Translater

23 فروری 2019

شہزادہ محمد بن سلمان کا غیر رسمی دورہ ہند

سعودی عرب کے شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ ہند ایسے وقت ہوا جب پورا دیش پلوامہ حملے کو لے کر غم میں ڈوبا ہوا تھا اتفاق سے شہزادہ پہلے پاکستان گئے تھے لیکن بھارت کے اعتراض کو دھیان میں رکھتے ہوئے وہ سیدھے پاکستان سے بھارت نہیں آئے بلکہ اپنے دیش جا کر وہاں سے آئے اس سے اتنا تو ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں بھارت کے جذبات کا خیا ل ہے دہلی میں اپنے بیان میں شہزادہ محمد نے سیدھے سیدھے پلوامہ حملے کی مذمت تو نہیں کی لیکن کہا کٹر پسندی اور دہشتگردی پربھارت اور سعودی عرب کی تشویشات یکساں ہیں ۔پرنس نے آتنک کے خلاف لڑائی میں ساتھ دینے کا وعدہ تو کیا لیکن پلوامہ حملے اور پاکستان کے بارے میں ایک لفظ نہیں بولا پلوامہ حملے کے بعد بھارت جبکہ پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہا ہے اس میں اب تک فرانس امریکہ ،اسرائیل ،نیوزی لینڈ،جیسے دیش بھارت کا کھلا ساتھ دے چکے ہیں ۔در اصل امریکی دباﺅ کے باوجود بھارت کا ایران سے بڑھتی نزدیکی سعودی عرب کو راس نہیں آرہی ہے ۔لہذا بھارت اور سعودی عرب کے درمیان فوجی ساجھے داری کے دعوئے اور تجارتی امکانات کے باوجود کچھ حصاص ترین ڈپلومیٹک معاملوں پر بحالی اعتماد باقی ہے ۔پاکستان سے روایتی رشتوں کے پیش نظر سعودی عرب بھارت کے ساتھ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہاہے ۔غور طلب ہے کہ بھارت آنے سے پہلے پاکستان گئے سعودی پرنس نے 20ارب ڈالر کی مدد کا وعدہ کیا بھارت کو اس مغالطے میں قطعی نہیں رہنا چاہیے کہ دہشتگردی کے مسئلے پر پاکستان کو گھیرنے میں سعودی عرب اس کی مدد کرئے گا ۔سعودی عرب کے پرنس محمد بن سلمان کے چار ملکوں کے دورے کا مقصد یہ ہے بھی نہیں کہ پرنس سلمان کے لئے اس وقت پاکستان کے آتنکواد کے خلاف زیادہ اپنی تاج پوشی سے پہلے پڑوسی ملکوں کی ہمایت حاصل کرنا ہے پاکستان کے بعد اپنے دو روزہ بھارت اور اس کے ملیشا اور انڈونیشیا کے دورے سے پرنس و ہ حمایت ضرور حاصل کر لیں گے جس کی امریکی صحافی جمال خاغوشی کے استمبول میں سعوری سفارت خانے میں ہوئے قتل کے بعد ان کو سخت ضرورت ہے یہ کسی سے چھپا نہیں ہے کہ وہ سعودی عرب اپنے وہابی نظریہ کو پھیلانے میں سب سے آگے ہیں بھارت کے مدرسوں میں پیسہ دینے والا سب سے بڑی مدد کرنے والا ملک ہے ،یہ الگ بات ہے کہ بھارت اور سعودی عرب کے رشتہ کافی پرانے اور مضبوط ہیں ہمارے چالیس لاکھ لوگ سعودی عرب میں کام کرتے ہیں پرنس سلمان کی بھی یہ کوشش ہے کہ وہ اپنے ملک میں مذہبی دائرے کو آگے بڑھا کر ایک جدید ملک بنانا چاہتے ہیں پاکستان میں یہ بات سرکاری طور پر بھلے ہی نہ کہی گئی ہو لیکن وہاں ایک طبقے کی رائے یہ ضرور ہے کہ بھارت پاک رشتوں کو خراب ہونے سے بچانے کا حامی ابھی بھی سعودی عرب ہی ہے ہم سعودی سے کاروباری رشتے تو بڑھا سکتے ہیں لیکن ہمیں یہ امید نہیں کرنی چاہیے کہ سعودی پاکستان کو الگ تھلگ کرنے میں بھارت کی مدد کرئے گا ۔

(انل نریندر)

پاک فوج اور آتنکی تنظیموں کی کٹھ پتلی عمران خان

پلوامہ میں سی آر پی ایف قافلے پر بزدلانہ خوفناک حملے کے پانچ دن بعد پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایسا کچھ بھی نہیں کہا جس پر بھروسہ کیا جا سکے یا اس میں کچھ بھی نیا ہو ۔پرانی عادت کے مطابق انہوںنے رٹا رٹایا بیان دیا عمران نے ہمیشہ کی طرح پلوامہ حملے میں پاکستان کی شمولیت کے ثبوت مانگ کر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کی بھارت کی امکانی کارروائی سے ڈرے عمران خان نے جنگ کی دھمکی دے ڈالی اور کہا کہ اگر بھارت حملہ کرئے گا تو پاکستان ایسا جوابی کارروائی کرئے گا کہ جنگ روکنا مشکل ہو جائے گا ۔عمران خان صفائی دینے کے پانچ دن بعد سامنے آئے تو چہرے پر گھبراہٹ اور خوف صاف دکھائی دیا ۔ریکارڈ دیڈیو بیان میں فوج نے 35جگہ ایڈیٹنگ کی 362سیکنڈ کے اس ویڈیو میں پہلی بار ایڈیٹنگ و تیسویں اور آخری 356ویں سیکنڈ پر ہے ۔دیش کو خطاب کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ بھارت بغیر ثبوت کے الزام لگا رہا ہے پہلے کہا تھا کہ عمران دیش کو خطاب کریں گے حالانکہ ویڈیو سے پتہ چلا کہ یہ پہلے سے ہی ریکارڈ تھا عمران خان کے دعوں کو بھارت نے مسترد کیا تھا اور ان کی سابقہ بیوی ریہم خان نے بھی ان کے جھوٹے بیان کی پرت در پرت کھول کے رکھ دی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ خان پاکستانی فوج کے ہاتھوں میں کٹھ پتلی ہیں۔وہ اتنا ہی کہتے ہیںاور کرتے ہیں جتنا انہیں فوج کرنے اور کہنے کو کہتی ہے ۔وہیم خان نے کہا کہ وزیر اعظم کی حیثیت میں عمران خان کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔اقتدار کے لئے عمران خان نے اپنے جدید نظریات اور اصولوںسے بھی سمجھوتہ کر لیا ہے عمران خان کی سابق بیوی نے کہا کہ پلوامہ آتنکی حملے کے بعد عمران خان بیان دینے کے لئے فوج کی ہدایت کا انتظار کرتے رہے ۔پلوامہ پر عمران نے جو بھی کچھ کہا وہ ان کے اپنے لفظ نہیں تھے ۔اور صاف لگتا ہے کہ اسے کسی اور نے تیا ر کیا تھا ۔سب سے تکلیف دہ بات یہ تھی کہ عمران نے اپنی تقریروں میں کہیں بھی بھارت کے چالیس جوانوں کے مرنے پر ایک لفظ بھی افسوس کے بارے میں نہیں کہا وہیں پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری نے پلوامہ حملے کے لئے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے پر وزیر اعظم عمران خان کو گھیرتے ہوئے کہا کہ وہ دوسرے کے کہنے پر کام کرتے ہیں اور اسی وجہ سے پوری صورتحال خراب ہوئی ہے ۔عمران خان کو غیر سنجیدہ بتاتے ہوئے کہا کہ انہیں بین الا اقوامی سیاست کے بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے آگے کہا کہ میرے عہد کے دوران ممبئی کے تاج ہوٹل پر حملہ ہوا تھا اس حملے کا الزام بھی ہمارے اوپر لگایا گیا حالانکہ ہم نے معاملے کو صحیح ڈھنگ سے نمٹا اور بھارت کو پیچھے ہٹنے کے لئے مجبور کیا ۔اور سفارتی طریقے سے معاملہ سلجھایا تھا ۔پلوامہ حملے کے ثبوت مانگ کر آتنکیوں پر کارروائی کی گارنٹی لینے والے پاکستان پہلے بھی ہزار بار ایسے جھوٹ بول چکا ہے ۔بھارت سرکار پاکستان کو ممبئی ،پٹھان کوٹ،اور اُڑی اور پارلیمنٹ پر حملے کے ثبوت سونپ چکی ہے ۔لیکن قصور واروں کو سزا ملنا تو دور ان کی سرپرستی میں آتنکی بھارت کے خلاف لگاتار سازشوں کو انجام دے رہے ہیں پاک دہشتگردی کی ایک دھری ہے کوئی حیرانی نہیں کہ عمران نے حملے کو آتنکی کارروائی ماننے سے انکار کر دیا انہوںنے تو اس کی مذمت اور نہ ہی شہیدوں کے رشتہ داروں سے ہمدردی جتائی ۔عمران کو ریکاڈیڈ سندیش ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ فوج آئی ایس آئی اور آتنک کی سرغناﺅں کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہیں ۔اگر واقعی وہ دہشتگردی کو لے کر سنجیدہ ہوتے تو جیش اور لشکر کے خلاف ٹھوس کارروائی کرتے ۔

