Translater

NIA لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
NIA لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

20 نومبر 2011

نیتاؤں کے دباؤ کے سبب جانچ ایجنسیوں کی ساکھ پر بٹّہ



Published On 20th November 2011
انل نریندر
ہماری جانچ ایجنسیوں کی جانب سے مختلف معاملوں میں کی گئی جانچ عدالتوں میں ٹک نہیں پارہی ہے۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا سیاستداں جانچ ایجنسیوں کے معاملوں کی جانچ کو متاثر کرتے ہیں؟ سیاستداں دباؤ کے چلتے چاہے وہ دہلی پولیس ہو یا قومی سراغ رساں ایجنسی (این آئی اے) یا پھر سی بی آئی ہی کیوں نہ ہو۔ پچھلے 15 روز میں کم سے کم چار ایسے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں عدالتوں نے ان ایجنسیوں کو پھٹکار لگائی ہے۔ اور ان کے جانچ کرنے کے طریقے اور نتیجوں دونوں پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔ پہلا معاملہ مالیگاؤں بم دھماکے کا ہے۔ ایک عدالت نے سال2006ء میں مالیگاؤں بم دھماکے کے معاملے میں9 ملزمان میں سے 7 کورہا کردیا ہے۔ این آئی اے نے کہا کہ سلمان فارسی، شبیر محمد، زاہد اور فاروق گوئی انصاری کو ممبئی کی آرتھر جیل سے رہا کردیا گیا۔ خانہ پوری ہونے کے بعد ایک دیگر ملزم ابرار احمد کو بھی واچکولہ جیل سے چھوڑاگیا۔ معاملے کے دو دیگر ملزمان آصف خان اور محمد علی کو بھی ضمانت مل گئی لیکن انہیں چھوڑا نہیں گیا کیونکہ وہ 2006ء کے ممبئی ٹرین سلسلہ وار دھماکوں میں بھی ملزم ہیں۔ معاملے کی جانچ کررہی قومی سراغ رساں ایجنسی (این آئی اے ) نے رہائی کی مخالفت بھی نہیں کی۔ این آئی اے نے دلیل دی کہ مکہ مسجد بم دھماکے معاملے میں گرفتار سوامی اسیمانند کے انکشاف کے بعد اس نے تازہ ثبوتوں کے علاوہ سابقہ کی جانچ ایجنسی اے ٹی ایس اور سی بی آئی کے ذریعے اکٹھے کئے گئے ثبوتوں کا جائزہ لیا تھا۔ این آئی اے نے کہا کہ ''حقائق اور حالات کی بنیاد پر کافی غور و خوض کے بعد سبھی9 ملزمان کی ضمانت عرضیوں کی مخالفت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ جنہیں ماضی گذشتہ میں گرفتار کیا گیا تھا اور ملزم بنایا گیا تھا۔''
دوسرا معاملہ سہراب الدین شیخ مد بھیڑ سے متعلق ہے۔ سپریم کورٹ نے سہراب الدین شیخ فرضی مد بھیڑ معاملے میں گجرات کے سابق وزیر داخلہ امت شاہ کے مبینہ کردار پر سی بی آئی کو سخت پھٹکار لگائی ہے۔ سی بی آئی نے کئی گمنام دستاویزات کو شاہ کی پھروتی ریکٹ میں مبینہ کردار سے جڑی شکایتوں کے طور پر پیش کیا۔ ایجنسی کے اس قدم کو عدالت نے کسی کو خوش کرنے کا قدم بتایا۔ جسٹس آفتاب عالم اور جسٹس رنجنا پرکاش دیسائی کی ڈویژن بنچ نے کہا ''یہ سچائی ہے کہ کسی کو خوش کرنے کے لئے اٹھایا گیا قدم ہے جو بالکل غلط ہے۔'' سی بی آئی نے امت شاہ کے خلاف ایسی تقریباً 200 شکایتیں پیش کی تھیں جنہیں دیکھنے کے بعد بنچ نے کہا ''آپ نے (سی بی آئی نے) ہم سے کہا ہے کہ پردیش سرکار نے ان شکایتوں پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ ان دستاویزات پر عدالت کی کارروائی نہیں کی جاسکتی۔ یہ شکایتیں پوری طرح سے بکواس لگ رہی ہیں۔'' سی بی آئی نے گجرات اور دیگر عدالتوں کی جانب سے شاہ کو ضمانت دئے جانے کو چیلنج کیا ہے۔ اس عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا ''آپ کو ہمارا سب سے اچھا سراغ رساں مانا جاتا ہے اور اب آپ کو ان خامیوں کا جواب دینا ہوگا۔'' سماعت کے دوران شاہ نے الزام لگایا کہ وہ سیاسی سازش کا شکار ہوئے ہیں اور سی بی آئی نے انہیں اس معاملے میں غلط پھنسایا ہے۔ شاہ کے وکیل رام جیٹھ ملانی نے کہا کہ شاہ سیاسی سازش کا شکار ہوئے ہیں اور سی بی آئی بھی اس کا ایک حصہ ہے۔ تیسرا کیس بھی سی بی آئی سے متعلق ہے ۔ ٹو جی اسپیکٹرم الاٹمنٹ گھوٹالے کی سماعت کررہی خصوصی جج اوپی سینی کی عدالت میں عزت مآب جج موصوفہ نے سی بی آئی سے ثبوتوں کو مٹانے کے لگ رہے الزامات پر جانکاری مانگی ہے۔ سی بی آئی کو23 نومبر تک جواب دینا ہے۔ سی بی آئی کو ملزمان نے یہ کہتے ہوئے کہ الزامات طے کرنے کے حکم میں جو غلطیاں اور تضاد ہیں ،غیر جانبدار سماعت کے لئے ان میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ ملزم ونود گوئنکا نے سی بی آئی پر الزام لگایا ہے گواہ کو غیر قانونی طور پر بلا کر ثبوت متاثر کئے جارہے ہیں۔ بدھوار کو گواہی دے رہے ریلائنس افسر اے این سنتھورین نے بتایا تھا کہ اس کے بیان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے۔ گواہ نے دعوی کیا کہ اس نے ہری نائر کے دستخط کی کبھی پہچان نہیں کی تھی۔اس کے باوجود سی بی آئی نے اسے پیش کردیا ہے۔ گوئنکا کے وکیل مجید مینن نے کہا کہ گواہ کی یادداشت تازہ کرنے کے نام پر سی بی آئی کے ذریعے اپنائی گئی کارروائی کے معاملے کو متاثر کرنے کی طرح ہے۔انہوں نے کہا کہ سی بی آئی کو حکم دیا جائے کہ یادداشت تازہ کرنے کے نام پر گواہ یا ثبوتوں کو متاثر نہ کرے۔ چوتھا معاملہ ہماری دہلی پولیس سے متعلق ہے۔ دہلی ہائی کورٹ نے بدھوار کو صاف کیا کہ نوٹ کے بدلے ووٹ معاملہ کرپشن نہیں بلکہ محض ایک اسٹنگ آپریشن تھا۔ عدالت نے کہا ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے جس سے ثابت ہو کہ معاملے کے ملزم تینوں ملزمان نے رشوت مانگی یا لی۔ اتنا ہی نہیں اگر وہ رشوت لیتے تو چپ چاپ لیتے نہ کہ ٹی وی چینل کے سامنے لے کر اسے اس طرح سے پارلیمنٹ میں پیش کرتے۔ وہیں ہماری پارلیمنٹ بالاتر ہے اور پارلیمنٹ کے ذریعے تشکیل جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی نے بھی ثبوت نہ ہونے پر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ عدالت نے یہ رائے زنی بھاجپا کے موجودہ ایم پی اشوک ارگل اور دو سابق ایم پی پھگن سنگھ کلستے اور مہاویر سنگھ بھگورا سمیت سبھی چھ ملزمان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کی تھی۔جسٹس ایم ایل مہتہ نے اپنے فیصلے میں کہا ایف آئی آر اور چارج شیٹ کا جائزہ لینے سے وہ محسوس کرتے ہیں کہ ممبران پارلیمنٹ و دیگر کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اس کے علاوہ سی ایف ایس ایل کی رپورٹ سے بھی صاف ہے کہ ٹی وی چینل کی جانب سے اسٹنگ آپریشن کی سی ڈی و آڈیو میں کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی ہے کسی بھی ایم پی اور دیگر نے مبینہ طور پر رشوت کی رقم سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ وہیں دوسری طرف بچاؤ فریق کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اس ممبر پارلیمنٹ و دیگر ملزمان کا مقصد محض کانگریس اور سماجوادی پارٹی کی ملی بھگت کا پردہ فاش کرنا تھا۔
