Translater

16 مارچ 2013

اوراب کرکٹ کی آڑ میں فدائی حملہ

تین سال بعد ایک بار پھر کشمیر آتنک وادیوں کے نشانے پر آگیا۔ بدھوار کو گھٹتے ڈر اور سکیورٹی فورس بڑھتے دباؤ سے مایوس سری نگر کے باہری علاقے میں بیمینہ میں واقع پولیس پبلک اسکول میدان میں کرکٹ کھیلنے کے بہانے داخل ہوئے آتنکیوں نے حملہ کردیا۔ کرکٹ کٹ میں چھپا کر لائے ہتھیاروں سے کئے گئے حملے میں سی آر پی ایف کے پانچ جوان مارے گئے جبکہ اتنے ہی جوان اور مقامی شہری زخمی ہوگئے۔ زخمی 10 جوانوں کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔ سکیورٹی فورس نے جوابی کارروائی میں دونوں حملہ آوروں کو مار گرایا۔ واقعہ کی ذمہ داری حزب المجاہدین نے لی ہے۔ جس علاقے میں حملہ ہوا وزیر اعلی عمر عبداللہ وہاں سے مسلح فورسز ،اسپیشل پاور ایکٹ ہٹانے کی سفارش کرچکے ہیں۔ واقعے کے بعد بھی عمر عبداللہ کے والد ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے کہا کہ قانون ہٹانا ہی ہوگا۔ اس کی ضرورت صرف سرحدی علاقوں میں ہے جس جگہ حملہ ہوا وہاں سرکاری دفتر اور اسکول ہیں۔ حریت کے بند کی اپیل کے سبب لوگوں کی موجودگی کم تھی۔ کھلاڑیوں کے بھیس میں چار آتنکی کرکٹ کٹ میں اے ۔کے 47 اور دستی بم لیکر گراؤنڈ میں داخل ہوئے۔ لوگوں نے کوئی چیکنگ بھی نہیں کی۔اگر ان کی جانچ ہوتی تو حملہ ٹالا جاسکتا تھا۔ ساتھ ہی سی آر پی ایف کے جوان ہتھیاروں کے بجائے ڈنڈوں کے ساتھ تعینات تھے۔ کچھ دن پہلے عمر عبداللہ حکومت نے حکم جاری کر پولیس اور سی آر پی ایف کو خطرناک ہتھیار استعمال نہ کرنے کو کہا تھا۔ سی آر پی ایف پر حملہ اس کی علامت ہے کے ریاست میں آتنک واد کا خطرہ پہلے کی طرح برقرار ہے۔ کم سے کم وردات کے بعد تو کشمیر میں موثر مسلح فورس مخصوص اختیار قانون کو واپس لینے کی مہم پر روک لگ جانی چاہئے۔ ویسے بھی یہ صاف ہے کہ یہ مہم آپسی سیاسی اسباب سے چھیڑی گئی ہے۔موجودہ حالات میں نہ تو قانون واپس لیا جاسکتا اور نہ ہی کشمیر میں تعینات سکیورٹی فورس میں کٹوتی ہوسکتی ہے۔ غور طلب ہے کہ پارلیمنٹ میں حملے کے معاملے میں مجرم افضل گورو کو 9 فروری کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔اس کے بعد21 فروری کو حیدر آباد میں بم دھماکہ ہوا،اب سرینگر میں فدائین حملہ ہوا۔ اس درمیان پھانسی کی مخالفت میں اسلام آباد میں علیحدگی پسند لیڈر یٰسین ملک کا انشن اور اس موقعے پر آتنکی سرغنہ حافظ سعید کا وہاں آنا اس پورے معاملے کی پیچیدگی کو خطرناک انجام کی طرف لے گئے۔ اس حملے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ آتنک وادی تنظیم کشمیر میں موجودہ حالات کا فائدہ اٹھانا چاہ رہی ہے۔ یہ بدقسمتی اور تشویشناک پہلو ہے جیسے جیسے اسمبلی انتخابات قریب آتے جارہے ہیں ویسے ویسے کشمیر میں حکمراں فریق اور اپوزیشن کشمیر کے مفادات کو نظرانداز کرتے جارہے ہیں۔ ہتھیاروں سے مسلح آتنک وادیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے وزیراعلی عمر عبداللہ کا یہ حکم کے پولیس اور سکیورٹی فورس پبلک مقامات پر ہتھیار نہ لے جائیں ہماری سمجھ سے تو باہر ہے۔ آپ ایک پراکسی وارکا ڈنڈو ں سے کیسے جواب دے سکتے ہیں۔ ہمارے بہادر جوان یوں بلی کا بکرا بنائے جاسکتے ہیں۔
اگر ہمیں کشمیر میں یہ دیش کے دیگر حصوں میںآتنک واد کا مقابلہ کرنا ہے تو یہ ضروری ہے کہ ہمارے جوانوں کے پاس آتنکیوں سے لوہا لینے کے لئے صحیح اوزار ہوں۔ سوال یہ بھی اٹھتا ہے آخر کشمیر کے لیڈر اور یوپی اے سرکار یہ کیوں نہیں دیکھ پا رہی ہے کہ کشمیر میں آگ کون لگا رہا ہے کیونکہ کشمیری سیاستداں جانے انجانے میں اس کھیل میں شامل ہیں اس لئے وہ علیحدگی پسندوں اور نامعلوم پاک آتنکیوں کے ساتھ ساتھ ایک پتھر بازوں کی بھی جماعت کھڑی ہوگئی ہے۔ کشمیر صرف اس لئے پریشانی سے دوچار نہیں ہے کیونکہ پاکستان اور اس کے حمایتی آتنکی تنظیمیں سرگرم ہیں بلکہ اس لئے بھی ہے کشمیر کے سیاستداں اپنی صحیح ذمہ داری نبھانے سے انکا کررہے ہیں۔ ان حالات میں بھارت پاک رشتے کیسے بہتر ہوسکتے ہیں؟ یہ ایسے ہی چلے گا ہمارے بہادر جوان مرتے رہیں گے۔ ہمارے حکمرانوں میں نہ تو اتنا دم ہے اور نہ ہی قوت ارادی ہے کہ پاکستان کو منہ توڑ جواب دے سکیں۔
(انل نریندر)

