Translater
11 فروری 2022
بلوچ فوج نے 100پاکستانی فوجی مارے!
بلوچ مکتی سینا (بی ایل اے )کے جنگ بازوں نے پاکستان کے قبضے والے بلوچستان صوبے کے پنج پور ،نسوری علاقے پاکستانی فوج کے فرنٹیئر کور کے دو ٹھکانوں پر زبردست حملہ کرکے 100سے زیادہ پاکستانی فوجیوں کومار گرانے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اس حملے میں پاک فوج کے فرنٹیئر کو ر کے انسپیکٹر جنرل میجر جنرل اریان بلال کی بھی موت ہو گئی ہے۔حالاںکہ پاکستانی فوج نے بلوچ مکتی سینا کے حملے کا ناکام ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ حملے میں 11فوجیوں کی موت ہو گئی جیسا کہ باغیوں کے 15سے زیا دہ جوانوں کومار گرایا وہیں بی ایل اے کے ترجمان زیاد بلوچ نے بیا ن میں دعویٰ کیا کہ پاک فوج کے 100جوان مرے ہیں۔ پاک فوج نے حملے کے بارے میں میدیا میں خبریں دینے پر روک لگادی ہے اور علاقے میں انٹر نیٹ اور دیگر سوشل میڈیا پر پابندی لگی ہے ۔وہیں وزیر اعظم عمران خان نے باغیوں کے حملے ناکام کرنے کیلئے پاکستانی سیکورٹی فورس کی تعریف کی ہے کہا کہ پورا دیش پاکستانی فوج کےساتھ کھڑاہے ۔قبضے کے مخالفت کررہے بلوچ قبیلے کے علاقے پر پاک فوج نے قہر برپا کر رکھا ہے۔ پریشان حال اور بلوچیوں نے ہتھیا ر اٹھائے اور 2000بی ایل اے جوانوں نے اتنا بڑا حملہ کیا ہے اور اتنے فوجیوں کے مرنے کا یہ واقعہ بہت بڑا ہے ۔100فوجی مارے گئے ہیں یہ ایک عام حملہ نہیں ہے۔
(انل نریندر)
میں مغرور سدھو کے خلاف ہی چنا و ¿ لڑوںگا!
نو جوت سنگھ سدھو کے خلاف امرتسر سے دعویٰ کرنے والے شرومنی اکالی دل لیڈر وکرم مجیٹھیا نے آخر کار مجیٹھا سے چنا و¿ کی دعویداری واپس لے لی ہے ۔ حالاں کہ ان کی بیوی غنی مجیٹھیا شرومنی اکالی دل کی طرف سے چناو¿ میدان میں اتریں گی ۔اس موقع پر وکرم مجیٹھیا نے کہا کہ اب وہ مغرور کانگریس نیتا نو جوت سنگھ سدھو کے خلاف چنا و¿ لڑیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مجیٹھیا سے چنا و¿ لڑا تھا تو اسی کو اپنا پریوار ماناتھا ۔انہوں نے نم آنکھوں سے کہا کہ وہ نو جوت سنگھ کا غرور توڑنے کیلئے انہیں پچھلے ہلکے (امرتسر )سے چنا و¿ میدان میں اتر نے کا فیصلہ لینا پڑا ۔سدھو کے ساتھ ہنستے ہوئے اپنی ایک پرانی تصوریر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ سدھو لافٹر چیلنج شو میں ہنسنے کا پیسہ لیتاہے اور وہ اسے دل سے ہنسنا سکھائیں گے ۔انہوں نے مشرقی علاقے کے لوگوں کو مجیٹھا حلقے کے لوگوں کی طرح دل سے پیار کریں گے۔سدھو کو صرف لڑنا آتاہے اور لوگوں کے سامنے جھوٹ کا نمونہ پیش کر ناآتاہے ۔ ادھر پٹیا لہ میں سابق وزیر اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے سدھو پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے مفاد کیلئے پنجاب کی سیکورٹی کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو ریا ست کی باگ ڈور سونپی نہیں جا سکتی ۔انہوں نے پاکستان کے جس فوج کے چیف کے اشارے پر ہر دن سرحد پر ہندوستانی فوجی مارے جارہے ہیں ۔اس کے ساتھ سدھو گلے ملتے ہیں اور پاک وزیر اعظم عمران خان سے دوستی کا دم بھرتے ہیں۔
(انل نریندر)
پکڑا گیا انڈیا کی موسٹ وانٹیڈ فہرست کا آتنکی !