مندرجہ ذیل معاملوں سے صاف ہے کہ سیاستدانوں کے دباؤ کے سبب ہماری جانچ ایجنسیوں کی ساکھ پر بھی دھبہ لگ رہاہے۔ سیاستداں زبردستی اپنے سیاسی مفاد کے لئے جانچ ایجنسیوں پر ناجائز دباؤ ڈلواکر جھوٹے معاملے بنواتے ہیں جو عدالتوں میں جاکر ٹھہر نہیں پاتے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سلسلہ چلتا رہے گااور جلد ایک بھی ایجنسی نہیں ہوگی جس کی جانچ پر عوام بھروسہ کرسکے۔
2G, Amar Singh, Anil Narendra, Cash for Vote Scam, CBI, Daily Pratap, delhi Police, NIA, Vir Arjun

17 جولائی 2011

حکومت ہند کو دہشت گردی پر ’زیرو ٹالرینس ‘پالیسی اپنانی ہوگی

Published On 17th July 2011
 انل نریندر
وزیر اعظم منموہن سنگھ اوروزیرداخلہ چدمبرم جب یہ کہتے ہیں کہ ممبئی بم دھماکوں کے قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ تو عوام کو اب برا سا لگنے لگا ہے اور ایسی کوری تسلیاں سن کر اب عوام اکھڑنے لگی ہے۔منموہن سنگھ نے یہ ہی لفظ 26 نومبر 2008 ء کو بھی ممبئی کے شہریوں سے کہے تھے۔ تب سے لیکر اس حکومت نے کیا کیا ہے؟ کچھ نہیں صرف کورے وعدے۔ ممبئی کے باشندے اب ان کوری تسلیوں سے اکتا چکے ہیں۔ وہ کینڈل مورچہ، امن مورچہ سے ہیومن چین بنا بنا کر عاجز آچکے ہیں۔ عوام کہتی ہے کہ کچھ کرکے دکھاؤ۔ امریکہ سے کچھ تو سبق لو۔ القاعدہ نے 26/11 کو امریکہ پر حملہ کیا تھا اسی وقت امریکہ نے اعلان کردیا تھا کہ وہ تب تک دم نہیں لیں گے جب تک وہ اسامہ بن لادن اور القاعدہ کو ختم نہیں کردیں گے۔ بیشک اس کام میں امریکہ کو دس سال لگے لیکن انہوں نے یہ دکھا دیا کہ وہ اپنے ارادے کے پکے ہیں، جو کہتے ہیں اسے پورا کرنے کی قوت ارادی بھی رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دشمن کے گھر میں گھس کر دشمن کو تہس نہس کر کے ہی دم لیا۔ آدمی تجربے سے ہی سیکھتا ہے اور مستقبل میں اپنے میں بہتری لاتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ برطانیہ ، اسپین اور دوسرے مغربی دیش ہر دم چوکنے رہ کر دہشت گردوں کے منصوبے کو فیل کرتے آرہے ہیں۔ یہ اس لئے کامیاب ہورہے ہیں کیونکہ انہوں نے ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی اپنا رکھی ہے۔ یعنی ایک بھی حملہ ہم برداشت نہیں کریں گے۔ اور ہمارے یہاں حملے پر حملے ہوتے جاتے ہیں اور ہم کوری دھمکیاں دینے سے باز نہیں آتے۔ عزت مآب وزیر داخلہ جی 12 مارچ1993ء سے جولائی 2011ء کے درمیان اکیلے ممبئی میں 8 بم دھماکے ہو چکے ہیں۔ جن میں 682 جانیں ضائع ہوچکی ہیں۔ کیا آپ کو یہ معلوم ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں مرنے والوں کی تعداداب کراچی اور کابل میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً برابر پہنچ چکی ہے۔ اکیلے ممبئی 2005ء میں تقریباً394 لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ اسی وقفے میں کراچی میں500 اور کابل میں 520 لوگ مرے۔ اگر پورے مہاراشٹر کی تعداد جوڑی جائے تو یہ تعداد506 بن جاتی ہے۔ ممبئی کو اب دنیا میں سب سے خطرناک شہروں میں شمار کیا جانے لگا ہے اور اس کو آپ کی لچر پالیسی نے بنا دیا ہے۔ چدمبرم نے بڑے زور شور سے این آئی اے یعنی قومی جانچ ایجنسی کا اعلان کیا تھا۔ کیا کیا آپ کی اس این آئی اے نے؟ اگر 26/11 کے بعد میں ہوئے پانچ دیگر حملوں کی بات کریں تو لگتا ہے کہ آپ کی این آئی اے کچھ نہیں کرپائی۔ 26/11 کو ممبئی میں ہوئے آتنکی حملے کے بعد دیش کے الگ الگ حصوں میں ہوئے واقعات کا سراغ ابھی تک نہیں لگایا جاسکا۔ حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ ان میں سے تین معاملوں کی جانچ این آئی اے کے ہاتھوں میں ہے۔ 13 فروری کو پنے کی جرمن بیکری، 17 اپریل کو چنئی کے چنا سوامی اسٹیڈیم میں آئی پی ایل میچ سے ٹھیک پہلے دھماکہ، پچھلے سال ستمبر کی آخر میں جامع مسجد دہلی میں گولہ باری، دہلی ہائی کورٹ میں دھماکہ اور وارانسی میں ہوئے بم دھماکوں کا معمہ ابھی تک سلجھ نہیں پایا۔ یاد کرانا چاہیں گے کہ چدمبرم صاحب آپ نے بڑے زور شور سے اعلان کیا تھا کہ این آئی اے کی تکیل وزارت داخلہ نے اس لئے کی ہے تاکہ دیش بھر میں دہشت گردی سے متعلق معاملے سلجھائے جا سکیں۔ اس ایجنسی نے جامع مسجد، وارانسی اور چنا سوامی اسٹیڈیم میں ہوئے واقعات کی گتھی سلجھانے کا بیڑا اٹھایا تھا لیکن ابھی تک کامیابی دور دور تک دکھائی نہیں دیتی۔ وہیں ہائی کورٹ اور جرمن بیکری دھماکوں کو لیکر مقامی پولیس کے ذریعے چھان بین جاری ہے مگر حالات ٹھیک نہیں ہو پارہے ہیں۔اس معاملے میں ایک شخص کی گرفتاری ہوئی ہے لیکن اے ٹی ایس واردات میں اس کے ملوث ہونے کے بارے میں مضبوطی سے ثابت نہیں کرپائی ہے۔ ان معاملوں میں جانچ کی سوئی آتنکی تنظیم انڈین مجاہدین پر گھومتی رہی ہے لیکن ابھی تک ایجنسی کو اس کے ملوث ہونے کے پختہ ثبوت ابھی تک حاصل نہیں کرپائی ہے۔ ایک آدھ معاملے میں اگر کوئی معاملہ عدالت جاتا ہے تو وہ بھی ثبوتوں کی کمی کی وجہ سے ٹھپ ہوجاتا ہے۔ بم دھماکوں کے مجرم اکثر معاملوں میں بری ہوجاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ جانچ ایجنسی لچر طریقے سے ثبوت اکٹھا کرتی ہیں اور ایسے ثبوت عدالت میں پختہ طور پر ٹھہر نہیں پاتے۔ دیش میں بم دھماکوں کے مقدمے سے وابستہ وکیل بھی تصدیق کرتے ہیں کہ جانچ ایجنسیاں ثبوت حاصل کرنے کے معاملے میں اکثر ڈھیلا ڈھالا غیر پیشہ ور رویہ اختیار کرتی ہیں جس سے ملزم چھوٹ جاتے ہیں اور جانچ ایجنسیوں کو کورٹ کی لتاڑ جھیلنی پڑتی ہے اور وہ پہلے کی طرح ٹال مٹول کے رویئے پر چلنے لگتی ہیں۔ ایسے بھی معاملے سامنے آئے ہیں جب زبردستی قبول نامے کی بنیاد پر جھوٹا مقدمہ بنا دیا گیا ہو۔ یوپی اے سرکار نے ٹاڈا ہٹانے میں بہت جلد بازی کی لیکن آج تک اس کی جگہ ایسا کوئی موثر قانون نہیں بنایا گیا جس سے دہشت گردوں کو سزا دلوا سکیں۔ دیش کی سکیورٹی ایجنسیوں کے لئے خطرہ بنے آتنک واد سے نمٹنے کے لئے آج بھی کوئی موزوں قانون دیش میں موجود نہیں ہے۔ اب تک 2005 ء سے لیکر7 دسمبر 2010ء تک چھوٹے بڑے کل ملا کر 21 آتنکی حملے ہوچکے ہیں۔
