Translater

CBI لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
CBI لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

06 مارچ 2012

کشواہا کی گرفتاری کیا کانگریس کی حکمت عملی کا حصہ ہے؟



Published On 6 March 2012
انل نریندر
اترپردیش چناؤ کے آخری مرحلے کی پولنگ کے آخری بٹن دبنے کے ساتھ ہی سی بی آئی نے این آر ایچ ایم گھوٹاے میں ملزم سابق وزیر بابو سنگھ کشواہا کوگرفتار کرنے کے وقت کو لیکر ضرور حیرانی ہوئی ہے۔ سی بی آئی اور کانگریس کی یہ حکمت عملی کسیبھی شخص کی سجھ سے پرے ہے۔ یہ گرفتاری محض جانچ کی کارروائی کا حصہ ہے۔ کشواہا کے ساتھ ہی بسپا کے ودھان پریشد کے ممبر رام پرساد جیسوال بھی اسی گھوٹالے میں گرفتار کرلئے گئے ہیں۔ دونوں کو پوچھ تاچھ کے لئے سی بی آئی دہلی ہیڈ کوارٹر میں بلایا اور قریب چار گھنٹے تک گہری پوچھ تاچھ کے بعد جب افسران نے انہیں گرفتار ہونے کی خبر دی تو کشواہا کے چہرے پر مایوسی دوڑ گئی۔ کشواہا کی گرفتاری سے لگتا ہے کانگریس کے اقتدار سنگرام کا نیا حصہ ہے۔ سیدھے سیدھے کہیں تو مایاوتی کے لئے یہ ایک بڑا اشارہ ہے۔ انہیں خوش کرنے کی کوشش بھی اور نتیجے کے نمبر گڑبڑانے کا ہتھیار بھی۔گرفتاری کو اسی انداز میں دیکھا جانا چاہئے اور اسی طرح ہی پوری چناؤ مہم میں کانگریس نے جس طرح پھوکے پھوکے پاؤں چلے اس کے نیتا ریزرویشن کا جھنجھنا دکھا کر مسلمانوں کو آزماتے رہے۔ چناؤ کمیشن تک کو نظر انداز کرتے رہے، تہائی اکثریت کے دعوؤں کے درمیان صدر راج کا خوف دکھاتے رہے۔ کشواہا کی گرفتاری اسی کڑی کا حصہ ہے اور ویسا ہی یہ داؤ ہے۔ بسپا کے لئے ساتھ آنے کی درپردہ دعوت بھی لیکن اس وارننگ کے ساتھ ان کا مہرہ انہی کے خلاف چل سکتا ہے۔ دیش کی سیاست کی سب سے بڑی اہم ریاست اترپردیش کا تاج ہتھیانے کیلئے کانگریس کی کوئی بھی نیت کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وہ ہر طرح کا متبادل کھلا رکھنا چاہتی ہے۔ دو کشتیوں میں سوار ہوکر چلنے سے بھی اسے کوئی پرہیز نہیں۔ سپا کو انگوٹھا دکھا کر کانگریس کا دامن تھامنے والے دل بدلو سماج وادیوں کا طاقتور طبقہ کسی بھی قیمت پر ملائم سنگھ یادو کے ساتھ دوستی نہیں ہونے دینا چاہتا۔ انہیں مایاوتی کو ساتھ لینے میں کوئی پریشانی نہیں نظر آتی۔ کانگریس کی جانب سے وزیر اعظم کے خودساختہ دعویدار بینی پرساد ورما اس کی اپنی طرف سے پیشکش کرچکے ہیں۔ اپنے پرانے ساتھی ملائم کو آڑے ہاتھوں لینے کا وہ کوئی موقعہ نہیں چھوڑتے لیکن حال ہی میں چونکایا مایاوتی کی تعریف کرکے۔ ساتھ ہی آف دی ریکارڈ یہ بھی کہا چناؤ کے بعد سونیا مایاوتی کو بھی چائے پر بلا سکتی ہیں۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی کو پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ میں سب سے زیادہ بے صبری یوپی کے نتیجوں سے ہے۔ جہاں پنجاب، اتراکھنڈ ، منی پور اور گووا کو لیکر کانگریس ہیڈ کوارٹر آرہی اطلاعات میں بہت زیادہ فرق نہیں دکھائی دے رہا ہے وہیں اترپردیش کے نتیجوں کو لیکر کانگریس کے اندر بھاری اختلافات ہیں۔ سونیا کے سپہ سالار جو انہیں بتا رہے ہیں اور راہل گاندھی کے سپاہی جو دعوی کررہے ہیں دونوں کے نمبروں میں خاصا فرق ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا کہ راہل گاندھی نے یوپی چناؤ میں بہت محنت کی ہے۔ 200 سے زیادہ ریلیاں روڈ شو کرنا آسان نہیں تھا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ راہل خیمے کا ماننا ہے کانگریس کی سیٹیں بڑھیں گی اور یہ بڑھت 50 سے70 تک ہوسکتی ہے۔ پارٹی کے زیادہ تر لیڈروں اور مرکزی وزراء کی بھی یہ ہی رائے ہے۔ کچھ مایوس کانگریسی اور ایم پی تو پارٹی کو محض 30سے35 سیٹیں ہی دے رہے ہیں۔ راہل خیمے میں ایسے بھی نیتا ہیں جو کہہ رہے ہیں کانگریس اپنی سیٹیں کم سے کم 125 تک پہنچا سکتی ہے۔ دگوجے سنگھ تو کانگریس کی کم سے کم 125 سیٹیں آنے کی شرط لگانے کو بھی تیار ہیں۔وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس بارانتخابار میں 15 سے20 فیصدی مزید پولنگ ہوئی ہے۔ اس کا کم سے کم 80 فیصدی سے زیادہ کانگریس کو ملا ہے اور یہ ووٹر راہل گاندھی کی جارحانہ چناؤ مہم اور لوگوں کے درمیان ان کے بھروسے اور ترقی کے ایجنڈے پر ہوئی ہے۔ دگوجے سنگھ بھی یہ کہتے ہیں کہ اس بار یوپی کا ووٹر خاموش رہا ہے کیونکہ اس کے ارد گرد سپا۔ بسپا کے حمایتیوں کا دبدبہ ہے اس لئے اس نے چناؤ میں چپ چاپ پولنگ کی ہے جو نتیجوں کی شکل میں سامنے آئے گا۔ خیر نتیجوں کے لئے زیادہ دیر انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ جلد دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا۔ آخر میں ہم چناؤ کمیشن اور ووٹروں کو مبارکباد دینا چاہتے ہیں کہ پانچ ریاستوں اور ڈھائی مہینے طویل چناوی عمل کے دوران بغیر بوتھ پر قبضے اور تشدد یا کسی گڑ بڑی سے پاک چناؤ پر امن طریقے سے مکمل ہوگیا۔ سب سے بڑی بات یہ رہی کہ بغیر کسی اشتعال یا کشیدہ ماحول کے سبھی ریاستوں میں ووٹروں نے ریکارڈ پولنگ کی۔ لوگوں نے پولنگ بوتھوں پر جاکر جمہوریت کے اس مہا پروو کے تئیں نہ صرف اپنی عقیدت جتائی بلکہ چناؤ کو بہت دلچسپ بھی بنا دیا۔
Anil Narendra, Babu Singh Kushwaha, Bahujan Samaj Party, BJP, CBI, Daily Pratap, NRHM, Vir Arjun

04 مارچ 2012

چارج شیٹ داخل کرنے میں 17 برس تو فیصلہ آنے میں کتنے برس؟



Published On 4 March 2012
انل نریندر
مشہور چارہ گھوٹالے میں سی بی آئی نے جمعرات کے روز آخر کار عدالت میں ایک چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ اس میں سابق وزیر اعلی لالو پرساد یادو اور ایک دوسرے سابق وزیر اعلی جگناتھ مشر ملزم بنائے گئے ہیں۔ یہ چارج شیٹ 1994-96 ء کے درمیان 46 لاکھ روپے کے گھوٹالے کو لیکر ہے۔ ایک موجودہ ایم پی اور ایک سابق ایم پی بھی اس میں ملزم ہے۔ یہ چارج شیٹ بتاتی ہے طاقتور لوگوں کے کرپشن کی جانچ کی رفتار کتنی دھیمی کی جاسکتی ہے۔ اس چارج شیٹ کو داخل کرنے میں ہی تقریباً 17-18 برس لگ گئے تو مقدمہ چلے اور فیصلہ آنے میں کتنا وقت لگے گا آپ خود ہی طے کرلیں۔ اور جب پھر فیصلہ آئے گا تو بڑی عدالتوں میں چیلنج ہوگا اور آخری فیصلہ آتے آتے ایک دور گذر جائے گا۔ کرپشن کے معاموں میں اس لئے ملزمان کو سزا سے ڈر نہیں لگتا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ آخری فیصلہ آتے آتے عمر ہی گذر جائے گی۔ محکمہ پشوپالن میں پیسے کی گڑ بڑی کا پہلا اندیشہ سی اے جی نے 1985ء میں ظاہر کیا تھا۔ شروع میں یہ گھوٹالہ بڑا نہیں تھا اور اس میں زیادہ لوگ شامل نہیں تھے۔ اگر شروع میں ہی اس پر روک لگ جاتی تو اس کا اتنا بڑا پھیلاؤ نہ ہوتا۔ اس گھوٹالے کو لیکر وارننگ آتی رہی ہیں لیکن انہیں نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ بہار میں ایک بعد دوسرے وزیر اعلی آتے رہے ہیں اور گھوٹالہ بڑا ہوتا گیا۔ یہ مانا گیا ہے کہ 1995-96 ء تک اس گھوٹالے میں تقریباً10 ارب روپے کی ہیرا پھیری ہوچکی تھی۔ اس کے بعد بھی جانچ کو روکنے کی پوری کوشش کی گئی لیکن پٹنہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی مداخلت سے یہ معاملہ سی بی آئی کو سونپا گیا اور جانچ رک رک کر ہی صحیح لیکن جاری رہی جو کافی حد تک سیاسی تبدیلی سے وابستہ رہی۔ آزاد ہندوستان میں کرپشن کو روکنے میں کیا کیا رکاوٹیں آتی ہیں اس کی ایک تازہ مثال ہے یہ چارہ کانڈ۔ چارہ گھوٹالے کے دوران وزیر اعلی لالو پرساد یادو کو گھپلے کی جانکاریاں مل رہی تھیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے بروقت اسے روکنے میں کوئی کارگر قدم نہیں اٹھایا۔ یہاں تک کے دوسروں کو بھی نہیں اٹھانے دیا۔ ان کے عہد میں ایک ہی دن میں 51 لاکھ روپے سے زیادہ کی ناجائز نکاسی گھوٹالے بازوں نے کی تھی جبکہ جائز نکاسی 1 لاکھ روپے تک کی کرنے کی اجازت تھی۔ اس ناجائز پیسہ نکاسی کے کروڑوں روپے سے بڑے بڑے سیاستدانوں اور افسروں کی ہوائی سہولت، ہوٹل خرچ سمیت دیگر خرچوں کو اٹھایا جاتا تھا۔ گھوٹالوں سے وابستہ سی اے جی رپورٹ دسمبر 1993 میں ملنے کے بعد کسی طرح کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ جارکھنڈ کیڈر کے آئی اے ایس افسر امت کھرے نے محکمہ پشو پالن میں کی گئی اقتصادی گڑ بڑیوں کو پکڑا تھا اس وقت وہ چائی باسا کے ڈپٹی کمشنر تھے۔ انہوں نے اس معاملے میں اعلی سطحی جانچ کی سفارش سرکار سے کی تھی۔اس معاملے میں وسیع پیمانے پر جعلی سازی کی گئی۔ سرکار کے محکمہ پشو پالن میں گائے بھیس دھونے یا چارہ لانے والی جن گاڑیوں کے نمبر درج کئے جانچ میں وہ اسکوٹر ،موٹر سائیکل نکلیں۔ ساتھ ہی بڑے پیمانے پر فرضی سپلائی دکھائی گئی۔ قریب 900 کروڑ روپے کے اس گھوٹالے میں سی بی آئی اب تک 350 کروڑ روپے کی املاک ضبط کر چکی ہے۔ زیادہ تر برآمدگی زیورات اور منقولہ غیر منقولہ املاک کے ذریعے سے کی گئی۔ سی بی آئی کو امید ہے کہ یہ برآمدگی قریب 500 کروڑ روپے تک جا سکتی ہے۔ سی بی آئی کا خیال ہے کہ قریب-400 350 کروڑ روپے عیش و آرام میں پھونکے جا چکے تھے۔ اس کا جائزہ اس کی برآمدگی کی شکل میں ممکن نہیں ہے۔ حالانکہ لالو جی اس کانڈ کے پانچ معاملوں میں 244 دن جیل میں رہ چکے ہیں لیکن ان کی مصیبتیں ختم نہیں ہوئیں۔ لالو پرساد یادو سے وابستہ ایک اور دیگر معاملے میں دو مہینے کے اندر رانچی کی ایک عدالت میں فیصلہ آنا ہے۔ عدالت میں لالو سمیت سبھی ملزمان کے بیان درج کرنے کا کام شروع ہوچکا ہے اب صرف بحث باقی ہے۔جگناتھ مشرا اب سیاست سے ریٹائرڈ ہو چکے ہیں اور لالو پرساد یادو کا دور گذر چکا ہے نہ تو وہ بہار میں اور نہ ہی مرکز میں اب ان کی زیادہ اہمیت نہیں ہے اور اس بات کا امکان کم ہی لگتا ہے کہ مستقبل میں ان کا سیاسی قد اونچا ہو پائے گا جتنا وہ پہلے تھے۔ اسی وجہ سے لالو کی سیاست مسلسل کمزور ہوتی گئی اور وہ بدلے زمانے کی آہٹ کو نہیں پہچان پائے۔ شاید لالو پرساد یادو کے خلاف معاملے کے نپٹارے میں اب تیزی آئے، کیونکہ ان کا سیاسی رسوخ گھٹا ہے لیکن ضرورت اس بات کی زیادہ ہے کہ دیش میں کرپشن کو روکنے کے لئے موثر قدم اٹھائے جائیں۔
Anil Narendra, Bihar, CBI, Daily Pratap, Fodder Scam, Lalu Prasad Yadav, Vir Arjun

