Translater

Uttara Khand لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Uttara Khand لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

23 مارچ 2012

گڈکری کی ہٹّی پھل پھول رہی ہے، پارٹی جائے بھاڑ میں!



Published On 23 March 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے ادھیکش نتن گڈکری کے کام کرنے کے طور طریقوں سے زیادہ تر بھاجپا نیتا راضی نہیں ہیں۔ گڈکری کو آر ایس ایس کا نمائندہ مانا جاتا ہے۔ وہ سنگھ کے سمرتھن سے ہی بھاجپا ادھیکش بنے۔ گڈکری ایک تاجر ہیں جو بھاجپا کو اپنی نجی دکان کی طرح چلا رہے ہیں۔ تازہ بوال راجیہ سبھا کی ٹکٹوں کے بٹوارے کو لیکر ہے۔ راجیہ سبھا میں پارٹی کے صحیح امیدواروں کو درکنار کرنے اور مبینہ طور سے پیسے کے زور پر ٹکٹ دینے کے مدعے پر منگلوار کو بھاجپا ممبر پارلیمنٹ کی میٹنگ میں جم کر بوال ہوا۔ یشونت سنہا نے ایک تاجر انشومان مشرا کو سمرتھن دینے کو لیکر سیدھے پارٹی رہنمائی پر سوال اٹھادیا ہے۔ سنہا نے کہا کہ پارٹی ودھائکوں کو ہورس ٹریڈنگ کی منڈی میں نہیں چھوڑنا چاہئے۔ اس میں پارٹی کا انوشاسن بھنگ ہوتا ہے اور امیج خراب ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر جھارکھنڈ میں موجودہ راجیہ سبھا چناؤ میں پالیسی کو نہیں بدلا گیا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ زیادہ تر ممبر پارلیمنٹ ایم ایس اہلووالیہ کو دوبارہ جارکھنڈ سے ٹکٹ دینے پر ناراض تھے۔ بتاتے ہیں کہ اہلووالیہ پر سنگھ نے ویٹو لگادیا تھا۔میٹنگ میں ہماچل سے ممبر پارلیمنٹ شانتا کمار نے کہا کہ اہلووالیہ ایوان میں ایک اثردار نیتا ہیں اور انہیں ایک اور موقعہ ملنا ہی چاہئے تھا۔ نوادہ کے ممبر پارلیمنٹ بھولا سنگھ نے کہا کہ پارٹی کا ضمیر مر چکا ہے اور وہ پیسے کے سامنے جھک رہی ہے۔ بھاولا سے ممبر پارلیمنٹ مینکا گاندھی نے مرکزی رہنمائی سے کرناٹک کے سنکٹ کو ختم کرنے اور یدی یروپا کی مانگ پر دھیان دینے کی اپیل کی۔ اہلووالیہ کو راجیہ سبھا کا ٹکٹ نہ ملنے سے کانگریس اور مایاوتی کی مراد پوری ہوگئی ہے۔ اہلووالیہ یوپی اے سرکار کو تمام مدعوں پر سب سے زیادہ گھیرتے رہے ہیں جن کی وجہ سے سرکار کئی بار پریشانی میں پڑی ہے۔مایاوتی بھی چاہتی تھیں کہ اہلووالیہ کا راجیہ سبھا سے پتا صاف ہوجائے تاکہ ممبر پارلیمنٹ نہ رہنے پر ان کو (اہلووالیہ) اپنا سرکاری بنگلہ 10 گورودوارہ رقاب گنج خالی کرنا پڑے۔ گڈکری چاہتے تو اہلووالیہ کو بھیج سکتے تھے انہیں جیتنے کے لئے بس11 ووٹ کی کمی پڑ رہی تھی جسے وہ جنتا دل (یو) سے پورا کرسکتے تھے لیکن گڈکری اور سشیل نے مل کر وہ سیٹ جنتادل (یو ) کے لئے چھوڑدی ۔جس پر بہار جنتا دل (یو) ادھیکش وششٹھ سنگھ نے نامزدگی کردی جبکہ اہلووالیہ نے اس سیٹ پر گڈکری سے پہلے سے ہی بات کررکھی تھی۔ ممبر پارلیمنٹ کی میٹنگ میں سب سے نازک حالت اڈوانی جی کی تھی۔ پوری میٹنگ میں وہ ایک تماشائی بنے رہے۔
ممبر پارلیمنٹ کے بغاوتی تیور کا اثر فوراً دیکھنے کو ملا۔ کہا جارہا ہے کہ جھارکھنڈ میں جب پارٹی راجیہ سبھا چناؤ میں اپنے ودھائکوں کو کسی آزاد امیدوار کے ووٹ دینے کے لئے دباؤ نہیں دے گی بلکہ کوشش ہورہی ہے کہ بھاجپا ودھائک چناؤ کا ہی بائیکاٹ کریں۔ ادھیکش نتن گڈکری نے اترپردیش ودھان سبھا چناؤ میں ہٹلری اسٹائل سے چناؤ مہم چلائی۔ سب سے پہلے گڈکری نے سپا کے سمرتھن کے بل پر پارٹی کے قد آور نیتا اور گجرات کے مکھیہ منتری نریندر مودی کی مخالفت کے باوجود سنگھ کے پرچارک رہے سابق سنگٹھن منتری سنجے جوشی کو یوپی چناؤ پرچار کا انچارج بنا دیا۔ دوسرا گڈکری نے سبھی پارٹی نیتاؤں کی مخالفت کے باوجود بسپا سے نکالے ہوئے بابو سنگھ کشواہا اور بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں شامل کیا۔
پارٹی نے بندیلکھنڈ سے جتنے بھی تجربے کئے سوائے اوما بھارتی کے سب فیل ہوئے۔ مسلم بھتوں کے پولارائزیشنکو روکنے کیلئے اپنے سبھی فائر برانڈ نیتاؤں ورون گاندھی،یوگی ادتیہ ناتھ کو جہاں اپنے حلقے تک محدود کردیا وہیں دوسری طرف ہندووادی چہرہ مانے جانے والے نریندر مودی کو دعوت نامہ بھیجا لیکن جب ان کی ناراضگی ظاہر ہوئی تو انہیں منانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔پارٹی کی سبھی کوششوں کے بعد بھی پارٹی مسلم بھتوں کا پولارائزیشنتو نہ روک سکی بلکہ اپنی اس کوشش میں اس نے اپنے روایتی ووٹ بھی گنوا دئے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پارٹی 2007ء کا بھی مظاہرہ نہ دوہرا سکی۔ چاہے معاملہ اتراکھنڈ کا رہا ہو یا پنجاب کا دونوں ہی راجوں میں بھاجپا کی حالت خراب ہوئی ۔ گڈکری جب سے ادھیکش بنے ہیں بھاجپا کا گراف گرتا ہی جارہا ہے لیکن اس میں نتن گڈکری کو کوئی فرق نہیں پڑتا وہ تو پارٹی کو بطور ہٹّی (دکان) چلا رہے ہیں۔جس کا واحد مقصد ہے پیسہ بنانا اور یہ کام وہ بخوبی کررہے ہیں۔ گڈکری کی ہٹّی تو پھل پھول رہی ہے ،پارٹی جائے بھاڑ میں۔
Anil Narendra, Babu Singh Kushwaha, BJP, Daily Pratap, Jharkhand, Narender Modi, Nitin Gadkari, RSS, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Varun Gandhi, Vir Arjun

