھ کرانتی سینا شری رام سینا کے ورکر شامل تھے۔ جب پولیس وہاں پہنچی تو حملہ آور بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس جھڑپ کے دوران کئی لوگ زخمی ہوگئے۔ تیجندر پال سنگھ بگا نے فیس بک پر اپنے پروفائل میں ایک تصویر لگائی ہے جس میں وہ شری شری روی شنکر کے ساتھ کھڑا ہے۔ روی شنکر اور سوامی اگنی ویش کے علاوہ کشمیری علیحدگی پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق اور یسین ملک شامل ہیں۔ بھگت سنگھ کرانتی سینا ایک سال پہلے وجود میں آئی تھی اس سے پہلے وہ بھاجپا میں ہی شامل تھا۔
سماج سیوی انا ہزارے نے پرشانت بھوشن کے کشمیر پر دئے گئے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے اکھل بھارتیہ آتنک واد انسداد مورچہ کے پردھان منندر جیت سنگھ بٹا نے کہا کہ بھوشن نے اپنے بیان سے کشمیر کے لئے قربانی دینے والے ہزاروں شہیدوں کی بے عزتی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس حملے کی مذمت کرتا ہوں۔ یہ غلط ہے لیکن بھوشن کا بیان قابل ملامت ہے۔ بٹا نے کہا اس طرح کے بیان سے کشمیر میں لڑنے والے اپنی جان کی قربانی دینے والے شہیدوںکی توہین کرنا، اپنے ہی گھر سے معذول کردئے گئے کشمیری پنڈتوں اور دیگر لوگوں کی بھی بے عزتی ہے جو آج بھی کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ پرشانت بھوشن نے کہا تھا سرکار کو کشمیر سے فوج واپس بلا لینی چاہئے۔ سرکار اس بات کے لئے ووٹنگ کرائے کہ کشمیری بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ انا صحیح کام کررہے ہیں مگر ان کے ساتھ جو لوگ ہیں وہ ٹھیک نہیں ہیں۔ سوامی اگنی ویش کا سچ سب کے سامنے ہے۔ پرشانت کے بیان کے لئے انا کو اس کی مذمت کرنی چاہئے۔ بٹا نے کہا ایسے بیان دیش توڑنے والے ہیں اور دیش کی جنتا اسے کبھی بھی قبول نہیں کرے گی۔ بہتر ہو کہ پرشانت بھوشن ایسے بیانات سے بچیں۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Attack on Prashant Bhushan, Civil Society, Daily Pratap, Jammu Kashmir, Lokpal Bill, Prashant Bhushan, Vir Arjun