بھنوری دیوی اغوا و قتل معاملے میں چارج شیٹ کیا کہتی ہے؟



Published On 4 March 2012
انل نریندر
سرخیوں میں چھائے رہے بھنوری دیوی قتل کانڈ میں سی بی آئی نے بدھوار کو جودھپور کی عدالت میں چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ 97 صفحات کی اس چارج شیٹ میں 50 صفحات میں الزام اور کہانی بیان کی گئی ہے۔ 300 گواہوں کے بیان ہیں اور چارج شیٹ میں 313 دستاویز نتھی کئے گئے ہیں ان میں 93 ثبوتوں کی فہرست بھی لگائی گئی ہے۔ چارج شیٹ میں سابق وزیر مہیپال مدیرنااور ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ بشنوئی پر ایک ہی الزامات لگائے گئے ہیں۔ یہ بھی خلاصہ ہوا ہے کہ ملکھان سنگھ کی بہن اندرا نے مدیرنا کی سی ڈی بنوائی تھی۔ مدیرنا قابل اعتراض سی ڈی سے بلیک میل ہورہے تھے۔ ملکھان سنگھ بھنوری کی ایک بیٹی کا والد ہونے اور کھیجڑلی میلے میں پول کھولنے سے پریشان تھے۔ دونوں نے صحیح رام اور سوہن لال کو بھنوری کو ٹھکانے لگانے کا ذمہ سونپا اور اسی سازش میں 1 ستمبر کو اس کا اغوا کیا گیا۔ چارج شیٹ کے مطابق بھنوری دیوی اور سابق وزیر مہیپال مدیرنا کی فحش سی ڈی کے پیچھے سیاسی سازش تھی اور اس پورے معاملے میں ماسٹر مائنڈ اندرا بشنوئی تھی۔ اس نے ہی اپنے بھائی ملکھان سنگھ کو وزیر بنوانے کے لئے یہ سازش رچی تھی۔ غور طلب ہے کہ 1 ستمبر 2011ء کو بھنوری دیوی غائب ہوئی تھی اور ٹھیک 6 ماہ بعد کورٹ میں دوسری چارج شیٹ پیش کی گئی ہے۔ بھنوری اغوا اور قتل معاملے میں مدیرنا ، ملکھان سنگھ سمیت 16 ملزم جیل میں ہیں یہ ملزم سوہن لال، شہاب الدین، بلدیو، صحیح رام، پرس رام، امرچند،امیش رام، کیلاش وغیرہ ہیں۔ان میں اندرا بشنوئی ابھی گرفتار نہیں ہوپائی، وہ چار ماہ سے فرار ہے۔سابق وزیر مہیپال مدیرنا اور ملکھان سنگھ اے این ایم بھنوری دیوی کے ذریعے بلیک میلنگ سے کافی پریشان تھے۔ بدنامی سے بچنے کے ساتھ ہی سیاسی کیریئر کو بچانے کے مقصد سے ان دونوں بڑے لیڈروں نے بھنوری دیوی سے چھٹکارا پانے کے لئے سازش رچی تھی۔ چارج شیٹ کے مطابق ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ بھنوری دیوی کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے۔ اسی کڑی میں اس نے بھنوری کی کار جو اس نے3 ستمبر 2009ء کو خریدی تھی ، کی ادائیگی 320594 روپے اپنی طرف سے کی تھی۔ اس کار کو دلانے میں مدیرنا نے بھی مدد کی تھی۔ اسی دن بھنوری نے شکارگڑھ میں ایک پلاٹ بھی خریدا تھا۔ بھنوری دیوی ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ کی صرف خاتون دوست بن کر ہی نہیں رہنا چاہتی تھی۔ ایسے میں وہ اپنی چھوٹی لڑکی کا حق پانے میں لگ گئی۔7 ستمبر 2010ء کو بھنوری جودھپور کے اس وقت کے ایس پی دفتر جاپہنچی اور ملکھان سنگھ کو چھوٹی لڑکی کا والد بتاتے ہوئے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی اپیل کی تھی۔ لیکن اندرا اسے سمجھا بجھا کر وہاں سے لے گئی۔ پھر بھنوری نے بلیک میلنگ کا دھندہ بڑھا دیا۔ اندرا کے گھر رچی گئی سازش مہیپال مدیرنا اور بھنوری کی فحش سی ڈی مدیرنا کے فارم ہاؤس پر بنائی گئی تھی۔ ٹی وی چینلوں میں اس سی ڈی کو دکھائے جانے سے دونوں خاندانوں میں کھلبلی مچ گئی اور بہت غور و خوض کے بعد بھنوری دیوی کو جان سے مار کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے معاملے کو دفن کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی۔ بھنوری کا اغوا اور بعد میں اس کے قتل کی پوری جانکاری ہونے کے باوجود بھنوری کا شوہر امرچند انجان بنا رہا۔ سازش میں شامل امرچند نے پولیس کے کافی دباؤ ڈالنے پر پہلے گمشدگی اور پھر اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اسے اندیشہ تھا کہ جانچ کے دوران کہیں اس کی اس معاملے میں شمولیت اجاگر نہ ہوجائے۔ اس کہانی میں سبھی موڑ ہیں لو، سیکس، بلیک میلنگ و قتل۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Mhipal Maderna, Rajassthan, Sex, Sex Scandal, Sexy Photo, Vir Arjun

22 فروری 2012

ایسی حالت میں تو ہم لڑ چکے آتنک واد کی چنوتی سے



Published On 22nd February 2012
انل نریندر

یہ دکھ کی بات ہے کہ دہشت گردی سے موثر ڈھنگ سے لڑنے کے لئے تیار کئے جارہے نیشنل کاؤنٹر ٹیریرزم سینٹر (این سی ٹی سی) پر سیاسی گرہن لگ گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سلامتی کی کیبنٹ کمیٹی (سی سی اے) نے اس سال11 جنوری کو دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے طاقتور قومی انسداد دہشت گردی سینٹر کی تشکیل کا اعلان کیا تھا۔ یہ ایجنسی یکم مارچ2012ء کو وجود میں آجائے گی۔ یہ دہشت گردی کے خطروں کا پتہ لگانے کے علاوہ تلاشی آپریشن شبے کی بنیادپر لوگوں کو گرفتار کرسکے گی۔ اس کو یہ اختیارات غیر قانونی سرگرمی انسداد قانون کے تحت حاصل ہوں گے۔ دہشت گردی کی سازش کا پتہ لگانا، دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کا پتہ لگانا اس کا مقصد ہے۔ یہ سی بی آئی ، این آئی اے نیٹ گریٹ سمیت ساتوں سینٹرل مسلح فورسز سے اطلاعات حاصل کرسکے گی۔ اس کا سربراہ ڈائریکٹر کہہ لائے گا جو انٹیلی جنس بیورو ایڈیشنل ڈائریکٹر کے مساوی عہدے کا ہوگا۔ این سی ٹی سی اطلاع اکٹھا کرنے کے لئے دوسری ایجنسی پر منحصر کرے گا۔ آدھے درجن سے زیادہ غیر کانگریسی وزرائے اعلی نے اس مرکز کے قیام پر اعتراض ظاہر کیا ہے اور اندیشہ جتایا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف کھڑے کئے جارہے اس یونیفائڈ کمان کا کہیں قتل نہ ہوجائے۔ اس مجوزہ دہشت گردی انسداد مرکز کو ریاستوں کے معاملوں میں مداخلت اور آئین کی مریادا کی خلاف ورزی بتایا جارہا ہے اس پر بھی غور کیا جانا چاہئے کہ این سی ٹی سی نام سے بحث میں آئے اس قومی آتنک واد انسداد مرکز کے خلاف ٹھیک اس وقت آواز بلند ہورہی ہے جب اس کے باقاعدہ کام کرنے کا وقت قریب آگیا ہے۔ کیا یہ محض ایک اتفاق ہے۔ یکم مارچ سے سرگرم ہونے جارہے این سی ٹی سی کے خلاف ریاستی حکومتوں کی سرگرمی یکایک بڑھ گئی ہے۔ چند دن پہلے تک صرف ممتا بنرجی، نوین پٹنائک کو ہی یہ مرکز راس نہیں آرہا تھا لیکن اب سارے بھاجپا حکمراں وزرائے اعلی اور تملناڈو کی وزیر اعلی کو بھی یہ لگنے لگا ہے کہ ریاستوں کے اختیارات پر قبضہ ہونے جارہا ہے۔ ہماری رائے میں اس مرکز کا احتجاج کرنے والوں کی دلیلوں میں بھی دم ہے۔ کچھ معنوں میں تو یہ پوٹا سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ 
بغیر ریاستوں کو اطلاع دئے اس میں کسی کو بھی گرفتار کرنے کی سہولت ہے۔ اس سے ریاستوں کا خوفزدہ ہونا سمجھ میں آتا ہے۔ اس یوپی اے سرکار اور خاص کر وزیر داخلہ پی چدمبرم کی ساکھ اتنی گر چکی ہے کہ ان پر اب کوئی بھروسہ کرنے کو تیار نہیں۔ اگر یہ کرنا ہی تھا تو پوٹا کیوں ہٹایا؟ 26/11 حملوں کے بعد دیش میں ایک ماحول ایسا بنا تھا کہ اگر اسی وقت اس مرکز کو قائم کرلیا جاتا تو شاید اتنا احتجاج نہ ہوتا۔ ادھر یوپی اے سرکار سوتی رہی اور اتنے سال گزر گئے اب آکر اسے ہوش آیا ہے۔ اس احتجاج کی اصلیت میں ریاستوں کی یہ مشکل ہے کہ مرکزی حکومت اس قانون کے تحت اپنا سیاسی ایجنڈا ان پر ٹھونپ سکتی ہے۔ یہ دہشت گردی انسداد نظام مرکز کے خفیہ محکمے انٹیلی جنس بیورو کے تحت چلے گا۔ ان ریاستوں کو اندیشہ ہے کہ سی بی آئی کی طرح اسے بھی کہیں مرکز کی اقتدار پر قابض پارٹی کے مفاد کا ذریعہ نہ بنا دیا جائے۔ ایسی حالت میں تو ہم لڑ چکے آتنک واد سے۔
Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Mamta Banerjee, NCTC, P. Chidambaram, Terrorist, Vir Arjun

19 فروری 2012

یوپی کے ہیلتھ مشن گھوٹالے نے لی ساتویں بلی


Published On 19th February 2012
انل نریندراترپردیش میں ہوا 5700 کروڑ روپے کا نیشنل رورل ہیلتھ مشن (این آر ایچ ایم) گھوٹالہ ایک کے بعد ایک زندگی لے رہا ہے۔ محکمہ صحت کے 7 فروری سے لاپتہ خزانچی مہندر شرما 50 سال ، کی خون سے لت پت لاش بدھوار کی رات لکھیم پور ضلع سے برآمد ہوئی ہے۔ بمشکل 24 گھنٹے گذرے کے جمعرات کی رات دہلی کے کاروباری سردار رنجیت سنگھ (50 سال ) نے لکھنؤ کے ایک ہوٹل میں نشیلی گولیاں کھا کر خودکشی کرلی۔ بدھ کو ہی سی بی آئی نے این آر ایچ ایم گھوٹالے کے سلسلے میں ان سے لمبی پوچھ تاچھ کی تھی۔ ان کی لاش کے پاس دو صفحات کا خود کشی نامہ ملا ہے۔ اس 5700 کروڑ روپے کے گھوٹالے میں پہلے کئی لوگوں کی جان جاچکی ہے۔ 20 اکتوبر 2010ء کو لکھنؤ کے محکمہ خاندانی بہبود کے سی ایم او ڈاکٹر ونود آریہ کو دن دہاڑے مار ڈالا گیا۔ اسی محکمے کے دوسرے سی ایم او ڈاکٹر وی پی سنگھ کو 2 اپریل 2011ء کو قتل کردیا گیا۔ ڈاکٹر آریہ کے قتل کے بعد ڈاکٹر سنگھ اسی محکمے کے تھے۔ فروری2011ء میں سی ایم او بنے تھے۔ ان قتلوں کے الزام میں گرفتار ڈپٹی سی ایم او ڈاکٹر سچان جون2011ء میں مشتبہ حالت میں لکھنؤ کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ سنیل کمار ورما جو این آر ایچ ایم کے پروجیکٹ منیجر تھے نے جنوری2011ء میں لکھنؤ میں اپنے گھر میں خود کو گولی مار کر خودکشی کرلی تھی۔ بنارس میں ڈپٹی سی ایم او سلیش یادو کی پچھلے مہینے ایک سڑک حادثے میں موت ہوگئی تھی۔ اس گھوٹالے میں ریاستی حکومت کے دو وزراء اننت کمارمشر، بابو سنگھ کشواہا کے نام آنے پر انہیں عہدے سے ہٹنا پڑا۔ این آر ایچ ایم گھوٹالے کی جانچ جس تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے ٹھیک اسی طرح سے مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ سی بی آئی کا شکنجہ جب کھیری کے افسروں پر کسنے لگا تو ان کے دل کے مطابق کام پورا نہ کرنے پر دسگواں سی ایم سی کے سینئر کلرک مہندر شرما کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ الزامات کے گھیرے میں محکمے کے سربراہ سمیت کئی میڈیکل افسر بھی ہیں۔ اس کے علاوہ کلرک یونین کے پردھان پر بھی رشتے داروں نے نشانہ لگاتے ہوئے سمجھوتہ کرانے کے لئے دباؤ بنانے کا الزام لگایا ہے۔ خاندان والوں نے پورے معاملے کی اعلی سطحی جانچ کی مانگ کی ہے تاکہ سازش اجاگر ہوسکے۔ این آر ایچ ایم گھوٹالے سے وابستہ چھٹی موت کو سی بی آئی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ اس نے صاف کردیا ہے کہ محکمہ صحت کے خزانچی مہندر شرما کے قتل کی اترپردیش سی آئی ڈی جانچ کررہی ہے اور ہماری اس پر نظر ہے۔ ضرورت پڑنے پر وہ اسے اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہے۔ ادھر مایا کیبنٹ سے ہٹائے گئے وزیر بابو سنگھ کشواہا نے کہا کہ قتلوں کے پیچھے مایاوتی، ان کے وزیر نسیم الدین ، کیبنٹ سکریٹری ششانک شیکھر، داخلہ سکریٹری کنور فتح بہادر و آئی اے ایس افسروں کی سانٹھ گانٹھ ہے۔ میں نے اس سازش کے بارے میں مایاوتی کو بتایا تو انہوں نے مجھے دھمکایا اور زبان بند رکھنے کو کہا۔ پتہ نہیں اس گھوٹالے کو لیکر ابھی کتنی جانیں اور جائیں گی؟ اب تک ہوئی اموات میں سے پانچ کا قتل کیا گیا ، ایک نے خودکشی کی اور تین مشتبہ حالت میں مارے گئے ہیں۔
Anil Narendra, CBI, Corruption, Daily Pratap, Dr. Sachan, NRHM, Uttar Pradesh, Vir Arjun

