ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھی دی۔ اپوزیشن کے لیڈر نے جنتا کے مینڈیٹ کی چوری کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ وقت بھی آئے گا ہم آپ کو پکڑ لیں گے۔ اس کے بعد انہوں نے صلاح دی کہ ووٹر لسٹ میں مبینہ دھاندلی کے معاملہ میں سرکاری گواہ بن جائیں۔ یاد رہے راہل نے سب سے پہلے پچھلے سال ہوئے لوک سبھا چناؤ میں چناؤ کمیشن کو یہ چیتا ونی دی تھی۔ نو مہینے بعد، دی انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں چناؤ ئیشن کے اندر اختلافات ہونے کے بعد اپنی بات صحیح ہونے کا دعوی کرتے ہوئے اپوزیشن نے صاف طور پر گیا نیش کمار کی گرفتاری کی مانگ کی ہے۔ ایک طرف بی جے پی بچاؤ کر رہی ہے تو و میں اپوزیشن گرفتاری پر اڑی ہوئی ہے لیکن گرفتاری کی مانگ پر ایک آئینی تقاضہ بکرا رہا ہے اور وہ ہے دسمبر 2023 میں پارلیمنٹ سے پاس قانون کی دفعہ 161۔ سپریم کورٹ میں دائر ایک نئی عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس تقاضہ میں ایک شرط بھی ہے۔ نیا تنازعہ 23 ستمبر کو اس وقت شروع ہوا جب اخبار کی رپورٹ میں دعوی کیا گیا کہ گیا نیش کمار کے دو ساتھی کمشنروں سکھبیر سنگھ سدھو اور و یو یک جوشی نے 10 مہینوں میں کم سے کم 14 مرتبہ اور ایک ہی دن میں 4 مرتبہ مبینہ طور سے اپنے اعتراضات درج کرائے تھے۔ یہ اعتراضات چناؤ دور لسٹ اسپیشل انٹینسو رو چون (ایس آئی آر) جیسے اشو پر تھے۔ راہل گاندھی کے علاوہ سپالیڈ را علیش یادو ، آپ نیتا اروند کیجریوال اور ٹی ایم سی لیڈرممتا بنرجی جنہوں نے بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے لئے ووٹرلسٹ میں دھاندلی کا الزام لگایا ہے۔ کا کروچ جنتا پارٹی بھی اس مہم میں شامل ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ کئی ریاستوں میں اور مرکزی حکمراں ریاستوں میں ایس آئی آر پروسیس کے تحت اب تک 13 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام ہٹائے جاچکے ہیں جو بھارت کے کل ووٹروں کا تقریباً 13 فیصد ہے۔ بات کرتے ہیں گیا نیش کمار کو بچانے والی قانونی دیوار کی۔ اس قانونی زبان کو ہٹا کر دیکھیں تو چیف الیکشن کمشنر واٹر کمشنرا یکٹ 2023 کی دفعہ 16 کہتی ہے کہ کوئی بھی عدالت موجودہ یا سابق چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنر کے خلاف ان کے سرکاری کام کاج کے دوران کئے گئے کسی بھی کام کے لئے دیوانی یا کرمنل کیس کی سماعت نہیں کر سکتی۔ اس میں لکھا ہے فی الحال لاگو کسی بھی دوسرے قانون میں کچھ بھی لکھا ہونے کے باوجود کوئی بھی عدالت کسی ایسے شخص کے خلاف کوئی سول یا کرمنل کارروائی نہیں جاری کبھی جاسکتی جو چیف الیکشن کمشنر یا الیکشن کمشنر ہے یا رہا ہے ۔ اگر اس نے اپنے سرکاری کام یا ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے کوئی کام کیا ہو یا کوئی چیز کی ہو یا کوئی بات کہی ہو یہ سیکیورٹی قانون کا حصہ تھی۔ اس کے تحت کمشنروں کو چننے کے لئے ایک کیٹی بنائی گئی تھی۔ 2023 سے پہلے چلنے کا کوئی بھی خاص پروسیس نہیں تھا کیونکہ کوئی قانون بناہی نہیں تھا اس لئے صدر سر کار کی صلاح پر تقرریاں کرتے تھے اس میں عدلیہ یا اپوزیشن کا کوئی رول نہیں ہوتا تھا۔ کیا سسٹم میں کوئی کمی ہے؟ حالانکہ یہ چھوٹ صرف ڈیوٹی کے دوران کئے گئے کاموں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ وکیل شیلیندرمینا ترپاٹھی نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے ووٹرلسٹ میں کوئی بھی ہیر پھیر کرنا کمشنر کے کام کا حصہ نہیں ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو کرمنل مقدمے سے کوئی چھوٹ نہیں ملتی ہے۔ اس میں مانگ کی گئی ہے کہ گیا نیش کمار کی جانچ ہو اور اس پر کسی بھی دوسرے کرمنل ملزم کی طرح مقدمہ چلایا جائے۔ اس میں رہ پر نیشن آف دی پیپل ایکٹ 1950 کی دفعہ 32 ریکارڈ میں ہیر پھیر سے وابستہ انڈین جوڈیشیل کورٹ کے تقاضوں کے تحت مقدمہ چلانے کی مانگ کی گئی ہے۔ عرضی میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئین صرف صدر اور گورنروں کو ہی کھلی چھوٹ دیتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس پورے معاملہ میں بصد احترام سپریم کورٹ کیا رخ اپناتی ہے؟
Translater
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)
گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟
ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں