Translater

24 اگست 2023

ایک لاکھ کا جرمانہ ناکافی ہے!

سپریم کورٹ نے دیش کے ٹی وی نیوز چینلوں کے نجی راہ عمل نظام کو کمزور بتاتے ہوئے گائڈ لائنز ہدایات جاری کرنے کے اشارے دئے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندر چوڑ ،جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس منوج مشر کی بنچ نے کہا کہ جب تک قواعد کی سختی نہیں ہوگی تب تک ٹی وی چینلوں پر دباو¿ نہیں بڑھے گا۔ بنچ نے نیوز براڈ کاسٹر س اینڈ ڈیجیٹل ایسو سی ایشن (ا ین بی ڈی اے ) کی گائڈ لائنزہدایات کی خلاف ورزی پر چینلوں پر لگائے جانے والے ایک لاکھ روپے کی جرمانے کو ناکافی بتایا اور کہا کہ جرمانہ چینل کی آمدنی کی تناسب کے حساب سے لگایا جانا چاہئے ۔ اداکار سوشانت سنگھ کی موت پر میڈیا ٹرائل کے خلاف ایک مفاد عامہ کی عرضی پر فیصلہ سناتے ہوئے ہائی کورٹ نے جنوری 2021میں سخت رائے زنی کی تھی۔ سپریم کورٹ نے این بی ڈی اے کے وکیل سے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ کچھ چینلوں کو چھوڑ کر باقی صبر و تحمل سے کا م کرتے ہیں ۔ مجھے نہیں پتا کہ کورٹ میں کتنے لوگ آپ سے کتنے متفق ہوں گے ؟ آپ از خود مکینزم جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم بھی اس سے متفق ہیں لیکن اس مکینزم کو مضبوط بنانا ہوگا۔ ایکٹر کی موت کے بعد ٹی وی میڈیا بے قابو ہوگیا اور اس نے بونڈر پیدا کردیا ۔ (انل نریندر)

ہندو آستھا میرا مارگ درشن کرتی ہے !

یہ کہنا بر طانیہ کے وزیر اعظم رشی سونک کا ہے ۔ ان کی ہندو آستھا ان کی زندگی کے سبھی پہلوو¿ں کا مارگ درشن کرتی ہے اور انہیں دیش کے سربراہ مملکت کے طور پر بہترین کام کرنے کی تلقین کرتی ہے ۔ کیمبرج یونیورسٹی کے جیسس کالج میں روحانی گرو مراری باپو کی رام کتھا چل رہی ہے ۔ جس میں بر طانوی وزیر اعظم سونک شامل ہوئے تھے ۔ بر طانیہ کے وزیر اعظم بھارت کی یوم آزادی پر اس پروگرام کے بار میں بھی اتفاقی طور پر نشاندہی کی تھی۔ رام کتھا میں اکٹھی بھیڑ کے سامنے بر طانوی وزیر اعظم سونک نے اپنے خطاب میں کہا کہ باپو میں یہاں وزیر اعظم کے طور پر نہیں بلکہ ایک ہندو کے طور پر آیا ہوں ۔ میرے لئے آستھا بہت نجی حیثیت رکھتی ہے ۔ میری زندگی کے سبھی پہلوو¿ں کا مارگ درشن کرتی ہے ۔ وزیر اعظم ہونا ایک بڑے اعزاز کی بات ہے لیکن اس عہدے پر رہتے ہوئے فرائض کو نبھا نا آسان نہیں ہے۔مشکل سے فیصلے لینے ہوتے ہیں ۔ مشکل متبادل کا محاسبہ کرنا ہوتا ہے اور میری آستھا مجھے دیش کیلئے کام کر نے کی ہمت ،طاقت اور حوصلہ دیتی ہے ۔ مراری باپو کی رام کتھا میں اسٹیج پر لگی بھگوان ہنومان کی سنہری تصویر کا بھی ذکر کرتے ہوئے سونک نے کہا کہ یہ مجھے یاد دلاتی ہے کہ کیسے بصد احترام بھگوان گنیش 10ڈاو¿ننگ اسٹریٹ میں میری میز پر مسرت آمیز شکل میں بیٹھے ہیں۔ (انل نریندر)

ہم نیچر کو مار رہے ہیں،یا وہ ہمیں مار رہی!