کئی ملکوں میں جاری بھارت کی ایک بڑی سرچ آپریشن میں ہندوستانی ایجنسیوں نے ممبئی 1993کے سیرئل بلاسٹ میں شامل ہندوستان کے موسٹ وانٹیڈ دہشت گردوں میں سے ایک آتنکی ابو بکر کو پکڑ نے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ واضح ہو ممبئی میں 12دھماکے ہوئے تھے جن میں 257لوگوں کی موت ہو گئی تھی اور 713لوگ زخمی ہوئے تھے۔ اب گرفتار آتنکی ابو بکر کو یواے ای سے بھارت لایا جائے گا۔ہندوستانی ایجنسیوں کی یہ بہت بڑی کامیابی ہے آتنکیوں کو پکڑ نے کیلئے ایک بڑی کاروائی شروع کی تھی ۔ابوبکر ہتھیاروں اور بارودی دھماکوں کی ٹریننگ کے علاوہ سیرئل بلاسٹ میں استعمال آر ڈی ایکس کو نصب کر نے میں شامل رہا ہے ۔ابو بکر یو اے ای اور پاکستان میں رہ رہا تھا حال ہی میں یو اے ای میں سرگرم ہندوستانی خفیہ ایجنسیوں کی خبر کے بعد پکڑا گیا۔ملی اطلاع کے مطابق اس سے پہلے وہ 2019میں بھی گرفتار ہوا تھا لیکن دستاویزوں میں کمی کے سبب یو اے ای کے حکا م کی حراست سے خود کو رہا کرانے میں کامیاب رہا ۔اعلیٰ ترین ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی ایجنسیاں ابو بکر کو بھار ت لانے کی کاروائی میں لگی ہیں۔جو لمبے عرصے سے دیش کی انتہائی مطلوب لوگوں کی فہرست میں تھا اس مرتبہ ابو بکر کو پختہ ثبوت کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا۔یواے ای حکومت حوالگی خانہ پوری کے بعد ہندوستانی ایجنسیوں کو سونپے گی جس سے اس کو بھارت لانے کا راستہ صاف ہوگا۔ممبئی دھماکوں کا ماسٹر مائنڈ داو¿د ابراہیم اب بھی پولیس کی گرفت سے باہر ہے۔ابو بکر کو بھارت لاکر اس پر مقدمہ چلایا جائے گا۔ ابوبکر مافیہ ڈون داو¿د ابرہیم کے گرگ محمد اور مستفیٰ ڈوسا کے ساتھ مل کر اسمگلنگ کرتا تھا ۔اور وہ خلیجی ملکوںسے سونا ،کپڑے اور الیکٹرک ساما ن ممبئی اور دیگر جگہوں پر لاتا تھا ۔ابوبکر کے دوبئی میں کئی بزنس ہیں اس نے ایرانی عورت سے شادی کی ہے جو اس کی دوسری بیوی ہے ۔ ہم ہندوستان کی سیکورٹی ایجنسیوں کو اس شاندار کامیا بی کیلئے مبارکباد دیتے ہیں ۔ اب وہ دن دور نہیں جب داو¿د ابرہیم بھی ہندوستانی ایجنسیوں کے شکنجے میں ہوگا۔
(انل نریندر)
10 فروری 2022
جب بی سی سی آئی کو لتامنگیشکر نے سنکٹ سے نکالا!
کپل دیو کی کپتانی والی ٹیم انڈیا نے جب لارڈس کی بالکنی پر ورلڈ کپ لیا تھا تب بی سی سی آئی کی اس وقت کی صدر اور اندرا گاندھی سرکار کے دبنگ وزیر سورگیہ این کے پی سالوے کے سامنے یہ سوال کھڑا تھا کہ اس شاندار اور تاریخی کا جشن منانے کے لئے پیسہ کہا ں سے آئے گا ؟ اس وقت ٹیم انڈیا دنیا کی بڑی طاقت نہیں تھی اور آج کرکٹروں کی طرح دھنور شاہ بھی اس وقت کے کھلاڑیو ں پر نہیں ہوا کرتی تھی ۔اور اپنی بی سی سی آئی کے پاس پانچ ارب ڈالر کا ٹی وی ٹیلی کاشٹ معاہدہ ہے لیکن تب کے کھلاڑیوں کو بمشکل بیس پاو¿نڈ یومیہ بھتہ ملتا تھا ۔این کے پی سالوے نے حل نکلالنے کے لئے راج سنگھ ڈونگر پور سے بات کی تھی ۔اور انہوں نے اپنے قریبی دوست اور کرکٹ کی دیوانی گلوکارہ لتا منگیشکر سے جواہر لعل نہرو اسٹیڈیم پر ایک کنسلٹ کرنے کی درخواست کی تھی ۔کھچا کھچ بھر ے اسٹیڈیم میں دو گھنٹے کا پروگرام کیا ۔بی سی سی آئی نے اس موسیقی پروگرام سے کافی پیسہ اکٹھا کیا ۔اور سبھی کھلاڑیوں کو ایک ایک لاکھ روپے دیا گیا ۔سنیل والمن نے کہا کہ اس وقت یہ بڑی رقم ہوا کرتی تھی ورنہ ہمیں دورہ سے ملنے والا پیسہ اور یومیہ بھتا بچا کر پیسہ اکٹھا کرنا ہوتاتھا جو 60 ہزارروپے کے قریب ہوتا تھا انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے ہم میں سے پانچ ہزار یا دس ہزا ر روپے دینے کا وعدہ کیا جو کافی بہت کم تھا ۔گلوکارہ سورگیہ لتا منگیشکر نے ایسے وقت میں مدد گار کنسلٹ کیا ۔بی سی سی آئی ان کے اس تعاون کو بھلا نہیں پائے گی ۔اور احترام کے طور پر بھارت کے ہراسٹیڈیم میں انٹرنیشنل میچ کے وی وی آئی پی پاس ان کے لئے رکھے جاتے تھے ۔ممبئی کے ایک سینئر اسپورٹ جرنلسٹ مکرنت ویگنکر نے بتایا لتا جی اور ان کے بھائی ہردیہ ناتھ منگیشکر بروکون اسٹیڈیم پر ہمیشہ ٹیسٹ میچ دیکھنے آتے تھے ۔چاہے وہ کتنے بھی مصروف رہے ہوں ۔70 کی دہائی میں ہر میچ دیکھنے آتی تھیں ۔
(انل نریندر)
چناو ¿ میں ڈیرا سچا سودا!
