Translater

Gujarat لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Gujarat لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

11 مئی 2012

ایمائکس کیوری کی نریندر مودی پر مقدمہ چلانے کی سفارش



Published On 11 May 2012
انل نریندر

2002ء کے گجرات فسادات وزیر اعلی نریندر مودی کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ ایس آئی ٹی کی جانب سے کلین چٹ ملے ابھی کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ ان کے سامنے نئی پریشانی کھڑی ہوگئی۔ سپریم کورٹ کے ذریعے مقرر ایمائکس کیوری (عدالت کے دوست) نے کہا ہے کہ 2002ء کے دوران مختلف طبقوں کے خلاف دشمنی بھڑکانے کے لئے آئی پی سی کے مختلف دفعات کے تحت نریندر مودی پر مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ زکیہ جعفری کی شکایت پر راجو رامچندر کی رپورٹ عدالت کے ذریعے مقرر اسپیشل تفتیشی ٹیم ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے ایک دم برعکس ہے۔ ایس آئی ٹی نے اس سے پہلے مودی اور دیگر کو کلین چٹ دے دی تھی۔ ایمائکس کیوری رامچندر نے رپورٹ میں کہا کہ ''میری رائے میں مودی کے خلاف ایک نظر میں جو کرائم کا معاملہ بنتا ہے وہ آئی پی سی کی دفعہ 153(A)(1)(B) کے تحت آتا ہے۔جس کے معنی نے مذہب کی بنیاد پر مختلف فرقوں کے درمیان دشمنی بھڑکانا۔ اسی طرح 153B(1) قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے۔ مودی پر دفعہ 166 کے تحت بھی مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ ایس آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں معطل آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا کہ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف غصہ نکالنے اور انہیں سبق سکھانے دیا جائے۔ بھٹ نے سپریم کورٹ کے سامنے اس سلسلے میں حلف نامہ داخل کیا تھا۔ ایس آئی ٹی نے گلبرگ سوسائٹی فسادات پر اپنی رپورٹ ذکیہ جعفری کو سونپی تھی۔ گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے فسادات میں ذکیہ جعفری کے شوہر سابق ایم پی احسان جعفری سمیت 69 لوگ مارے گئے تھے۔ سپریم کورٹ کے وکیل ڈی کے گرگ کے مطابق ایمائکس کیوری کی رپورٹ کو ذکیہ ہائی کورٹ میں بنیاد بنا سکتی ہیں۔ نچلی عدالت کی جانب سے انکار کے بعد یہ رپورٹ ان کے موقف کو مضبوط کرنے کے لئے کافی ہے۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ مودی اس سچائی سے نہیں بھاگ سکتے کہ گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے قتل عام کے لئے وہ ذمہ دار ہیں۔ دوسری طرف بھاجپا نیتا ارون جیٹلی کا ماننا ہے کہ مجرمانہ سزا عمل دفعہ یا شہادتی قانون کے تحت کسی وکیل یا ایمائکس کیوری کے نظریئے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جانچ پولیس کا کام ہے، کسی وکیل کا نہیں۔ ایس آئی ٹی کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر بھاجپا پیر کو نریندر مودی کی حمایت میں کھل کر کھڑی ہوگئی۔ بھاجپا نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ سے ثابت ہوگیا ہے کہ گجرات اور نریندر مودی کے خلاف کانگریس اور کچھ خودساختہ سماجی تنظیموں نے بدنامی کرنے کی مہم چلائی تھی۔ آخر سچائی کی جیت ہوئی ہے۔'' بھاجپا ترجمان جاویڈکر نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اس کی تشکیل سپریم کورٹ نے کی تھی اور اس میں گجرات سرکار کا کوئی بھی افسر نہیں تھا۔جاویڈکر کا کہنا ہے گجرات دنگوں پر سوال اٹھانے والی کانگریس پچھلے وقت کے دنگوں میں ملوث فسادیوں کو اب تک کیوں سزا نہیں دلا سکی جبکہ گجرات دنگوں کے قصورواروں کو سزا ملی ہے اور مل رہی ہے۔ کانگریس بلا وجہ گجرات کو دنیا میں بدنام کررہی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, Narender Modi, Supreme Court, Vir Arjun

25 مارچ 2012

ضمنی چناؤ نتائج کانگریس اور بھاجپا کیلئے تشویش پیدا کرتے ہیں



Published On 25 March 2012
انل نریندر
تازہ ضمنی چناؤ نتائج اگر کانگریس کے لئے تشویش کا باعث ہیں تو آندھرا پردیش کی 7 اسمبلی سیٹوں پر ہوئے ضمنی چناؤ میں اس کا صفایا ہونے کی خبر تو پارٹی کے لئے اچھااشارہ نہیں ہے۔ یہ ضمنی چناؤ بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے بھی اچھے اشارے نہیں دے رہے ہیں۔ گجرات کو بھاجپا اپنا گڑھ مانتی ہے اور کرناٹک میں بھی وہ قریب چار سال سے اقتدار میں ہے لیکن ان ریاستوں میں اسے ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ ان دونوں ریاستوں میں کانگریس اور بھاجپا ہی خاص حریف ہیں۔ اس لئے بھی یہ ہار بھاجپا کیلئے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ کرناٹک کی اڈوپی ۔چکمگلور سیٹ وزیر اعلی سدانند گوڑا کی تھی، وزیر اعلی چنے جانے کے بعد انہوں نے ہی اس سیٹ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ظاہر ہے اس سیٹ کو برقراررکھنا بھاجپا کے لئے وقار کا سوال تھا۔ مگر یہاں اسے کانگریس کے ہاتھوں 45 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے مات کھانی پڑی۔ صاف ہے کہ اقتدار کے خاطر پارٹی کے اندر جاری جوڑ توڑ اور رسہ کشی اور کرپشن کے الزامات اور اسمبلی میں فحاشی ویڈیو دیکھے جانے کے واقعہ سے ساکھ خراب ہوئی اس کا خمیازہ پارٹی کو بھگتنا پڑا ہے۔ ڈسپلن کا دم بھرنے والی بھاجپا کے لئے آج ڈسپلن شکنی ہی سب سے بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔
گجرات میں منسا اسمبلی سیٹ بھاجپا کے ہاتھ سے نکل کر کانگریس کی جھولی میں آنا وزیر اعلی نریندر مودی کے لئے بھی جھٹکا ہے۔ غورطلب یہ بھی ہے کہ منسا اسمبلی سیٹ گاندھی نگر لوک سبھا حلقے میں آتی ہے۔ جس کی نمائندگی لال کرشن اڈوانی کرتے ہیں لیکن یہ پہلا موقعہ نہیں جب بھاجپا کے اس گڑھ میں سیند لگانے میں کانگریس کو کامیابی ملی ہے۔ پچھلے سال نومبر میں میونسپل انتخابات میں بھی بھاجپا کی درگتی ہوئی تھی اس سال کے آخر میں ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، اس لئے منسا کی ہار جہاں نریندر مودی کے لئے تشویش کا باعث ہونا چاہئے وہیں کانگریس ضرور اس سے خوش ہوگی۔ آندھرا پردیش کانگریس کے لئے سب سے بڑا گڑھ رہا ہے۔ 2009ء کے لوک سبھا چناؤ میں کانگریس یہاں 95 فیصدی سیٹیں جیت کر سیاست کے پنڈتوں کو چکمہ دے گئی تھی لیکن اس کے کرشمائی لیڈر سورگیہ راج شیکھر ریڈی سے اچانک موت اور ان کے صاحبزادے جگنموہن ریڈی کے کانگریس سے الگ ہونے کے بعد اس کا اثر شروع ہوگیا۔ اس کے بعد ریاست میں 17 اسمبلی اور 2 لوک سبھا سیٹوں پرضمنی چناؤ ہوچکا ہے، جس میں حکمراں کانگریس کا پوری طرح صفایا ہوگیا ہے۔ جہاں کانگریس ایک بھی سیٹ نہیں جیت پائی وہیں بھاجپا جیسی پارٹی جس کا صوبے میں زیادہ اثر نہیں ہے ، وہ بھی تین سیٹیں جیت چکی ہے۔ مرکزی سرکار میں بڑے گھوٹالوں کے انکشاف کے بعد کانگریس کو مہاراشٹر، راجستھان اور دہلی میں ہوئے ضمنی چناؤ میں بھی زبردست ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جہاں اس کی حکومتیں ہیں یہاں بھی ممبئی میونسپل چناؤ میں بھی اسے ہار کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ یعنی ہر اس جگہ سے کانگریس کو بری خبر مل رہی ہے جہاں اس کے پاس اچھی طاقت ہے۔ کیرل میں ہوئے ضمنی چناؤ میں کانگریس کی ساتھی پارٹی کانگریس(جیکب) نے اپنی سیٹ برقرار رکھی ہے۔ یہ نتیجہ کانگریس کے لئے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ ریاست میں اس کی قیادت والی یوپی اے سرکار معمولی اکثریت پر ٹکی ہے۔ تملناڈو اور اڑیسہ میں بھی ایک ایک اسمبلی سیٹ پر ہوئے ضمنی چناؤ حکمراں پارٹی کے حق میں گئے ہیں۔ ویسے ضمنی چناؤ نتائج کو ہر حال میں عوامی رجحان کا اشارہ تو نہیں مانا جاسکتا لیکن کئی ریاستوں سے وہاں کے ووٹروں کے مزاج کا ضرور اشارہ ملتا ہے اور یہ اشارے نہ تو کانگریس کے لئے اچھے ہیں اور نہ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, By Poll, Karnataka, Andhra Pradesh, Gujarat, Modi, BJP, Congress,

