Translater

12 مئی 2012

غریب بھوکے ہیں، کسان خودکشی کو مجبوراور اناج سڑ رہا ہے



Published On 12 May 2012
انل نریندر
بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ دو وقت کی روٹی کھانا مشکل ہوگیا ہے۔ خبر آئی ہے کہ اس سال دیش میں اناج کی ریکارڈ پیداوار 25 کروڑ ٹن ہوئی ہے۔ یہ خبر جتنی راحت دینے والی ہے اتنی ہی راحت سے کہیں زیادہ شرمناک اور جی جلانے والی ہے کیونکہ دیش میں دستیاب اناج گوداموں میں زیادہ سے زیادہ 11 کروڑ ٹن ہی رکھنے کی صلاحیت ہے۔ مرکز اور ریاستی سرکاروں کی سست روی کے سبب کسانوں کو زیادہ اناج پیدا کرنے کی الٹی سزا ملنے کے آثار بنتے دکھائی پڑ رہے ہیں۔ خون پسینہ بہا کر پیدا کیا اناج اب کسان اپنی آنکھوں کے سامنے سڑتے ہوئے دیکھیں گے۔ یہ ہی نہیں ساڑھے آٹھ کروڑ ٹن سے زیادہ ریکارڈ توڑ فصل پیدا ہونے کے بعد بھی کسانوں کی جیب خالی رہے گی اور غریبوں کے پیٹ پہلے کی طرح بھوکے رہیں گے۔چوہوں اور کیڑے مکوڑوں کی موج آجائے گی کیونکہ کھولے آسمان کے نیچے سڑتا اناج وہ پہلے کر پھینکیں گے اور اس کے بعد چاندی ہوگی شراب بنانے والوں کی کیونکہ کسانوں کے نام پر قسمیں کھانے والی حکومتوں پر اس کی فصل رکھنے کے انتظام نہیں ہے۔ اس کے سبب کئی ٹن گیہوں برباد ہونا طے ہے۔ دیش میں دستیاب گوداموں میں محض11 کروڑ ٹن اناج رکھنے کی سہولت بڑھانے کے لئے کوئی ٹھوس متبادل نہیں ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح اناج کے مناسب رکھ رکھاؤ کی کمی میں یہ پھر برباد ہوگا اور پھر کسانوں کو خودکشی کرنے ، بھکمری سے لوگوں کے مرنے کی روزانہ خبریں دیش کے مختلف علاقوں سے آنا شروع ہوجائیں گی۔ بین الاقوامی غذائی پالیسی رکھ رکھاؤ ادارے کے مطابق دنیا کے بھوکے لوگوں میں ہر پانچواں شخص ہندوستانی ہے۔ دیش کی بڑی منڈیوں میں لاکھوں ٹن اناج کھلے آسمان کے نیچے جمع ہوچکا ہے اسے ترپال سے ڈھکنے کی بھی سہولت نہیں ہے۔ اندیشہ ہے کہ مانسون کی پہلی بوچھار کے ساتھ زبردست بربادی کی شروعات ہوجائے گی۔ جن ریاستوں نے جتنا بڑھ چڑھ کر اناج کی پیداوار کی اتنا ہی زیادہ اناج اب سڑے گا۔ریاستی سرکاریں بھی مرکز کے پالے میں گیند ڈال رہی ہیں۔ پنجاب ،ہریانہ اورمدھیہ پردیش کے وزراء اعلی نے پچھلے دنوں وزیر اعظم، وزیر خزانہ اور وزیر زراعت اور وزیر خوراک سے ملاقات کر منڈیوں میں کھلے میں رکھے اناج کو اٹھانے ،گوداموں میں جمع پرانے اناج کو دوسری ریاستوں میں منتقل کرنے کی اپیل کی لیکن مرکز الٹے انہی سے انتظام کرنے کو کہہ رہا ہے۔ لہٰذا جہاں یہ فخر اور تسلی کی بات ہے کہ غذائی پیداوار کے سیکٹر میں ہماری خودکفالت ریکارڈ توڑ کامیابی کا اعدادو شمار درج کرانے جارہی ہے اب یہ سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ریکارڈ پیداوار کو سمیٹنے کے لئے اس کیلئے اسٹور کا مناسب انتظام کرے اور اسے عام آدمی تک پہنچانے کیلئے عوامی تقسیم نظام کو چست درست بنائے۔ اسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پچھلے سال سپریم کورٹ نے سڑ رہے اناج کو غریبوں میں مفت بانٹنے کی ہدایت بھی دی تھی جس پر کئی طرح کی اگر مگر کرتے ہوئے مرکز نے اسے نظر انداز کردیا۔ سرکار کو عدالت کا یہ حکم پسند نہیں آیا اور اس کو عدلیہ کی نا مناسب مداخلت نظر آئی تھی۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Farmers Suicide, Food Security Bill, Supreme Court, Vir Arjun

