Translater

Mhipal Maderna لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Mhipal Maderna لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

04 مارچ 2012

بھنوری دیوی اغوا و قتل معاملے میں چارج شیٹ کیا کہتی ہے؟



Published On 4 March 2012
انل نریندر
سرخیوں میں چھائے رہے بھنوری دیوی قتل کانڈ میں سی بی آئی نے بدھوار کو جودھپور کی عدالت میں چارج شیٹ داخل کردی ہے۔ 97 صفحات کی اس چارج شیٹ میں 50 صفحات میں الزام اور کہانی بیان کی گئی ہے۔ 300 گواہوں کے بیان ہیں اور چارج شیٹ میں 313 دستاویز نتھی کئے گئے ہیں ان میں 93 ثبوتوں کی فہرست بھی لگائی گئی ہے۔ چارج شیٹ میں سابق وزیر مہیپال مدیرنااور ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ بشنوئی پر ایک ہی الزامات لگائے گئے ہیں۔ یہ بھی خلاصہ ہوا ہے کہ ملکھان سنگھ کی بہن اندرا نے مدیرنا کی سی ڈی بنوائی تھی۔ مدیرنا قابل اعتراض سی ڈی سے بلیک میل ہورہے تھے۔ ملکھان سنگھ بھنوری کی ایک بیٹی کا والد ہونے اور کھیجڑلی میلے میں پول کھولنے سے پریشان تھے۔ دونوں نے صحیح رام اور سوہن لال کو بھنوری کو ٹھکانے لگانے کا ذمہ سونپا اور اسی سازش میں 1 ستمبر کو اس کا اغوا کیا گیا۔ چارج شیٹ کے مطابق بھنوری دیوی اور سابق وزیر مہیپال مدیرنا کی فحش سی ڈی کے پیچھے سیاسی سازش تھی اور اس پورے معاملے میں ماسٹر مائنڈ اندرا بشنوئی تھی۔ اس نے ہی اپنے بھائی ملکھان سنگھ کو وزیر بنوانے کے لئے یہ سازش رچی تھی۔ غور طلب ہے کہ 1 ستمبر 2011ء کو بھنوری دیوی غائب ہوئی تھی اور ٹھیک 6 ماہ بعد کورٹ میں دوسری چارج شیٹ پیش کی گئی ہے۔ بھنوری اغوا اور قتل معاملے میں مدیرنا ، ملکھان سنگھ سمیت 16 ملزم جیل میں ہیں یہ ملزم سوہن لال، شہاب الدین، بلدیو، صحیح رام، پرس رام، امرچند،امیش رام، کیلاش وغیرہ ہیں۔ان میں اندرا بشنوئی ابھی گرفتار نہیں ہوپائی، وہ چار ماہ سے فرار ہے۔سابق وزیر مہیپال مدیرنا اور ملکھان سنگھ اے این ایم بھنوری دیوی کے ذریعے بلیک میلنگ سے کافی پریشان تھے۔ بدنامی سے بچنے کے ساتھ ہی سیاسی کیریئر کو بچانے کے مقصد سے ان دونوں بڑے لیڈروں نے بھنوری دیوی سے چھٹکارا پانے کے لئے سازش رچی تھی۔ چارج شیٹ کے مطابق ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ بھنوری دیوی کی ضرورتوں کو پورا کرتے تھے۔ اسی کڑی میں اس نے بھنوری کی کار جو اس نے3 ستمبر 2009ء کو خریدی تھی ، کی ادائیگی 320594 روپے اپنی طرف سے کی تھی۔ اس کار کو دلانے میں مدیرنا نے بھی مدد کی تھی۔ اسی دن بھنوری نے شکارگڑھ میں ایک پلاٹ بھی خریدا تھا۔ بھنوری دیوی ممبر اسمبلی ملکھان سنگھ کی صرف خاتون دوست بن کر ہی نہیں رہنا چاہتی تھی۔ ایسے میں وہ اپنی چھوٹی لڑکی کا حق پانے میں لگ گئی۔7 ستمبر 2010ء کو بھنوری جودھپور کے اس وقت کے ایس پی دفتر جاپہنچی اور ملکھان سنگھ کو چھوٹی لڑکی کا والد بتاتے ہوئے ڈی این اے ٹیسٹ کرانے کی اپیل کی تھی۔ لیکن اندرا اسے سمجھا بجھا کر وہاں سے لے گئی۔ پھر بھنوری نے بلیک میلنگ کا دھندہ بڑھا دیا۔ اندرا کے گھر رچی گئی سازش مہیپال مدیرنا اور بھنوری کی فحش سی ڈی مدیرنا کے فارم ہاؤس پر بنائی گئی تھی۔ ٹی وی چینلوں میں اس سی ڈی کو دکھائے جانے سے دونوں خاندانوں میں کھلبلی مچ گئی اور بہت غور و خوض کے بعد بھنوری دیوی کو جان سے مار کر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے معاملے کو دفن کرنے کی حکمت عملی بنائی گئی۔ بھنوری کا اغوا اور بعد میں اس کے قتل کی پوری جانکاری ہونے کے باوجود بھنوری کا شوہر امرچند انجان بنا رہا۔ سازش میں شامل امرچند نے پولیس کے کافی دباؤ ڈالنے پر پہلے گمشدگی اور پھر اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ اسے اندیشہ تھا کہ جانچ کے دوران کہیں اس کی اس معاملے میں شمولیت اجاگر نہ ہوجائے۔ اس کہانی میں سبھی موڑ ہیں لو، سیکس، بلیک میلنگ و قتل۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Mhipal Maderna, Rajassthan, Sex, Sex Scandal, Sexy Photo, Vir Arjun