12 فروری 2012

نریندرمودی کو ملی کلین چٹ

گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی نے تھوڑی راحت کی سانس ضرور لی ہوگی خبر ہے کہ گجرات دنگوں پر اپنی انترم رپورٹ میں اسپیشل جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) نے وزیر اعلی مودی کو کلین چٹ دینے سے متعلق اپنی رپورٹ میٹروپولیٹن عدالت کو سونپ دی ہے۔ فسادات میں مارے گئے سابق کانگریسی ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری کی عرضی پر جانچ ٹیم بنائی گئی تھی۔لفافے میں بند رپورٹ سماجی رضاکار تستا سیتل واڑ جن سنگھرش منچ اور ذکیہ کے وکیل کی موجودگی میں 13 فروری کو یہ رپورٹ عدالت میں کھولی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعلی مودی اور ان کے کیبنٹ ساتھیوں اور سرکاری افسران کے خلاف جانچ ٹیم کو کوئی ثبوت ہاتھ نہیں لگا ہے۔ گجرات دنگوں کے معاملوں سمیت کئی اہم اشوز پر خاص عدالت کا کردار نبھا رہے سینئر وکیل راجو رام چندرن نے بھی ایس آئی ٹی سے اتفاق کیا ہے۔ رام چندرن اور ایس آئی ٹی دونوں کا خیال ہے کہ گودھرا کانڈ میں مارے گئے کارسیوکوں کی لاش احمد آباد لانے کا فیصلہ صحیح تھا۔ مودی نے فساد روکنے کی پوری کوشش کی جبکہ ان کے خلاف آئی پی ایس افسر کی طرف سے دئے گئے ثبوت اور گواہی کو مخالفین کی سیاست سے مبنی مانتے ہوئے ان پر زیادہ غور نہیں کیا گیا۔
اوپر والے کا کھیل بھی نرالہ ہے۔ کئی بار اچھی دھوپ کھلی ہوتی ہے اور آسمان سے بارش ہونے لگتی ہے یا تیزی ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں ایسے ہی قدرت کی طرح ہی مودی کو طوفانی تھپیڑوں کے ساتھ راحت دینے والی چھاؤں مل جاتی ہے۔ بدھوار کو گجرات ہائی کورٹ نے 2002ء میں گودھرا کانڈ کے بعد بھڑکے فسادات کے دوران مناسب کارروائی نہ کرنے اور لاپروائی برتنے کے ریمارکس کے ساتھ مودی سرکار کی مذمت کی تھی۔ عدالت نے ایک مفاد عامہ کی عرضی کو صحیح مانتے ہوئے فسادات کے دوران بڑے پیمانے پر مذہبی مقامات کے ڈھہ جانے کے لئے ریاستی سرکار کے نکمے پن کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ عدالتی حکم کی زخم پر24 گھنٹوں میں ہیں اس دوسری جانچ رپورٹ نے نہ صرف مرحم ہی لگا دیا بلکہ مودی کو کلین چٹ دے کر ایک بہت بڑے داغ کو دھو دیا۔ اگر اس رپورٹ کو صحیح مانا جائے تو اس کا مطلب ہے کہ اب اس کیس کو بند کردینا چاہئے۔ دو مختلف جانچ رپورٹوں نے مودی کو کلین چٹ دے دی ہے اور یہ صاف ہے کہ جو لوگ اپنے اپنے سیاسی ایجنڈے کے تحت مودی کو بدنام کرنے پر تلے ہیں وہ بری طرح سے ناکام ہوگئے ہیں۔ ایس آئی ٹی نے خودساختہ ثبوتوں اور گواہوں کو کوئی اہمیت نہیں دی اور صاف کہہ دیا کہ مودی کے خلاف سیاسی اغراز پر مبنی جھوٹے الزام لگائے گئے ہیں۔ جمعرات کو عدالت میں دی گئی رپورٹ سرکاری طور پر افشاں نہیں ہوئی ہے لیکن انتظامی سطح پر ہی چھن چھن کر باہر آئی اطلاعات کے مطابق رپورٹ میں فسادات کے لئے وزیر اعلی نریندر مودی کو پوری طرح سے الزام سے بری کردیا گیا ہے۔ 13 فروری کو جب یہ رپورٹ عدالت میں سرکاری طور سے کھولی جائے گی تب اس کے بارے میں اور مفصل جانکاری ملے گی فی الحال تو نریندر مودی کے لئے بہت بڑی اچھی خبر ہے جس سے انہوں نے راحت کی سانس ضرور لی ہوگی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, Narender Modi, Vir Arjun

31 جنوری 2012

کیا دیش کے اگلے وزیر اعظم نریندر مودی ہوسکتے ہیں؟


Published On 31st January 2012
انل نریندر
آج اگر لوک سبھا چناؤ ہوجائیں تو ایک عوامی ریفرنڈم کے دعوے کے مطابق یوپی اے محاذ کو بھاری نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے اور کانگریس کی قیادت والے راہل گاندھی کے مقابلے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو وزیر اعظم کی شکل میں بڑھت مل سکتی ہے۔ او آر جی نیلسن کی جانب سے کرائے گئے ملک گیر سروے کے جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ آج کی حالت میں چناؤ ہونے پر این ڈی اے کو 180 سے190 سیٹیں اور تیسرے مورچے کو بھی اتنی ہی سیٹیں ملیں گی جبکہ یوپی اے کو 168 سے177سیٹیں ملنے کی امید ظاہر کی گئی ہے۔ سروے میں ایک دلچسپ سوال یہ بھی تھا کہ اگر انا ہزارے اور راہل گاندھی آمنے سامنے ایک ہی سیٹ پر مقابلہ کررہے ہوں تو آپ کس کو ووٹ دیں گے؟ اس سوال پر60 فیصد لوگوں نے انا ہزارے کی حمایت میں اپنا ووٹ دیا۔سب سے دلچسپ سوال تھا کہ وزیر اعظم کس کو دیکھنا چاہیں گے؟ وزیراعظم کے امیدوار کی شکل میں اگست2010 ء کے سروے کے مقابلے راہل گاندھی کی مقبولیت کا گراف 24 فیصد سے گھٹ کر17 فیصد آگیا ہے جبکہ نریندر مودی کا گراف12 سے بڑھ کر 45 فیصد تک پہنچ گیا ہے باقی لیڈر بہت نیچے ہیں۔ مثال کے طور پر اس سروے کے مطابق بھاجپا کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی کی مقبولیت حالانکہ 4 سے بڑھ کر10 فیصد ہوگئی ہے لیکن مودی کے وہ بہت پیچھے ہیں۔ تازہ سروے میں اڈوانی، منموہن سنگھ اور سونیا گاندھی کی مقبولیت ایک ساتھ یعنی10-10 فیصد پر آگئی ہے۔ یہ سروے ایسے وقت آیا ہے جب پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات جاری ہیں۔ سروے میں 19 ریاستوں میں اندازاً90 فیصد پارلیمانی حلقوں کے 12 ہزار سے زیادہ لوگوں کی رائے لی گئی۔ نریندر مودی آج جنتا کی نمبرون پسند ہیں۔ نریندر مودی کو ماننا پڑے گا کہ ان کے ستارے روشن ہیں۔ بدقسمتی دیکھئے کے مودی کی سب سے کٹر سیاسی مخالف پارٹی کانگریس نے بھی غلطی سے ان کی تعریف کر ڈالی۔خبر پھیل گئی لیکن ایسا ہوا ہے کہ یوم جمہوریہ کے موقعہ پر بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے گجرات کے کچھ حصوں میں اخبارات کے ساتھ دو صفحے کا ایک اشتہار شائع کروایا اس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ گجرات وجود میں آنے کے ساتھ ہی ترقی یافتہ ریاست بن گیا۔ اس میں نریندر مودی سمیت ریاست کے سبھی وزراء اعلی کے اشتراک کو دکھایاگیا ہے۔اس میں مودی کی تصویر کے ساتھ انہیں با صلاحیت تنظیمی منتظم اور ماہر چناوی حکمت عملی بتایا گیا ہے۔گجرات میں اس سال دسمبر میں اسمبلی چناؤ ہونے ہیں۔ چناؤ مہم تقریباً شروع ہوچکی ہے۔ اشتہار میں مودی کی اہم کامیابیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ مودی گجرات کو طاقتور ریاست میں تبدیل کرنے کے لئے بڑی محنت کررہے ہیں ۔ انہوں نے بایو ٹیکنالوجی کے لئے الگ محکمہ بنایا ہے۔ اس اشتہار کے شائع ہوتے ہی کانگریس میں گھماسان مچنا فطری ہی تھا۔ پارٹی کے بڑے لیڈر جہاں اسے بیوقوفی بھرا قدم بتا رہے ہیں تو وہیں ہائی کمان نے پردیش یونٹ اور انچارج موہن پرکاش سے جواب طلب کیا ہے۔ حالانکہ کانگریس لیڈر و مرکزی وزیر راجیو شکلا نے اسے مودی کی تعریف والا نہیں بلکہ ان پر ایک بڑا تنقید کرنے والا قراردیا ہے۔ اس اشتہار میں طنز کہاں ہے، اپنی سمجھ سے تو باہر ہے۔ اس میں سیدھی مودی کی تعریف بیان کی گئی ہے۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Manmohan Singh, Narender Modi, Vir Arjun

