Translater

West Bengal لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
West Bengal لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

17 اپریل 2012

اس راہ سے تو ممتا کی ساکھ اور مقبولیت تیزی سے گھٹے گی



Published On 17 March 2012
انل نریندر
مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کی ضد اور اکڑ پن سے اب سب اچھی طرح واقف ہوچکے ہیں۔ لگتا ہے کہ وزیر اعلی بننے کے بعد تو ان میں غرور اور تانا شاہی کے اندازمیں اضافہ ہوا ہے۔ اب تو وہ اپنے خلاف بنا کارٹون بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی کا کارٹون فارورڈ کرنے کے الزام میں جادو پور یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو گرفتار کرلیا گیا۔ یہ کارٹون دنیش ترویدی کو وزیر ریل کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ مکل رائے کو نیا ریل وزیر بنانے کے سلسلے میں بنایا گیا تھا۔کیمیاوی مضمون کے پروفیسر امبکیش مہاپاترا کی گرفتاری سے کولکاتہ میں ناراضگی پھیل گئی ہے اور مارکس وادی اور دانشور طبقے نے کہا کہ پولیس کی کارروائی بالکل کچلنے والی ہے اور اظہار آزادی کے جمہوری حق پر واضح حملہ ہے۔ بعد میں علی پور کی عدالت نے پروفیسر کو ضمانت پر چھوڑدیا ہے۔ پروفیسر مہاپاترا نے الزام لگایا کہ کارٹون فارورڈ کرنے کے سبب جمعہ کی رات ترنمول کانگریس کے 15 حمایتیوں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ پروفیسر کا کہنا ہے وہ اپنی سلامتی کو لیکر خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ وہیں اسمبلی میں بڑی اپوزیشن پارٹی مارکسوادی پارٹی نے الزام لگایا کے ریاستی حکومت اخباروں پر پابندی لگا کر جمہوریت اور ان کے زندگی بسر کرنے کے حق پر حملہ کررہی ہے۔ وہیں سابق وزیر ریل دنیش ترویدی نے کارٹون تنازعے پر کہا کارٹون جمہوریت کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا میرا خیال ہے کارٹون جمہوری صحت کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ کارٹون آپ کی ساکھ کو خراب نہیں کرسکتے۔ مارکسوادی پارٹی کے سینئر لیڈر عبدالرزاق ملا نے سنیچر کو الزام لگایا کہ ریاستی حکومت اخباروں پر لگام لگا کر جمہوریت اور ان کے روز مرہ کی زندگی کے حق پر حملہ کررہی ہے۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے فرمان جاری کیا ہے کہ سرکاری لائبریریوں میں صرف چنندہ اخبار ہی رکھے جائیں۔ سرکار مخالف اخباروں کے لئے لائبریری میں کوئی جگہ نہیں۔ ملا نے اسٹوڈینٹس ہال میں مارکسوادی پارٹی (مالے) لبریشن کی جانب سے منعقدہ سمینار میں کہا کہ وزیر اعلی کے ذریعے جمہوری حقوق پر حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وہیں کانفرنس میں مدعو کوی نوارن بھٹاچاریہ نے کارٹون بنانے والے کے خلاف کارروائی کو ریاستی حکومت کی منمانی اور اس کی تاناشاہی کہا۔ ماہر تعلیم سنندا سانیال نے پروفیسر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ممتا بنرجی نے ریاست میں تبدیلی اقتدار کا نعرہ اچھال کر اقتدار ہتیانے میں کامیابی حاصل کی۔ سچائی تو یہ ہے کہ ریاست میں کہیں بھی تبدیلی کی جھلک نہیں دکھائی پڑ رہی ہے۔ یہ تکلیف دہ اور بدقسمتی اور قابل مذمت ہے۔ ممتا دھیرے دھیرے فاسسٹ ہوتی جارہی ہیں۔ ہمارا خیال ہے کے ممتا بنرجی میں اپنے خلاف کسی طرح کی تنقید یا طنز برداشت کرنے کی قوت کم ہوتی جارہی ہے۔ جمہوریت میں کارٹون بنانا کوئی جرم نہیں اور ایسا کرنا پریس کی آزادی پر حملہ کرنا ہے۔ جس راہ پر ممتا چل رہی ہیں اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ بہت تیزی سے مقبول ہوجائیں گی اور ان کی بنی ساکھ ملیامیٹ ہوجائے گی۔ لیفٹ لیڈروں سے ان کو اتنی نفرت ہے کے وہ اب بھی ٹھیک سے فیصلہ نہیں کرپارہی ہیں کے کیا ٹھیک ہے کیا غلط؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Kolkata, Mamta Banerjee, Trinamool congress, Vir Arjun, West Bengal

11 اپریل 2012

مغربی بنگال سے کارلمارکس اور اینجلس کی بدائی



Published On 11 March 2012
انل نریندر
مغربی بنگال میں 34 سال تک کامریڈوں نے کارلمارکس کی پالیسیوں پر چل کر راج کیا۔ اس دوران ساری دنیا سے کارلمارکس اینجلس کا نام و نشان تقریباً مٹ چکا ہے لیکن ہمارے کامریڈ اسی لائن پر چلتے رہے ہیں۔ یہ وقت کے مطابق بدلتے نہیں ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا مغربی بنگال کی عوام نے انہیں اکھاڑ پھینکا۔ صرف مغربی بنگال سے ہی نہیں بلکہ کیرل سے بھی۔ ممتا بنرجی اب کوشش کررہی ہیں کہ کارلمارکس واد واپس مغربی بنگال میں نہ آسکے۔اس لئے انہوں نے34 سال پہلے اس کی تیاری کرلی تھی۔ پردیش کی اسکولی تعلیمی نصاب کمیٹی نے مارکس اور فیڈرکس اینجلس کا سبق اسکولی کتابوں سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔ فیصلہ ممتا سرکار کو کرنا ہے۔ اسکولی کتابوں سے جو اہم اسباق ہٹائے جارہے ہیں ان میں مارکس واد کے بانی کارلمارکس کی سوانح حیات اور مارکس کی مدد کرنے والے دوست فیڈرکس اینجلس کی کہانی اور روس میں 1917 ء میں بالے شیوک انقلاب کی پوری کہانی ہے۔ ترنمول اقتدار میں آتے ہی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے نصاب جائزہ کمیٹی بنائی تھی۔ اس جائزہ کمیٹی تو اسکولی نصاب کو جدید بنانے اور طلبا پر غیر ضروری بوجھ کم کرنے کا کام سونپا گیا۔ کمیٹی نے 695 صفحات کی رپورٹ سونپی ہے۔ ممتا اکیلی نہیں جنہوں نے کارلمارکس سے نجات پانے کے لئے قدم اٹھائے ہیں۔ اب تو ہمارے کامریڈ بھی کہنے لگے ہیں کہ ہمیں دیش کے موجودہ حالات کے مطابق بدلنا ہوگا۔ مارکس وادی لیڈر سیتا رام یچوری نے پارٹی کے 20 ویں آل انڈیا سمیلن میں کہا کہ ہمیں روس، چین ، کیوبا اور دیگر لاطینی امریکی دیشوں کی کمیونسٹ پارٹیوں سے الگ تھلگ نظریہ اپنانا ہوگا۔ پارٹی اصول بدلنے کی ساتھ ہی اپنے پروگراموں کا جائزہ لے گی۔ پارٹی جمہوری طاقتوں اور لیفٹ طاقتوں کو ہلاکر سیاسی متبادل بنانے کے عمل میں ہے۔ کانفرنس میں پیش ریزولیوشن میں کہا گیا ہے کہ 1894ء کے اراضی ایکٹ کا کارپوریٹ گھرانے بیجا استعمال کررہے ہیں۔ خاص اقتصادی سیکٹر کے واسطے زمین ایکوائر اور کھانوں کی کھدائی کے لئے ایسا ہوتا ہے۔ اس قانون کے سبب دیش کے کئی کسانوں اور زرعی مزدوروں کو جدوجہد کرتے دیکھا گیا ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ مارکس وادی پارٹی اپنی ہار سے کچھ سیکھنا نہیں چاہتی۔ وہ کانگریس اور بھاجپا کو ہرانے کی بات تو کررہی ہے لیکن اس کے روڈ میپ میں تیسرے متبادل کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اس کے برعکس وہ لیفٹ جمہوری متبادل کے لئے کوشش کرنے کی بات کررہی ہے مگر ایسا کوئی متبادل ہوا میں تو تیار نہیں ہورہا ہے۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں ہیں لیفٹ پارٹیوں کی سیٹیں پچھلی مرتبہ کے مقابلے آدھی سے کم رہ گئی تھیں اگرچہ امکانی پس منظر کو دیکھیں تو نتیش کمار ، جے للتا، ممتا، نوین پٹنائک اور چندرا بابو نائیڈو کے رہتے غیر کانگریس اور غیر بھاجپائی سیاست میں مارکس وادی پارٹی کے لئے جگہ نظر نہیں آرہی ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ پارٹی آج بھی اندرونی رسہ کشی اور گروپ بندی کا شکار ہے۔وہ مانے یا نہ مانے لیکن کیرل میں پارٹی آپسی اختلافات اور گروپ بندی کے سبب ہی ہاری ہے۔ پارٹی سکریٹری جنرل پرکاش کرات کی بیڑا غرق کرنے والی پالیسیاں جب تک نہیں بدلتیں تب تک ہمیں بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کا سیاسی مستقبل چمکتا دکھائی نہیں پڑتا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Kolkata, Mamta Banerjee, Vir Arjun, West Bengal