اٹلی سے آر پار کرنا ہوگا داؤ پر ہے بھارت کی عالمی ساکھ

قتل کے ملزم اپنے دونوں فوجیوں کو بھارت واپس بھیجنے سے انکار کرکے اٹلی حکومت نے صاف طور پر حکومت ہند اور سپریم کورٹ کی توہین کی ہے۔ اٹلی نے حکومت سے دھوکہ کیا ہے۔ ہندوستانی سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق یا تو وہ 22 مارچ کو طے شدہ تاریخ تک دونوں مرین کو بھارت کے سپرد کردے یا پھر ڈپلومیسی سے لیکر تجارت اور سرمایہ کاری تک بھارت اپنے راستے الگ اپنائے۔اٹلی کے فیصلے سے بھارت کی عزت داؤ پر لگی ہے، اس بار آر یا پار۔ بیچ کا راستہ تلاش کرنا ہے تو اٹلی والے تلاش کریں۔ بھارت میں اس کا کوئی رول نہیں ہے۔اٹلی حکومت نے پہلے تو یہ دلیل دی کہ اس واردات کو لیکر کسی ہندوستانی عدالت میں مقدمہ چلایا نہیں جاسکتا کیونکہ موقعہ واردات بھارت کی سمندری سرحد میں نہیں ہوئی تھی۔پچھلے سال ایک اطالوی جہاز پر تعینات دو اطالوی مرین گارڈوں نے آبی سرحد کے اندر مچھلی پکڑ رہے کیرل کے دو مچھیروں کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ وقت پر اطلاع دئے جانے سے ہندوستانی بحریہ نے اطالوی جہاز کی گھیرا بندی کرلی ونہ قاتل صاف نکل جاتے۔ مغربی ملک اپنے مشترکہ دباؤ سے کسی کو ان کے کندھوں پر ہاتھ نہیں رکھنے دیتے۔ عدالت نے انہیں پہلے کرسمس کے موقعے پر گھر جانے کا موقعہ دیا پھر پچھلی22 فروری کو وہ اپنے دیش ووٹ ڈالنے کے بہانے ایک مہینے کے لئے چلے گئے لیکن اب اطالوی حکومت کہہ رہی ہے کہ ان کے خلاف جو بھی مقدمہ چلایا جائے ہندوستانی عدالتوں میں نہیں بلکہ بین الاقوامی عدالت میں چلایا جائے۔ان ملزمان کی واپسی کی گارنٹی ہندوستان میں قائم اطالوی سفارتخانے نے لی تھی۔ ہندوستانی قانون کے مطابق قصورواروں کو وقت پر عدالت میں حاضر نہ ہونے پر جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے۔ عالمی پروٹو کول کے مطابق سفارکار کو تو گرفتار نہیں کیا جاسکتا لیکن متعلقہ دیش کے ساتھ سفارتی رشتے توڑنے کا متبادل بنا رہتا ہے۔ اگر ہمیں ہیلی کاپٹر خرید گھوٹالے میں اطالوی پولیس کے ذریعے ریکارڈ کی گئی فلم مکینیکا کے حکام کی بات چیت یاد کریں تو یہ بالکل صاف ہوجاتا ہے کہ ہندوستانی قانون سسٹم اور سیاسی ڈھانچے میں اٹلی کے عام لوگوں کو کتنی سمجھ ہوگی۔ اب اگر اس معاملے میں ہم نے ذرا سی بھی بھول کی تو اس سے ہمارے دیش کے بارے میں وہی نظریہ مضبوط ہوگا۔ ہمارے تجربے تو یہ ہی بتاتے ہیں ترقی یافتہ ممالک میں اپنے شہریوں کو ترقی پذیر ممالک کسی نہ کسی بہانے سے لے جاتے ہیں یا اپنے ملزم شہریوں کو دوسرے ملکوں کو نہیں سونپتے مثلاً پولیس ہتھیار معاملے میں کم ڈیویڈ حوالگی سے ڈینمارک نے انکارکردیا تھا۔ اسی طرح بوفورس معاملے میں اٹلی کے کواتروچی اور بھوپال گیس کانڈ کے کھلنائک وائرن اینڈرسن کو امریکہ نے بھارت کو نہیں سونپا۔ بدقسمتی یہ ہے یہ مغربی ممالک ہی سب سے زیادہ بین الاقوامی اصولوں اور قاعدوں کی بات کرتے ہیں۔ ہندوستانی عدلیہ کی غیر جانبداری کی دنیا بھر میں اچھی ساکھ رہی ہے۔ ملزم فوجیوں کی بابت سپریم کورٹ نے یہ کہہ کر اٹلی حکومت چاہے تو بھارت کے عدلیہ اختیار کو چیلنج کرسکتی ہے، یہ ظاہرکردیا تھا کہ اس پر کسی طرح کا امتیاز برتنے کا شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس فیصلے کو اٹلی کے عین مطابق مانا گیا کیونکہ ہندوستانی سپریم کورٹ نے اس سوال کو کھلا چھوڑدیا کہ جرائم ہندوستانی آبی سرحد میں ہوا تھا یا نہیں۔ کچھ وقت پہلے بھارت اور اٹلی کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوا جس کے تحت دوسرے دیش میں سزا یافتہ مجرم کو اپنے دیش میں قید بھگتوائیں گے۔ ان سب کے باوجود اٹلی اگر دادا گری پر اترا ہے تو اسے اسی کے انداز میں جواب دینے کے علاوہ بھارت کے پاس کوئی چارہ باقی نہیں رہ جاتا۔ اب جو بھی ہوگا اس کی پوری ذمہ داری اٹلی سرکار پر ہوگی۔ آخر سوال ہندوستان کی عالمی ساکھ کا ہے۔
(انل نریندر)

