Translater
10 اگست 2023
چھوٹی گڑبڑیوں پر اب جیل نہیں ہوگی!
کاروبار میں چھوٹی موٹی گڑبڑیوں کیلئے اب جیل کی سزا نہیں ملے گی۔ لوک سبھا میں کاروبار کی فوقیت بڑھانے کیلئے 42ویں آئینی شقات میں ترمیم کر ایسے معاملوں میں جیل کی جگہ جرمانے کی سہولت والے جن وشواس پراو¿دھان ترمیم بل پر مہر لگا دی ہے ۔ اپوزیشن کے ہنگامے کے درمیان لوک سبھا میں 65بوسیدہ قوانین کو منسوخ کرنے والے بے اثر و ترمیمی بل بھی پاس ہو گیا ۔ اس کے علاوہ اسی دن معدنیات لون ڈیولپمنٹ ایکٹ ترمیم بل پیش کیا گیا ۔پبلک اعتماد بل پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر تجارت پیوش گوئل نے کہا کہ سرکار کاروبار میں آسانی لانا چاہتی ہے ۔ اعتماد بحالی کیلئے 42ویں قوانین کی 183تقاضوںمیں ترمیم کر سرکار اعتماد کا ماحول بنانا چاہتی ہے۔ انہوںنے بتایا کہ بل میں سرکار نے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کی تجاویز کو بھی شامل کیا ہے ۔مودی سرکار نے اپنی 9سالہ میعاد میں اب تک 486ایسے قوانین کو منسوخ کیا ہے ۔جن کا چلن ہی نہیں تھا۔اسی سمت میں ایک اور قدم بڑھاتے ہوئے سرکار نے 65ایسے غیر رائج قانون کو منسوخ کرنے سے متعلق شقات والامنسوخی اور ترمیم بل لوک سبھا میں پاس کرادیا۔ جس بل پر راجیہ سبھا میں مہر لگتے ہی مودی سرکار کے عہد میں منسوخ قوانین کی تعدا د 1551ہو جائے گی۔ جن قوانین کو منسوخ کرنے کی سہولت ہے ان میں سب سے زیادہ ریلوے کے 18ریگولیٹری قانون شامل ہیں۔ جن میں چھوٹے چھوٹے جرائم اور گڑبڑیوںمیں جیل کی سزا ختم کئے جانے کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں اس سے نہ صرف جیلوںمیں بند پڑے قیدیوں کے مقدموں کی تعداد کم ہوگی اور ساتھ ساتھ عدالتوںمیں لٹکے مقدموںمیں بھی کمی آئے گی۔سرکار کا یہ اچھا فیصلہ ہے۔
(انل نریندر)
کیا ڈونلڈ ٹرمپ جیل جا سکتے ہیں؟
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر 6 جنوری 2021کو ہوئے کیپٹل ہل تشدد معاملے میں مقدمہ چل رہا ہے۔ریپبلیکن پارٹی کے نیتا نے کسی بھی طرح کے غلط کام میں شامل ہونے سے انکار کیا ہے ۔ اور اس کیس کو بے وقوفی پر مبنی بتایا ہے ۔ ٹرمپ پہلے سے ہی ضروری سرکاری خفیہ فائلوں کو غلط طریقے سے رکھنے اور ایک پورن اسٹار سے چپ چاپ طریقے سے پیسے کی ادائیگی کرنے جیسے دو معاملوںمیں ان پر مقدمے چل رہے ہیں۔ ٹرمپ پر الزام کیا ہے؟ ٹرمپ2020کا صدارتی چناو¿ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے نیتا جو بائیڈن ہار گئے تھے ۔ان پر اپنی ہار کے نتیجو کو پلٹنے کی سازش انجا م دینے کا الزام ہے ۔ان پر چار غلط کام کرنے کے الزام ہیں۔ امریکہ کو دھوکہ دینے کی سازش ،سرکاری کام کاج کو روکنے کی سازش ،کسی سرکاری کاروائی میں رکاوٹ ڈالنا اور شہریوں کے حقوق کے خلاف سازش رچنا ۔ یہ چاروں الزام یعنی 3نومبر 2020کے چناو¿ کے بعد سے 20جنوری 2021یعنی وہائٹ ہاو¿س چھوڑنے کے دن تک تقریباً دو مہینے کی میعاد میں ٹرمپ کے کام سے جڑے ہیں۔ پہلا الزام ووٹوں کو جمع کرنے کنتی اور اس کو جانچنے کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی مبینہ کوششوں کولیکر ہے۔دوسرا اور تیسرا الزام الیکٹرول کالج ووٹوں کے سرٹفیکیشن کے کام میں رکاوٹ ڈالنے کی مبینہ کوششوں سے جڑا ہے۔جس کے سبب کیپٹل ہل حملے کو انجام دیاگیا ۔ چوتھا الزام شہریوں کے ووٹ دینے اور ان کے ووٹوں کی کنتی کے حق میں دخل اندازی کرنے کا الزام ہے۔ ٹرمپ 2020کا صدارتی چناو¿ ڈیموکریٹک نیا جو بائیڈن سے ہار گئے تھے۔ ان کے خلاف کئی مقدمے چل رہے ہیں۔کب اور کونسے کیس میں مقد مہ چلے گا،یہی طے کریگا کہ فلاں کیس میں کتنا وقت لگے گا۔ سبھی کیس ایک ہی وقت میں نہیں چلائے جا سکتے ۔ اس بات کے آثار کافی کم ہیں کہ چناو¿ کے دوران کسی خاص کیس کی سماعت ہو جائے ۔ جلد ہی ریپبلیکن نیشنل کنوینشن ہونے والا ہے جب صدر کے عہدے کے امیدواروں کا باقائدہ طور سے چنے گی۔ امریکہ انصاف نظام میں مقدمے کیلئے زیادہ وقت دینے کے کئی طریقے ہیں تو یہ کافی حد تک ممکن ہے کہ ٹرمپ ایک بار پھر صدر چنے جائیں اور پھر یہ مقدمہ شروع ہو ۔73سالہ ٹرمپ قصور وار پائے گئے تو انہیں سخت سزا ملنے کا امکان ہے ۔ معاملے کی سماعت کیلئے جج تانیہ چٹکن کو مقرر کیا گیا ہے ۔ان کی تقرری اوبامہ انتظامیہ نے کی تھی۔انہیں ایسے جج کی شکل میں جانا جاتا ہے جو سخت سزا دینے کیلئے ماہر ہیں۔ ادھر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ مجھ پر جتنے مقدمے کروگے مجھے چناو¿ میں اتنا ہی فائدہ ملے گا۔ مقدمہ چلانے والوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ان پر جو الزام لگے ہیں ان سے 2024کے صدارتی چناو¿ مہم میں انہیں فائدہ ملے گا۔
(انل نریندر)
پاکستان کے سابق حکمرانوں کا یہی انجام !
پاکستان اپنے سابق وزرائے اعظم کو جیل بھیجنے کیلئے خطرناک رہا ہے۔جبکہ یہ دیش بار بار آئین کی خلاف ورزی کرنے والے فوجی تانا شاہوں کے خلاف کوئی کاروائی کرنے میں کتراتا نظر آیا ہے ۔ عمران خان جیل جانے والے پہلے سابق وزیر اعظم نہیں ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں منتخب لیڈروں کے ساتھ اپنائے گئے برتاو¿ کے کئی مثالیں ہیں۔فہرست میں پہلے مقام پر حسین شاہد شہر وردی ہےں جو اس وقت کے مشرقی پاکستان کے ایک بنگالی سیاستداں تھے جنہوںنے پانچویں وزیر اعظم کی حیثیت سے کام کیا تھا۔ سہر وردی کو جنوری 1962میں گرفتار کرکے ملک مخالف سرگرمیوں کے فرضی الزام میں جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ انہیں فوجی حکمراں جنرل ایوب خاں کی حمایت کرنے سے انکار کا نتیجہ بھگتنا پڑا تھا۔نویے وزیر اعظم کی حیثیت سے کام کرنے والے ذولفقار علی بھٹو کو 1974میں سیاسی حریف کے قتل کی سازش کے الزا م گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں موت کی سزا سنائی گئی تھی اور 4اپریل 1979کو پھانسی دے دی گئی۔ بنظیر بھٹو 1988سے 1990تک اور پھر 1993سے 1996تک دومرتبہ وزیر اعظم رہیں۔ دیش کی واحد خاتون وزیر اعظم کو کئی مرتبہ گرفتار کیا گیا ۔ پہلی بار1985میں انہیں 90دن کیلئے گھر میں نظر بند رکھا گیا۔ اس کے بعد اگست 1986میں کرانچی کے ایک ریلی میں فوجی تانا شاہ جنرل ضیاءالحق کی مذمت کرنے کیلئے بنظیر بھٹو کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد کیا ہوا سب کو معلوم ہی ہوگا۔ اب عمران خاں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا عمران خان کا بھی وہیں حشر ہونا ہے جو سابق وزرائے اعظم کا ہوا ہے ؟ ہم امید کرتے ہیں کہ ایسا نہ ہو۔پاکستان کا سپریم کورٹ کافی مضبوط ہے اس نے ثابت کر دکھا یا ہے جب پہلی بار عمران خان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اور سپریم کورٹ نے اسی دن ضمانت دے دی تھی۔
(انل نریندر)
08 اگست 2023
پاک پارلیمنٹ 9اگست کو بھنگ ہوگی!