مظاہروں کے درمیان پتن تیسری مرتبہ صدر بنے



Published On 11 May 2012
انل نریندر
روس میں بڑا مینڈیٹ حاصل کرنے والے مقبول لیڈر ولادیمیر پتن نے پیر کے روز تیسری بار روس کے صدر کی ذمہ داری سنبھال لی۔ کبھی روس کو خوشحالی کی بلندیوں پر لے جانے کا خواب دکھانے والے اس لیڈر نے اس مرتبہ جمہوری اقدار کو مضبوطی دینے کا اعلان کیا۔ یہ تیسرا موقعہ ہے جب پتن نے روس کا اقتدار سنبھالا ہے۔ اس سے پہلے 2000 سے 2008ء تک وہ صدر تھے۔ اس کے بعد چار سال تک وہ وزیر اعظم کی شکل میں اقتدار کا ایک بڑا مرکز بنے رہے ۔پتن کا کہنا ہے جب میں روسی صدر کے طور پر حلف لیتا ہوں تومیں اپنے شہریوں کے حقوق اور آزادی کا احترام اور سلامتی بنائے رکھوں گا۔حلف لینے کے فوراً بعد پتن نے وزیر اعظم کی شکل میں میدوف کا نام تجویز کیا۔ یہ دونوں لیڈروں کے درمیان اقتدار کی سانجھے داری کو لیکر ہوئے سمجھوتے کے تحت کیا تھا۔ مانا جارہا ہے کہ روسی پارلیمنٹ کے نچلے ایوان ڈوما کا ایک خصوصی اجلاس بلا کر وزیر اعظم کی شکل میں میدوف کے نام پر باقاعدہ طور سے توثیق ہوجائے گی لیکن پتن کی حلف برداری تقریب تنازعوں سے بچ نہیں سکی۔ حلف برداری تقریب کے دوران ماسکو میں لوگوں نے جم کر احتجاج اور مظاہرے کئے۔ اپوزیشن کے لیڈر بورس نمتسوت سمیت 120 ورکروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ ایتوار سے ابھی تک 400سے زیادہ لوگ گرفتار ہوچکے ہیں۔ کچھ مغربی ممالک بھی پتن کی نکتہ چینی کررہے ہیں۔ وہ اقتدار سے چپکنے کی پتن کی کوششوں کی نکتہ چینی ہورہی ہے لیکن پتن نے ان کی کبھی پرواہ نہیں کی۔ حلف لینے کے بعد انہوں نے اپنی مختصر تقریر میں کہا کہ روس قومی ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگیا ہے۔ ہمیں اپنے معیار ات و نشانو ں کو مقرر کرنا ہوگا۔ آنے والے برسوں میں روس کا مستقبل طویل عرصے کے لئے طے ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا میدوف نے جدیدی کرن کو نئی رفتار دی ہے اور اس میں تبدیلی جاری رہے گی۔ جمہوریت کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ روسی جمہوریت اور آئینی اختیارات کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ میں اسے اپنی زندگی کا مقصد مانتا ہوں۔ اپنے لوگوں کی خدمت کرنا ہمارا عزم ہے۔ صدر منتخب ہونے کے بعد پتننے اپنی پہلی تقریر میں امریکہ سے کہا کہ وہ اس بات کی گارنٹی دے کہ اس کا میزائل سسٹم روس کے خلاف نہیں ہے۔ حلف برداری کے فوراً بعد روس کا نیوکلیائی سوٹ کیس پتن کے سپرد کردیا گیا ہے۔
انہوں نے اپنی سرکار کا نظریہ صاف کردیا اور نئے فرمان کے مطابق روس امریکہ کے ساتھ اور گہرے رشتے چاہتا ہے لیکن وہ اپنے اندرونی معاملوں میں کسی طرح کی کوئی دخل اندازی قطعی برداشت نہیں کرے گا۔ روس امریکہ کے ساتھ رشتوں کو صحیح طور پر بالائی سطح تک لے جانا چاہتا ہے لیکن وہ ایسا ایک برابری کے رشتے کی بنیاد پر کرنا چاہتا ہے جہاں دونوں دیش ایک دوسرے کے مفادات کا احترام کریں۔ جہاں روسیوں کو پتن سے بہت امیدیں ہیں وہیں ان کے سامنے چیلنج بھی کم نہیں ہیں۔ دیش کے اندر اور باہر دونوں سطحوں پر پتن کو ہوشیاری سے قدم رکھنے ہوں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کے پتن نے روس کی گرتی ساکھ کو کچھ حد تک سنبھالا ہے۔ سبھی روسی دیش کو مضبوط اور ایک متحد دیش دیکھنا چاہتے ہیں۔ امریکہ کی بڑھتی دادا گری کو چیک کرنے کے لئے بھی ایک مضبوط روس کی ضرورت ہے اور پتن یہ کام کرسکتے ہیں لیکن اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ دیش کے اندر پیدا ناراضگی کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ جنتا کی جائز مانگوں پر توجہ دیں۔ روس کی عوام نے جو بھروسہ پتن پر ظاہر کیا ہے امید ہے کہ وہ اس پر کھرا اتریں گے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Russia, Valadimir Putin, Vir Arjun

11 مئی 2012

ایمائکس کیوری کی نریندر مودی پر مقدمہ چلانے کی سفارش



Published On 11 May 2012
انل نریندر

2002ء کے گجرات فسادات وزیر اعلی نریندر مودی کا پیچھا نہیں چھوڑ رہے۔ ایس آئی ٹی کی جانب سے کلین چٹ ملے ابھی کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ ان کے سامنے نئی پریشانی کھڑی ہوگئی۔ سپریم کورٹ کے ذریعے مقرر ایمائکس کیوری (عدالت کے دوست) نے کہا ہے کہ 2002ء کے دوران مختلف طبقوں کے خلاف دشمنی بھڑکانے کے لئے آئی پی سی کے مختلف دفعات کے تحت نریندر مودی پر مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔ زکیہ جعفری کی شکایت پر راجو رامچندر کی رپورٹ عدالت کے ذریعے مقرر اسپیشل تفتیشی ٹیم ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے ایک دم برعکس ہے۔ ایس آئی ٹی نے اس سے پہلے مودی اور دیگر کو کلین چٹ دے دی تھی۔ ایمائکس کیوری رامچندر نے رپورٹ میں کہا کہ ''میری رائے میں مودی کے خلاف ایک نظر میں جو کرائم کا معاملہ بنتا ہے وہ آئی پی سی کی دفعہ 153(A)(1)(B) کے تحت آتا ہے۔جس کے معنی نے مذہب کی بنیاد پر مختلف فرقوں کے درمیان دشمنی بھڑکانا۔ اسی طرح 153B(1) قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے سے متعلق ہے۔ مودی پر دفعہ 166 کے تحت بھی مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ ایس آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں معطل آئی پی ایس افسر سنجیو بھٹ کے ان الزامات کو مسترد کردیا تھا کہ ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف غصہ نکالنے اور انہیں سبق سکھانے دیا جائے۔ بھٹ نے سپریم کورٹ کے سامنے اس سلسلے میں حلف نامہ داخل کیا تھا۔ ایس آئی ٹی نے گلبرگ سوسائٹی فسادات پر اپنی رپورٹ ذکیہ جعفری کو سونپی تھی۔ گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے فسادات میں ذکیہ جعفری کے شوہر سابق ایم پی احسان جعفری سمیت 69 لوگ مارے گئے تھے۔ سپریم کورٹ کے وکیل ڈی کے گرگ کے مطابق ایمائکس کیوری کی رپورٹ کو ذکیہ ہائی کورٹ میں بنیاد بنا سکتی ہیں۔ نچلی عدالت کی جانب سے انکار کے بعد یہ رپورٹ ان کے موقف کو مضبوط کرنے کے لئے کافی ہے۔ کانگریس کے ترجمان منیش تیواری نے کہا کہ مودی اس سچائی سے نہیں بھاگ سکتے کہ گودھرا کانڈ کے بعد ہوئے قتل عام کے لئے وہ ذمہ دار ہیں۔ دوسری طرف بھاجپا نیتا ارون جیٹلی کا ماننا ہے کہ مجرمانہ سزا عمل دفعہ یا شہادتی قانون کے تحت کسی وکیل یا ایمائکس کیوری کے نظریئے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جانچ پولیس کا کام ہے، کسی وکیل کا نہیں۔ ایس آئی ٹی کی رپورٹ کو بنیاد بنا کر بھاجپا پیر کو نریندر مودی کی حمایت میں کھل کر کھڑی ہوگئی۔ بھاجپا نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ سے ثابت ہوگیا ہے کہ گجرات اور نریندر مودی کے خلاف کانگریس اور کچھ خودساختہ سماجی تنظیموں نے بدنامی کرنے کی مہم چلائی تھی۔ آخر سچائی کی جیت ہوئی ہے۔'' بھاجپا ترجمان جاویڈکر نے کہا کہ ایس آئی ٹی کی رپورٹ اس لئے بھی اہم ہے کیونکہ اس کی تشکیل سپریم کورٹ نے کی تھی اور اس میں گجرات سرکار کا کوئی بھی افسر نہیں تھا۔جاویڈکر کا کہنا ہے گجرات دنگوں پر سوال اٹھانے والی کانگریس پچھلے وقت کے دنگوں میں ملوث فسادیوں کو اب تک کیوں سزا نہیں دلا سکی جبکہ گجرات دنگوں کے قصورواروں کو سزا ملی ہے اور مل رہی ہے۔ کانگریس بلا وجہ گجرات کو دنیا میں بدنام کررہی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, Narender Modi, Supreme Court, Vir Arjun