15 مارچ 2013

یوپی اے سرکار اور کانگریس کو دوہرا جھٹکا

کرپشن کے اشو پر یوپی اے سرکار کی مشکلیں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔ سپریم کورٹ اور پارلیمنٹ میں کانگریس قیادت والی سرکار کو دوہرے جھٹکے لگے ہیں۔ ایک طرف تو سی بی آئی نے سپریم کورٹ میں رپورٹ پیش کر بتایا کوئلہ کھدائی الاٹمنٹ میں گڑبڑیاں ہوئی ہیں۔ وہیں کانگریس صدر سونیا گاندھی کے دامادرابرٹ واڈرا کے ذریعے زمین سودے پر بھاجپا نے پارلیمنٹ میں سیدھا نشانہ بنایا۔ سی بی آئی نے یوپی اے سرکار کے ذریعے کوئلہ کان الاٹمنٹ میں قاعدوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے۔ اس اشو کو لیکر سی بی آئی اور مرکزی سرکار آپس میں ہی الجھ گئی ہیں۔ سی بی آئی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 2006 ء سے9 کے دوران کمپنیوں کے بیک گراؤنڈ کی جانچ پڑتال کے بغیر کوئلہ الاٹمنٹ کئے گئے جبکہ ان کمپنیوں کی جانب سے اپنے بارے میں مبینہ طور سے غلط حقائق پیش کئے گئے۔ عدالت تو پہلے ہی کوئلہ الاٹمنٹ کے اختیار پر سوال اٹھا چکی ہے۔ 24 جنوری کو کورٹ نے سرکار سے کہا تھا کہ اس الاٹمنٹ میں مفصل قانونی صفائی پیش کرنی ہوگی کیونکہ موجودہ قانون محض ریاستوں کو اس الاٹمنٹ کا اختیار دیتا ہے۔ جسٹس آر ایم لودھا کی سربراہی والی تین نفری ڈویژن بنچ نے کہا کہ اگر مرکزی سرکر نے کوئلہ الاٹمنٹ کے عرضی گذاروں کے ساتھ طے عمل کی تعمیل نہیں کی تو پوری الاٹمنٹ منسوخ ہوگی۔ سرکار کی فضیحت بڑھاتے ہوئے عدالت نے سی بی آئی کو یہ سخت ہدایت بھی دے دی کہ وہ اپنی جانچ سے وابستہ معلومات سیاسی لیڈر شپ یعنی سرکار سے شیئر نہ کرے۔ ٹوجی کے بعد یہ دوسرا موقعہ ہے جب سپریم کورٹ میں مرکزی سرکار کی ساکھ پر سوال اٹھا ہے۔ سپریم کورٹ کی سفارشوں کے بعد مرکزی سرکار کی مشکل اس لئے اور بڑھ گئی ہے کیونکہ جس وقت کوئلہ الاٹمنٹ ہوا تھا تو کوئلہ وزارت کے انچارج خود وزیر اعظم منموہن سنگھ ہوا کرتے تھے۔ کمپٹرولر آڈیٹر جنرل (کیگ) نے اپنی رپورٹ میں کوئلہ الاٹمنٹ میں منمانی کا الزام لگانے کے ساتھ 1 لاکھ86 ہزارکروڑ روپے کے محصول کا نقصان کی بات کہی تھی اب تو سی بی آئی بھی یہ کہہ رہی ہے۔ دوسری طرف کانگریس صدر سونیاگاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا سے مبینہ طور سے جڑے زمین سودے کو لیکر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ ہوا۔ لوک سبھا میں بھاجپا لیڈرکے ہاتھوں کے تختیوں کے ساتھ ویل میں پہنچ گئے جس پر لکھا تھا ’’وزیر خزانہ ، داماد کا فارمولہ اپنائیے گھر بیٹھے کمائیے اور گھٹا گھٹائیے‘‘ بھاجپا نے دونوں ایوانوں میں واڈرا کے ذریعے زمین سودے میں گھپلے پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا تھا اور وقفہ سوالات منسوخ کرنے کے لئے نوٹس دیا۔ یہ نوٹس ان رپورٹوں کی بنیادپر تھے جن میں کہا گیا تھا کہ راجستھان کے بکا نیر میں رابرٹ واڈرا نے اجازت سے زیادہ زمین خرید کر قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ دوسرے یہ کہ جب واڈرا زمین کی کاروبار کے معاملے میں الزامات میں گھرے ہوئے ہیں اس سے پہلے واڈرا کوہریانہ میں زمین خرید کے معاملے میں کٹہرے میں کھڑا کیاگیا۔ اس بار راجستھان کے بیکار ضلع کی46 ایکڑ زمین کو لیکر ہنگامہ ہورہا تھا۔ کانگریس کی جانب سے صفائی پیش کرتے ہوئے ترجمان رینوکا چودھری نے کہا یہ اگر زمین سودا ریاستی سرکاروں کا معاملہ ہے جن کے بارے میں اور ریاستوں کی جانچ ایجنسیاں دیکھیں گی۔ وہ رابرٹ واڈرا نیتا نہیں ایک سماجی شخصیت ہیں اس لئے پارلیمنٹ ان پر بحث کیوں کرے؟ نجی شخص پر بحث کراکر نئے رواج کی بنیاد نہیں ڈالنا چاہتے۔ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس چل رہا ہے اپوزیشن دونوں معاملوں کو اچھالے گا اور سرکار کی مشکلیں اور بڑھیں گی۔
(انل نریندر)

سرکاری افسروں کا ڈرگس اسمگلنگ معاملے میں شامل ہونا خطرناک ہے

اولمپئن مکے باز ویجندر سنگھ کے ڈرگس دھندے میں شامل ہونے کے مبینہ الزامات نے ایک بار پھر دیش کی توجہ اس بڑھتے جرائم کی طرف مرکوز کرادی ہے۔ اس پھلتے پھولتے دھندے میں ایک تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس میں سرکاری افسر چاہے وہ منشیات کنٹرول بیورو کا ہو یا پھر فوج کا سینئر افسر ہو،شامل ہے۔ حال ہی میں ہمارے سامنے دو ایسے معاملے آئے ہیں جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔ پہلا معاملہ منی پور کا ہے۔ منی پور کے چندیل ضلع میں پولیس نے فوج کے کرنل سطح کے پی آر او اور دیگر پانچ لوگوں کو مبینہ طور سے 15 کروڑ روپے کی ممنوع نشیلی اشیاء لے جاتے ہوئے گرفتار کیا ہے۔ اس کی اسمگلنگ میانمار کو کی جانی تھی۔ پولیس نے بتایا فوج کے پی آر او کرنل اجے چودھری اورا ن کے معاون آر کے ببلو اور دیگر افراد کے حراست میں لیا ہے۔ فوج کے ترجمان جگدیپ دہایا نے دہلی میں اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کرنل اجے چودھری کو منی پورپولیس نے پانچ دیگر لوگوں کے ساتھ گرفتار کیا ہے۔ انہیں یہ یقین دلایا گیا ہے کہ کچھ منشیات برآمد کی گئی ہیں۔ فوج نے وعدہ کیا کہ اگر کوئی بھی ملازم معاملے میں ملوث پایا جاتا ہے ا س کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ اجے چودھری نے حالانکہ دعوی کیا ہے کہ انہیں اس بات کی خبر نہیں تھی کہ بھیجے جارہے مال میں ممنوع منشیات شامل ہے۔ انہوں نے کہا بہت سینئر افسر کے بھتیجے نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ دوسرا معاملہ اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔ مال خانے سے ہیروئن ان چراکر بیچنے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ چندی گڑھ میں این سی بی کے سابق زونل ڈائریکٹر شاہ جی موہن اور سپرنٹنڈنٹ بلوندر سنگھ کو مال خانے سے ہیروئن چراکر بیچنے کے معاملے میں عدالت نے13-13 سال کی سزا سنائی ہے اور تین تین لاکھ روپے کا جرمانہ بھی کیا ہے۔ شاہ جی موہن جموں کشمیر کے کانسٹیبل نوین کمار کو سرکاری عہدے کے بیجا استعمال کے معاملے میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اور سیشن جج مالنی سنگھ ناگپال نے یہ سزا سنائی ہے۔ ممبئی اے ٹی ایس نے ہیروئن اسمگلنگ اور اس کی بکری کرنے کے الزام میں این سی بی بیورو کے اس وقت کے زونل ڈائریکٹر شاہ جی موہن کو پکڑا تھا اور چنڈی گڑھ میں اپنے مال خانے ریکارڈ چیکنگ میں 15 مئی 2008ء کو جموں و کشمیر بارڈر سے ضبط کرکے لائی گئی 60 کلو ہیروئن کے بجائے30 کلو ہیروئن دکھائی گئی تھی۔ جانچ میں پتہ چلا کہ شاہ جی موہن نے 30 کلو ہیروئن اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ بلوندر سنگھ اور بندوقچی دویندر سنگھ اور نوین کے ساتھ مل کر بیچ دی تھی۔ اس میں10 کلو ہیروئن شاہ جی موہن نے اسمگلر نصیب چند کو دے دی۔ این سی بی نے شاہ جی موہن ،بلوندر سنگھ اسمگلر نصیب سنگھ سمیت شاہ جی کے بندوقچی اور نوین کے خلاف معاملہ درج کیا تھا۔ اکتوبر2010ء میں سبھی پر الزامات طے کئے گئے تھے یہ ایک نہایت خطرناک موڑ ہے جب افسر صاحبان ہی خود اسمگلنگ کے دھندے میں لگ جائیں۔

 (انل نریندر)