ممبئی میں تازہ بم دھماکوں کے پیچھے پاکستان کا ہاتھ کہیں نہ کہیں ضرور ہے۔ امریکی میڈیا میں بھی یہ ہی کہا جارہا ہے۔ امریکی میڈیا نے ان دھماکوں پر لکھا ہے کہ ان دھماکوں نے پاکستان کی جانب سے آتنکیوں کے خلاف کی جارہی کارروائی کے اثر پر پھر سے سوالیہ نشان لگا دئے ہیں اور اس کے پیچھے لشکر کا ہاتھ ہونے کا شبہ ہے جس نے 2008 میں بھی ممبئی میں آتنکی حملہ کروایا تھا۔ جانچ سے چاہے جو بھی پتہ چلے لیکن ایک چیز صاف ہے کہ پاکستان پر بین الاقوامی برادری کے بھاری دباؤ کے باوجود یہ سبھی گروپ ابھی بھی وہاں سے اپنی سرگرمیوں کو چلا رہے ہیں اور حکومت ہند کوئی سخت قدم اٹھانے کی جگہ دوستی کا ہاتھ بڑھا رہی ہے۔ بھارت سرکار اب تک ممبئی کے پچھلے حملوں میں پاکستان میں جاری مقدمے کو آگے نہیں بڑھواسکے اور قصورواروں کو سزا دلوانا تو دور رہا ،پاکستان سے بات چیت کا کیا تک ہے، یہ اپنی سمجھ سے باہر ہے۔ پاکستان کے چال چلن میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔ آج بھی اس کی ٹیرر اسٹیٹ پالیسی ہے ۔ پاک نواز آتنکی تنظیموں کے نشانے پر آج بھی ممبئی ،دہلی اور بنگلورو جیسے بڑے شہر ہیں۔ ہم جب تک ’زیرو ٹالرینس‘ کی پالیسی پر نہیں چلتے تب تک ان دھماکوں کا سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ ایک بھی حملہ ہم اب برداشت نہیں کریں گے۔ ہمارے وزیر اعظم یا وزیر داخلہ میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ لشکر یا انڈین مجاہدین کا اس حملے کے پیچھے ہونے کی بات کہہ سکے یا اشارہ تک کر سکے؟ انڈین مجاہدین اور پاکستان کی لشکر طیبہ کے درمیان رشتے رہے ہیں۔ سرکار آج تک پاکستان سے ممبئی حملوں کے پیچھے ماسٹر مائنڈ سے پوچھ تاچھ کرنے کی اجازت تک نہیں لے سکی ہے جبکہ واحد زندہ بچے دہشت گرد عامر اجمل قصاب کو سینے سے چپکائے ہوئے ہے اور افضل گورو کو بھی شوپیس بنا کر رکھا ہوا ہے۔ کیوں نہیں اب افضل گورو کو پھانسی پر لٹکا دیتی تاکہ ان آتنکیوں کو ایک صاف اشارہ دیا جائے؟ آج ان جلاسوں ،ریبیٹی، گل کی یاد آتی ہے جب انہو ں نے پنجاب میں آتنکیوں کو یہ سندیش دیا تھا کہ تم ایک مارو تو ہم دس ماریں گے، گولی کا جواب گولی سے دیا جائے گا۔ یوں ہی پنجاب میں آتنک واد ختم نہیں ہوا تھا۔ اس کے پیچھے ٹھوس حکمت عملی تھی۔ سرکار کی قوت ارادی تھی اور سکیورٹی فورس کو اپنے حساب سے کارروائی کرنے کی کھلی چھوٹ تھی۔
دیش کی جنتا اس سرکار کی آتنک واد سے نمٹنے کی ٹال مٹول کی پالیسی سے تنگ آچکی ہے۔ اگر یہ کہیں کہ جنتا ’زیرو ٹالرینس‘ پر آچکی ہے تو شاید غلط نہ ہوگا۔ ممبئی کے شہریوں کو آخر کب تک اسی طرح دہشت کے سائے میں جینا پڑے گا؟ ایک بھی دہشت گرد حملہ آخر کیوں برداشت کیا جائے؟ لوگ یہ سنتے سنتے عاجز آچکے ہیں کہ ہم ایک خطرناک پڑوس میں رہتے ہیں ان کے کان یہ سن کرپک چکے ہیں کہ ہم ان قصورواروں کو نہیں بخشیں گے۔ جنتا کو سکیورٹی کی گارنٹی چاہئے تاکہ وہ بے خوف زندگی جی سکیں۔ بیشک ان کے روٹین پر لوٹنا کچھ حد تک ضروری ہے لیکن اس کا مطلب سرکار کو یہ نہیں نکالنا چاہئے کہ وہ سب طرح کی کوری بکواس ہضم کرنے کو تیار ہے۔ اگر کوئی لیڈر آتنکی حملے کا شکار ہوتا ہے تو بھی کیا سرکار کا یہ ہی رخ ہوتا؟ یہ تو بیچارے بھولے بھالے معمولی عوام ہیں جو مارے جاتے ہیں لیکن سرکار کو جنتا کے موڈ کو سمجھنا ہوگا۔ جنتا چیخ چیخ کر پکار رہی ہے ’’بس اب اور نہیں‘‘۔
Tags: 13/7, 26/11, Afzal Guru, Anil Narendra, Bomb Blast, Daily Pratap, Indian Mujahideen, Kasab, Lashkar e Toeba, Manmohan Singh, NIA, P. Chidambaram, Pakistan, Politician, Terrorist, Vir Arjun

16 جولائی 2011

خون سے لہولہان ممبئی اور مرکزی وزارت داخلہ