02 فروری 2012

اور اب ممتا نے منموہن سنگھ پر سیدھا حملہ کیا


Published On 2nd February 2012
انل نریندر
یوپی اے کی اتحادی پارٹیوں کے بڑھتے دباؤ سے کانگریس کا سیاسی بحران بڑھتا جارہا ہے۔ ممتا بنرجی اور شرد پوار دونوں نے کانگریس کی ناک میں دم کردیا ہے۔ پیر کے روز ممتا نے تو ساری حدیں پار کردی ہیں۔ انہوں نے براہ راست وزیر اعظم منموہن سنگھ پر نشانہ لگایا۔ پیر کو ممتا نے منموہن سنگھ پر سیدھا حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے سنگور میں زمین تحویل مخالف ان کی تحریک کے دوران ان سے بات نہیں کی تھی۔ ایسا انہوں نے مارکسوادی پارٹی کے ڈر سے کیا تھا کیونکہ وہ اس کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ معاملے نے حیرت انگیز ڈھنگ سے این سی پی نیتا اور وزیرزراعت شرد پوار کی لائن اختیار کرتے ہوئے غذائی سکیورٹی ایکٹ کو لاگو کرنے پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔ حیرانی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا آخر سرکار اس کے لئے پیسہ کہاں سے لائے گی؟ بنگلہ زبان کے تین چینلوں پر نشر انٹرویو میں ممتا نے اپنے ٹیلی کاسٹ انٹرویو میں اپنی پارٹی کو یوپی اے اتحاد کی ایک ذمہ دار پارٹی بتایا۔ اس محاذ کو برقرار رکھنے کی ہماری ذمہ داری ہے لیکن ہماری ان لوگوں کے تئیں بھی ذمہ داری ہے جنہوں نے ہمیں چنا ہے۔ ممتا کا کہنا ہے اس لئے عوام مخالف پالیسیوں کی ہم ہمیشہ مخالفت کریں گے۔ انہوں نے کہا ترنمول کانگریس نے اپنی سرگرمیوں کوپالیسیوں کی بنیاد پر بڑھایا ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے لوگوں کو سیدھے طور پر متاثر کرنے والے خوردہ بازار میں براہ راست طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) اور پیٹرول کے داموں میں اضافے کی مخالفت کی لیکن کانگریس کے کچھ لیڈر مارکس وادی پارٹی کی طرح کام کررہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں ترنمول نیتا نے مرکز پر ریاست کے لئے پیکیج دینے میں ٹال مٹولی کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں چناؤ سے پہلے وزیر اعظم نے ریاست کی مدد کا وعدہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں پچھلے 8 مہینے میں میں وزیر خزانہ پانچ بار مل چکی ہوں۔ میں بھیک نہیں مانگ رہی ہوں۔ کچھ بھی ہوجائے ہم عزت سے سر اٹھا کر چلیں گے۔ کانگریس اور ترنمول کانگریس میں دراڑ چوڑی ہوتی جارہی ہے۔ کانگریس محسوس کرنے لگی ہے کہ ترنمول کا منصوبہ ہے کہ کانگریس کے گڑھ والے علاقے میں پیٹ بنانا۔نشانے پر ہیں ممتا کے کچھ مخالف مانے جانے والے کانگریس نیتا۔ دیپا داس منشی، ادھیر چودھری اور موسم بینظیر نور کے اثر والے ضلع ہیں۔پچھلے دنوں کانگریس اور ترنمول محاذ میں جاری کھینچ تان نیتاؤں کے درمیان تنازعہ سے آگے نکل کر جنتا کی عدالت میں چلی گئی ترنمول کے نیتاؤں نے ریلی کر کانگریسیوں کو اتحاد چھوڑنے کی چنوتی دے ڈالی۔ ترنمول کانگریس کے لیڈروں نے ایک آواز میں کہا کہ یہ کانگریس کو طے کرنا ہے کہ انہیں پچھلے دروازے سے باہر نکلنا ہے یا بڑے دروازے سے۔ جس رفتار سے دونوں پارٹیوں میں خلیج چوڑی ہوتی جارہی ہے اس سے تو لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب دونوں الگ الگ راستہ اپنا لیں، بہت کچھ منحصر کرتا ہے ان پانچ اسمبلی چناؤ کے نتائج پر۔ اگر ان میں کانگریس کی کارکردگی اچھی نہیں رہی تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Kolkata, Mamta Banerjee, Manmohan Singh, Trinamool congress, Vir Arjun, West Bengal