حج سبسڈی ختم کی جائے ،سپریم کورٹ



Published On 11 May 2012
انل نریندر
سپریم کورٹ نے ایک دوررس فیصلے میں پچھلے 18 سال سے حج سفر کے لئے دی جارہی سبسڈی اگلے10 سال میں پوری طرح سے ختم کرنے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس آفتاب عالم اور رنجنا پرکاش ڈیسائی پر مشتمل بنچ نے قرآن کا حوالہ دے کر کہا ہے کہ سبسڈی ختم کرنا جائز ہے۔ عدالت نے کہا مذہبی مقامات پر جانے والے لوگوں کو اس طرح کی سبسڈی دینا اقلیتوں کو لبھانے کی مانند ہے۔ حج سفر کے ساتھ بھیجے جانے والے خیرسگالی نمائندہ وفد کو بھی عدالت نے سفر دو ممبروں تک محدود کرنے کو کہا ہے۔ سرکار کے ذریعے حج مسافروں کو طیارے کے کرائے میں دی جانے والی رعایت کو حج سبسڈی کہتے ہیں۔1954ء سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے۔ ایسی سہولت دینے والا بھارت دنیا میں واحد ملک ہے۔ اس سبسڈی کے تحت سرکار ہر سال 600 کروڑ روپے عازمین حج پر خرچ کرتی ہے۔ حکومت نے پہلے حج مسافروں کے لئے 12 ہزار روپے کا جہاز کا کرایہ مقرر کیا تھا۔ اسے2009 میں بڑھا کر16 ہزار کردیا گیا۔ باقی لاگت سرکار کے ذریعے خرچ کی جاتی ہے۔ اس سے قریب ہر مسافر کو40 ہزار روپے کی رعایت ملتی ہے۔ 1.70 لاکھ عازمین حج ہر سال حج کے لئے جاتے ہیں۔ ان میں سے 1.25 لاکھ حج کمیٹیوں کے ذریعے چنے جاتے ہیں باقی پرائیویٹ آپریٹروں کے ذریعے سے جاتے ہیں۔ حج کمیٹی کے ذریعے چنے گئے عازمین حج کو ہی سبسڈی دی جاتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ سبسڈی کی رقم کا زیادہ بہتر استعمال مسلم فرقے کی تعلیمی اور سماجی بھلائی کے لئے ہوسکتا ہے۔ ایم آئی ایم کے چیف اسعد الدین اویسی نے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا یہ سبسڈی 10 سال تک نہیں بلکہ فوری ہی ختم کردی جانی چاہئے۔ حج سبسڈی کی شکل میں حج مسافروں کو نہیں بلکہ ایئرانڈیا کو600 کروڑ روپے کی مدد دی جاتی ہے۔ فتحپوری مسجد کے شاہی امام مکرم احمد کا کہنا ہے کہ ہم اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ اگر دیگر مذاہب کے لوگوں کے مذہبی دوروں میں سبسڈی نہیں ملتی تو ہمیں بھی نہیں ملنی چاہئے۔ بھارت میں سبھی شہری برابر ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے اب سرکار بھی متفق لگتی ہے اور اس کی مانیں تو وہ اس سمت میں غور کررہی تھی لیکن سوال یہ ہے کہ سرکار نے پھر اس سمت میں قدم کیوں نہیں اٹھائے اور وہ تب تک جب تک مسلم سماج کے دیگر لیڈر اور عالم دین بھی اس نظریئے کے حمایتی تھے کہ حج سبسڈی صحیح نہیں ہے؟ کچھ علماؤں تو اسے غیر اسلامی مانتے ہیں۔ اب بیشک مرکزی سرکار جو بھی دعوی کرے لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ فیصلہ سرکار کو کرنا چاہئے تھا نہ کہ سپریم کورٹ کو لیکن مجبوراً عدالت کو یہ فیصلہ دینا پڑا۔ جب اسے لگا کہ اس سبسڈی کے ذریعے سے سیاسی مفادات کی تکمیل ہورہی ہے۔ یہ سوال اس لئے کیونکہ عدالت نے یہ کہنے میں قباحت نہیں کی کہ اس طرح کی پالیسی اقلیتوں کو لبھانے والی ہے؟ ایک سیکولر نظام میں حکومت کو اپنے برتاؤ سے ایسا احساس نہیں دلانا چاہئے کہ وہ کسی خاص طبقے کے تئیں زیادہ ہی فراخدلی کا ثبوت دے رہی ہے۔ اگر سرکار کو مذہبی اسکیموں میں سبسڈی دینی ہے تو سبھی طبقوں کے لوگوں کو دے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Haj, Minority, Vir Arjun