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 16th July 2011
انل نریندر
ممبئی میں ہوئے سلسلے وار دھماکوں نے مرکزی وزارت داخلہ ،انٹلی جینس بیورو اور دہشت گرد معاملوں کی بڑی دھوم دھام سے بنائی گئی قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے)کی چوکسی اور باخبر رہنے کے سارے دعوؤں کی پول کھول کر رکھ دی ہے وزارت داخلہ اور وزیر داخلہ پی چدمبرم کا اچھا ریکارڈ چل رہا تھا جنتا کو ان میں بھروسہ ہونے لگاتھا کہ آخر کار ایسا وزیر آیا ہے جس نے دھماکو ں کا سلسلہ تھوڑا ضرور روکا ہے 26نومبر 2008ممبئی حملوں کے بعد سے کوئی دھماکہ نہیں ہوا تھا چھوٹے چھوٹے بم دھماکوں کا سلسلہ تو چلتا ہی رہا لیکن جس طرح سے پارلیمنٹ ہاؤس یا اکشر دھام مندر یا ممبئی میں بڑے حملے ہوئے تھے ویسا کوئی نہیں ہوا تھا۔ مرکزی وزارت داخلہ کیلئے یہ دھماکے اس لئے بھی بڑی شرمندگی نظر آرہے ہیں کیوں کہ یہ ٹھیک اس وقت ہوئے ہیں جب آتنکی حملوں کے لئے خاص طور سے تشکیل این آئی اے کی ٹیم پہلے سے ہی ممبئی میں موجود تھی۔پیر کے روز داخلہ سکریٹری بھی ممبئی کے دورے پر بھی حالانکہ ان کا یہ دورہ ذاتی تھا لیکن وہ این آئی اے ٹیم ممکنہ خطرے کو کیسے نہیں بھانپ پائی، خاص طور پر جب پچھلے کچھ دنوں سے الرٹ پر تھی تمام سوالوں کے باوجود مرکزی وزارت میں ہوئی ردوبدل کی آنچ سے اپنی کرسی بچانے میں کامیاب رہے تھے مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کی شان میں آتنکیوں نے گستاخی کردی مرکزی وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق جنوری سے اب تک تقریباً آدھا درجن خفیہ وارننگ کے بعد بھی دہشت گرد بدھو وار کو ممبئی میں 11منٹ کے فرق سے تین دھماکے کرنے میں کامیاب رہے جبکہ اس سلسلے وار دھماکوں سے کچھ گھنٹے پہلے ہی امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نے ہندوستان کو ممبئی سمیت کچھ شہروں میں ممکنہ آتنکی حملوں کی وارننگ دے دی تھی۔ اتنا ہی ممبئی میں 26نومبر2008کو ہوئے آتنکی حملے کے بنیادی ملزم عامراجمل قصاب کا 24واں جنم دن بھی بدھوار کو تھا ان سب کے باوجود سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کی چوکسی دھری کی دھری رہ گئی وزارت آتنکی حملوں کے اندیشہ کو لے کر کس قدر لاپرواہ بنی ہوئی تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جولائی کے پہلے ہفتے میں وزارت نے جب اپنی ماہانہ رپورٹ پیش کی تھی اس وقت اس بات کو لے کر اپنی پیٹھ تھپتھپائی تھی پچھلے 6مہینوں میں کوئی آتنکی حملہ نہیں ہوا شاید وزارت اس ممکنہ خطرے کو بھانپ نہیں سکی تھی مرکزی وزیر داخلہ کے طو رپر پی چدمبرم کے وزارت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلی بار ہے جب کسی دہشت گرد تنظیموں نے ایک ساتھ تین دھماکے کئے دھماکے کرکے سیدھی چنوتی دی ہے اس سے پہلے ہوئے پُنے کے جرمن بیکری اور بنارس گھاٹ پر ہوئے دھماکے میں بھی وزارت کے ہاتھ ابھی تک خالی ہیں۔ اس کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جرمن بیکری دھماکے میں وزارت ایک بار معاملے کو تقریباً کھولنے کا دعوی کرچکی تھی لیکن بعد میں اس معاملے کو غیر سلجھا قرار دے دیا گیا۔