15 مارچ 2012

وجے بہوگنا نے وزیر اعلی کے عہدے کا حلف تو لے لیا لیکن آگے کیا ہوگا؟



Published On 15 March 2012
انل نریندر
کافی جدوجہد کے بعد منگل کے روز ممبر پارلیمنٹ وجے بہوگنا نے دہرہ دون میں بطور اتراکھنڈ کے وزیر اعلی حلف لے لیا۔ دہرہ دون کے پریڈ گراؤنڈ میں جب بہوگنا وزیر اعلی کا حلف لے رہے تھے تو وہاں کانگریس کے محض15 ممبران اسمبلی موجود تھے۔ وزیر اعلی نہ بنائے جانے پر اتراکھنڈ کانگریس میں بغاوت ہوگئی ہے۔ اترپردیش کے طاقتور لیڈر ہریش راوت سخت ناراض ہیں ۔ انہوں نے پارلیمنٹ سے اپنا استعفیٰ دے دیا ہے۔ الموڑہ سے چنے گئے ایم پی اور ہریش راوت حمایتی پردیپ ٹمٹا نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ وجے بہوگنا انہیں قطعی قبول نہیں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا کہ بھلے ہی بہوگنا وزیر اعلی بن گئے ہیں لیکن اسمبلی کا منہ نہیں دیکھ پائیں گے۔ اسی وجہ سے بہوگنا نے اکیلے حلف لیا اور کسی اور وزیر کو حلف نہیں دلایا جاسکا۔ کہا تو یہ جارہا ہے کہ ہریش راوت نے پیر کی رات استعفیٰ دینے سے پہلے بی جے پی صدر نتن گڈکری سے ملاقات کی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ انہوں نے بھاجپا سے کہا کہ وہ ان کے ساتھ آسکتے ہیں بشرطیکہ بھاجپا ان کو وزیر اعلی بنائے۔بھاجپا اس حکومت کو باہر سے حمایت دے سکتی ہے۔ غور طلب ہے کہ اپنی دعویداری کمزور پڑنے کے بعد ہرک سنگھ راوت نے بھی ہریش راوت کو حمایت دے دی تھی۔ ہرک سنگھ راوت نے بغاوتی انداز میں کھلے عام کہا کہ اتراکھنڈ میں جو کچھ ہورہا ہے وہ غلط ہے۔ ایسے حالات میں سرکار بن بھی جاتی ہے تو زیادہ دن نہیں چلے گی۔ وزیر اعلی نہ بنائے جانے سے ناراض ہریش راوت نے صبح سے ہی پارلیمانی وزیر مملکت کے عہدے سے اپنا استعفیٰ وزیر اعظم کو بھیج دیا تھا۔انہوں نے کانگریس صدر کو بھی خط بھیجا ہے خط میں انہوں نے کہا کہ ان کے حمایتیوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے۔ اس سے پہلے 2002ء میں بھی راوت وزیر اعلی کے طاقتور دعویدار تھے لیکن عین وقت پر اعلی کمان نے نارائن دت تیواری کو وزیر اعلی بنا دیا تھا۔ کانگریس اعلی کمان کو شاید یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ وزیر اعلی کے انتخاب پر پارٹی کے ممبران اسمبلی بغاوت کرسکتے ہیں۔ اسی لئے بغیر وزیر اعلی بنے ہی ممبران کی اکثریت کا دعوی گورنر کے سامنے پیش کردیا۔ اکثریت تو ثابت کردی تھی گورنر نے تب کہا کہ آپ کے پاس نمبر تو ہے آپ پہلے نیتا چنے جائیں، ویسے شری وجے بہوگنا پڑھے لکھے قابل شخص لگتے ہیں۔ 65 سالہ وجے سابق یوپی کے وزیر اعلی ہیموتی نندن بہوگنا کے بیٹے ہیں اور یوپی کانگریس نیتا ریتا بہوگنا کے بھائی ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں بہوگنا خاندان کی اچھی پکڑ ہے۔ وجے ایک سابق ہائی کورٹ جج ہے اور ان کی ساکھ صاف ستھری ہے۔ ان کا انتخاب اس لئے بھی ہوا ان سے پہلے بھاجپا کے وزیر اعلی بھون چندر کھنڈوی کی ساکھ بھی صاف ستھری تھی۔ کانگریس چاہتی تھی کہ صاف ستھری ساکھ والا ہے شخص کھنڈوری کا جانشین بنے۔ گولف کے شوقین بہوگنا نے 2007ء میں بھاجپا کی آندھی کے وقت بھی اپنی پارلیمنٹ کی سیٹ نکال لی تھی۔ اس اسمبلی چناؤ میں بھی وجے کانگریس چناؤ کمیٹی کے چیئرمین تھے۔ انہوں نے کافی محنت کی تھی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہریش راوت اینڈ کمپنی کو اعلی کمان منا پائے گا؟ منا بھی لیا تو یہ حکومت کتنے دن چلے گی اور مضبوط رہے گی؟ ابھی تو وزرا کے انتخاب اور محکموں کے انتخاب پر خانہ جنگی شروع ہوگی۔
بھاجپا کو تو اپوزیشن میں ہی بیٹھنا چاہئے۔ جن آدیش تو آخر ان کے خلاف ہی تھی ۔جوڑ توڑ کر سرکار بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔اکثریت سے چار سیٹیں کم لاکر اتراکھنڈ میں کسی طرح سرکار بنانے کی پوزیشن میں پہنچی کانگریس کے ہریش راوت کی ناراضگی اچھا اشارہ نہیں ہے۔ بھلے ہی پارٹی راوت کو منا لے یا فی الحال ان کی ناراضگی کو دبا دے لیکن ان کے مینڈیڈ کو نظرانداز کرنا کانگریس کا قدم دوراندیشی نہیں مانا جاسکتا۔ ویسے بھی جب نمبروں کا کھیل صحیح نہ ہو تو کانگریس کو اپنا سب سے مضبوط گھوڑا آگے کرنا چاہئے تھا۔ راوت صرف وزیر اعلی کے عہدے کے دعویدار نہیں تھے بلکہ سب سے زیادہ ممبران اسمبلی بھی ان کے ہی ساتھ ہیں۔ ان کی تعداد کا اندازہ 17 سے20 لگایا جاسکتا ہے۔ معاملے کے پیش نظر پورے حالات ریاست کی کانگریس حکومت کے استحکام کو لیکر سوال کھڑا کرنے والے ہیں۔اسے دیکھتے ہی ریاست میں اپنی ہار قبول کرچکی بھاجپا کو سنجیونی مل گئی ہے۔ بھاجپا نیتا اب یہ غور کرنے لگے ہیں کہ آخر کار اتراکھنڈ میں بھاجپا کی ہی سرکار بنے گی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Harish Rawat, Uttara Khand, Vijay Bahuguna, Vir Arjun

10 مارچ 2012

بھاجپا کیلئے نتیجے زیادہ غم خوشی کم لیکر آئے ہیں



Published On 10 March 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ تھوڑی خوشی اور زیادہ غم لیکر آئے ہیں۔ خوشی کی وجہ یہ ہے گووا کا نتیجہ۔ گووا میں بھاجپا اور مہاراشٹر وادی گومنتک پارٹی کو واضح اکثریت مل گئی ہے۔ بھاجپا میں پہلی بار خوبصورت ساحلوں والی اس ریاست میں 21 سیٹیں جیت کر اکیلے اپنے دم خم پر اکثریت حاصل کی ہے۔ گووا میں بھاجپا کی اس کامیابی کے لئے اصل ہیرو سابق وزیر اعلی پاٹیکر ہیں۔چناوی کمان انہیں کے ہاتھوں میں تھی۔ گووا میں میری رائے میں ایک بہت بڑا کارنامہ بھاجپا کا یہ ہے کہ اس نے اقلیتوں کی حمایت سے اقتدار حاصل کیا ہے۔ گووا کے عیسائیوں نے یہ ثابت کردیا ہے بھاجپا ان کے لئے اچھوت نہیں ہے۔ جنوبی گووا کی 17 میں سے8 سیٹیں پارٹی ان حلقوں میں جیتی ہے جہاں عیسائیوں کی اکثریت ہے۔ بھاجپا نے خود 6 عیسائی امیدوار کھڑے کئے تھے اور 2 آزاد کی حمایت کی تھی۔ سبھی آٹھوں امیدواروں جیتے ۔ پارٹی کو سب سے بڑا جھٹکا اترپردیش میں لگا ہے۔ ریاست میں چناؤ نتائج بھاجپا کو 2014 ء میں مرکز تک این ڈی اے سرکار بنانے کی امیدوں پر بڑا جھٹکا ثابت ہوئے ہیں۔ بھاجپا اترپردیش کے اسمبلی چناؤ میں بوئے گئے بیج سے مرکز میں 2014 کے لوک سبھا چناؤ میں کامیابی حاصل کرنے کا اندازہ لگا رہی تھی لیکن نتیجے آئے اس سے مایوس کن اور پریشانی ہی ہاتھ لگی۔ اترپردیش پھر ایک بار تاملناڈو کی راہ پر چلا گیا ہے جہاں قومی پارٹی کا کردار بے جواز ہوکر رہ گیا ہے۔ بھاجپا اور آر ایس ایس کی چناوی لیباریٹری بنے یوپی انتخابات میں جہاں ایک ایک کرکے سبھی تجربوں کو دھکا لگا ہے وہیں پارٹی کے کئی لیڈروں کو دھول چٹانے میں بھی کوئی کثر نہیں چھوڑی۔ ناراض ووٹروں کو منانے کا ذمہ آر ایس ایس اور صدر نتن گڈکری نے مل کر اٹھایا تھا۔ سب سے پہلے گڈکری نے سنگھ کی حمایت کی بدولت پارٹی کے بڑے لیڈر اور گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کی مخالفت کے باوجود سنگھ کے پرچارک رہے سابق تنظیمی سکریٹری سنجے جوشی کو یوپی کے چناؤ میں سرگرم کیا۔ دوسرا نتن گڈکری نے سبھی پارٹی نیتاؤں کی مخالفت کے باوجود بسپا سے نکالے گئے بابو سنگھ کشواہا اور بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں شامل کیا۔ بڑھتی ناراضگی کے چلتے کشواہا کی ممبر شپ تو معطل کردی گئی لیکن کرپشن کے دوسرے ملزم بادشاہ سنگھ کو پارٹی میں بنائے رکھا بلکہ ان کو مہوبہ سے چناؤ میدان میں اتاردیا۔ پارٹی نے بندیلکھنڈ کو لیکر جتنے بھی تجربے کئے سوائے اس میں ایک اما بھارتی کے علاوہ کوئی نہیں جیت سکا۔ مسلم ووٹروں کے پولارائزیشن کو روکنے کے لئے اپنے سبھی فائر بینڈ لیڈروں ورون گاندھی، یوگی ادتیہ ناتھ کو جہاں اپنے حلقے تک محدود کردیا وہیں دوسری طرف ہندو وادی چہرہ مانے جانے والے نریندر مودی کو دعوت تو بھیجی لیکن جب ان کی ناراضگی ظاہر ہوئی تو انہیں منانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ پارٹی کی سبھی کوششوں کے بعد بھی پارٹی مسلم ووٹوں کو بٹوانے میں کامیاب نہ ہوسکی بلکہ وہ اپنی اس کوشش میں اپنے روایتی ووٹ بھی گنوا بیٹھی جس کے چلتے پارٹی کو 2007ء کی کارکردگی کو دوہرانا تو دور رہا بلکہ اس سے بھی کم ہوگئی۔ ایودھیا میں 6 دسمبر1992ء کے متنازعہ ڈھانچہ گرنے کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب بھارتیہ جنتا پارٹی کا امیدوار للوسنگھ سپا کے تیج نارائن پانڈے عرف پون پانڈے سے ہار گیا۔ للو سنگھ 1991ء سے مسلسل یہ سیٹ جیت رہے تھے۔ اترپردیش کے لئے امیدوارں کا چناؤ بھی آر ایس ایس گڈکری اور سنجے جوشی نے کیا تھا۔ انہوں نے ایسے پھسڈی امیدوار کھڑے کئے جنہوں نے نہ صرف پارٹی کی بھد پٹوائی بلکہ مقابلے میں نہ رہ کرچوتھے میدان پر رہے۔ اور بہت سے امیدواروں نے اپنی ضمانت تک گنوا دی۔ 122 ایسے امیدوار ہیں جو چار مقابلوں کی لڑائی میں جگہ تک نہیں بنا سکے۔ بھاجپا پردھان نتن گڈکری نے یوپی کے اندر تبدیلی کے لئے لمبی تیاری کی تھی۔ پارٹی کے اندر پرانا روایتی رویہ رکھنے والے امیدواروں کی بجائے نئی نسل کے امیدواروں کو لانے کا تجربہ کیا گیا۔ یہ ہی نہیں گڈکری اینڈ کمپنی نے الگ سروے کرایا جس سے کہ اول امیدوار کا انتخاب ہوسکے۔ چناؤ کے بعد جو حالت بنی ہے اس میں بھاجپا کے چوتھے مقام پر قریب 122 امیدوار رہے جن میں سے زیادہ تر اپنی ضمانت بچانے کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔ کئی امیدوار تو ایسے تھے جن کو پانچ ہزار ووٹ لانے کے لالے پڑ گئے۔ اترپردیش میں بھاجپا حاشئے پر چلی گئی اور اس کے لئے ذمہ دار ہیں آر ایس ایس، نتن گڈکری اور سنجیو جوشی جیسے بڑے نیتا۔
Anil Narendra, BJP, Daily Pratap, Elections, Goa, Nitin Gadkari, Punjab, RSS, Sanjay Joshi, State Elections, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Vir Arjun