17 فروری 2012

لالواُبائے:رشوت کھائی تو وہ پیسہ کہاں ہے؟


Published On 17th February 2012
انل نریندر
بہار کے سابق وزیراعلی وسابق ریل وزیر لالو پرساد یادو منگل کے روز سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہوئے ان پر 950 کروڑ روپے کے چارہ گھوٹالہ کا الزام ہے۔ سماعت کے دوران لالو اسی انداز میں پیش آئے جس طرح وہ پارلیمنٹ میں جرح کرتے وقت دکھائی پڑتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خاص انداز میں پونے دوگھنٹے تک سی بی آئی کے اسپیشل جج پی کے سنگھ کی عدالت میں بیان درج کرایا۔ اسی دوران لالو جی نے خود پر لگائے الزامات کو پوری طرح سے مستردکرتے ہوئے الٹے سی بی آئی کے خلاف کارروائی کرنے کی مانگ کرڈالی؟ لالو نے کہا کہ ''چارہ گھوٹالے بازوں نے رشوت میں ہم کو کروڑوں روپے دیا تو او پیسہ کہا ہے ؟بھئی میرے پاس تو نہیں ہے۔ سی بی آئی دعوی کررہی ہے کہ میرا پیسہ ہے تو لا کر مجھے دے دیں۔ شام بہاری سنہا تو سورگ میں ہیں ان کو بلایا جائے۔ تب ہی نہ بتائیں گے۔ ہم کو کتناپیسہ گھوس میں دیا ہے لالو پرساد کے پیٹ میں کوئی بات نہیں پچتا ہے ہم کو گھوس ملا ہوتا تو کورٹ میں بھی سچ سچ بتا دیتے۔ دراصل ہم کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے یہ سب کچھ سازش رچی گئی ہے'' عدلیہ اور بھگوان پر عقیدت ظاہر کرتے ہوئے لالو کہتے ہیں اوپر والا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ میرے پر ایسا آروپ لگایا ہے کہ دھرتی پھٹ جائے۔ اور ہم اسی میں سماجائیں۔ جانتے ہیں حضورت سی بی آئی والا لوگ میرا گھینی، کنگھا، بھینسیں سب کا خرچہ میری املاک میں جوڑ لیا ہے۔یہ کیسا انصاف ہے حضور۔مدعی ہم اور مدعالیہ بھی ہم بن گئے۔ ہم ہی نے جانچ کی تمناکی۔ کاغذ پتر دستیاب کرایا اور ہم ہی کو پھنسا دیا گیا۔ ہم سازش کرتے تو سارے کاغذ میں آگ نہیں لگادیتے۔ جب جج موصوف نے لالو سے سوال کیا تو لالو بولے۔ حضور جو سوال ہم کو دیا گیا وہ انگریزی میں ہے۔ ہمارا انگریزی کمزور ہے۔ جب پڑھنے کاٹائم تھا تب ہم گائے گؤ چراتے تھے ۔ ہندی میں لکھنے سے بات ٹھیک سے سمجھ میں آجائے گی۔ کورٹ نے آپ کو ہندی میں ہی دیا جائے گا۔ تاکہ صحیح بات سامنے آسکے۔ لالو پرساد نے کہا کہ سر میں نے بھی پٹنہ لاء کالج سے قانون کی ڈگری لیا ہے۔ جج صاحب نے کہا کہ میں بھی وہیں کا اسٹوڈینٹ رہا ہوں۔ آپ سے جونیئر ہوں آپ کو اپنی بات رکھنے کا پورا موقعہ دیاجائے گا۔ لالو بولے۔ حضور ۔ ای لوگ کہتاہے کہ ہم سوئز بینک میں پیسہ رکھے ہیں۔ سوئز جانا کو دور ہے؟ این ڈی اے والا لوگ یوا ین وشواس کو بولا ہم گورنر بنادیں گے۔ اور ہم کو پھنسا دیں گے۔ جج نے پوچھا آپ پر چارہ گھوٹالہ بازوں سے ہوائی ٹکٹ اورہوٹل میں ٹھہرنے کاخرچ لینے کا الزام ہے۔ لالو نے کہا کہ بہار سرکار کااپنا ہیلی کاپٹر ہے ٹی اے اور ڈی اے بھی ملتا تھا۔ ہم کیوں خرچہ لیتے؟ وزیراعلی اور وزیر خزانہ کی حیثیت سے میں نے کیا کیا یہ فائل پر لکھا ہوا ہے۔ سی بی آئی کہنے سے کچھ نہیں ہوگا۔ لالو نے کورٹ کو بتایا کہ بھارت کی تاریخ میں یہ پہلاموقعہ ہے جب میری گرفتاری کے لئے فوج کو بلانے کے لئے خط لکھا گیا تھا۔ جب کہ میں خود سرینڈر کی بات کہہ چکا تھا۔ فوج نے آنے سے انکار کردیاتھا۔ لالو نے جیسے ہی پوچھ ڈالا۔ حضور سی بی آئی کو سزا دینے کاکوئی پراؤ دھان ہے ہی نہیں جس کو چاہے اسے پھنسا دیتی ہے۔ کہیں کاروڑا کہیں کاپتھر جوڑ کر ہم کو پھنسادیا۔ یہ لوگ انداز پر گریاپکڑرہاہے۔
CBI, Corruption, Fodder Scam, Lalu Prasad Yadav

12 جنوری 2012

بھنوری دیوی کا قتل ہوایہ طے ہو گیا، ثابت کرنا اہم چیلنج


Published On 12th January 2012
انل نریندر
سی بی آئی نے راجستھان ہائی کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ بھنوری دیوی اب زندہ نہیں ہے اور اس نے عدالت سے اس کے شوہر امر چند کی جانب سے دائر عرضی کو منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ عدالت نے حالانکہ عرضی کو منسوخ کرنے سے انکارکردیا اور سی بی آئی سے آخری رپورٹ 21 فروری تک پیش کرنے کو کہا ہے۔ سی بی آئی کی جانب سے سرکاری وکیل آنند پروہت نے عدالت کے سامنے پیش ہوکر کہا کہ اب بھنوری دیوی زندہ نہیں رہیں اس لئے اب عدالت میں اسے پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی مطلع کیا کہ وہ معاملے کے نتیجوں کے قریب پہنچ گئی ہے اور جلد چارج شیٹ داخل کرنے جارہی ہے۔ بھنوری کا قتل ہوا تھا یہ پہلے سے ثابت کرنا سی بی آئی کے لئے ایک بڑی چنوتی ہوگی۔ لاش کو جلایا گیا پھر ہڈیوں کو توڑا گیا ، جتنا ممکن ہوا چورا بھی کیا گیا۔ اس پر بھی قاتل استھیاں چار مہینے سے زیادہ وقت تک نہر میں رہیں۔ ان سب اسباب سے ڈی این اے ٹیسٹ فیل ہوسکتا ہے اس لئے یہ سی بی آئی کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے اور نہر سے ملی بھنوری کی گھڑی بڑی امید کی کرن بن گئی ہے۔ قانونی واقف کاروں کا خیال ہے کہ قریب 200 ملازمین اور غوطہ خوروں کی مدد سے سی بی آئی نے بھنوری کے باقیات اندراگاندھی نہر سے برآمد کر بڑی کامیابی حاصل کی ہے لیکن یہ بڑی چنوتی بھی ہے کہ پانی میں تین مہینے سے زیادہ وقت استھیوں کے ڈوبے رہنے سے ڈی این اے کے نتیجے امید کے حساب سے صحیح نہیں آتے۔ اس لئے ڈی این اے کے ذریعے یہ ثابت کرنا مشکل ہوسکتا ہے کہ بھنوری کا مرڈر کیا گیا تھا؟ یہ بھی صاف نہیں ہوتا کہ کون مارا گیا تھا۔ یہ بات تو کم معنی رکھتی ہے کیوں مارا گیا تھا اور کس نے مارا یا مروایا تھا؟اب سارا دارومدار گواہوں پر منحصر ہے ۔ سی بی آئی کے مطابق ان کے پاس مقدمے کو ثابت کرنے کے لئے کافی ثبوت ہیں جس میں گواہیاں اہمیت کی حامل ہیں۔ ویسے ابھی تو جانچ چل رہی ہے۔ دو تین لوگوں کی تلاش جاری ہے۔ اس لئے اگلی چارج شیٹ سے ہی پتہ چلے گا کہ ان سوالوں کے جواب ہمارا تجربہ یہ بھی ہے کہ مقدمے کے دوران بہت سی باتیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر گواہ مکرجاتے ہیں یا بدک جاتے ہیں۔
نہر سے بھنوری دیوی کی گھڑی اور ایک جھمکے کا ملنا اہم ثبوت ہوسکتے ہیں بشرطیکہ کے ان کے خاندان کے لوگ کورٹ میں بھی یہ ہی بات کہیں کہ یہ چیزیں بھنوری کی ہی ہیں۔ اگر وہ یہ کہہ بھی دیتے ہیں تو یہ ثابت کرنا اہم ہوگا کہ قتل کی وجہ سے ہی یہ چیزیں نہر میں پھینکی گئیں اور نہر سے ملیں۔کسی کے ذریعے نہیں پھینکی گئیں؟ جودھپور کی اوسیاں کے جالوڑہ گاؤں کے پاس سے گذر رہی اندرا گاندھی نہرسے غوطہ خوروں نے سنیچر کو بھنوری کی گھڑی، دانت کے ٹکڑے ، کھوپڑی کا حصہ،کان کی بالی اور بھنوری کے ہار کے کچھ موتی سی بی آئی کو امید ہے کہ نہر سے ابھی کچھ اور ثبوت مل سکتے ہیں۔ دہلی سے گئی سی ایف ایس ایل کی ٹیم نے دو دن ضلعے کے لوہاوٹ میں بھنوری کی لاش کو نپٹانے کی جگہوں کا معائنہ کیا۔نہر سے ایک بیلٹ پلاسٹک کی تھیلی میں دو دیسی پستول،چوڑیاں، ایک کٹے میں مٹی و راکھ برآمد کی گئی تھی۔ یہ کامیابی سی بی آئی کو ملزم اوم پرکاش اور کیلاش جاکھڑ کی نشاندہی پر ملی۔ یہ ہی دونوں سی بی آئی کو اس گڈھے تک لے گئے تھے جہاں انہوں نے بھنوری کو لاش کو جلا کر لاش نہر میں بہائی تھی۔ ملزموں نے ڈیمو کرکے بتایا کہ انہوں نے چھرے سے لاش کے ٹکڑے کئے ، پھر لکڑیوں اور پیٹرول ڈال کر انہیں صبح تک جلایا، جلی ہوئی ہڈیوں کو بھی بلے سے توڑ کر دوبارہ جلایا، پھر راکھ بلہ اور چھرا نہر میں ڈال کر بھاگ گئے۔ بلہ نہ ڈوبنے پر اسے پتھر باندھ کر پھینکا گیا۔اور لاش کے جلنے کے نشان مٹانے کے لئے مٹی کھود کر اسے نہر میں ڈال دیا۔ ان حالات میں جہاں قتل کے سارے ثبوت مٹانے کی اتنی کوشش ہو یقینی طور سے سی بی آئی کو کیس ثابت کرنے میں بہت مشقت کرنی پڑے گی۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Mhipal Maderna, Vir Arjun

04 جنوری 2012

اور ایسے ہوا بھنوری دیوی کا تکلیف دہ خاتمہ


Published On 4th January 2012
انل نریندر
قریب4 مئی سے لاپتہ نرس بھنوری دیوی کا خاتمہ کیسے ہوا اس کا تو اب خلاصہ ہوہی گیا ہے لیکن ابھی تک نہ تو اس کی لاش ملی ہے اور نہ ہی یہ ابھی ٹھیک سے پتہ چل سکا ہے کہ ان کی لاش کو کیسے ٹھکانے لگایا گیا ہے۔بھنوری دیوی کی مثال اور قتل عام کی بنیادی کڑی سب ڈسٹرکٹ چیف سہی رام بشنوئی کے جرم قبول کرلینے سے سی بی آئی نے بھی راحت کی سانس لی ہے۔ سی بی آئی اور پولیس کی جوائنٹ ٹیم سہی رام کے بیان کی تصدیق کرنے میں لگی ہے۔ اس کے جاری رہتے تحقیقاتی ٹیم پھر سے اس راستے کی باریکی سے پڑتال کررہی ہے جس پر اغوا کرنے کے بعد بھنوری دیوی کا قتل کردیا گیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ سہی رام نے بھنوری دیوی کا اغوا اور اس کے بے رحمانہ قتل کے بارے میں سی بی آئی کو جو تفصیل دی ہے اس کے حساب سے بھنوری نے اپنے اغوا کا اندیشہ ہوتے ہی بلیرو سے کود کر بھاگنے کی کوشش کی تھی۔ اس پر اہم اغوا کار سوہن لال اور شہاب الدین نے مل کر نہ صرف اس کا گلا دبا دیا بلکہ شہاب الدین بھنوری کو اپنے پیروں تلے تب تک روندتا رہا جب تک وہ نڈھال نہیں ہوگئی۔ بھنوری کے قتل کے سنسنی خیز حقائق سامنے آتے ہی سی بی آئی اور پولیس قتل کے ٹھوس ثبوت اکٹھے کرنے میں نئے سرے سے لگ گئی ہے۔تحقیقاتی ٹیم شہاب الدین کے ان جوتوں کی بھی تلاش کررہی ہے جو اس نے واردات کے دوران پہن رکھے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ شہاب الدین نے بھنوری کا کام تمام کرنے کے بعد اپنے جوتے بیچ راستے میں ہی پھینک کر نئے جوتے خرید لئے تھے۔ بھنوری کے اغوا کے بعد قتل کے معاملے میں ملزم سوہن لال اینڈ پارٹی نے منصوبہ بند طریقے سے کام کیا تھا۔ بھنوری کو جھانسہ دینے کے لئے سوہن لال نے شہاب الدین کو راجو سیٹھ کی شکل میں ملوایا تھا۔ بلیرو گاڑی میں بھنوری کا اغوا کرنے کے بعد آپسی بات چیت میں شہاب الدین کی پول کھل جانے پر بھنوری نے زور سے چلاتے ہوئے یہ کہا تھا کہ میرے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ تم راجو سیٹھ نہیں ہو اور اس کے بعد بھنوری نے بلیرو کے کھڑکی سے باہر کودنے کی کوشش کی۔ بھنوری کا سر اور آدھا دھڑ کھڑکی سے باہر نکلتے ہی شہاب الدین نے اس کے دونوں پیروں کو پکڑ کر واپس گاڑی کے اندر کھینچ لیا۔ اس دوران سوہن لال پیچھے والی سیٹ پر آگیا اور دونوں نے مل کر بھنوری کے ساتھ مار پیٹ کی اور اس کا گلا گھونٹ دیا۔ اسکے بعد شہاب الدین نے بھنوری کو سیٹ کے نیچے رکھ لیا اور اس کے گلے کو جوتوں سے تب تک دباتا رہا جب تک اس کا دم نہیں نکل گیا۔ بتایا جاتا ہے شہاب الدین نے بھنوری کے خون سے سنے جوتوں کو راستے میں پڑنے والے کسی چوراہے پر پھینک دیا تھا۔ بھنوری کا کام تمام کرنے کے بعد دونوں نے اس کی لاش کو نیورا روڈ پر خطرناک بدمعاش بشنا رام گینگ کو سونپ دی تھی۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ بدمعاش بشنا رام کی گرفتاری کے بعد ہی لاش کو کیسے ٹھکانے لگایا گیا اس کی جانکاری مل جائے گی۔ خبر ہے کہ بھنوری کی لاش کی تلاش سی بی آئی ہائی ٹیک طریقے سے کررہی ہے۔ ایتوار کو ریموٹ سے چلنے والے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے جالیڈا گاؤں کے گھروں اور نہر کے علاقے کی چھان بین کی گئی۔ ہیلی کاپٹر میں لگے ہائی ریزولوشن فوٹو امیجنگ آلے اور کیمرے سے دو کلو میٹر علاقے کی تصویریں بھی لی گئی ہیں ۔ ان کے ذریعے اس جگہ کی بھی نشاندہی کرنے کی کوشش کی گئی جہاں بھنوری کی لاش دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔ معاملہ ویسے تو سلجھ گیا ہے لیکن جب تک لاش نہیں ملتی یا اس کے ٹھکانے لگانے کے پختہ ثبوت نہیں ملتے تب تک کیس الجھا رہے گا۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Vir Arjun