13 دسمبر 2011

کولکتہ کے بدقسمت صحت یاب ہونے آئے تھے لیکن ملی موت


Published On 13th December 2011
انل نریندر
پچھلے کچھ عرصے سے کولکتہ کے ہسپتالوں کی اخباروں میں سرخیاں بنتی رہی ہیں اور دنیا کو مغربی بنگال میں مریضوں کی خستہ حالت کا پتہ چلا ہے۔ جمعہ کی صبح کولکتہ کے ایڈوانس میڈیکیئر اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ اے ایم آر آئی میں خوفناک آگ لگ گئی۔ کولکتہ کے اس پرائیویٹ ہسپتال میں آگ لگنے سے تقریباً90 لوگوں کی موت ہوگئی۔ ان میں سے زیادہ تر مریض تھے جو آئے تو تھے ہسپتال میں ٹھیک ہونے کے لئے لیکن ہسپتال سے ان کی جلی ہوئی لاش نکلی۔ کیا اس سے زیادہ بدقسمتی اورکچھ ہوسکتی ہے کہ لوگ جہاں زندگی کی سلامتی کی امید میں آئے وہیں انہیں قیامت کا شکار ہونا پڑا۔ مرنے والوں میں نوزائدہ بچے بھی شامل تھے۔ جمعہ کی صبح سویرے آگ سانحہ پیسے اور رسوخ کے دم پر سرکار کی مشینری کے ساتھ ملی بھگت کر قاعدے قانون کی دھجیاں اڑانے کی تازہ مثال ہے۔ یہ واقعہ ہمارے اس لچر سسٹم کی پول کھولتا ہے جس میں حساسیت مسلسل ختم ہوتی جارہی ہے۔ پرائیویٹ ہسپتال کمائی کرنے کا گارنٹی شدہ ذریعہ بن گئے ہیں۔
اس کثیر منزلہ پرائیویٹ ہسپتال میں جب آگ لگی تب وہاں اس سے بچنے کے لئے احتیاطی وسائل تک موجود نہیں تھے۔ زیادہ تر لوگوں کی موت دم گھٹنے سے ہوئی کیونکہ شیشوں کے پینلوں کے سبب کاربن مونوآکسائیڈ اور امونیا کا زہریلا دھنواں باہر نہیں نکل پایا اور وہاں آکسیجن کی کمی ہوگئی۔ اس حادثے کے لئے ہسپتال کے ملازمین تو ذمہ دار ہیں ہی مگر انتظامیہ کوبھی جوابدہ ہونا چاہئے۔ لائسنس دینے والے اور اجازت دینے والے جوابدہی سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ آخر محض چار پانچ سال پہلے بنی اس ایئر کنڈیشن ہسپتال کی عمارت میں اتنا بڑا حادثہ کیسے ہوگیا؟ اس سے مطمئن نہیں ہوا جاسکتا۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے سانحہ کی اعلی سطحی جانچ کے حکم دینے کے ساتھ ہی ہسپتال کا لائسنس بھی منسوخ کردیا ہے اور مینجمنٹ کے لوگوں کو لاپرواہی اور غیر ارادتاً قتل کے الزام میں گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔ انتظامیہ اور مقامی سسٹم کو اس سوال کا بھی جواب دینا ہوگا آخر اس بدقسمت ہسپتال میں سلامتی کے موزوں انتظام کیوں نہیں تھے؟ ہسپتال کے جس تہہ خانے کا استعمال پارکنگ کے لئے ہونا چاہئے تھا وہاں زندگی بخش سامان کیوں نہیں تھا۔ کیا وجہ رہی ہسپتال انتظامیہ نے فائر برگیڈ اور پولیس کی اس وارننگ کو کیوں نظر انداز کردیا جس میں تہہ خانے کے بیجا استعمال کو لیکر خبردار کیا گیا تھا؟ کیا یہ لاپرواہی کی ایک صریحاً مثال نہیں ہے کہ آگ کا شکار ہوا سات منزلہ ہسپتال ویسے تو ایئر کنڈیشن تھا لیکن آگ کے بچاؤ کے اس میں وسائل ندارد تھے۔ مغربی بنگال کی حکومت اس حادثے کے بعد یہ دلیل دے کر اپنا پلہ نہیں جھاڑ سکتی۔ لیفٹ پارٹیوں کے لمبے عہد نے سب کچھ تباہ برباد کردیا۔
ممتا بنرجی کو اقتدار سنبھالے ابھی چھ مہینے ہورہے ہیں اصلاحات کی سمت میں کام آگے بڑھانے کے لئے انہیں فرصت نہیں ہے۔ پچھلے کچھ وقت سے ہسپتالوں کی دردشاکے معاملے بھی سرخیاں بنتے رہے ہیں۔ اب بھی ریاستی سرکار کی آنکھیں نہیں کھلیں افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دیگر شہروں میں بھی زیادتر یہی حالت ہے۔ امید کی جاتی ہے ریاستوں کی حکومتیں اس آگ سے سبق لیں گی اور اپنے اپنے راجیوں میں ہسپتالوں میں سختی سے آگ کے واقعات سے نمٹنے کیلئے موزوں اقدامات پر خاص توجہ دیں گی۔
AMRI Hospital, Anil Narendra, Daily Pratap, Kolkata, Mamta Banerjee, Vir Arjun, West Bengal

07 دسمبر 2011

چین کے تئیں بھارت کواپنی پالیسی بدلنی ہوگی


Published On 7th December 2011
انل نریندر
ہندوستان اور چین کے درمیان رشتے ہمیشہ سرد گرم ہوتے رہے ہیں۔ ہندوستان سے ہی چین میں بودھ دھرم کی تبلیغ اور فروغ ہوا تھا۔1949ء میں چین کی کمیونسٹ حکومت قائم ہوئی اور دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کا قیام عمل میں آیا۔ بھارت نے شروع سے ہی چین کے تئیں دوستی اور بھاری چارگی کا اظہار کیا ہے۔ بھارت ایک ایسا پہلا غیر کمیونسٹ ملک تھا جس نے چین کی کمیونسٹ سرکار کو تسلیم کیا تھا اور اقوام متحدہ نے بھی چین کو منظوری دلانے کی کوشش کی تھی۔1954 میں چین اور بھارت کے درمیان ایک آٹھ سالہ معاہدہ ہوا جس کے تحت بھارت نے تبت سے اپنے فاضل ملکی اختیارات کو چین کو سونپ دیا۔ اس کی بنیاد پر دونوں ملکوں کے درمیان پنچ شیل اصولوں کی تعمیل کی گئی۔ 1957ء میں دونوں ملکوں کے درمیان تبت کو لیکر رشتے خراب ہونا شروع ہوگئے۔ 31 مارچ 1959ء کوتبت میں چینی دمن کی وجہ سے وہاں کے دھرم گورو دلائی لامہ نے بھارت میں سیاسی پناہ لی۔ اس کی کشیدگی 1962ء میں ہند۔ چین جنگ کی شکل میں ہوئی۔آج بھی دلائی لامہ اور ان کے ماننے والوں کو لیکر بھارت چین میں کشیدگی بنی ہوئی ہے۔ دلائی لامہ کو لیکر چین اب کچھ زیادہ ہی جارحانہ رخ اپنائے ہوئے ہے۔ پچھلے دنوں کولکتہ میں ایک پروگرام ہوا تھا جہاں دلائی لامہ کو آنا تھا۔ اس پروگرام میں گورنر ایم کے نارائنن اور وزیر اعلی ممتا بنرجی کو بھی شرکت کرنی تھی۔ چین نے مغربی بنگال سرکار کو باقاعدہ ایک خط لکھا جس میں یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ گورنر اور وزیر اعلی اس پروگرام میں نہ جائیں۔ یہ مانگ نہیں مانی۔ گورنر اس پروگرام میں شامل ہوئے اور وزیر اعلی اپنی ماں کی بیماری کی وجہ سے اس میں شامل نہیں ہو پائیں لیکن ان کے نمائندے کے طور پر ایم پی ڈیریک اوبراؤن شامل تھے۔ ہندوستان نے اس بات کی مخالفت درج کرانے کا فیصلہ کیا ہے کہ چین نے مغربی بنگال سرکار کو آخر ایسا خط کیوں لکھا؟ کچھ ہی دن پہلے چین نے نئی دہلی میں بودھ دانشوروں کی کانفرنس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جسے دلائی لامہ کو خطاب کرنا تھا۔ جب چین کی ضد نہیں مانی گئی تو اس نے سرحدی تنازعے پر مجوزہ بیٹھک میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا۔ چین بھارت کے اندرونی معاملوں میں دخل اندازی سے باز نہیں آتا۔ اس نے زیادہ ہی جارحانہ رخ اپنا لیا ہے۔ مثلاً دیش کی ایک ریاستی حکومت کے سربراہوں کو کیا کرنا چاہئے یا نہیں کرنا چاہئے یہ سیدھے طور پر کسی غیر ملکی حکومت کو نہیں بتانا چاہئے۔ چین دراصل اپنے آپ کو امریکہ کی طرح ایک بڑی طاقت ماننے لگا ہے اور اپنی ہر ضد کو منوانا چاہتا ہے۔ حکومت ہند بھی کچھ حد تک چین کے سامنے گھٹنے ٹیکتی نظر آرہی ہے تبھی تو حال میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے بھارت سرکار سے کہا کہ وہ اپنی چینی پالیسی کو واضح کرے۔ ممبئی میں ایک ریلی میں خطاب کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ بھارت کو تھوڑا اور عزم کے ساتھ چین سے پیش آنا چاہئے کیونکہ یہ دیش کو متنازعہ حصہ کہتا ہے اور کئی حصوں پر بھارت کی سرداری پر سوال بھی کھڑے کرتا ہے۔ عمر سنیچر کو ممبئی میں ایک پریس کانفرنس میں بول رہے تھے۔ کچھ ہی گھنٹے پہلے عمر عبداللہ کے والد فاروق عبداللہ نے نئی دہلی میں کہا تھا کہ بھارت کو یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ وہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کو نہ تو پاکستان سے اور نہ ہی کشمیر سے واپس لے سکتا ہے۔ بیٹے عمر نے کہا کہ اگر سچ مچ آپ کو یقین ہے کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے تو کارگل جنگ کے دوران کنٹرول لائن کو کیوں نہیں پارکیا؟ اگر آپ جنگ کے وقت بھی کنٹرول لائن کا احترام کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہی ہے کہ آپ نے اس علاقے کو واپس پانے کی امید چھوڑ دی ہے۔ عمر نے نئی دہلی سے گذارش کی کہ چین اور پاکستان کے ساتھ اپنے رشتوں میں ہمیشہ معذرت گذار ہونے کا رویہ چھوڑدیں۔ انہوں نے کہا میری دہلی خواہش ہے کہ چین کے ساتھ پیش آتے وقت بھارت کو تھوڑا اور سختی دکھانی چاہئے۔ ایسا لگتا ہے کشمیر کو متنازعہ حصہ قراردینے میں چین کو ذرا بھی جھجک نہیں ہے جبکہ ہم سے ایک چین کی پالیسی کو تعمیل کرنے اور تبت و تائیوان کی طرز پر سوال نہ کھڑے کرنے کی توقع کی جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ ہم متحد چین کی پالیسی کی تعمیل کریں جبکہ چین متحد بھارت کی پالیسی کی تعمیل نہیں کررہا ہے۔ چین اور پاکستان دونوں کے ہی ساتھ اپنے رشتوں میں ہم عرصے سے فراخ دلی اپنا رہے ہیں جبکہ واقعی اس کی ضرورت نہیں تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ چین کے ساتھ تھوڑا سخت ہونا ضروری ہے۔ اگر وہ ہماری سرداری کو لیکر چین پر سوال کھڑا کرتاہے تو ہمیں بھی کئی حصوں میں اس کی سرداری (جن میں تبت بھی شامل ہے) پر سوال کھڑے کرنے کا حق ہے۔
Aksai Chin, Anil Narendra, China, Daily Pratap, Dalai Lama, India, Mamta Banerjee, Vir Arjun, West Bengal

