Translater

Kolkata لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Kolkata لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

30 مئی 2012

آئی پی ایل 5- دلچسپ رہا مگر شک کے دائرے میں


آئی پی ایل 5- شاندار طریقے سے ختم ہوا۔ ایتوار کو کھیلا گیا فائنل میچ بہت ہی دلچسپ تھا۔ اگر یہ کہیں کہ آئی پی ایل 5- کا اختتامی میچ اس سے اچھا نہیں ہوسکتا تھا تو شاید غلط نہ ہوگا۔ شاہ رخ خاں کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائڈرز آخر کار پانچویں کوشش میں پاس ہوہی گئی۔ ایتوار کو کھیلے گئے فائنل میں کے۔ کے ۔آر نے پچھلے دو بار رہی چمپئن چنئی سپر کنگز کو پانچ وکٹ سے ہرادیا۔ میچ کا فیصلہ آخری اوور کی چوتھی گیند پر ہوا۔ ونر ٹیم کو 10 کروڑ اور ضمنی کامیاب ٹیم کو 7.50 کروڑ روپے کے انعامی رقم ملی۔ قسمت نے کے۔ کے ۔ آر کا یقینی طور سے ساتھ دیا۔ کم سے کم دو قصے ایسے ہوئے جس سے کے۔کے۔آر کی جیت ممکن ہوسکی۔ پہلا تب ہوا جب کیلس نے ایک شارٹ مارا اور باؤنڈری پر کھڑے مائک ہسی نے کیچ لپک تو لیا لیکن وہ باؤنڈری لائن کراس کرگئے۔ جس بال پر کیلس کو آؤٹ ہونا تھا وہ چھکے میں بدل گئی۔ دوسرا قصہ تب ہوا جب فین ہگس نے شکیب الحسن کو گیند پھینکی شکیب نے شارٹ مارا اور کیچ ہوگئے۔ لیکن کیچ ہونے سے پہلے وہ دو رن بنا چکے تھے۔ ایمپائر نے اس بال کو کمرسے اوپر ہونے کے سبب وائڈ قراردیا۔ وائڈ ہونے کے سبب ہلفین ہگس کو دوبارہ بال کرنی پڑی اور اس بار شکیب نے چوکا مار دیا۔ اس طرح ایک ہی بال میں کے۔ کے ۔ آر کو 7 رن مل گئے اور کے۔ کے۔ آر کو7بالوں میں 16 رن درکار تھے۔ انہی 7 رنوں نے آخری اوور کا نشانہ آسان کردیا۔ منوج تیواری نے دو چوکے لگادئے اور کے کے آر چمپئن بن گیا۔ کے کے آر کی یہ پہلی جیت تھی۔مالک شاہ رخ خان کی خوشی دیکھنے لائق تھی۔ شاندار ٹورنامنٹ کا شاندار کلائمکس رہا لیکن آئی پی ایل5- تنازعوں سے نہیں بچ سکا۔ سب سے بڑا تنازعہ تو دلی ڈیئر ڈیولس کی پرفارمنس کو لیکر تھا۔ متنازعہ کرکٹ لیگ بن کر ابھری آئی پی ایل میں گڑ بڑی کا شک ہونے لگا ہے۔ کیا آئی پی ایل کا رزلٹ پہلے ہی طے تھا۔شک کرنے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔ کوالیفائی اور کوالیفائر ٹو میں دلی ڈیئر ڈیولس کے عجیب و غریب فیصلوں اور آئی پی ایل کی ویب سائٹ میں کوالیفائر 2 کے رزلٹ کے پہلے ہی دونوں فائنلسٹوں کے نام آنے کے بعد شک ہونا لازمی ہے۔22 مئی کو کے کے آر کے خلاف کوالیفائر میں بھی سہواگ کی کپتانی میں ایسے فیصلے دیکھنے کو ملے جس سے لگا کہ دلی ہارنے کے لئے ہی اتری ہے۔ اسپن ٹریک ہونے کے باوجود سہواگ نے اس میچ میں صرف ایک اسپنر کو کھلایا جبکہ کے کے آر کی طرف سے تین اسپنر اترے۔ یہ ہی نہیں نشانے کا پیچھا کرنے اتری دلی نے رائے ٹیلر اور عرفان پٹھان سے پہلے غیر متوقعہ دھیمی بالنگ کرنے والے وینو گوپال راؤ اور پون نیگی کو بلے بازی کے لئے اتارا۔ ان دونوں کی دھیمی بلے بازی کی وجہ سے بعد میں ٹیلر اور عرفان کے لئے نشانے کو پانا بہت مشکل ہوگیا تھا۔ یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ کوالیفائر 2 میں تو سہواگ نے بی سی سی آئی چیئرمین این سرینواسن کی ٹیم چنئی سپر کنگ کے فائنل میں جانے کے راستے کھول دئے۔ جمعہ کو ہوئے اس میچ میں سہواگ سے چنئی کو پچ پر ٹاس جیتنے کے باوجود پہلے گیند بازی کی۔ یہ ہی نہیں پورے ٹورنامنٹ میں ٹاپ فارم میں رہے ساؤتھ افریقہ کے تیز گیند باز یورنی مارکل کو اس میچ میں نہیں کھلایا گیا۔ ان کی جگہ کوریائی آل راؤنڈر ادیرسل کو شامل کردیا۔سہواگ کے اس فیصلے پر دھونی نے بھی تعجب ظاہر کیا۔ یہ ہی نہیں پورے ٹورنامنٹ میں شاندار کارکردگی کرنے والے اسپنر شاہباز ندیم کی جگہ اس میچ میں سنی گپتا کو شامل کیا گیا اور ان سے پہلا ہی اوور کرواڈالا۔ گپتا نے تین اوور میں 47 رن لوٹائے اور ایک بھی کامیابی ان کے ہاتھ نہیں لگی۔ یہ ہی نہیں سہواگ نے اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار گیند بازی میں ہاتھ آزمائے اور ایک ہی اوور میں21 رن لئے۔ سب سے تعجب کی بات یہ رہی کہ 223 رن کا وسیع نشانہ پورا کرنے اتری دلی کے اوپنگ بلے باز وریندر سہواگ ندارد تھے۔ انہوں نے وارنر کے ساتھ اوپنگ میں مہیلا جے وردھنے کو اتارا۔ ان میں نہ تو ایسی ڈوز نظر آئی اور ان کی باڈی لنگویج نے ساری کہانی بیان کردی۔ وہ صرف ایک رن بنا کر چلتے بنے۔ مہیلا جے وردھنے نے اچھا کھیل کھیلا لیکن ایک بال پر جب وہ بیٹ ہوئے تو وہ کھڑے تماشہ دیکھتے رہے۔ انہوں نے واپس بیٹ رکھنے کی کوئی کوشش نہیں کی جبکہ ممکن ہے کہ وہ اسٹمپ ہونے سے بچ سکتے تھے۔ دلی ڈیئر ڈیولس نے اپنے دلی کے فینس کو نہ صرف ناراض کیا بلکہ سہواگ کے برتاؤ سے شک بھی پیدا کیا ہے۔ لیکن کل ملاکر آئی پی ایل5- کامیاب رہا اور سب نے اس کا خوب مزہ لیا۔ ایسا نہیں کہ ٹورنامنٹ میں کچھ اچھا نہیں ہوا۔ کئی نوجوان کھلاڑی سامنے آئے۔ بورڈ نے میں فیصلہ کیا ہے کہ آئی پی ایل نیلامی کا جائزہ لیا جائے گا اور اگلے سیشن میں سبھی کھلاڑیوں کی بھی نیلامی ہوگی۔
(انل نریندر)