پاکستا نے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ نچلے ایوان کی میعاد ختم ہونے سے تین دن پہلے ہی سینیٹ (پارلیمنٹ) کو 9اگست کو ہی بھنگ کر دیا جائے گا۔ اس قدم سے دیش میں نوے دنوں کے اندر عام چناو¿ کرانا ہوگا۔ انگریزی اخبار ڈو¿ن کے مطابق شہباز شریف نے جمعرات کے روز پی ایم ہاو¿ س میں حکمراں اتحادی ساتھیوں کے ساتھ عشائیہ تقریب میں یہ بات کہی ۔ پاکستان کی پارلیمنٹ کی پانچ سالہ میعا د12اگست کو پوری ہونے جا رہی ہے۔ ایس میں حکمراں اتحادی حکومت چناو¿ کی تیار کر رہی ہے ۔ آئین کے تقاضے کے تحت پارلیمنٹ کی میعاد پوری ہونے پر 60دن میں عام چناو¿ کرانے ہوتے ہیں اس لئے پارلیمنٹ کو میعاد پوری ہونے سے پہلے ہی بھنگ کر دی جاتی ہے تو میعاد نوے دنوںتک بڑھائی سکتی ہے۔ ایک دوسرے اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق وزیر اعظم نو اگست کو پارلیمنٹ بھنگ کرنے کیلئے صدر آصف علوی کو فرمان بھیجیںگے ۔ اور ان کے دستخط ہوتے ہی پارلیمنٹ بھنگ ہو جائےگی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اگر کسی وجہ سے صدر دستخط نہیں کرتے ہیں تو وزیر اعظم کے نوٹیفیکشن ملنے پر اسمبلی خود بھنگ ہو جائے گی۔ عشاعشہ تقریب میں ساتھ پارٹیوں کے نتیاو¿ں کو بتایا کہ حکمراں پارٹی پاکستان مسلم نواز نے پارٹی کے اند ر مشورے کو قطعی شکل دےی ہے ۔ وزیر اعظم نے جمعہ کو نگراں سرکار کے انتظام پر بھی ساتھ پارٹیوں کے ساتھ بات چیت کی ہے اس میں کم سے کم تھوڑا وقت لگے گا۔ ادھر چناو¿ کے اعلان کی تیار ی ہو رہی ہے تو دوسری طرف عمران خان کو سپریم کورٹ نے جھٹکا دیتے ہوئے انکی عرضی کو خارج کردیا جس میںان کے معاملے کی سماعت کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ عمران پر الزام ہے کہ انہوںنے تحفوں کی تفصیل چھپائی ۔اور سرکار ی اسٹور سے ان کو حاصل کیا تھا۔ عرضی خارج کرتے ہوئے بڑھی عدالت نے کہا کہ کہ معاملے کو کسی دوسری بڑی عدالت میں منتقل کرنے کی عرضی پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت چل رہی ہے ۔ اور امید جتائی کہ نچلی عدالت اور اسلام آباد کوئی کورٹ قانون کے مطابق فیصلے لے گی۔ عمران خان کو تین سال جیل کی سزا سنائی گئی ہے۔
(انل نریندر)
پارلیمنٹ میں ایک بار پھر دہاڑے گا شیر !