نہرو گاندھی خاندان کا ہوائی کرشمہ ہوا ہوا ہوائی



Published On 10 March 2012
انل نریندر
پانچ ریاستوں کے چناؤ نتائج جہاں کانگریس کے لئے مایوس کن ہیں وہیں اترپردیش کے یہ چناؤ نہرو خاندان کے لئے شخصی طور پر بہت بڑا جھٹکا ہیں۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی سے جب ان کا رد عمل جانا گیا تو انہوں نے میڈیا سے کہا کہ اترپردیش میں امیدواروں کا انتخاب غلط اورکمزور تنظیم ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے ہم رائے بریلی اور امیٹھی میں پہلے بھی ہارے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ادھر ان کے صاحبزادے راہل گاندھی نے ہار کی ساری ذمہ داری لے لی ہے۔ اگر یہ ہار عام نہیں ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ جائزہ لینے کی ضرورت کیا ہے؟ ویسے بھی راہل نے ذمہ داری لے لی ہے تو معاملہ ختم ہی ہوگیا ہے ۔ لیکن جس بات کا سونیا نے جواب نہیں دیا کیا یہ ہار نہرو گاندھی خاندان پر سیدھی آنچ نہیں لاتی؟ کانگریس نے موجودہ اور مستقبل کیلئے اترپردیش میں اپناسب کچھ داؤ پر لگادیا۔ راہل نے پوری ریاست کی مہم اپنے کندھوں پر لے رکھی تھی تو امیٹھی ، رائے بریلی کا گھریلو قلعہ بچانے کے لئے پورا پرینکا گاندھی خاندان (بچے بھی شامل تھے) میدان میں اتر گئے۔ اترپردیش کی عوام نے نہرو، گاندھی ،واڈرا خاندان کو سرے سے مسترد کردیا۔ راہل گاندھی کی حتی الامکان کوششوں کے باوجود اترپردیش میں کانگریس 2007 کی حالت میں ہی پہنچ گئی ہے۔ وہیں پرینکا نے جن علاقوں میں اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ چناؤ مہم کی کمان سنبھالی وہاں تو کانگریس کے لئے عزت بچانا مشکل ہوگئی ہے۔ راہل گاندھی نے 200 سے زیادہ ریلیاں کیں۔ سونیا گاندھی نے بھی ریلیاں کیں۔2007 کے اسمبلی چناؤ میں 22 سیٹوں کے مقابلے پارٹی کو پہلے سے بھی زیادہ سیٹیں ملی ہیں لیکن اگر سال2009 ء کے لوک سبھا چناؤ کو دیکھیں تو یہ کانگریس اور خود راہل گاندھی کو پریشان کرنے کے لئے نتائج کافی ہوں گے۔ راہل لہر کا اثر نہ ہونا کانگریس کے لئے ایک اچھا اشارہ نہیں ہے۔ ایسے میں جبکہ ان پانچ ریاستوں کے چناؤ کو سال2014ء کے اقتدار کے تاج کا سیمی فائنل مانا جارہا تھا تو منی پور کو چھوڑ کر دیگر جگہ پارٹی کو جھٹکا لگنا اس بات کا اشارہ ہے کہ مرکز کی یوپی اے سرکار خاص کر کانگریس کو لیکر لوگوں میں بہت زیادہ جذبہ نہیں تھا۔ گاندھی خاندان کے لئے یہ بھی ایک جھٹکا ہے کہ چناؤ کی بات کرنے والے راہل گاندھی پر سپا کے یوا لیڈر اکھلیش یادو بھاری پڑے۔ دیکھا جائے تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ فی الحال تو نہرو گاندھی خاندان پر ملائم یادوخاندان بھاری پڑ گیا۔کانگریس کے لئے تشویش کی بات صرف نوجوان ہی نہیں ہوگی بلکہ جن مسلم ووٹروں کو اپنے پالے میں لانے کے لئے کانگریسی لیڈروں نے دن رات ایک کیا اس میں بڑی تعداد میں کانگریس کی جگہ سپا کو چنا۔ بہار کے بعد اترپردیش میں راہل گاندھی کی کرشمائی ساکھ کو جھٹکا لگنا پارٹی کے اندر تشویش کا موضوع بن گیا تھا۔ اب اترپردیش کے نتائج نے تو اس پر ایک طرح سے مہر لگادی کہ نہرو گاندھی خاندان کا جادو اب ختم ہوگیا ہے۔ راہل نے بڑی دھوم دھام سے اجیت سنگھ کی راشٹریہ لوکدل سے اتحاد کیا تھا اور اس اتحاد سے الٹے پارٹی کو ہی نقصان پہنچا ہے۔ پارٹی کے لئے نہرو گاندھی خاندان کے گڑھ مانے جانے والے امیٹھی رائے بریلی میں کانگریس کی کارکردگی کو اس لحاظ سے بھی بڑا جھٹکا ہے کہ پچھلے انتخابات میں جب مایاوتی کی آندھی چلی تھی تب بھی اس حلقے سے پارٹی نے 7 سیٹیں جیت لی تھیں لیکن اس بار کانگریس صدر سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے رائے بریلی کی پانچوں اسمبلی سیٹیں چھن گئی ہیں اور راہل گاندھی کے پارلیمانی حلقے میں محض 2 سیٹیں ہی جیتنا اور سلطانپور ضلع میں پارٹی کا صفایا ہونا نہرو گاندھی خاندان کی شخصی ہار ہے۔ راہل گاندھی نے یہاں دن رات ایک کردیا تھا۔ انہوں نے اترپردیش میں مسلسل 48 دن ڈیرا ڈال کر 211 ریلیاں،18 بڑے روڈ شو کئے۔ اس شرمناک نتیجے کی بے شک راہل گاندھی نے ذمہ داری لے لی ہو لیکن کانگریس کے دوسرے لیڈر اسے گاندھی خاندان کی ہار ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ بڑ بولے جنرل سکریٹری دگوجے سنگھ نے ان نتیجوں پر خوشی ظاہر کی ہے اور کہا کہ کرپٹ بسپا کی ہار ہوئی ہے۔ یہ بات الگ ہے کہ چناؤ کے دوران کانگریس کے خاص نشانے پر بسپا سے زیادہ سپا تھی۔ جس الہ آباد کے پاس پھولپور سے پنڈت جواہر لعل نہرو ، رائے بریلی سے اندرا گاندھی، امیٹھی سے سنجے گاندھی اور راجیو گاندھی لوک سبھا چن کر پہنچتے رہے وہاں سے بھی پارٹی ناکام رہی ہے۔ لگتا ہے پارٹی کی ہلتی نیا کی بھنک پارٹی کے منیجروں کو پہلے ہی لگ گئی تھی اس لئے یہاں پر پرینکا گاندھی کو اتارا لیکن سونیا گاندھی کے پارلیمانی حلقے میں پارٹی کا کھاتہ تک نہیں کھل پایا۔ ریاست کی عوام نے گاندھی خاندان کے ہوائی کرشمے کو جس طرح سے مسترد کیا ہے اس کے مرکز تک میں خاصے اثرات مرتب ہوں گے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Goa, Priyanka Gandhi Vadra, Punjab, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, State Elections, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Vir Arjun