19 مئی 2012

شاہ رخ خان پھر پھنسے تنازعے میں

آئی پی ایل یعنی انڈین پریمیر لیگ ابھی اسٹنگ آپریشن کا صدمہ جھیل رہی تھی کہ ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ معاملہ فلم سپر اسٹار کنگ خان سے متعلق ہے۔ کولکتہ نائٹ رائڈرز کے مالک شاہ رخ خان مہاراشٹر کرکٹ ایسوسی ایشن کے حکام سے مبینہ طور پر بھڑ گئے۔ معاملہ کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے۔ شاہ رخ خان اپنے بچوں کے ساتھ کولکتہ نائٹ رائڈرز بنام ممبئی انڈینس میچ کے اختتام پر وانکھڑے اسٹیڈیم پہنچے اور اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں سے ملنے ڈریسنگ روم کی طرف چلے گئے۔ ان کے ساتھ آئے بچے میدان میں جانے کی کوشش کرنے لگے تو سکیورٹی ملازمین نے انہیں روک دیا۔ شاہ رخ خان کو جب اس کا پتہ چلا تو وہ باہر آکر سکیورٹی گارڈوں سے بھڑ گئے اور آپس میں کہا سنی شروع ہوگئی۔ ایم سی اے کے حکام نے انہیں بتایا کہ وہ میدان میں نہیں جا سکتے۔ اس پر شاہ رخ نے کہا کہ میں ٹیم کا مالک ہوں اور مجھے کیسے روکا جاسکتا ہے؟ شاہ رخ اور ایم سی اے افسر سے بحث ہورہی تھی تبھی یوسف پٹھان بیچ میں بچاؤ کرنے پہنچ گئے۔ ایڈیشنل پولیس کمشنر اقبال شیخ نے موقعہ کی نزاکت سمجھی اور وہ شاہ رخ کو سمجھا بجھا کر اپنی گاڑی میں بٹھا کر اسٹیڈیم سے لے گئے۔ ایم سی اے کی جمعہ کو ہوئی میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا ہے کہ شاہ رخ خان پانچ سال تک اسٹیڈیم میں داخل نہیں ہوسکیں گے تاہم بی سی سی آئی کے نائب صدر راجیو شکلانے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ شاہ رخ کے اسٹیڈیم میں جانے پر پابندی کے بارے میں بی سی سی آئی آخری فیصلہ کرے گی۔بہرحال پولیس نے اسٹیڈیم میں ہوئے جھگڑے میں دونوں نے ایک دوسرے پر الزام لگایا ہے۔ایم سی اے نے شاہ رخ کے خلاف مرین ڈرائیو تھانے میں رپورٹ درج کرا دی ہے۔ ادھر شاہ رخ کا کہنا ہے کہ وہ نشے کی حالت میں نہیں تھے اور ایم سی اے کے حکام نے ان کے بچوں کے ساتھ بدتمیزی کی۔شاہ رخ خان نے آناً فاناً میں بلائی گئی پریس کانفرنس میں کہا کہ میں اس بات سے انکار نہیں کروں گا کہ میں نے گالی دی لیکن یہ سب تب شروع ہوا جب ایک شخص پیچھے سے آیا اور مراٹھی میں کچھ ایسا بیہودہ لفظ استعمال کیا جسے میں دوہرانا نہیں چاہتا۔ میں نے شراب نہیں پی رکھی تھی۔ میں اپنے بچوں کو لینے گیا تھا اور میرے بچوں کے ساتھ سکیورٹی حکام نے ہاتھا پائی کی تھی جس کے بعد میرا ایم سی اے حکام کے ساتھ جھگڑا ہوا۔ سکیورٹی کے نام پر بچوں کے ساتھ ہاتھا پائی نہیں کی جاسکتی۔ یہ معاف کرنے لائق بات نہیں ہے، انہیں مجھ سے معافی مانگی چاہئے۔ معاملہ پیچیدہ ہے ،یہ ٹھیک ہے کہ ایک سیلیبریٹی حیثیت ہونے کے سبب فلمی ستاروں کی چھوٹی سی بات ہیڈ لائنز بن جاتی ہے لیکن فلمی ستاروں کو بھی اس کا احساس ہونا چاہئے کہ وہ کیا کررہے ہیں اور اس کے کیا نتیجے ہوں گے۔ کچھ فلمی ستارے اپنے آپ کو دیش کے آئین سے اوپر مانتے ہیں اور ہر جگہ اپنی چلانا چاہتے ہیں۔ پولیس اور شاہ رخ کے بیانوں میں بہت فرق ہے۔ معاملہ درج ہوچکا ہے اور چھان بین سے ہی پتہ چلے گا کہ آخر ہوا کیا؟ اس معاملے میں ایک اور نقصان شاہ رخ کو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کی ٹیم نے ممبئی کی ٹیم کو ہرایا تھا، سچن کو ہرایا تھا۔ شاہ رخ ممبئی کے خلاف ہی میدان میں اتر گئے۔ آخر شاہ رخ آج جو بھی ہیں وہ ممبئی کی وجہ سے ہیں، ممبئی فلم انڈسٹری کی وجہ سے ہیں۔ ایک ٹوئٹ پرآیا ہے کہ شاہ رخ خان کو اپنی ٹیم کا نام 'کولکتہ نائٹ رائڈرز' سے بدل کر 'کولکتہ نائٹ فائٹر' رکھ لینا چاہئے۔