21 جنوری 2012

گجرات ہائی کورٹ نے لوک آیکت معاملے میں دیا مودی کو جھٹکا



Published On 21th January 2012
انل نریندر
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو لوک آیکت معاملے میں یقینی طور سے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے سے جھٹکا لگا ہے۔ گجرات ہائی کورٹ نے گورنر کی جانب سے لوک آیکت مقرر کرنے کو پوری طرح سے آئینی اور قانونی طور پر جائز ٹھہرایا ہے۔ لوک آیکت کی تقرری کو لیکر مودی حکومت کے ٹال مٹول کے بعد گورنر محترمہ کملا بینی وال نے پچھلے سال25 اگست کو ریٹائرڈ آر اے مہتہ کو ریاست کا لوک آیکت مقرر کیا تھا۔ گجرات میں نومبر 2003ء سے لوک آیکت کا عہدہ خالی پڑا تھا۔گورنر نے جسٹس مہتہ تو لوک آیکت قانون 1986 کی ضمنی دفعہ3 کے مخصوص اختیارات کا استعمال کرکے مقرر کیا تھا۔ 26 اگست کو گجرات حکومت نے ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔ تین مہینے پہلے ہائی کورٹ نے منقسم فیصلہ دیا تھا۔ بدھوار کو تیسرے جج وی ایم سہائے کی عدالت نے اختلافی نقطوں پر سماعت کے بعد گورنر کے فیصلے کو صحیح ٹھہرایا تھا۔ دونوں فریقین کے وکیلوں کی رائے اپنے حساب سے رکھی گئی تھی۔ عقیل قریشی کا کہنا تھا کہ لوک آیکت کی تقرری صحیح اور آئین کے تحت ہے جبکہ سونیا بین گونکنی کا کہنا تھا کہ مہتہ کو لوک آیکت مقرر کرنے کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔ اب معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ گجرات حکومت نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کردیا ہے۔ یہ اچھا ہوا کہ یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں پہنچ گیا۔ پچھلے سال پورے وقت دیش میں کرپشن پر روک لگانے کیلئے لوکپال قانون کی مانگ گونجتی رہی۔ اس شور و غل کے درمیان لوگوں کو یاد نہیں رہا کہ کئی ریاستوں میں کرپشن پر نظررکھنے کے لئے لوک آیکت نامی ایک ادارہ پہلے سے ہی قائم ہے۔ ہم نے گذشتہ دنوں بھی یہ دیکھا کہ لوک آیکت کیا کیا کرسکتے ہیں۔ اترپردیش میں لوک آیکت نے مایاوتی سرکار کا ناک میں دم کررکھا ہے اور نتیجے کے طور پر کئی وزرا ء کو باہرکا راستہ دکھانے پر مایاوتی مجبور ہوئیں یہ بات اور ہے کہ ریاستوں میں لوک آیکتوں کے وجود اور ان کے اختیارات وہاں کی حکومتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔کئی ریاستوں نے تو اتنے ہنگامے کے باوجود لوک آیکتوں کو اب تک ضروری نہیں سمجھا اور کچھ ریاستوں نے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس عہدے کو بنایا تو لیکن اپنے حساب سے کاٹ چھانٹ کرتے ہوئے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے لوک آیکت کے معاملے میں پورے دیش میں ایک رائے سامنے آئے گی اور پارٹیوں کو مرکز بنام ریاست کی آڑ میں سیاست کرنے کا موقعہ نہیں ملے گا۔ گجرات کا نمونہ آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے ۔ گجرات بیشک اپنے صنعت اور کاروبار کے لئے سب سے معقول ریاست ہونے کا پروپگنڈہ کرتا رہے لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ریاست پچھلے 8 برسوں سے لوک آیکت کے بغیر چل رہی تھی۔ وہاں کے گورنر اور وزیر اعلی کی چخ چخ کے بارے میں سبھی جانتے ہیں۔ویسے بھی پچھلے کچھ عرصے سے لگتا ہے کہ نریندر مودی میں تھوڑا غرور آگیا ہے۔ یہ جھٹکا ان کیلئے بھی اچھا ہے۔ اب وہ تھوڑا زمین پراتریں گے۔ مودی سرکار کہہ رہی ہے کہ گورنر نے ریاستی کیبنٹ کی توثیق کے بغیر لوک آیکت بنا کر ریاست کے اختیارات میں مداخلت کی ہے جبکہ 2-1 سے آئے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے میں وزیراعلی کے طریقہ کار کی بخیا ادھیڑی گئی ہیں۔ فیصلے میں مودی کی نکتہ چینی میں بھی کہا گیا ہے کہ وہ ریاست میں لوک آیکت قانون میں تبدیلی لا کر چیف جسٹس کو ہی تقرری عمل سے ہٹانا چاہتے تھے۔ سچائی کیا ہے یہ تو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی پتہ چلے گا لیکن اندرونی طور سے ابھی دونوں فریق صحیح لگ رہے ہیں۔ بیشک گورنر مرکز کے نمائندے ہوتے ہیں اس لئے اپنی من مرضی ریاست کی منتخبہ سرکار پر نہیں تھونپ سکتے۔ مودی کو ان ریاستوں سے حمایت مل سکتی ہے جہاں غیر کانگریسی حکومتیں ہیں لیکن آج کی تاریخ میں کرپشن روکنے کے کسی بھی عمل کو روکنے کی کوشش جنتا کو نہیں پسند آئے گی۔ مودی کی لڑائی سیاسی ہے دائرہ اختیارات کے قبضے کا معاملہ ہے وہ کرپشن کو روکنے کے خلاف نہیں دکھانا چاہئے۔ دلچسپ یہ بھی ہے کہ جو بھاجپا مضبوط لوکپال کی وکالت کرتی نظر آتی ہے اور جس نے متعلقہ بل میں ایک ترمیم یہ بھی تجویز کی تھی کہ لوکپال کے انتخاب میں مرکزی حکومت کا رول کم کیا جائے۔ وہ اس بات کو لیکر ناراض رہی ہے کہ گجرات میں لوک آیکت کی تقرری ریاستی حکومت کی مرضی سے کیوں نہیں کی گئی۔ کیا پارٹی یہ چاہتی ہے کہ لوک آیکت کون ہو ، اور اس کے اختیارات کیا ہوں ، اس کا فیصلہ ریاستی حکومتوں کے اوپر چھوڑ دیا جائے؟ پھرکیا ایسا سسٹم کرپشن کو روکنے میں پائیدار ثابت ہوسکتا ہے؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, Lokayukta, Narender Modi, Vir Arjun