راہل گاندھی کو ایم پی ہونے کا درجہ پھر مل گیا ہے ،اور پیر کے روز لوک سبھا میں پہنچے ۔سپریم کورٹ نے جمعہ کو مودی کے سر نیم پر تبصرہ کرنے پر دائر ہتک عزت معاملے میں راہل گاندھی کی سزا پر روک لگا دی ۔ کانگریس نے کہا کہ کوئی بھی طاقت لوگوں کی آواز کو خاموش نہیں کر سکتی ہے۔ یہ نفرت پر پیار کی جیت ہے۔ ستیہ مے جیتے -جے ہند ۔راہل گاندھی نے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے بگوان بدھ کی ایک قول کو بیان کیا کہا کہ ”تین چیزیں لمبے عرصے تک چھپی نہیں رہ سکتی ،سورج ،چاند اور سچائی -گوتم بدھ “ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا تہہ دل سے خیر مقدم کرتے ہیں ۔ پارلیمنٹ میں ایک بار پھر دہاڑے گا شیر ۔سپریم کورٹ کے جسٹس وی آر گوئی جنہوںنے مجرمانہ ہتک عزت معاملے میں راہل کی سز اپر روک لگانے والی بنچ کی رہنمائی کی انہیں سماعت کے دوران کہا کہ انہیں حا ل میں گجرات کی عدالتوں کے فیصلے دلچست دیکھنے کو ملے ۔ اسی طرح ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کا 125پیج کا فیصلہ ہے جس میں ہائی کورٹ نے عرضی گزار (راہل ) کی سزا پر روک لگانے سے انکار کردیا ۔ اور ایم پی کے طور پر ان کے برتاو¿ کے بارے میں کافی نصیحتیں بھی دیں ۔لیکن زیادہ سزا دینے کیلئے بھی وجہ کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان کا (راہل ) کا لہجہ صحیح نہیں تھا۔ عام زندگی میں سرگرم شخص سے کھلے عام جنتا کے درمیان تقریر کرتے وقت احتیاط برتی چاہئے۔ جسٹس وی آر گوئی ،جسٹس نرسمہا و جسٹس سنجے کمار کی بنچ نے کہا کہ سزا پر روک اس بنیاد پر لگائی ہے کہ کیوں کہ سورت کی عدالت یہ بتانے میں ناکام رہی ہے کہ راہ دو سال کی سزا کے حقدار کیوں تھے؟ سزا کی اس میعاد کے چلتے ہیں انہیں لوک سبھا سے بر طرف کیا گیا ۔ سزا ایک دن بھی کم ہوتی تو ڈسکوالیفائی نہیں ہوتے ۔ اس فیصلے کا اثر صرف ایک شخص پر نہیں پڑا بلکہ ان کے حلقے (وائیناڈ ) کت ووٹروں کا حق بھی متاثر ہوا اس لئے آخری فیصلے تک الزام ثابٹ کرنے پرروک رہے گی۔ اب راہل 2024کا لوک سبھا چناو¿ لڑنے کا راستہ صا ہوگیا ہے ۔ اور آنے تک راہل اگلاچناو¿ لڑسکیںگے ۔2024کے لوک سبھا چناو¿ پر کیا راہل کے واپسی پر اثر پرے گا۔ 2019کے انتخابات میں قریب 208سیٹوں پر بی جے پی کے ساتھ سیدھے مقابلے میں تھی۔ جن 208سیٹوں پر دونوں پارٹیوں کے درمیان سیدھا مقابلہ تھا ان میں سے 90فیصدے کے قریب پر کانگریس کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ۔ راہل گاندھی ان میں سے 50فیصدی پر کانگریس کو جتا سکتے ہیں۔ ایسی حالت میں وہ 2024میں وزیر اعظم کے عہدے کے دعویدا ر کی شکل میں سامنے آسکتے ہیں۔ لیکن اس کا تجزیہ کرنا ابھی ممکن نہیں ہے ۔ اتنا ضرور ہے فیصلہ آئی این ڈی اے کے اتحاد کیلئے مضبط ثابت ہے راہی گاندھی کے شخصی قد کے ساتھ ساتھ کانگریس پارٹی کا گراف بھی بڑھے گا۔ پریشانی یہی ہے کہ راہ اب پارلیمنٹ میں تو گرجیںگے ہی باہر بھی دہاڑیں گے۔
(انل نریند)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس
ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...