10 مئی 2012

ہلیری کلنٹن کا دورہ پوشیدہ ایجنڈا؟



Published On 10 May 2012
انل نریندر

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا تین روزہ دورۂ ہند کئی معنوں میں اہم ہے۔ عام طور پر امریکہ ایک تیر سے کئی شکار کرتا ہے۔ ہلیری کا مغربی بنگال آنا اور ممتا کو اتنی اہمیت دینا بغیر کسی ٹھوس مقصد کے نہیں ہوسکتا۔ کیا یہ وزیراعظم منموہن سنگھ کے کہنے پر کولکاتہ آئی تھیں؟ کیونکہ پچھلے کئی دنوں سے ممتا بنرجی مرکز ی سرکار کے لئے درد سر بنی ہوئی ہیں۔ چاہے معاملہ بھارت بنگلہ دیش میں تیستہ آبی معاہدے کا ہو چاہے خوردہ بازار میں براہ راست سرمایہ کاری کا رہا ہو، ممتا اپنے موقف پر اڑی ہوئی ہیں۔ میں نے ان دونوں اشوز کا اس لئے ذکر کیا ہے کیونکہ ہلیری کلنٹن کولکاتہ سیدھے ڈھاکہ سے آئیں۔ بنگال کی وزیراعلی ممتا بنرجی کے ساتھ ان کی میٹنگ کو کسی بھی امریکی وزیر خارجہ کی اس طرح کی پہلی کوشش مانا جارہا ہے۔ ہلیری کے اس دورہ سے صاف ہوگیا ہے کہ امریکی حکومت ممتا بنرجی اور ان کی حکومت کو کتنی اہمیت دے رہی ہے۔ اپنے دورہ کے دوسرے دن پیر کے روز ہلیری نے ریاستی سکریٹریٹ رائٹرز بلڈنگ میں ممتا بنرجی سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کا انتظار تو مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کو ٹائم میگزین کی جانب سے دنیا کی 100 سب سے زیادہ طاقتور شخصیتوں میں شمار کئے جانے اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے دورہ ہند کا وقت پہلے ہی سے طے تھا۔ ہلیری نے ڈھاکہ کے بعد کولکاتہ آکر جس طرح یہ توقع ظاہر کی کے بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان آبی بٹوارے کا اشو سمجھیں۔ اس میں کچھ بھی شک و شبہ نہیں لیکن یہ قابل ذکر ہے کہ انہوں نے یہ بات کولکاتہ میں کہی ممکن ہے وہ اس سے اچھی طرح واقف ہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان آبی بٹوارے اور خاص طور سے تیستہ ندی کا معاملہ تبھی سلجھ سکتا ہے جب ممتا بنرجی مناسب رویہ اپنائیں گی۔ باوجود اس کے انہیں اپنی توجہ کولکاتہ کے بجائے نئی دہلی پر مرکوز کرنی چاہئے تھی۔ انہوں نے نئی دہلی آنے سے پہلے جس طرح سے یہ ظاہر کرنے میں قباحت نہیں کی کے بھارت کو ایران سے دور رہنا چاہئے اس سے یہ صاف ہوجاتا ہے کہ ان کا ایجنڈا کیا ہے؟ خارجہ پالیسی کے مورچے پر بھارت کے ٹال مٹول کے رویئے کے سبب امریکہ کو اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد مل رہی ہے۔ امریکہ نہ صرف یہ بھی کہہ رہا ہے کہ بھارت ایران سے دور رہے بلکہ اس کے لئے سارے جتن بھی کررہا ہے کے وہ اس سے تیل خریدنا بھی بند کردے۔ جو بات بھارت سرکار کو امریکہ سے واضح کردینی چاہئے وہ ہے اگر بھارت ایران سے تیل خریدنا بند کردے گا تو اپنی ضرورتیں پوری کیسے کرے گا؟ آخر امریکہ کوئی متبادل طریقہ نہیں بتا رہا ہے۔ امریکہ کا اپنا ایجنڈا ہے اور وہ اپنے مفادات کے مطابق ہی کام کرتا ہے۔ اس کی نگاہ چاہے ایران پر ہو یا پاکستان پر ہو،اپنے مفادات کے مطابق پالیسیاں بنتی ہیں۔ اسے بھارت کے مفادات کی کر نہیں۔ یہ بات مرکزی سرکار کو بھی سمجھ لینی چاہئے اور دیدی کو بھی۔ ممتا کو ہلیری کے ذریعے اتنا بھاؤ دینے سے اپنا دماغ اور نظریہ خراب نہیں کرنا چاہئے۔ اگر ہلیری انہیں بھاؤ دے رہی ہیں تو اس کے پیچھے امریکی پالیسی ہے ۔
Anil Narendra, Batla House Encounter, Daily Pratap, Mulayam Singh Yadav, Samajwadi Party, Vir Arjun

بٹلہ ہاؤس :فرار آتنکیوں نے ملائم سنگھ سے مدد مانگی



Published On 10 May 2012
انل نریندر

دہلی کے سرخیوں میں چاہے بٹلہ ہاؤس انکاؤنٹر 19 ستمبر 2008 ء کو ہوا تھا۔ اسی انکاؤنٹر میں دہلی پولیس کے جاں باز انسپکٹر موہن چندر شرما شہید ہوئے تھے۔ اسی مڈبھیڑ میں شامل کچھ آتنک وادی تب سے فرار ہیں ان میں انڈین مجاہدین کے مبینہ آتنک وادی عارف خان عرف جنید بھی شامل ہیں۔ خبر آئی ہے کہ جنید اب سرنڈر کرنا چاہتا ہے اور اس کام کے لئے اس نے سپا چیف ملائم سنگھ یادو کی مدد مانگی ہے۔ جنید اور انڈین مجاہدین کے دیگر مبینہ آتنک وادی اسد اللہ اختر کے گھروالوں نے اس بارے میں سالیسوں کے ذریعے ملائم سنگھ اور سماج وادی پارٹی کے دیگر عہدیداران اور انتظامیہ سے رابطہ قائم کیا ہے۔ رشتہ داروں نے دہلی کی عدالت میں آتنکیوں نے محفوظ سرنڈر کرنے کیلئے مدد مانگی ہے۔جنید اور اسد اللہ دونوں اعظم گڑھ کے رہنے والے ہیں۔ جنید اور وہ ساڑھے تین سال سے پولیس سے بچے پھر رہے ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ یہ دونوں آتنکی اترپردیش میں ہیں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں ان 12 انڈین مجاہدین آتنکیوں میں سے ہیں جن پر دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے انعام رکھا ہوا ہے۔ جنید پر 5 لاکھ کا انعام ہے جبکہ اسد اللہ پر1 لاکھ کا انعام ہے۔ دہلی پولیس کو جن 12 مبینہ آتنکودادیوں کی تلاش ہے ان میں سے 9اعظم گڑھ کے ہیں۔ 3 آتنکی شہزاد عرف پپو، حاکم اور سلمان کو یوپی اے ٹی ایس نے گرفتار کر دہلی پولیس کے حوالے کردیا تھا۔ عارف عرف جنید کی تلاش جے پور، احمدآباد، دہلی میں ہوئے دھماکوں کے سلسلے میں بھی ہے۔ کچھ گرفتار آتنکیوں سے پوچھ تاچھ سے پتہ چلا ہے کہ جنید23 نومبر کو اترپردیش کی عدالتوں اور 7 مارچ 2006 میں وارانسی کے سنکٹ موچن مندر میں ہوئے دھماکوں میں بھی شامل رہا ہے۔ اسد اللہ صرف دہلی بم کانڈ میں شامل بتایا جاتا ہے۔ جنید اعظم گڑھ کے باز بہادر محلے کا رہنے والا ہے جبکہ اسد اللہ غلام پوروا کا باشندہ ہے۔ بتاتے ہیں کہ ان آتنک وادیوں کے رشتے داروں میں اترپردیش سرکار اور انتظامیہ نے اپنے رابطوں کو بتایا ہے کہ جنید اور اسد اللہ عدالت میں سرنڈر کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں اس بات کا ڈر ہے کہ اگر وہ پولیس کے ہتھے چڑھ گئے تو انہیں فرضی مڈ بھیڑ میں مار دیا جائے گا۔ رشتہ داروں نے اس بات کی یقین دہانی مانگی ہے کہ ان دونوں کو اترپردیش پولیس اور آتنک وادی انسداد دستہ ،دہلی پولیس کے حوالے نہیں کرے گا۔ اسد اللہ کے والد اور اعظم گڑھ کے مشہور ڈاکٹر جاوید اختر نے بتایا کہ ہم لوگوں نے ملائم سنگھ کو خط لکھ کر محفوظ سپردگی کے لئے مدد مانگی ہے۔ اختر کے مطابق خط میں یہ لکھا گیا ہے کہ دہلی پولیس میں بٹلہ ہاؤس مڈ بھیڑ میں اعظم گڑھ کے نوجوانوں کو بیوجہ پھنسایا ہے۔ ہم نے ملائم سنگھ یادو سے کہا ہے کہ وہ انصاف دلانے کے لئے اس معاملے میں مدد دیں کیونکہ ان کی پارٹی مرکزی سرکار کی حمایت کررہی ہے۔ اختر نے بتایا کہ گوپال پور کے سماجوادی پارٹی کے ممبر اسمبلی اور وزیر وسیم احمد سرکار کے ساتھ ان کی بات چیت میں مدد کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں اپنے بیٹے کے ٹھکانے کے بارے میں کچھ پتہ نہیں۔ پچھلے چار سال سے ان کا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔
Anil Narendra, Batla House Encounter, Daily Pratap, Mulayam Singh Yadav, Samajwadi Party, Vir Arjun