24 نومبر 2011

عشرت جہاں فرضی مڈ بھیڑ تھی



Published On 24rd November 2011
انل نریندر
گجرات کی نریندر مودی سرکار کو گجرات ہائی کورٹ نے ایک زبردست جھٹکادیا ہے۔ 2004 کے عشرت جہاں معاملے کی جانچ کررہی اسپیشل انوسیٹی گیٹنگ ٹیم نے کہاہے کہ عشرت کو فرضی مڈ بھیڑ میں ماراگیا تھا۔ اپنی رپورٹ میں ایس آئی ٹی نے کہا ہے کہ عشرت اور دیگر تین کو مڈ بھیڑ کی تاریخ 15جون 2004 سے پہلے ماراگیا تھا۔ یہ تین لوگ جاوید شیخ عرف پرنیش پلئی، امجد علی رانا اورذیشان جوہرتھے۔ غورطلب ہے کہ احمد آباد کرائم برانچ نے 15جون 2005 کو ایک انڈیکا کار پکڑوانے کا دعوی کیاتھا۔ بعد میں اس نے چار لوگوں کو مڈ بھیڑ میں مار گرایا۔ اس مڈبھیڑ کوا نجام دینے والی ٹیم کی سربراہی آئی پی ایس ڈی جی بنجارہ کررہے تھے انہو ں نے مارے گئے لوگوں کو لشکر طیبہ سے جڑے ہونے کادعوی کیا تھا۔انہوں نے یہ بھی کہاتھا یہ سبھی نریندر مودی کو مارنے کے مشن پر تھے۔ ایس آئی ٹی نے گجرات ہائی کورٹ میں گزشتہ 18نومبر کو اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔ جسٹس جینت پٹیل اور ابھیلاشہ کماری نے مڈبھیڑ میں شامل پولیس والو ں کے خلاف سیکشن 302(قتل) کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کاحکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ کی ہدایت کے ساتھ اب کئی آئی پی ایس افسروں سمیت 24 سے زیادہ پولیس ملازمین کے خلاف معاملے میں ایف آئی آر درج ہوگی۔ ایس آئی ٹی کایہ نتیجہ خاص طور پر چونکانے والا ہے کہ ان لوگوں کو پہلے ہی کہیں گمنام جگہ مارڈالا گیا۔ چونکہ اس مڈ بھیڑ کے بعد کرائم برانچ نے دعوی کیاتھا۔ مارے گئے آتنکی نریندر مودی کو مارنے آئے تھے۔ اس لئے اگرکچھ لوگ اس نتیجے پرپہنچ رہے ہیں کہ پولس نے سرکار کی واہ واہی حاصل کرنے یا میڈل پانے کی خاطر چار لوگوں کو مڈ بھیڑ میں مارگرایا تو یہ ناقابل حالت ہے۔ گجرات پولیس پہلے ہی سے مڈ بھیڑ معاملے کے گھیرے میں آچکا ہے۔ اس معاملے میں ریاستی سرکار بھی کٹھگرے میں کھڑی ہے کیونکہ یہ پہلی مرتبہ نہیں جب اس پر فرضی مڈ بھیڑ کرانے کاالزام لگاہو۔ 2005 میں ہوئی اس مڈ بھیڑ میں گجرات پولیس نے خطرناک جرم سہراب الدین کو مارگرانے کادعوی کیاتھا۔ یہ محض اتفاق نہیں ہوسکتا یہ دعوی بھی جھوٹانکلا۔ اس فرضی مڈ بھیڑ کے سلسلہ میں تو خودگجرات کے سابق وزیرداخلہ شبیہ کے گھیرے میں ایس آئی میں ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے حوالے سے بنچ نے کہاہے کہ انکاؤنٹر کی جوتاریخ دکھائی گئی ہے حالانکہ اس تاریخ کو انکاؤنٹر ہوا ہی نہیں تھا۔ مڈ بھیڑ کی جگہ کاتضاد ہے۔ جس سے مڈ بھیڑ فرضی لگتی ہے قابل ذکر ہے کہ تمانگ نے اپنی رپورٹ میں مڈ بھیڑ کی تاریخ 4جون 2004 بتائی گئی تھی۔ ساتھ ہی کہا ہے کہ جاوید کواس دن رات 8یا 9 بجے کے وقت میں ماراگیاتھا۔ باقی تین افراد کو 11سے 12 کی معیاد میں ٹھکانے لگایاگیا۔ اگلے دن 15جون کو پولیس انڈیکا کار چلا کریا ٹائنگ کرواردات کے پرچارت مقام پر پلاٹ کردیا۔ بے شک عشرت جہاں کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ وہ لشکر ورکر تھی اور نریندر مودی کاقتل کرنے کے ارادے احمد آباد آئی تھی لیکن پھر بھی جس ڈھنگ سے گجرات پولیس نے اس کو مارا وہ کسی بھی انصاف پرست دیش کے لئے ناقابل قبول ہے۔ ان مقدموں کی جانچ اور کارروائی پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔ بھلے ہی فی الحال گجرات پولیس فرضی مڈ بھیڑ کو لے کر کٹھگرے میں کھڑا ہوا لیکن حقیقت یہ توہے اس طرح کی مڈبھیڑ دیش کے دیگر حصوں میں بھی رہ رہ کر ہوتی رہتی ہے۔ یہ مسئلہ کتنا سنجیدہ ہے اس کے لئے ثبوت پولیس مظالم سے متعلق ان اعداد وشمار ملتے ہیں۔ جن میں اچھی خاصی تعداد میں فرضی مڈ بھیڑ ہوئی ہیں اور چونکہ ان کی جانچ خود پولیس کرتی ہے۔ سچائی سامنے نہیں آتی۔ فرضی مڈ بھیڑ اختیارات کابے جااستعمال ہوتا ہے اورمذہب سماج میں اس طرح کے عمل کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوسکتی۔ سابق داخلہ سکریٹری جی کے پلئی نے گجرات سرکار کے اس دعوے کی تصدیق کی ہے عشرت اور دیگر لوگ مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث لشکرطیبہ کی ویب سائٹ عشرت کو شہید کادرج دیاتھا۔
Anil Narendra, Batla House Encounter, Daily Pratap, Gujarat, Ishrat Jahan, Vir Arjun

15 نومبر 2011

سردار پورہ مقدمے میں فیصلے کا خیر مقدم ہے




Published On 15th November 2011
انل نریندر
کافی جدوجہد اور قانونی داؤ پیچ اور طویل انتظار کے بعد آخر کار گجرات میں گودھرا سابرمتی ایکسپریس میں ہوئے آگ سانحہ کے بعد بھڑکے فرقہ وارانہ فسادات سے وابستہ معاملے میں پہلا فیصلہ آگیا ہے۔ محسانا ضلع کے سردار پورہ گاؤں میں ہوئے اس دنگے میں 37 لوگ مارے گئے تھے۔ اس قتل عام میں خصوصی عدالت نے 31 ملزمان کو قصوروار قراردیا ہے اور انہیں عمر قید سنائی ہے۔ قصورواروں کو قتل ،فساد اور اقدام قتل کی کوشش سمیت18 دفعات کے تحت سزا سنائی گئی۔ جسٹس ایس سی شریواستو کی عدالت نے اپنے ایک ہزار صفحات پر مبنی فیصلے میں 42 ملزمان کو بری کردیا ہے۔ ان میں سے 11 کو ثبوتوں کی کمی کے سبب چھوڑا گیا ہے۔ دیگر 31 کو شبہ کا فائدہ ملا ہے۔ اس معاملے میں کل 76 ملزمان تھے ان میں ایک نابالغ بھی ہے جبکہ دو کی موت ہوچکی ہے۔ دنگا متاثرین کی جانب سے لڑ رہے ریاست کے سابق ڈائریکٹر جنرل آر بی شری کمار نے کہا کہ یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ دیش میں اس سے پہلے فرقہ وارانہ فسادات کے مقدمے میں تاریخ میں اتنے لوگوں کو کبھی ایک ساتھ سزا نہیں ہوئی تھی۔ ایسا تو بھاگلپور اور بیسٹ بیکری معاملوں میں بھی نہیں ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) گودھرا فسادات کے بعد 9 معاملوں کی جانچ کررہی ہے۔ یہ پہلا معاملہ ہے جس میں فیصلہ آیا ہے۔ ایس آئی ٹی کے سربراہ آر کے راگھون نے بتایا کہ یہ فیصلہ تسلی بخش ہے ، میں اس سے خوش ہوں۔ یہ میرے افسران کی کڑی محنت کا پھل ہے۔
سردار پورہ میں ہوا دنگا گجرات میں ان بڑے 9 فسادات میں شامل ہے جن میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا تھا اور سپریم کورٹ نے جن کی جانچ کے لئے ایس آئی ٹی بنائی تھی۔ ان دنگوں کا آغاز27 فروری 2009 کو گودھرا میں ایودھیا سے آرہی سابرمتی ایکسپریس ٹرین میں کارسیوکوں پر قاتلانہ حملے کے بعد ہوا تھا جس میں 59 لوگ مارے گئے تھے۔ فسادات کا داغ گجرات سرکار خاص کر وزیر اعلی نریندر مودی کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ آج بھی انہیں ان دنگوں کے لئے ہر جگہ جواب دینا پڑتا ہے۔ دراصل گودھرا اور اس کے بعد ہوئے فسادات کو لیکر اتنی سیاست ہوئی کبھی تو ایسا لگنے لگاتھا کہ شاید ہی متاثرین کو انصاف ملے۔ الزام در الزام گواہوں کا مکرنا، غائب ہونا، گواہی کا سلسلہ ایسا چلا کہ اصل اشو تو بیچ میں ہی دب گیا۔ اس فیصلے کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ عدالت نے قتل اور اقدام قتل، فسادات اور دیگر الزامات کو تو صحیح پایا مگر عدالت نے مجرمانہ سازش کے الزامات کو مسترد کردیا۔ اس فیصلے کے بعد ایس ٹی ایف کی کارگذاری کو لیکر سوال اٹھنا فطری ہی ہے۔ مجرمانہ سازش کو ثابت نہ کرپانا اس کی ناکامی ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ اس فیصلے کو نفع نقصان کی شکل میں لینے کے بجائے انصاف کی شکل میں دیکھنا چاہئے۔ اس فیصلے سے یہ تو ثابت ہوجاتا ہے کہ سماج میں گھناونے تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی صاف ہوا ہے کہ انصاف میں بھلے ہی دیر ہو اندھیر نہیں۔ وقت ضرور لگا لیکن آخر کار انصاف ملا۔ امید ہے دنگوں سے وابستہ سبھی معاملوں کا نپٹارہ جلد ہوگا تاکہ اس بابا کا خاتمہ ہوسکے۔
Anil Narendra, Court, Daily Pratap, Godhra, Gujarat, Vir Arjun

