Translater
23 نومبر 2023
کس طرف لہر ،کانگریسی یا بھاجپا ؟
گورکھپور کے ندی چوک کے قریب چائے ناشتے کی ایک دکان پر کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں چناﺅ کے تذکرہ ہو رہا تھا موجود لوگوں میں کانگریس اور بھاجپا کو لیکر الگ الگ رائے تھی بھاجپا اور کانگریس کو لیکر بہس ہوتی رہی اور بات اشوک گہلوت اور وسندھرا راجے تک پہنچ جاتی ہے باتوں باتوں میں ان لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کے اگر ان کی پسند دیدہ پارٹی کامیاب ہو جاتی ہے تو وزیراعلیٰ کون ہوگا ایک شخص دویندر بشنوئی کا دعوا تھا کے بی جے پی ہی کامیاب ہوگی اور وسندھرا راجے سندھیا اگلی وزیراعلیٰ ہوگیں ان کے ساتھ بیٹھے دوسرے شخص للت سنگھ کا کہنا تھا کے کانگریس کی حکومت پھر واپسی کریں گی اور اشوک گہلوت ہی وزیراعلیٰ بنیں گے یہاں ےہ بتانا ضروری ہے کہ ریاست میں ووٹروں کے دل میں یہ بات بس گئی ہے کے ہر5 سال میں تبدیلی ہوتی ہے وہ اس سے سرکار کی تمام اچھائیاں اوربرائیاں ٹٹولتے ہیں ۔اشوک گہلوت کی رہنمائی والی کانگریس حکومت اسی سیاسی چرن کو بدلنے کی پوری طاقت چھنوک رہی ہے راج نہیں رواج بندلے گا تھیم پر وہ جارحانہ طرےقے سے چناﺅ مہم میں ہے ایک سال کے دوران ان کی اسکیموں کا صاف اسر دکھائی پڑتا ہے ۔جئے پور جود پور ہائی وے سے لگے گاﺅں چترولی میں ایک خاتون مالتی سنگھ بتاتی ہیں کے زمین پر گہلوت حکومت نے بہت اچھا کام کیا ہے ان کے گاﺅں میں کوئی ایسا خاندان نہیں ہے جسے چرن چیوی کارڈ نا ملا ہو ان اسکیموں کے سبب ممکن ہے کے لوگ کانگریس کو دوبارہ ووٹ دیں لیکن ایک دوسرے شخص مکیش کمار اس دعوے سے متفق نہیں ہے اور مانتے ہیں کے ریاست میں اقتدار بدلے گا بی جے پی کی حکومت بنے گی ریاست کی 200 اسمبلی سیٹوں پر ایک مرحلے میں 25 نومبر کو چناﺅ ہونے ہیں بیشک گہلوت اور وسندھرا کے وزیراعلیٰ بننے پر ان کی پارٹیوں کی طرف سے کوئی بیان نہیں ہے لیکن لوگ اپنے اپنے اندازے لگاتے ہیں ان دونوں لیڈروں کی بدولت ہی ریاست میں دوں پارٹیاں مضبوط ہیں جود پور کے ہمانشو وتث کہتے ہےں کے یہاں کے لوگوں کے لئے کانگریس کو ووٹ دینا ہی گہلوت کو وزیراعلیٰ بنانا ہے وہیں بی جے پی کے لوگ مانتے ہےں اگر بھاجپا کامیاب ہوتی ہے تو وسندھرا وزیراعلیٰ ہوں گی اگر ان کو وزیراعلیٰ نہیں بنایا گیا تو پارٹی کے لئے ان کا ووٹ ختم ہو جائے گا جود پور کے لوگ ابھی خاموش نظر آ رہے ہیں لیکن لڑائی صرف اس بات پر نہیں کے اقتدار میں بھاجپا یا کانگریس آئی گی وزیراعلیٰ کو ہوگا جنتا اس پر بھی اپنی رائے بنائے ہوئے ہے کانگریس نے گہلوت اور بی جے پی میں وسندھرا کو وزیراعلیٰ بنانے کی چاہت رکھتے ہیں لیکن اس مخالفت کرنے والے بھی کم نہیں ہےں جے پور میں ایک شخص ابھیشیک سنگھ صرف کمل کو ووٹ ڈالتے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کے بھاجپا ریاست میں نئی لیڈر شپ دے حالانکہ حمایت اور مخالفت کی آواز وسندھرا اور گہلوت کے ارد گرد زیادہ ہے اس اندازہ لگ جاتا ہے کے ریاست کی سیاست میں ان دونوں پارٹیوں کی کتنی گہری پکڑ ہے یہیں وجہ ہے کہ دونوں کے قد کانگریس اور بھاجپا کو ریاست میں اپنی حکمت عملی طے کرنے میں ایک بہت بڑا فیکٹر رہتا ہے دیکھنا یہ ہے کے اونٹھ کس کروٹ بےٹھتا ہے کانگریس کی جانب ےا بھاجپا کی طرف۔
(انل نریندر)
آسٹریلیا نے ورلڈ کپ جیتا لیکن ٹیم انڈیا نے دل جیتا !