09 مئی 2012

اب عامر خاں چھوٹے پردے پر بھی چھا گئے

ٹیلی ویژن ایک بہت بڑا میڈیا کا ذریعہ ہے۔ ٹی وی پر دکھائے گئے پروگرام براہ راست عوام کو متاثر کرتے ہیں۔ آج کل سیریلوں کا زمانہ ہے ،رات ہوتی نہیں کے عورتیں ٹی وی لگا کر سیریلوں میں مگن ہوجاتی ہیں۔ کچھ سیریل تو اتنا خراب اثر سماج پر ڈال رہے ہیں جن کو دکھانے کا مجھے تو کم سے کم جواز سمجھ میں نہیں آتا۔ یہ سماج کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کا کام کررہے ہیں۔ گھر گھر میں یہ لڑائی کا سبب بن رہے ہیں۔ ایسے وقت میں ایک ایسا پروگرام دیکھنے کو ملے جو نہ صرف سچائی پر مبنی ہو بلکہ ایک مثبت نظریہ پیش کرتا ہوں ، عام آدمی کو سوچنے پر مجبور کرتا ہو، اس کا تہہ دل سے خیر مقدم کرنا چاہئے۔ میں عامر خاں کے مقبول ترین شو 'ستیہ مے جیتے' کی بات کررہا ہوں۔ ایتوار کو صبح اور رات کو اس کی پہلی قسط کا جنتا میں زبردست خیر مقدم ہوا ہے۔ عامر خاں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ایک جینیرس انسان ہیں۔ انہوں نے پہلے سنیما میں زبردست فلمیں دیں۔ مثال کے طور پر 'سرفروش، رنگ دے بسنتی، تھری ایڈیٹس' وغیرہ اب وہ ٹی وی پر بھی چھا گئے ہیں۔ 'ستیہ مے جیتے' نے ایتوار کو چھوٹے پر دے پر دھماکے دار اینٹری دی۔ چھوٹے پردے کا یہ پہلا شو ہے جس کو دور درشن اور اسٹار پلس پر ایک ساتھ ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔ اترپردیش، مہاراشٹر ، گجرات کے کچھ دیہات میں اس شو کی اسپیشل اسکریننگ کی گئی۔ ڈیڑھ گھنٹے کے اس شو کے ٹیلی کاسٹ سے پہلے عامر نے اس کی کافی پبلسٹی کی تھی۔ شو دیکھتے وقت بہت سے ناظرین کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ بات ہی کچھ ایسی تھی ،بیٹیوں کو جنم سے پہلے ہی مارا جارہا ہے اسی وجہ سے ایتوار کے اس شو میں عامر کے ساتھ بہت سے لوگوں کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ مادر رحم میں بچیوں کے قتل کے معاملوں کی بات کریں تو ہریانہ اور پنجاب ہمیشہ سے ہی بیٹیوں کو مارنے والی ریاستوں کی فہرست میں سب سے اوپر رہی ہیں۔ ٹی وی پر ہر پروگرام کو ٹی آر پی کے پیمانے سے نہیں ناپا جانا چاہئے۔ خالص پیشہ ور تجزیہ نگاروں نے عامر خاں کے اس پہلے ٹی وی شو کی پہلی قسط کا موازنہ آئی بی این 7کے پروگرام 'زندگی لائیو' سے کیا ہے تو عامر نے اس کا بھی برا نہیں مانا۔ میڈیا کو شکریہ ادا کرنے کے لئے پروگرام ختم ہونے کے بعد اپنے گھر پر بلائی گئی پریس کانفرنس میں عامر نے کہا کہ اس طرح کے پروگرام وہ اکیلے نہیں کرسکتے تھے۔ اور بھی لوگ اس طرح کے اچھے پروگرام کررہے ہیں۔'زندگی لائیو' کی بھی انہوں نے کھل کر تعریف کی۔ مادر رحم میں بچیوں کے قتل پر عامر نے کہا یہ ایسا جرم ہے جسے کوئی بھی اکیلے نہیں کرسکتا۔ اس کے لئے دوسرے کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور یہ دوسرا وہ ڈاکٹر ہوتا ہے جو قتل کرتا ہے۔ عامر نے کہا وہ صرف مسئلے کو سب کے سامنے رکھ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا میں کسی طرح کی تبدیلی لانے والا یا مسئلے کا حل کرنے والا نہیں ہوں، میں صرف سب کے سامنے اشو رکھ سکتا ہوں اور حل اس کے اندر ہی سے نکلنا چاہئے۔ عامر کے اس پہلے شو پر زیادہ تر رد عمل اچھے ہی ہیں لیکن اس پروگرام کی کمرشیل ٹرینڈ پر کچھ تلخ تبصرے بھی کئے جارہے ہیں۔ فلمی دنیا میں بومن ایرانی، فرحان اختر، پریٹی زنٹا سمیت کئی ہستیوں نے ٹیوٹر پر 'ستیہ مے جیتے' کو کافی سراہا ہے۔ ہم بھی عامر خاں کی اس کوشش کی سراہنا کرتے ہیں۔
Aamir Khan, Anil Narendra, Daily Pratap, Satyamev Jayate, Vir Arjun

