بھارت میں چینی کے دام پچھلے ماہ سے تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرس کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف اسی ماہ بھارت میں چینی کی قیمتوں میں 20 فیصدی اضافہ ہوا ہے ۔بھارت سرکار کے صارفین امور محکمہ کی ایک رپورٹ کےمطابق ، 20 اگست کو بھارت کے خوردہ بازار میں چینی کی قیمت 55.7 روپے فی کلو تھی ۔ایک ماہ پہلے چینی کی قیمت 48.18 روپے فی کلو گرام تھی ۔20 اگست 2025 کو اس کی قیمت 46.3روپے فی کلو تھی ۔بازار کے واقف کاروں کا کہنا ہے کہ چینی کے دام اس سے پہلے کبھی اتنے اونچائی پر نہیں گئے ۔سوال یہ بھی پوچھا جارہا ہے کہ کیا پیٹرول میں ملائے جانے والے ایتھنول کی وجہ سے چینی مہنگی ہوئی ہے؟ کچے تیل کی کھپت کے معاملے میں امریکہ اور چین کے بعد بھارت دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے لیکن بھارت میں استعمال ہونے والے کچے تیل کا 80 فیصدی سے زیادہ حصہ بیرونی ممالک سے آتا ہے ۔اس درآمدات کو کم کرنے ، غیرملکی کرنسی بچانے ، خود انحصاری بڑھانے اور آلودگی کم کرنے کے لئے مرکزی حکومت نے 2018 میں پیٹرول میں ملائے جانے والے ایتھنول کی مقدار کو 10 فیصدی سے بڑھا کر 20 فیصدی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ بھی ٹارگیٹ 2030 میں حاصل کیاجانا تھا ، لیکن سرکارنے سے جولائی 2025 میں ہی حاصل کر لیا ۔بھارت نے چینی انڈسٹری سرکاری کنٹرول کے تحت آتی ہے ۔چینی ملوں کو کسانوں سے خریدے گئے گنے کے لئے اتنا ایم آر پی دینا ہوگا ، یہ مرکزی سرکار طے کرتی ہے ۔سرکار یہ بھی طے کرتی ہے کہ کون سی چینی مل ہر ماہ کتنی چینی بیچ سکتی ہے اور چینی کا ایکسپورٹ کیا جاسکتا ہے یا نہیں دیش میں بڑے پیمانہ پر اتھنول خریدنے والاگراہک بھی سرکار ہی ہے۔ اور اس طرح اتھنول کی قیمت بھی غیر متوقع طور سے سرکارہی طے کرتی ہے ۔رائٹرس کی رپورٹ کے مطابق سال 2025-26 کے چینی سال بھر میں 30 لاکھ ٹن چینی کا استعمال تھنول بنانے کے لئے کیا گیا ۔رپورٹ کے مطابق یہ دیش میں چینی کی کل پیداوار کا قریب 10 فیصدی ہے ۔گنے کے رس کے علاوہ چینی بنانے کے دوران تیار ہونے والے سیرپ اے ہیوی مولاسس ، بی ہیوی ملاسس اور سی ہیوی ملاسس سے بھی اتھنول بنایاجاسکتا ہے ۔ایک پورٹ کے مطابق دیش میں پیدا کل اتھنول کا قریب ایک تہائی حصہ گنے سے تیار کیاگیا تھا ۔دوسری طرف سرکار نے جمعہ کو کہا کہ چینی کے بڑھتے داموں کے لئے پیٹرول میں اتھنول ملانے کے پروگرام کو ذمہ داری نہیں ٹھہرایاجاسکتا ۔سرکار نے کہا دیش میں پیداوار اندازے سے کم رہنے اور تہواری سیزن سے پہلے مانگ بڑھنے اور انڈسٹری کے ایک حصے کی جانب جمعہ خوری کے چلتے چینی کے دام میں اچھال آتا ہے حالانکہ مانگ پوری کرنے کے لئے درکار مقدارمیں چینی دستیاب ہے ۔وزارت نے اتھنول سلیڈنگ پروگرام کے چلتے دام بڑھنے کی بات کو مسترد کر دیا اور کہا کہ اتھنول پروڈکشن کے لئے چینی کے استعمال کو قیمتوں میں حالیہ اضافہ کو ذمہ دارنہیں ٹھہرایاجاسکتا ۔اُدھر سرکار نے چینی کے داموں میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے 31 اکتوبر تک 10 لاکھ ٹن غیر پروسیس چینی کو ڈیوٹی فری (ٹیکس مستثنیٰ درآمدات کو منظوری دے دی ہے ۔یہ قدم اس لئے اٹھایا گیا ہے تاکہ تہواری سیزن میں چینی کے بڑھتے داموں کی کڑواہٹ اور نہ بڑھے ۔ایک دن پہلے سرکار نے 10 لاکھ ٹن سے زیادہ چینی خریدنے والے کاروباریوں کے لئے چینی کا اسٹاک میعاد 15 دن طے کر دی تھی ۔
(انل نریندر)