(انل نریندر)

22 فروری 2019

اور اب بی جے پی شیو سینا کے سامنے جھکی

2019کے لوک سبھا چناو ¿ کے لئے آرہے مختلف جائزوں کا نتےجہ ےہی نکل رہا ہے کہ اگلی سرکار بنانے مےں اتحادوں و مہا گٹھ بندھنوں کا اہم رول ہوگا اےسا کہا جارہا ہے کہ کوئی بھی اکےلی پارٹی اپنے دم خم پر واضح اکثرےت نہےں پا سکے گی اور سرکار بنا نے کےلئے اپنے اتحادی ساتھےوں کا سہار ا لےنا پڑے گا ۔ےہ بات بی جے پی کے لئے بھی فٹ بےٹھتی ہے اور کانگرےس کےلئے بھی اس لئے بی جے پی نے لوک سبھا چناو ¿ کے لئے سےٹوں کے تال مےل مےں اپنے اتحادےوں کے تئےں نرم روےہ رکھا ہے بہار مےں جے ڈی ےو کے سامنے پوری طرح جھک جانے کے بعد اب بی جے پی نے اپنے سب سے پرانے چناوی ساتھی شےو سےنا سے بھی سمجھوتہ کرلےا ہے اس سے اےک بات تو صاف ہے کہ بی جے پی کی نظر مےں 2019کاچناو ¿ 2014چناو ¿ سے بلکہ الگ ہے ۔تال مےل کے تحت شےو سےنا کو لوک سبھا مےں 23سےٹےں ملی ہے جبکہ 2014مےں اسے 22سےٹےں ملی تھی اےک طرح سے بہار کے طرز پر اےک سےٹ کم کر اپنی اتحادی پارٹی سے سمجھوتہ کےا ہے ۔رام مندر،رافےل سودے جےسے مسئلوں پر بار بار بھاجپا پر حملے کرنے والی شےو سےنا نے بھی ثابت کردےا ہے کہ پچھلے چار پانچ سال سے جو وہ بی جے پی اور مودی سرکار سے خلاف زہر اگل رہی تھی وہ صرف سےٹوں کے لئے سودے بازی کا حصہ تھا کےا کےا نہےں کہا شےوسےنانے پردھان منتری کے خلاف ؟بھاجپا اور شےو سےنا کے درمےان پچھلے دو دہائی سے زےادہ پرانا رشتہ رہا ہے سماجی بنےاد پر اور نظرےاتی بنےاد پر دونوں مےں ےکسانےت دےکھی جاتی ہے اسلئے ان دونوں کا اتحاد کسی کو غےر فطری نہےں لگتا لےکن جس طرح پچھلے کچھ برسوں سے بھاجپا او رشےو سےنا کے رشتوں مےں کڑواہٹ دےکھی جارہی تھی اس سے ےہ بھی تذکر ہ ہونے لگا تھا اس مرتبہ دونوں پارٹےاں الگ الگ چناو ¿ لڑےں گی ۔اےسے مےں دونوں کے رشتہ مےں کشےد گی اور اتحاد کے اسباب سے مجبورےوںکی خاصےت ہے جس مےں ہر پارٹی اپنے مفاد کےلئے دباو ¿ کی حکمت عملی اپنا تی ہے ۔ےہ کہنا غلط نہ ہوگا بھاجپاکی تنقےد کے پےچھے شےوسےنا امکانی ےہی حکمت عملی رہی ہو تاکہ اس سے اپنی مانگ منوائی جاسکے ۔اپنے لئے حاشےہ پر رہنے والی رےاستوں مےں بی جے پی نےا ساتھی تلاش رہی ہے تامل ناڈو مےں انا ڈی اےم کے کے ساتھ چناو ¿ لڑے گی ۔جہاں اتحاد مےں اسے پانچ سےٹےں ملنے کی با ت کہےں جارہی ہے پچھلے تےن راجےوں مےں اقتدار کھونے کے بعد پارٹی کو لگنے لگا ہے کہ صرف مودی کی مقبولےت اور امت شاہ کے انتظام پر منحصر رہنا بھاری پڑسکتا ہے ۔وہ دےکھ رہی ہے کہ کانگرےس کس طرح چھوٹی چھوٹی رےاستوں مےں اتحاد پر زور دے رہی ہے اےسے مےں بی جے پی کی ےہ سوچ لگتی ہے کہ زےادہ سے زےادہ سےٹےں خود لےکر ہار جانے سے بہتر ہے کہ کافی سےٹےں اتحادےوں کو دےکر کامےاب ہونے پر زور دےا جائے ۔اگر وہ لوک سبھا چناو ¿ مےں اکثرےت سے پےچھے رہتی ہے تو اےن ڈی اے کے فارمولہ پر اگلی سرکار بنائی جاسکتی ہے ۔بہار مےں اسی فارمولہ پر بی جے پی نے کل 13سےٹوں کو چھوڑا ہے جس مےں پانچ انکے موجودہ اےم پی ہےں بی جے پی کی اتحادی پارٹی اگر من چاہی سےٹےں پارہی ہےں تو اس کی وجہ مودی سرکار کا لگا تار گراف گرنا اور بی جے پی کی چناوی حالت کمزور ہوتی جارہی ہے ۔

(انل نریندر)