21 اکتوبر 2011

کیا نریندر مودی پارٹی سے اوپر ہوچکے ہیں؟




Published On 21st October 2011
انل نریندر
کچھ وقت پہلے سے گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی اور ان کی پارٹی بھاجپا کے درمیان کچھ حساب کتاب ٹھیک نہیں لگ رہا ہے۔ بھاجپا میں مودی کو لیکردونوں ناراضگی اور علیحدگی پسندی کا جذبہ پیدا ہونے لگا ہے۔ بھاجپا کی لیڈر شپ کا ماننا ہے کہ نریندر مودی کو اب غرور ہوگیا ہے اور وہ اپنے آپ کو پارٹی سے اوپر ماننے لگے ہیں۔ پارٹی نے مودی کو ان کی حیثیت کا احساس کروانا شروع کردیا ہے۔ لال کرشن اڈوانی کی جن چیتنا یاترا پر آنکھیں دکھانے والے نریندر مودی کو اس یاترا میں بالکل نظر انداز کردیا گیا ہے۔ وہ کہیں نظر نہیں آرہے ہیں اور اب اخباروں میں ان کی سرخیاں بھی کم دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ اڈوانی جی نے اپنی یاترا میں بھاجپا کی طرف اور تمام وزیر اعلی کے کام کاج اور کارناموں کا ذکر کیا ہے لیکن انہوں نے ابھی تک کسی بھی بڑے جلسے میں نریندر مودی کا نام تک نہیں لیا ہے۔ یہ ہی اڈوانی پہلے نریندر مودی کو ایک مثالی وزیر اعلی کے طور پر پیش کرتے نہیں تھکتے تھے۔ بھاجپا لیڈر شپ کا خیال ہے کہ مودی کا سیاسی قد کافی بڑا ہوسکتا ہے اور انہیں احساس کرانے کی ضرورت ہے ۔پارٹی ان کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ پارٹی سے ہیں۔ اس مسئلے پر اب غور کیا جارہا ہے کہ اگلے سال اترپردیش و دیگر ریاستوں میں اسمبلی انتخابات میں مودی کو پرچار کے لئے نہ بلایا جائے۔ پارٹی کو لگتا ہے کہ وہ اپنی کٹر پسند ہندوتو ساکھ کے سبب اگر مودی پرچار کرتے ہیں تو تمام مسلمان بکھرجائیں گے۔ بھاجپا کا مودی کی وجہ سے اختلاف کرنا شروع کردیں گے۔ بھاجپا کو یہ معلوم ہے ایک بھی مسلمان ووٹ اسے ملنے والا نہیں لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتی کہ بلاوجہ مسلمان پارٹی کے خلاف جارحانہ رویہ اختیارکرلے۔ پارٹی اترپردیش میں پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقے کو اپنے ساتھ جوڑنے کیلئے نتیش کمار کی مدد لینا بہتر متبادل سمجھنے لگی ہے۔ نتیش کمار نریندر مودی کے کٹر مخالف مانے جاتے ہیں یہ محض اتفاق نہیں کہ مسٹر اڈوانی نے اپنی جن چیتنا یاترا کو بہار سے شروع کیا اور اس یاترا کو ہری جھنڈی بھی نتیش کمار نے ہی دکھائی تھی۔ بہار اسمبلی چناؤ کے دوران بھی انہوں نے مودی کو ریاست میں نہ بھیجنے کی وارننگ دی تھی۔ بھاجپا نے اس پر عمل کیااور نتیجے سب سامنے ہیں۔آج نتیش کمار این ڈی اے کے سب سے طاقتور امیدوار بن کر ابھرے ہیں۔ بھاجپا کو بھی یہ اچھا لگتا ہے کہ وہ این ڈی اے کو آگے بڑھائے اور اس راستے سے وہ اقتدار تک پہنچے۔ مودی کا قد چھوٹا کرنے کے لئے بھاجپا لیڈر شپ اور سنگھ نے مل کر جان بوجھ کر سنجے جوشی کو ذمہ داری سونپی ہے۔ نریندر مودی سنجے جوشی کو بیحد نا پسند کرتے ہیں۔ انہیں تنظیمی سکریٹری کے عہدے سے ہٹوانے میں ان کا بہت اہم کردار رہا۔ ویسے تو لال کرشن اڈوانی بھی سنجے جوشی کو پسند نہیں کرتے کیونکہ جناح معاملے میں سنجے جوشی نے ہی اڈوانی کو پارٹی صدارت سے استعفیٰ دینے کو کہا تھا۔ عام طور پر پردھان اپنا استعفیٰ نائب پردھان کو دیتا ہے لیکن اڈوانی نے اپنا استعفیٰ سنجے جوشی کو بھیجا تھا۔
شری نریندر مودی کی پریشانیاں بڑھتی جارہی ہیں وہ اپنے گھر میں ہی گھرتے جارہے ہیں۔ گجرات دنگوں کے معاملے میں نریندر مودی کو پھنسانے کے لئے جھوٹے ثبوت گھڑنے والے معطل اور پھر گرفتار کئے گئے آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کو مقامی عدالت نے تمام اختلاف کے باوجود ضمانت دے دی۔ عدالت نے اس معاملے پرشبہ ظاہر کیا جس کے تحت اسے گرفتار کیا گیا۔ رہا ہوتے ہی بھٹ نے مودی پر حملہ بول دیا اور ان کو مجرم بتاتے ہوئے کہا کہ میرے لئے مودی صرف ایک مجرم ہیں جو وزیر اعلی بن گئے ہیں۔ مودی اور ان کے لوگ خود کو بچانے کے لئے میرا قتل کروا سکتے ہیں جیسا کہ ہریند پانڈیہ کا کرایا گیا تھا۔
یہ یقینی ہے کانگریس جو سنجیو بھٹ کو اکسارہی ہے۔ ان کو ضمانت پر چھڑوانے اور باہر آنے کا پورا فائدہ وہ اٹھائے گی۔ حیرانگی تو اس بات پر بھی ہے کہ گجرات کے تین سینئر پولیس افسران نے سنجیو بھٹ کی کھلی حمایت کی ہے۔ 30 ستمبر کو بھٹ کی گرفتاری کے بعد یہ پہلا موقعہ ہے جب افسران بھٹ کے خاندان سے ملنے گھر گئے اور سنجیو کی بیوی شویتا سے ملاقات کی، جو دو گھنٹے چلی۔ شویتا نے بتایا کہ تینوں افسران نے سنجیو کے ساتھ ہورہی نا انصافی پر افسوس ظاہر کیا اور مدد کا یقین دلایا۔ آنے والے دنوں میں لگتا ہے کہ نریندر مودی کی پریشانیاں بڑھنے والی ہیں گھٹنے والی نہیں۔
Anil Narendra, Bihar, BJP, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Nitin Gadkari, Nitish Kumar, Rath Yatra, Sanjay Joshi, Sanjeev Bhatt, Vir Arjun