27 دسمبر 2011

سی بی آئی کا سرکار کے چنگل سے نجات پانے کا خواب ٹوٹا


Published On 27th December 2011
انل نریندر
سی بی آئی کے مستقبل کو لیکر حکومت و ٹیم انا اور اپوزیشن آمنے سامنے آگئے ہیں۔ سی بی آئی پر انا ہزارے کی مانگ مسترد کردی گئی ہے۔ حکومت نے اسے لوکپال کے دائرے سے باہر رکھا ہے۔ سی بی آئی کا کوئی آزادانہ مقدمے میں سیدھے طور پر استعمال کے لئے لوک پال کے دائرے میں نہیں رکھا گیا ہے۔ لیکن لوکپال کرپشن سے جڑے کسی معاملے کی جانچ کی سفارش سی بی آئی سے کرسکتا ہے۔ سی بی آئی آزادانہ پینل قائم کرے گا۔ جس میں وزیراعظم اپوزیشن لیڈر، چیف جسٹس شامل ہوں گے۔ سی بی آئی میں ایس پی و ا س سے اوپر کے اعلی افسروں کی مقرر ایک کمیٹی کرے گی۔ اس میں سی بی سی کمشنر، ہوم سکریٹری، محکمہ پرسنل کے سکریٹری شامل ہوں گے۔ سی بی آئی جانچ کے لئے جانچ ڈائریکٹر کا عہدہ بنایا گیا ہے۔ لوکپال کے مجوزہ خاکے میں سی بی آئی میں گہری مایوسی ہے۔اس سے جانچ ایجنسی کی سرکار کے چنگل سے نجات پانے کی امیدوں پر پانی پھر گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی لوکپال کے ذریعے سونپے گئے معاملوں میں چارج شیٹ کے لئے پہلے اجازت لینے کی سہولت سے اس کی موجودہ آزادی پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں۔ راحت کی بات صرف اتنی ہے کہ تقرری کے عمل میں وزیر اعظم ، اپوزیشن لیڈر اور ہندوستان کے چیف جسٹس کے شامل ہونے سے سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے کا وقار بڑھ گیا ہے۔ ایک افسر کے مطابق ایجنسی کی مختاری کی بات بے معنی ہے۔ سی بی آئی کے حکام کوترقی یا معذولی سے لیکر چھوٹے چھوٹے خرچ تک کے لئے سرکار کا منہ تاکنا پڑے گا۔ ایسے میں جانچ ایجنسی سے پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعے بنائے گئے لوکپال کے خاکے پر 6 اعتراضات درج کرائے گئے ہیں۔ اسے لیکر سی بی آئی ڈائریکٹر خود وزیر اعظم سے ملے تھے۔ لیکن ان 6 اعتراضات میں تھے ایک پوری اور ایک ادھوری خامی دور کی گئی ہے۔ سی بی آئی ڈائریکٹر کی تقرری میں وزیر اعظم، اپوزیشن لیڈر اور آئینی ادارے کے چیف کو شامل کرنے کی مانگ پوری کی گئی لیکن ایف آئی آر اور چارج شیٹ داخل کرنے کی مختاری میں جانچ ایجنسی کو سمجھوتہ کرنے کے لئے مجبور کیا گیا ہے اس کے تحت لوکپال کے ذریعے سونپے گئے معاملوں میں سی بی آئی چارج شیٹ کرنے کے لئے آزادنہ ہوگی۔ سی بی آئی کاکہنا ہے جانچ ایجنسی(پولیس یا سی بی آئی) کے افسر معاملے کی چھان بین کرتے ہیں اور چھان بین کی بنیاد پر تفتیشی افسر اپنی قطعی رپورٹ عدالت میں پیش کرتا ہے ۔ یہ رپورٹ چارج شیٹ یا کلوزر رپورٹ دونوں میں سے کچھ بھی ہوسکتی ہے۔ آئی او چھان بین کی بنیاد پر یہ طے کرتا ہے کہ چارج شیٹ ہوگی یا کلوزر رپورٹ۔ لیکن لوکپال بل کی دفعہ20(7) میں یہ سہولت شامل کی گئی ہے کہ اس رپورٹ کو کورٹ میں پیش کئے جانے سے پہلے لوکپال کے سامنے رکھا جائے اور وہ طے کرے گا معاملے میں کیا کرنا ہے۔جبکہ لوکپال سے وابستہ شخص پولیس افسر نہیں ہوگا اور اسی طرح یہ سی آر پی سی کی دفعہ173 کے تقاضوں کے برعکس ہوگا۔ سی بی آئی کے مطابق اسے اقتصادی اور انتظامی مختاری کی ضرورت ہے۔ سی بی آئی ابھی بھی سرکار پر اقتصادی اور انتظامی طور پر منحصر ہے۔ اسی سبب لوگوں میں یہ خیال ہے کہ سی بی آئی کو متاثر کیا جاسکتا ہے۔ لوکپال بل میں اس کے بارے میں کوئی بھی سہولت نہیں ہے۔ کل ملاکر لوکپال کے موجودہ اور مجوزہ ڈرافٹسے سی بی آئی میں گہری مایوسی ہے اور اس سے جانچ ایجنسی کے سرکار کے چنگل سے نجات پانے کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔
Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Lokpal Bill, Vir Arjun

23 دسمبر 2011

لوکپال بل پر ٹکراؤ کا پورا امکان ہے


Published On 23rd December 2011
انل نریندر
حکومت اور انا ہزارے کا ٹکراؤ اب ہونا یقینی ہے۔ کیونکہ حکومت نے واضح کردیا ہے کہ نہ تو اسے ٹیم انا سے کوئی ڈر ہے اور نہ ہی اب وہ اس کے سامنے جھکنے کو تیار ہے۔ وہ ٹیم انا سے لمبی لڑائی لڑنے کو بھی تیار ہے۔ یہ وارننگ کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی دے کر میدان میں آگئی ہیں۔ انہوں نے معاملے میں پوری کمان سنبھال لی ہے۔ سونیا گاندھی نے لوکپال کو بنیاد بناتے ہوئے انا ہزارے اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں کو سیدھا چیلنج کردیا ہے کہ سرکاری لوکپال بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اب انا اور اپوزیشن کو مان لینا چاہئے اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو کانگریس پانچ ریاستوں کے آنے والے چناؤ میں ان دونوں کی چنوتیوں سے نمٹنے اور لمبی لڑائی کے لئے تیار ہے۔ کانگریس پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں جارحانہ تیور دکھاتے ہوئے سونیا گاندھی نے پہلی بار لوکپال پر اپنے نظریات رکھے۔ حکومت اور تنظیم کے درمیان کسی بھی اختلافات کو درکنار کرتے ہوئے صاف کہا یہ بل بہت اچھا بنا ہے اور اسے پاس کرانے میں اپوزیشن کو اڑچن نہیں پیدا کرنی چاہئے اور انا ہزارے کو بھی قبول کرلینا چاہئے۔ لیکن انا ہزارے کو موجودہ شکل میں لوکپال بل منظور نہیں ہے۔ سب سے بڑا اختلاف سی بی آئی اور گروپ سی کے افسر شاہوں کو لوکپال کے دائرے سے باہر رکھنے کو لیکر ہے۔ انا نے اپنی مہم تیز کرتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی کو لوکپال کے دائرے سے باہررکھنے کیلئے سرکار کی منشانیتاؤں کو بچانے کی ہے۔ اگر سی بی آئی لوکپال سے باہر رہے گی تو لوکپال کیسے مضبوط ہوگا؟اگر سی بی آئی لوکپال کے ماتحت آجاتی ہے تو وزیرداخلہ پی چدمبرم جیل کے اندر ہوں گے۔ آپ کرپٹ نیتاؤں کو بچا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ یہ مضبوط لوکپال ہے۔ ان کا کہنا ہے یہ سرکار لوگوں کو دھوکہ دے رہی ہے۔ جنتا اسے سبق سکھا دے گی۔ انا کا کہنا ہے اگلے سال اترپردیش اور دیگر چارریاستوں میں اسمبلی چناؤ ہونے جارہے ہیں وہاں یوپی اے سرکار کے خلاف مہم چلائی جائے گی۔ بل کو مسترد کرتے ہوئے انا نے کہا الگ سے سٹیزن چارٹر بل لانے کے لئے بھی سرکار نے جنتا کے مفادات کو نظرانداز کیا ہے۔
عام آدمی کو اپنی شکایت کے ازالے کے لئے مجوزہ مشینری کے تحت بے مطلب یہاں وہاں دوڑنا پڑے گا، یہ لوگوں سے دھوکہ ہے۔ ادھر سرکار نے منگلوار کو کرپشن پر روک لگانے کے لئے اپنی حکمت عملی کے تحت لوک سبھا میں سٹیزن چارٹر بل پیش کردیا۔ بل میں ہر شہری کو طے میعاد طریقے سے یکساں خدمات دستیاب تھیں ساتھ ساتھ شکایتوں کے ازالے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔ یعنی سرکاری محکموں میں کونسے کام کتنے دنوں میں ہوں گے ، اس کے لئے کون ذمہ دار ہے یہ پہلے سے بتانا ہوگا۔ ایسا نہ ہونے پرمتعلقہ افسر کے خلاف شکایت کی جاسکے گی۔ ہمیں نہیں لگتا لوک سبھا میں اسی اجلاس میں یہ بل پاس ہوسکے گا؟ کرسمس کی چھٹی کے بعد ایوان کی کارروائی 27،28 اور29 دسمبر تک بڑھانے کو لیکر ممبران میں بھاری اختلاف پایا جاتا ہے۔ کرسمس کے بعد ایوان چلنے کو لیکر خاص طور سے کیرل، اروناچل پردیش کے ممبران کا احتجاج اس لئے ہے کہ انہوں نے پہلے ہی سے سال کے آخر میں گھروالوں کے ساتھ چھٹی منانے اور دیگر پروگرام بنا رکھے ہیں۔ ان میں بیرونی ملک کے دورے بھی شامل ہیں۔
ادھر بھاجپا سمیت دیگر اپوزیشن پارٹیوں کا بھی لوکپال بل پر موقف واضح نہیں ہے۔لوکپال کی کئی شقوں پر اب بھی اتفاق رائے نہیں ہے۔سرکاری ترجمان کہہ رہے ہیں کہ صرف دو دن میں ہی لوکپال پاس ہوسکتا ہے بشرطیکہ اپوزیشن ساتھ دے اور پاس کرانے میں تعاون دے۔ لیکن سرکاری مسودے کو دیکھنے سے پہلے اپوزیشن خاص طور سے بھاجپا کوئی بھی یقین دہانی کرانے کو تیار نہیں تھی۔ دوسری اپوزیشن پارٹیاں بھی اپنے سخت تیور بنائے ہوئے ہیں ایسے میں23 دسمبر تک مفصل بحث کے بعد لوکپال بل پاس کرانا ممکن نہیں لگتا۔ اگر پارلیمنٹ میں بل کو لیکر اتفاق رائے نہیں بنا تو آگے کیا ہوگا؟ ممکن ہے کہ بل کو سلیکٹ کمیٹی کو سونپ دیا جائے۔ اس سے سبھی فریقین کا موقف درکار رہے گا۔
Anil Narendra, Anna Hazare, BJP, CBI, Daily Pratap, Lokpal Bill, P. Chidambaram, Sonia Gandhi, Vir Arjun