دہشتگردی پاکستان کی سرکاری پالیسی کا حصہ ہے

پلوامہ حملے سے پاکستان کا آتنکی چہرہ اےک بار پھر بے نقاب ہواہے حملے کی ذمہ داری پاکستان کی سرزمےن سے سرگرم آتنکی تنظےم جےش محمد نے لی ہے اس سے ےہ اےک بار پھر ثابت ہوگےا ہے کہ پاکستان آتنکی تنظےموں کانا صرف سمرتھن کرتا ہے بلکہ ان کا گڑھ بھی بناہواہے ۔دنےا کے سامنے دکھاوے کے لئے پاکستان بھلے ہی آتنکی تنظےموں کے خلاف کچھ کارروائی کرتا ہے لےکن حقےقت ےہ ہے کہ پاکستانی سرزمےن سے خطرناک آتنکی تنظےم کھلے عام اپنی سرگرمےاں چلارہے ہےں انہےں نا صرف محفوظ پناگاہ مہےا کرائی گئی ہے بلکہ سرکاری مشےن بھی جس مےں پاک فوج ،آئی اےس آئی شامل ہےں ان ہی ہرممکن مدد کرتی ہے پاکستان بھارت ہی نہی بلکہ اپنے سبھی پڑوسی ملکوں مےں آتنکی بھےج کر وہاں عدم استحکام پےداکرنے کی کوشش کررہا ہے ۔پلوامہ حملے سے اےک دن پہلے پاکستان سے آئے دہشت گردوں نے اےران کے خاص تربےت ےافتہ دستے رےولوشنری گارڈ پر حملہ کرکے 27جوانوں کو مار ڈالاتھا ۔جہاں سے پتہ چلا ہے فدائی حملہ آور پاکستان سے آےا تھا اور اسے وہاں کی خفےہ اےجنسی نے ٹرےننگ دی تھی بدھ کو اس حملہ پر اےران نے کہا کہ پاکستان کو اس حملے کی بھاری قےمت چکانی ہوگی ۔اےرانی اقتداراعلی مےں رےولوشن گارڈ س کا خا ص رتبہ ہے ۔گارڈس کے چےف جنرل محمد علی جعفری نے فدائی حملے کےلئے سعودی عرب متحدہ عرب ،امارات حماےتی سنی آتنکی تنظےم کو ذمہ دار ٹھہر اےا ہے ۔کہاہے پاکستانی فوج اور دےگر سےکورٹی فورس اس طرح کی تنظےموں کو کےوں پناہ دے رہا ہے ۔پلوامہ حملے کی سازش مےں جےش محمد کے ساتھ پاکستانی فو ج بھی پوری طرح شامل تھی اس کا سب سے بڑا ثبوت ےہ ہے کہ تقرےبًا اےک مہےنہ پہلے پاکستان نے کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ کشمےر اور پنجا ب سے جڑی سرحد پر فوجےوں کی تعےناتی بڑھا دی تھی ۔پلوامہ حملے سے وابستہ اےک سےنئر افسر کے مطابق حملہ سے پہلے فوجےوں کو تعےنات کرنا فوج کے ذرےعہ کوئی بڑی کارروائی کا اشارہ تھا ےہی نہےں پاکستانی خفےہ اےجنسی آئی اےس آئی کے آقاو ¿ں کے کچھ ٹےلفون بھی پکڑے گئے تھے جس مےں بڑی کارروائی کا ذکر کےا جارہاتھا ۔ہماری خفےہ اےجنسےوں کے پاس حملے کی بھنک تھی لےکن وہ اصلی سازش کے تہہ تک پہچنے مےں ناکام رہے پلوامہ آتنکی حملے کو لےکر سرکار پر کارروائی کرنے کے بڑھتے دباو ¿ کے درمےان ہمارے ڈےفنس ماہرےن کا کہنا ہے دہائےوں سے دہشت گردی کو سرکاری پالےسی کی شکل مےں استعمال کرنے والے پاکستان کو ڈپلومےٹک طور سے الگ تھلگ کرنے کے فوجی قدم اٹھاکر سبق سکھانے کی ضرورت ہے ۔ےہ بالکل واضح ہے کہ پلوامہ آتنکی حملے کی سازش پاکستان مےں رچی گئی اسے انجام دےنے والوں کو سزا دےنا ضروری ہے ۔سےاسی قوت ارادی دکھاتے ہوئے شخصی طور پر حکمت عملی کے تحت کارروائی کرنے کی سخت ضرورت ہے ۔اےرانی فوج کے مےجر جنرل محمد علی جعفری نے آتنکی تنظےم جےش العدل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرکار اےسے دہشت گردوں کو پناہ دےتی ہے جو ہماری فوج اور اسلام کے لئے خطرہ ہے اسے پتہ ہے ےہ لوگ کہاں چھپے ہےں اور پاکستانی سےکورٹی فورس انہےں حماےت او رپناہ دے رہی ہے انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان ان دہشت گردوں کے خلاف اےکشن نہےں لےتا ہے تو ہم بدلہ لےں گے ۔پاکستان کو اےسے عناصر کی حماےت کرنے کا نتےجہ بھگتنا ہوگا ۔

(انل نریندر)

21 فروری 2019

فلم انجمنوں نے پاکستانی ایکٹرس پر لگائی پابندی

پلوامہ میں 14فروری کے آتنکی حملے کے بعد پورے دیش میں زبردست ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے بالی ووڈ کے سیلیبریٹیز بھی اپنے غصے کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں پچھلے دنوں حملے کی مذمت کرتے ہوئے نغمہ نگار جاوید اختر اداکارہ شبانہ اعظمی نے اپنا مجوزہ دررہ منسوخ کر دیا ۔اب بالی ووڈ کی مشہور گلوگارائیں ریکھا بھاردواج اور ہرشدیپ کور نے بھی اپنا پاکستان دورہ کینسل کر دیا ہے ۔دونوں گلوکاروں کو ایک موسیقی پروگرام میں شرکت کرنے کے لئے لاہور جانا تھا انہیں 21اور 22مارچ کو لاہور میں شان پاکستان کے نام سے پروگرام میں اپنی پرفارمینس دینی تھی ۔لیکن دونوں سنگرس نے پلوامہ حملے کے بعد نعرضگی ظاہر کرتے ہوئے اپنے دورے کو منسوخ کر دیا ۔آتنکی حملے کے احتجاج میں مہا نائک امیتابھ بچن کی اگلی فلم اور کرکٹر ویرندر سہواگ،پی وی ایکس لکشمن ہربجن سنگھ اور سریش رینا کی فلم کی وشال کی شوٹنگ بمبئی میں قریب دو گھنٹے کے لئیے روک دی گئی ۔دوسری طرف فیڈریشن آف ویسترن آف انڈیا سنے امپلائز نے پاکستانی اداکاروں پر پوری طرح پابندی کا فیصلہ لیا ہے ۔24فلم انجمنوں نے گورے گاﺅں میں واقع فلم سٹی میں احتجاجی مظاہر کیا لیکن وہ لوگ فوجیوں کے تیں اپنی یکجہتی دکھانے کے لیئے شوٹنگ روک کر احتجاجی مظاہرے میں شامل ہوئیے ۔کرکٹر سہواگ نے کہا ،ہم جو بھی کہیں یا کریں وہ فوجی اور ان کے اشتراک کے لیئے شاید کم ہی ہوگا ہم صرف ان کا شکریہ ادا کر سکتے ہیں اور ان کی مدد کرنے کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں ہمیں کرنا چاہیے ہم بہت دکھی ہیں لیکن مستقبل میں ہم سبھی کے لئے بہتر وقت کی امید کرتے ہیں ۔ہربجن کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ شہید جوانوں کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی ۔ فیڈریشن آف ویسترن آف انڈیا سنے امپلائز کے چیرمین بی این تیواری نے کہا کہ سبھی فلم انجمنوں نے ہندی فلموں میں کام کرنے والے کسی بھی پاکستانی اداکار کا پوری طرح سے بائکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔آر ایف ٹی ڈی اے کے چیر مین اشیش پنڈت نے بھی یہی بات کہی ۔فلم انجمنوں نے نوجوت سنگھ سدھو کا بھی بائکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔غور طلب ہے کہ سدھو نے حملے کی مذمت تو کی تھی لیکن کہا تھا کچھ لوگوں کی کرتوت کے لئیے پورے دیش (پاکستان )کو قصوروار ٹھرایا نہیں جا سکتا ۔فلمی ستارے متاثرہ خاندان کے لئے مالی مدد کرنے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔امیتابھ بچن،سلمان خان،اکشے کمار،اور دلجیت وغیر ہ نے بھی مالی مدد دی ہے ۔ادھر مہاراشٹر نو نرماڈ سینا نے ممبئی کے پرائیوئٹ چینلوں پر کہا کہ وہ پاکستانی اداکاروں پر فلمائے گیت نہ دکھائیں ۔راج ٹھاکرے کی پارٹی کے ایک نیتا نے لباس کے بین الااقوامی برانڈس کمپنیوں سے بھی کہا کہ وہ پاکستان میں اپنے بنے کپڑے نہ بیچیں اگر یہ ایف ایم چینل پاکستانی اداکاروں کے گانے نہیں روکتے تو انہیں اس کا نتیجہ بھگتنے کے لیئے تیار رہنا چاہئیے ۔

(انل نریندر)

دوسری جوابی کارروائی...حریت نیتاﺅں کی سیکورٹی ہٹی!

حریت کانفرنس یہ ایک ایسی تنظیم ہے جو جموں و کشمیر میں علیحدگی پسندی کے نظرئے کو فروغ دیتی ہے ۔سال 1987کو نیشنل کانفرنس اور کانگریس اتحاد پر چناﺅ لڑنے کا اعلان کر دیا گیا تھا ۔اس کے خلاف وادی میں احتجاج بھی ہوا اس چناﺅ میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر فاروق عبداللہ نے ریاست میں اپنی سرکار بنائی ان کے مخالفت میں کھڑی ہوئی اپوزیشن پارٹیوں کی مسلم یونیائیٹڈ فرنٹ کو محض چار سیٹیں ملیں جبکہ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کو چالیس اور کانگریس کو 26سیٹیں ملیں اس کے ہی خلاف وادی میں 13جولائی 1993کو آل پارٹیز حریت کانفرنس کی بنیاد رکھی گئی اس کا صرف ایک ہی مقصد تھا ....وادی میں علیحدگی پسند تحریک و اس کی سرگرمیوں کو رفتار دینا ۔حکومت ہند نے پلوامہ حملے کے بعد دوسرا بڑا قدم حریت کانفرنس کے 6علیحدگی پسند لیڈروں کو ملی سیکورٹی اور دیگر سہولیات واپس لینا ہے جموں و کشمیر کے افسر کے مطابق ان نیتاﺅں میں حریت کانفرنس کے چیر مین میر واعظ فاروق اورشاہ ،ہاشم قریشی ،بلال لون،فضل حق قریشی،عبدالغنی بٹ کو اب کسی طرح کا سیکورٹی کور نہیں دیا جائے گا ۔نہ انہیں سرکاری گاڑیاں دی جائیں گی دوسری دی جانے والی دیگر سہولیات بھی ہٹا لی جائیں گی ۔حکومت ان علیحدگی پسندوں پر سال بھر میں قریب 14کروڑ روپئے خرچ کرتی 11کروڑ سیکورٹی ،دو کروڑ غیر ملکی دورے 50لاکھ روپئے گاڑیوں پر خرچ ہوتے ہیں ۔ان کی حفاظت میں 6سو جوان بھی لگے ہوئے تھے ۔چونکانے والی حقیقت یہ ہے کہ ایسے پچاس کے قریب کشمیری علیحدگی پسند لیڈر ہیں جنہیں ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت کے احکامات پر سرکاری سیکورٹی مہیا کروا رکھی ہے ۔قارئین و واقف کاروں کے لئے حریت کانفرنس کے چیر مین میر واعظ مولوی عمر فاروق تو با قاعدہ زیڈ پلس زمرے کی سیکورٹی دی گئی ہے ۔حریت کانفرنس کے جس مہا گٹھ بندھن میں پارٹیاں شامل ہوئی تھیں وہ چاہتی ہیں کہ کشمیر ی عوام میں پبلک ریفرنڈم کرا کر ایک الگ پہچان دلانا ۔حالانکہ ان کے منصوبے پاکستان کو لے کر کافی نرم رہے یہ سبھی کئی موقعوں پر بھارت کے مقابلے پاکستان سے اپنی قربت دکھاتے رہے ہیں ۔90کی دہائی میں جب وادی میں دہشتگردی شباب پر تھی تب انہوںنے خود وہاں کا سیاسی چہرہ بنانے کی کوشش کی لوگوںنے ان کو مسترد کر دیا ۔میر واعظ مولوی عمر فاروق نے علیحدی پسندوںسے سیکورٹی واپس لینے کے فیصلے پر تلخ نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ (سیکورٹی ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہے )یہ سرکار کا فیصلہ تھا اسے جاری رکھا جائے یا ہٹا دیا جائے ۔پروفیسر عبدالغنی بٹ نے ریاستی حکومت کے ذریعہ سیکورٹی واپس لئے جانے پر کہا کہ ہم نے کبھی سیکورٹی نہیں مانگی کل اسے ہٹا یا جاتا ہے تو ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا سیکورٹی کو ہندوستانی ایجنسیاں کشمیر کی آزادی پسند تنظیموں اور نیتاﺅں کو بدنام کرنے کے لیئے استعمال کرتی ہیں ۔اس کے ذریعہ ہماری سرگرمیوں کی نگرانی کی جاتی تھی ۔اچھا ہو گیا ہے اب ہم آزادی سے چل سکیں گے سوال یہ اُٹھتا ہے علیحدگی پسندی کے ساتھ انتہا پسندی کی حمایت ان خود ساختہ نیتاﺅں کو آخر سیکورٹی دی ہی کیوںگئی تھی؟کیا یہ عجب نہیں ایک طرف دیش کے خلاف بیان بازی یا پتھر بازوی کرنے اور پتھر بازوں کی حوصلہ افزائی کرنا و سوشل میڈیا پر قابل اعتراض رائے زنی کرنے پر تو دیش ملک کی بغاوت کا مقدمہ درج ہو جاتا ہے لیکن پاکستان کے اشارے پر بھارت کے خلاف مسلسل زہر اگلنے اور مذہبی نفرت پھیلانے و دہشت گردوں کا گن گان کرنے والے حریت نیتا برسوں سے سرکاری سیکورٹی پر چل رہے تھے ؟آخر کس بنیاد پر ان سے امید کی جا رہی تھی کہ یہ کشمیری مسئلے کے حل میں مددگار بن سکتے ہیں ۔چونکہ کشمیر میں علیحدگی پسند ی و دہشتگردی بڑتی جارہی ہے اور انہیں انہیں دفعہ 370کے تحت کہیں زیادہ اختیار حاصل ہے ۔اس لئے یہ صحیح وقت ہے جب اس دفعہ کو ختم کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔ یہ دفعہ کشمیر وادی اور باقی ہندوستان کے درمیان ایک کھائی کی طرح ہے اس لئے کشمیریوں کا ایک طبقہ خود کو بھارت سے الگ مانتا ہے اسی مانیتا نے وادی میں علیحدگی پسندی کے بیج بوئے ۔

(انل نریندر) 