07 فروری 2012

پنجاب۔ اتراکھنڈ میں37 دنوں کیلئے حکومت و انتظامیہ ٹھپ



Published On 7th February 2012
انل نریندر
بھارت کے چناؤ کمیشن نے اپنے فیصلے سے پنجاب اور اتراکھنڈ ریاستوں کے انتظامیہ کو ایک مہینے سے زیادہ وقت کے لئے پنگو بنادیا ہے۔ حالانکہ دونوں ریاستوں میں پولنگ ہوچکی ہے لیکن چناؤ ضابطہ ابھی بھی لاگو ہے۔ یہ چناؤ ضابطہ 37 دن کے لئے یعنی 6 مارچ تک چالو رہے گاجس دن ووٹوں کی گنتی ہوگی۔ ایک پنجاب کے افسرکا تبصرہ تھا کہ ہم تو اپنا سارا وقت ٹی وی دیکھ کر گذار رہے ہیں، کام تو کوئی ہے ہی نہیں۔ پنجاب، اتراکھنڈ و منی پور تینوں ریاستوں میں چناؤ ہوچکے ہیں اور کسی کو صحیح سے معلوم نہیں کہ ریاست کا مالک کون ہے؟ وزیر اعلی،گورنر اور چیف الیکٹرول آفیسر یا چیف الیکشن کمیشن دہلی کون ہے، جس کے احکامات پر ریاست کا انتظام چلے؟ بدقسمتی یہ ہے کہ اس حالت کو پیدا ہونے سے بچایا جاسکتا اگر چناؤ کمیشن تھوڑی سی توجہ دیتا۔اگر پنجاب اتراکھنڈ میں چناؤ 3 مارچ کو ہوتے اور نتیجہ6 مارچ کو آتا تو اس بے یقینی کی صورتحال سے بچا جاسکتا تھا۔ سوال یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ ایسی کونسی مجبوری تھی جس کی وجہ سے ریاستوں کے انتظامیہ کو پوری طرح ٹھپ کردیا گیا۔ چناؤ کمیشن بیشک یہ دلیل دے کہ ہم وہاں جلد ہی چناؤ کروانا چاہتے تھے کیونکہ چناؤ کی تاریخوں کو بہت سی باتوں کو دیکھ کر ہی طے کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سیاسی پارٹیوں کی رائے ،دوسرے ریاستوں میں چناؤ کے انتظامات کو دیکھنا، موسم و اسکول امتحانات و چھٹیاں،تہوار وغیرہ وغیرہ؟ اکالی دل کے ایک لیڈر کا کہنا ہے کہ ہم تھوڑا حیران ضرور ہوئے ہیں جب 30 جنوری کو پولنگ کی تاریخ کا اعلان ہوا۔ کیونکہ ہم امید کررہے تھے کہ چناؤ 10 سے15 فروری کے درمیا ن ہوں گے کیونکہ پچھلے اسمبلی چناؤ 2002 اور 2007 میں13 فروری کو ہوئے تھے۔
اتراکھنڈ کی چناوی تاریخ میں یہ پہلی بار تھا جب چناؤ ایسے وقت ہوئے جب ریاست میں کڑاکے کی سردی تھی۔ پہاڑی علاقوں میں برف پڑی ہوئی تھی۔ ریاست بننے کے بعد 2002 اور 2007 میں دو بار اسمبلی انتخابات ہوئے۔ 2002 ء میں چناؤ14 فروری کو ہوئے تھے اور نتیجہ24 فروری کو اعلان کردیا گیا۔ اسی طرح2007ء میں چناؤ21 فروری کو ہوئے تھے اور چھ دن بعد نتیجہ 27 فروری کو اعلان ہوا تھا۔ چناؤ کمیشن کے حکام نے کہا کہ ابھی تک وزیر اعلی نے چناؤ ضابطے کو نرم کرنے کی کوئی خواہش نہیں ظاہر کی ہے۔ بیشک وزیر اعلی ابھی بھی نگراں وزیر اعلی ہیں لیکن وہ کسی بھی افسر کا ٹرانسفر نہیں کرسکتے اور نہ ہی صحیح معنوں میں جواب طلبی کرسکتا ہے۔ افسر شاہی اس لئے بھی وزیر اعلی کو سنجیدگی سے نہیں لیتی کیونکہ وہ کہتے ہیں پتہ نہیں یہ دوبارہ اقتدار میں آئیں بھی یا نہیں؟ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی بھون چند کھنڈوری نے چناؤ کمیشن کے ذریعے طے کردہ چناؤخوف پر اعتراض کیا تھالیکن چناؤ کمیشن نے اسی نظرانداز کردیا۔ ایسی صورت سے بچایا جاسکتا تھا اگر ان دونوں ریاستوں میں چناؤ نتائج آنے سے کچھ دن پہلے ہوتے۔اس لئے سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے حساب سے چناؤ کمیشن کے اس فیصلے کا مطلب نکال رہی ہیں۔ اکالی بھاجپا کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمیشنر نے کانگریس کو خوش کرنے کے لئے یہ کہہ دیا تاکہ پارٹی ان کے ریٹائرمنٹ کے بعد کہیں نہ کہیں ایڈجسٹ کردے۔
Akali Dal, Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Election Commission, Punjab, State Elections, Uttara Khand, Vir Arjun

03 فروری 2012

بھاری پولنگ ووٹروں میں بیداری کی علامت ہے


Published On 3rd February 2012
انل نریندر
پانچ ریاستوں کے لئے اسمبلی کی تشکیل کاعمل شروع ہوچکاہے۔ پنجاب، اتراکھنڈ، منی پور میں پولنگ ختم ہوچکی ہے۔تینوں ریاستوں میں پولنگ سے جہاں ہماری جمہوری نظام کو مضبوطی ملتی ہے وہی چناؤ کمیشن کو اس کااطمینان ہوگا کہ ان ریاستوں میں برائے نام تشدد کے نہ صرف چناؤ مکمل ہوئے بلکہ ان میں بھاری پولنگ بھی ہوئی۔ منی پور پولنگ کافیصدہمیشہ39 فیصد رہا یہی 80 فیصدی ووٹ پڑنا غیر معمولی بھلے نہ ہو بلکہ توجہ دینے کی بات ہے کہ کچھ انتہا پسند تنظیموں کی سرگرمی بے اثر رہی۔ جنتا نے بلٹ کے بجائے بیلٹ کوترجیح دی۔ پنجاب اور اتراکھنڈ دونوں میں پولنگ فیصد 77 اور 70 رہا۔ اب ا میدیہی ہے کہ اترپردیش میں یہی ٹرینڈ جاری رہے گا۔ اتراکھنڈ میں 2007میں 63.72 فیصد ووٹ پڑا تھا۔ عام طور پر ماناجاتا ہے کہ بھاری پولنگ کامطلب اقتدار مخالف لہر یہ بھی کہاجاتا ہے کہ وہاں کی جنتا نے تبدیلی اقتدار کے نام پر زیادہ تعداد میں ووٹ دیئے لیکن ہمارا خیال ہے کہ بھاری پولنگ ہونے سے کوئی اندازہ لگانا ٹھیک نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ حکمراں پارٹی اپنے ووٹ ڈالوا لیتی ہے پنجاب میں اس بار 70فیصدی سے زیادہ پولنگ ہوئی ہے۔ کئی سیٹوں پر تو یہ 85 فیصد تک پہنچ گئی۔ وزیراعظم اعلی پرکاش سنگھ بادل کے حلقہ لمبی میں 85فیصد جب کہ مالیرکوٹلہ میں 88 فیصد پولنگ ہوئی۔ اتنی پولنگ کاکوئی مطلب نکالنا پنجاب میں بے حد مشکل سودا ہے۔ پچھلے چار اسمبلی چناؤ کے اعداد وشمار دیکھیں تو یہ کہنا مشکل ہے کہ کس پارٹی کی سرکار مارچ میں بنے گی۔ 2007 میں گزشتہ اسمبلی چناؤ کے دوران صوبے میں 75.45 فیصدی پولنگ ہوئی تھی۔ اکالی بھاجپا محاذ اقتدار میں آیا تھا اس وقت 117 ممبری پنجاب اسمبلی میں اکالی دل کو49 اور اس کی اتحادی بھاجپا کو 19 سیٹیں ملی تھی۔ کانگریس کوتب44 سیٹوں پر ہی اکتفا کرنا پڑاتھا۔ تینوں ریاستوں میں بھاری پولنگ سے صاف ہے کہ ووٹ کی طاقت نوٹ سے زیادہ ہے۔ اس میں بھاری پولنگ کاایک مطلب یہ نکالا جاسکتا ہے کہ ووٹرو ں میں اپنے حق اورجمہوریت کے تئیں احساس بڑھا ہے وہ اپنے حق کااستعمال کرنے آگے آئے ہیں۔ عوامی مشینری کے پہیوں کو رفتار دینے میں ان کی ساجھے داری سے صحت مند جمہوریت کی بنیاد مضبوط کرے گی۔ ووٹ کی طاقت کیاہے یہ بتانے میں اناہزارے میڈیا اور اطلاعاتی مشینری کے دوسرے وسائل کا کردار کو درکنار نہیں کیا جاسکتا۔ اناہزارے کی مہم کم سے کم پولنگ کرنے میں ضرور اثر دکھارہی ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ جب ووٹ کامطلب نیتا تک محدود ہوا کرتا تھا۔ سیاسی پارٹی ووٹروں کو گھر سے اس کی جی حضوری کرتے ہوئے پولنگ مرکز تک گھوڑا گاڑی رکشا کا انتظام کیا کرتے تھے۔ اور ووٹ کی پرچی ہاتھ جوڑ کر اس کے گھر کے پہنچادیا کرتے تھے۔ دونوں ہاتھ جوڑ کرکہتے تھے کہ ہمارا خیال رکھنا۔ ہماری عزت آپ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن اب ووٹربیدار ہوگیا ہے ووٹر نے نیتا کی بانگی کو ٹول کر فیصلہ اپنے بل پرکرنے کی جو پہل کی ہے اس کا خیرمقدم ہے کل ملاکر پولنگ میں اس بار نئی اور عجوبہ ٹرینڈ دیکھنے کو ملے ہے۔ جو ہمارے دیش کی جمہوریت کے لئے اچھا اشارہ ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Manipur, Punjab, State Elections, Uttara Khand, Vir Arjun