17 اپریل 2012

اس راہ سے تو ممتا کی ساکھ اور مقبولیت تیزی سے گھٹے گی



Published On 17 March 2012
انل نریندر
مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کی ضد اور اکڑ پن سے اب سب اچھی طرح واقف ہوچکے ہیں۔ لگتا ہے کہ وزیر اعلی بننے کے بعد تو ان میں غرور اور تانا شاہی کے اندازمیں اضافہ ہوا ہے۔ اب تو وہ اپنے خلاف بنا کارٹون بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی کا کارٹون فارورڈ کرنے کے الزام میں جادو پور یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کو گرفتار کرلیا گیا۔ یہ کارٹون دنیش ترویدی کو وزیر ریل کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جگہ مکل رائے کو نیا ریل وزیر بنانے کے سلسلے میں بنایا گیا تھا۔کیمیاوی مضمون کے پروفیسر امبکیش مہاپاترا کی گرفتاری سے کولکاتہ میں ناراضگی پھیل گئی ہے اور مارکس وادی اور دانشور طبقے نے کہا کہ پولیس کی کارروائی بالکل کچلنے والی ہے اور اظہار آزادی کے جمہوری حق پر واضح حملہ ہے۔ بعد میں علی پور کی عدالت نے پروفیسر کو ضمانت پر چھوڑدیا ہے۔ پروفیسر مہاپاترا نے الزام لگایا کہ کارٹون فارورڈ کرنے کے سبب جمعہ کی رات ترنمول کانگریس کے 15 حمایتیوں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی۔ پروفیسر کا کہنا ہے وہ اپنی سلامتی کو لیکر خطرہ محسوس کررہے ہیں۔ وہیں اسمبلی میں بڑی اپوزیشن پارٹی مارکسوادی پارٹی نے الزام لگایا کے ریاستی حکومت اخباروں پر پابندی لگا کر جمہوریت اور ان کے زندگی بسر کرنے کے حق پر حملہ کررہی ہے۔ وہیں سابق وزیر ریل دنیش ترویدی نے کارٹون تنازعے پر کہا کارٹون جمہوریت کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے کہا میرا خیال ہے کارٹون جمہوری صحت کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔ کارٹون آپ کی ساکھ کو خراب نہیں کرسکتے۔ مارکسوادی پارٹی کے سینئر لیڈر عبدالرزاق ملا نے سنیچر کو الزام لگایا کہ ریاستی حکومت اخباروں پر لگام لگا کر جمہوریت اور ان کے روز مرہ کی زندگی کے حق پر حملہ کررہی ہے۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے فرمان جاری کیا ہے کہ سرکاری لائبریریوں میں صرف چنندہ اخبار ہی رکھے جائیں۔ سرکار مخالف اخباروں کے لئے لائبریری میں کوئی جگہ نہیں۔ ملا نے اسٹوڈینٹس ہال میں مارکسوادی پارٹی (مالے) لبریشن کی جانب سے منعقدہ سمینار میں کہا کہ وزیر اعلی کے ذریعے جمہوری حقوق پر حملہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ وہیں کانفرنس میں مدعو کوی نوارن بھٹاچاریہ نے کارٹون بنانے والے کے خلاف کارروائی کو ریاستی حکومت کی منمانی اور اس کی تاناشاہی کہا۔ ماہر تعلیم سنندا سانیال نے پروفیسر کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ممتا بنرجی نے ریاست میں تبدیلی اقتدار کا نعرہ اچھال کر اقتدار ہتیانے میں کامیابی حاصل کی۔ سچائی تو یہ ہے کہ ریاست میں کہیں بھی تبدیلی کی جھلک نہیں دکھائی پڑ رہی ہے۔ یہ تکلیف دہ اور بدقسمتی اور قابل مذمت ہے۔ ممتا دھیرے دھیرے فاسسٹ ہوتی جارہی ہیں۔ ہمارا خیال ہے کے ممتا بنرجی میں اپنے خلاف کسی طرح کی تنقید یا طنز برداشت کرنے کی قوت کم ہوتی جارہی ہے۔ جمہوریت میں کارٹون بنانا کوئی جرم نہیں اور ایسا کرنا پریس کی آزادی پر حملہ کرنا ہے۔ جس راہ پر ممتا چل رہی ہیں اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ بہت تیزی سے مقبول ہوجائیں گی اور ان کی بنی ساکھ ملیامیٹ ہوجائے گی۔ لیفٹ لیڈروں سے ان کو اتنی نفرت ہے کے وہ اب بھی ٹھیک سے فیصلہ نہیں کرپارہی ہیں کے کیا ٹھیک ہے کیا غلط؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Kolkata, Mamta Banerjee, Trinamool congress, Vir Arjun, West Bengal