18 اکتوبر 2011

اڈوانی جی کی جن چیتنا یاترا کو لگ رہے ہیں جھٹکے



Published On 18th October 2011
انل نریندر
جن چیتنا یاترا پر نکلے شری لال کرشن اڈوانی کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ یاترا کے آغاز میں ہیں انہیںمشکلوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ کبھی رتھ میں تکنیکی خرابی آجاتی ہے تو کبھی پل سے گذرنے میں اسے دقت آتی ہے۔ جیسے جیسے یاترا آگے بڑھتی گئی نئی نئی مصیبتیں آتی گئیں۔ پہلے مدھیہ پردیش کے ستنا میں یاترا کی اچھی کوریج کے لئے اخبار نویسوں کو لفافے میں پیسے دینے کا معاملہ بے نقاب ہوا۔ اب زمین گھوٹالے میں کرناٹک کے سابق وزیر اعلی یدی یرپا کی گرفتاری سے جن چیتنا یاترا کو جھٹکا لگا ہے کیونکہ اڈوانی جی نے اپنی جن چیتنا یاترا کا مقصد کرپشن کے اشو کو بنایا ہے۔ لہٰذا ان حالات میں پارٹی کی کرکری ہونا فطری ہے۔ بدعنوانی پر سخت رویہ اپنانے کا اشارہ دینے کے لئے پارٹی نے ستنا سے وابستہ مدھیہ پردیش کے پبلک ورکس وزیر یعنی ناگیندر سنگھ پر کڑی کارروائی کا ارادہ بنا لیا ہے۔ صاف ستھری ساکھ رکھنے والے شری اڈوانی اس واقعے سے بہت خفا ہیں۔ اڈوانی جی نے وزیراعلی شیو راج سنگھ چوہان و پردیش چوہان پربھات جھا کو اس کی گہری جانچ کے آدیش دے دئے ہیں۔ان کے غصے کی وجہ بھی ہے کہ مدھیہ پردیش میں یاترا کے دوران بھاری عوامی حمایت ملنے کے باوجود اس واقعے نے سارے جذبے پر پانی پھیردیا ہے۔ اڈوانی جی نے اپنی یاترا میں سب سے زیادہ وقت مدھیہ پردیش کے لئے دیا ہے۔ ریاست میں اس کے لئے زبردست تیاریاں کی گئی ہیں لیکن ابتدا میں ہیں ۔اس واقعے نے سارا مزہ خراب کردیا ہے۔ یاترا کی کوریج کے لئے پیسہ بانٹنے کے الزام میں کٹہرے میں کھڑے پردیش سرکار کے وزیر ناگیندر سنگھ و ممبر پارلیمنٹ گنیش سنگھ نے حالانکہ ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے لیکن اپنی ریلیوں میں لوگوں کو رشوت دینے یا لینے سے پرہیز کرنے کا بھروسہ دلا رہے اڈوانی کویہ واقعہ بےحد ناگوار گذرا ہے۔
کرناٹک کے سابق وزیر اعلی بی ایس یدی یرپا کی گرفتاری ایسے وقت ہوئی جب اڈوانی اپنی جن چیتنا یاترا پر نکلے ہوئے ہیں۔ یدی یرپا بھاجپا کے پہلے سابق وزیر اعلی ہیں جنہیں جوڈیشیل حراست میں بھیجا گیا ہے۔ کرناٹک میں لوک آیکت عدالت نے یدی یرپا کو ایسے موقع پر جیل بھیجا ہے جب اڈوانی کرپشن، کالی کمائی اور بدانتظامی اور صاف ستھری سیاست کو لیکر اپنی یاترا کررہے ہیں۔ ان کا رتھ 30 اکتوبر کو بینگلور پہنچے گا۔ ایسے میں اب شری اڈوانی سمیت بھاجپا نیتاﺅں کو یدی یروپا کے معاملے پر اٹھنے والے تلخ سوالوں سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ بھاجپا اب تک ٹو جی اسکینڈل، کامن ویلتھ گیمس اور نوٹ کے بدلے ووٹ جیسے معاملوں کی مثالیں دے کر کانگریس سمیت یوپی اے سرکار پر حملہ کرتی رہی ہے اب یدی یروپا کے جیل جانے سے کانگریس کو حملہ کرنے کا ایک اور موقعہ مل گیا ہے۔ کانگریس طویل عرصے سے کرپشن کے مسئلے پر بچاﺅ میں رہی ہے۔ اب نوٹ بانٹنے کا موقعہ اس کے لئے کارگر ثابت ہوگا۔ پارٹی نے حملہ بولنے میں کوئی دیری نہیں کی۔ پارٹی کے ترجمان ابھیشیک سنگھوی کا کہنا ہے کہ یہ مثال بھاجپا کی قول و عمل میں فرق بتاتی ہے۔ ان کے ساتھی منیش تیواری نے کہا کہ زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ اڈوانی کی کرپشن مخالف یاترا پہلے کرناٹک، اتراکھنڈ ،پنجاب سے نکالی جاتی جہاں بھاجپا کے وزیرو عہدیداران پر کرپشن کے الزامات لگے ہیں۔ بھاجپا میں اڈوانی کی اس یاترا کو لیکر پہلے سے ہی کوئی جوش نہیں تھا۔ اس واقعے کے بعد پارٹی کوجواب دینا مشکل ہورہا ہے۔ منیش تیواری نے کہا نیتاﺅں کا یہ بھی اندیشہ ہے کہ یدی یروپا کی گرفتاری کے بعد کرناٹک میں پارٹی و سرکار کا بحران بڑھ سکتا ہے۔ریاست کی سیاست میں یدی یروپا کے کٹر مخالف مانے جانے والے اننت کمار جن چیتنا یاترا کے کرتا دھرتا ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ جب تک اڈوانی جی کا رتھ کرناٹک میںداخل ہو جنوبی ہندوستان کی واحد بھاجپا سرکار کی حالت ڈانواڈول ہو رہی ہو۔
Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Punjab, Rath Yatra, Uttara Khand, Vir Arjun