29 جنوری 2012

اتراکھنڈ میں بھاجپا کا مستقبل بھون چندر کھنڈوری کی ساکھ پر ٹکا ہے



Published On 29th January 2012
انل نریندر
بھارتیہ جنتا پارٹی کو اتراکھنڈ میں چناؤ سے پہلے شری بھون چندر کھنڈوری کو رمیش پوکھریال نشنک کی جگہ وزیر اعلی بنانا ایک جوا ہے۔نشنک کرپشن کے الزامات لگنے کے بعد کافی بدنام ہوچکے تھے۔ کھنڈوری کی ہمیشہ سے صاف ستھری ساکھ رہی ہے اور انہوں نے ریاست کے لئے کام بھی کافی کئے لیکن ان کی مشکل یہ ہے کہ ایک سخت منتظم ہونے کے سبب وہ اپنے ممبران اسمبلی کی جائز ناجائز باتیں نہیں مانتے۔ اپنے اڑیل رویئے کی وجہ سے ہی انہیں ہٹانا پڑا تھا لیکن بھاجپا ہائی کمان کو لگا کہ نشنک نے تو لٹیا ڈوبادی۔ اس لئے مجبوراً دوبارہ کھنڈوری کولاکر جوا کھیلنا پڑا۔ بھاجپا کی ریاست میں دوبارہ برسراقتدار آنے کا خواب اب بھون چندر کھنڈوری کی ساکھ پر ہی ٹکا ہوا ہے۔ اتراکھنڈ ان بہت کم ریاستوں میں سے ہے جہاں لوک آیکت کی تقرری ہوئی ہے اور اس کی عام طور پر انا ہزارے نے اس کی کھلے طور پر سراہنا بھی کی ہے۔ جہاں تک کانگریس کا سوال ہے پارٹی میں اتحاد نہیں ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلی نارائن دت تیواری نے چناؤ کے عین پہلے خود کو وزیر اعلی کی دوڑ میں شامل کرلیا ہے۔ بدھ کو انہوں نے کہا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو وہ دو ایک برسوں تک وزیر اعلی کا عہدہ سنبھال سکتے ہیں۔ تیواری نینی تال ضلع کے رام نگر میں کانگریس امیدوار امریتا راوت کے حق میں چناؤ مہم کے لئے پہنچے تھے۔ امریتا راوت کانگریسی نیتا ستپال جی مہاراج کی بیوی ہیں۔ یہ پوچھنے پر کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو کیوں وہ وزیر اعلی بنیں گے؟اس پر انہوں نے اخبار نویسوں سے کہا کہ ایک یا دو سال میں وزیر اعلی کا عہدہ سنبھال سکتا ہوں۔دوسری جانب کانگریس امیدوار امریتا راوت کے شوہر اور ایم پی ستپال مہاراج نے کہا کہ تیواری پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں اور سبھی ان کا احترام کرتے ہیں۔ جہاں تک وزیر اعلی کے عہدے کا سوال ہے تو اسے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو طے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کانگریسیوں میں زبردست جوش ہے اور ان کے تجربے کی بنیاد پر پارٹی اسمبلی چناؤ میں کامیابی حاصل کرے گی۔ ویسے نئی حد بندی نے اتراکھنڈ کی چناوی تصویر بدل دی ہے۔ نئی حد بندی سے اس پہاڑی ریاست میں میدانی علاقے کا دبدبہ بڑھ گیا ہے اور پہاڑ کی سیٹیں کم ہوگئی ہیں۔ اس سے سیاسی پارٹیوں کی ہار جیت کا حساب کتاب گڑ بڑ ہوگیا ہے۔
یہ اندیشہ ظاہر کیا جانے لگا ہے کہ اس مرتبہ بھلے ہی پہاڑی علاقے سے وزیر اعلی بن جائے لیکن اگلے چناؤ میں یہ بات زور پکڑ سکتی ہے کہ میدان کا نیتا پہاڑی ریاست کا وزیراعلی بنے۔ خود وزیر اعلی بھون چندر کھنڈوری مانتے ہیں کہ نئی حد بندی پہاڑ کے مفاد میں نہیں ہے۔ نئی حد بندی کے بعد اتراکھنڈ میں 36 سیٹیں میدانی علاقے میں اور 34 سیٹیں پہاڑی علاقے میں آئی ہیں۔ اس سے پہلے تک 38 سیٹیں پہاڑ کے علاقے میں تھیں اور 32 سیٹیں میدانی علاقے میں۔ وزیر اعلی کھنڈوری پہاڑ سے چناؤ لڑتے آرہے ہیں لیکن اس بات وہ میدانی سیٹ کوٹ دوار سے چناؤ لڑ رہے ہیں۔ اسی طرح سابق وزیر اعلی رمیش پوکھریال نشنک ڈوئی والا سے چناؤ لڑ رہے ہیں۔ اتراکھنڈ ایک ایسی پہاڑی ریاست ہے جس کا آدھا حصہ میدانی ہے اور آدھا حصہ پہاڑی۔ اتراکھنڈ اسمبلی میں70 سیٹیں ہیں جس میں درجہ فہرست ذاتوں کے لئے 12 و شیڈول قبائل برادیوں کے لئے 3 سیٹیں ریزرو ہیں۔ حال ہی میں ایک سروے کے مطابق بھون چندر کھنڈوری کے وزیر اعلی بننے سے بھاجپا کا پلڑا بھاری ہے اور وہ پھر اقتدار میں آجائے گی جبکہ کانگریس بہت زیادہ مطمئن ہے کہ اگلی حکومت وہ ہی بنانے جارہی ہے۔
Anil Narendra, BC Khanduri, BJP, Congress, Daily Pratap, Nishank, Uttara Khand, Vir Arjun

21 جنوری 2012

۔راہل کے بعد اب پرینکا بھی میدان میں اتریں



Published On 21th January 2012
انل نریندر
کانگریس کے نوجوان سکریٹری جنرل اور یووراج راہل گاندھی نے اترپردیش اسمبلی چناؤ میں دن رات ایک کردیا ہے۔ اپنے مشن2012ء کو پورا کرنے کے لئے وہ کیا کچھ نہیں کررہے۔ راہل آج کل بندیلکھنڈ کے دورہ پر ہیں۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ان کی ریلیوں میں بھیڑ کم آرہی ہے۔ پروآنچل کے مقابلے بندیلکھنڈ میں بھیڑ کا کم ہونا کانگریس کے لئے تشویش کا سبب ہے۔ بھاری تعداد میں خالی پڑی کرسیوں کو دیکھ کر کانگریس اعلی کمان اس لئے بھی فکرمند ہے کیونکہ نہ صرف بھیڑ کم آرہی ہے بلکہ راہل کو کئی جگہ مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ پچھلے دنوں راہل مشرقی اترپردیش کے دورہ پر تھے۔ گورکھپور، اعظم گڑھ، مؤ اور بلیا میں اتنی بھیڑ اکھٹی نہیں ہوئی جتنی امید کی جارہی تھی۔ یوپی میں کانگریس کا سارا دارومدار سونیا گاندھی خاندان پر ٹکا ہوا ہے اس لئے تمام کانگریسی سینئر لیڈر اپنے خاندان کی ساکھ بچانے کے لئے گاندھی پریوار کے وقار کو آگے کرنے کی کوشش میں ہیں۔ بنیادی حقیقت کا حوالہ دیکر راہل گاندھی سے ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر بیان بازی کر چکے یہ لیڈر اب اسی اترپردیش کے چناؤ میں اپنا حکم کا اکا چلانے کیلئے میدان تیار کرنے میں لگ گئے ہیں۔ یہ حکم کا اکا ہے پرینکا گاندھی ودیڑا کی امیٹھی ، رائے بریلی سے باہر بھی ہر حال میں ریلی کرانے کے لئے سبھی بڑے نیتا اور مرکزی وزراء نے پوری طاقت جھونک دی ہے۔ دراصل اترپردیش کے سبھی کانگریسی لیڈر یہ مان رہے ہیں کہ ایک دو فیصدی ووٹ بھی اگر کانگریس کے حق میں چلے جائیں تو نتیجے پوری طرح بدل سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ ووٹوں کا اتنا فیصد پلٹنے میں پرینکا پوری طرح اہل ہیں۔ پرینکا گاندھی ودیڑا کی سب سے بڑی کشش ان کی شخصیت مرحومہ اندرا گاندھی جیسی ہونا ہے۔ چناؤ مہم کے دوران جب وہ بات کرتے ہوئے مسکراتی ہیں تو پاس کھڑی عورتیں کہتی ہیں کہ بٹیا ایسے ہی مسکراتی رہنا۔ مسکان تم پر اچھی لگتی ہے۔ یہ مسکراہٹ ہی پرینکا کو اپنی دادی اندرا کی سب سے قریبی جھلک دکھاتی ہے۔ لوگ ان میں بہت کچھ اندرا گاندھی جیسا پاتے ہیں۔ چہرے کی بناوٹ ، ویسی ہی ناک اور پاور ڈریسنگ کا اسٹائل اندرا جی کے پرانے دنوں کی یاد دلاتا ہے۔ اگر کچھ الگ ہے تو وہ اس مسکراہٹ میں گال پر پڑنے والا ڈمپل ہے۔ بالی ووڈ کے بڑے ستارے جان ابراہم پرینکا کو دیش کی سب سے خوبصورت خاتون بتاتے ہیں۔ پارٹی چناؤ میں جب پرینکا اترتی ہیں تو سب سے پہلے اپنی دادی کو یاد کراتی ہیں۔ اندرا کی طرح ہی وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل جاتی ہیں۔ جب وہ کسی ریلی میں آرہی ہوتی ہیں تو وہاں بیٹھی جنتا کہتی ہے دیکھو اندرا جی آرہی ہیں۔ پرینکا نے پتہ نہیں انجانے میں یا سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت اپنے بالوں کا اسٹائل بھی دادی اندرا کی طرح اپنایا ہوا ہے۔ راہل اور پرینکا دونوں کو دیکھنے بھیڑ آتی ہے لیکن سوال یہ ہے کیا جو لوگ ریلی میںآتے ہیں وہ کانگریس کے ووٹر ہیں؟ راہل کی کوششوں سے یوپی میں کانگریس کی حالت پہلے سے اچھی ہوئی ہے۔ اب پرینکا کے آنے سے یہ اور اچھی ہونے کی کئی کانگریسی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ کانگریس نے اپنی پوری طاقت چناؤ میں جھونک دی ہے۔ سونیا گاندھی ۔ راہل اور اب پرینکا دیکھیں ان کا ووٹروں پر کیا اثر پڑتا ہے۔
Anil Narendra, Congress, Priyanka Gandhi Vadra, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, Uttar Pradesh, Uttara Khand