11 اپریل 2012

مغربی بنگال سے کارلمارکس اور اینجلس کی بدائی



Published On 11 March 2012
انل نریندر
مغربی بنگال میں 34 سال تک کامریڈوں نے کارلمارکس کی پالیسیوں پر چل کر راج کیا۔ اس دوران ساری دنیا سے کارلمارکس اینجلس کا نام و نشان تقریباً مٹ چکا ہے لیکن ہمارے کامریڈ اسی لائن پر چلتے رہے ہیں۔ یہ وقت کے مطابق بدلتے نہیں ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا مغربی بنگال کی عوام نے انہیں اکھاڑ پھینکا۔ صرف مغربی بنگال سے ہی نہیں بلکہ کیرل سے بھی۔ ممتا بنرجی اب کوشش کررہی ہیں کہ کارلمارکس واد واپس مغربی بنگال میں نہ آسکے۔اس لئے انہوں نے34 سال پہلے اس کی تیاری کرلی تھی۔ پردیش کی اسکولی تعلیمی نصاب کمیٹی نے مارکس اور فیڈرکس اینجلس کا سبق اسکولی کتابوں سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔ فیصلہ ممتا سرکار کو کرنا ہے۔ اسکولی کتابوں سے جو اہم اسباق ہٹائے جارہے ہیں ان میں مارکس واد کے بانی کارلمارکس کی سوانح حیات اور مارکس کی مدد کرنے والے دوست فیڈرکس اینجلس کی کہانی اور روس میں 1917 ء میں بالے شیوک انقلاب کی پوری کہانی ہے۔ ترنمول اقتدار میں آتے ہی وزیر اعلی ممتا بنرجی نے نصاب جائزہ کمیٹی بنائی تھی۔ اس جائزہ کمیٹی تو اسکولی نصاب کو جدید بنانے اور طلبا پر غیر ضروری بوجھ کم کرنے کا کام سونپا گیا۔ کمیٹی نے 695 صفحات کی رپورٹ سونپی ہے۔ ممتا اکیلی نہیں جنہوں نے کارلمارکس سے نجات پانے کے لئے قدم اٹھائے ہیں۔ اب تو ہمارے کامریڈ بھی کہنے لگے ہیں کہ ہمیں دیش کے موجودہ حالات کے مطابق بدلنا ہوگا۔ مارکس وادی لیڈر سیتا رام یچوری نے پارٹی کے 20 ویں آل انڈیا سمیلن میں کہا کہ ہمیں روس، چین ، کیوبا اور دیگر لاطینی امریکی دیشوں کی کمیونسٹ پارٹیوں سے الگ تھلگ نظریہ اپنانا ہوگا۔ پارٹی اصول بدلنے کی ساتھ ہی اپنے پروگراموں کا جائزہ لے گی۔ پارٹی جمہوری طاقتوں اور لیفٹ طاقتوں کو ہلاکر سیاسی متبادل بنانے کے عمل میں ہے۔ کانفرنس میں پیش ریزولیوشن میں کہا گیا ہے کہ 1894ء کے اراضی ایکٹ کا کارپوریٹ گھرانے بیجا استعمال کررہے ہیں۔ خاص اقتصادی سیکٹر کے واسطے زمین ایکوائر اور کھانوں کی کھدائی کے لئے ایسا ہوتا ہے۔ اس قانون کے سبب دیش کے کئی کسانوں اور زرعی مزدوروں کو جدوجہد کرتے دیکھا گیا ہے۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ مارکس وادی پارٹی اپنی ہار سے کچھ سیکھنا نہیں چاہتی۔ وہ کانگریس اور بھاجپا کو ہرانے کی بات تو کررہی ہے لیکن اس کے روڈ میپ میں تیسرے متبادل کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے اس کے برعکس وہ لیفٹ جمہوری متبادل کے لئے کوشش کرنے کی بات کررہی ہے مگر ایسا کوئی متبادل ہوا میں تو تیار نہیں ہورہا ہے۔ پچھلے لوک سبھا چناؤ میں ہیں لیفٹ پارٹیوں کی سیٹیں پچھلی مرتبہ کے مقابلے آدھی سے کم رہ گئی تھیں اگرچہ امکانی پس منظر کو دیکھیں تو نتیش کمار ، جے للتا، ممتا، نوین پٹنائک اور چندرا بابو نائیڈو کے رہتے غیر کانگریس اور غیر بھاجپائی سیاست میں مارکس وادی پارٹی کے لئے جگہ نظر نہیں آرہی ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ پارٹی آج بھی اندرونی رسہ کشی اور گروپ بندی کا شکار ہے۔وہ مانے یا نہ مانے لیکن کیرل میں پارٹی آپسی اختلافات اور گروپ بندی کے سبب ہی ہاری ہے۔ پارٹی سکریٹری جنرل پرکاش کرات کی بیڑا غرق کرنے والی پالیسیاں جب تک نہیں بدلتیں تب تک ہمیں بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کا سیاسی مستقبل چمکتا دکھائی نہیں پڑتا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Kolkata, Mamta Banerjee, Vir Arjun, West Bengal