اس کرکٹ ورلڈ کپ میں ایک بار بھی ہار کا منھ نہ دیکھنے والی ٹیم انڈیا نے دیش واسیوں کے دل میں ورلڈ کپ کی امید کو یقین میں بدل دیا تھا مگر اتوار کو ہوئے فائنل میچ امید کے برعکس رہا ۔شروع کے میچوں میں ہار کو منھ دیکھنے والی آسٹریلیائی ٹیم نے بیشک کپ جیتا ہو مگر ٹورنمنٹ میں ٹیم انڈیا نے دل جیتا ۔مین آد دا ٹونمنٹ کا خطاب وراٹ کوہلی کو ملنا تو یہی بتاتا ہے میں کوئی کرکرٹ ایکس پرٹ نہیں ہوں لیکن میری رائے میں ٹورنمنٹ میں سارے میچ چیتنا ٹیم انڈیا کو بھاری پڑ گیا ۔اگر ایک دو میچ ہار جاتے تو شائد اور یقین اور توجہ سے کھیلتے آسٹریلیائی کھلاڑیوں نے 2 میچ ہار کر جیتنے کا فن سیکھ لیا اور ہم سارے میچ جیتکر بھی فائنل میں ہار گئے ورلڈ کپ سے پہلے ٹیم انڈیا کی پرفارمینس کو لیکر سبھات جتائے جا رہے تھے فلڈنگ سے لیکر بالنگ اور آل راﺅنڈر کھیلاڑیوں کی کمی پر سوال اٹھائے جا رہے تھے ۔حالانکہ ورلڈ کپ میں ایک کے بعد 10 میچ جیت کر ٹیم انڈیا نے بتا دیا کہ وہ سپر پاوور ہے ۔کچھ لوگوں کا خیال ہے اگر ےہ میچ وان کھڑے اسٹیڈیم میں ہوتا یا ایڈن گارڈن یا فروز شاہ کوٹلہ گراﺅنڈ میں ہوتا تو شائد ٹیم انڈیا کے ہاتھوں میں کپ ہوتا کیا ٹیم انڈیا کے سپورٹنگ اسٹاف نے پچ کو ٹھیک سے دیکھا نہیں ؟وانکھڑے ،ایڈن گارڈن اور فروز شاہ کوٹلا جانی پہچانی پچ تھیں جن کے باﺅنس اور ٹرن سے ٹیم انڈیا پوری طرح سے واقف تھی لیکن سیاست کے چلتے اسے ایک ایونٹ بنانے کے خاطر اسے نریندر مودی اسٹیڈیم میں رکھا گیا جہاں وزیراعظم اور وزیر داخلہ اور تمام اہم شخصتیں پہنچی تھیں کئی ماہرین خامیاں بتا رہے ہیں ۔بے شک روہت شرما نے اچھی شروعات کی ۔لیکن جس طرح سے لانگ شورٹ مارکر آﺅٹ ہوئے وہ مایوس کن تھی شبھمن گل تو آئے اور گئے کے ایل راہل نے اتنی سلو بیٹنگ کی جس سے بھارت اچھے سکور تک نہیں پہنچ سکا ایک میچ پہلے سینچوری بنانے والے سریش ائیر نے بہت ہی گندا شورٹ مارکر اپنی وکٹ گواں دی رشبھ پنت کے زخمی ہونے کی وجہ سے کے ایل راہل کو وکٹ کیپنگ کرنی پڑی اور بیشک انہوںنے پوری کوشش کی لیکن ریگولر وکٹ کیپر کی کمی بھاری پڑی فائنل میچ دیکھنے کے جنون کے سبب احمد آباد کے ہوٹل اور ہوائی جہاز کے ٹکٹ 30 گنا مہنگے ہو گئے کھیل کی دنیا میں فٹ بال کے