بھاری بارش کے سبب تباہی کا سامنا کر رہے ہماچل پر دیش سرکار نے پوری ریاست کوقدرتی آفت متاثر ہ علاقہ ڈکلیئر کر دئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سال مانسون کے دوران بھاری بارش کے سبب جان و مال کا بھاری نقصان ہوا ہے ۔متعدد افراد کی جانیں گئیں ہیں۔ ساتھ ہی سرکار ی اور نجی املاک کو بڑا نقصان ہوا ہے ۔ سرکار ی اعداد و شمار کے مطابق اس سال اب تک بارش اور سیلاب سے جڑے حادثات میں کم سے کم 217لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ 11ہزار سے زائد گھروں اور کروڑوں روپیہ کی املاک کو نقصان پہنچا ہے ۔ وزیر اعلیٰ سکھوندر سنگھ سکھو کا کہنا ہے کہ پوری ریاست بار بار بادل پھٹنے ،چٹانیں کھسکنے جیسے واقعات سے بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ہزاروں گھر یا تو تباہ ہو گئے ہیں یا پھر رہنے لائق نہیں ہیں۔ بارش اور سیلاب کے سبب ہوئی تباہی کو دیکھتے ہوئے حکومت نے پوری ریاست کو قدرتی آفت متاثر ہ علاقہ ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بارش کے سبب ریاست میں 10ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے ۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ انہوںنے اس مسئلے پر وزیر اعظم نریندرمودی کے سامنے بات رکھی تھی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ گائڈ لائنز اور ہدایات بھی دئے جانے سے کا م میں تیزی آئی ہے ۔ ہمیں مرکزی سرکار اور پی ایم سے ریاست کیلئے اسپیشل پیکج کی امید ہے ۔ دیکھنا ہے کہ پیسہ کب ملے گا۔ جلدی مل جائے گا تو ہم اور تیز ی سے کام کریںگے۔ 14اگست کو شملہ ضلع میں شیو مندر باو¿ڑی کے پاس چٹانیں کھسکیں تو اس حادثے میں قریب 21لوگوں کے ملبے میں دبے ہونے اور وہاں سے راحت بچاو¿ کام میں 21لاشیں ملیں ہیں۔ ہماچل پر دیش کی اس جگہ پر سب سے بڑی چنوتی یہاں بڑی تعداد میں کھڑے دیو دار کے پیڑ جمع ملبہ ہے ۔ ریلوے لائن کے چنانیں گرنی کی زد میں آنے سے کافی پریشانیاں آئیں ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے منظر کے بارے میں ابھی تک انہوںنے سنا ہی تھا۔ اب دیکھ بھی لیا ہے ۔آب وہوا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہم نیچر (قدرت) کو مار رہے یا وہ ہمیں مار رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وقت پہاڑی ریاستوں میں قدرت کی اس تباہی داستان پر غم منانے کا نہیں بلکہ آب وہوا تبدیلی پر فوری قدم اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ در اصل سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس پورے واقعہ کیلئے بدلتی آب و ہوا اور ہماری کوتاہیاں سیدھے طور پر ذمہ دار ہیں۔ نیشنل سینٹر فار اٹموسفیرک سائنس اور یونیورسٹی آف ریڈنگ موسم سائنسداں ڈاکٹر اکشے دیورس کے مطابق تبدیلی موسم میں ایسے واقعات کی تیزی کو بڑھانے میں ایک یقینی رول نبھایا ہے ۔ جیسے آب و ہوا تبدیلی تیز ہو رہی ہے ۔ قدرتی آفات کا ٹرینڈر اور اس کی سنگینی بڑھ رہی ہے ۔وقت رہتے اگر ضروری قدم نہیں اٹھائے گئے تو اور زیادہ تباہی مچے گی۔ (انل نریندر)

22 اگست 2023

من مانی گرفتار ی ،پراپرٹی گرانے پر راحت !