14 مارچ 2013

وزیر داخلہ شندے اور شیلا دیکشت کے مابین محض سیاسی نورہ کشتی ہے

مرکزی وزارت داخلہ اور دہلی حکومت کے درمیان جاری سرد جنگ اور کھینچ تان پیر کے روز کھل کر سامنے آگئی ہے۔ حالانکہ میری نظروں میں تو یہ ایک سیاسی نورہ کشتی ہے اس کا مقصد عوام کو بیوقوف بنانا ہے ،وہ کیسے آگے چل کر بتاؤں گا۔ پہلے خبر پر آتے ہیں۔ مرکزی وزیر داخلہ شیل کمار شندے نے اعلان کیا ہے کہ مرکزی حکومت دہلی پولیس کو دہلی سرکارکے ماتحت کرنے کے لئے تیار ہے ، شرط صرف اتنی ہے اس کے لئے وزیر اعلی شیلا دیکشت تحریری طور پر مانگ کریں۔ مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے کے مطابق وہ تحریری طور پر مانگ ہونے کی صورت میں انہیں ایسا کرنے میں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ شندے کے اس بیان سے یہ تو صاف ہوتا ہے کہ وہ آئے دن شیلا دیکشت کی جانب سے دہلی پولیس اور اس کے طریقہ کارپر اٹھائے جانے والے سوالیہ نشانات سے خوش نہیں ہے اور آخر کار تنگ آکر انہوں نے شیلا جی کے بلف کو چنوتی دے ڈالی۔ اصل میں دہلی گینگ ریپ یا بابا رام دیو کے حماتیوں پر لاٹھی چارج کا معاملہ رہا ہو یا پھر ان کے بعد راج پتھ پر پرامن مظاہرہ کررہے طلبا پر لاٹھی چارج ہو، دہلی کی وزیراعلی مسلسل گھوم پھر کر مرکزی وزارت داخلہ، لیفٹیننٹ گورنر پر دہلی پولیس کے طریقہ کار کو لے کر حملے کرتی رہی ہیں۔ اب میں آپ کو بتاتا ہوں کے میری نظروں میں یہ محض ایک ڈرامہ ہے، سیاسی نورہ کشتی ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہیں سب سے پہلے سشیل کمار شندے کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ دہلی اسمبلی میں ایک بار نہیں دو بار ریزولوشن پاس کرکے ان کی وزارت کو بھیجا ہے۔ دہلی کو پوری ریاست کا درجہ دیا جائے، دہلی پولیس زمین سے متعلق سبھی محکمے دئے جائیں۔ دہلی پولیس کی تحریری مانگ پہلے ہی سے لٹکی ہوئی ہے ان حالات میں شندے صاحب کونئے تحریری پرستاؤ کی کیا ضرورت پڑ گئی۔ وہ اگر کرنا چاہیں تو زیر التوا پرستاؤ پر ہی منظوری دے سکتے ہیں۔ دراصل مرکزی سرکار کبھی بھی دہلی پولیس، ڈی ڈی اے، این ڈی ایم سی وغیرہ دہلی حکومت کو نہیں دے گی۔ اسے ہمیشہ یہ ڈر لگتا رہتا ہے کہ کل کو بھاجپا دہلی میں سرکار بنا لیتی ہے تو مرکز کمزور ہوجائے گا اور اس کے ہاتھ ایک بہت بڑا ہتھیار لگ جائے گا۔ اب بات کرتے ہیں شیلا جی کی۔ کیا واقعی وزیر اعلی شیلا دیکشت مارچ کے مہینے میں دہلی پولیس اپنی سرکار کے ماتحت چاہتی ہیں جبکہ چھ سات مہینوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ سوچ لیں کیونکہ پھر قانون و انتظام میں کبھی وزارت داخلہ پر منتقل کرنے کا بہانا نہیں بچے گا۔ دراصل دہلی گینگ ریپ کے ملزم رام سنگھ کے قتل کی ذمہ داری سیدھے تہاڑ جیل حکام پر آتی ہے اور کیونکہ تہاڑ جیل دہلی حکومت کے ماتحت ہے اس لئے شیلا جی کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ جنتا کو کیا جواب دیں۔ عام آدمی کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ دہلی پولیس کس کے ماتحت آتی ہے،وزارت داخلہ کے یا دہلی سرکار کے وہ تو اپنے آپ کو ہر لحاظ سے دہلی میں محفوظ چاہتی ہے۔اصل کمی تو پولیس کے طریقہ کار میں ہے جس طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ سابق ڈائریکٹر جنرل پرکاش سنگھ نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی تھی جس میں انہوں نے عدالت سے کہا تھا کہ پولیس اصلاحات کو سختی سے لاگو کیا جائے۔ سپریم کورٹ نے اس کے لئے ایک کمیٹی بھی بنائی لیکن آج تک پولیس محکمے میں سدھار نہیں ہوسکا۔ وجہ کوئی بھی ہو لیکن کوئی کرنا نہیں چاہتا۔ اس بات کی کمی ہے کہ دہلی پولیس میں ردوبدل ہونی چاہئے۔ اہم شخصیات کی سکیورٹی کے لئے الگ فورس ہو۔ دہلی پولیس کے ہزاروں جوانوں کو اس ڈیوٹی سے ہٹا کر جنتا کی سوا میں لگایا جائے۔ پولیس ملازمین کے کام میں بھی بہتری ہو، سہولیات بڑھائی جائیں اور کمیٹی کے ذریعے تجویز سفارشوں پر غور کیا جائے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے ایک مرحلہ وار طریقے سے دہلی پولیس دہلی سرکار کو دی جائے۔ ابتدا ٹریفک پولیس سے ہوسکتی ہے۔ اس کے دہلی سرکار کے ماتحت رہنے سے کسی کو اعتراض نہیں ہوسکتا۔ بہتر ہو کے سشیل کمار شندے اور شیلا دیکشت کے درمیان اس سیاسی کشتی کو چھوڑ کر دہلی کی جنتا کی بھلائی کے لئے اور ان کی سلامتی کے لئے ٹھوس قدم اور پلان تیار ہیں۔نورہ کشتی کو جنتا اچھی طرح سمجھتی ہے۔
(انل نریندر)