بدفعلی اور قتل کے قصوروار ڈیرا سچا سودا کے چیف گرمیت رام رحیم سنگھ کو پیر کے روز21 دن کی پیرول پر جیل سے رہا کر دیاگیا ۔وہ 2017 سے ہریانہ کی سناریہ جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں ۔پنجاب میں 20 فروری کو ووٹ پڑنے ہیں ۔ایسے میں پولنگ سے 13 دن پہلے ہریانہ سرکار نے اسے رہا کر پنجاب کی مالوا بیلٹ میں نئے پینچ ڈال دئیے ہیں ۔پنجاب میں اقتدار کا راستہ مالوا بیلٹ سے ہو کر نکلتا ہے ۔یہاں ریاست کی کل 117 سیٹوں میں سے 69سیٹیں ہیں جن میں سے 47 سیٹوں پر ڈیرا سچا سودا کا سیدھا دبدبہ رہاہے ۔مالوا بیلٹ کی 25 سیٹیں تو ایسی ہیں جہاں 15 سے 20 ہزار ووٹر ڈیرے کے ماننے والے ہیں ۔کانگریس سرکار کے ذریعے بنائی گئی ایس آئی ٹی نے دس دن پہلے ہی شری گوروگرنتھ صاحب کی بے ادبی کے معاملے میں ڈیر ا شردھالوو¿ں کو سازشی قرار دیتے ہوئے کورٹ میں چالان پیش کیا ہے اس لئے ڈیرا کے ماننے والے کانگریس سے ناراض ہیں ۔پنتھک سیاست کرنے والے شرومنی اکالی دل سے ڈیرا پہلے ہی دور ہو چکا ہے ۔مالوا بیلٹ میں عام آدمی پارٹی مضبوط بنیاد بنا چکی ہے ۔اور اسی بیلٹ کے دم پر وہ سرکار بنانے کی حکمت عملی پر کام کررہی ہے ۔اس لئے کانگریس اپنے سی ایم امیدوار چرنجیت سنگھ چنی کو مالوابیلٹ سے چناو¿ لڑا رہی ہے ۔لیکن اب ڈیرا چیف کا جیل سے باہر آنا کانگریس کے لئے تشویش کا باعث بن چکا ہے ۔پنجاب میں اس مرتبہ کثیر امیدوار مقابلے ہیں ۔ایسے میں جو امیدوار جیتے گا اس کی جیت کا فرق بھی کم ہوگا ۔سیاسی واقف کار مانتے ہیں ایسی صورت میں ڈیرا چیف گورمیت رام رحیم سنگھ اپنے ماننے والوں کو کسی ایک پارٹی کو ووٹ ڈالنے کو کہتے ہیں توا س کا چناو¿ پر سیدھا اثر پڑے گا ۔وزیراعلیٰ منوہر لعل کٹھر نے کہا ہے کہ گورمیت کا پیرول ملنے کا چناو¿ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔اور تین سال کی سزا کاٹنے کے بعد قیدی کو فرلو مانگنے کا ذاتی حق ہے ۔جیل انتظامیہ نے سبھی پہلوو¿ں پر غور کرکے اجازت دی ہے ۔
(انل نریندر)
09 فروری 2022
تاریخ کاسب سے بٹاہو ا ونٹر اولمپک !