بعد کرکٹ کا جنون سب سے زیادہ ہے کھیل میں ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے ٹیم انڈیا نے اس ورلڈ کپ میں بہت شاندار پرفورمنس دی پورے دیش کو ان پر ناز ہے اتوار کو آسٹریلیا بہترین ٹیم سابت ہوئی اور انہوںنے میچ کو پروفیشنل طریقے سے کھیلا لگتا ہے کے انہوںنے احمد آباد پچ کو بہتر ڈھنگ سے پرکھ لیا تھا اور اسی وجہ سے انہوںنے پہلے گیند بازی کو چنا اس بار ٹیم انڈیا کے کپ جیتنے کی بہت امید تھی اور کروڑوں ہندوتانیوں کا دل ٹوٹ گیا۔وزیراعظم نریندر مودی اور آسٹریلیا کے نائب وزیراعظم رچرڈ مارلیس نے بھی اس میچ کا مذا لیا آئی سی سی کی جانب سے سبھی جیتنے والی ٹیموں کے کپتانوں کو بلانے کے سبب یہ موقع یادگار رہا مہیندر سنگھ دھونی کی غےر حاضری ضرور کھلی یہ انتہائی بدقسمت مرحلہ تھا کہ پہلا ورلڈ کپ چتانے والے کپتان کو نظر انداز کیا گےا یہ بتاتا ہے کے کرکٹ میں بھی کتنی سیاست آ گئی ہے ۔
(انل نریندر)
21 نومبر 2023
اب سہارا گروپ کا کیا ہوگا؟
ایک وقت تھا جب سہارا گروپ کے پاس لندن سے لیکر نیویارک تک ہوٹل تھے ،اور اپنی ائر لائنس اور آئی پی ایل سے لیکر بہت کچھ تھا ٹیم تھی یہیں نہیں سہارا گروپ ٹیم انڈیا کو بھی اسپانسر کر تی تھی کمپنی کی پہنچ بلڈنگ تعمیرات سے لیکر مالی سیوائے سٹی ڈولپمنٹ ، میوچیول فنڈ لائف انشورینس وغیرہ سیکٹر تک تھی ۔اس کمپنی کے پاس ایم ڈی ویلی ٹاﺅنس شپ تھی، لکھنو¿ سمیت کئی شہروں میں زمین کی بڑی جائیدایں تھی ،دیش بھر میں ہزاروں ملازم اس کمپنی میں کام کرتے تھے کمپنی کا اپنا میڈیا تھا اپنے شروعاتی دنوں میں سکوٹر پر چلنے والے سہارا شری سبرت رائے سہارا کی پارٹیوں میں سیاسی اور کرکٹر سے لیکر پالی ووڈ سمیت تمام ہستیاں نظر آتی تھی ایک رپورٹ کے مطابق سال 2009 میں ان کے 2 بیٹوں کی شادی میں 500 کروڑ روپے خرچ کرنے کی بات سنی گئی تھی ان میں 11 ہزار سے زیادہ مہمان شامل ہوئے اور ان کو جہازوں سے لایا گیا تھا ۔وقت بدلتا ہے جب 14 نومبر کو سبرت رائے کی موت ہوئی خبر آئی تب کمپنی کی حالت پہلے سے کافی الگ یعنی کمزور ہے ۔سہارا گروپ اپنی کئی پروپرٹی کو بیچ چکا ہے اور اب کمپنی میں گلیمر نہیں رہا اور کمپنی کی مالی حالت بہت کمزور ہے ابھی یہ صاف نہیں ہے سبرت رائے کے بعد کمپنی کی باگڈور کس کے کندھوں پر ہوگی۔