دہلی میں فرضی ووٹروں کی بڑھتی تعداد کا کیا کریں گے؟

جیسے جیسے اسمبلی انتخابات قریب آتے جارہے ہیں فرضی ووٹروں کا کھیل شروع ہوچکا ہے۔ دہلی میں15 لاکھ سے زیادہ فرضی ووٹر ہونے کا اندازہ ہے جن کی چھٹنی کا کام شروع کردیا گیا ہے۔ اگلے ماہ 15 اپریل تک چناؤ کمیشن کے سامنے پوزیشن آجائے گی۔ اس کے لئے پچھلے 15 برسوں کا ریکارڈ دیکھا جارہا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ جن علاقوں میں فرضی ووٹر یا شناختی کارڈ ملیں گے انہیں بنانے والے حکام کے خلاف چناؤ کمیشن کے ذریعے طے ڈسپلن کے تحت کارروائی ہوگی۔ دہلی کے چیف الیکشن افسر وجے کمار دیو نے بتایا کہ فرضی ووٹروں کی پہچان کی مہم میں ایک شخص کے کئی ووٹ ہونے کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ دیو کا کہنا ہے محکمے کی جانب سے بھی غلطی یہ ہوئی ہے کہ ایک ہی شخص کو ایک ہی ووٹر شناختی کارڈ جاری کرنا چاہئے تھا لیکن اس شخص نے جتنی بار بھی درخواست دی اسے ہر بار نیا شناختی کارڈ دے دیا گیا۔ چاہے اس نے اپنے شناختی کارڈ میں گھر کا پتہ ہی کیوں نہ بدلوایا ہو۔ فرضی شناختی کارڈ یا ووٹ بنوانے میں سب سے بڑا ہاتھ ہمارے نیتاؤں کا ہے۔ نیتا افسروں پر دباؤ ڈال کر اپنے علاقوں میں ووٹروں کی بھاری فوج کھڑی کرا لیتے ہیں تاکہ چناؤ کے وقت یہ ان کے کام آسکے۔ جانچ میں پایا گیا ہے تقریباً ایک درجن ممبران اسمبلی کا پتہ لگا ہے جہاں ملی بھگت سے فرضی ووٹر بنائے گئے ہیں۔ چیف الیکشن آفس کی رپورٹ میں یہ جانکاری آچکی ہے کہ راجدھانی کی 70 اسمبلی سیٹوں میں قریب14 لاکھ فرضی ووٹر یعنی (11 فیصدی) ووٹر ہیں۔ جانچ میں ان لاکھوں ووٹروں کو منتقل، یا مردہ،یا ڈپلکیٹ بتایا گیا ہے۔ ان کا خاتمہ کرنے کے لئے چناؤ دفتر عزم کئے ہوئے ہے۔اس کا نشانہ ہے 15 اپریل تک زیادہ تر فرضی ووٹروں کو چیک کر ان کا نام ووٹر لسٹ سے ہٹا دیا جائے۔ راجدھانی میں موٹے طور پر ایک اسمبلی حلقے میں ایک سے سوا لاکھ ووٹر ہیں۔حیرانی تو اس بات کی ہے کہ جانچ کے دوران کچھ اسمبلی حلقوں میں15 ہزار سے59 ہزار ووٹر فرضی ہیں۔ ایسے اسمبلی حلقوں میں دہلی سرکار کے وزیر اور کچھ سینئر ممبر اسمبلی چناؤ جیت کر آئے ہیں۔ ذرائع بتاتے ہیں ان علاقوں میں باہری دہلی میں 4 ، جمنا پار میں3، مغربی دہلی میں3 ، ساؤتھ دہلی میں2 جن اسمبلیوں میں بھاری تعداد میں فرضی ووٹر پائے گئے ان میں کراول نگر، مٹیامحل، اتم نگر، آر کے پورم، مالویہ نگر، بلیماران، منگولپوری، گاندھی نگر، لکشمی نگر، مہرولی وغیرہ اسمبلی قابل ذکر ہیں۔ پچھلے اسمبلی چناؤ میں کئی سیٹوں پر جیت کا مارجن پانچ ہزار ووٹ سے بھی کم رہا ایسے میں اسمبلی چناؤ میں ووٹروں کی تعداد بھاری الٹ پھیر کرسکتی ہے۔چناؤ کمیشن کی ہم تعریف کرتے ہیں کہ یہ کام اتنا آسان شاید نہ ہو۔ کچھ لیڈروں کا تو سیاسی مستقبل ہی ان فرضی ووٹروں پر ٹکا ہے۔
(انل نریندر)

13 مارچ 2013

جمنا صرف ایک ندی نہیںلاکھوں لوگوں کی عقیدت کا مرکز ہے

دیش میں عوام سے وابستہ مسئلوں پر مہم اور مظاہرے اکثر ہوتے ہی رہتے ہیں لیکن بدقسمتی سے انہیں جب تک نظر انداز کردیا جاتا ہے جب تک ان کی آواز دہلی میں سنائی نہ پڑے۔ جمنا مکتی پدیاترا پر شروع میں توجہ نہ دینے کی ہی وجہ ہے کہ آج لاکھوں لوگ جمنا کی صفائی کے اشو کو لے کر دہلی آئے ہوئے ہیں ان میں سے کچھ ساؤھو سنت ہے کچھ کسان اور کچھ سمجھ دار و سماجی کارکن بھی ہے جنہیں ایک ندی کی عقیدت یا کھینچ لائی ہے ان مظاہرین کو بے شک کچھ مخالف سیاست دانوں کی بھی حمایت ملی ہو لیکن اس سے تحریک کی اہمیت ذرا بھی کم نہیں ہوتی۔ دہلی میں جمنا کی صفائی کے لئے 1995 سے 1912تک 2072 کروڑ روپے سرکار کی طرف سے خرچ کئے جاچکے ہیں۔ اب تک تقریباً 12ہزار کروڑ روپے خرچ کرنے کے باوجود جمنا ندی ایک نالہ بنی ہوئی ہے۔ 4 دسمبر 2012کو سپریم کورٹ نے کہا یہ مایوس کن ہے جسٹس سوتنتر کمار اور جسٹس مدن وی لوکور کی بنچ نے ریمارکس دیئے کہ دہلی میں جمناندی میں پانی نہیں گندگی بہتی ہے برسوں سے کہاجارہا ہے کہ ہریانہ ہتھنی کند بہراچ سے نجات دلانے اور دہلی کی گندگی جمنا میں نہ ڈالنے سے تصویر بدل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ چونکہ جمنا پردلی کی پیاس مٹانے کا بھی کم وبیش کی ذمہ داری ہے اس لئے اس کی بھلائی کے لئے دہلی سرکار کی ذمہ داری بڑھی ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ دہلی اور ہریانہ کی حکومتیں پچھلے کئی برسوں سے ایک دوسرے پر جمنا کو آلودہ کرنے کا الزام لگا رہے ہیں جب کہ نہ صرف دونوں مقامات پر کانگریس کی حکومتیں ہے بلکہ مرکز میں بھی کانگریس کی قیادت والی یوپی اے سرکار اقتدار میں ہے۔ جمنا نہ صرف ایک ندی نہیں ہے بلکہ یہ لاکھوں لوگوں کی عقیدت کامرکز بھی ہے گنگوتری سے لے کر الہ آباد میں سنگم تک اپنے 1376کلو میٹر کے سفر میں جمنا کی معاون ندیوں کی وجہ سے اس ندی میں تھوڑا پانی دیکھنے مل جاتا ہے۔ اس سے پہلے دہلی سے چمبل کے درمیان قریب 700کلو میٹر علاقہ میں جمنا محض ایک نالہ بن کر رہ گئی ہے جمنا کو سب سے زیادہ آلودہ دیش کی راجدھانی دہلی نے کیاہے۔ دہلی میں ہردن ہزاروں لیڈر سیویج کا پانی جمنامیں گرتا ہے انڈسٹریل کچرا اوربغیر ٹریٹ کے کارخانوں سے نکلا گندا پانی اور دیگر گندگی سیدھی نی میں بہا دی جاتی ہے۔ گنگا کے کنارے متھرا برندا ون جیسے دھارمک مقامات پڑتے ہیں یہاں آکر آستھا کی علامت مانی جانیوالی گندگی سے بھری جمنا کے پانی میں لوگ اشنان کرتے ہیں حالات اتنے خراب ہے کہ آکسیجن کی ندی میں کمی ہونے سے اس میں رہنے والے جانوروں کی موت ہورہی ہے اس کے لئے سرکار کو باقاعدہ ایک اسکیم بنانی ہوگی یمنا کی بھلائی کے لئے متعلقہ حکومتوں کو ٹھوس راستہ نکالناپڑے گا لیکن جمنا اس کے پرانے چہرے میں لوٹانے کے لئے جنتا کو بھی حرکت میں اور بیدار ہوناپڑے گا۔ جو ہر چیز کو ندیوں میں ڈال کر اسے گندا کرنے سے باز نہیں آتے ہیں۔ گنگا کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے اس کو لے کر وزیراعظم کی سربراہی میں ایک اتھارٹی ہونے کے بعد بھی حالات جوں کہ توں ہے بہتر ہوگا بروقت حکومت جاگیں اور خاص کر ندیوں کی پاکیزگی کے سوال پر لوگوں میں بیداری لائے اور استعمال کرنے والے پانی کی بچت اور ماحولیات کے تمام مسئلوں کو طویل عرصوں تک ٹالا نہیں جاسکتا کیونکہ اس کے اور خطرے صاف دکھائی دینے لگے ہیں۔ 
(انل نریندر)