روٹی، کپڑا، مکان اورروزگار ہر دیش کیلئے اہم ہوتا ہے



Published On 9 May 2012
انل نریندر
روٹی، کپڑا ،مکان اور نوکری ہر دیش واسی کے لئے بہت اہم ہوتی ہے۔ چاہے وہ ترقی پذیر ملک ہو یا ترقی یافتہ دیش ہو۔ یہ بات ایک بار پھر فرانس جیسے ترقی یافتہ ملک میں ثابت ہوگئی ہے۔ صدر نکولس سرکوزی صدارتی چناؤ ہار گئے ہیں۔ سوشلسٹ فرانسکو ہولاندے فرانس کے اگلے صدر چنے گئے ہیں۔ ایتوار کو ہوئی دوسرے مرحلے کی فیصلہ کن پولنگ میں انہوں نے51 فیصد ووٹ حاصل کرکے نکولس سرکوزی کو شکست دے دی ہے۔ فرانس میں پہلی بار کوئی سماجوادی لیڈر صدارتی چناؤ جیتا ہے۔ پولنگ ختم ہوتے ہی سرکوزی نے ہار تسلیم کرلی ہے۔ نکولس سرکوزی ایسے 11 ویں یوروپی لیڈر بن گئے ہیں جنہیں اقتصادی بحران کے سبب اقتدار گنوانا پڑا۔ جیت سے خوش اولانڈو حمایتیوں نے ایتوار کو دیش بھر میں سڑکوں پر آکر جشن منایا۔ فرانس کا اقتدار دیش میں بڑھ رہی بے روزگاری پر لگام لگانے میں ناکام رہنے کے سبب کے لئے سرکوزی سے خفا تھے۔ فرانس کی عوام نے آخر کار سرکوزی کو مسترد کردیا ہے۔اسی کے ساتھ ہی فرانس بھی اقتصادی مندی کے چلتے تبدیلی اقتدار والے یوروپی ملکوں کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ 2009ء سے جاری مندی کی لہر نے اس دوران وہاں کے سبھی ملکوں کے چناؤ کو اپنی زد میں لے لیا لہٰذا نئی سرکار کی شکل میں دوسری پارٹی کو اقتدار مل گیا ہے۔ اسپین میں نومبر2011 ء میں ہوئے چناؤ میں جاس لوئس روڈریگز کی قیادت والی سماج وادی حکومت کا پتا صاف ہوگیا۔ کرپشن کو لیکر جسم فروشی تک کے الزام سے گھری اٹلی کی بلوس کونی کو نومبر 2011ء میں اس وقت استعفیٰ دینا پڑاجب بڑھتے سرکاری قرض پر لگام لگانے میں ان کی قابلیت پر سے عام جنتا کا بھروسہ اٹھ گیا تھا۔ 
برطانیہ میں گورڈن براؤن کی لیبر پارٹی مئی 2010ء میں چناؤ ہار گئی۔ براؤن نے دیش کے اقتصادی استحکام کو دور کرنے کا بھروسہ بھی دلایا لیکن کامیاب نہیں ہوئے لہٰذا کنزرویٹو لیڈر ڈیوڈ کیمرون وزیر اعظم بنے۔ آئر لینڈ میں فروری 2011ء میں بینکنگ بحران کے دوران وزیر خزانہ رہے برائن کو اپنے عہدے سے استعفیٰ ہونا پڑا۔ اکتوبر2009 میں قاہرہ میں سماج وادی پارٹی لیڈر جارج پوپندر برسر اقتدار آئے تھے۔ بگڑتی مالی حالت کے باوجود سرکاری خرچ پر قابو نہ رکھ پانے کے سبب آخر کار د و سال کے بعد دیش کی سب سے خراب مالی حالت کے وقت ان کے ہی ساتھیوں نے انہیں اقتدار چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ پرتگال میں2011ء میں ہوئے چناؤ میں جنتا نے جاس سوکرینٹس کی حکومت کو رخصت کردیا۔ اقتصادی مندی سے گھری ڈین مارک حکومت بھی اقتدار سے بے دخل ہوئی تو ستمبر 11 میں نئی مخلوط حکومت کو کرسی چھوڑنی پڑی۔ فن لینڈ میں جون2011 ء میں ہوئے چناؤ سرکار کے ذریعے یوروپ کے بحران کا شکار ملکوں کو اقتصادی مدد دئے جانے کی مخالفت کرنے والی نیشنلسٹ پارٹی کو لوگوں نے حمایت دی۔ لہٰذا کنزرویٹو قیادت والی نئی اتحادی سرکار وجود میں آئی۔ جیسا میں نے کہا ہر دیش کے لئے روٹی، کپڑا ،مکان اور روزگار اہم ہے اور جو سرکار اسے پورا نہیں کرسکی اس کا اقتدار میں رہنے کا حق بھی ختم ہوجاتا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, France, Hollande, Portuguese, Sarkozi, Vir Arjun

08 مئی 2012

یوپی اے کی پالیسیوں کے سبب غریبوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے



Published On 8 May 2012
انل نریندر

کہا جارہا ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے تیزی بڑھنے والی معیشت ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے۔ کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ وہ دن دور نہیں جب بھارت دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت بن جائے گا لیکن یہ تو باتیں ہیں نمبروں سے نمبروں کی۔ کچھ سیاستداں خوش ہوسکتے ہیں لیکن عام جنتا میں جب تک یہ خوشحالی نہیں پہنچتی تو یہ سب کھوکھلی باتیں ہی لگتی ہیں۔ امیر زیادہ امیر ہوتے جارہے ہیں غریب زیادہ غریب۔ قومی ماڈل سروے آرگنائزیشن کے تازہ اعدادو شمار سے ایک بار پھر یہ ہی ثابت ہوتا ہے کہ دیش کی آدھی سے زیادہ آبادی بدحالی میں جینے کو مجبور ہے۔ اس مطالعہ کے مطابق جولائی 2009ء سے جون 2010 ء کے درمیان ساڑھے چھ فیصدی دیہاتی روزانہ 35 روپے سے کم میں گذارہ کررہے تھے وہیں 60 فیصدی شہریوں کی آبادی کا اوسطاً یومیہ خرچ 66روپے درج کیا گیا۔ اب اگر ہم بات کریں دیش کے نونہالوں کی کچھ مہینے پہلے وزیر اعظم کے ہاتھوں جاری ہوئی ایک رپورٹ میں خلاصہ ہوا ہے کہ دیش کے 14 کروڑ نونہال غذائی قلت کے شکار ہیں۔ اسی طرح پچھلے دنوں وزیر مملکت خزانہ نمون نارائن مینا نے پارلیمنٹ میں مانا کہ دیش میں 8200 امیر لوگوں کے پاس تقریباً945 ارب امریکی ڈالرکی دولت ہے۔ اگر دیش کی معیشت کو سامنے رکھ کر دیکھیں تو یہ رقم اس کا قریب 70 فیصدی ہے۔ صاف ہے کہ وسائل کے اندھادھند تقسیم کے ساتھ سرکاری پلاننگ پالیسی کے عدم توازن ہونے کے سبب دیش کا ایک بڑا طبقہ آج بھی دیش کی ترقی کی قومی دھارا سے باہر ہے جس کی عمل میں کمی نکسلواد کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ کبھی ناراضگی کے دوسرے اثرات دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ایک بات تو صاف سامنے آتی ہے کہ بھارت کے گاؤں دیہاتوں میں لوگوں کی معیار زندگی اب بھی سب سے نیچے سطح پر بنی ہوئی ہے۔ شہروں میں اس کے مقابلے حالت تھوڑی بہتر ضرور دکھائی پڑتی ہے لیکن یہاں کی ضرورتوں اور زندگی کے حالات کو اگر توجہ دیں تو سمجھ میں آئے گا کے یہاں زیادہ تعداد میں لوگ آج بھی کم از کم ضرورت پوری کرنے کے لئے سخت جدوجہد کررہے ہیں۔ بین الاقوامی غریبی پیمانے کے مطابق یومیہ سوا ڈالر (امریکی) کمانے والا غریب ہے اور ایک ڈالر کمانے والا انتہائی غریب ہے۔ 
جب ہمارے وزیر اعظم اور ان کے اقتصادی مشیر منڈلی عالمی سطح کے پیمانوں کی بات کرتی ہے لیکن جب غریبی کے جائزے کی بات سامنے آتی ہے تو وہ بین الاقوامی پیمانوں کو قبول نہیں کرتی۔ اگر عالمی پیمانے کو بھارت میں لاگو کردیا جائے تو غریبی کا کیسا نقشہ سامنے آئے گا اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ سرکار اپنی اقتصادی پالیسیوں ،ترجیحات اور غریبی کی ریکھا کو بدلنے کو کیوں راضی نہیں ہے؟ اس لئے کے اگر غریبی کی ریکھا صحیح طریقے سے مرتب ہوگی تو غریبوں کی تعداد کافی بڑھی ہوئی نظر آئے گی۔ این ایس اے او کی نئی رپورٹ تب آئی ہے جب دیش کی معیشت بیحد نازک دور سے گذر رہی ہے۔ بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیاں ہماری ترقی کے جائزے کو کم کرکے دیکھ رہی ہیں۔ دیش کے بڑے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے اداروں کی صحت پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ حقیقت میں غریبوں کی غریبی کے جو اعدادو شمار دکھائے جارہے ہیں وہ اس سے کہیں زیادہ ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Inflation, Poor, UPA, Vir Arjun