ان کے دونوں بیتے بیرانی ملک میں مقیم ہےں بد کسمتی دیکھئے پتا کی چتا کو مکھ اغنی دینے کے لئے دونوں بیٹے نہیں تھے سنا ہے انہوںنے آنے سے مجبوری ظاہر کر دی تھی اپنے عروج پر چل رہے گروپ سہارا کے 4799 دفاتر اور16 طرح کے کاروبار تھے لیکن نئے ماحول میں گروپ کو بچا پانا مشکل لگتا ہے سبرت رائے نے گورکھپور پالی ٹےکنک سے پڑھائی کرکے ڈپلومہ حاصل کیا تھا سبرت رائے کے والد ایک چینی میل میں کیمیکل انجیئر تھے اور وہ بہت ملن سار شخص تھے ایسا شخص آج کے دور میں ملنا مشکل ہے ۔فائیننس میں آنے سے پہلے سبرت رائے چھوٹا موٹا کاروبار کرتے تھے پہلے انہوںنے نمکین کی فیکٹری لگائی اور نمکین کو پیکج کرکے فروخت شروع کی 70 کی دھہائی کے آغاز میں ایک کمپنی بنارس چٹ فنڈ کے ڈائریکٹر گورکھپور آئے تھے جن سے ان کی ملاقات ہوئی تھی اجئے چٹر جی مہانا 15 روپے پر کمپنی کے ممبر بن گئے اور سبرت رائے کو بھی اس کمپنی کا ممبر بناےا اور کچھ عرصے کے بعد یہ کمپنی سبرت رائے کو مل گئی اس طرح سال 1978 میں سہارا کی شروعات ہوئی جب سبرت رائے ویر بہادر اور ملایم سنگھ یادو جیسے لیڈروں کے قریب آئے کئی لوگوں کے پاس پکے گھر تک نہیں تھے لیکن انہیں ایک اچھے مستقبل کی امید تھی اس کی بنیاد پر وہ اپنی محنت کی کمائی کا ایک حصہ بچاکر سہارا کو دیا کرتے تھے ان کے مستقبل کے لئے ضرورتوں شادی پڑھائی وغیرہ کے لئے پیسے جمع کروا رہے تھے واقف کاروں کے مطابق 80 کی دھہائی میں اسی امید کے بھروسے لاکھوں غریب اور محروم لوگ سہارا سے جڑے ،کمپنی پر بھروسہ اس کے فروغ کا بڑی بنیاد تھا ،سبرت رائے کو سرکاری قوائد میں بھروسہ نہیں تھا سہارا کے لئے پریشانی کا دور اس وقت شروع ہوا جب سہارا کی دو کمپنیوں نے 3 کروڑ سرمایا کاروں سے 24 ہزار کروڑ اکھٹے کئے اور بازار میں لگایا سیبی کی نگاہ اس پر پڑی اور اس کی چیئرمین مادھوری پوری نے کہا کے سہارا کے بانی سبرت رائے کے کی موت کے بعد بھی سرمیا بازار ریگوللیٹری گروپ کے خلاف مقدمہ جاری رکھے گی اور سرمایا کاروں کو وارسی کے لئے سیبی نے کہا سبھی سرمایا کاروں سے پیسا واپس دلانے کے لئے کارروائی جاری رہے گی۔
(انل نرےندر)
نتن ےاہو کے خلاف غصہ کیوں بھڑک اٹھا!
اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کے خلاف جہاں دنیا میں غصہ بڑھ رہا ہے وہیں ان کے اپنے ملک اسرائیل میں بھی ان کے خؒاف زبردست مظاہرے ہو رہے ہیں ان کے استعفیٰ کی مانگ یروشلم کی سڑکوں پر کی جا رہی ہے ۔کچھ اسرائیلیوں کا الزام ہے کے نتن یاہو نے اپنے سیاسی مفاد کے لئے اسرائیل کو اس جنگ میں جھونکا ہے تو کچھ کا کہنا ہے کہ اسرائیلیوں کا غصہ یرغمالوں کو چھڑانے میں ڈھیل کے خلاف ہے لوگ سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے اسرائیل میں اچانک حملوں سے ملک کو جھجھوڑ کر رکھ دیا ہے اور ساتھ ہی پوری دنیا بھی پریشان ہے اسرائیل اور حماس کی جنگ کی وجہ سے سینکڑوں اسائیلیوں کی موت ہو گئی ہے اور ابھی بھی 200 سے زیادہ لوگ حماس کے قبضے میں ہیں 1 مہینے سے زیادہ ہو گیا ہے جنگ جاری رہتے ہوئے ابھی تک اسرائیل ان یرغمالوں کو جھڑا نہیں پایا ہے اور یرغمال بنائے گئے لوگ اپنے گھر نہیں پہنچ پائے اس کو لیکر لوگوں میں کافی غصہ پایا جاتا ہے اسرائیل میں پچھلے کئی مہینوں سے عوام میں نراضگی چل رہی ہے ۔اس کی وجہ بنجامن نتن یاہو کا ایک فیصلہ ہے ۔وست مشرق میں جتنے بھی ملک ہیں ان میں سے کچھ ہی ہیں جہاں جمہوری نظام ہے ۔اسرائیل کی پہچان ایک جمہوری ملک کے طور پر ہوتی ہے ۔حالانکہ کچھ وقت سے اس کی جمہوری بنیاد ہلی ہوئی ہے وجہ یہ ہے کہ ملک میں آگ لگ گئی ہے لوگ سڑکوں پر اتر کر سرکار کے خلاف مظاہرے کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔اسرائیل ملک کا رگبا ہماری نارتھ ایسٹ ریاست منی پور کے برابر ہے اگر آبادی کی بات کریں تو وہ منی پور سے 3 گنا زیادہ ہے ۔اسرائیل کی آبادی تقریباً93 لاکھ ہے لیکن ملک بھلے ہی چھوٹا ہو مگر مالی اور فوجی طاقت کے لحاظ سے بہت مظبوت ہے ایسے طاقتور خوش حال دیش میں ناراضگی کیوں؟وزیراعظم نتن یاہو سپریم کورٹ میں اصلاح کرنا چاہتے ہیں اس کے لئے وہ ایک بل کو پارلیمنٹ میں پاس کرایا گیا؟جنوری میں ہی نتن ہایو نے اشارہ کر دیا تھا کہ سپریم کورٹ میں اسلاح کی جائیگی اسے لیکر لوگوں میں غصہ بھوٹ گیا ہے اور تب سے ہی ملک میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں بل کے پاس ہونے کے بعد لوگ اور بھڑک گئے ۔شائد ہی کوئی ایسا شہر بچا ہو جہاں سرکار کے خلاف مظاہرے نہ ہوئے ہوں واضح ہو نتن یاہو سپریم کورٹ کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لئے پلان کے تحت ایک بل لایا جائے گا جس سے سپریم کورٹ کے اختیارات کو کم کیا جائے ۔اسرائیل میں سرکار کی طاقت بنام عدالت کی طاقت کا کھیل چل رہا ہے اسرائیلی سپریم کورٹ کے پاس سرکار کے فیصلوں کو پلٹنے کے اختیارات ہیں ۔سرکار کا کہنا ہے سپریم کورٹ میں تبدیلی کی ضرورت ہے کیوں کہ ججوں کے پاس منتخب ممبر پارلیمنٹ سے زیادہ طاقت ہے یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ بار بار سرکار کے فیصلوں میں دخل اندازی کر رہی ہے ۔بل کے تحت 3 اہم اصلاحات ہونی ہیں قانون کے جائزہ لینا یا انہیں خارج کرنے کے سپریم کورٹ کے اختیارات کو کمزور کرنا اس کے لئے پارلیمنٹ میں ایک غےر معمولی اور بہت سے ایسے فیصلوں کو خارچ کرنے کی اختیار دینے کے سسٹم کو بنانا سپریم کورٹ سمیت عدالتوں میں کس جج کو مقرر کیا جائیگا اس کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل کرنا یا آسان زبان میں کہیں کے سرکار کے پاس سارے اختیارات ہیں اور سپریم کورٹ محض ایک ادارہ ہے جو اسے قابو میں رکھتا ہے تاکہ دیش میں تانہ شاہی نہ بڑھے وہیں لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر سپریم کورٹ کے اختیارات کم کئے گئے تو تانہ شاہی بڑھ جائیگی اسی کو لیکر اسرائیلی عوام وزیراعظم نتن یاہو کے خلاف سڑکوں پر اتری ہوئی ہے۔(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس
ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...