27 نومبر 2011

حکومت کو نکسل مخالف آپریشن میں ملی اہم کامیابی



Published On 27th November 2011
انل نریندر
سرکار کواپنی اینٹی نکسلی آپریشن میں ایک شاندار کامیابی ملی ہے۔ سی پی آئی (ماؤوادی) کی ملٹری یونٹ کے چیف پولٹ بیورو کے ممبر کوٹیشور راؤ عرف کشن جی کو سکیورٹی فورس نے مڈ بھیڑ میں مار گرایا ہے۔ وزارت داخلہ نے اس مڈ بھیڑ کی تصدیق کے ساتھ ہی بھارت میں نکسل تحریک کا ایک باب کا صفایا ہوگیاہے۔ سی آر پی ایف کی نکسل مخالف کمانڈو بٹالین 207 کوبرا کے جوانوں نے کشن جی کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ بنیادی طور سے آندھرا پردیش کا باشندہ کوٹیشور راؤ عرف کشن جی طویل عرصے سے نکسل تحریک سے جڑا تھا۔ پچھلے تین سال سے اس نے مغربی بنگال حکومت اور مرکزی حکومت کی ناک میں دم کیا ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق کشن جی نے دو نکسلی ماؤ وادی کمیونسٹ پارٹی اور پیپلز وار گروپ کے آپس میں انضمام میں اہم کردار نبھایا تھا۔ قریب چھ سال پہلے ہوئے اس انضمام کے سبب نکسلیوں کی طاقت کافی بڑھ گئی تھی۔ کشن جی کے دونوں نیپال کے ماؤ وادی کے ذریعے چین سے بھی روابط میں تھا۔ پریم گنج ضلع کے ناگپلی گاؤں سے نکسلواد کا سفر شروع کرنے والا کشن جی گوریلا جنگ کا ماہر تھا۔ اس نے بنگال سے مہاراشٹر تک کمان سنبھال رکھی تھی۔ اس کا خاص مقصد تھا کہ مغربی مدنا پور ،باکوڑہ اور پرولیا بیلٹ کو جھارکھنڈ، اڈیسہ اور چھتیس گڑھ سے جوڑنا تھا۔ کشن جی کی موت کے بعد نکسلی تشدد سے متاثرہ ریاستوں بہار، اڈیسہ، چھتیس گڑھ و اترپردیش میں جمعہ کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ نکسلی حملے کے اندیشے کو دیکھتے ہوئے ایسا کیا گیا ہے۔ چھتیس گڑھ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل رام نواس نے بتایا کہ نکسلی بدلے کی کارروائی کرسکتے ہیں۔ نکسلی 40 ہزار کلو میٹر علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں اور بستر علاقے میں وہ عام لوگوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ وہاں ان کی یکساں حکومت چلتی ہے۔ کشن جی کی موت سے نکسلی ماؤ وادی مسئلہ تو ختم نہیں ہوگا لیکن یہ ضرور ہے کہ یہ ان کے لئے ایک بہت بڑا جھٹکا ہے جس سے انہیں نکلنے میں وقت ضرور لگے گا۔ سرکار کی نکسل مخالف کارروائی میں یہ ایک شاندار کارنامہ ضرور ہے۔
Andhra Pradesh, Anil Narendra, Chhattis Garh, China, Daily Pratap, Kishanji, Maharashtra, Naxalite, Nepal, Odisa, Vir Arjun, West Bengal