03 ستمبر 2011

سیاسی آقاؤ کے اشارے پر نوٹس بھیجا گیا، اروند کیجریوال

انا ہزارے کی تحریک سے غصے سے بھری منموہن سنگھ سرکار نے اب ان لوگوں کو نشان زد کرکے نشانے پر لینا شروع کردیا ہے جنہوں نے اس کی مٹی پلید کرنے میں سرگرم کردار نبھایا تھا۔ میڈیا پر لگام لگانے کیلئے مخصوص گروپ بنانے کی بھی خبر ہے۔ انا کے اسٹیج سے سرکار کو برا بھلا کہنے والے فلم اداکار اوم پوری ، کیرن بیدی پر پہلے ہی ہتک عزت کا مقدمہ درج ہوچکا ہے۔ ممبران پارلیمنٹ کے خلاف متنازعہ تبصرے کو لیکر پارلیمنٹ میں تحریک استحقاق کی خلاف ورزی کے معاملے کا سامنا کررہی کیرن بیدی کا ٹیم انا اب کھل کر ساتھ دے رہی ہے۔ اروند کیجریوال نے کہا پوری ٹیم متحد ہوکر کیرن بیدی کے ساتھ ہے۔ اس طرح کے قدم سے جنتا کے درمیان یہ تاثر جائے گا کہ ممبران پارلیمنٹ ان سے بدلہ لینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا جب نوٹس ملے گا تو وہ اس پر جواب دیں گی۔ ٹیم انا کے ایک اور اہم ساتھی سابق مرکزی وزیر قانون شانتی بھوشن سی ڈی معاملے میں پھنستے نظر آرہے ہیں۔ دہلی پولیس نے سی ڈی معاملے میں عدالت میں داخل اپنی کلوزر رپورٹ میں جانکاری دی ہے کے سی ڈی میں سپا چیف ملائم سنگھ یادو اور شانتی بھوشن کی بات چیت کا ٹیپ اصلی ہے۔ اس میں کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ کا ثبوت نہیں ہے۔ اگر یہ سی ڈی اصلی ہے تو یہ سیدھے سیدھے سپریم کورٹ میں بڑا بدعنوانی کا معاملہ بنتا ہے۔ دہلی پولیس کے ذرائع کے مطابق اس معاملے میں ان کے پاس ایک چشم دید گواہ بھی ہے،وہ ہے ممبر پارلیمنٹ امر سنگھ۔ انہوں نے پولیس کو پوچھ تاچھ میں بتایا ہے کہ انہوں نے اپنے گھر پر لینڈ لائن فون سے خودپرشانت بھوشن سے ملائم سنگھ کی بات کروائی تھی۔
منموہن سنگھ حکومت کو سب سے زیادہ پریشانی اروند کیجریوال سے ہے۔ ٹیم انا میں کیجریوال کو وہ سب سے بڑا روڑا مانتی ہے۔ اب ان کو بھی کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اروند کیجریوال کو بھارتیہ محصولاتی سروس سے 2006 میں دئے گئے استعفے کو مرکزی حکومت نے اب تک منظوری نہیں دی تھی۔ سروس شرطوں کے مطابق مرکزی حکومت نے وقت سے پہلے نوکری چھوڑنے کے لئے ان سے 3 لاکھ روپے کی مانگ کی تھی۔ اب یہ رقم بڑھ کر 9 لاکھ روپے ہوگئی ہے۔ کیجریوال نے اس میں چھوٹ کے لئے درخواست دی تھی جس پر اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ سرکارسے سیدھے ٹکراؤ کے بعد مرکزی سرکار کا محکمہ پرسنل کیجریوال کے استعفے کا معاملہ پھر سے کھول سکتا ہے۔ محصولاتی سروس کے افسر کے طور پر کیجریوال نے سال2000ء میں دو سال کی ’اسٹڈی لیو‘ لی تھی۔ اس دوران مرکزی سرکار کے قواعد کے مطابق انہیں تنخواہ نہیں دی گئی تھی۔ اس مدت کے بعد انہوں نے دو سال بغیر تنخواہ کے تعلیمی مطالع چھٹی لی تھی۔ سروس شرطوں کے مطابق چھٹی سے لوٹنے کے بعد کم سے کم تین سال نوکری کرنی پڑتی ہے لیکن کیجریوال نے اس سے پہلے ہی 2006 ء میں استعفیٰ دے دیا۔ ایسے میں ڈی او پی ٹی نے ان سے 3 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ کیجریوال نے پھر درخواست کی کہ ان کے پاس اتنی رقم نہیں ہے اس لئے انہیں اس میں چھوٹ دے دی جائے۔ مگر اب تک محکمے نے اس پر کوئی قطعی فیصلہ نہیں لیا۔ حالانکہ استعفے کے فوراً بعد کیجریوال کو اس سے بڑی رقم میگسیسے ایوارڈ کے طور پر ملی تھی۔
جمعہ کے روز اروند کیجریوال نے الزام لگایا کہ انہیں9 لاکھ روپے کی ادائیگی کا نوٹس سیاسی آقاؤ کے اشارے پر بھیجا گیا ہے۔ لوکپال کے مسئلے پر انا کے ذریعے انشن کرنے سے دس دن پہلے انکم ٹیکس نے 5 اگست کو کیجریوال کو ایک نوٹس بھیجا۔ نوٹس میں کیجریوال سے ان کے انکم ٹیکس کمیشنر رہتے مطالع چھٹی پر جانکاری کی میعاد کی تنخواہ اور اس پر لگے سود اور قرض کے اوپر دوبارہ سود سمیت بقایا رقم کو ملا کر کل 9.27 لاکھ روپے کی ادائیگی کرنے کو کہا گیا ہے۔کیجریوال نے کہا انکم ٹیکس محکمے نے میرے دو سال چھٹی پر رہنے کے دوران تعمیل رہے بانڈ کی غلط تشریح کی گئی ہے۔ میں نے بانڈ کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ انکم ٹیکس محکمے نے یہ نوٹس سیاسی آقاؤں کے دباؤ میں بھیجا ہے۔ہزارے کے ایک دوسرے ساتھی ورکر پرشانت بھوشن نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ سرکار نے سبق نہیں لیا اور وہ گھناؤنے طریقے اپنانے پر اترآئی ہے۔ قابل ذکر ہے انکم ٹیکس محکمے سے کیجریوال کو بھیجے گئے نوٹس میں ان سے دو سال کی تنخواہ کی شکل میں 3.54 لاکھ روپے او ر اس پر سود کی شکل میں4.16 لاکھ روپے کمپیوٹر کے قرض کی بقایا رقم کی شکل میں 51 ہزار روپے اور اس پر سود کی شکل میں 1.04 لاکھ روپے کی ادائیگی کرنے کو کہا گیا ہے۔ اس طرح انہیں 9 لاکھ سے زائد روپے کی رقم دینے کو کہا گیا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Kiran Bedi, Prashant Bhushan, Lokpal Bill,

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...