25 نومبر 2011

چدمبرم کا بائیکاٹ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ہے


Published On 25th November 2011
انل نریندر
پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس شروع ہوتے ہی پہلے ہی دن سے سیاسی سرگرمی کی آنچ تیزی دکھانے لگی ہے۔ اجلاس کے آغاز میں اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بائیکاٹ سے لوک سبھا میں لیفٹ پارٹیوں کے نوٹس پر مہنگائی پر ہونے والی بحث میں بھی ایوان کا پارہ گرم ہوگیا۔ بڑھتی مہنگائی کے مسئلے پر اپوزیشن پارٹیوں کے تحریک التوا کے نوٹس پر بحث کے درمیان وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے اعتراف کیا کہ امید کے مطابق نتیجے حاصل نہیں ہوسکے۔ انہوں نے جیسا کہ اب ان کی عادت سی بن گئی ہے مہنگائی کا ٹھیکرہ ڈیمانڈ اور سپلائی میں عدم توازن، ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت میں گراوٹ اور دیگر بین الاقوامی اسباب پر پھوڑدیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے افراط زر شرح مارچ2012ء کے آخر تک 6.7 فیصد تک آجائے گی۔ پرنب دا کے بیان سے اپوزیشن بھڑک اٹھا۔ سابق وزیر خزانہ یشونت سنہا نے پرنب مکھرجی کے بیان کو نمبروں کا کھیل اور جنتا کو مایوس کرنے والا بتاتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر مہنگائی کا یہی حال رہا تو لوگ جلد ہی تشدد پر اتر آئیں گے۔ این ڈی اے ایوان کے پہلے ہی دن یہ اشارہ دے چکا ہے ۔وزیر داخلہ پی چدمبرم کے بائیکاٹ کے اپنے فیصلے پر پوری طرح عمل کریں گے۔ حالانکہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنے وزیر داخلہ کو بچانے کی پوری کوشش کی۔ انہوں نے کہا جہاں تک وزیر داخلہ کے بائیکاٹ کی بات ہے مجھے امید ہے سیاسی پارٹیاں اس طرح کے کسی قدم سے بچیں گی۔ کیونکہ وزیر داخلہ کے بائیکاٹ کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ دوسری طرف این ڈی اے کی جانب سے چدمبرم کے بائیکاٹ کو پوری طرح سے واجب قراردیتے ہوئے بھاجپا نے کہا یہ اپوزیشن کا جمہوری حق ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم معاملے میں وزیر اعظم کے نام لکھے وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کے پرچے کو عام ہونے کے پیش نظرایسا کیا جانا فطری قدم ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر وینکیانائیڈو نے اخبار نویسوں سے کہا کانگریس ماضی گذشتہ میں جارج فرنانڈیز کے ساتھ ایسا کرچکی ہے جب بے قصور جارج فرنانڈیز کو انہوں نے چھ مہینے تک بولنے نہیں دیا تھا۔ اب یہ ایک اتفاق ہی ہے کہ اگر چدمبرم نے پہل کی ہوتی تو یہ گھوٹالہ روکا جاسکتا تھا۔چدمبر کو بھاجپا ٹوجی گھوٹالے میں اتنا ہی ذمہ دار مانتی ہے جتنا اے راجہ کو۔ اس کا کہنا ہے جب چدمبرم وزیر خزانہ ہوا کرتے تھے اس وقت راجہ جی جو بھی کررہے تھے ۔اس سبھی کے بارے میں نہ صرف چدمبرم کو واقفیت تھی بلکہ انہوں نے راجہ کی حمایت بھی کی تھی۔ انہوں نے راجہ کے اٹھائے گئے اقدامات کو اپنی رضامندی دی اگر وہ چاہتے تو اسی وقت اس گھوٹالے کو ہونے سے روک سکتے تھے۔ بھاجپا نے اپنے الزامات کی بنیاد پر وزارت مالیات کے پچھلے سال وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجے گئے اس نوٹ کو بھی جواز بنایا جو اس سال 25 مارچ کو بھیجا گیا تھا۔ اس نوٹ سے صاف ہوجاتا ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ کی نیلامی کے بجائے ''پہلے آؤ پہلے پاؤ'' کی پالیسی بنانے کے لئے بھی وزیر خزانہ کی شکل میں چدمبرم نے اپنی منظوری دی تھی۔ یہ ہی نہیں راجہ نے باقاعدہ چدمبرم کو اس بارے میں خط بھی لکھا اور میٹنگ بھی کی تھی۔ ایسے میں چدمبرم اس گھوٹالے کیلئے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے راجہ۔ دراصل چدمبرم کا بائیکاٹ کرکے این ڈی اے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ حکومت اور چدمبرم کے لئے ایک عجیب و غریب صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ وہیں چدمبرم کو پسند نہ کرنے والے ٹیم انا کے لوگ بابا رام دیو اور تاملناڈو کی چیف منسٹر جے للتا تک نے بھی ایک میسج بھیجا ہے۔ بائیکاٹ کا وقت ماننا پڑے گا کہ اچھا ہے جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی اپیل پر یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ چدمبرم کی لوک سبھا سیٹ بھی خطرے میں ہے کیونکہ ان کے چناؤ کے خلاف ایک عرضی کا فیصلہ کبھی بھی آسکتا ہے۔ ڈاکٹر سوامی کی ڈیمانڈ پر سی بی آئی کو ٹی جی سے وابستہ کاغذات دینے پڑے ہیں۔ سوامی دعوی کررہے ہیں کہ چدمبرم کو پوری جانکاری تھی اور وہ اسے دستاویزات کے ساتھ ثابت بھی کرسکتے ہیں۔ این ڈی اے نے نہ صرف دباؤ بنایا بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی دے دیا ہے۔ بابا رام دیو اور ان کے ساتھ رام لیلا میدان میں بیٹھے لوگوں پر پولیس کارروائی کے پیچھے بھی وزیر داخلہ کا حکم مانا جارہا تھا۔ بابا رام دیو کے حمایتیوں کی طرح ٹیم انا کے بھی کافی لوگ مانتے ہیں کہ انا اور ساتھیوں کی گرفتاری اور اس کے بعد معاملے کو الجھانے میں وزیر داخلہ اور وزیر انسانی وسائل کپل سبل کا خاص رول رہا۔ ادھر تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا کو اپنی ہی ریاست کے چدمبرم کو ایک آنکھ نہیں بھاتیں۔یہ بھی غور طلب ہے کہ گذشتہ ایتوار کو جے للتا کی پہل پر انا ڈی ایم کے کے تھمبی دورئی رام لیلا میدان میں ایل کے اڈوانی کی ریلی میں آئے تھے۔ اس کے ایک دن بعد چدمبرم کے بائیکاٹ کا فیصلہ ہوگیا۔ جے للتا ممکن ہے مستقبل میں این ڈی اے سے جڑ جائیں۔ کل ملاکر بھاجپا کو لگتا ہے ان کے بائیکاٹ کی پالیسی صحیح سمت میں صحیح قدم ہے۔
2G, A Raja, Anil Narendra, BJP, CBI, Congress, Daily Pratap, Jayalalitha, L K Advani, P. Chidambaram, Rath Yatra, Vir Arjun

20 نومبر 2011

نیتاؤں کے دباؤ کے سبب جانچ ایجنسیوں کی ساکھ پر بٹّہ



Published On 20th November 2011
انل نریندر
ہماری جانچ ایجنسیوں کی جانب سے مختلف معاملوں میں کی گئی جانچ عدالتوں میں ٹک نہیں پارہی ہے۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا سیاستداں جانچ ایجنسیوں کے معاملوں کی جانچ کو متاثر کرتے ہیں؟ سیاستداں دباؤ کے چلتے چاہے وہ دہلی پولیس ہو یا قومی سراغ رساں ایجنسی (این آئی اے) یا پھر سی بی آئی ہی کیوں نہ ہو۔ پچھلے 15 روز میں کم سے کم چار ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں عدالتوں نے ان ایجنسیوں کو پھٹکار لگائی ہے۔ اور ان کے جانچ کرنے کے طریقے اور نتیجوں دونوں پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ پہلا معاملہ مالیگاؤں بم دھماکے کا ہے۔ ایک عدالت نے سال2006ء میں مالیگاؤں بم دھماکے کے معاملے میں9 ملزمان میں سے 7 کورہا کردیا ہے۔ این آئی اے نے کہا کہ سلمان فارسی، شبیر محمد، زاہد اور فاروق گوئی انصاری کو ممبئی کی آرتھر جیل سے رہا کردیا گیا۔ خانہ پوری ہونے کے بعد ایک دیگر ملزم ابرار احمد کو بھی واچکولہ جیل سے چھوڑاگیا۔ معاملے کے دو دیگر ملزمان آصف خان اور محمد علی کو بھی ضمانت مل گئی لیکن انہیں چھوڑا نہیں گیا کیونکہ وہ 2006ء کے ممبئی ٹرین سلسلہ وار دھماکوں میں بھی ملزم ہیں۔ معاملے کی جانچ کررہی قومی سراغ رساں ایجنسی (این آئی اے ) نے رہائی کی مخالفت بھی نہیں کی۔ این آئی اے نے دلیل دی کہ مکہ مسجد بم دھماکے معاملے میں گرفتار سوامی اسیمانند کے انکشاف کے بعد اس نے تازہ ثبوتوں کے علاوہ سابقہ کی جانچ ایجنسی اے ٹی ایس اور سی بی آئی کے ذریعے اکٹھے کئے گئے ثبوتوں کا جائزہ لیا تھا۔ این آئی اے نے کہا کہ ''حقائق اور حالات کی بنیاد پر کافی غور و خوض کے بعد سبھی9 ملزمان کی ضمانت عرضیوں کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنہیں ماضی گذشتہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور ملزم بنایا گیا تھا۔''
دوسرا معاملہ سہراب الدین شیخ مد بھیڑ سے متعلق ہے۔ سپریم کورٹ نے سہراب الدین شیخ فرضی مد بھیڑ معاملے میں گجرات کے سابق وزیر داخلہ امت شاہ کے مبینہ کردار پر سی بی آئی کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ سی بی آئی نے کئی گمنام دستاویزات کو شاہ کی پھروتی ریکٹ میں مبینہ کردار سے جڑی شکایتوں کے طور پر پیش کیا۔ ایجنسی کے اس قدم کو عدالت نے کسی کو خوش کرنے کا قدم بتایا۔ جسٹس آفتاب عالم اور جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کی ڈویژن بنچ نے کہا ''یہ سچائی ہے کہ کسی کو خوش کرنے کے لئے اٹھایا گیا قدم ہے جو بالکل غلط ہے۔'' سی بی آئی نے امت شاہ کے خلاف ایسی تقریباً 200 شکایتیں پیش کی تھیں جنہیں دیکھنے کے بعد بنچ نے کہا ''آپ نے (سی بی آئی نے) ہم سے کہا ہے کہ پردیش سرکار نے ان شکایتوں پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان دستاویزات پر عدالت کی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ یہ شکایتیں پوری طرح سے بکواس لگ رہی ہیں۔'' سی بی آئی نے گجرات اور دیگر عدالتوں کی جانب سے شاہ کو ضمانت دئے جانے کو چیلنج کیا ہے۔ اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا ''آپ کو ہمارا سب سے اچھا سراغ رساں مانا جاتا ہے اور اب آپ کو ان خامیوں کا جواب دینا ہوگا۔'' سماعت کے دوران شاہ نے الزام لگایا کہ وہ سیاسی سازش کا شکار ہوئے ہیں اور سی بی آئی نے انہیں اس معاملے میں غلط پھنسایا ہے۔ شاہ کے وکیل رام جیٹھ ملانی نے کہا کہ شاہ سیاسی سازش کا شکار ہوئے ہیں اور سی بی آئی بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ تیسرا کیس بھی سی بی آئی سے متعلق ہے ۔ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے کی سماعت کررہی خصوصی جج اوپی سینی کی عدالت میں عزت مآب جج موصوفہ نے سی بی آئی سے ثبوتوں کو مٹانے کے لگ رہے الزامات پر جانکاری مانگی ہے۔ سی بی آئی کو23 نومبر تک جواب دینا ہے۔ سی بی آئی کو ملزمان نے یہ کہتے ہوئے کہ الزامات طے کرنے کے حکم میں جو غلطیاں اور تضاد ہیں ،غیر جانبدار سماعت کے لئے ان میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ملزم ونود گوئنکا نے سی بی آئی پر الزام لگایا ہے گواہ کو غیر قانونی طور پر بلا کر ثبوت متاثر کئے جارہے ہیں۔ بدھوار کو گواہی دے رہے ریلائنس افسر اے این سنتھورین نے بتایا تھا کہ اس کے بیان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ گواہ نے دعوی کیا کہ اس نے ہری نائر کے دستخط کی کبھی پہچان نہیں کی تھی۔اس کے باوجود سی بی آئی نے اسے پیش کردیا ہے۔ گوئنکا کے وکیل مجید مینن نے کہا کہ گواہ کی یادداشت تازہ کرنے کے نام پر سی بی آئی کے ذریعے اپنائی گئی کارروائی کے معاملے کو متاثر کرنے کی طرح ہے۔انہوں نے کہا کہ سی بی آئی کو حکم دیا جائے کہ یادداشت تازہ کرنے کے نام پر گواہ یا ثبوتوں کو متاثر نہ کرے۔ چوتھا معاملہ ہماری دہلی پولیس سے متعلق ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے بدھوار کو صاف کیا کہ نوٹ کے بدلے ووٹ معاملہ کرپشن نہیں بلکہ محض ایک اسٹنگ آپریشن تھا۔ عدالت نے کہا ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ معاملے کے ملزم تینوں ملزمان نے رشوت مانگی یا لی۔ اتنا ہی نہیں اگر وہ رشوت لیتے تو چپ چاپ لیتے نہ کہ ٹی وی چینل کے سامنے لے کر اسے اس طرح سے پارلیمنٹ میں پیش کرتے۔ وہیں ہماری پارلیمنٹ بالاتر ہے اور پارلیمنٹ کے ذریعے تشکیل جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی نے بھی ثبوت نہ ہونے پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ عدالت نے یہ رائے زنی بھاجپا کے موجودہ ایم پی اشوک ارگل اور دو سابق ایم پی پھگن سنگھ کلستے اور مہاویر سنگھ بھگورا سمیت سبھی چھ ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کی تھی۔جسٹس ایم ایل مہتہ نے اپنے فیصلے میں کہا ایف آئی آر اور چارج شیٹ کا جائزہ لینے سے وہ محسوس کرتے ہیں کہ ممبران پارلیمنٹ و دیگر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اس کے علاوہ سی ایف ایس ایل کی رپورٹ سے بھی صاف ہے کہ ٹی وی چینل کی جانب سے اسٹنگ آپریشن کی سی ڈی و آڈیو میں کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے کسی بھی ایم پی اور دیگر نے مبینہ طور پر رشوت کی رقم سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہیں دوسری طرف بچاؤ فریق کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس ممبر پارلیمنٹ و دیگر ملزمان کا مقصد محض کانگریس اور سماجوادی پارٹی کی ملی بھگت کا پردہ فاش کرنا تھا۔
مندرجہ ذیل معاملوں سے صاف ہے کہ سیاستدانوں کے دباؤ کے سبب ہماری جانچ ایجنسیوں کی ساکھ پر بھی دھبہ لگ رہاہے۔ سیاستداں زبردستی اپنے سیاسی مفاد کے لئے جانچ ایجنسیوں پر ناجائز دباؤ ڈلواکر جھوٹے معاملے بنواتے ہیں جو عدالتوں میں جاکر ٹھہر نہیں پاتے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سلسلہ چلتا رہے گااور جلد ایک بھی ایجنسی نہیں ہوگی جس کی جانچ پر عوام بھروسہ کرسکے۔
2G, Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, CBI, Daily Pratap, delhi Police, NIA, Vir Arjun