10 نومبر 2011

ممتا بنرجی سے ایسی نوٹنکی کی امید نہیں تھی




Published On 10th November 2011
انل نریندر
یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ ترنمول کانگریس کی صدر و مغربی بنگال کی وزیر اعلی اب دباؤ اور بلیک میلنگ کی سیاست پر اتر آئی ہیں۔ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو لیکر ممتا کی حمایت واپس لینے کی دھمکی دراصل حمایت دینے کا مول لینا تھا۔ یہ اسٹائل ممتا کا پرانا ہے۔ پیٹرولیم کے داموں سے پیدا سیاسی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی قیمت انہوں نے19 ہزار کروڑ روپے لگائی ہے۔ 4 نومبر کو ممتا نے کہا تھا کہ ہماری حمایت واپس لینے سے سرکار گر سکتی ہے لیکن وزیر اعظم باہر ہیں ، ہم ان سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں، ان سے ملنے کے لئے وقت مانگا ہے۔ دراصل ممتا کا مقصد وزیر اعظم سے سودے بازی کرنے کا تھا۔ انہیں پیٹرول کی قیمتوں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی یہ تو محض دباؤ بنانے کا ہتھیار تھا۔ منگل کو ترنمول کانگریس کے ممبران پارلیمنٹ کے ایک نمائندہ وفد نے وزیر اعظم سے ملاقات کی اس نمائندہ وفد کو پیٹرول کی قیمت میں 1.80 پیسے اضافہ لینے پر وزیر اعظم نے کوئی یقینی دہانی نہیں کرائی۔ یوں کہئے وزیر اعظم نے ایک طرح سے نمائندہ وفد کو منع کردیا۔ 45منٹ چلی بات چیت محض ایک ڈرامہ تھی اور اس ناٹک بازی کے بعد نمائندہ وفد نے کہا ہم حکومت سے کبھی نہیں ہٹیں گے۔ ہم اضافے کے سخت حلاف ہیں۔ میڈیا میں رسوئی گیس اور ڈیزل کے ڈی کنٹرول کو لیکر آرہی خبروں پر وفد نے وزیر اعظم سے سوال کرکے احتجاج ظاہر کیا۔
وزیر اعظم نے اس مسئلے پر کوئی معلومات نہ ہونے سے منع کردیا۔ ادھر کولکتہ میں ممتا نے پرنب مکھرجی سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے کہا اگر پیٹرومصنوعات کے دام پھر بڑھائے گئے تو میری پارٹی یوپی اے سرکار میں نہیں رہے گی۔ اضافہ واپس لینے کی یقینی دہانی کے بجائے وزیراعظم نے ترنمول ممبران کو اس فیصلے کی باریکیاں سمجھائیں۔ انہوں نے صاف طور پر کہا کہ حالات کو دیکھتے ہوئے سرکار ڈیزل سے سرکاری کنٹرول ہٹائے گی۔ ڈیزل کو ڈی کنٹرول کرنایوپی اے کے اقتصادی ایجنڈے میں ہے۔ ممبران نے جب ان سے پیٹرول کے دام بڑھانے کے فیصلے پر ترنمول کو بے خبر رکھنے کی بات کی تو وزیر اعظم نے کہا کمپنیاں اپنا فیصلہ بے شک سرکار کو بتاتی ہیں مگر یہ محض خانہ پوری ہوتی ہے۔ وہ فیصلہ لینے کے لئے آزاد ہیں۔ حالانکہ جب بھی کمپنیاں دام بڑھانے کو لیکر ہم سے بات کریں گی ہم ساتھیوں کو جانکاری دیں گے۔
پیٹرول کے بڑھے دام واپس نہیں ہوں گے لیکن ہاں اس چکر میں مغربی بنگال کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کیلئے ممتا دیدی کو مرکز سے 19 ہزار کروڑ روپے کا پیکیج جلد ملنے کا امکان ہے۔ کولکتہ میں وزیر اعلی ممتا بنرجی نے وزیر مالیات پرنب مکھرجی سے میٹنگ کے بعد کہا مغربی بنگال کی اقتصادی حالت بدحال ہے۔اسے پٹری پر لانے کیلئے ریاست کو مرکز سے مالی امداد جلد ملنے کی ضرورت ہے۔ فی الحال انہوں نے مرکزی حکومت سے 19 ہزار کروڑ روپے کی مدد مانگی ہے۔ جب مرکزی سرکار خود پیٹرول کی قیمتوں کو لیکر سیاست کرے گی تو وہ اپنی اتحادی پارٹیوں کو ایسا نہ کرنے کی نصیحت نہیں دے سکتی۔ اگر ممتا بنرجی پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر اپنی ناراضگی کے ذریعے مرکز سے اقتصادی پیکیج حاصل کرنا چاہتی ہیں تو اس کے لئے ایک حد تک خود مرکز ذمہ دار ہے۔ ممتا بنرجی کو اپنی ریاست کے مسائل سے آزاد کرنے کے لئے مرکزی پیکیج کی ضرورت ہو سکتی ہے لیکن اسے حاصل کرنے کے لئے اس کی طرف سے جو طریقہ اپنایا جارہا ہے وہ سودے بازی کی سیاست کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Mamta Banerjee, Manmohan Singh, Petrol Price, Trinamool congress, Vir Arjun, West Bengal

22 جولائی 2011

گورکھا مسئلے کا حل ایک نئی سمت فراہم کر سکتا ہے


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 22th July 2011
انل نریندر
مغربی بنگال حکومت، مرکزی حکومت اور گورکھا جن مکتی مورچہ کے درمیان ہوا سمجھوتہ دارجلنگ علاقے میں بحالی امن کا ایک تاریخی قدم ہے۔ لیفٹ فرنٹ نے اس علاقے سے کبھی انصاف نہیں کیا اور ہمیشہ اسے کچلنے کی ہی کوشش کی لیکن ممتا بنرجی نے اقتدار سنبھالتے ہی پہاڑی خطے کے اس پیچیدہ مسئلے کو سلجھا دیا ہے۔ یقینی طور سے یہ ان کا لائق تحسین کارنامہ ہے۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے مشکل سیاسی چیلنج کا فوری طور پرحل نکالنے میں جو کامیابی حاصل کرکے اپنی سیاسی قابلیت کا ایک ثبوت دیا ہے۔ گورکھا لوگوں کے لئے الگ ریاست کی مانگ تین دہائیوں سے مغربی بنگال کی سیاست میں اتھل پتھل مچاتی رہی ہے لیکن الگ ریاست کے لئے مغربی بنگال کا بٹوارہ ایسا حساس مسئلہ تھا جسے کسی میں چھونے کی ہمت نہیں تھی۔ 23 سال پہلے ایسا ہی ایک سمجھوتہ اس وقت کے گورکھا مکتی مورچہ کے ساتھ ہوا تھا جس میں دارجلنگ گورکھا پہاڑی کونسل بنائی گئی تھی اور سبھاش گھیشنگ کو اس کا لیڈر بنایا گیا تھا۔ حالانکہ یہ بھی ایک مختار کونسل تھی اور اس میں دارجلنگ ،کلنگ پونگ اور کرسیانگ کے علاقے شامل کئے گئے تھے لیکن اس کے اختیارات محدود تھے۔ لیفٹ فرنٹ نے اس 42 نفری کونسل میں ایک تہائی ممبروں کو نامزد کرنے کا حق اپنے پاس رکھ لیا تھا جسے لیکر کھینچ تان رہتی تھی۔ ممتا بنرجی نے نئے سسٹم کو گورکھا لینڈ علاقائی انتظامیہ کا نام دیکر گورکھالوگوں کے جذبات کو کافی حد تک مطمئن کیا ہے۔ اس وقت عارضی طور پر اس میں وہی علاقے رکھے گئے ہیں جو سبھاش گھیشنگ کی پہلی کونسل میں تھے۔ تازہ سہ فریقی سمجھوتے کے بعد کونسل کی بہ نسبت جی ٹی اے کے پاس زیادہ اختیار ہوں گے۔ پریشد کے ممبران کی تعداد 50 کرنے کی سہولت رکھی گئی ہے اور نامزد کئے جانے والے ممبروں کی تعداد گھٹا کر پانچ کردی گئی ہے۔مختاریت کی کنجی سے کسی علاقائی یا سالمیت کے معاملے کے حل کی یہ دیش میں پہلی مثال نہیں ہے۔ اس میں بوڈولینڈ علاقائی کونسل کو اس سے زیادہ مختاری حاصل ہے۔
یہ بات صاف ہے کہ تین قومیں یعنی کھاسی، جیوتیا اور گورا کونسل کے بارے میں بھی یہ ہی کہا جاسکتا ہے کہ ان بلدیاتی اداروں کو انتظامی کاموں کے علاوہ کچھ حد تک عدلیہ اختیار بھی حاصل ہیں لیکن ممتا کے فارمولے میں بھی ایک پیچ پھنس سکتا ہے۔ بیشک ایک کمیٹی ضرور بنائی گئی ہے جو تراہی اور سلی گوڑی کے گورکھا اکثریتی حصوں کو نئے سسٹم کا حصہ بنانے کی مانگ کرے گی۔ لیکن یہ پیچ یہیں پھنس سکتا ہے۔ ان علاقوں کے بنگالی، قبائلی اور دیگر گورکھا فرقے کے لوگ اس سسٹم کے ساتھ جانے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ جہاں نئے سسٹم کو لیکر گورکھا فرقہ کے لوگ آتش بازیاں چھوڑ رہے تھے اسی وقت سلی گوری اور تراہی علاقوں کے حصوں میں ہڑتال اور بند کیا جارہا تھا۔ چناؤ میں منہ کی کھانے کے بعد لیفٹ فرنٹ سیاسی روٹیاں سینکنے کے فراق میں ہیں اور اسے بنگال کا بٹوارہ بتا رہی ہیں۔ حالانکہ ممتا بنرجی نے گورکھا لینڈ انتظامیہ کے اعلان کے وقت صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ ریاست کی تقسیم کسی بھی حالت میں نہیں کی جائے گی۔ گورکھا علاقائی انتظامیہ ایسی درمیانی راہ نکالنے کا تجربہ ہے جسے الگ ریاست کی مانگ اٹھا رہے تلنگانہ، ودربھ جیسی تحریکوں کا حل نکل سکتا ہے۔ ویسے بھی دیکھا جائے الگ ریاست بنانے سے اور ریاستوں کا بٹوارہ کرنے سے تو یہ راستہ کہیں بہتر ہے۔
Tags: Anil Narendra, Daily Pratap, Vir Arjun, Mamta Banerjee, P. Chidambaram, West Bengal, Gorkhaland,