20 فروری 2019

غم ،غصے اور نم آنکھوں سے 40شہیدوں کی انتم ودائی

غم،غصے،اور نم آنکھوں سے سولھ ریاستوں میں 40شہیدوں کی انتم یاترا پر لاکھوں لوگ انہیں شردھانجلی دینے نکلے شہید سپوتوں کو سنیچر کو بھاری غصے کے درمیان انتم سنسکار کیا گیا ۔ اترپردیش، بہار، پنجاب، ہریانہ سمیت دیش کی سولھ ریاستوں میں 40سی آر پی ایف جوانوں کو انتم ودائی دینے ترنگا لہراتے ہوئے پہنچے ۔پلوامہ آتنکی حملے میں شہید ہوئے جوانوں کی لاش جب الگ الگ ریاستوں میں پہنچی تو ان کی انتم یاترا کا منظر دیکھنے والا تھا ۔اتراکھنڈ کے ادھم سنگھ نگر کے باشندے شہید ویرندر سنگھ رانا کا جسد خاکی جب گھر پہنچا تو شردھانجلی دینے والوں کی بھیڑ لگ گئی ۔ویرندر سنگھ کے دھائی برس کے بیٹے بچان نے اپنے پتا کی جسد خاکی کو مکھ اگنی دی اہیں سنیچر کو دہرادون کے شہید ہوئے اے ایس آئی رتوری کو ان کی بہادر بیٹی نے پتا کو سیلوٹ کیا اور یکایک دیکھتی رہی ۔پریاگ راج کے جب شہید ہوئے سی آر پی ایف کے جوان مہیش کمار یادو کا جسد خاکی پہنچا تو سی آر پی ایف کے جوانوںنے سلامی دئے جانے کے بعد شہید کے والد راجکمار یادو نے مکھ اگنی دی ادھر شہید ہوئے جوانوں کو انتم ودائی دی جا رہی تھی تبھی خبر آئی کہ ایل او سی کے راجوری کے نو شہرا سیکٹر میں بارودی سرنگ دھماکے میں فوج کے انجینرنگ شعبے کے میجر چتدریش سنگھ دشٹ شہید ہو گئے ۔ایک جوان بھی زخمی ہوا وہ ایک آئی ڈی بم کو نا کارہ کر رہے تھے ۔اچانک وہ پھٹ گیا ۔حالانکی بشٹ نے بارودی سرنگ کو کامیابی کے ساتھ ختم کر دیا تھا ۔حالانکہ دوپہر بعد قریب تین بجے دوسری آئی ای ڈی کو ناکارہ بناتے وقت اس میں دھماکہ ہو گیا ۔31سالہ بشٹ دہرادون کے رہنے والے تھے اور 7مارچ کو ان کی شادی ہونے والی تھی ۔شہید ہونے والے جوانوں کا تعلق اترپردیش ،بہار ،مغربی بنگال،پنجاب ،اتراکھنڈ،ہماچل پردیش،جموں و کشمیر،راجستھان، جھارکھنڈ،ا ڑیشہ، کیرل، مہاراشٹر،تمل ناڈو، کرناٹک،آسام صوبوں سے تھے ۔جو شہید ہوئے ۔ان لاشوں کی حالت دیکھ لوگوں میں زبردست غصہ بھرا ہوا تھا ۔جوانوں کے جسم کا وہ حال ہو چکا تھا کہ جسے بیان کرنا مشکل ہے ۔حملے کے فورا بعد آئی تصویرں اس کی گواہ بھی تھیں کہ دھماکے کے بعد لاشوں کا پہچاننا مشکل ہو گیا تھا ۔کہیں ہاتھ پڑا تھا تو کہیں جسم کا حصہ بکھر ا پڑا تھا اور ان کے سامان وغیرہ ادھر اُدھر پڑے ملے حملے کی یہ جگہ جنگ جیسی زمین دکھائی دے رہی تھی ۔جسم کے بعد باقی ان کے سامانوں کو اکھٹا کر کے ان کی پہچان کا کام شروع ہوا اس کام میں جوانوں کے آدھار کارڈ آئی ڈی کارڈ سے بڑی مدد ملی جن جوانوں کے سر پر چوٹ آئی تھی ان کی پہچان صرف شناختی کارڈ سے ہو سکی ۔کئی جوان گھر جانے کے لئے چھٹی کی درخواست لکھ کر دے آئے تھے ۔اس درخواست کو وہ اپنے بیگ میں یا اپنی جیب میں رکھے ہوئے تھے اسی کی فوٹو کاپی کی بنیاد پر انہیں پہچانا جا سکا ۔اس زبردست دھماکے میں کئی جوانوں کے بیگ ان سے الگ ہو گیے تھے اس کی پہچان ان کے کوٹ نمب و گھڑیوں سے ہوئی ۔سب سے دکھ کی بات یہ ہے کہ پلوامہ کے شہیدوں کو شردھانجلی دینے عوامی سیلاب امڑ پڑا تھا ۔وہیں جس یونیورسٹی میں طلباءاپنا جشن منا رہے تھے اور دیش مخالف نعرے بازی ہو رہی تھی قوی منوج کمار کی ستور ہیں .....سکھ بھر پور گیا ،مانگ کا سندور گیا،نگے نو نہالوں کی لنگوٹیاں چلی گئیں ،باپ کی دوائی گئی ،بھائی کی پڑھائی گئی ،چھوٹی چھوٹی بیٹیوں کی چوٹیاں چلی گئیں ۔ایسا ایک دھماکہ ہوا جسم کا پتہ نہیں پورے ہی جسم کی کوٹھیاں چلی گئیں ۔آپ کے لئے تو ایک آدمی مرا ہے صاحب،کہ میرے گھر کی تو روٹیاں چلی گئیں ۔جی!ایک بار پھر جموں و کشمیر کے پلوامہ میں سی آر پی ایف کے جوانوں کی شہادت کے ساتھ مہندی لگے ہاتھوں نے منگل سوتر اتارے بوڑھے ماں باپ کا سہارا چھن گیا ،ننھے منھے بچوں کے سر سے باپ کا سایہ اُٹھ گیا اور بہن کی راکھی چلی گئی اس سب کے بعد ہاتھ آیا تو ہم بدلہ لیں گے اور کارروائی کریں گے کی صرف باتیں ہیں ۔لیکن کب تک پتہ نہیں ۔ہم بار یہی کرتے آرہے ہیں ۔اور لگتا ہے یہی کرتے رہیں گے ۔کیونکہ مرنے والے فوجی کچھ نہیں لگتے اس لئے ان کے چھتڑے اڑے جسم ہمارے دل کو نہیں دہلا سکتے ۔ہم کر سکتے ہیں تو صرف سردھانجلی پروگرام اور کچھ دے سکتے ہیں تو وہیں گھسے پٹے بیان جنہیں سن کر کان پک چکے ہیں ۔سوال ہر بار کی طرح اس بار بھی یہی ہے آخر کب تک ہم اپنے فوجیوں کو دہشتگردوں کی بھینٹ چڑھاتے رہیں گے ؟کب تک فوجیوں کے خاندان بے سہارا اور ان کے بیٹے بیٹیاں یتیم ہوتے رہیں گے ؟کیا وجہ ہے کہ بھارت کی آزادی کے 7دہائی کے بعد بھی دہشت کے خوف کے سائے میں جی رہے ہیں ؟بھلے ہی وہ انٹرنل سیکویورٹی ہو یا بھاری سرکشہ ،دونوں ہی بھارت کے سامنے بڑے مسئلے بنے ہوئے ہیں ایک طرف ہم آتنکی وارداتوں کو روکنے میں ناکام ہو رہے ہیں اور اپنے فوجیوں کو گنوا رہے ہیں ،دوسری طرف دیش کے نوجوانوں کی آتنکی تنظیموں میں شامل ہونے کی خبریں باعث تشویش ہیں کیا حالات اتنے بگڑ چکے ہیں اور انسانیت کے پیمانے اتنے گر چکے ہیں کہ ایک پڑھے لکھے لڑکے کو دہشت کی پناہ میں جانے کے لئے مجبور ہو نا پڑے ؟کیا ہمارے دیش کے ہونہار اتنے کمزور ہیں کوئی بھی ان کا برین واش کر سکتا ہے ؟ایسے کئی سوال ہیں جو دیش میں کروڑوں لوگوں کے دلوں میں کانٹے کی طرح چبھ رہے ہیں ۔آخر کیوں ہم روک نہیں پا رہے ہیں ۔ایسے میں بھارت کو اپنا نرم رخ چھوڑ کر دہشتگردوں کے ساتھ دہشتگردوں جیسا برتاﺅ کرنا ہوگا ۔معاہد ہ اور سمجھوتے کی بنیاد پر امن قائم کرنے کی سالوں کی کوششیں صرف کاغذوں پر دکھائی دے رہی ہیں زمین پر اس کا اثر دکھائی دے ایسی کارروائی کرنے کی آج ضرورت ہے ۔یہ خط جالور کے دوے -ددراج سدھار نے لکھا ہے ۔