بے شک بدھ کے روز ممبئی دھماکوں میں ممبئی کی عوام نے ہمیشہ کی طرح واردات کا مقابلہ حوصلہ صبر سے کیا لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ممبئی اب ویسی نہیں رہی جیسی ہوا کرتی تھی ممبئی پر 1993سے اب تک آدھے درجن سے زائد آتنکی حملے ہوچکے ہیں جن میں 2008کا حملہ بھی شامل ہے اس سبھی حملوں میں کم ازکم 700لوگ مارے گئے لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب بھی تشدد رکنا کا نام نہیں لے رہا عام طو رپر ممبئی پر ہوئے حملوں کے پیچھے دلیل ہوتی ہے اگر بھارت کی مالیاتی راجدھانی اور تفریحی سرگرمیوں کے خاص مرکز پر حملہ ہوتا ہے تو وہ دیش کے لئے زبردست دھچکا ہوسکتا ہے ساتھ ہی ان حملوں سے دہشت گرد گروپ دنیا کی نظر اپنی طرف راغب کرسکتے ہیں لیکن اب لگتا ہے کہ یہ کہانی کا محض ایک سرا ہے ممبئی میں رہنے والے کئی لوگ آپ کو بتائیں گے کہ شہر 1993سے ڈھلان پر لڑکھڑانے لگا تھا جب بابری مسجد مسماری کے بعد پورا شہر دوہفتے تک فرقہ وارانہ فسادات میں جھلستا رہا فسادات کے دو مہینوں کے بعد انڈرورلڈ نے بدلہ لینے کی کارروائی کے طو رپر سلسلہ وار بم دھماکہ کئے جن میں 250سے زیادہ لوگوں کی جانیں گئیں ،جن میں کئی مسلمان بھی تھے۔کئی لوگ مانتے ہیں کہ قانون کا سایہ اس دن سے اٹھنے لگا 1998میں دو جلدومیں فرقہ وارانہ فسادات پر آئی رپورٹ کو ہر حکومت نے نظر انداز کیا اور فسادات میں مبینہ طور سے شامل لیڈروں اور پولیس ملازمین پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی لیکن اسی وقت انتظامیہ نے ان کے خلاف ضروری کارروائی کی جو بم دھماکوں میں شامل تھے اس سے سرکار پر الزام لگا کہ وہ مسلم مخالف ممبئی شہر میں رہ رہے دو بڑے فرقوں کے درمیان اعتماد ختم ہونے لگا۔ ممبئی شہر پر کافی سراہی گئی کتاب ’’ممبئی فیبلس‘‘کے منصف کا کہنا ہے ممبئی کو اب تک ایک قانون پسند اور روشن خیال شہر کی شکل میں جانا جاتا رہا ہے لیکن اب تک تصوارات تصویر بن چکا ہے۔ 1990کے درمیان سے ہی سیاست دانوں بلڈروں،جرائم پیشہ ہندو کٹر پسند ،مسلم کٹر پسندوں کی سازش اب شہر کی رگوں میں دوڑتی ہے اب بھی تصویر کچھ بدلی بدلی دکھائی نہیں دیتا شہر ان سازشوں سے چرمرا گیا ہے اسی لئے اس پر حملہ کرنا مشکل نہیں لگتا۔اس کی راتوں کی چمک ،فلمی ستارو ں کے بنگلہ ، ہندوستان کے سب سے امیرشخص کی سب سے مہنگی عمارت ،اور ان سب پرتوں کے نیچے ممبئی شہر ایک تھکا ہوا کڑواہٹ سے بھرا ہوا شہر بن کر رہ گیا ہے۔اس کی بڑی آبادی جھونپڑپٹیوں میں رہتی ہے ۔ہزاروں لوگ آج بھی سڑکو ں پر رات گزارتے ہیں ۔ ان سب کے چلتے شہر خوش نما نہیں ہوسکتا ہر دھماکہ یا آفت کے بعد ممبئی اسپرٹ کا حوالہ اب بوسیدہ ہوگیا ہے۔
Tags: Anil Narendra, Bomb Blast, Congress, Daily Pratap, Mumbai, NIA, P. Chidambaram, Vir Arjun

21 مئی 2011

صرف معافی مانگنے سے کام نہیں چلے گا عوام کو صحیح جواب چاہئے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
21مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