26 مئی 2011

اسمبلی انتخابات میں مسلم پارٹیوں کو شاندار کامیابی ملی

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily

26مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
ہندوستان کے مسلمانوں کے بارے میں میں سمجھتا ہوں کہ یہ بدقسمتی ہی رہی ہے کے سیاست کے میدان میں انہیں اپنے فرقے کی کبھی صحیح لیڈرشپ نہیں ملی۔ بڑی سیاسی پارٹیوں نے ہمیشہ ان کا استعمال کیا اورووٹ بینک کی طرح ان سے برتاؤ کیا۔ اب یہ بات ہمارے مسلمان بھائیوں کو سمجھ میں آرہی ہے وہ اپنے کو سیاسی طور پرمنظم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ اچھی پیش رفت ہے۔ یوں تو آزادی کے بعد سے ہی ہندوستانی سیاست میں چھوٹی موٹی مسلم سیاسی پارٹیاں ہمیشہ میدان میں رہی ہیں لیکن اب انہیں شاندار کامیابی ملنے لگی ہے۔ حال ہی میں ہوئے پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ کے نتائج بتاتے ہیں مسلمان قومی سیاسی پارٹیوں سے مایوس ہوگئے ہیں اور وہ علاقائی مسلم پارٹیوں کے ساتھ اپنی یکجہتی دکھانے لگے ہیں۔ کیرل میں مسلم لیگ او رآ سام میں آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کو ملی کامیابی اور تاملناڈو میں نئی بنی مسلم پارٹی ایم ایس این کو بھی دو سیٹیں ملنا اس کا اشارہ کرتا ہے کہ اس کا اثر اگلے سال ہونے والے اسمبلی انتخابات پر بھی پڑنا لازمی ہے۔ خاص کر اترپردیش میں مسلم سیاسی پارٹیوں میں مسلم ووٹ کیلئے زبردست زور آزمائش ہونے والی ہے۔یوں تو کیرل میں مسلم لیگ ہمیشہ سے ہی طاقتور رہی ہے لیکن اس مرتبہ اس نے کامیابی کے سبھی پرانے ریکارڈ توڑ دئے ہیں۔ اس کے 24 میں سے20 امیدوار جیتے ہیں۔ وہیں آسام میں اے آئی یو ڈی ایم کی سیٹیں 10 سے بڑھ کر19 ہوگئی ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان ریاستوں کے مسلمانوں نے متحد ہوکر ان علاقائی مسلم پارٹیوں کو ووٹ دیا ہے۔ کیرل میں مسلم لیگ یوڈی ایف کا حصہ تھی تو اے آئی یو ڈی ایف نے آسام میں اکیلے چناؤ لڑوا کر اپنی طاقت دکھائی ہے۔ تاملناڈو میں ایم ایس این کے جے للتا محاذ کا اتحادی حصہ تھی لیکن چناؤ کے فوراً بعداس کا من جے للتا سے کھٹا ہوگیا کیونکہ انہوں نے اپنی حلف برداری تقریب میں نریندر مودی کو بلایا تھا۔ مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی کامیابی میں مسلم ووٹوں کا اہم رول رہا ہے۔ روایتی طور پر مارکسوادی پارٹی کا ووٹ بینک رہے مسلمانوں نے اس مرتبہ ممتا کے تئیں اپنی ہمدردی و حمایت دکھائی۔ مسلم ووٹروں کے رخ کو ممتا کی طرف موڑنے میں مسلم تنظیم جمعیت العلمائے ہند کا اہم کردار رہا۔ آندھرا پردیش میں بھی ایک مسلم سیاسی پارٹی مجلس مشاورت کو حیدر آباد اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اچھی کامیابی ملی ہے۔ اس کے لیڈر اویسی لوک سبھا کے ممبر ہیں۔
اترپردیش میں مسلم ووٹوں کا اہم کردار ہوگا۔ وہاں 6 سے7 مسلم پارٹیاں ریاست کے 18 فیصد مسلم ووٹروں کو راغب کرنے کیلئے میدان میں ہوں گی۔ یوپی میں سب سے طاقتور پیس پارٹی ہے۔ اس نے پچھلے ضمنی چناؤ میں اچھے خاصے ووٹ حاصل کرکے سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے لیکن اس کی پوری کوشش صوبے میں نہیں چل پائی اور زیادہ تر گورکھپور اور اس کے آس پاس کے علاقوں تک ہی محدود ہے۔ حال ہی میں جماعت اسلامی نے بھی پارٹی بنائی ہے ویلفیئر پارٹی آف انڈیا۔اے آئی یو ڈی ایف نے بھی یوپی کے چناؤ میں امیدوار اتارنے کا اعلان کیا ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے دیش کے مسلم ممبران پارلیمنٹ میں سے ایک بھی شیعہ نہیں ہے۔ اس لئے کئی شیعہ تنظیموں نے بھی یہ محسوس کیا ہے کہ انہیں بھی منظم ہوکر اپنی پارٹی بنانا چاہئے تاکہ شیعوں کو ٹھیک نمائندگی مل سکے۔ یہ پارٹیاں کتنی کامیاب ہوتی ہیں یہ تو چناؤ کے بعد پتہ چلے گا لیکن اتنا ضرور ہے کچھ سیکولر پارٹیوں کی نیند حرام ضرور ہوگئی ہے۔
 Tags: Anil Narendra, Assam, Kerala, Muslim, State Elections, Tamil Nadu, Uttar Pradesh, West Bengal