تاریخ کا سب سے بٹا ہوا ونٹر اولمپک کا آغا ز بیجنگ شہر میں جمع کے روز شروع ہو گیا ۔ اسکیپر عارف خاں نے جمعہ کو ونٹر اولمپک کے افتتاحی تقریب کے دوران چھوٹے سے چار نفری ہندوستانی ٹیم کی رہنمائی کی تھی ۔کھیلوں میں بھی سیا ست کو شامل کرنا چین کو بھاری پڑ گیا ۔ چین کی شطرنجی چالوں سے ویسے ہی پوری دنیا پریشان ہے ،لیکن اس مرتبہ اس نے بھار ت کو اکسانے والی جو حرکت کی ہے اس نے بھارت کو بے حد ناراض کر دیا۔ چوںکہ بیجنگ ونٹر اولمپک کی مشعل ریلے میں مشرقی لداخ کی گلوان وادی میں ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ ہوئی جھڑپ میں بری طرح مات کھا چکے چینی فوج کے ایک چینی کمانڈر فاباو¿ کو شامل کرنے پر بھار ت میں تلخ رد عمل ہوا ہے ۔نتیجے کے طور پر بھارت نے ونٹر اولمپک کھیل افتتاح اور اختتا می تقریبات کا سفارتی طور پر بائیکاٹ کیا ۔ اس اولمپک کو کئی اسباب سے دہائیوں تک یاد رکھا جائے گا۔ سب سے پہلے کورونا دور میں اس کا انعقاد ہو رہا ہے دوسرا دنیا کے کئی دیشوں نے انسانی حقوق کی خلاف وزری کو لیکر اس کا بائیکاٹ کیا ہے ۔ بھار ت بھی ان دیشوں کی فہرست میں شامل ہے امریکہ نے سب سے پہلے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا اس کے بعد آسٹریلیا ،برطانیہ ،کینیڈا ،جاپان ،نیدر لینڈ اور نیو زی لینڈ نے بھی بائیکاٹ کیا ۔سفارتی بائیکاٹ ایک علامتی احتجاج ہے ،اس کا کھیلوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے ۔سرکاری طور پر کوئی بڑا انٹر نیشنل ایونٹ اور خاص کر چو ٹی کانفرنس میں حصہ نہیں لیتے ۔ حالاںکہ کھلاڑی شر کت کرتے ہیں ۔ سفارتی بائیکاٹ کے پیچھے امریکہ کے صدر کے دفتر نے چین میں ہو رہی انسانی حقوق کے خلا ف ورزی کا حوالہ دیا اور اس کو چین کے صوبہ شنجیانگ میں مسلم اویغروں اور اقلیتوں پر زیادتیوں کے خلاف امریکہ کے ذریعے یہ قدم اٹھا یا گیا ۔ امریکہ کے ذریعے کھیلوں میں اپنے نمائندوں کو بھیجنا وہاں اذیت رسانی کو نظر انداز کرنے جیسا ہے ۔حالاں کہ مغربی ملکوں کے سفارتی بائیکاٹ سے بوکھلائے چین نے ان کو بھاری قیمت چکانے کی وارننگ دے دی ہے ۔ساتھ ہی ڈریگن نے اس کو لیکر امریکہ پر سازش کا الزام لگایا ہے۔
(انل نریندر)
بھار ت میں اب وزیر اعظم نہیں راجہ ہے !
کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے سنیچر کے روز وزیر اعظم نریندر مودی پر کووڈ وباءکے دوران مظاہرین کسانوں کو ایک سال کیلئے سڑ کوں پر چھوڑنے کا الزا م لگایا اور کہا کہ بھار ت میں اب ایک راجہ ہے جسے لگتا ہے کہ اس کے فیصلے کیلئے جاتے وقت لوگوں کو چپ رہنا چاہئے ۔کچھا کی ایک ریلی میں کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس ایک ایسی سرکار دینا چاہتی ہے جو کسانوں ،نوجوانوں اور غریبوں کے ساتھ ساجھےداری میں کام کرے ۔انہوں نے یہ کہا کہ اتراکھنڈی کسان سوابھیمان ریلی کو خطاب کرتے ہوئے اگر کوئی وزیراعظم سبھی کیلئے کام نہیں کر تاہے تو یہ وزیر اعظم نہیں ہو سکتا ۔ اس حساب نریندر مودی وزیر اعظم نہیں ہیں۔ منموہن سنگھ کی قیادت والی یو پی اے سرکا ر کی مثا ل دیتے ہوئے کہا کہ اس نے کسانوں کی قرض معافی کیلئے ان سے بات کی اور یہ دس دن کے اندر معاف کیا گیا۔یعنی ان سب کے 70ہزار کروڑ روپے کی قرض کی معافی ہوئی ۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ یہ کوئی مفت تحفہ نہیں تھا ۔ ہماری سرکار نے ایسا اس لئے کیا کہ آ پ دیش کیلئے 24گھنٹے کام کرتے ہیں ۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ کانگریس کبھی کسانوں کیلئے اپنے دروازے بند نہیں کئے ۔ہم کسانوں،غریبوں اور مزدوروں کے ساتھ ساجھداری میں کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ ہر طبقے کو لگے کہ یہ ان کی سرکار ہے انہوں نے کہا کہ مودی نے ایک سال کیلئے کووڈ اور ٹھنڈ کے درمیان کسانوں کو سڑکوں پر چھوڑ دیا تھا اور ان کی شکایتوں کو سننے کیلئے بلا یا تک نہیں ۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ بھارت میں آج وزیر اعظم نہیں ہے اس کا ایک راجہ ہے ۔ جو جانتا ہے کہ جب راجہ کوئی فیصلہ لیتا ہے تو اس پر سبھی کو چپ رہنا چاہئے ۔ سماج میں پیسے کی کمی کا تذکرہ کرتے ہوئے کانگریس نیتا نے دو بھار ت ہونے کی بات کہی ۔ اس طرح کی اب غیر یکسانی ،مرسڈیز کاروں کا بھارت ہے اور دوسرا غریبوں و بے روزگاروں کا بھارت ہے ۔جہاں مہنگائی بڑھ رہی ہے اور تقریباً 100لوگوں کے ایک چنندہ گروپ کے پاس بھارت کی 40فیصد آبادی کے برابر اثاثہ ہے ایسی آمدنی غیر یکسانیت ہی کہی جائے گی اور یہ نہ ہی دیکھی جاسکتی ہے ۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ ہم وہ بھارت نہیں بلکہ ایک بھار ت چاہتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ناانصافی ختم ہو ، انہوں نے زرعی قوانین کی مخالفت کرنے کے مسئلے پر احتجاج کرنے پر کسانوں کو مبارکباد دی جنہوں نے آخر کار بھاجپا کی این دی اے سرکا رنے ان قوانین کو منسوخ کر دیا تھا۔
(انل نریندر)
08 فروری 2022
اسدالدین اویسی کی کار پر حملہ !
ہاپوڑ کے چھجارسی ٹول پلازہ پر آل انڈیا اتحاد المسلمین کے صدر اور ممبر پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کی کار پر گولیاں چلانے کے واقعے نے پارلیمنٹ سے سڑک تک کی سیاست کو گرما دیاہے پولیس نے دونوں حملہ آوروں کو گرفتا ر کرکے ملزمان کے خلاف اویسی کے قریبی دوست یامین خاں نے ہا پوڑتھانے میں مقدمہ درج کر ایا تھا ۔اس معاملے کے بارے میں اویسی نے پارلیمنٹ میں بیا ن دیا تھا اس کے بعد سرکا ر نے ان کو زیڈ پلس سیکورٹی دینے کو کہا گیا تھا لیکن انہوں نے منع کر دیا لیکن اس سارے واقعے کی تفصیل اور پولیس ایکشن کے بارے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پیر کے روز پارلیمنٹ میں باقاعدہ بیان دیا اور اویسی سے زیڈ سیکورٹی لینے کی اپیل تھی ۔ وہیں گرفتار ہوئے ایک ملزم سچن نے بتایاکہ وہ اویسی کے بیان بازی سے دکھی تھا جس کے چلتے اس نے 2017میں حملے کا پلان بنا یا ۔ملزن گو تم بدھ نگر کے بادل پور تھانہ کے دوئی چائی گاو¿ں کا رہنے والا ہے۔دوسرا ملزم سریش نکڑ کے بیگ پور کا رہنے والا ہے ہاپوڑ پولیس نے سہارنپور پولیس کو اس ملزم کے بارے میں جانکاری بھیجی اور اس کی تلاش کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا ۔یوپی کے اپر پولیس ڈائریکٹر جنرل (لاءاینڈ آرڈر )پرشانت کمار نے جمع کو بتا یا کہ اویسی کی کار پر فائرنگ کرنے والے شبھم اور سچن نامی لڑکوں کو گرفتا رکیا ہے ۔ان کے قبضے سے ایک پستول برآمد ہوئی ان دونوں پر مختلف کرائم کی دفعات میں مقدمہ درج کیا گیاہے ۔ قافلے میں شامل ایک افسرنے بتایا کہ دو لڑکے کار سے آئے اور ٹول پلازہ کے گیٹ پر کارکھڑی کرکے بوتھ کے پاس کھڑے ہوگئے اور جب اویسی صاحب کی گاڑی بو تھ پر پہونچی تو انہوں نے گولیاں چلا دی میں نے لڑکے کے ہاتھ میں پستول دیکھی تو اپنی گاڑی سے انہیں ٹکر ماری لڑکا وہیں گر گیا اور دوسرا بھاگ گیا۔ ادھر ممبر پارلیمنٹ اویسی نے جمع کو لو ک سبھا میں اپنے ہاپوڑ دورے کو لیکر زیڈ سیکورٹی منع کر دیا تھا میں موت سے نہیں ڈرتا ہم سبھی کو ایک دن دنیا سے جانا ہے انہوں نے کہا ہمیں نفرت مٹانا ہے ہریدوار دھرم سنسد میں میرے بارے میںکیا کیا کہا گیا تھا ؟ میرے اوپر گولی چلانے والے پر یو اے پی اے کیوں نہیں لگایا گیا ۔مجھے حفاظت نہیں چاہئے دیش کا غریب محفوظ ہونا چاہیے ۔ یوپی کی جنتا گولی چلانے والوں کو بلٹ کا جواب بیلٹ سے دے گی۔ اس بات کا یقین ہے ہم اس بزدلانہ حملے کی مذمت کرتے ہیں ۔ سیاسی اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن اس کے لئے تشدد پر اتر نا قبو ل نہیں ہے معاملے کی جانچ ہونی چاہئے ۔ اور پوری سازش کا پتہ لگنا چاہیئے ۔اویسی صاحب سے سیاسی اختلافات بھلے ہی ہو لیکن ایسے بزدلانہ حملے کو کبھی قبول نہیں کر سکتے ۔
(انل نریندر)
میری آواز ہی پہچان ہے!