17 نومبر 2011

گرتی ساکھ کو بچانے کیلئے گہلوت نے اٹھایا سخت قدم




Published On 17th November 2011
انل نریندر
پچھلے کئی دنوں سے راجستھان میں اشوک گہلوت کی کانگریس سرکار تنازعوں سے گھری ہوئی ہے۔ نرس بھنوری دیوی کا لاپتہ ہونا اور بھرت پور میں ہوئے فسادات۔ دونوں باتیں ہی اشوک گہلوت کے لئے بھنور جیسی بن گئی ہیں۔ کانگریس پہلے ہی دلدل میں پھنسی تھی۔ کرپشن ، کالی کمائی کی واپسی ، جن لوک پال بل جیسے اشو کانگریس کو پریشان کررہے ہیں۔ اب راجستھان کے ان دونوں اشوز میں پانچ ریاستوں خاص کر اترپردیش میں ہونے والے انتخابات کے لئے کانگریس کو بیک فٹ پر لادیا ہے۔ اس لئے اشوک گہلوت بھی بھنور میں ہیں۔ پہلے بھرت پور کے قریب گوپال گڑھ کے دنگوں پر راجستھان سرکار میں راج دھرم کا پالن ٹھیک طرح سے نہیں کیا۔ پولیس کے مظالم کے سبب راجستھان حکومت سرخیوں میں رہی۔ ان دنگوں میں 9 لوگ مارے گئے تھے۔ مسلم فرقے میں بھی بھاری ناراضگی تھی۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ چاہے بھنوری دیوی کا معاملہ رہا ہو یا بھرت پور دنگوں کا ، دونوں معاملوں میں انتظامیہ کی بدانتظامی تھی۔ معاملہ دہلی دربار تک بھی پہنچ گیا اور گہلوت کو کئی بار دہلی آنا پڑا۔ ڈیڑھ مہینے میں وہ 15 بار دہلی کے چکر لگا چکے ہیں۔ انہوں نے موقعے کی نزاکت سمجھی اور بغیر کسی دیر کے دونوں ہی معاملوں کو سی بی آئی کے حوالے کردیا۔ کیونکہ بھنوری کانڈ میں راجستھان سرکار کے ایک سے زیادہ وزیر کے شامل ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے گہلوت نے فٹا فٹ سبھی وزرا سے استعفے لے لئے اور کیبنٹ کے سبھی افراد نے اپنے استعفے وزیر اعلی کو کیبنٹ کی میٹنگ میں سونپ دئے۔گہلوت جلد ہی کانگریس اعلی کام کی ہدایت لے کر نئی کیبنٹ بنائیں گے۔ وزیر داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے شانتی دھاریوال نے میٹنگ کے بعد بتایا کہ سبھی وزرا نے گہلوت کی لیڈر شپ پر بھروسہ جتاتے ہوئے ایک رائے سے یہ فیصلہ لیا ہے کہ وزیراعلی دہلی میں کانگریس ہائی کمان کے سامنے کہہ سکیں کہ پوری ٹیم ان کے ساتھ ہے۔ دھاریوال نے کہا سرکار کو کوئی خطرہ نہیں ہے استعفیٰ دینے کے لئے گہلوت نے نہیں کہا تھا۔ طویل عرصے سے ریاست کی سیاست میں بے یقینی کا ماحول بنا ہوا تھا۔ پارٹی ہائی کمان کی بھی ہدایت تھی۔ ایسے میں ہم نے گہلوت کی طاقت بڑھانے کے لئے اجتماعی طور سے استعفے دینے کا فیصلہ کیا۔ دراصل بھنوری معاملے میں مہیپال مدیرنا کے ملزم ہونے کے بعد سے ہی کیبنٹ میں ردو بدل کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی تھیں۔ پچھلے دنوں وزیر کھدان رام لال جاٹھ کے کردار پر اٹھے سوال سے بھی گہلوت پریشان تھے حالانکہ دونوں بھنوری سیکس اسکینڈل اوربھرت پور دنگوں میں اشوک گہلوت کسی بھی طرح ملوث نہیں تھے لیکن سرکار کے سربراہ کی حیثیت سے وہ ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ گہلوت نے صحیح قدم اٹھایا ہے۔ گرتی ساکھ کو بچانے کے لئے یہ کچھ حد تک ضروری بھی تھا۔
Anil Narendra, Ashok Gehlot, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Rajassthan, Rajasthan High Court, Vir Arjun

03 نومبر 2011

نیراراڈیا دیش سے فراری کی تیاری میں ہیں؟



Published On 3rd November 2011
انل نریندر
ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کی اتنی باریکی جانکاری اگر نیرا راڈیہ کے ٹیپ اجاگر نہ ہوتے تو شاید کبھی پتہ نہ چلتا۔ نیرا راڈیا کے رتن ٹاٹا، مکیش امبانی، ویر سنگھوی، برکھا دت سے ہوئی بات چیت کواگر ٹیپ نہیں کیا جاتا تو اتنی تفصیلات کا پتہ نہیں لگ پاتا۔ اس نقطہ نظر سے نیراراڈیا کا اس گھوٹالے کو اجاگر کرنے میں اچھا تعاون رہا ہے۔ اب خبر آئی ہے کہ نیرا راڈیا نے اچانک اس کاروبار کو ترک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیرا راڈیا نے اپنی مقبول ترین کنسلٹنٹسی دینے والی اپنی کمپنی ویشنوی کمیونی کیشن کو بند کرنے کا بھی فیصلہ لیا ہے۔ پچھلے سال راڈیا کی بات چیت افشا ہونے کے بعدوہ سرخیوں میں رہیں۔ حالانکہ ان کے خلاف کوئی چارج شیٹ تو نہیں داخل ہو پائی لیکن سی بی آئی نے انہیں بھی گواہ بنایا ہے۔ نیرا نے یہ بیان میں کہا کہ خاندان کے تئیں جوابدہ اور صحت کو ترجیح دیتے ہوئے میں نے کسی بھی گراہک کے ساتھ معاہدہ یا تجدید نہ کرنے اور کنسلٹنٹسی سروس کاروبار سے ہٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خبر ہے کہ نیرا راڈیا نے تمام ویشنوی کمیونی کیشن کے ملازمین کو 10 سال کا تحفہ کمپنی بند ہونے کی شکل میں دیا ہے۔ کمپنی کے قیام کے 10 سال پورے ہورہے تھے ایک دن پہلے ہی راڈیا بزنس بند کرنے کا ای میل بھیج دیا۔ اب زیادہ تر ملازمین کو نئی نوکری کے لئے پریشانی ہوسکتی ہے۔ راڈیا کی کمپنی ویشنوی کمیونی کیشن پرائیویٹ لمیٹڈ 2001 میں بنائی گئی تھی۔ بعد میں اسے صرف ٹاٹا گروپ کا پی آر ورک دیکھنے کا ذمہ دے کر تین کمپنیاں اور بنائی گئیں۔ مکیش امبانی کی ریلائنس کا کام دیکھنے کے لئے نیوکام اور باقی کمپنیوں کا کام دیکھنے کے لئے وٹ کام اور نوئیسیس چاروں کمپنیوں کے قریب200 ملازمین کو اب نئی نوکری تلاشنی ہوگی۔ گروپ کے ساتھ پہلے سے جڑے رہے کچھ لوگوں کو اس سارے معاملے میں کوئی لمبا پلان نظر آرہا ہے جسے سمجھنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
نیرا راڈیا کے فیصلے سے سی بی آئی الجھن کی حالت میں ہے۔ سی بی آئی نے نیرا راڈیا کو ایک گواہ بنا رکھا ہے۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ راڈیا کو عدالت کو اپنے فیصلے کے بارے میں بتانا پڑے گا۔ حالانکہ سی بی آئی اپنے گواہوں پر کسی طرح کا دباؤ تو نہیں بنا سکتی لیکن آخری فیصلہ تو عدالت میں ہی ہوگا۔ سی بی آئی کو یہ بھی شبہ ہے کہ نیرا راڈیا دیش چھوڑ کر بیرونی ملک میں بس سکتی ہیں۔ قابل ذکر ہے انکم ٹیکس محکمے نے 2008-09 میں نیرا راڈیا کی باتوں کو ٹیپ کرکے معاملے کا پردہ فاش کیا تھا۔ انکم ٹیکس محکمہ بھی راڈیا کے بھاگنے سے پریشان اور حیران ہے کیونکہ ابھی تو انہیں انکم ٹیکس کی چوری کے معاملے کا جائزہ بھی لینا ہے کہ نیرا راڈیا کو کتنا ٹیکس جمع کرانا ہے۔ ممکن ہے کہ عدالت انہیں ملک چھوڑنے سے منع کردے یا کوئی سرکاری ایجنسی انہیں دیش چھوڑ کر بھاگنے سے روکے۔
2G, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Neera Radia, Ratan Tata, Vir Arjun

01 نومبر 2011

کانگریس کا بہن جی پر تازہ حملہ منریگا میں لوٹ کھسوٹ



Published On 1st November 2011
انل نریندر
جیسے جیسے اترپردیش میں اسمبلی چناؤ قریب آتے جارہے ہیں ویسے ویسے یہاں کی سیاست کی رفتار تیز ہوتی جارہی ہے اور کانگریس نے مایاوتی کی سرکارپر حملے تیز کردئے ہیں۔ اترپردیش کی وزیر اعلی مایاوتی کے ذریعے وزیراعظم کو لکھے 100 سے زیادہ خطوط کے جواب میں کانگریس کے ایک خط نے بسپا کو شش و پنج میں ڈال دیا ہے ۔ سو سنار کی بنام ایک لوہار کی کہاوت صادق آرہی ہے۔کانگریس نے اس خط کے ذریعے بہن جی کو بیک فٹ میں لانے کی کوشش کی ہے۔ کسی بھی ریاست میں کسی بھی گھوٹالے کی سی بی آئی جانچ حکمراں پارٹی کو پریشانی میں ڈالنا کانگریس کو اچھی طرح سے آتا ہے۔ سی بی آئی کے ذریعے سے اپنے سیاسی داؤ کھیلنے سے کانگریس قباحت نہیں کرتی۔ اترپردیش میں بسپا کے ممبران و ممبران پارلیمنٹ اور وزرا سے وابستہ کئی معاملوں میں چل رہی ہے ان میں قومی گرامین ہیلتھ مشن یعنی این آر ایم ایم کا بڑا گھوٹالہ بھی شامل ہے۔ اس میں ایک ہسٹری شیٹر ممبر پارلیمنٹ ، دو داغی وزیر کے ساتھ کئی اور لیڈر بھی گھیرے میں ہیں۔ لیکن منریگا کا گھوٹالہ اسمبلی چناؤ کو دیکھتے ہوئے زیادہ اہم ہے کیونکہ اس کا دائرہ کافی بڑا ہے اور اس کا سیاسی اثر بھی زیادہ پڑے گا۔ اس وقت تقریباً درجن بھر ضلعوں میں منریگا کو لیکر سنگین شکایتیں سامنے آئی ہیں۔ چناؤ مہم کے دوران سرکاری لوٹ کھسوٹ کا اشو کانگریس زور شور سے اٹھائے گی، یہ ہی سوال بسپا کو الجھن میں ڈال سکتا ہے۔ کیونکہ اس کا مینڈیڈ سیاست کے جرائم کرن کے ساتھ لوٹ اور وصولی کے چلتے کھسک رہا ہے۔ مایاوتی جب2007 ء میں برسر اقتدار آئیں تھیں تو آپ نے206 سیٹیں جیتی تھیں اور بسپا کو30.43 فیصدی ووٹ ملا تھا لیکن اس کے بعد کانگریس نے بڑھت لی اور 2009 ء کے لوک سبھا چناؤ میں بسپا کا ووٹ بینک تین فیصدی گر کر 27.42 فیصدی رہ گیا۔ اسمبلی کے سیٹوں میں اسے تبدیل کرنے پر لوک سبھا چناؤ میں بسپا تقریباً اپنی آدھی صلاحیت پر پہنچ گئی ہے۔
کانگریس کچھ عرصے تک تو انا ہزارے کی تحریک سے بیک فٹ پر رہی لیکن اب وہ اس سے باہر نکلتی دکھائی دے رہی ہے۔ کیونکہ ٹیم انا میں اختلافات اور تقسیم سامنے آگئی ہے۔ سرکاری لوٹ کھسوٹ اور سیاسی غنڈہ گردی کے خلاف کانگریس گاؤں گاؤں میں لوگوں کو منظم کرے گی ۔ وہ یہ سوال ضرور اٹھائے گی کہ بسپا نے پردیش کو کہاں پہنچا دیا ہے۔ مرکزی سرکار نے اترپردیش کے بلرام پور ، گونڈا، مہوبہ، سون بھدر، سنت کبیر نگر، مرزا پور اور کشی نگر سمیت سات ضلعوں میں منریگا کے تحت کرپشن کی سی بی آئی جانچ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مرکزی وزیر زراعت فروغ جے رام رمیش نے وزیراعلی کو خط لکھ کر اس پر رضامندی مانگی ہے۔ رمیش نے وزیر اعلی کو لکھے خط میں کہا ہے کہ اترپردیش میں مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی یوجنا (منریگا) کا سالانہ بجٹ پانچ ہزار کروڑ روپے سے زیادہ ہوگیا ہے۔ دیگر ریاستوں کے مقابلے میں منریگا کا حال خراب ہے۔ مرکز کی جانب سے منریگا کے کاموں کی نگرانی کے لئے مقرر قومی مونیٹروں کی 22 رپورٹوں میں سنگین بے قاعدگیاں پائی گئی ہیں۔ بہن جی کانگریس کے اس تازے حملے سے کیسے نمٹتی ہیں یہ دیکھنا باقی ہے۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, CBI, Congress, Daily Pratap, Jairam Naresh, MANREGA, Mayawati, Uttar Pradesh, Vir Arjun 