12 جنوری 2012

بھنوری دیوی کا قتل ہوایہ طے ہو گیا، ثابت کرنا اہم چیلنج


Published On 12th January 2012
انل نریندر
سی بی آئی نے راجستھان ہائی کورٹ کو مطلع کیا ہے کہ بھنوری دیوی اب زندہ نہیں ہے اور اس نے عدالت سے اس کے شوہر امر چند کی جانب سے دائر عرضی کو منسوخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ عدالت نے حالانکہ عرضی کو منسوخ کرنے سے انکارکردیا اور سی بی آئی سے آخری رپورٹ 21 فروری تک پیش کرنے کو کہا ہے۔ سی بی آئی کی جانب سے سرکاری وکیل آنند پروہت نے عدالت کے سامنے پیش ہوکر کہا کہ اب بھنوری دیوی زندہ نہیں رہیں اس لئے اب عدالت میں اسے پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے عدالت کو یہ بھی مطلع کیا کہ وہ معاملے کے نتیجوں کے قریب پہنچ گئی ہے اور جلد چارج شیٹ داخل کرنے جارہی ہے۔ بھنوری کا قتل ہوا تھا یہ پہلے سے ثابت کرنا سی بی آئی کے لئے ایک بڑی چنوتی ہوگی۔ لاش کو جلایا گیا پھر ہڈیوں کو توڑا گیا ، جتنا ممکن ہوا چورا بھی کیا گیا۔ اس پر بھی قاتل استھیاں چار مہینے سے زیادہ وقت تک نہر میں رہیں۔ ان سب اسباب سے ڈی این اے ٹیسٹ فیل ہوسکتا ہے اس لئے یہ سی بی آئی کے لئے ایک بڑا چیلنج ہے اور نہر سے ملی بھنوری کی گھڑی بڑی امید کی کرن بن گئی ہے۔ قانونی واقف کاروں کا خیال ہے کہ قریب 200 ملازمین اور غوطہ خوروں کی مدد سے سی بی آئی نے بھنوری کے باقیات اندراگاندھی نہر سے برآمد کر بڑی کامیابی حاصل کی ہے لیکن یہ بڑی چنوتی بھی ہے کہ پانی میں تین مہینے سے زیادہ وقت استھیوں کے ڈوبے رہنے سے ڈی این اے کے نتیجے امید کے حساب سے صحیح نہیں آتے۔ اس لئے ڈی این اے کے ذریعے یہ ثابت کرنا مشکل ہوسکتا ہے کہ بھنوری کا مرڈر کیا گیا تھا؟ یہ بھی صاف نہیں ہوتا کہ کون مارا گیا تھا۔ یہ بات تو کم معنی رکھتی ہے کیوں مارا گیا تھا اور کس نے مارا یا مروایا تھا؟اب سارا دارومدار گواہوں پر منحصر ہے ۔ سی بی آئی کے مطابق ان کے پاس مقدمے کو ثابت کرنے کے لئے کافی ثبوت ہیں جس میں گواہیاں اہمیت کی حامل ہیں۔ ویسے ابھی تو جانچ چل رہی ہے۔ دو تین لوگوں کی تلاش جاری ہے۔ اس لئے اگلی چارج شیٹ سے ہی پتہ چلے گا کہ ان سوالوں کے جواب ہمارا تجربہ یہ بھی ہے کہ مقدمے کے دوران بہت سی باتیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر گواہ مکرجاتے ہیں یا بدک جاتے ہیں۔