سروں کی ملکہ لتا منگیشکر نے یوں تو تقریباً آٹھ دہائیوں میں نغموں کو اپنی آواز سے سجایا ،حالاںکہ کچھ ایسے نغمے رہے جن سے ان کی بہت گہر ی وابسطگی بن گئی اور آواز کی کوئل نے کئی ان نغموں کا ذکر بھی کیا ۔ سورگیہ لتا جی نے ایک انٹر ویو میں کہا تھا کہ وہ اب بھی اس بات کو یا دکرتیں ہیں کہ کس طرح سر کردہ نغمہ نگار گلزار کے لفظ میری آواز کی پہچان ہے ۔ موسیقی کی دنیا میں ا ن کے سفر کو دکھاتے ہیں اور ان کے سامعین ان کی آواز سے ہی ان کی پہچان کو جوڑتے ہیں ۔ یہ الفاظ سال 1977میں آئی فلم کنا رہ کا نغمہ ”نام گم جائےگا“کے ہیں لتا جی نے کہا تھا کہ دیش میں ہر شخص جانتا ہے کہ گلزار صاحب خوبصور ت نغمے لکھتے ہیں تو بہت خوبصورت بولتے بھی ہیں ۔ جب میں یہ گیت گارہی تھی ،وہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میری آواز ہی پہچان ہے اور یہ ہیں پہچانیں اور اس کے بعد میں بھی یہ کہنا شروع کیا کہ میری آواز ہی میری پہچا ن ہے ۔ اب جو بھی اس گیت کو گاتا ہے یا میرے بارے میں لکھتا ہے تو وہ ان سطور کو ضرور دوہرا تا ہے ۔ کچھ ٹیلنٹ بنتے ہیں اور کچھ پیدا ہو جاتے ہیں ۔ وہ جیسے موسیقی کے لئے ہی پیدا ہوئی تھیں اور جیتے جی دنیا بھر کی آواز بن گئیں ۔ گلوکارہ لتا منگیشکر نے شہرت اور مقبولیت اور عزت موسیقی کی دنیا میں کمائی تھی ویسی شاید دنیا میں کسی نے بھی نہیں حاصل کی ۔ سورگیہ گلوکارہ دنیا بھر میں بہت سے لوگوں کیلئے تلقین کی علامت تھیں اور ان کی شخصیت سے دیوی سرسوتی کا عکس ابھرتا تھا ۔ سادھنا تو سب کرتے ہیں لیکن وہ انہیں میں پلی بڑھیں جن کی مورتی کی دین ہو۔ہندوستانی موسیقی دنیا میں مقبولیت کی آواز کی پہیہ سرسوتی لتا منگیشکر جیسی کوئی شخصیت نہیں ہوئی ۔انکا دنیا سے جانا یقینی طور پر موسیقی کیلئے بہت بڑا نقصان ہے ۔انہوں نے دیش بھکتی کے گیت گائے اور ایک گیت اتنا مقبول ہوا کہ وہ دیش کی یوم آزادی سے منسوب ہو گیا۔ ان میں ایک دیش بھکتی گیت ’اے میرے وطن کے لوگوں ‘ذراآنکھ میں بھر لو پانی ،جو شہید ہوئے ہیں ان کی ذرا یا د کرو قربانی ‘انہوں نے یہ گیت بہت جذباتی انداز میں گایا اور یہ ان کی آواز میں امر ہو گیا ہے بہر حال ان کی سوریلی اور مخملی آواز میں جو کوشش اور فن کا مظاہر ہ کیا وہ سننے والوں کے دلوں کو گہرائی سے ان کی آواز چھوتی تھی ۔80سال تک موسیقی کے آسمان تارے کی طرح چمکتی رہیں ان کی یہ گلوکاری کے تئیں پوری خدمت کی مہا نائک کہا جائے تو اس میں کوئی قباہت نہیں ہوگی ۔ بہر حال اتور کی صبح 8.10بجے ممبئی کے برچ کینیڈی ہسپتال میں دنیا کیلئے لتا جی کی آواز ہمیشہ کیلئے خاموش ہو گئی ۔فلمی دنیا میں مشہور گلوکارہ کی شکل میں آٹھ دہائی تک الگ الگ زبانوں میں اور الگ الگ ٹیسٹ میں گایا آپ نے شاستریہ سوبھم سنگیت ،غزل ،بھجن وغیرہ کے گانے شاستریہ گلوکارہ کی عظیم شخصیت بنیں ۔ بڑے استاد غلام علی نے کہا تھا کہ یہ لڑکی کبھی بھی بے سرا نہیں ہوتی ۔ اندور پیدا ہوئی لتا جی کے والد دینا ناتھ منگیشکر مراٹھی اور شاستریہ سنگیت کے ایک مقبول گلوکار اور موسیقی کار تھے ۔پانچ سال کی عمر میں ہی لتا منگیشکر نے اپنے والد کی رہنمائی میں سنگیت کے سر سیکھنے شروع کر دئے تھے ان کے نام کئی ریکارڈ درج ہیں ۔اور سب سے زیادہ زبانوں زیا دہ گیت گانے کا اعزاز ان کے نام پر ہی ہے ۔ ان کے گانے سے ایسا لگتا ہے کہ جیسے سرسوتی کی آرتی نہ بن گئی ہو ۔میگا اسٹار امیتابھ بچن نے سورگیہ گلوکارہ لتا منگیشکر کو شردھانجلی دی ہے ۔ امیتا بھ بچن نے اپنے ذاتی بلا گ پر لتا منگیشکر کو لاکھوں صدیوکی آواز کی شکل میں تشبیح دی ہے کہ ہمیں آج ایک لاکھ صدیوں کی آواز چھوڑ گئی ہے۔ شانتی ! اور ان کی آتما کی شانتی کیلئے پرارتھنا ۔ لتا جی کے جانے کے نقصا ن کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔
(انل نریندر)
06 فروری 2022
دو سابق مکھیہ منتری آمنے سامنے !
نینی تال کے لال کنواں سیٹ پر دلچسپ چناو¿ ہونے والا ہے۔یہاں دو سابق وزیر اعلیٰ آمنے سامنے ہوں گے سابق وزرائے اعلیٰ وجے بہوگنا اور ہریش راوت ۔سنیچر کو بھاجپا نیتا و سابق وزیر اعلیٰ وجے بہوگنا نے تلخ نکتہ چینی کرتے ہوئے کہاکہ ہریش راوت کیلئے لال کنواں سیاسی موت کا کنواں ثابت ہوگا ۔ وہیں ہریش راوت نے جواب میں کہا کہ لال کنواں سے نکلے امرت سے پورے دیش کا بھلا ہوگا ۔ان کا کہنا تھاکہ باہر اور پیراشوٹ کہنے والے بھاجپائی ذہنی طور پر بیمار ہیں ۔یہاں بھاجپا کے دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعلیٰ وجے بہوگنا نے ہریش راوت کیلئے سیا سی موت کا کنواں ثابت ہونے کی بات کہی ۔ اتراکھنڈ میں دل بدلی کا سلسلہ جاری ہے چنا و¿ سے ایک سال پہلے پارٹی بدلنے والوں کے چنا و¿ لڑنے پر پابندی لگانے کا سسٹم پر غور کیا جانا چاہیے ۔ انہوں نے کہا ہرک سنگھ کا ہریش سے معافی مانگ کر کانگریس میں جانے کا فیصلہ غلط ہوگا وہیں وجے بہو گنا کے تلخ بیا ن پر ہریش راوت نے نرم لہجے میں رد عمل ظاہر کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ لال کنواں سیا سی موت کا کنواں نہیں بلکہ امر ت کا کنڈ ہے ۔ اس امرت کنڈ سے مستقبل میں لال کنواں کے لوگوں کے ساتھ پورے پر دیش کے بھلا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ پتہ نہیں لال کنواں کے تئیں وہ کیسا نظریہ رکھتے ہیں جس وجہ سے لال کنواں انہیں موت کا کنواں لگتا ہے مجھے تویہاں امرت نظر آیا بھاجپا کی بھدی ذہنیت والے لوگ انہیں باہر ی اور پیراشوٹ امید وار بنارہے ہیں ۔ہمیں لگتاہے لال کنواں سے ہریش راوت کو ہرانا آسان نہیں۔چنا و¿ کے بارے میں پہلے سے کیا کہا جاسکتاہے کہ اونٹ کس کر وٹ بیٹھے گا۔
(انل نریندر)
امریکہ نے ایسے کیا آئی ایس سرغنہ کو ڈھیر !
امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انتہاں پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ کے نیتا ابو ابراہیم القریشی کی ایک امریکی کاروائی میں موت ہوگئی ہے امریکی صدر جو بائیڈن نے خود جمعرات کی رات ہوئی کاروائی کاجانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا کیلئے ایک بڑے آتنکی خطرے کو دور کر دیا گیا ہے۔ اس حملے میں القریشی کے علا وہ اس تنظیم کے ڈپٹی لیڈر اور کئی دیگر لوگوں کی موت کی بھی خبر ہے وہیں کاروائی میں شامل سبھی امریکی سیکورٹی جوان صحیح سلامت لوٹ آئے ہیں ۔امریکی حکام نے آئی ایس کے ڈپٹی لیڈر کا نام نہیں بتا یا لیکن مہینوں تک چلی پلاننگ کی تفصیل دی ہے جس کے بعد آخر شا م کے ادلت صوبے میں گھس کر یہ کاروائی کی گئی ۔ اس آپریشن کا ٹارگیٹ اسلامک اسٹیٹ کا نیتا ابو ابراہیم الحطمی القریشی ۔خطرناک تباہی مچانے والے کے نام سے جا نا جاتا تھا ۔سال 2019میں ابو بکر البغدادی کی موت کے بعد القریشی کو اسلامک اسٹیٹ کا لیڈر بنا یا گیا تھا۔ اس کی موت کے بعد ہی یہ اعلان ہو گیا تھا کہ آئی ایس گروپ القریشی کی لیڈر شپ میں کام کرئے گا ۔سال 1976میں پیدا ہوئے القریشی پر ایک کروڑ ڈالر کا امریکہ نے انعان رکھا ہوا تھا۔ شام کے ادلب میں اس کا ٹھکانا پتہ چلا تھا کہ القریشی اپنے فیملی کے ساتھ شام کے قصبے میں رہ رہا ہے۔ ترکی کے سرحد کے پاس ادلب صوبے میں آنے والا یہ علاقہ دجہادی گروپوں کا گڑھ ہے جو اسلامک اسٹیٹ کے کٹر مخالف ہیں ۔ساتھ ہی وہاں ترکی حمایتی باغی یہاں سر گرم ہیں جو سیریا سرکا رکی مخالفت کررہے ہیں۔خفیہ جانکاری ملی تھی کہ القریشی وہاں ایک تین منزلہ عمارت کی دوسری منزل میں رہ رہے ہیں ۔قریشی وہی سے کوریئر کے ذریعے اپنے احکامات شام اور کئی دوسری جگہوں بھیج کر گروپ چلا تے تھے وہ کبھی بھی گھر سے با ہر نہیں نکلتا تھا ۔حملہ کرنے کے طریقوں پر تفصیل کے ساتھ غور کیا گیا تاکہ حملے میں عام شہریوں کو خطرہ نہ ہو ۔ ان سبھی باتوں پر دھیا رکھتے ہوئے زمین کے راستے حملے بولنے کے بارے میں باقاعدہ اسٹڈی کی گئی ۔ رہائشی عمارت کا ماڈل بنا یا گیا انجینئر وں نے یہ سمجھا کہ اگر دھما کے سے بلڈنگ کو اڑایا گیا تو کیسے حالا ت بنیں گے ۔بائیڈن کو دسمبر میں اس آپریشن کے بارے میں بتا یا گیا تھا اور منگلوار کو انہوں نے کاروائی کی اجازت دے دی ۔ آدھی رات کئی امریکی ہیلی کاپٹر شام کے آ تمے قصبے پہونچنے لگے ۔ امریکی فورسیز کو یہاں بری ٹکر مل رہی تھی ۔ گاڑیوں پر لگے انٹی ایئر کرافت گن سے جوابی کاروائی کی جا رہی تھی ۔ امریکی وزارت دفا ع پنٹا گا ن کے ترجمان تبری نے بتایا کہ امریکی فوج آٹھ بچوں سمیت دس لوگوں کو عمارت سے باہر نکالا کاروائی میں چار لوگوں میں قریشی اور اس کا ساتھی اور ان کی بیوی شامل ہے جو امریکی فوج پر فائرنگ کر رہے تھے ۔ آپریشن کے بارے میں پتہ چلتے ہی قریشی نے دوسری منزل پر دھماکہ کر دیا جس میں خود قریشی اور اس کی بیوی اور دو بچوں کی موت ہو گئی ۔ اس کے بعد فنگر پرنٹ اور ڈی این اے سے اب قریشی کی پہچان ہوئی بغدادی کی طرح قریشی نے خود کو اڑا یا ۔ قریشی نے ٹھیک اسی طرح 2019میں امریکی فورس کی کاروائی کے وقت ابو بکر البغدادی نے خود کو اڑا لیا تھا ۔ بغدادی کے ساتھ ہی ان کے بچے بھی مارے گئے تھے ۔ ٹارگیٹ انتہائی اہم ترین کروزروں میں ہوتے ہیں ۔ جیسے سال 2001میں پاکستان میں اسا مہ بن لادن پر کاروائی کیلئے ٹیم بھیجی گئی تھی ۔ امریکہ نے اسلامک اسٹیٹ کے چیف کو مار کر آتنک کے خلاف بڑی کامیا بی حاصل کی ہے۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...