20 اکتوبر 2011

انا اور ان کی ٹیم پر چوطرفہ حملے



Published On 20th October 2011
انل نریندر
انا ہزارے اور ان کی ٹیم پچھلے کچھ دنوں سے چاروں طرف سے مسائل سے گھرتی جارہی ہے۔ ایک ایک کرکے کئی مسئلے کھڑے ہوگئے ہیں۔ انا نے خود مون برت اختیار کیا ہوا ہے۔کانگریس کے جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے کہا ہے کہ سوالوں سے پریشان انا نے جواب نہ دینے کیلئے مون برت کیا ہے۔ان کے سپہ سالاراروند کیجریوال پر لکھنؤ میں ایک شخص نے چپل پھینکی۔ اترپردیش میں انا کا سندیش لے کر دورہ کررہے کیجریوال راجدھانی میں گومتی ندی کے کنارے جھولے لال پارک میں منعقدہ ایک پروگرام میں حصہ لینے کیلئے کار سے اترکر اسٹیج کی طرف بڑھ رہے تھے کہ 40 سالہ شخص جتیندر پاٹھک نے ان پر چپل پھینک دی۔ حملہ آور کا الزام ہے کہ کیجریوال لوگوں کو ورغلا رہے ہیں ۔اس لئے ان پر حملہ کیا ہے۔ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ کسی تنظیم کے علاوہ سیاسی پارٹی سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ فی الحال جتیندر پاٹھک پولیس حراست میں ہے۔
ٹیم انا کے دو بڑے ممبر پی وی راج گوپال اور راجندر سنگھ نے تحریک کے سیاسی رنگ اختیار کرنے پر اعتراض ظاہرکرتے ہوئے کور کمیٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ یہ غلط فہمی کا شکار ہوگئی ہے۔ ادھر منگلوار کو ہی کانگریس سے صلح کرنے کی کوشش پر اس وقت پانی پھر گیا جب انا ہزارے کے گاؤں کے سرپنج اور ان کے ساتھی خاص طور سے دہلی آئے تاکہ راہل گاندھی سے ملاقات ہوسکے لیکن ان کے ہاتھوں مایوسی لگی۔ جب وقت دے کر راہل گاندھی انا کے نمائندوں سے نہیں ملے۔ سوموار کو یوگ گورو بابا رام دیو نے ٹیم انا پر ہی حملہ کردیا اور انہوں نے کہا پرشانت بھوشن کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔ بابا رام دیو نے کہا کہ اظہار آزادی کے نام پر دیش کو توڑنے والی بیان بازی خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا سماجی تحریک میں شامل لوگ بھی دیش کو توڑنے والے بیان دیتے ہیں۔ جو دیش اور تحریکوں کے لئے بہت خطرناک ہے۔ انہوں نے انا ہزارے کو پرشانت بھوشن کے بیان پر اپنا موقف واضح کرنے کی صلاح دی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں رام دیو نے کہا کہ پرشانت بھوشن کے خلاف معاملہ درج ہونا چاہئے۔
آخر میں ٹیم انا کے خلاف ایک اور جھٹکا لگا جب سپریم کورٹ نے انا ہزارے کے ہند سوراج ٹرسٹ کو ملنے والے سرکاری پیسے کا غلط استعمال معاملے کی سی بی آئی جانچ کی مانگ والی مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے لئے منظوری دے دی۔ جسٹس آفتاب عالم ، جسٹس رجنی دیسائی کے بنچ نے سرکاری وکیل منوہر لال شرما کی جانب سے دائرعرضی پر سرکار سے جواب طلب کیا۔ شرما نے الزام لگایا کہ سال 1995 میں ہزارے ٹرسٹ بنا تھا لیکن اسے غیر قانونی بتاتے ہوئے ایک مالی سال پہلے اقتصادی مدد دے دی گئی تھی۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ یہ صاف ہے کہ یہ دھوکہ دھڑی سرکاری خزانے کے بیجا استعمال کا معاملہ ہے جومدعالیہ نمبر چار کی جانب سے کیا گیا۔ ساونت کمیشن کی 2005 میں آئی رپورٹ میں اس کا خلاصہ کیا گیا ہے۔ ان کے کچھ ساتھیوں یا گروپ سیاسی دوستوں نے ایسا کیا۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹ نے غیر قانونی طریقے سے ایک کروڑ روپے سے بھی زیادہ کی رقم کونسل فار ایڈوانسمینٹ آف پیپلز ایکشن اینڈ رورل ٹیکنالوجی سے حاصل کی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ 1995 میں انا نے کپارٹ سے 75 لاکھ روپے لئے تھے۔ عرضی گذار نے کہا کہ 2001 میں کپارٹ نے 5 کروڑ روپے دیہی ہیلتھ کے نام پر جاری کئے تھے۔ کل کتنی رقم ٹرسٹ کو غیر قانونی طریقے سے دی گئی اس کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جانی چاہئے۔ سپریم کورٹ نے معاملے کی سماعت کرنے پر اپنی حامی بھردی ہے اور مرکز و مہاراشٹر سرکار کو جواب دینے کا نوٹس جاری کردیا ہے۔ ٹیم انا پر چاروں طرف سے حملے ہورہے ہیں۔ انا خود تو بے داغ ہیں لیکن ان کے ساتھی یقینی طور سے انا کی تحریک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Baba Ram Dev, CBI, Daily Pratap, Digvijay Singh, Lokpal Bill, Prashant Bhushan, Supreme Court, Vir Arjun

15 اکتوبر 2011

شیوانی کا قتل کس نے اور کیوں کروایا؟ ان سوالات کا جواب کیا ہے؟



Published On 15th October 2011
انل نریندر
انڈین ایکسپریس کی نوجواں رپورٹر شیوانی بھٹناگر کو23 جنوری 1999ءکے دن اس کے پٹ پڑ گنج میں واقع گھر میں قتل کردیا گیا ہے۔یہ قتل کس نے کروایا ، کیوں کروایا اور کیا یہ کسی سازش کے تحت کیا گیا قتل تھا؟ یہ سوالات آج بھی برقرار ہیں۔ یہ تو ثابت ہوتا ہے کہ قتل کرنے والا پردیپ شرما تھا لیکن قتل کا مقصد کیا تھا؟ کیا اس نے اکیلے اپنے دم پر اس کو انجام دیا؟ اس سوال کا جواب قتل کے11 سال بعد بھی نہیں مل پایا ہے۔ ان سوالوں کو اٹھانے کے ساتھ دہلی ہائی کورٹ نے سابق آئی پی ایس پولیس افسر آر کے شرما ،شری بھگوان اور ستیہ پرکاش کو بری کردیا ہے۔قانونی ثبوت کی بنیاد پر پردیپ شرما کے قاتل ہونے کی توثیق کردی ہے۔ اسے عمر قید کی ہوئی سزا کو برقرار رکھا ہے۔ چاروں نے سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی تھی۔ جسٹس بی ڈی احمد اور جسٹس منموہن سنگھ کی ڈویژن بنچ نے کہا کہ ثبوتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پردیپ نے شیوانی کے فلیٹ میں داخل ہوکر قتل کو انجام دیا لیکن قتل کا مقصد واضح نہیں ہے۔ اس نے قتل کو اکیلے ہی انجام دیا۔ قتل کرانے کے پیچھے آر کے شرما کی سازش تھی یا نہیں یا کوئی اور اہم شخصیت پیچھے ہے، کے سوالوں کا جواب ابھی تک نہیں ملے ہیں۔ پردیپ کو قتل کے بدلے 3 لاکھ روپے کی سپاری کی بات بھی ثابت نہیں ہو پائی۔ ڈویژن بنچ نے کہا کہ آر کے شرما ، شری بھگوان، ستیہ پرکاش کی سازش ثابت کرنے کےلئے پختہ ثبوت نہیں ہیں۔ نہ ہی ان کے آپسی رشتے ثابت ہوتے ہیں۔ ثبوت کے طور پر داخل ملزمان کی ٹیلی فون کی تفصیلات پراسرار ظاہر ہوتی ہیں۔ ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے اندیشے کے علاوہ کئی اور پیچیدگیاں ہیں۔ ان کے چلتے ان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس رائے زنی سے دہلی پولیس کی جانچ پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ دہلی پولیس کے سرکاری وکیل پون شرما نے کہا کہ وہ فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔ ان کا خیال ہے کہ پردیپ کے قاتل ہونے کی تصدیق پولیس کے لئے اہم بنیاد ہے۔
شیوانی بھٹناگر کا قتل 23 جنوری 1999 ءکو آئی پی ایکسٹینشن میں ہوا تھا مگر معاملے کی گتھی طویل عرصے تک الجھی رہی۔ آخر کار پولیس نے ہریانہ کیڈر کے سینئر آئی پی ایس افسر آر کے شرما، ستیہ پرکاش، شری بھگوان ، وید پرکاش عرف کالو کو گرفتار کرکے گتھی سلجھانے کا دعوی کیا تھا۔ سرکاری وکیل کے مطابق شیوانی کا قتل آر کے شرما کی رچی گئی سازش پر ہوا تھا۔ قتل کو انجام پردیپ شرما نے دیا۔ نوکنج اپارٹمنٹ کے داخلہ رجسٹرسے غلط پتہ اور اپنا فرضی نام لکھ کر داخل ہوا تھا۔ شادی کی مٹھائی دینے کے بہانے سے گھر میں گھسا۔ شیوانی چائے بنانے رسوئی میں گئی تو اس کوپیچھے سے توے سے وار کرکے رسوئی میں چاقوﺅں سے حملہ کردیا۔ بعد میں ادھ مری حالت میں بجلی کے تار سے گلا گھونٹ کر قتل کردیا۔ شیوانی کو ابھی بھی انصاف کا انتظار ہے۔ شیوانی بھٹناگر کی طرح راجدھانی میں اور بھی مقبول ترین کانڈہوئے ہیں جن میں انصاف ملنا باقی ہے۔ماڈل جیسیکا لال کو29 اپریل1999 ءکی رات بینا رمانی کے ٹینس کورٹ میں واقع ریسٹورینٹ میں ہائی پروفائل پارٹی کے دوران گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ تفتیش میں کانگریس کے با اثر لیڈر ونود شرما کے بیٹے سدھارتھ شرما عرف منو شرما سمیت تین لڑکوں کا نام سامنے آیا۔ منو شرما دسمبر2006 ءسے تہاڑ جیل میں سزا یافتہ قیدی کے طور پر سزا کاٹ رہا ہے۔ فیشن ڈیزائنر کنجم بدھی راجہ کو 20 مارچ 1999 ءکو داﺅد ابراہیم کے نام نہاد غنڈے رمیش شرما کے جنوبی دہلی میں واقع جے ماتا فارم ہاﺅس پر قتل کردیا تھا۔ ہائی کورٹ نے15 دسمبر2009ءکو رمیش شرما کو کنجم کے قتل کے الزام میں بری کردیا۔ تازہ حالت کنجم کے قتل کے چاروں ملزمان سریندر، ہیم چند، سنت رام اور رمیش جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں جبکہ ان چاروں کی اپیل سپریم کورٹ میں التوا میں ہے۔ دہلی یونیورسٹی میں ایل ایل بی تھرڈ ایئر کی طالبا پریہ درشنی منٹو 23 جنوری1996ءکو اپنے وسنت کنج میں واقع گھر میں مردہ پائی گئی۔ دہلی ہائیکورٹ نے30 اکتوبر2006ءکو سنتوش کو کالج کی طالبہ کے ساتھ آبروریزی و اس کے بے رحمانہ قتل کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی تھی جس کو سپریم کورٹ نے 6 اکتوبر2010 ءکو پلٹتے ہوئے عمر قید میں بدل دیا تھا۔ سنتوش کمار شرما اکتوبر2006 ءسے ہی تہاڑ جیل میںبند ہے۔ نینا ساہنی یوتھ کانگریسی لیڈر سشیل شرما کی بیوی تھیں،2 جولائی 1995 ءکو سشیل نے نینا کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا اور لاش کو تندور میں ڈال دیا۔ اس معاملے میں 7 نومبر 2003ءکو عدالت نے سشیل کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ دہلی ہائیکورٹ نے سشیل کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔ پچھلی ایک دہائی سے زیادہ وقفے سے سشیل شرما تہاڑ جیل میں بند ہے اور اس کی سزا کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل التوا میں ہے۔
CBI, Delhi High Court, delhi Police, Shivani Bhatnagar Murder Case, Supreme Court

13 اکتوبر 2011

ایرانی ہیروئن کو ایک سال قید و 90 کوڑوں کی سزا


Published On 14th October 2011
انل نریندر
ہم نے افغانستان میں طالبان کی خواتین پر مظالم کے بارے میں تو سنا تھا لیکن ایران جیسے ملک میں اس طرح کی بربریت کو سن کر ضرور حیرت ہوئی۔ آج کے زمانے میں کسی خاتون کو کوڑے مارے جائیں یہ بات ہضم کرنا تھوڑی سی مشکل ہے لیکن ایران میں ایسا ہی ایک قصہ سامنے آیا ہے۔ یہاں ایک فلمی ہیروئن کو 90 کوڑے مارنے اور ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اداکارہ پر الزام ہے اس نے ایسی فلم میں اداکاری کی جو دیش کے فنکاروں پر لگی پابندی کو ظاہر کرتی ہے۔ ایران میں اپوزیشن کی ایک ویب سائٹ کے مطابق بیجا برتاﺅ پر مبنی 'مائی تہران فار سیل' (میرا تہران بکاﺅ ہے) نامی فلم میں اداکاری کرنے کےلئے ایک سال قید اور90 کوڑے مارے جانے کی سزا سنیچر کو سنائی
 گئی۔ یہ فلم ایک نوجواں اداکارہ کی کہانی ہے جو ایران میں اداکاری پر پابندی لگا دئے جانے کے بعد چپ چاپ اپنے شوق کو زندہ رکھتی ہے۔ یہ فلم ایران میں ممنوع ہے لیکن چوری چھپے اس کو دکھایا جارہا ہے۔ اسے ایران کے کٹرپسند خیمے کی طرف سے احتجاج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایرانی اداکارہ مرزیا وفا مہر کا جرم بس اتنا ہے کہ انہوں نے ایک ایسی فلم میں کام کیا جس میںدیش کے فنکاروں کی زندگی کو دکھایا گیا ہے۔
مرزیا کا قصور واضح نہیں کیا گیا ہے لیکن انہیں سزا ملی ۔جس نے دنیا میں سنسنی پھیلا دی ہے۔ 'مائی تہران فار سیل' فلم کی شوٹنگ ایران کی راجدھانی تہران میں ہوئی۔ یہ ایک ایسی نوجوان اداکارہ کی کہانی ہے جس کے اسٹیج ورک پر حکومت نے پابندی لگا دی ہے۔ اس فلم میں جدید شہر ایران کو نظرانداز کرتا دکھایا گیا ہے۔ یہ فلم بتاتی ہے کہ بند دروازوں کے اندر ایران کے نوجوان کس طرح جیتے ہیں۔ اس فلم کو 2009 ءمیں"انڈیپینڈنٹ اسپریٹ انسائڈ فلم ایوارڈ" بھی ملا ہے۔پچھلے سال ٹرائی میڈیا فلم فیسٹیول میں بھی اس نے مغرب کی تھیم پر فلم کے لئے جیوری ایوارڈ جیتا تھا۔ فلم کی ایران ،آسٹریلیا نژاد گریناز موسوی نے ہدایت دی ہے۔ فلم آسٹریلیا کی ایجیلینٹ کی کمپنی سیان نے بنائی ہے۔ ایران کی اداکارہ اس فلم میں بغیر پردے کے ہیں اور ان کے سرکو گنجا دکھایا گیا ہے۔ اس معاملے میں سب سے پہلے انہیں اس سال جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تبھی سے وہ جیل میں بند ہیں۔ حالانکہ حکومت نے مرزیا پر لگے الزامات کو نہیں بتایا لیکن اخبار 'دی ایج' کے مطابق فلم کو ایران میں دکھانے کے لئے منظوری نہیں ملی تھی اور اسے غیر قانونی طریقے سے بانٹا جارہا ہے۔ ویسے مرزیا کے شوہر ناصر تقوی خود ایران کے جانے مانے فلم ساز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فلم کو حکومت سے اجازت لینے کے بعد ہی بنایا تھا۔ ان کے وکیل نے سزا کے خلاف اپیل کی ہے۔ ایک آزاد جدید ملک میں کسی شخص کے بدن پر 90 کوڑے کی سزا کے بارے میں تصور کرنا بھی آج کی تاریخ میں مشکل ہے۔ یہ خبر پڑھ کر خوف پیدا ہوتا ہے۔ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ فلم کے ڈائریکٹر گرےناز موسوی نے کہا کہ مرزیا پر لگے الزامات بے بنیاد ہیں۔ فلم بنانے کو لیکر جتنے بھی پرمٹ لئے گئے تھے ہم انہیں کورٹ میں دکھا چکے ہیں۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Rajassthan, Rajasthan High Court, Vir Arjun