ہندوستانی سنیما کا 100 سالہ سفر



Published On 8 May 2012
انل نریندر

ہندوستانی سنیما اپنے صدی برس میں داخل ہوگیا ہے۔ یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ ان 100 برسوں میں ہندوستانی سنیما نے اپنی عالمی پہچان ہی نہیں بلکہ عالمی بازار بھی بنالیا ہے۔ پچھلے100 برسوں میں بالی ووڈ نے بایو اسکوپ سنگل اسکرین تھیٹر سے لیکر ملٹی کمپلیکس تک کا سفر طے کیا ہے۔ خاموش فلموں کے دور سے نکل کر آج ہم فکشن کو بھی حقیقت جیسا دکھانے والی فلموں کے دور میں داخل ہوچکے ہیں۔30 کی دہائی میں دور ہٹو اے دنیا والو، ہندوستان ہمارا ہے، جیسے جوشیلے اور دیش بھکتی کے گیت آنے لگے تو انگریز حکومت ہل گئی اور اسے سمجھ میں آیا کہ فلم عوام کو سیدھا متاثر کرتی ہے۔ تبھی سے فلموں کو سینسر کرنا شروع کیا گیا اور آج بھی ان فلموں پر سینسر کی قینچی چلتی ہے۔ پھرآئی آزادی اور 1947ء کے بعد سے شروع ہوا رومانی فلموں کا دور۔ رومانی فلمیں آج بھی ہٹ ہیں۔یہ ایک ایسا موضوع ہے جو کبھی بھی ختم نہیں ہوسکتا۔ جب دیش میں دہشت کا دور آیا تو ہم نے دیکھا دہشت سے متعلق فلموں کی باڑھ آگئی ۔ فلم بنانے کی تکنیک میں بھی زبردست بہتری آئی ہے۔1913ء میں ریلیز ہوئی دادا صاحب پھالکے کی مراٹھی فلم ''راجہ ہریش چندر'' پہلی فیچر فلم ہے جو پوری طرح سے ہندوستانی تکنیشینوں نے بنائی۔ ایک وقت یہ بھی تھا جب خاتون کرداروں کے لئے کوئی عورت تیار نہیں ہوا کرتی تھی تو انہیں مردوں نے نبھایا۔ 14 مارچ 1931ء کو ریلیز ہوئی کمرشل مووی ٹون کے بینر تلے بنی ''عالم آرا'' پہلی انڈین فلم ہے جس میں ناظرین نے کرداروں کو ایکٹنگ کرنے کے ساتھ بولتے ہوئے بھی دیکھا۔ اس دوران فلموں کا کاروبار بڑھتا چلا گیا۔ آج حالت یہ ہے کہ ہندوستانی فلموں کا گلوبل پریمیر ہورہا ہے اور ایک ساتھ سینکڑوں ڈیجیٹل پرنٹ تیار کئے جاتے ہیں اور آمدنی کروڑوں میں ہے۔ ایک ہفتے میں ہی کئی فلمیں اپنی ساری لاگت پوری کرلیتی ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب دادا صاحب پھالکے کی ہدایت میں بنی ''لنکا دہن'' پہلی ہندوستانی فلم تھی جو کسی سنیما پر مسلسل 23 ہفتے چلی تھی۔ بچوں کے لئے مخصوص فلموں میں بھی اس دوران بڑی ترقی ہوئی ہے۔ وی شانتا رام کی ہدایت میں1930ء میں بنی 'رانی صاحبہ' پہلی بچوں کی پسند پر بنی فلم ہے۔
دیش کے تازہ حالات سے بالی ووڈ اچھوتا نہیں رہا۔ کرپشن، سیاست پر بھی فلمیں بننے لگی ہیں۔ کرپٹ نیتاؤں کا کرپٹ پولیس والوں، انڈر ورلڈ سے کنکشن پر بنی فلمیں جنتا میں بہت مقبول ہوئیں۔ ایک دور ایسا بھی تھا جب اینگری ینگ مین ناظرین کو خوب بھاتا تھا۔ کئی ایکٹروں کی تو اس ساکھ نے انہیں کافی مقبول کردیا۔ وہ سب سے مقبول زمرے میں کئی سال تک بنے رہے۔تھیٹروں نے بھی اس سال لمبا سفر طے کیا ہے۔ اب کھنڈر میں تبدیل ہورہا پرانی دہلی کا ناولٹی تھیٹر 1907 ء میں ایلکسٹن ٹالکیز نام سے شروع ہوا تھا۔ آج ہر میٹرو شہر میں ملٹی پلیکس تھیٹر بن چکے ہیں۔ ایک وقت تھا جب دو روپے کا ٹکٹ ہوا کرتا تھا آج ملٹی پلیکس میں 400 سے 700 روپے سے کم کا کوئی ٹکٹ نہیں ہے۔ آج فلم صنعت ایک بہت بڑی صنعت بن چکی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Indian Cinema Industry, Vir Arjun