(انل نریندر)

19 فروری 2019

Biggest terrorist attack ever with Pakistan's help

The terror attack in Jammu and Kashmir on Thursday was biggest. More than 40 CRPF soldiers were martyred in this attack in Goripora near Awantipora on Jammu-Kashmir National Highway. More than 30 soldiers were injured. Most of them are in critical condition. The attack was carried by a local Kashmiri youth militant Adil Ahmed alias Bakas who belonged to the Pakistan operated Jaish-e-Mohammed’s Afzal Guru suicide bomber squad. He rammed his SUV scorpio laden with 320 kg explosives with a CRPF convoy bus full of  jawans. Other vehicles in the convoy also sustained severe damage. In the morning, there were 60 vehicles in the CRPF convoy travelling from Jammu with 2547 soldiers . At about three o'clock in the afternoon, as soon as the convoy reached Goripora (Avantipora) on Jammu-Kashmir highway a car rammed into a convoy and suddenly the suicide car driver hit the 54-vehicle bus of the CRPF. There was explosion after the collision and the bus turned in to a skeleton. The noise was heard miles away. Within minutes in span of 100 meters, there were corpse and body parts lying. After ramming the bus terrorists waiting started firing on the convoy. The jawans immediately counter fired but they managed to escape from the spot. Suicidal terrorist Adil was also killed. The car (USB) that collided was driven by militant Adil Ahmed Dar of  Jaish-e-Mohammed. The terrorist Adil Ahmed Dar was only 20 years old and he was resident of Kakapora in Kashmir Valley. He joined Jaish terrorist organization in March 2018. He was named Waqas in Jaish's team. His video and photos have come out immediately after the attack. In the video that has surfaced, terrorist Dar is seen armed with  sophisticated  weapons. After this attack, Jaish-e-Mohammed also released a 10-minute video of terrorist Dar. The cowardly act of terrorists is condemnable. This is also a matter of concern and this attack could have been be avoided?  The question is whether it was our intelligence failure? As a result of death of top commanders and their followers, especially close relatives of Masood Azhar by security forces operations, Jaish was plotting for dangerous revenge. Intelligence inputs were also received by the agencies that Jaish could execute the creepy attack. Jaish released a video a month ago. The experts are convinced that the attack was carried out on the lines of Afghanistan, Iraq and Syria infamous terrorist organization Islamic State. Its formal training has also been confirmed. An official said that this is not because of local terrorists, but a big conspiracy on the part of atronage by Pakistan. Security lapses were also there. A suicide bomber can’t be stopped but huge damage could have been avoided if there were not security lapses . For example, when the CRPF convoy was passing on the National Highway why was the movement of civilan vehicles not barred? If civilian traffic was closed at that time, it would not be so easy for Adil Dar to enter a convoy with his scorpio. Generally, when the convoy (2547 jawans) of so many jawan passes through any place, there is a sanitation of all the way. The soldiers are deployed at every 50 yards but it seems that it was not followed properly. The other details will be known only after the inquiry. The convoy of CRPF jawans in Pulwama, where the terrorists attacked, was also huge because the highway was closed for the last four days due to heavy snowfall and bad weather. Would it not be a better option to have airlifted  these jawans? This question also arises, how did the terrorists got information about the movements of the CRPF jawans? This information can be from any source. Was there any security personnel (people inside the CRPF or local police) spying for terrorists? Some experts also say that while the terrorists are adopting  new methods for the attack, the government still needs to take stringent steps. Officers also say that this loss occurred because of surgical strikes being applauded too much and now taking action immediately is difficult as no surprise is left. It is also reported that the Terrorist bosses have shifted their launch pads deeper into Pakistan. But now the new terrorists have come.  Surprises are very important for any strategy. Now, without a surprise, the government will face problems for taking immediate action. If the last time we had not lauded surgical strike too much then we could repeat such actions. Now the terrorists will move back from the border. Terrorist attacks have increased during the tenure of Modi Government. This is the 17th big attack in the last five years. Pakistan took the heads of Shaheed Mandeep and Shaheed Narendra Singh but Modi kept quiet. The ceasefire was violated more than 5000 times, but the government is silent . 448 jawans were martyred in the terrorist attack in Jammu and Kashmir, but we have not responded to any such action which would cut the roots of Pakistan and their supporters. The entire country and even the opposition are also demanding that the government take such a step which  prevent the sacrifice of our soldiers day after day. The entire opposition is to be appreciated as no one has politicised this issue, Rahul Gandhi's statement is commendable. We want this time to end the root cause of this problem. We must penetrate  Pakistan and kill Jaish-e-Mohammed and Lashkar-e-Taiba's Masood Azhar and Hafiz Saeed. I know this is not an easy task. Many of our soldiers may be martyred in this operation, but this is still happening. At least we will have the terror heads cut off and it will be an appropriate response.
Anil Narendra

رافیل کےلئے پیسے ہیں ،لوٹانے کےلئے نہیں

سپریم کورٹ نے ریلائنس کمیونیکشنز لمیٹیڈ کے چیر مین انل امبانی اور دو دیگر کے خلاف 550کروڑ روپئے کی بقایا رقم کی ادائیگی نہ کرنے کے سبب ان کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کے لئے ایرکسن انڈیا کے رول پر بدھ کو سماعت پوری کر لی ہے ۔جسٹس آر ایف نریمن اور جسٹس ونت شرن کی بنچ نے متعلقہ فریقین کو سننے کے بعد کہا کہ اس پر فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا ۔ریلائنس ٹیلی کام لیمیٹڈ اور ریلائنس ریفراٹیل لیمیٹیڈ کی چیر مین شرمن ویرانی کے ساتھ انل امبانی سماعت کے دوران عدالت میں موجود تھے ۔سپریم کورٹ نے 28اکتوبر کو ارکام کو کہا تھا کہ وہ ایرکسن کمپنی کو پندرہ دسمبر تک 550کروڑ روپئے کی بقایا رقم جو اسے دینی ہے ا س کی ادائیگی کرئے اگر رقم چکانے میں دیری ہوتی ہے تو سالانہ 12فیصد سود بھی دینا ہوگا ۔سپریم کورٹ کے حکم کو پورا کرنے میں ناکام رہنے پر ایرکشن کمپنی نے انل امبانی کی کمپنی پر توہین عدالت کی عرضی دائر کی تھی جس پر انل امبانی کو نوٹس جاری کر شخصی طور سے پیش ہونے کو کہا تھا ۔جسٹس نریمن کی سربراہی والی بنچ نے 7جنوری کو اس توہین عدالت کی عرضی پر نوٹس جاری کرتے ہوئے انل امبانی کو حاضر ہونے کے لئے حکم دیا تھا ۔لیکن سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جو حکم اپلوڈ ہوا اس میں کہا گیا تھا کہ توہین عدالت کنندہ (انل امبانی)کو اگلی تاریخ پر پیش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ارکشن کے وکیل نے اس معاملے کی شکایت کی جس کے بعد معاملے کی جانچ ہوئی جس میں پتہ چلا کہ معاون رسٹار سطح کے دونوں ملزم افسران نے جان بوجھ کر فیصلے سے چھیڑ چھاڑ کی انہوں نے انل امبانی کی شخصی پیشی کا حکم ہی ہٹا دیا گیا تھا ۔چیف جسٹس رنجن گگوئی نے سپریم کورٹ کے قوائد میں حاصل اخیتارات کا استعمال کرتے ہوئے دونوں افسران کو برخاست کر دیا ہے ۔اس معاملے کی سماعت کے درمیان ارکشن کے وکیل نے انل امبانی پر سنگین الزام لگائے وکیل دشینت دبے کا کہنا تھا کہ ریلائنس کمونیکشن کے چیر مین انل امبانی نے کورٹ سے یہ معلومات چھپائی کمپنی کو پلس پزیمو کی بکری سے پانچ ہزار کروڑ روپئے ملے ۔انہوںنے کہا یہ راجاﺅں کی طرح رہتے ہیں یہ انسانیت کے لئے بھگوان کے ذریعہ دئے گئے تحفہ کے مانند ہے ۔ان کے پاس رافیل میں سرمایا کاری کے لئے پیسہ ہے لیکن ہمارا بقایا چکانے کے لئے پیسہ نہیں ہے ۔وکیل دوئے نے کہا کہ امبانی کو تو پیسہ دینا ہی چاہیئے ۔انہیں توہین عدالت کے معاملے میں بھی سزا ملنی چاہیئے۔ایسا کم دیکھنے کو ملا ہے کہ دیش کے بڑے صنعت کاروں کے خاندان سے متعلق انل امبانی اس طرح کی دھوکہ دھڑی میں شامل ہوں ۔فی الحال اب انل امبانی معاملے میں برے پھنس گئے ہیں پیسہ تو لوٹانہ ہی پڑئےگا اور سزا ہونے کا الگ خطرہ منڈرا رہا ہے ۔