مارن کا نمبرآگیا ،رتن ٹاٹا ابھی بھی بچے ہوئے ہیں



Published On 13th October 2011
انل نریندر
ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے میں کروناندھی اینڈ کمپنی کا ایک وکٹ گرنے والاہے۔ اے راجہ، کنی موجھی کے بعد اب سابق وزیر دیا ندھی مارن کا نمبر ہے۔ ان پر سی بی آئی کا شکنجہ کس چکا ہے۔ اس معاملے میں سی بی آئی نے باقاعدہ ایف آئی آر درج کرلی ہے۔ دیاندھی مارن کے ساتھ ان کے بھائی کلاندھی مارن اور ملیشیاکے میکسس گروپ کے چیئرمین ٹی آنند کرشن اور سرمایہ کار رافلس مارشل سمیت تین کمپنیوں کو ملزم بنایا گیا ہے۔ ایتوار کو ایف آئی آر درج کرنے کے بعد جانچ ایجنسی نے پیر کے روز مارن کے دہلی اور چنئی میں رہائشی و دفاتر پر چھاپہ ماری کی تھی۔ ایف آئی آر کے مطابق وزیر مواصلات رہتے ہوئے دیاندھی مارن نے تارکین وطن ہندوستانی صنعت کار ایس شیو شنکرن پرایئر سیل کو بیچنے کے لئے دباﺅ ڈالا تھا۔ ایئرسیل کو اسپےکٹرم الاٹمنٹ کو مارن نے تقریباً دو سال تک لٹکائے رکھا اور اسپیکٹرم کرنیں تبھی دی گئیں جب شیو شنکرنے ایئر سیل کو ملیشیا کمپنی میکسس گروپ کو بیچ دیا۔ یہ ہینہیں 14 سرکل میں ایک ساتھ اسپیکٹرم معاملے کے بعد میکسس گروپ کی ساتھی کمپنی ایسٹرو نے مارن خاندان کی کمپنی سن میں براہ راست طور پر تقریباً600 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ الزام ہے کہ ایسٹرو نے سن کے براہ راست شیئر کو بازار کے بھاﺅ سے زیادہ قیمت میں خریدر کر درپردہ طور پرمارن کو رشوت دی تھی۔
ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالے کی جانچ ابھی جاری ہے۔ عوامی رابطہ ایجنسی چلانے والی نیرا راڈیا اور ان کے روابط کی جانچ ابھی ادھوری ہے۔ نیرا راڈیا کے ٹیپ جب جنتا کے سامنے اجاگر ہوئے تو پورے دیش کو یہ جان کر دھکا لگا کے جو وزیر سرکار چلاتے ہیں جنتا انہیں سمجھتی ہے کہ انہیں دیش کے پردھان منتری چنتے ہیں وہ وزیراعظم کے ذریعے نہ چنے جاکر دیش کے بڑے صنعتی گھرانے انہیں بناتے ہیں۔ یہ گھرانے اپنے پسندیدہ لیڈروں کو وزیر بنوانے کےلئے کس طرح سے اور کس سطح تک جاکر لابنگ کرتے ہیں یہ نیرا راڈیا معاملے کے بعد سامنے آیا ہے۔ میڈیا معاملے میں دیش کے بڑے صنعتی گھرانے رتن ٹاٹا کا نام سامنے آیا ہے۔ راڈیا ٹاٹا گھرانے کے لئے کام کرتی ہیں اور ان کے سیاسی اور کاروباری مفادات کا اتنا خیال رکھتی ہیں لیکن یہ خلاصہ صرف ایک راڈیا کا تھا۔ راڈیہ ٹیپ معاملے کا دوسرا پہلو ٹوجی اسپیکٹرم مہا گھوٹالے سے جاکر جڑ گیا۔ اس مہا گھوٹالے میں ٹاٹا کے کردار پر کیگ نے اپنی رپورٹ میں تذکرہ کیا ہے۔ راڈیہ معاملے میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سرکار یہ یقینی بناتی کہ مستقبل میں ایسا پیغام نہ جائے کہ سرکار کسی بھی صنعتی گھرانے سے متاثر ہے لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ ٹوجی گھوٹالے کی جانچ سے کچ طرح سے رتن ٹاٹا کو باہر کیا جارہا ہے وہ پہلے سے طے ہے اور جنتا کے سامنے سرکار اور صنعتی گھرانے کی اس ملی بھگت کا معاملہ دوسرا جھٹکا ہے۔ یوپی اے سرکار کے لئے ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ کسی دلدل سے کم نہیں۔
سرکار اس سے نکلنے کے لئے بھلے ہی جتنی کوشش کرتی ہے اتنی ہی اس میں دھنستی چلی جارہی ہے۔ اس گھوٹالے میں روز نئے نئے نام سامنے آرہے ہیں۔ مارن بھائیوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوچکی ہے۔ اسی طرح ایسار گروپ کےروئیاں بندھوﺅں کو بھی سی بی آئی جلد اپنے شکنجے میں لینے والی ہے۔ ایسارسے سابق ریلائنس، یونیٹیک، سوان اور ویڈیو کون جیسی کمپنیوں کے بڑے افسرتہاڑ جیل میں پہنچ چکے ہیں۔ حال ہی میں وزارت مالیات کے ذریعے وزیر اعظم کے دفتر کو بھیجی گئی ایک چٹھی سے وزیر داخلہ پی چدمبرم کا نام بھی سامنےآیا ہے۔ حالانکہ اس گھوٹالے کے سوتردھار اے راجہ پہلے بھی اس طرف کئی باراشارہ کرچکے تھے لیکن راجہ کے الزام کے بدلے کی کارروائی کے تحت انہیں ملزم بنایا گیا ہے۔ لیکن اس مہا گھوٹالے کے معاملے میں سب سے بڑا تعجب یہ  ہے کہ ٹاٹا کے کردار اور ان سبھی صنعتی گھرانوں سے زیادہ وسیع اور واضح ہے لیکن ابھی تک کوئی جانچ یا چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی ہے؟ ٹاٹا پر اسگھوٹالے میں کافی اہم کردار نبھانے کا نہ صرف الزام ہے بلکہ کافی پختہ ثبوت بھی ہے لیکن رتن ٹاٹا کا سرکار سے اپوزیشن تک میں کتنا اثر ہے یہ اسی سے صاف ہے کہ ٹاٹا گھرانہ اس مہا گھوٹالے کی جانچ کے دائرے سے تقریباً باہر ہے۔ اس مہا گھوٹالے میں ٹاٹا کے کردار پر سب سے پہلے انگلی کیگ نے اٹھائی۔ کیگ نے اپنی رپورٹ میں ٹاٹا ٹیلی سروس کی وجہ سے سرکاری محصول کو 19074 کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا دعوی کیا ہے۔ کیگ نے اپنی رپورٹ میں ٹاٹا کے کردار پرتفصیل سے بحث کی ہے۔ ٹاٹا کے اس مہا گھوٹالے میں کردار دنیا جانتی ہے کہ اے راجہ کو ٹیلی کمیونی کیشن وزیر بنانے کےلئے ٹاٹا نے نیرا راڈیہ کے ذریعے سے اس طرح سے لابنگ کروائی کے سابق وزیرمواصلات دیاندھی مارن کے ٹاٹا سے تعلق اچھے نہیں تھے اور یوپی اے کی پہلی
پاری میں ٹاٹا کو مارن کا تعاون نہیں ملا تھا۔ آخر کار رتن ٹاٹا نہیں چاہتے تھے کہ دیاندھی مارن پھر سے وزیر مواصلات بنیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ ٹاٹا نے صرف لابنگ ہی نہیں کی بلکہ ایک طریقے سے رشوت کے طور پر ڈی ایم کے چیف کروناندھی کوچنئی میں کروڑوں روپے کی زمین تحفہ میں دے دی۔ بعد میں اس زمین پر عمارت تعمیر کروائی۔ اس سب کا اثر تھا کہ اے راجہ کے وزیررہتے رتن ٹاٹا کو 2 جولائی کو اسپیکٹرم دینے کےلئے وزارت میں کسی بھی قاعدے کی پرواہ نہیں کی۔ ہمارا خیال ہے کہ رتن ٹاٹا کی تفصیل سے جانچ ہونی چاہئے۔ اگر ایسا نہیںہوتا تو یہ جانچ اور گھوٹالے کا پورا پردہ فاش نہیں ہوگا۔ نیرا راڈیہ کے ٹیپوں کی تو پتہ نہیں کیوںجانچ اور ان پر کارروائی نہیں ہورہی ہے؟
2G, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Dayanidhi Maran, DMK, Karunanidhi, Ratan Tata, Tata Teleservices, Vir Arjun

04 اکتوبر 2011

2 جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں انل امبانی کا کردار؟



Published On 4th October 2011
انل نریندر
سی بی آئی نے دعوی کیا ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں ریلائنس دھیرو بھائی امبانی گروپ کے مالک انل امبانی کے کردار کی آگے کی جانچ کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں کلین چٹ نہیں دی گئی ہے۔ آئی اے ڈی جی کے چیئرمین انل امبانی کو کلین چٹ دئے جانے سے متعلق خبریںآنے کے بعد سی بی آئی نے ایتوار کو اپنے ترجمان کے ذریعے سے اس بارے میں پوزیشن صاف کردی ہے۔ سی بی آئی نے کہا کہ انل امبانی کے کردار کی جانچ اس لئے بھی کرنا ضروری ہے کیونکہ تہاڑ جیل میں بند ان کے تین بڑے افسران نے کسی بھی طرح کے غلط کام میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے۔ سی بی آئی نے کہا کہ ریلائنس انل دھیرو بھائی امبانی گروپ کے تین گرفتار سینئر افسر جانچ کے دوران دئے گئے اپنے بیانوں سے مکر گئے ہیں اس لئے حقیقی طور پر فوائد حاصل کرنے والوں کا پتہ لگانے کیلئے آگے کی جانچ کی جارہی ہے۔
سی بی آئی نے کہا کہ آئی اے ڈی اے جی کے تین افسران گوتم دوشی، سریندر تیپارا اور ہری نائر نے مجرمانہ سیکشن کی دفعہ161 کے تحت دئے گئے اپنے بیان میں فیصلے کے لئے پوری ذمہ داری لی تھی لیکن دہلی ہائیکورٹ میں وہ اس سے مکر گئے۔ سی بی آئی کی جانب سے پیش وکیل کے کے گنگوگوپال نے جسٹس جی ایس سنگھوی اور اے کے گانگولی کی ڈویژن بنچ کے سامنے کہا کہ انہوں نے فیصلے کی ساری ذمہ د اری لی تھی لیکن بڑی عدالت میں ضمانت عرضی پر سماعت کے دوران وہ بولے کہ ہم تو ملازم تھے اور ہمیں کوئی فائدہ نہیں ملا۔ سی بی آئی نے عدالت کو اس گھوٹالے میں امبانی ۔ ٹاٹا گروپ ، ویڈیو کون کی بالادستی والی ڈیٹم اور اٹارنی جنرل جی ای واہنوتی کے خلاف مختلف الزامات میں اپنی جانچ کی مفصل جانکاری دی اور کہا کہ انل امبانی کے خلاف جانچ جاری ہے۔ لیکن اسے اس گھوٹالے میں دیگر کے خلاف مقدمہ چلانے سے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔
جانچ ایجنسی کے ذریعے دو دن پہلے سپریم کورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوان ٹیلی کام میں9.9 فیصدی شیئر کے معاملے کو لیکر انل امبانی اور دیگر ملازمین کے رول کی جانچ کی جارہی ہے۔ یہ شیئر ماریشس کی کمپنی ڈیلفی کو فروخت کئے گئے تھے۔ سی بی آئی نے جانچ کی پیش رفت کے بارے میں 29 ستمبر کوسپریم کورٹ میں پیش’’ وضاحت خط‘‘ میں کہا کہ جانچ میں ایسا کوئی زبانی یا تحریری ثبوت نہیں ملا ہے جس سے لگتا ہے مختلف کمپنیوں کے دوبارہ زندہ اور پیسے کی منتقلی میں انل امبانی ملوث ہیں۔
سی بی آئی نے یہ جواب اس معاملے میں دائر عرضی گذار وکیل پرشانت بھوشن کی جانب سے عدالت کو دئے گئے ایک خط کے جواب میں دیا گیا۔عدالت میں سی بی آئی نے کہا عرضی گذار نے اس خط کے اس کی جانچ کی غیر جانبداری اور ایمانداری کے بارے میں غلط رائے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنتا جاننا چاہتی ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں شری انل امبانی کا صحیح کردار کیا تھا؟ اگر سی بی آئی کی جانچ پر شک کیا جارہا ہے تو اس کے لئے وہ خود ذمہ دار ہے۔ جو بار بار متضاد بیان دے رہی ہے۔ کبھی کلین چٹ دیتی ہے تو کبھی کہتی ہے کہ آگے جانچ کرنا ضروری ہے اور ہم نے انل امبانی کو کوئی کلین چٹ نہیں دی ہے؟
2G, Anil Ambani, Anil Narendra, CBI, Daily Pratap, Reliance Telecom, Supreme Court, Swan Telecom, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...