19 جنوری 2012

یوپی میں ہوگا سوشل انجینئرنگ کا اصلی امتحان

اترپردیش چناؤ میں ہرسیاسی پارٹی کی خودساختہ سوشل انجینئرنگ کا امتحان ہونے والا ہے۔ بسپا چیف مایاوتی نے اسمبلی چناؤ کے لئے پارٹی کے 403 امیدواروں کی فہرست جاری کرتے ہوئے گنانا شروع کیا۔درجہ فہرست ذاتوں88، اوبی سی113، برہمن 74،33 ٹھاکر وغیرہ اور 85 مسلمان وغیرہ غیرہ۔ بسپا کی جانب سے اپنی فہرست میں ذات پات کی تفصیل دینا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ نئی بات یہ رہی کہ بہن جی کی پریس کانفرنس کے کچھ گھنٹوں بعد ہی بھاجپا کی پریس کانفرنس میں پارٹی کے قومی نائب صدر مختار عباس نقوی نے بھی تفصیلات پیش کیں کے اب تک جاری بھاجپا کی فہرست میں کتنی پسماندہ ذاتوں اور درجہ فہرست ذاتوں کی حصے داری کی گئی ہے۔ یہ بانگی اس لئے کہ اترپردیش اسمبلی کا یہ چناؤ ہر پارٹی اپنی سوشل انجینئرنگ اور کافی حد تک منڈل واد سے حوصلہ افزا اقدامات کو آزمانے کے امتحان میدان میں بھی ثابت ہونے جارہے ہیں۔کانگریس پر غور فرمائیے۔ راہل گاندھی کی کمان والے دور میں پارٹی نے اب تک اعلان شدہ325 امیدواروں میں سے 87 او بی سی کے لوگوں کو نمائندگی دی ہے۔ سماجوادی پارٹی کی بیٹ مانے جانے والی مین پوری، ایٹا، فیروز آباد میں پارٹی نے سپا سے ناراض ہوکر نکلے یادوؤں کو ٹکٹ سے نوازا ہے۔ یہ منڈل واد کا ہی اثر مانا جائے گا۔ اب تک اعلان شدہ 325 امیدواروں میں سے بڑی ذاتوں خاص کر برہمنوں کی پارٹی مانی جانے والی کانگریس نے ابھی تک 39 براہمنوں کو ہی ٹکٹ دیا ہے۔ ٹھاکروں کے کھاتے میں51، درجہ فہرست کھاتے میں 82 اور مسلمانوں کو اب تک52 ٹکٹ دئے گئے ہیں۔ اشارہ صاف ہے کہ پسماندہ ذاتوں کے ووٹوں کے لئے گھماسان شباب پر ہے۔ تبھی تو بھاجپا نیتا مختار عباس نقوی نے اپنی پارٹی کے اعدادو شمار دیتے ہوئے فخر کے ساتھ بتایا کہ اب تک اعلان شدہ381 امیدواروں میں پسماندہ کو123 ، درجہ فہرست ذاتوں کے83 امیدوار شامل ہیں۔ سماجوادی پارٹی نے بھی ٹکٹ بٹوارے میں اپنی سوشل انجینئرنگ کا پورا خیال رکھا ہے۔ پارٹی تقریباً400 سیٹوں کے امیدوار اعلان کرچکی ہے اور اس میں اپنے ووٹ بینک مسلم پسماندہ طبقوں کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ پارٹی نے80 مسلمانوں کو میدان میں اتارا ہے۔
چناؤ سے پہلے جائزوں کی سچائی پر اکثر نکتہ چینی ہوتی ہے۔لیکن ایک تازہ سروے ہوا ہے۔ امر اجلا۔سی ووٹر انڈیا ٹی وی کے دوسرے دور کے اوپینین پول کے مطابق اترپردیش میں بہوجن سماج پارٹی۔ سماج وادی پارٹی میں کانٹے کی ٹکر نظر آرہی ہے۔ پنجاب میں اکالی۔ بھاجپا محاذ اور کانگریس میں سخت مقابلہ ہے جبکہ اتراکھنڈ میں بسپا کنگ میکر بننے کی راہ پر ہے۔ سروے کے نتیجوں کے مطابق یوپی میں بسپا اب تک اندازاً 145 سیٹوں کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی کے طور پر سامنے آتی دکھائی دے رہی ہے۔ سپا 138 سیٹوں اور کانگریس 48 سیٹوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر اپنی جگہ پکی کررہی ہے۔ بھاجپا کو اب تک 41 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے۔
بھاجپا کو چوتھے مقام پر چھوڑ کر کانگریس کنگ میکر ہونے کی طاقت ضرور حاصل کرتی نظر آرہی ہے۔ پردیش کا سورن کانگریس اور بھاجپا کے ساتھ کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ کشواہا معاملے سے بھاجپا کو نقصان ہوتا نظر آرہا ہے اور اس کافائدہ اٹھانے میں کانگریس کافی دلچسپی سے کام کررہی ہے۔مسلم یا تو سپا کے ساتھ ہیں اور جہاں سپا کمزور ہے وہاں وہ کانگریس کے ساتھ ۔ مورتی معاملے سے بسپا کے دلت ووٹر متحد ہوئے ہیں۔ اتراکھنڈ میں پارٹی کی لڑائی کے چلتے کانگریس نے اپنی ابتدائی بڑھت کھو دی ہے۔ یوپی کے برعکس یہاں کانگریس کا کھیل خراب کر بسپا کنگ میکر بنتی جارہی ہے۔وزیراعلی بی ۔ سی کھنڈوری کی اچھی ساکھ کا فائدہ بھاجپا کو ہوتا دکھائی پڑ رہا ہے لیکن وہ پارٹی کو اکثریت کے اعدادو شمار تک شاید ہی لے جا پائے۔ کل ملاکر دلچسپ صورتحال بنی ہوئی ہے۔ دیکھیں یوپی میں سوشل انجینئرنگ کتنی کارگر ثابت ہوتی ہے یا کسی پارٹی کا ذات تجزیہ فٹ بیٹھتا ہے۔
Anil Narendra, BC Khanduri, Daily Pratap, Mayawati, State Elections, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Vir Arjun