(انل نریندر)

پہلی جوابی کارروائی، پاکستان سے چھینا ترجیحی درجہ

پلوامہ آتنکی حملے کے بعد پاکستان کے خلاف پہلی بڑی کارروائی کرتے ہوئے بھارت نے جمعہ کو اس سے سب سے ترجیحی دیش کا درجہ واپس لے لیا مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے بتایا کہ پی ایم نریندر مودی کی سربراہی میں سلامتی امور معاملوں کی کیبنٹ کمیٹی کی میٹنگ ہوئی جس میں حملے سے پیدا حالات کا جائزہ لیا گیا ۔میٹنگ میں پاکستان سے ایم ایف این کا درجہ واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ۔ماہراقتصادیات پرنب سین نے کہا کہ ایم ایف این کا درجہ دینے کا مطلب ہوتا ہے آمد درآمد پر لگنے والے ٹیکس کی شرح دوسرے ملکوں کے مقابلے سب سے کم رکھی جاتی ہے لیکن واقف کاروں کے مطابق اس فیصلے سے پاکستا ن پر زیادہ مالی اثر نہیں پڑے گا لیکن دنیا میں سفارتی سطح پر بڑا پیغام جائے گا ۔پاکستان سے سب سے ترجیحی دیش واپس لینے کے اعلان کے بعد وہاں سے منگائی جانے والی چیزوں کے کاروبار پر اثر پڑئے گا جو چیزیں پاکستان سے منگائی جاتی ہیں ان میں خاص کر پھل ،سمینٹ ،پیٹرولیم مصنوعات ،مادنی سامان،جیسے لوہا ،ابرق اور تیار چمڑا شامل ہے ۔بھارت نے پاکستان کو 1996میں یہ درجہ دیا تھا لیکن پاکستان کی جانب سے بھارت کو ایسا کوئی درجہ آج تک نہیں دیا گیا ۔ٹریڈ اینڈ ایکسائز ٹیکس پر عالمی ٹریڈ آرگنائزیشن کے عام سمجھوتے (جی اے ٹی ٹی )کے تحت یہ ایم ای این کا درجہ دیا گیا تھا۔ترجیحی ملک معاہدے کے تحت ڈبلیو ٹی او کے ممبر ملک دیگر کاروباری ممالک کے ساتھ جس غیر امتیازی طریقہ سے کاروبار کرنے کے لئے مجاز ہیں خاص کر ایکسائز ٹیکس اور دیگر ٹیکسوں کے معاملوں میں ۔اس درجے کو واپس لینے کا مطلب ہے کہ اب پاکستان سے آنے والی چیزوں پر کسی بھی اونچائی تک ایکسائز ٹیکس کو بڑھا سکتا ہے بھارت پاکستان میں کل کاروبار 2016-17میں 2.27ارب ڈالر سے معمولی بڑھ کر2017-18میں 2.41ارب ڈالر ہو گیا ہے ۔بھارت نے 2017-18میں 48.8کروڑ ڈالر کا امپورٹ کیا تھا ۔اور 1.92ارب ڈالر کا ایکسپورٹ کیا تھا۔بھارت خاص طور سے پاکستان کو کپاس ،سوتی دھاگے ،رنگ،کمیکل،پلاسٹک کا سامان،فروخت کرتا ہے ۔ بھارت اور پاک کا کاروبار بھارت کے لئے کل تجارت کا 0.40%ہی ہے ۔پاک بھارت کے 10%مصنوعات کو امپورٹ کی منظوری دیتا ہے ۔جبکہ بھارت پاک کے 99%مصنوعات پر روک نہیں لگاتا ۔2017-18میں پاک سے 1.9ارب ڈالر کی ایکسپورٹ ہوتی ہے ۔پاکستان سے درآمد 50لاکھ ڈالر تھی ۔ دراصل ایک دہائی میں بحران کے وقت پاکستان نے بھارت سے آلو،پیاز،چینی،ٹماٹر،چاول جیسی چیزوں کو منگایا ہے ۔واغا بارڈر کے ذریعہ پاکستان کو یہ سامان کافی سستا پڑا تھا ۔نیتی کمیشن کے ڈپٹی چئیر مین راجیو کمار نے بتایا کہ پاک سے ایم ایف این کا درجہ چھیننے سے اس کی معیشت کو زبردست جھٹکا لگے گا جو پہلے ہی لڑکھڑا رہی ہے ۔ بھارت کی پاکستان سے بازار پر انحصار نہیں ہے ۔اور آسانی سے وہ مشرقی وسطہ کے ملکوں کی طرف رخ کر سکتا ہے ۔

(انل نریندر)