حکومت ہند کی جانب سے پاکستان کو سونپی گئی 50 مشتبہ مطلوب بھگوڑوں کی فہرست میں 2003 میں ممبئی کے مولنڈ سمیت کچھ مقامات پر ہوئے دھماکوں میں نامزد وجیہی القمر خاں کو لیکر ہوئی گڑ بڑی کو معمولی کلیریکل غلطی کہہ کر معاملے کو رفع دفع نہیں کیا جاسکتا۔ وزارت داخلہ کے اس کلنڈر سے بھارت کی پاکستان سمیت پوری دنیا میں بے عزتی ہوئی ہے۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ہمارے دیش کی خفیہ ایجنسیوں میں آپسی تال میل میں کتنی کمی ہے۔ یہ ہماری سمجھ سے تو باہر ہے لیکن کیسے ان مطلوب بھگوڑوں کی فہرست بغیر صحیح جانچ پڑتال چیکنگ ، کراس چیکنگ کے بغیر جاری کردی گئی؟ اس فہرست میں ممبئی حملے کے ایک ملزم وجیہی القمر خاں جو کہ نہ صرف بھارت میں موجود ہے بلکہ ضمانت پر رہا بھی ہوگیا، اس کا نام اس فہرست میں کیسے آگیا؟ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم کا غلطی تسلیم کرنا کافی نہیں ہے۔ انہیں ان تین باتوں کا جواب دینا ہوگا۔ پہلی یہ کہ یہ فہرست کس نے بنائی تھی؟ کیا یہ کام کسی آرام پسند اور ضرورت سے زیادہ تنخواہ لینے والے بابو نے کروایا تھا ، جسے یہ معلوم ہے کہ اس کی نوکری نہیں جاسکتی اور اسے کسی کی پرواہ نہیں؟ دوسرا کیا یہ فہرست آئی بی ، راء اور این آئی اے و سی بی آئی میں پہلے بانٹی گئی تھی؟ اگر انہیں یہ فہرست دکھائی گئی تھی تو سی بی آئی کیوں خاموش رہی اور اس نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ وجیہی القمر خاں نامی شخص ممبئی کے مولنڈ علاقے میں موجود ہے اور فی الحال ضمانت پر رہا ہوا ہے۔اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ انٹیلی جنس بیورو کیا کررہی تھی جبکہ اس کا کام ہے جو ملزم ایسے سنگین معاملے میں ضمانت پر ہے اس پر گہری نگاہ رکھی جائے جو لگتا ہے اس نے نہیں کیا؟ اسے یہ بھی نہیں پتہ کہ وجیہی القمر خاں فی الحال رہتا کہاں ہے؟ جب تک ان سوالوں کا جواب چدمبرم نہیں دیتے تب تک اس معاملے میں غفلت کہاں ہوئی ہے ، کا پتہ نہیں چلے گا؟
انتہائی دکھ کی بات یہ ہے کہ ہماری خفیہ ایجنسیوں میں آپسی کوئی تال میل نہیں ہے اور ہمیشہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ سی بی آئی جیسی ایجنسی کو حکمراں پارٹی نے اپنے سیاسی مفاد کی تکمیل پر زیادہ توجہ دینے پر لگایا ہوا ہے بہ نسبت ملک دشمنوں کے خلاف نگرانی رکھنے کے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ بھی اپنی ذمہ داری نہیں بچ سکتے۔ وہ بیشک اب کہیں کہ وزیر داخلہ چدمبرم نے انہیں اندھیرے میں رکھا لیکن وزیر اعظم کا کام ہے کہ اتنے اہم مسئلے پر خود توجہ دیں۔ پاکستان تو ہمیشہ سے یہ ہی کہتا آرہا ہے کہ بھارت کی مانگ پر کوئی بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ واقعہ دیش کی ساکھ پر سوال بن کر کھڑا ہوگیا ہے۔ کیونکہ ہم کہتے رہے ہیں کہ ہم ثبوت دیتے آئے ہیں لیکن بھارت میں دہشت گردی کے واقعات کو پاکستان کی زمین سے انجام دیا جارہا ہے۔ ایسے میں اس طرح کی غلطی پاکستان کو اپنا موقف مضبوط کرنے کا موقعہ دے سکتی ہے۔ کیونکہ یہ ماننے کو وہ تیار نہیں ہے کہ بھارت میں دہشت گردی کے حملوں کو انجام دینے والوں کو اس نے پناہ دے رکھی ہے۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ بھارت اتنی لمبی مطلوب بھگوڑوں کی فہرست کیوں بناتا ہے؟ ہمیں تو گنے چنے مٹھی بھر ان سرغناؤں یا آتنکیوں کی چھوٹی فہرست دینی چاہئے جو ہمارے دیش کی سلامتی کے لئے سب سے زیادہ اہم ہوں۔
Tags: Anil Narendra, CBI, Dawood Ibrahim, India, NIA, P. Chidambaram, Pakistan, RAW, Vir Arjun, Wanted List

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...