09 اکتوبر 2011

آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ ہیرو یا ولین


Published On 9th October 2011
انل نریندر
گجرات کے آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ پچھلے کچھ دنوں سے بحث کے موضوع بنے ہوئے ہیں۔گجرات کے یہ متنازعہ پولیس افسر جو آج کل معطل ہے دراصل ایک ہیرو ہے یا ایک ولین ۔ کانگریس کی نظروں میں تووہ ہیرو ہے سنجیو بھٹ کانگریس کے پسندیدہ بنتے جارہے ہیں۔ کانگریس کاایک طبقہ یہاں تک کہنے لگاہے کہ سنجیو بھٹ کی گرفتاری مودی حکومت کے زوال کی شروعات مانی جاسکتی ہے۔ اس طبقہ کاکہناہے کہ بدلے کے جذبہ سے بھٹ کے خلاف کی جارہی انتقامی کارروائی مودی حکومت کو بھاری پڑے گی۔ دراصل نریندرمودی کانگریس کی آنکھ میں کانٹا بنے ہوئے ہیں اور کانگریس کو ہمیشہ کوئی ایسا اشو ضرور چاہئے ہوتا ہے جس سے وہ مودی پر حملہ کرسکیں۔ کبھی مودی کے اپواس میں ایڈوانی سمیت دوسرے بڑے بھاجپا نیتاؤں کی غیرموجودگی کو ہوا دی جاتی ہے تو کبھی ایڈوانی کی گجرات سے اپنی یاترا شروع نہ کرنے کو اشو بنایا جاتا ہے۔ وزیراعظم کے عہدے کی دعوی داری کو لے کر بھاجپا میں جاری گھمسان لڑائی کوا چھالا جاتا ہے اب سنجیو بھٹ معاملے کو طول دیاجارہا ہے ۔ کہاں جارہا ہے کہ مودی حکومت کے بدلے کے جذبے سے کام کررہی ہے اور سنجیو بھٹ کو اس لئے نشانہ بنایاجارہا ہے کیونکہ وہ مودی کے خلاف کھل کر الزام لگارہے ہیں۔ بھٹ کی اہلیہ کے وزیرداخلہ پی چدمبرم کو ایک خط لکھ کرکہاہے کہ گجرات پولیس ان کے شوہر کے ساتھ دہشت گردوں کے ساتھ برتاؤ کررہی ہے۔ اپنے خط میں انہوں نے ریاستی حکومت پر یہ بھی الزام لگایا ہے کہ وہ بھٹ کی ضمانت نہ ملنے پانے کے لئے طر ح طرح کے ہتھکنڈے اپنارہی ہے کچھ دن پہلے بھٹ کی بیوی نے شویتا نے چدمبرم کو ایک اور خط لکھا تھا جس میں اپنے شوہر کی جان کو خطرہ بتایا تھا۔
سوال یہ ہے کہ سنجیو بھٹ کیا ایک وفادار ایمان دار اور صاف ستھری ساکھ کے افسر ہے جنہیں مودی سرکار جان بوجھ کر نشانہ بنارہی ہے اور بدلہ لے رہی ہے کیونکہ انہوں نے مودی کے خلاف مہم چھیڑی ہوئی ہے یا پھر وہ ایک داغ دار افسر ہے جو اپنی سرگرمیوں کے پردہ فاش ہونے سے اس لئے حملہ کررہے ہیں تاکہ ان کے خلاف لگے الزامات سے بچا سکے۔ سنجیو بھٹ کے پولیس ریکارڈ پر اگر ہم نظر ڈالے تو پائیں گے ان پر وقتا فوقتا سنگین الزام لگتے رہے ہیں 30 اکتوبر 1990 جام نگر ضلع کے جمود پور تعلقہ میں ایک فرقہ وارانہ فساد ہوا اس میں 133 لوگوں کو گرفتارکیا گیا۔ وشنو ہندو پریشدکے پریم بربھو داس ویش نانی پکڑے جانے کے 11دن بعد پولیس حراست میں مرگئے۔ کیونکہ پولیس ان کی ضرورت سے زیادہ پٹائی کردی تھی۔ ان کے بڑے بھائی امرت لال ویش نانی نے حراست میں موت سے متعلق جو مقدمہ کیا اس میں وہ اس وقت کے بنیادی ملزم ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ سنجیو بھٹ کوبنایا گیا تھا۔ جام نگر کے اس وقت کے ایڈیشنل سیشن جج این ٹی سولنکی نے بھٹ کے خلاف ایک گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا۔
بھٹ کے خلاف گجرات سی آئی ڈی نے سی آر پی سی کی دفعہ (9) کے تحت مقدمہ چلانے کے لئے باقاعدہ ریاستی حکومت سے اجازت مانگی تھی لیکن 1995میں مودی حکومت نے عدالت میں بھٹ کابچاؤ کیا عدالت نے یہ کیس بند کرنے کی حکومت کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ معاملہ چلانے لائق ہے اس لئے اسے بند نہیں کیاجاسکتا ہے لیکن مودی سرکارنے 1996 کی اس عرضی کو واپس لے لیا۔ اب بھی عدالتی کارروائی بھٹ کے خلاف جاری ہے سنجیو بھٹ ایک اور داغی چہرہ ہے 1995 میں وہ احمد آباد ضلع پولیس کے ایس پی تھے وہیں ایک سیشن جج آر کے جین تھے ان کی بہن کے ایک کرایہ دار تھے جن کے خلاف مقدمہ چل رہاتھا۔ لیکن کرایہ دار مقدمہ جیت گئے اور گھر خالی کرانے کے لئے سبھی قانونی راستے بند ہوگئے۔ جسٹس جین نے سنجیو بھٹ سے پھر سے گھر کسی بھی طریقے سے خالی کروانے کی اپیل کی۔ بھٹ نے کرایہ دار کوبلایا اور گھر خالی کرنے کو کہا اس نے کہاکہ اگر اس نے گھر خالی نہیں کیاتو اسے نتیجہ بھگتنے ہوں گے پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ سنجیو بھٹ نے کرایہ دار کے گھر پر منشیات رکھوا کر اسے گرفتار کروادیا او رگرفتار ہوتے ہی زبردستی گھر خالی کرالیا بعد میں یہ ضلع جج کی عدالت میں کرایہ دار نے دعوی پیش کیا تو اس میں سنجیو بھٹ کو پارٹی بنایا گیا۔سنجیو بھٹ کے خلاف ایک لاکھ پچاس ہزار کا جرمانہ لگا جس کی ادائیگی آپ کو سن کر تعجب ہوگا کہ ریاستی حکومت نے کی اور وہ پیسہ ان کی تنخواہ قسطوں میں کٹتا رہا۔ اس معطل آئی پی ایس افسر کی مودی سرکار سے دشمنی اور اسکے مخالفوں سے سانٹھ کانٹھ پرانی ہے ایسی کئی مثالیں ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ کانگریس سنجیو بھٹ کو مودی سرکار اور وہ خود وزیراعلی کے خلاف اکساتی رہی ہے اور اکساتی رہے ہیں سنجیو بھٹ کاریکارڈ عدالتوں کے سامنے ہے اور ہوسکتاہے کہ اگلی اسمبلی چناؤ وہ امیدوار بنے اور اب آپ خودفیصلہ کرلیں۔ سنجیو بھٹ ایک ایماندار اور صاف ستھری ساکھ کے شخص ہے جسے مودی سرکار جان بوجھ کر نشانہ بنارہے ہیں یا پھر وہ کانگریسی شطرنجی چال میں ایک مہرہ بنے ہوئے ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, P. Chidambaram, Sajeev Bhatt, Vir Arjun