17 فروری 2019

پاکستان کی شہ پر جیش نے کیا سب سے بڑا آتنکی حملہ

جموں وکشمیر میں جمعرات کو اب تک کا سب سے بڑا آتنکی حملہ ہوا جموں و کشمیر قومی شاہ راہ پر واقع اونتی پور کے پاس گوری پورہ میں ہوئے اس حملے میں 49سی آر پی ایف جوان شہید ہو گئے اور تیس سے زائد جوان زخمی بتائے جاتے ہیں اس میں کئی کی حالت ابھی بھی بدستور نازک ہے حملے کو پاکستان سے کنٹرول جیش محمد کے فدائی دستے افضل گرو اسکوائڈ کے مقامی کشمیری نوجوان دہشتگرد عادل احمد عرف بقاس نے انجام دیا ۔اس نے تین سو پچاس کلو آر ڈی ایکس سے لدی اسکارپیو کار کو سی آر پی ایف کے قافلے میں شامل جوانوں نے بھری ایک بس کو اوور ٹیک کر ٹکر مار کر اڑا دیا ۔قافلے میں دیگر گاڑیوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ۔صبح جموں سے چلے سی آر پی ایف کے ایک قافلے میں 60گاڑیاں چلیں تھیں جس میں 2547جوان تھے دوپہر قریب سوا تین بجے جیسے ہی قافلہ جموں و کشمیر ہائی وے پر گوری پورہ کے پاس پہنچا تبھی اچانک ایک کار تیزی سے اس قافلے میں گھسی اور فدائی کار ڈرائیور نے سی آر پی ایف کی 54ویں گاڑی کی بس کو ٹکر مار دی اور ٹکراتے ہی زبردست دھماکہ ہوا اور بس کے پرخچے اڑ گئے ۔اور اس دھماکے کی کئی کلو میٹر تک آواز سنی گئی ۔پل بھر میں سو میٹر کے دائرے میں چیتھڑے اڑی لاشیں اور جسم کے اعضاءبکھرے پڑے ہوئے تھے ۔تبھی وہاں پہلے سے بیٹھے انتظار کر رہے آتنکوادیوںنے فائرنگ شروع کر دی جوانوںنے فورا جوابی فائرنگ کی تو آتنکی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے ۔فدائی آتنکی عادل بھی مارا گیا۔جس یو ایس وی کار نے ٹکر ماری تھی اس گاڑی کو جیش محمد کا آتنکی عادل احمد ڈار چلا رہا تھا ۔اس کی عمر محض 20سال تھی ۔اور وہ کشمیر وادی کے ہی دھاکو پورہ کا باشندہ تھا مارچ 2018میں جیش تنظیم میں شامل ہوا تھا جیش کی ٹیم میں اس کا نام وقاص ہو گیا تھا ۔اس کا ویڈیو اور تصویریں حملے کے فورا بعد سامنے آئی ہیں جو ویڈیو سامنے آیا ہے اس میں آتنکی عادل ڈار کئی طرح کے ہتھیاروں سے مصلحہ دکھائی دے رہا ہے ۔اس حملے کے بعد جیش محمد نے بھی آتنکی ڈار کا دس منٹ کا ویڈیو جاری کیا آتنکی کی اس بزدلانہ حرکت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔تشویش کا موضوع یہ بھی ہے کہ اس حملے کو روکا جا سکتا تھا سوال یہ ہے کہ کیا ہماری خفیہ ایجنسیاں لا پرواہ تھیں ؟سیکورٹی فورس کے آپریشن میں مارے گئے ٹاپ آتنکی ان کے چیلوں خاص طور پر مسعود اظہر کے نزدیکی رشتہ داروں کے مرنے کے بعد سے ہی جیش بدلہ لینے کی سازش تیار کرنے میں لگا تھا ۔خفیہ طلاعات بھی ایجنسیوں کو ملی تھی کہ جیش محمد خوفناک حملے کو انجام دے سکتا ہے حملے کے لئے جیش نے ایک مہینے پہلے ایک ویڈیو بھی جاری کیا تھا ۔جانکار مان رہے ہیں کہ حملہ خطرناک دہشتگرد تنظیم آئی ایس کے افغانستان اور عراق اور شام پر کئے گئے حملے کی طرح تھا ۔اس کی با قاعدہ ٹرینگ کی بھی تصدیق ہوئی ہے ایک افسر نے کہا کہ یہ مقامی آتنکیوں کا کارنامہ نہیں بلکہ پاکستان کی شہ پر ایک بڑی سازش ہے ۔سیکویورٹی میں بھی چوک ہوئی ہے ۔ایک خودکش حملہ ور کو روکا تو نہیں جا سکتا لیکن اتنا بھاری نقصان سے بچا جا سکتا تھا اگر سیکورٹی میں چوک نہ ہوئی ہوتی ۔مثال کے طور پر قومی شاہراہ ہونے کے سبب جس وقت سی آر پی ایف کا قافلہ گزر رہا تھا تو عام گاڑیوں کی آمد رفت کو بند کیوں نہیں کیا گیا ؟اگر سول ٹریفک اس وقت بند ہوتی تو عادل ڈار کے لئے اپنی اسکارپیو کار کو لے کر قافلے میں گھسنا اتنا آسان نہیں ہوتا ۔عام طور پر جب اتنا بڑا جوانوں کا قافلہ کہیں سے بھی گزرتا ہے تو اس تمام راستے کی نگرانی ہوتی ہے ہر پچاس گز پر فوجی تعینات ہوتا ہے لیکن لگتا ہے کہ ان میں چوک ہوئی ہے ۔باقی تفصیلات ہو تحقیقات کے بعد ہی پتہ چلیں گی ۔پلوامہ میں سی آر پی ایف کے جوانوں کے جس قافلے پر آتنکی حملہ ہوا اس میں جوانوں کی تعداد اس لئے بھی زیادہ تھی کیونکہ بھاری برفباری اور خراب موسم کے سبب چار دنوں سے قومی شاہراہ بند تھی کیا ان جوانوں کو ہوائی سفر سے پہنچانا بہتر ہوتا ؟پھر سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ سی آر پی ایف کے جوانوں کی آمد رفت کے بارے میں ان دہشتگردوں کو جانکاری کیسے ملی ؟یہ اطلاع کسی ذرائع سے تو ملی ہوگی کیا کوئی سیکورٹی ملازم سی آر پی ایف کے اندر یا مقامی پولس کے لوگ دہشتگردوں کے لئے جاسوسی کر رہے تھے ؟کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ آتنکی جہاں حملے کے لئے نیا طریقہ اپنا رہے ہیں وہیں سرکار کو بھی اب سخت قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے افسران کا یہ بھی کہنا ہے کہ سرجیکل اسٹرائک کا شور مچانے کا یہ نقصان ہوا ہے اور اب فوری ایکشن لینے میں دقت ہو سکتی ہے ۔ایک مقامی افسر کے مطابق سرجیکل اسٹرایک میں دہشگردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا مگر اب نئے آتنکی آگئے ہیں سرجیکل اسٹرائک کا اتنا شور مچا دیا گیا کہ اب کوئی سرپرائز نہیں بچا ہمارے لئے کسی بھی حکمت عملی کے لئے سرپرائز بے حد ضروری ہوتا ہے ۔اب سرپرائز نہ رہنے سے فوری ایکشن لینے میں سرکار کے لئے دقت آئے گی ۔اگر پچھلی بار زیادہ شور نہ ہوتا تو ہم پھر جا کر کچھ کر سکتے تھے ۔اب تو آتنکی بارڈر سے پیچھے ہٹ جائیں گے ۔مودی سرکار کے عہد میں آتنکی حملے بڑھے ہیں پچھلے پانچ برسوں میں یہ سترہواں بڑا حملہ ہے ۔شہید مندیپ اور شہید نریندر سنگھ سر کاٹ کر پاکستانی لے گئے لیکن مودی چپ رہے پانچ ہزار سے زائد مرتبہ جنگ بندی توڑی گئی لیکن سرکار پھر بھی چپ رہی ۔چار سو اڑتالیس جوان جموں و کشمیر میں آتنکی حملے میں شہید ہوئے لیکن ہم نے کوئی جوانی کارروائی ایسی نہیں کی جو پاکستان اور ان کے حمائتیوں کی جڑی کاٹ دیں ۔پورا دیش یہاں تک کہ تمام اپوزیشن پارٹیاں بھی آج مانگ کر رہی ہیں کہ سرکار کوئی ایسا قدم اُٹھائے جس سے آئے دن ہمارے جوانوں کی قربانی رکے پوری اپوزیشن کی تعریف کرنی ہوگی کہ اس مشکل گھڑی میں کسی نے سیاست نہیں کی راہل گاندھی کا بیان قابل تعریف ہے ہم تو چاہتے ہیں اس مرتبہ مسئلہ کو جڑ سے ختم کیا جائے ہمیں پاکستان میں گھس کر جیش محمد کے اور لشکر طیبہ کے سرغنہ مسعود اظہر اور حافظ سعیدکے خلاف کاررائی کی جائے میں مانتا ہوں یہ کام آسان نہیں ہوگا اس آپریشن میں ہمارے کئی جوان شہید ہو سکتے ہیں لیکن یہ تو اب بھی ہو رہا ہے کم سے کم دہشت کی جڑوں پر تو حملہ ہوگا ۔

(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...