12 مارچ 2013

اولمپئن مکے باز ویجندرسنگھ اور ڈرگس

130 کروڑ روپے کی ہیروئن پکڑے جانے کے معاملے میں اولمپین باکسر ویجند سنگھ گھرتا جارہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ پنجاب پولیس نے3مارچ کو چیلو اور ان کے ایک ساتھی کو فتح گڑھ صاحب کے پاس گرفتار کیا تھا۔ اس سے پوچھ تاچھ کی بنیاد پر جمعرات کی رات جیرکپور کی شیوالک وہا ر کالونی میں واقع گھر سے 26 کلو ہیروئن برآمد کی گئی۔ مکے باز ویجندر کی بیوی کی کار اسی مکان کے پاس کھڑی ملی اور اسی کے بعد سے ویجندر کا نام اس معاملے سے جڑ گیا۔ ویجندر نے کار اپنے ساتھی مکے باز رام سنگھ کو دینا قبول کرلیا۔ کہلو نے پولیس کو بتایا کہ اس دھندے کا سرغنہ سابق کشتی کھلاڑی جگدیش بھولا ہے۔ بھولا ابھی فرار ہے۔ ارجن ایوارڈ اور رستم ہند ایوارڈ سے اعزاز یافتہ بھولا 1993ء میں بھٹنڈہ میں پولیس میں بھرتی ہوا تھا۔ ویجندر کے دوست رام سنگھ نے سنیچر کو ایک ٹی وی چینل سے کہا کہ میں نے اور ویجندر نے جنوری اور فروری میں چارمرتبہ ڈرگس لی تھی۔ آخری بار 26 فروری کو اس کا استعمال کیا تھا۔ اسکے علاوہ پولیس کے مطابق گرفتار انوپ نے کہا ہے کہ ویجندر اور اس کا دوست رام سنگھ اس کے گراہک تھے۔ اس سنسنی پھیلانے والے مکے باز انوپ سنگھ کہلو نے جمعہ کو پولیس حراست میں اپنے ہاتھ کی نسیں کاٹ کر خودکشی کی کوشش کی۔ پنجاب پولیس نے کہا اولمپک تانبہ میڈل ونر مکے باز ویجندر سنگھ سے 130 کروڑ روپے کی ہیروئن برآمدگی کے معاملے میں پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ ایتوار کو اس سے پہلے ویجندر کے ساتھ رام سنگھ کو قومی کھیل ادارے سے باہر کردیا گیا۔ فتح گڑھ صاحب کے ایس ایس پی ہردیال سنگھ بھان کے مطابق پوچھ تاچھ کے لئے ویجندر کو بلائیں گے۔حالانکہ اس وقت ہماری جانچ دیگر اسمگلروں کو پکڑنے پر مرکوز ہے۔ ہم اس معاملے میں تین چار اہم ملزمان کو گرفتار کرنے کے بعد ہی ویجندر پر توجہ دیں گی۔ وہیں ہریانہ پولیس میں ڈی اسی پی عہدے پر فائض 27 سالہ ویجندر نے اس معاملے سے وابستہ ہونے یا نشہ لینے سے سرے سے انکار کردیا۔ ویجندر کے اس معاملے میں آنے سے ہریانہ پولیس بھی سرگرم ہوگئی ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کرائم برانچ کے ایس پی سطح کا ایک افسر اس معاملے میں پنجاب پولیس سے مسلسل رابطے میں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے ویجندر کی فون بات چیت کی جانچ سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ کہلو کے ساتھ رابطے میں تھا۔ یہاں پر دو باتیں ہیں ایک تو یہ کہ کیا ویجندر ڈرگس استعمال کرتے ہیں دوسرے کیا وہ ڈرگس اسمگلنگ میں بھی شامل ہے؟2008ء میں پیچنگ میں تانبے کا میڈل جیتنے کے بعد ویجندر کی زیادہ توجہ بالی ووڈ میں فلموں اور اشتہاروں ، ریئلٹی شوز پر زیادہ مرکوز ہوگئی اور وہ کافی وقت ممبئی میں رہے۔ ان پر گلیمر کاپورا بخار چڑھ گیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ڈرگس معاملے میں ان کا شامل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ابھی تک موصولہ اشاروں سے تو اتنا لگتا ہے ویجندر خود کبھی کبھی ڈرگس لیتے تھے۔

 (انل نریندر)