24 مئی 2011

۔34سال بعد رائٹرس بلڈنگ میں لوٹے ایشور

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
24مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
مغربی بنگال میں شکروار کو پہلی خاتون وزیر اعلی کی شکل میں حلف لے کرمحترمہ ممتا بنرجی نے ایک نئے دور کا آغاز کیا ہے۔ 34 سال بعدبھگوان مغربی بنگال میں لوٹے۔ ممتا بنرجی نے شکروار کو ٹھیک1.01 منٹ پر ایشور کے نام پر عہدۂ راز داری کا حلف لیا۔ اس سے پہلے لیفٹ مورچہ کے وزراء نے 34 سال کے عہد میں بھگوان کا نام نہیں لیا وہ ہمیشہ حلف آئین کے نام پر لیتے رہے۔ آخر اس وقت 1.01 منٹ کے پیچھے کیا خاص بات ہے؟ نجومیوں کا کہنا ہے کہ یہ وقت ممتا بنرجی کے لئے اچھا ہے جو انہیں پانچ سال کی پوری پاری مکمل کرائے گا اور تھوڑا ہوشیار رہتے ہوئے اپنی حلف برداری تقریب کے بعد عوام کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے روایت توڑ کر ممتا بنرجی راج بھون سے رائٹرس بلڈنگ یعنی وزیر اعلی کے دفتر تک جلوس کی شکل میں پیدل گئیں۔ ان کے حمایتیوں کی بھیڑ کو دیکھتے ہوئے رائٹرس بلڈنگ کے سبھی دروازے کھول دئے گئے۔ راج بھون میں دوپہر ٹھیک 1بجکر1 منٹ پر گورنر ایم کے نارائنن نے ممتا کو وزیر اعلی کی حیثیت سے عہدے کا حلف دلایا۔ اپنے روایتی ٹریڈ مارک ساڑی، ربڑ کی چپل اور سفید سوتی شال اوڑھے ممتا نے بنگلہ زبان میں ایشور کے نام پر حلف لیا۔ لیفٹ کے راج میں سیاسی تشدد کا شکار ہوئے خاندانوں کے لوگوں کو خاص طور پر بلایا گیا تھا۔ ممتا بنرجی کے کالی گھاٹ میں واقع گھر سے راج بھون تک ایک کلو میٹر کے راستے میں دونوں طرف جمع بھیڑ ان کی حمایت میں نعرے لگا رہی تھی۔
ممتا نے اپنی 43 نفری کیبنٹ میں اقلیتوں، دلتوں، آدی باسیوں ، پسماندہ طبقوں اور خواتین یعنی سماج کے سبھی طبقات کو مناسب نمائندگی دی ہے۔ جو کہنے کو تو کسی کتابی اصولوں کے مطابق لیفٹ مورچہ کی شکل میں مغربی بنگال میں سرو سماج طبقے کی حکومت تھی لیکن ممتا بنرجی کی حلف برداری تقریب دیکھ کرکہا جاسکتا ہے کہ عام طور سے عوامی حکومت اب قائم ہوئی ہے۔1977 میں پہلی بار لیفٹ مورچہ سرکار بننے پر اس کی وزیر اعلی جوتی بسو سے بے عزتی کا بدلہ18 سال بعد ممتا نے لیا ہے۔ ممتا نے تب قسم کھائی تھی کہ وہ ریاست کے وزیر اعلی کی شکل میں ہیں رائٹرس بلڈنگ کی سیڑھیاں چڑھیں گی۔ سنگور اور نندی گرام تحریک کے ذریعے جنتا میں اپنی پکڑ بنانے والی ممتا کا خواب پورا ہوا۔ وہ ریاست کی 11 ویں وزیر اعلی بنیں۔ تقریباً ڈھائی دہائی تک مغربی بنگال میں جس لیفٹ فرنٹ سرکار کے خلاف ممتا نے مسلسل جدوجہد کی اس فرنٹ کے سینئر لیڈروں کو حلف برداری تقریب میں بھی مدعو کرکے ممتا نے سیاسی سوجھ بوجھ کا اشارہ دیا۔ وہ ٹکراؤ سے نہیں میل جول اور بات چیت کے راستے سے چلیں گی۔ ممتا نے اپنی حلف برداری میں نندی گرام اور سنگور تحریک میں مارے گئے لوگوں کے رشتے داروں کے علاوہ مخصوص مہمانوں کی شکل میں سونا گاچھی علاقے کی سیکس ورکر اور رکشہ پولروں کے نمائندوں کوبھی مدعو کرکے با آور کرایا کہ وہ اب واقعی ایک نئے مغربی بنگال کیلئے کام کریں گی۔ ممتا کے سامنے چنوتیوں کی انبار ہے ۔ تشدد اور مالی محاذ پر خراب حالات قابو سے باہر بتائے جارہے ہیں۔ سرکاری خزانہ خالی ہے۔ پوری گاڑی ہی پٹری سے اتری ہوئی ہے۔ گاڑی کو واپس پٹری پر لانا آسان کام نہیں ہوگا۔ ممتا بنرجی کی شاندار کامیابی پر ہماری مبارکباد اور امید کے اب شاید ان کی لیڈر شپ میں مغربی بنگال کی قسمت سنور جائے۔
Tags: Anil Narendra, Cpi, CPM, Daily Pratap, Mamta Banerjee, Trinamool congress, Vir Arjun, West Bengal

18 مئی 2011

پانچ ریاستوں کے کوارٹر فائنل کے بعد سیمی فائنل یوپی کی باری

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
شائع 18مئی2011
انل نریندر
پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ مرکز میں اقتدار کے کھیل کا ایک طرح سے کوارٹر فائنل میچ تھا ۔ اب باری ہے سیمی فائنل کی۔ یہ سیمی فائنل10 مہینے کے بعد اترپردیش میں ہونے والا ہے۔ اگر بہن جی نے چاہا تو یہ اس سے پہلے بھی ہوسکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہوگی کہ یوپی کے سیمی فائنل میں وہ ٹیمیں خاص طور پر کھیلیں گی جو کوارٹر فائنل میں صرف معاون کے کردارمیں نظر آئیں گی۔ یہ پرانی کہاوت ہے کہ دہلی کی گدی کا راستہ اترپردیش سے ہوکر جاتا ہے۔ اسی نقطہ نظر سے یوپی اسمبلی چناؤ اور بھی اہم ہوگئے ہیں۔ کانگریس اور بھاجپا کیلئے نہ صرف صوبے کی سیاست اس پر منحصر کرتی ہے بلکہ مرکزی سیاست میں بھی یوپی کی اپنی اہمیت ہے۔ سب کی آنکھیں محترمہ مایاوتی پرلگی ہوئی ہیں۔ پانچ ریاستوں کے نتائج آئے ۔ یہ عجب اتفاق ہی ہے کہ اسی دن یوپی میں مایاوتی حکومت نے سنیچر کو اپنے چار سال پورے کئے۔ اب اس کی الٹی گنتی شروع ہوگئی ہے۔ اگلے12 مہینے اترپردیش کے لئے سیاسی طور سے بیحد گہما گہمی سے بھرے رہیں گے۔ یوپی میں اے اور بی ٹیم تو بسپا اور سپا کی ہی رہے گی۔ اہم لڑائی بھی ان دونوں میں ہی ہونے والی ہے۔ واضح اکثریت پاکر پہلی مرتبہ پائیدار حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی مایاوتی کے لئے یہ سال کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اپنا گڑھ بچائے رکھنے کیلئے وہ ہر ممکن کوشش کریں گی۔ ادھر ملائم سنگھ اپنی کھوئی ہوئی طاقت کو پانے کے لئے اپنی پوری طاقت جھونک دیں گے۔ سپا اپنے دم پر چناؤ لڑے گی۔ پارٹی نے 403 میں سے270 نشستوں پر اپنے امیدواروں کا بھی اعلان کردیا ہے۔ ملائم نے پورا زور اپنا روایتی یادو اور مسلم ووٹ بینک پر لگایا ہوا ہے۔
مغربی بنگال سے لیکرتاملناڈو تک اقتدار مخالف رجحان بہن جی کے لئے تشویش کا موضوع ہونا چاہئے۔ اگر مغربی بنگال میں نندی گرام اور سنگور میں حکمراں پارٹی لیفٹ کے خلاف ماحول بنایا تو اگرپردیش میں گھوڑی اور بچھڑا اور یہاں پارسول کی کسان تحریک مایاوتی حکومت کے خلاف ماحول بنا رہی ہے۔ حالانکہ یہاں قانون و نظم کے حالات میں بہتری آئی ہے لیکن کچھ بسپا ممبران کے سبب وصولی اور ٹھگی اور لوٹ مار و آبروریزی اور قتل وغیرہ کی وارداتوں نے ماحول کو ضرور آلودہ کیا ہے۔ شکروار کو جب کئی ریاستوں کے چناؤ نتائج آرہے تھے تو مشرقی اترپردیش میں بچھڑائیوں اسمبلی سیٹ کا ابھی نتیجہ آیا ہی تھا اسی سیٹ پر بسپا کہنے کو خود چناؤ نہیں لڑ رہی تھی لیکن ایک شراب تاجر کو پوری حمایت دی ہوئی تھی اور یہ امیدوار بری طرح سے ہار گیا۔ اس چناؤ نے اترپردیش کی سیاست کے لئے دونوں پیغام دئے ہیں۔ حکمراں پارٹی سے اگر اپوزیشن متحد ہوکر لڑی تو بسپا کے لئے مشکلیں کھڑی ہوجائیں گی ، دوسرے فرقہ پرستوں کے لئے بھی اب جیت آسان نہیں ہے۔ اس چناؤ میں پروانچل میں ہندوتو کے سب سے بڑے نیتا یوگی ادیتے ناتھ کی ہار ہوئی ہے، جو اس چناؤ کے لئے ایک وقار کا سوال بنائے ہوئے تھے۔مایاوتی کی سالگرہ کے سلسلے میں چل رہی وصولی کے بعد ایک انجینئر کے قتل سے جو ماحول خراب ہو وہ ایک کے بعد ایک واقعات سے بسپا کے کئی وزراء اور ممبران اسمبلی کو بے نقاب کرگیا۔ اس کی حرکتوں سے مایاوتی کی ساکھ کے وہ ایک سخت ایڈ منسٹریٹر ہیں ، کو بھی دھکا لگا ہے۔ لوگ مایاوتی کے اس نعرے کو یاد دلاتے ہیں غنڈوں کی چھاتی پر پیر لگاؤ اور مہر لگاؤ ہاتھی پر۔ ان سب خامیوں کے باوجود مایاوتی کا آج بھی پلڑا بھاری لگتا ہے۔ ریاست میں انہوں نے کافی کام کیا ہے لیکن آنے والے کچھ مہینے سبھی کے لئے اہمیت کا حامل ہوں گے۔
Read this Article In Hindi: http://anilnarendrablog.blogspot.com/2011/05/5.html