نہر سے بھنوری دیوی کی گھڑی اور ایک جھمکے کا ملنا اہم ثبوت ہوسکتے ہیں بشرطیکہ کے ان کے خاندان کے لوگ کورٹ میں بھی یہ ہی بات کہیں کہ یہ چیزیں بھنوری کی ہی ہیں۔ اگر وہ یہ کہہ بھی دیتے ہیں تو یہ ثابت کرنا اہم ہوگا کہ قتل کی وجہ سے ہی یہ چیزیں نہر میں پھینکی گئیں اور نہر سے ملیں۔کسی کے ذریعے نہیں پھینکی گئیں؟ جودھپور کی اوسیاں کے جالوڑہ گاؤں کے پاس سے گذر رہی اندرا گاندھی نہرسے غوطہ خوروں نے سنیچر کو بھنوری کی گھڑی، دانت کے ٹکڑے ، کھوپڑی کا حصہ،کان کی بالی اور بھنوری کے ہار کے کچھ موتی سی بی آئی کو امید ہے کہ نہر سے ابھی کچھ اور ثبوت مل سکتے ہیں۔ دہلی سے گئی سی ایف ایس ایل کی ٹیم نے دو دن ضلعے کے لوہاوٹ میں بھنوری کی لاش کو نپٹانے کی جگہوں کا معائنہ کیا۔نہر سے ایک بیلٹ پلاسٹک کی تھیلی میں دو دیسی پستول،چوڑیاں، ایک کٹے میں مٹی و راکھ برآمد کی گئی تھی۔ یہ کامیابی سی بی آئی کو ملزم اوم پرکاش اور کیلاش جاکھڑ کی نشاندہی پر ملی۔ یہ ہی دونوں سی بی آئی کو اس گڈھے تک لے گئے تھے جہاں انہوں نے بھنوری کو لاش کو جلا کر لاش نہر میں بہائی تھی۔ ملزموں نے ڈیمو کرکے بتایا کہ انہوں نے چھرے سے لاش کے ٹکڑے کئے ، پھر لکڑیوں اور پیٹرول ڈال کر انہیں صبح تک جلایا، جلی ہوئی ہڈیوں کو بھی بلے سے توڑ کر دوبارہ جلایا، پھر راکھ بلہ اور چھرا نہر میں ڈال کر بھاگ گئے۔ بلہ نہ ڈوبنے پر اسے پتھر باندھ کر پھینکا گیا۔اور لاش کے جلنے کے نشان مٹانے کے لئے مٹی کھود کر اسے نہر میں ڈال دیا۔ ان حالات میں جہاں قتل کے سارے ثبوت مٹانے کی اتنی کوشش ہو یقینی طور سے سی بی آئی کو کیس ثابت کرنے میں بہت مشقت کرنی پڑے گی۔
Anil Narendra, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Mhipal Maderna, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...