وسنت وہار گینگ ریپ کے واقعہ کے بعد کچھ بھی نہیں بدلہ

16 دسمبر کو ونست وہار گینگ ریپ کے واقعہ کے بعد ہمیں امیدتھی کہ اب تو عورتوں کی سلامتی میں تھوڑا فرق آئے گا۔ لیکن انتہائی دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ عورتوں میں عدم و سلامتی کے احساس میں کوئی کمی نہیں دکھائی دی۔ دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت جب خود یہ قبول کرلیں کے میری بیٹی بھی اس شہر میں اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہے،تو دیگر عورتوں میں عدم سلامتی کا احساس اس سے بہتراور کون بتا سکتا ہے۔ عورتوں کے خلاف جرائم کے اعدادو شمار چونکانے والے ہیں۔ دہلی میں عورتوں پر ظلم تیزی سے بڑھے ہیں1 جنوری سے لیکر15فروری تک بدفعلی کے 181 واقعات سامنے آئے ہیں۔ اس طرح راجدھانی میں اوسطاً روزانہ 4 عورتیںآبروریزی کا شکار ہورہی ہیں۔ جبکہ 2012 ء میں یہ فیصد 2 تھا۔ 2012ء میں پورے سال میں آبروریزی کے کل واقعات706 تھے اس میں اضافہ کے پیچھے حالانکہ کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے ۔چوطرفہ سختی کے باوجود اب سارے آبروریزی کے واقعات درج ہورہے ہیں۔ پہلے آدھے واقعات درج نہیں ہوا کرتے تھے یا پھر پولیس ان کی طرف توجہ نہیں دیتی تھی۔ پولیس کے انتظام آج بھی پختہ نہیں ہیں۔ پہلے سے زیادہ ڈر عورتوں میں بڑھا ہے اور اپنی بات لوگوں تک پہنچانے کے انتظام سے بھی عورتوں میں کوئی تشفی نہیں ہے۔ اس کے پیچھے انتظامیہ پولیس کی خامیاں خاص وجوہات ہیں۔ پولیس بیشک کئی خامیوں کے لئے ذمہ دار ہوسکتی ہے لیکن انتظامیہ کی خامیوں کی وجہ سے بھی پولیس تنقید کا شکار ہوتی ہے۔ راجدھانی دہلی کی قریب ڈیڑھ ہزار عورتوں کی سلامتی پر ایک خاتون پولیس کانسٹیبل تعینات ہے۔ ایسے میں اس بات کا آسانی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عورتیں کس حد تک محفوظ ہیں۔ تھانوں میں بھی مہلا پولیس کی بھاری کمی ہے۔ دہلی پولیس میں قریب ساڑھے چھ فیصدی مہلا پولیس کانسٹیبل ہیں۔2011ء کی مرد شماری کے مطابق دہلی کی آبادی قریب 1 کروڑ67 لاکھ 53 ہزار ہے ان میں سے 7776825 عورتیں ہیں۔ دوسری طرف دہلی پولیس کی تعداد قریب 78 ہزار ہے اور اس میں مہلا پولیس ملازمین کی تعداد5121 ہے۔ ایسے میں تھانے میں پہنچنے والی متاثرہ عورت مرد پولیس والے کے سامنے اپنے آپ کو لاچار محسوس کرتی ہے اور اپنا درد اس کے سامنے بیان نہیں کرپاتی۔ 16 دسمبر کے واقعے کے بعد مہلا ذیادتی خاص طور پر آبروریزی کے خلاف ایک سخت قانون کی نہ صرف ضرورت محسوس کی گئی بلکہ اسے لیکر دیش بھر میں بحث بھی ہوئی۔ عورتوں پر ذیادتی روکنے سے متعلق مرکزی کیبنٹ میں اتفاق رائے نہ ہونے سے یہ قانون لگتا ہے کہ جلد وجود میں نہیں آپائے گا۔ اعدادو شمار ثابت کرتے ہیں کہ دیش بھر سے اٹھی آوازروں کے باوجود عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کم نہیں ہوئے۔ عورتوں پر ذیادتی کو روکنے کے لئے واقعی ایک سخت قانون کی ضرورت ہے۔ مگر یہ کافی نہیں ہے ایسوچیم کی ایک رپورٹ کے مطابق دیش کی88 فیصدی عورتوں کو جنسی استحصال، چھیڑ چھاڑ ، آبروریزی سے متعلق قانون کی ٹھیک سے جانکاری نہیں ہے۔ قومی کرائم ریکارڈ بیورو کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ تھانوں میں درج ہونے والے آبروریزی کے صرف26 فیصدی معاملوں میں ہی قصورواروں کو سزا مل پاتی ہے۔ سچائی یہ بھی ہے کہ اقتصادی خودکفالت یا آبروریزی سے بچنے کی گارنٹی نہیں ہے اور نہ ہی مہلا بینک جیسے علامتی قدم اٹھانے سے حالات بدلنے والے ہیں۔ عورت سے ذیادتی پر بات کرتے ہوئے سماج میں ان کی بدلتی پوزیشن پر بھی غور کرنا ضروری ہوگا۔ ایسا لگتا ہے کہ مردوں کی بالادستی ان کی روشن خیال کو قبول نہیں کرپارہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے ہمارے سماج کو اپنی ذہنیت بدلنی ہوگی۔ٹاٹا اسٹریجک مینجمنٹ گروپ کے ذریعے کرائے گئے ایک سروے میں یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ دیش کی کئی ریاستوں میں مہلا سکیورٹی کی حالت بہت خراب ہے۔ ان میں ہریانہ، پنجاب، مدھیہ پردیش، راجستھان، دہلی قابل ذکر ہیں۔ میٹرو شہروں کی بات کی جائے تو حیدر آباد و دہلی سب سے نچلے پائیدان پر ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ دہلی این سی آرمیں آبروریزی کے واقعات اور گیس سے ہونے والی اموات سب سے آگے ہیں۔ اتنا کچھ ہونے کے باوجود نہ تو گاڑیوں سے کالے شیشے پوری طرح سے ہٹائے گئے اور نہ رات کو بسوں میں سنتری کی تعیناتی میں کوئی بہتری آئی ہے۔ جب دہلی کا یہ حال ہے تو باقی دیش کا کیا حال ہوگا تصور کرنا مشکل ہی نہیں بہت دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ16 دسمبر کے واقعے کے بعد بھی کچھ نہیں بدلا۔
(انل نریندر)

10 مارچ 2013

جنسی رشتوں کی عمر 18 سے گھٹاکر16 کرنے کا سوال

مرکزی وزارت داخلہ نے رضامندی سے جنسی تعلق بنانے کی عمر کم کرنے کی تجویز مرکزی کیبنٹ کو منظوری کے لئے بھیجی ہے۔ رضامندی کی عمر18 سال سے گھٹا کر16 سال کرنے کی تجویز پر سماج میں طرح طرح کی رائے سامنے آرہی ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے یہ قدم اگر بچوں کو وقت سے پہلے جوان ہوجانے کی تشریح کو ذہن میں رکھ کر اٹھایا گیا ہے تو کیا آنے والے دنوں میں یہ عمر حد اور گھٹاکر 10 سال کے بچوں کو رضامندی سے جنسی تعلق قائم کرنے کا قانونی اختیار دے دیا جائے گا؟ مرکزی حکومت اس بل پر اگر کیبنٹ میں رائے بن جاتی ہے تو اسے22 مارچ سے پہلے پارلیمنٹ میں پاس کرانا چاہتی ہے۔ مگر رضامندی سے جنسی تعلق کی عمر 18 سال سے گھٹا کر 16 سال کرنے کی اس تجویز پر تنازعہ چھڑ گیا ہے۔ دہلی کے وسنت وہار میں گینگ ریپ کے واقعہ کے بعد پچھلے مہینے حکومت کو آبروریزی سے متعلق قانون کو سخت بنانے کے لئے آرڈیننس جاری کیا گیا ہے۔ اس قانون میں ترمیم کے عمل پہلے ہی سے جاری ہے اور پارلیمانی کمیٹی اس کا جائزہ لے رہی تھی۔ کچھ دن پہلے کمیٹی نے بھی اپنی سفارشیں حکومت کو سونپ دیں۔ ان سفارشوں اور آرڈیننس کے تقاضوں کو شامل کرتے ہوئے سرکار کو پارلیمنٹ میں نیا بل پیش کرنا ہے۔ مگر وزارت داخلہ کی دو تجاویز پر تنازعہ ہے ان میں ایک رضامندی سے جنسی رشتوں کی عمر گھٹانے اور دوسری جنسی حملے کی جگہ پھر سے آبرویزی کا لفظ استعمال یقینی کرنا ہے۔ وزارت قانون جنسی رشتوں کی رضامندی کی عمر گھٹانے کو تیار ہے لیکن کچھ وزرا کا خیال ہے کہ اس سے جنسی ذیاتیاں بڑھیں گی اس لئے موجودہ سسٹم کو نہ بدلا جائے جبکہ لوگ عمر کو کم کرنے کے حق میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ رضامندی سے بنے رشتوں کو قانون کی آڑ میں جرائم قرار دیا جاتا ہے جس سے نوجوانوں کو غیر ضروری ذیادتی کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ مجرمانہ قانون ترمیم بل کا جو خاکہ کیبنٹ میں سامنے رکھا جانا ہے اس میں جنسی تعلق کی عمر 16 سال کردی گئی ہے۔ یعنی سب سے کم عمر کی لڑکی کے ساتھ کوئی شخص اگر اس کی رضامندی سے جنسی تعلق قائم کرتا ہے تو اسے آبروریزی مانا جائے گا۔ یہاں یہ صاف کرنا ضروری ہے کہ رضامندی کی عمر18 سال کرنے کے پیچھے بھی نوجوان طبقے کے خلاف پہلے سے کوئی جواز نہیں تھا۔ حال تک یہ عمر 18 سال ہی تھی اور اسے اوپر لانے کی وجہ بتائی گئی تھی کہ لڑکیوں کو بہلا پھسلاکر انہیں جسم فروشی کی طرف دھکیلنے والے رضامندی کی قانونی عمر کم ہونا کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ہوتا یہ ہے کہ دور دراز کے علاقوں میں کسی 16 سال کی لڑکی کو بھگا کر لانے والے دلال پولیس کی گرفت میں آنے سے بچنے کے لئے قانونی آر میں صاف بچ جاتے ہیں۔ تمام خاتون تنظیمیں بلکہ خود اطفال قانونی کمیشن بھی آواز اٹھاتا رہا ہے کہ رضامندی کی عمر لمبی ہونے کا سیدھا نقصان اپنے خاندان سے بغاوت کرکے آزادی حاصل کرنے والے نوجوان جوڑوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ 9 1سال کا کوئی لڑکا اگر 18 ویں سال میں چل رہی لڑکی کے ساتھ مندر میں جاکر شادی کر لے تو یا تو گھر جاتے ہی کھاپ پنچایت کے موت کا فرمان سنے اور تھانے جائیں تو دروغہ لڑکے پر آبروریزی کا کیس تھوپ دیتے ہیں۔ بھلے ہی لڑکی چلاتی رہے کہ اس نے جنسی رشتہ اپنی مرضی سے یا شادی اپنی مرضی سے کی ہے۔ ایسے میں معصوم لڑکیوں کو دلالوں کے جال سے بچانے کے لئے اینٹی ٹریفکنگ قانون کو کارگر بنانے کی ضرورت ہے لیکن دوسرے موقف پر بھی سنجیدگی سے غور ہونا چاہئے۔ ہماری رائے میں ایسے معاملوں میں جلد بازی سے بچنا چاہئے اور سماج میں وسیع نتائج کے پیش نظر قانون پر سبھی فریقوں سے بات چیت کے بعد یا اتفاق رائے کے بعد آگے بڑھنا بہتر ہوگا۔
(انل نریندر)