17 مئی 2011

چناؤنتائج کانگریس کیلئے زیادہ خوشی کم غم لیکر آئے ہیں

Daily Pratap, Indias Oldest Urdu Daily
شائع17 مئی2011
انل نریندر
پانچ ریاستوں کے اسمبلی چناؤ نتائج کانگریس کے لئے تھوڑی خوشی تھوڑا غم لیکر آئے ہیں۔ خوشی اس لئے کہ تاملناڈو اور اس کے پڑوسی مرکزی زیر انتظام ریاست پڈوچیری کو چھوڑ کر کانگریس اوراس کی اتحادیوں کا پرچم ہر جگہ لہرایا ہے۔وزیر مرکز میں بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا کا ان ریاستوں میں تقریباً پتا ہی صاف ہوگیا۔ پارٹی کیلئے سب سے زیادہ راحت آسام میں ملی جہاں اس نے تیسری مرتبہ اقتدار میں واپسی کی ہے اور پچھلی بار سے بھی زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں۔ کیرل میں اس کی قیادت والا یوڈی ایف اقتدار میں ضرور پہنچا ہے لیکن معمولی اکثریت کے ساتھ جہاں اس کی نیا کبھی بھی ڈوب سکتی ہے۔ مغربی بنگال میں پوری جیت ممتابنرجی کی ہوئی ہے جبکہ تاملناڈو میں جہاں ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالہ بڑا اشو تھا جس وجہ سے یہاں ڈی ایم کے کا صفایا ہوگیا۔ پڈوچیری بھی کانگریس کے ہاتھ سے نکل گیا اور سب سے خطرناک خبر کانگریس کے لئے آندھرا پردیش سے آئی ہے جہاں اپنے سب سے بڑے گڑھ میں ہوئے ضمنی چناؤ میں اس کے بڑے نیتا چناؤ بری طرح ہار گئے ہیں بلکہ اس کے باغی لیڈر جگن موہن ریڈی اور ان کی ماں جیت گئی ہیں۔
اگر مرکزی سیاست کو دیکھیں تو مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کا اکیلے اکثریت پاجانا کانگریس اور یوپی اے لیڈر شپ کے لئے پریشانی کھڑی کرسکتا ہے۔ ممتا کا اب یوپی اے سرکار میں نہ صرف دبدبہ بڑھ جائے گا بلکہ اس کی سودے بازی کا حق بھی زیادہ ہوجائے گا۔ یہ ہی حال جے للتا کا بھی ہوگا۔ جے للتا کی سودی بازی کی طاقت کے بارے میں تو کانگریس کو اچھا تجربہ ہے۔ ممتا نے کانگریس کو مغربی بنگال سرکار میں شامل ہونے کو کہا ہے اور سرکار میں شامل ہونے کا فیصلہ کانگریس کو کرنا ہے۔ ویسے دیکھا جائے تو اس کے پاس ہاں کہنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔مرکزی سرکار میں اگرچہ دونوں پارٹیاں شامل ہیں تو مغربی بنگال میں کیوں نہیں۔ کانگریس کے کچھ لیڈروں کی مانیں تو ممتا کی شاندار جیت میں کانگریس کی حکمت عملی کچھ وقفے کے لئے پنکچر کردی ہے۔ کل ملا کر ریاست اور مرکز دونوں کی سیاست کے حساب سے ترنمول کا گراف اس وقت کافی اونچا ہے۔
ان پانچ ریاستوں کے نتیجے کو کانگریس نے لیڈ میچ مانتے ہوئے اگلے سال ہونے والے اترپردیش۔ پنجاب۔ اترا کھنڈ کے کواٹر فائنل کی شروعات کردی ہے۔ نتیجوں کا جائزہ اور آگے کی حکمت عملی بنانے کی میٹنگوں کا دور شروع ہوچکا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکار میں جہاں مغربی بنگال کے نتیجے پرنب مکھرجی کی طاقت میں اضافہ کرسکتے ہیں وہیں تاملناڈو میں کانگریس کی ہوئی کرکری پی چدمبرم کی اہمیت پر سوال کھڑے کر سکتی ہے۔ ممتا کے وزیر اعلی بننے سے خالی ہونے والی ریل وزارت کی کمان کس کو سونپنے کے ساتھ ساتھ کئی سینئر وزراء کے دماغوں میں محکموں میں رد و بدل کرکے حکومت اور تنظیم کو اگلے سال ہونے والے اترپردیش پنجاب اور اتراکھنڈ و آخر میں گجرات اور ہماچل کے چناؤ کیلئے تیار کرنا کانگریس لیڈر شپ کی اب ترجیح ہونی چاہئے۔ کل ملاکر یہ ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ان پانچ ریاستوں کے نتیجے کانگریس کے لئے زیادہ خوشی اور کم غم لیکر آئے ہیں۔

طالبہ کے پتا کا حملہ آور گرفتار !

کاکروچ جنتا پارٹی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کے دوران ایک دلت نابالغ طالبہ کے والد پر قاتلانہ حملہ کے الزام میں خودساختہ اپنے آپ کو ہندو وادی و...