02 فروری 2012

اور اب ممتا نے منموہن سنگھ پر سیدھا حملہ کیا


Published On 2nd February 2012
انل نریندر
یوپی اے کی اتحادی پارٹیوں کے بڑھتے دباؤ سے کانگریس کا سیاسی بحران بڑھتا جارہا ہے۔ ممتا بنرجی اور شرد پوار دونوں نے کانگریس کی ناک میں دم کردیا ہے۔ پیر کے روز ممتا نے تو ساری حدیں پار کردی ہیں۔ انہوں نے براہ راست وزیر اعظم منموہن سنگھ پر نشانہ لگایا۔ پیر کو ممتا نے منموہن سنگھ پر سیدھا حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نے سنگور میں زمین تحویل مخالف ان کی تحریک کے دوران ان سے بات نہیں کی تھی۔ ایسا انہوں نے مارکسوادی پارٹی کے ڈر سے کیا تھا کیونکہ وہ اس کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔ معاملے نے حیرت انگیز ڈھنگ سے این سی پی نیتا اور وزیرزراعت شرد پوار کی لائن اختیار کرتے ہوئے غذائی سکیورٹی ایکٹ کو لاگو کرنے پر سوالیہ نشان لگایا ہے۔ حیرانی ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے پوچھا آخر سرکار اس کے لئے پیسہ کہاں سے لائے گی؟ بنگلہ زبان کے تین چینلوں پر نشر انٹرویو میں ممتا نے اپنے ٹیلی کاسٹ انٹرویو میں اپنی پارٹی کو یوپی اے اتحاد کی ایک ذمہ دار پارٹی بتایا۔ اس محاذ کو برقرار رکھنے کی ہماری ذمہ داری ہے لیکن ہماری ان لوگوں کے تئیں بھی ذمہ داری ہے جنہوں نے ہمیں چنا ہے۔ ممتا کا کہنا ہے اس لئے عوام مخالف پالیسیوں کی ہم ہمیشہ مخالفت کریں گے۔ انہوں نے کہا ترنمول کانگریس نے اپنی سرگرمیوں کوپالیسیوں کی بنیاد پر بڑھایا ہے۔ اسی وجہ سے ہم نے لوگوں کو سیدھے طور پر متاثر کرنے والے خوردہ بازار میں براہ راست طور پر غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) اور پیٹرول کے داموں میں اضافے کی مخالفت کی لیکن کانگریس کے کچھ لیڈر مارکس وادی پارٹی کی طرح کام کررہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں ترنمول نیتا نے مرکز پر ریاست کے لئے پیکیج دینے میں ٹال مٹولی کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں چناؤ سے پہلے وزیر اعظم نے ریاست کی مدد کا وعدہ کیا تھا۔ اس سلسلے میں پچھلے 8 مہینے میں میں وزیر خزانہ پانچ بار مل چکی ہوں۔ میں بھیک نہیں مانگ رہی ہوں۔ کچھ بھی ہوجائے ہم عزت سے سر اٹھا کر چلیں گے۔ کانگریس اور ترنمول کانگریس میں دراڑ چوڑی ہوتی جارہی ہے۔ کانگریس محسوس کرنے لگی ہے کہ ترنمول کا منصوبہ ہے کہ کانگریس کے گڑھ والے علاقے میں پیٹ بنانا۔نشانے پر ہیں ممتا کے کچھ مخالف مانے جانے والے کانگریس نیتا۔ دیپا داس منشی، ادھیر چودھری اور موسم بینظیر نور کے اثر والے ضلع ہیں۔پچھلے دنوں کانگریس اور ترنمول محاذ میں جاری کھینچ تان نیتاؤں کے درمیان تنازعہ سے آگے نکل کر جنتا کی عدالت میں چلی گئی ترنمول کے نیتاؤں نے ریلی کر کانگریسیوں کو اتحاد چھوڑنے کی چنوتی دے ڈالی۔ ترنمول کانگریس کے لیڈروں نے ایک آواز میں کہا کہ یہ کانگریس کو طے کرنا ہے کہ انہیں پچھلے دروازے سے باہر نکلنا ہے یا بڑے دروازے سے۔ جس رفتار سے دونوں پارٹیوں میں خلیج چوڑی ہوتی جارہی ہے اس سے تو لگتا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب دونوں الگ الگ راستہ اپنا لیں، بہت کچھ منحصر کرتا ہے ان پانچ اسمبلی چناؤ کے نتائج پر۔ اگر ان میں کانگریس کی کارکردگی اچھی نہیں رہی تو کچھ بھی ہوسکتا ہے۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Kolkata, Mamta Banerjee, Manmohan Singh, Trinamool congress, Vir Arjun, West Bengal