شاہویز ایک چھوٹے ملک کے بڑے لیڈر تھے

دو سال تک جدوجہد کرنے کے بعد وینوزویلا کے صدر ہوچنگو شاہویز آخر کار کینسر سے اپنی جنگ ہار گئے۔ سیاسی تعطل کے درمیان شاہویز وینوزویلا کو اکیلا چھوڑ گئے۔ منگلوار کو ہندوستانی وقت صبح میں 58 سالہ شاہویز نے اپنی آخری سانس لی۔ ان کے انتقال سے تیل سے مالا مال لاطینی امریکی دیش وینوزویلا نے اپنا مقبولہ کرشمائی لیڈر کھودیا اور دیش ایک بار پھر غیر یقینی کے بھنور میں پھنس گیا ہے۔ ہوچنگو شاہویز کا انتقال پورے جنوبی امریکہ کے لئے غم پہنچانے والا ہے۔ دنیا بھر میں ان لوگوں کے لئے حیرت میں بھی ڈالنے والا ہے جو امریکی سامراج واد کے خلاف ان کی لڑائی کو تعجب کی نظر سے دیکھ رہے تھے۔ نظریاتی عہد کا سب سے بڑا ثبوت کیا ہوگا کہ کینسر کے علاج کے لئے انہوں نے ترقی پذیر ملکوں کی بجائے کیوبا کے ہسپتال کو چنا۔شاہویز یقینی طور پر تقریباً3 کروڑ کی آبادی والے ملک کے ایسے بڑے نیتا تھے ۔ ان کی قیادت میں وینوزویلا نے دنیا کو دکھایا کہ متبادل کا مطلب اپنی صلاحیتوں کی ایجاد اور ہمت کے ساتھ ان کی تکمیل کرنا ہے۔ شاہویز کی سیاسی وراثت متنازعہ رہی لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ان کے عہد میں غریبوں کی حالت بہتر ہوئی اور سماجی ڈھانچہ درست ہوا اور قومی وسائل کا عوام کی بہبود کے لئے استعمال ہوا۔ 1997 ء میں وینوزویلا کے وسیع تیل ذخائر کی لوٹ مچی تھی لیکن 1998ء میں شاہویز کے اقتدار میں آتے ہی لوٹ مار ختم ہوگئی۔ دنیا کی کل تیل کھپت کا پانچواں حصہ اکیلے وینوزویلا میں پیدا ہوتا ہے اور شاہویز اپنے دیش کی اس طاقت اور اہمیت کو بخوبی سمجھتے تھے۔ انہوں نے مغربی ملکوں کی کئی بڑی تیل کمپنیوں کو پہلے سے زیادہ رائلٹی دینے پرمجبور کیا اور اپنے دیش کے تمام لوگوں کا دل جیت لیا۔ شاہویز اور امریکہ کی کبھی نہیں بنی۔ وہ ہمیشہ الزام لگاتے رہے کہ واشنگٹن ان کے قتل کی سازش تیار کررہا ہے۔ روس کے بڑے اپوزیشن لیڈر گینادی فگنوف نے تو یہاں تک کہا کہ شاہویز کو کینسر ہونے کے پیچھے امریکہ کا ہی ہاتھ ہوسکتا ہے۔ روس کی دوسری سب سے بڑی پارٹی روسی کمیونسٹ پارٹی کے سکریٹری جنرل گینوف نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ امریکی پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے 10 لاطینی امریکی ملکوں کے لیڈر ایک ایک کرکے ایک ہی بیماری سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے آگے کہا میرے نظریئے میں یہ اتفاق نہیں ہے اور اس کی عالمی سطح پر جانچ ہونی چاہئے۔شاہویز کی موت بھارت کے لئے بڑا جھٹکا ہے۔ بھارتی تیل کمپنیاں او این جی سی( ودیش لمیٹڈ) آئل انڈیا اور انڈین آئل نے وینوزویلا کے تیل سیکٹروں میں سرمایہ کاری کی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ ریلائنس انڈسٹریز نے بھی اکتوبر میں وینوزویلا کے سرکاری سیکٹر کی تیل کمپنی پی ڈی بی ایس اے کے ساتھ معاہدے کئے ہیں۔ عام طور پر دئے گئے شاہویز کے کچھ بیان بھلے ہی تلخ رہے ہوں لیکن امریکی فینز کے سامنے انہیں ایک موثر مخالف کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ بین الاقوامی منظر پر انہوں نے اصلاح پسند سرمایہ کاری کو جس طرح کھلی چنوتی دی اور اصولی طور پر بھی جن پالیسیوں پر کامیاب عمل کرکے دکھایا ہے وہ بھروسے اور متبادل کی سیاست کی ایک نئی مثال ہے۔ شاہویز کا جانا وینوزویلا کے لئے نہ صرف نقصان ہے بلکہ پوری دنیا نے ایک مہان ثبوت کھو دیا ہے۔ شاہویز اپنی وراثت ادھوری اور غیر محفوظ چھوڑ کر دنیا سے چلے گئے ہیں۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...