21 ستمبر 2011

مودی کے سدبھاونا مشن پر ’’ٹوپی‘‘ پہنانے کی کوشش



Published On 21th September 2011
انل نریندر
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کا تین روزہ انشن پیر کو ختم ہوگیا۔ گجرات یونیورسٹی کے کنونشن ہال میں تین دنوں کے لئے سدبھاونا برت پر بیٹھے مودی نے پیر کی شام 6:15 بجے دھرم گوروؤں کے ہاتھوں لیموں پانی پی کر انشن ختم کردیا۔ نریندر مودی کے اپواس کو جس طرح سے پارٹی کے اندر سے لیکر پورے دیش میں حمایت ملی ہے اس سے صاف ہے کہ لال کرشن اڈوانی کے بعد وہ بھاجپا کے سب سے بڑے لیڈربن کر ابھرے ہیں۔ حالانکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے مودی اب بھاجپا کی جانب سے اگلے وزیر اعظم بننے کے سب سے قد آور نیتا بن گئے ہیں اور شری مودی نے اپنی خواہش بھی نہیں چھپائی۔ وزیراعظم بننے کی خواہش کھل کر ظاہر کئے بغیر مودی نے سنیچر کو بھارتیہ جنتا پارٹی کو ایک نیا نعرہ دیا ۔’’سب کا ساتھ ۔سب کا وکاس‘‘ اگلے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی پرچار کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اپنا اپواس توڑنے کے ساتھ ہی نریندر مودی نے گجرات میں چناؤ سے ایک سال پہلے ہی اپنی مہم کا رتھ شروع کردیا ہے۔ تین دن کے اپواس کے بعد گجرات کے سبھی 26 ضلعوں میں باری باری سے سارا دن اپواس پر بیٹھنے کے پلان کے ساتھ نریندر مودی نے اب بڑے مشن کا بھی شری گنیش کردیا ہے۔منفی سیاست کے مقابلے ترقی کے مورچے پر خوشحالی رپورٹ کارڈ کی بدولت آگے بڑھنے کے ایجنڈے کو بھی مودی نے دیش کے سامنے رکھ دیا۔ اتنا ہی نہیں اپواس کے تینوں دنوں میں وزیر اعظم کے عہدے پر اپنی دعویداری کی ہوا بنا کر گجراتیوں کے وقار کی شکل میں بھی خود کو ابھارا ہے۔ ساتھ ہی سدبھاونا مشن کے سہارے ایک پاؤں مسلموں کی طرف بڑھایا لیکن کہیں بھی اپنی بنیادی طاقت ہندوتو کی زمین نہیں چھوٹنے دی۔ احمد آباد شہر کے پاس واقع پیرانا گاؤں میں ایک چھوٹی سی درگاہ کے شاہی امام مولانا سید نے ایتوار کو مودی کے اپواس کی جگہ اسٹیج پر جاکر ان سے ملاقات کی تھی۔ مولانا نے مودی کو ایک ٹوپی پہننے کی پیشکش کی لیکن وزیر اعلی نے بڑی معذوری سے ٹوپی پہننے سے منع کردیا اور اس کے بجائے شال اڑھانے کو کہا۔ امام نے مودی کو شال اڑھایا جسے انہوں نے منظور کرلیا۔ نریندر مودی نے بغیر کسی پر الزام لگائے اور حملے کئے اور خود پر لگنے والے فرقہ وارانہ الزامات کا جواب گجرات میں ترقی اور امن کے ریکارڈ کے ساتھ دیا۔ مودی نے صاف کہا کہ لیڈر شپ کی کسوٹی ایکشن پر منحصر کرتی ہے۔ آج ہم نے دنیا کو دکھا دیا کہ یہ راستہ ہے سب کو جوڑ کر، سب کو ساتھ لیکرچلنے کا۔ جب تک ووٹ بینک کی سیاست سے اٹھ کر ترقی کی سیاست نہیں اپناتے تب تک بھارت اوپر نہیں اٹھ پائے گا۔ اسی کڑی میں گجرات کے وزیر اعلی نے ہی سچر کمیٹی کے ساتھ کچھ سال پہلے ہوئی بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میری سرکار اقلیتوں یا اکثریتوں کے لئے کچھ نہیں کرتی میری سرکار چھ کروڑ گجراتیوں کے لئے کام کرتی ہے۔ میں ہر چیز کو اکثریتی یا اقلیتی میں نہیں تولتا۔ میرے ساتھ میری ریاست کے شہری سبھی ایک ہیں۔
مودی کے اپواس ختم ہونے کے دن پیر کے روز بھاجپا نے زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اب کانگریس کی باری ہے۔ مودی کے اپواس کے خلاف گاندھی آشرم کے سامنے جوابی انشن پر بیٹھے کانگریس لیڈر شنکر سنگھ واگھیلا نے منگل کی صبح اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی۔ کانگریس کے مرکزی عہدیدار کی شکل میں گجرات کانگریس کے انچارج موہن پرکاش نے مودی سرکار پر جم کر حملہ بولا۔ گجرات سرکار پر برستے ہوئے موہن پرکاش نے کہا کہ 100 کروڑ روپے قرض لیکر نریندر مودی کونسی سدبھاونا دکھانا چاہتے ہیں۔ موہن پرکاش نے کہا مودی سرکار بدعنوانی میں انتہا تک ڈوبی ہوئی ہے۔ کیگ کی رپورٹ میں گجرات سرکار کا کرپشن پوری طرح اجاگر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کانگریس مودی سرکار کے بھرشٹاچار کو اجاگر کرنے کیلئے جنتا کی عدالت میں جائے گی۔ واگھیلا نے کہا اخباروں میں بڑے بڑے اشتہار دیکر اپواس نہیں کیا جاتا۔ مودی کا اپواس محض ایک دکھاوا ہے اور ایک سیاسی تکڑم بازی ہے۔ واگھیلا الزام لگایا کہ مودی نے پہلے 72 گھنٹے کے اپواس کا اعلان کیا تھا لیکن 55 گھنٹوں میں ہی انہوں نے انشن توڑدیا۔ کل ملاکر دیکھا جائے تو نریندر مودی کا یہ سیاسی انشن ویسے تو کامیاب رہا۔ جہاں تک اس کے ہندوستانی سیاست میں اثر کا سوال ہے وہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔
Anil Narendra, BJP, CAG, Congress, Corruption, Daily Pratap, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Vir Arjun

14 ستمبر 2011

نریندرمودی کی اگنی پریکشا



Published On 14th September 2011
انل نریندر
گجرات کے وزیراعلی نریندر مودی کے سیاسی حریفوں کو بہت امیدتھی کہ سپریم کورٹ پیر کے روز مودی کو2002 کے گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے دنگوں پرمقدمے میں لپیٹ لے گی اور انہیں کٹہرے میں کھڑا کردے گی۔ وزیر اعلی نریند مودی اور یگر 62 افسران پر الزام لگایاگیا تھا انہوں نے2002ء میں ہوئے گلبرگ سوسائٹی فسادات کو روکنے کیلئے جان بوجھ کر کوئی قدم نہیں اٹھایا اور تشدد کو فروغ دیا۔ لیکن مودی کو نیچا دکھانے کی کوشش کررہے ان کے حریفوں کو سپریم کورٹ سے مایوسی ہاتھ لگی۔ بڑی عدالت نے دنگا روکنے میں ان کے کردار میں لاپرواہی پر کوئی فیصلہ سنانے سے انکارکردیا۔جسٹس ڈی کے جین کی سربراہی والی تین ججوں کی ڈویژن بنچ نے مودی اور دیگر سرکاری افسران کے خلاف مقدمہ درج کرانے کیلئے کوئی بھی خاص ہدایت دینے سے انکارکردیا۔مودی اور ان سرکار حکام کو سابق کانگریس ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ کے ذریعے شکایت میں بتایا گیا تھا جعفری کی احمد آباد فسادات میں گلبرگ سوسائٹی قتل عام میں جان چلی گئی تھی۔ جسٹس پی سداشیورام اور جسٹس آفتاب عالم کی بنچ نے بڑی عدالت کے حکم پر اسپیشل جانچ عدالت (ایس آئی ٹیٌ) کے ذریعے جانچ کی انترم رپورٹ مجسٹریٹ کے سامنے داخل کرنے کو کہا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی جانچ کے لئے مخصوص اسپیشل جانچ کمیٹی یعنی ایس آئی ٹی کو ہدایت دی کہ وہ اپنی رپورٹ گجرات کی نچلی عدالت کو سونپے۔ یعنی اب نچلی عدالت یہ طے کرے گی کہ گجرات دنگوں میں وزیر اعلی نریندر مودی کے خلاف معاملہ بنتا ہے یا نہیں؟ فیصلے پر اپنے اپنے ڈھنگ سے رد عمل سامنے آیا ہے۔ اس فساد میں مارے گئے احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری نے عدالت کے اس فیصلے پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ بیحد مایوس کن ہے۔ میرے پاس ایک بار پھر اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔ 2002ء میں جو بھی کچھ ہوا تھا اس کے بارے میں تفصیل میں نے ایس آئی ٹی کو دے دی تھی۔ اتنے برسوں کے بعد ایک ہی حقیقت کو میں کب تک دوہراؤں گی؟ ذکیہ جعفری کا کہنا ہے کہ ریاست کی عدالت کو اس معاملے کو سونپ دئے جانے کا مطلب یہ ہی ہے کہ نریندر مودی کے حق میں فیصلہ آئے گا۔ حالانکہ سماجی ورکر اور نریندر مودی کی کٹر حریف تستا سیتل واد نے کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا اس فیصلے کو کلین چٹ کی شکل میں نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا یہ لڑائی بہت لمبی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا غلط مطلب نکالا جارہا ہے۔ اب ہماری عرضی ایس آئی ٹی کی رپورٹ اور راجو رامچندر کی رپورٹ گجرات کے مجسٹریٹ دیکھیں گے۔ ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ نریندر مودی اور دیگر لوگوں کے خلاف کوئی کیس نہیں ہے ۔ اگر مودی یا کسی اور کے خلاف معاملہ بند ہونے کی بات ہوتی تو ذکیہ جی اور ہماری دلیل سنی جائے گی۔ ہمیں بھروسہ ہے کہ گجرات کی عدالت اس معاملے میں جائز فیصلہ سنائے گی۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نریندر مودی نے محض تین لفظوں میں اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ ’’ایشور مہان ہے‘‘ بھاجپا نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا پارٹی کو یقین تھا کہ مودی کو بدنام کرنے کی مہم زیادہ دن تک ٹک نہیں پائے گی۔ پارٹی کے ترجمان پرکاش جاویڈکر نے مسکراتے ہوئے کہا ’’مودی سے نفرت کرنے والوں اور انہیں نشانہ کی تاک میں رہنے والوں کی موجودہ حالات میں سمجھ سکتا ہوں۔ قانون نے وہ راستہ اپنایا ہے جو بالکل صحیح ہے۔ ‘‘کانگریس نے اس مسئلے پر بہت ہی سوجھ بوجھ والا رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے مودی کو کلین چٹ نہیں دی ہے۔ ترجمان شاہد علوی نے کہا ’’اس سے مایوسی کی کوئی بات نہیں ہے ۔ نریندر مودی کو کلین چٹ تھوڑے ہی ملی ہے؟ ہماری قانونی کارروائی میں اصلاح کئے جانے کی ضرورت ہے ۔ذکیہ جی اور ان کے خاندان کے لئے میں ہمدردی جتانا چاہوں گا‘‘۔
 Anil Narendra, Arun Jaitli, Godhra, Gujarat, L K Advani, Narender Modi, Supreme Court, Sushma Swaraj

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...