13 دسمبر 2011

کولکتہ کے بدقسمت صحت یاب ہونے آئے تھے لیکن ملی موت


Published On 13th December 2011
انل نریندر
پچھلے کچھ عرصے سے کولکتہ کے ہسپتالوں کی اخباروں میں سرخیاں بنتی رہی ہیں اور دنیا کو مغربی بنگال میں مریضوں کی خستہ حالت کا پتہ چلا ہے۔ جمعہ کی صبح کولکتہ کے ایڈوانس میڈیکیئر اینڈ ریسرچ انسٹیٹیوٹ اے ایم آر آئی میں خوفناک آگ لگ گئی۔ کولکتہ کے اس پرائیویٹ ہسپتال میں آگ لگنے سے تقریباً90 لوگوں کی موت ہوگئی۔ ان میں سے زیادہ تر مریض تھے جو آئے تو تھے ہسپتال میں ٹھیک ہونے کے لئے لیکن ہسپتال سے ان کی جلی ہوئی لاش نکلی۔ کیا اس سے زیادہ بدقسمتی اورکچھ ہوسکتی ہے کہ لوگ جہاں زندگی کی سلامتی کی امید میں آئے وہیں انہیں قیامت کا شکار ہونا پڑا۔ مرنے والوں میں نوزائدہ بچے بھی شامل تھے۔ جمعہ کی صبح سویرے آگ سانحہ پیسے اور رسوخ کے دم پر سرکار کی مشینری کے ساتھ ملی بھگت کر قاعدے قانون کی دھجیاں اڑانے کی تازہ مثال ہے۔ یہ واقعہ ہمارے اس لچر سسٹم کی پول کھولتا ہے جس میں حساسیت مسلسل ختم ہوتی جارہی ہے۔ پرائیویٹ ہسپتال کمائی کرنے کا گارنٹی شدہ ذریعہ بن گئے ہیں۔
اس کثیر منزلہ پرائیویٹ ہسپتال میں جب آگ لگی تب وہاں اس سے بچنے کے لئے احتیاطی وسائل تک موجود نہیں تھے۔ زیادہ تر لوگوں کی موت دم گھٹنے سے ہوئی کیونکہ شیشوں کے پینلوں کے سبب کاربن مونوآکسائیڈ اور امونیا کا زہریلا دھنواں باہر نہیں نکل پایا اور وہاں آکسیجن کی کمی ہوگئی۔ اس حادثے کے لئے ہسپتال کے ملازمین تو ذمہ دار ہیں ہی مگر انتظامیہ کوبھی جوابدہ ہونا چاہئے۔ لائسنس دینے والے اور اجازت دینے والے جوابدہی سے کیسے بچ سکتے ہیں۔ آخر محض چار پانچ سال پہلے بنی اس ایئر کنڈیشن ہسپتال کی عمارت میں اتنا بڑا حادثہ کیسے ہوگیا؟ اس سے مطمئن نہیں ہوا جاسکتا۔ وزیر اعلی ممتا بنرجی نے سانحہ کی اعلی سطحی جانچ کے حکم دینے کے ساتھ ہی ہسپتال کا لائسنس بھی منسوخ کردیا ہے اور مینجمنٹ کے لوگوں کو لاپرواہی اور غیر ارادتاً قتل کے الزام میں گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔ انتظامیہ اور مقامی سسٹم کو اس سوال کا بھی جواب دینا ہوگا آخر اس بدقسمت ہسپتال میں سلامتی کے موزوں انتظام کیوں نہیں تھے؟ ہسپتال کے جس تہہ خانے کا استعمال پارکنگ کے لئے ہونا چاہئے تھا وہاں زندگی بخش سامان کیوں نہیں تھا۔ کیا وجہ رہی ہسپتال انتظامیہ نے فائر برگیڈ اور پولیس کی اس وارننگ کو کیوں نظر انداز کردیا جس میں تہہ خانے کے بیجا استعمال کو لیکر خبردار کیا گیا تھا؟ کیا یہ لاپرواہی کی ایک صریحاً مثال نہیں ہے کہ آگ کا شکار ہوا سات منزلہ ہسپتال ویسے تو ایئر کنڈیشن تھا لیکن آگ کے بچاؤ کے اس میں وسائل ندارد تھے۔ مغربی بنگال کی حکومت اس حادثے کے بعد یہ دلیل دے کر اپنا پلہ نہیں جھاڑ سکتی۔ لیفٹ پارٹیوں کے لمبے عہد نے سب کچھ تباہ برباد کردیا۔
ممتا بنرجی کو اقتدار سنبھالے ابھی چھ مہینے ہورہے ہیں اصلاحات کی سمت میں کام آگے بڑھانے کے لئے انہیں فرصت نہیں ہے۔ پچھلے کچھ وقت سے ہسپتالوں کی دردشاکے معاملے بھی سرخیاں بنتے رہے ہیں۔ اب بھی ریاستی سرکار کی آنکھیں نہیں کھلیں افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دیگر شہروں میں بھی زیادتر یہی حالت ہے۔ امید کی جاتی ہے ریاستوں کی حکومتیں اس آگ سے سبق لیں گی اور اپنے اپنے راجیوں میں ہسپتالوں میں سختی سے آگ کے واقعات سے نمٹنے کیلئے موزوں اقدامات پر خاص توجہ دیں گی۔
AMRI Hospital, Anil Narendra, Daily Pratap, Kolkata, Mamta Banerjee, Vir Arjun, West Bengal

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...