27 دسمبر 2011

لو بچھ گئی ہے 5 ریاستوں میں چناوی بساط


Published On 27th December 2011
انل نریندر
دیش کی آئندہ کی حکمت عملی طے کرنے والی اترپردیش سمیت پانچ ریاستوں میں بچھ گئی ہے چناؤ کی بساط۔ سنیچر کو چناؤ کمیشن نے پانچوں ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردیا ہے۔ اترپردیش میں پانچ مرحلوں میں چناؤ ہوں گے۔ یہاں 4-8-11-15-19-23 اور 28 فروری کو چناؤ ہوگا جبکہ اتراکھنڈ اور پنجاب میں ایک ہی مرحلے میں 30 جنوری کو پولنگ ہوگی۔ گوا میں 3 مارچ اور منی پور میں28 جنوری کو پولنگ کرایا جائے گا۔ پانچ ریاستوں کے چناؤ کی گنتی ایک ہی دن4 مارچ کوہوگی۔ چناؤ کمیشن کے ذریعے طے کردہ پانچ ریاستوں کی تاریخوں سے کانگریس پارٹی تو خوش ہوگی۔ اسے مرکزی حکومت کے ذریعے اعلان کردہ حالیہ عوام کو لبھانے والی اسکیموں کا فائدہ ملنے کی امید ہے اور سردی کا موسم ہونے کے چلتے ساگ سبزی اور دوسری غذائی چیزوں کے دام کم ہوجانے کا بھی فائدہ اسے ملتا نظر آرہا ہے۔ منی پور اور گوا جیسے چھوٹے راجیوں میں اسے اقتدار مخالف مینڈیڈ کا سامنا کرنا ہے۔ وہیں پنجاب ،اتراکھنڈ میں وہ حکمراں پارٹیوں کی اکیلی متبادل بن کر سامنے آسکتی ہے یعنی اقتدار مخالف ووٹوں کا اسے براہ راست فائدہ ملے گا۔ اگرچہ منی پور، گوا میں حکومت ہونے پر اسے نقصان ہوتا ہے تو اس کی کچھ حد تک بھرپا ئی وہ پنجاب اور اتراکھنڈ میں کر سکتی ہے۔ منی پور ،گوا کے مقابلے میں یہ دونوں ریاستیں زیادہ سیاسی اہمیت نہیں رکھتیں۔کانگریس صدر تو یہاں تک کہہ چکی ہیں کہ پنجاب، اتراکھنڈ میں ان کی پارٹی اقتدار میں آئے گی۔ اصل سوال تو اترپردیش کا ہے۔ یہاں کسی طرح کھوئی ہوئی اپنی زمین واپس حاصل کرنے کی کوشش میں لگی دونوں بڑی پارٹیاں کانگریس اور بھاجپا کی چناوی تیاریاں باقی ریاستوں سے پچھڑی ہوئی ہیں۔ خاص طور سے پنجاب اتراکھنڈ میں جہاں دونوں پارٹیوں کا سیدھا مقابلہ ہے یہاں دونوں پارٹیاں ابھی تک اپنے امیدواروں کا انتخاب تک نہیں کرسکیں۔ دراصل چناوی کلینڈر کے لحاظ سے پنجاب ،اتراکھنڈ میں پہلے چناؤ ہونے تھے لیکن سبھی نے بھانپ لیا تھا کہ اترپردیش میں بھی وقت سے پہلے چناؤ ہوسکتے ہیں یہ ہی وجہ ہے ریاست کی دو بڑی پارٹیاں بسپا اور سپا ہوں یا پھر بھاجپا کانگریس سبھی نے اپنی پوری طاقت اترپردیش میں جھونک دی تھی۔ روڈ شو سے لیکرریلیاں ، الزام تراشیاں، داؤ اور ریاست کی بسپا و مرکزکی کانگریس سرکار کے درمیان عوامی فائدے والے اعلانات کی جنگ قریب تین مہینے پہلے ہی سے چھڑ گئی تھی۔ اترپردیش میں28 فروری تک چلنے والے چناؤ کا اثر مرکزی بجٹ کے پروگراموں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ دراصل گوا چناؤ کے سبب تین مارچ تک نافذ چناؤ ضابطے کے دوران ہی بجٹ اجلاس رہے گا اور 29 فروری تک دونوں ریل اور بجٹ پاس کرنا ضروری ہوتا ہے لہٰذا مرکز کو چناؤ ضابطے کی آنچ سے بچنے کیلئے متبادل راستوں کو تلاشنا ہوگا جس میں ممکنہ ریاستوں کے لئے اعلانات کے چلتے یا برعکس حالات میں ریل اور عام بجٹ پیش کرنے کا وقت یا تاریخ بدلنے کے امکان سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی نے ریاست میں چناؤ کی تاریخوں میں تبدیلی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے جنوری میں اتراکھنڈ میں کڑاکے کی ٹھنڈ ہوتی ہے دوسرا30 جنوری کو شہیدی دوس ہوتا ہے ، اس دن چناؤ کرانا ٹھیک نہیں ہیں۔ اتراکھنڈ میں30 جنوری کو ہی پولنگ ہے جبکہ وہاں کی اسمبلی کی میعاد12 مارچ تک ہے۔ اترپردیش کی موجودہ اسمبلی کی میعاد 20 مئی 2012 ء، پنجاب اسمبلی کی 14مارچ، اتراکھنڈ کی 12 مارچ، منی پور کی 15 مارچ اور گوا اسمبلی کی میعاد14 جون تک ہے۔ عام طور پر اتراکھنڈ کے چناؤ فروری اور ماچ کے پہلے ہفتے میں کرائے جاتے ہیں لیکن اس مرتبہ جنوری میں ہی کرائے جارہے ہیں۔ کانگریس نے یوپی میں ساری طاقت جھونکی ہوئی ہے۔ پارٹی کے دونوں سینئر لیڈر سونیا گاندھی ، راہل گاندھی اسی صوبے سے ممبر پارلیمنٹ ہیں اس لئے جم کر محنت کررہے ہیں۔مغربی اترپردیش میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لئے پارٹی نے راشٹریہ لوک دل سے ہاتھ ملا لیا ہے۔ مسلم ووٹوں کو گھیرنے کیلئے پارٹی نے ساڑھے چار فیصدی ریزرویشن کا کارڈ بھی کھیلا ہے۔ پچھلی بار کانگریس کو12 فیصدی مسلمانوں نے ووٹ دیا تھا اس مرتبہ یہ تعداد بڑھنے کی امید ہے۔ بنکروں کے لئے موٹا اقتصادی پیکیج، کسانوں کے لئے دو بڑی سنچائی اسکیموں کا اعلان مرکزی حکومت کرچکی ہے اس کا فائدہ بھی اسے ملنے کی امید ہے۔ ایسے میں اسے بڑی ذاتوں خاص کر براہمنوں کو بسپا سے توڑنے میں کامیابیملنے کی امید ہے۔ پارٹی کے دونوں پردیش اور ودھان منڈل کے نیتا براہمن ہیں۔ ریتا بہوگنا جوشی اور پرمود تیواری ٹھاکر نیتا کی شکل میں پردیش کے انچارج ہیں۔ دگوجے سنگھ کانگریس کے ایک طبقے کی یہ مراد پوری کردی ہے کہ جلد ہی چناؤ ہوں۔ اس کا اعلان چناؤ کمیشن نے کرکے پورا کردیا ہے۔
ہر برسر اقتدار پارٹی کو اقتدار مخالف فیکٹر کو بنیادی طور سے نمٹنا ہوتا ہے۔ کچھ حد تک بہوجن سماج پارٹی کو بھی نقصان ہوسکتا ہے۔ بہن جی کے ذریعے کافی موجودہ ممبران اسمبلی کو ٹکٹ کاٹنے سے پارٹی میں بغاوت کی پوزیشن بنی ہوئی ہے۔ بسپا کی بنیاد غریب اور کمزور دلت طبقہ ہے۔ اسے آج بھی اس کا پختہ ووٹ مانا جاسکتا ہے۔ کرپشن ، پارک، مورتیاں بنانا بھی بسپا کے خلاف چناوی اشو ہوں گے۔ سپا سپریموں ملائم سنگھ یادو کی پارٹی پہلے سے اچھی پوزیشن میں ہے۔ ان کے نوجوان بیٹے اکھلیش یادو ایک نوجوان لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے اپنے دوروں سے پارٹی کے لئے اچھا ماحول بنایا ہے۔ انہوں نے اپنی اچھی دھاک جمائی ہے۔ مسلم ووٹوں پر اب بھی ملائم سنگھ کی پکڑ برقرار ہے ، راجپوت بھی ان کے ساتھ ہیں۔ بسپا کا مقابلہ ملائم سنگھ ہی کرسکتے ہیں۔ ایسی ہوا بنا کر سپا کو فائدہ ملنے کی امید ہے۔ ملائم کی ملنسار ساکھ حریفوں کو بھاری پڑ سکتی ہے لیکن ان کی تاریخ ان کے خلاف ضرور رہے گی۔ پارٹی تھانے چلاتی ہے، یہ ساکھ ابھی تک ٹوٹنے نہیں پائی۔ مسلمان ووٹوں کا بٹوارہ طے ہے۔ کانگریس ۔ بسپا میں یہ ووٹ بٹے گا۔ ملائم یہ نہیں مان کر چل سکتے کے مسلم ووٹ ایک طرفہ انہیں ملے گا۔ رہی بات بھاجپا کی پارٹی کو امید ہے کہ مسلمانوں کو ریزرویشن کے اشو پر ان کے حق میں مخالف ووٹ جائے گا اور سورن ووٹ کا پولارائزیشن ہوگا۔ انا ہزارے کی تحریک کا سب سے زیادہ فائدہ اسے ہی ملنے کی امید ہے۔ راجناتھ سنگھ ، کلراج مشر، اڈوانی کے دوروں سے سرکار مخالف ماحول جوڑنا ہے۔ بھاجپا کو امید ہے کہ چناؤ میں پارٹی کو اس کا فائدہ ضرور ملنے والا ہے لیکن ریاست میں مقامی لیڈروں کی اپنی رسہ کشی پارٹی کو بھاری پڑ سکتی ہے۔ کل ملاکر اب جب پولنگ کی تاریخیں اعلان ہوچکی ہیں سبھی کی ریاست کی سیاست میں تیزی آئے گی۔ کانگریس کے لئے جہاں اترپردیش سب سے بڑی چنوتی ہوگی وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے پنجاب ، اتراکھنڈ میں اپنی سرکاروں کو دوبارہ سے برسر اقتدار لانا ہوگا۔ ویسے اتراکھنڈ میں آج تک کوئی حکمراں پارٹی پھر سے اگلی مرتبہ جیت کرنہیں آئی۔ کیا پتہ اس مرتبہ یہ تاریخ بھون چندر کھنڈوری بدل دیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Goa, Manipur, Punjab, Rahul Gandhi, Sonia Gandhi, State Elections, Uttar Pradesh, Uttara Khand, Vir Arjun

18 اکتوبر 2011

اڈوانی جی کی جن چیتنا یاترا کو لگ رہے ہیں جھٹکے



Published On 18th October 2011
انل نریندر
جن چیتنا یاترا پر نکلے شری لال کرشن اڈوانی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یاترا کے آغاز میں ہیں انہیںمشکلوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ کبھی رتھ میں تکنیکی خرابی آجاتی ہے تو کبھی پل سے گذرنے میں اسے دقت آتی ہے۔ جیسے جیسے یاترا آگے بڑھتی گئی نئی نئی مصیبتیں آتی گئیں۔ پہلے مدھیہ پردیش کے ستنا میں یاترا کی اچھی کوریج کے لئے اخبار نویسوں کو لفافے میں پیسے دینے کا معاملہ بے نقاب ہوا۔ اب زمین گھوٹالے میں کرناٹک کے سابق وزیر اعلی یدی یرپا کی گرفتاری سے جن چیتنا یاترا کو جھٹکا لگا ہے کیونکہ اڈوانی جی نے اپنی جن چیتنا یاترا کا مقصد کرپشن کے اشو کو بنایا ہے۔ لہٰذا ان حالات میں پارٹی کی کرکری ہونا فطری ہے۔ بدعنوانی پر سخت رویہ اپنانے کا اشارہ دینے کے لئے پارٹی نے ستنا سے وابستہ مدھیہ پردیش کے پبلک ورکس وزیر یعنی ناگیندر سنگھ پر کڑی کارروائی کا ارادہ بنا لیا ہے۔ صاف ستھری ساکھ رکھنے والے شری اڈوانی اس واقعے سے بہت خفا ہیں۔ اڈوانی جی نے وزیراعلی شیو راج سنگھ چوہان و پردیش چوہان پربھات جھا کو اس کی گہری جانچ کے آدیش دے دئے ہیں۔ان کے غصے کی وجہ بھی ہے کہ مدھیہ پردیش میں یاترا کے دوران بھاری عوامی حمایت ملنے کے باوجود اس واقعے نے سارے جذبے پر پانی پھیردیا ہے۔ اڈوانی جی نے اپنی یاترا میں سب سے زیادہ وقت مدھیہ پردیش کے لئے دیا ہے۔ ریاست میں اس کے لئے زبردست تیاریاں کی گئی ہیں لیکن ابتدا میں ہیں ۔اس واقعے نے سارا مزہ خراب کردیا ہے۔ یاترا کی کوریج کے لئے پیسہ بانٹنے کے الزام میں کٹہرے میں کھڑے پردیش سرکار کے وزیر ناگیندر سنگھ و ممبر پارلیمنٹ گنیش سنگھ نے حالانکہ ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے لیکن اپنی ریلیوں میں لوگوں کو رشوت دینے یا لینے سے پرہیز کرنے کا بھروسہ دلا رہے اڈوانی کویہ واقعہ بےحد ناگوار گذرا ہے۔
کرناٹک کے سابق وزیر اعلی بی ایس یدی یرپا کی گرفتاری ایسے وقت ہوئی جب اڈوانی اپنی جن چیتنا یاترا پر نکلے ہوئے ہیں۔ یدی یرپا بھاجپا کے پہلے سابق وزیر اعلی ہیں جنہیں جوڈیشیل حراست میں بھیجا گیا ہے۔ کرناٹک میں لوک آیکت عدالت نے یدی یرپا کو ایسے موقع پر جیل بھیجا ہے جب اڈوانی کرپشن، کالی کمائی اور بدانتظامی اور صاف ستھری سیاست کو لیکر اپنی یاترا کررہے ہیں۔ ان کا رتھ 30 اکتوبر کو بینگلور پہنچے گا۔ ایسے میں اب شری اڈوانی سمیت بھاجپا نیتاﺅں کو یدی یروپا کے معاملے پر اٹھنے والے تلخ سوالوں سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ بھاجپا اب تک ٹو جی اسکینڈل، کامن ویلتھ گیمس اور نوٹ کے بدلے ووٹ جیسے معاملوں کی مثالیں دے کر کانگریس سمیت یوپی اے سرکار پر حملہ کرتی رہی ہے اب یدی یروپا کے جیل جانے سے کانگریس کو حملہ کرنے کا ایک اور موقعہ مل گیا ہے۔ کانگریس طویل عرصے سے کرپشن کے مسئلے پر بچاﺅ میں رہی ہے۔ اب نوٹ بانٹنے کا موقعہ اس کے لئے کارگر ثابت ہوگا۔ پارٹی نے حملہ بولنے میں کوئی دیری نہیں کی۔ پارٹی کے ترجمان ابھیشیک سنگھوی کا کہنا ہے کہ یہ مثال بھاجپا کی قول و عمل میں فرق بتاتی ہے۔ ان کے ساتھی منیش تیواری نے کہا کہ زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ اڈوانی کی کرپشن مخالف یاترا پہلے کرناٹک، اتراکھنڈ ،پنجاب سے نکالی جاتی جہاں بھاجپا کے وزیرو عہدیداران پر کرپشن کے الزامات لگے ہیں۔ بھاجپا میں اڈوانی کی اس یاترا کو لیکر پہلے سے ہی کوئی جوش نہیں تھا۔ اس واقعے کے بعد پارٹی کوجواب دینا مشکل ہورہا ہے۔ منیش تیواری نے کہا نیتاﺅں کا یہ بھی اندیشہ ہے کہ یدی یروپا کی گرفتاری کے بعد کرناٹک میں پارٹی و سرکار کا بحران بڑھ سکتا ہے۔ریاست کی سیاست میں یدی یروپا کے کٹر مخالف مانے جانے والے اننت کمار جن چیتنا یاترا کے کرتا دھرتا ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ جب تک اڈوانی جی کا رتھ کرناٹک میںداخل ہو جنوبی ہندوستان کی واحد بھاجپا سرکار کی حالت ڈانواڈول ہو رہی ہو۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Punjab, Rath Yatra, Uttara Khand, Vir Arjun