06 مئی 2012

اگر گھر نہیں چلا سکتے تو شادی کیوں کرتے ہو؟



Published On 6 May 2012
انل نریندر

یہ فیصلہ ممبئی ہائی کورٹ نے ایک کیس میں دیا ہے ممبئی ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا ہے کہ اگر بیوی کا خرچ نہیں اٹھا سکتے تو شادی ہی نہ کریں۔غور طلب ہے کہ 28فروری 2011کو فیملی کورٹ نے بھلاڈ نواسی 30سالہ دیپک کو اپنی بیوی دیپا (دونوں تبدیل شدہ نام)کو 6ہزار روپے فی ماہ گذارہ بھتہ دینے کا حکم دیا تھا۔ٹی وی سیریلوں میں اور ڈائریکٹر کے طور پر کام کرنے والے دیپک نے اسی فیصلوں کو ممبئی ہائی کورٹ میں چنوتی دی تھی۔دیپک کے وکیل نے جسٹس پی مجوم دار اور جسٹس انوپ مہتہ کی بنچ کو بدھوار کو شنوائی کے دوران مطلع کیا کہ2.76لاکھ روپے کا بقایا بھگتان ادا کرنے کے حکم کے بعد بھی چار سیریلوں میں کام کر رہے ہیں۔دیپک نے ان کے موکل کو پیسے نہیں دئیے۔ اس پر دیپک کے وکیل نے کہا کہ ان کا موکل صرف اسسٹنٹ آرٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ایک چینل بند ہونے اور ایک سیریل ختم ہونے کی وجہ سے ان پہلے کی طرح انکم نہیں ہو رہی۔اس پر عدالت نے کہا کہ شادی کے بعد شوہر یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اب بیوی کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا۔ اگلے سال 4مئی کو دیپا نے سسرال چھوڑ دیا۔ اپنی پٹیشن میں دیپک نے کہا کہ کئی کوششوں کے بعد بھی دیپا نے واپس آنے سے منع کر دیا۔2008میں دیپک نے فیملی کورٹ میں طلاق کی عرضی دی۔دیپک کے وکیل نے بتایا کہ دیپا معاملے کو نپٹانے کیلئے دس لاکھ روپے چاہتی ہے۔اس پر کورٹ نے کہا کہ وہ تو شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے،لیکن آپ اسے اپنے ساتھ نہیں رکھنا چاہتے۔اس لئے آپ کو اسے بھگتان کرنا چاہئے۔بنچ نے دیپک کوبقایا بھگتان کا حکم دیتے ہوئے معاملے کی شنوائی ٹال دی۔ہم کورٹ کے اس فیصلے سے متفق ہیں۔اگر آدمی یا نوجوان شادی کرتا ہے تو اسے طے کرنا چاہئے جب وہ بیوی کا خرچ اٹھا سکے۔آج کل نوجوانوں میں بغیر سوچے سمجھے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوئے شادی کرنے کا رجحان بڑھتا ہی جا رہا ہے۔طلاق کی صورت میں شوہر کو اتنا بھتہ تو دینا ہی چاہئے کہ وہ اپنا گذر کر سکے۔چھ ہزار روپے فی ماہ ایک عورت کے گذر کیلئے ویسے بھی کافی نہیں لیکن اگر شوہر اتنا بھی ادا نہیں کر سکتا تو بہتر ہوتا کہ وہ شادی ہی نہ کرتا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Delhi High Court, Divorce, Hindu Marriage Act. Hindu Succession Act, Supreme Court, Vir Arjun

آئی پی ایل۔5کے جلوے



Published On 6 May 2012
انل نریندر

کچھ کھیل پریمیوں کو شبہ تھا کہ آئی پی ایل۔5کیا ویسا ہی رہے گا جیسا آئی پی ایل۔4تھا؟ اس بار آئی پی ایل کو شکل دینے والے للت مودی نہیں ہونگے؟ لیکن ماننا پڑے گا کہ للت مودی کی کمی نہیں کھلی اور آئی پی ایل 5ہر نظریہ سے ہٹ ہو رہا ہے۔ذرائع کے مطابق پہلے 16دنوں میں دہلی اور ممبئی دونوں ہی تھیں صرف گیٹ کلیکشن سے ہی 40-40کروڑ سے زیادہ کی کمائی ہوئی ہے۔دہلی میں 7،15اور 17مئی کو تین اور میچ ہونے ہیں۔اس میں بھی 40ہزار سے زیادہ ناظرین کے پہنچنے کی امید کر رہے ہیں۔اب آخری چار لائن اپ میں پہنچنے کیلئے ہع میچ زیادہ کانٹے دار ہو رہا ہے اس لئے بھی زیادہ دلچسپی ناظرین میں بنی ہوئی ہے۔دہلی میں جس طرح راجستھان رائلس سے آخری بال پر جیت درج کی وہ تو کمال ہی تھا۔اس بار دہلی ڈئیر ڈیولس ٹیم متوازی لگ رہی ہے۔چاہے وہ بیٹنگ ہو،بالنگ ہو یا فیلڈنگ ہو۔سبھی حلقوں میں وہ بینلسڈلگ رہی ہے۔ایک بات جو سامنے آرہی ہے وہ یہ کہ اکیلے بڑا اسکور کھڑا کرنے سے کام نہیں چلتا۔آپ کی بالنگ بھی اچھی ہونی چاہئے اور فیلڈنگ بھی۔200سے زیادہ اسکور بھی پار ہو رہے ہیں۔دوسری طرف جمعرات کو ممبئی اور پونے میں بہت کم اسکور کے باوجود ممبئی آخری بال پر جیت گیا۔تو یہ کہنا شائد غلط نہیں ہوگا کہ اس بار آئی پی ایل میں بیٹنگ سے زیادہ بالنگ اور فیلڈنگ بھاری پڑ رہی ہے۔سچن تیندولکر کے راجیہ سبھا ممبر چنے جانے پر کچھ حلقوں میں تنقید وں کا جواب دیتے ہوئے سچن نے کہا کہ وہ کھلاڑی ہیں اور ہمیشہ کھلاڑی ہی رہیں گے۔سچن نے کہا کہ راجیہ سبھا میں چنا جانا ایک بڑی عزت افزائی ہے اور اس میں ان کی ذمہ داریاں بڑھیں گی۔لیکن اگر کوئی کہتا ہے کہ یہ میرے کرکٹ کیرئر کو ختم کر دے گا تو غلط ہے۔میرا ممبر پارلیمنٹ کے طور پر چناؤ ہوا کیونکہ میں 22سال سے کرکٹ کھیل رہا ہوں۔کرکٹ میری زندگی ہے۔اور میں اسے جی رہا ہوں۔ابھی سنیاس کا ارادہ نہیں ہے۔اپنی سب سے یاد گار پاری وہ ورلڈ کپ2003 میں پاکستان کے خلاف 98رن کی بتاتے ہیں۔سچن نے یہ بھی بتایا کہ وہ ہر اہم میچ کیلئے بہت پہلے سے ہی تیاری کرتے ہیں۔2003میں جان رائٹ نے کہا تھا کہ میں کرکٹ میں مہا شتک لگا سکتا ہوں۔میں ساماجک حلقہ میں بھی اپنا تعاون دیتا ہوں۔میں 400غریب بچوں کی پڑھائی کا خرچ اٹھاتا ہوں۔ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق سماج سیوا کرنا چاہتا ہے۔دینے کا سکھ بہت زیادہ اسیم ہوتا ہے۔اس خرچ کو سبھی لوگوں کو نبھانا چاہئے۔ورلڈ کپ 2003کی ورلڈ کپ جیت پر سچن نے کہا وان کھیڑے سٹیڈیم کے باہر کھڑی میری گاڑی پر چڑھ کرناظرین جشن منا رہے تھے۔ڈرائیور نے مجھے بتایا تو میں نے اس سے کہا کہ کار میں کھروچ لگنے کی پرواہ نہ کریں۔ورلڈ کپ کی جیت نے پورے دیش کو ایک سوتر میں باندھ دیا ہے۔یہ میری زندگی کا اہم ترین دن ہے۔ایشور سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ صحیح فیصلہ لینے کیلئے ہمیشہ میرا مارگ درشن کرتے رہیں۔آئی پی ایل۔5میں اس بار سبھی سٹیڈیموں میں ٹکٹ زیادہ رکھی گئی ہے۔اور پرسوں کی تعداد پچھلے دس سالوں کی بانسبت کم ہے۔تبھی تو مختلف سٹیڈیموں کے اندر اس بار ایک ملین یعنی 10لاکھ ناظرین موجود ہیں۔
Anil Narendra, Daily Pratap, IPL, Vir Arjun

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...