20 ستمبر 2011

اتراکھنڈ کے نئے وزیر اعلیکتنے کامیاب ہوں گے؟



Published On 20th September 2011
انل نریندر
بدعنوانی کے الزامات سے گھری رمیش پوکھریال نشنک حکومت کو بدلنا بھاجپا ہائی کمان کی مجبوری ہوگئی تھی۔ قریب سوا دو سال بعد ایک مرتبہ جنرل بھون چندر کھنڈوری نے اتراکھنڈ کی کمان سنبھال لی ہے۔ چھوٹی سی پہاڑی ریاست اتراکھنڈ میں سیاست کی لڑائی اور سیاسی اتھل پتھل میں اپنے حریفوں کو چت کرتے ہوئے کھنڈوری ریاست میں سب سے طاقتور لیڈر کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔ وزیر اعلی کی دوسری پاری سے بھاجپا ہائی کمان کو بہت سی امیدیں ہیں۔ پہلی پاری میں اپنی وزارتی ساتھی رمیش پوکھریال نشنک کو وزیراعلی بنوانے اوراب انہیں ہٹواکر وزیر اعلی بننے کے لئے ہائی کمان پر دباؤ بنانے میں کامیاب ہوئے کھنڈوری کی سیاسی صلاحیتوں کو دونوں پارٹی کے اندر اور باہر سبھی مانتے ہیں۔ کوئی پانچ ماہ بعد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں جس معجزے کی پارٹی ان سے امید لگائے ہوئے ہیں اس کے پیش نظر جنرل صاحب کے لئے یہ ذمہ داری سخت اگنی پریکشا ثابت ہوگی۔ دیش میں کرپشن مخالف سماں بھلے ہی کانگریس مخالف لگ رہا ہو لیکن اتراکھنڈ سے ملے اشاروں سے صاف پتہ چلتا ہے کہ فوج سے ریٹائر ہوئے میجر جنرل بھون چندر کھنڈوری کے سامنے سب سے بڑی چنوتی اپنی صاف ستھری ساکھ اور انتظامی صلاحیت کا صحیح استعمال کرنے کی ہوگی۔ کھنڈوری اکھڑ پسند سیاستداں ہیں۔ اور یہ اکڑ انہیں فوجی ڈسپلن سے ملی ہے۔888 دن پہلے جب وہ اتراکھنڈ کے وزیر اعلی کے عہدے سے معزول ہوئے تھے تب ان پر الزام تھا کہ ان کی اکڑ کے سبب ان کا عوام سے تعلق اچھا نہیں رہا۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ 2009 کے لوک سبھا چناؤمیں اتراکھنڈ پر راج کرنے والی بی جے پی کو ایک سیٹ بھی نہیں ملی اور اس کے بعد ان پر گاج گرنا طے تھا۔ اس لئے ان کی چھٹی کردی گئی۔ فوج سے لیکر سیاست تک کھنڈوری نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں لیکن وہ کبھی ہارے نہیں۔ اس مرتبہ بھی وہ کامیاب ہوکر اقتدار کی اونچائیوں پر پہنچے ہیں۔ ان کے برتاؤ میں سیاست کی چالبازی نہیں ہے۔ وہ وقت کے حساب سے پروگرام میں یقین رکھتے ہیں اور ان کا مزاج کڑک ہے لیکن ان کے قریبی کہتے ہیں ان کی شخصیت ناریل کی طرح ہے ۔وہ ابن الوقت سیاستدانوں کو گردانتے نہیں۔سیاست میں بھی وہ اپنے اس رویئے سے باز نہیں آتے۔ بھلے ہی اس کے کئی فائدے یا نقصان ہوں۔ واجپئی سرکار میں وہ کامیاب وزیر ثابت ہوئے انہوں نے سورگیہ چتربھج سڑک پروجیکٹ کو بنوایا ۔ محکمہ ان کا کاجل کی کوٹھری والا تھا باوجود اس کے وہ اس کی سیاہی سے بچتے رہے۔ واجپئی نے ان کے کام سے خوش ہوکر 2003ء میں انہیں وزیر بنا دیا تھا۔
شری کھنڈوری کے لئے سب سے بڑی چنوتی یہ ہوگی کہ وہ اتنے کم وقت میں ایسا کیا کریں کہ حکمراں مخالف لہر کا رخ موڑ سکیں اور پنپ رہی ناراضگی کو دور کرکے پارٹی کو ہوئے نقصان کی بھرپائی کرپائیں۔جن کھنڈوری کو ریاست میں لوک سبھا چناؤ کی ہار کیلئے ذمہ دار مان کر ہٹا دیا گیا تھا اب سوا دو سال بعد ایسا کیا ہوا کہ پارٹی کو76 سالہ سابق وزیر اعلی پر چار پانچ مہینے پہلے ہی بازی پلٹ دینے کا بھروسہ ہوگیا؟ خیال کیا جاتا ہے کرپشن جیسے موجودہ وقت میں اہم مسئلے پر پارٹی ان کی ساکھ کو بھنانا چاہے گی۔ اس میں کوئی شک نہیں کھنڈوری کی قیادت میں اتراکھنڈ میں ہونے والے چناؤ میں پارٹی کو کرپشن کو چناوی اشو بنانے میں جو سہولیت ہوگی وہ بدعنوانی کے الزامات سے گھرے نشنک کی قیادت میں چناؤلڑنے میں شاید نہ ہوتی۔ اعلی کمان کی امیدوں کے مطابق نئے وزیر اعلی نے کرپشن کے مسئلے کو ترجیح دینے کے اشارے اپنی پہلی کیبنٹ کی میٹنگ میں دے دئے تھے۔ انہوں نے اپنی کیبنٹ کے سبھی ساتھیوں اور انڈین پولیس سروس کے سبھی افسران سمیت دیگر کچھ افسران کو15 اکتوبر تک اپنی پراپرٹی کے بارے میں تفصیلات سرکار کے پاس جمع کرانے کے احکامات دئے ہیں۔آج بھاجپا کی اتراکھنڈ یونٹ میں زبردست ناراضگی ہے۔ تقریباً بغاوت کی صورتحال ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ شری کھنڈوری ایک طرف تو اپنی پارٹی کو کتناساتھ لے کر چلتے ہیں وہیں دوسری طرف اتراکھنڈ کے انتظامی و قانونی نظام کو چست درست کرنے کے لئے سخت قدم اٹھانے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں۔ نشنک کے دور میں اپوزیشن پارٹی کانگریس نے اپنے آپ کو منظم کیا ہے اور انہیں لگ رہا ہے کہ آنے والے اسمبلی چناؤ میں ان کی پارٹی بازی مار لے گی۔ دیکھنا اب یہ ہوگا کہ بھاجپا کا اتراکھنڈ میں صرف چہرہ بدلنے سے کام ہوجائے گا یا نہیں؟
Anil Narendra, BC Khanduri, BJP, Corruption, Daily Pratap, Nishank, Uttara Khand, Vir Arjun

اور اب ایران بنام یوکرین

مغربی ایشیا کی دو بڑی لڑائیاں اب ایک دوسرے سے وابستہ دکھائی دے رہی ہیں ۔ایک طرف پچھلے کئی ماہ سے امریکہ ایران کے درمیان کشیدگی اور فوجی کارو...