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا ہے کہ من مانے ڈھنگ سے گرفتار کئے گئے لوگوں یا مکانوں کو گرانے یا غیر قانونی طریقے سے قرق جیسی کاروائی میں عدلیہ نظام میں راحت ملنی چاہئے ۔ منگل کے روز سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے یوم آزادی تقریب میں چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کی اصل طاقت یہی ہے کہ اس تک عام آدمی کی پہنچ ہے ۔سی جے آئی نے کہا کہ عدالتیں زندگی اور آزادی کیلئے سرپرستی حاصل کرنے کی محفوظ جمہوری جگہ ہے ۔ ان کے تبصرے کو حالیہ دنوںمیں ملزمان یا ان کے کنبے والوں کے مکان وغیر جائیداد کو ناجائز ڈکلیئر کر گرانے کی کاورائیوں کے سلسلے میں دیکھا جا رہا ہے۔ سی جے آئی نے کہا کہ عدلیہ کے سامنے سب سے بڑی چنوتی جانچ تک پہنچنے والی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے ۔ ساتھ ہی کہا کہ عدالتوں کے کام کی صلاحیت اس بات پر مرکوز ہوتی ہے کہ وہ آئینی فرائض کو کتنے ٹھوس طریقے سے جواب دے سکتے ہیں۔ آخر ی شخص تک انصاف پہنچنے پر زور دیتے ہوئے چیف جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ جب میں مستقبل کی جانب دیکھتا ہوں میرا خیال ہے کہ ہندوستانی عدلیہ کے سامنے سب سے بڑی چنوتی انصاف تک پہنچنے میں آنے والی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے ۔ ہمیں ان رکاوٹوں کو دور کرکے رد عمل کی شکل میں انصاف تک پہنچ بڑھانی ہوگی جو شہریوں کو عدالتوں میں جانے سے روکتی ہے ۔ ہمارے پاس یہ یقینی کرنے کیلئے روڈ میپ ہے کہ مستقبل کی ہندوستانی عدلیہ پر بھروسہ بڑھے اور لائن کے آخر میں کھڑے انصاف پہنچے ۔ چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کی توسیع اسکیم کے بارے میں بھی بتایا ۔ اس تحت 27مزید عدالتوں ،51جج صاحبا ن کے روم اور 4اسٹار روم ،اور 16وکیلوں اور مقدمہ لڑنے کیلئے دیگر ضروری سہولیا پیدا کرنے کیلئے ایک نئے بھارت میں شامل ہے۔ سپریم کورٹ کے طریقے کار نظام میں کئی تکنیکی تبدیلیوں کو شامل کرنے والے چیف جسٹس چندر چوڑ نے کہا کہ انصاف ہی کاروائیوںسے وابستہ نا اہلیت اور اس میں پیدا اڑ چنوں کو ختم کرنے کیلئے ٹکنالوجی ہمارے پاس سب سے اچھا آلہ ہے ۔ انہوںنے کہا کہ انصاف دلانے میں خانہ پوری میں آرہی رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے پوری صلاحیت کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا۔ اور اس کے ای-کورٹ پروجیکٹ کا تیسرا مرحمہ شروع ہو رہا ہے ۔ جلد ہی عدلیہ فیصلہ لینے میں پوری ترجیح سے نمٹنے کیلئے ایک کتابچہ جاری ہوگا۔ (انل نریندر)

آئین بدلنے پر شروع ہوا تنازعہ !

وزیر اعظم نریندر مودی کی اکنومک اڈوائزری کونسل کے چیئر مین ویویک دیو رائے نے ایک اخبار میں بھارت کیلئے نئے آئین کی مانگ کرتے ہوئے لکھا تھا ۔ اسے لیکر تنازعہ بڑھا تو وزیر اعظم پینل سے صفائی پیش کرتے ہوئے اور خود کو مرکزی سرکار کو اس سے الگ کرلیا ۔ای اے اے سی -پی ایم نے سوشل میڈیا پر وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ ڈاکٹر ویویک دیو رائے کا حالیہ آرٹیکل ان کی شخصی رائے تھی،وہ کسی بھی طرح سے کونسل یا بھارت سرکار کے نظریات کو نہیں بتاتا ۔ای اے اے سی -پی ایم حکومت ہند خاص کر وزیر اعظم کواقتصادی اشوز پر مشورہ دینے کیلئے قائم کردہ باڈی ہے ۔ اس میں انہوںنے لکھا تھا : اب ہمارے پاس اب وہ آئین نہیں ہے جو ہمیں 1950میں وراثت میں ملا تھا۔ اس میں ترمیم کی جاتیں ہیں۔ اور ہر بار وہ بہتری کیلئے نہیں ہوتی ۔ حالاںکہ 1973سے ہمیں بتایا گیا کہ اس کا بنیادی ڈھانچہ بدلا نہیں جا سکتا بھلے ہی پارلیمنٹ کے ذریعے سے جمہوریت کچھ بھی چاہتی ہو جہاں تک میں اسے سمجھتا ہوں ،1973کا فیصلہ موجودہ آئین میں ترمیم پر نافذ ہوتا ہے ۔ مگر نیا آئین ہو گا تو یہ قاعدے اس پر نافذ نہیں ہوںگے ۔ دیو رائے نے ایک مطالعے کے حوالے سے بتایا کہ تحریری آئین کو دور زندگی محض 17سال ہوتا ہے ۔ لیکن ہندوستان کے موجود ہ آئین کو ایک قدیمی سرمائی وراثت بتاتے ہوئے انہوںنے لکھا کہ ہمارا موجودہ آئین کافی حد تک 1935کے حکومت ہند کے ایکٹ پر مبنی ہے ۔اس کا مطلب ہے کہ یہ ایک سرمائی وراثت ہے ۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں آئین پر دوبارہ نظر ثانی کرنی چاہئے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ متنازعہ ہے ۔ کیوں کہ وقت وقت پر دنیا کا ہر ملک اپنے آئین پر نظر ثانی کرتا ہے ۔ ہم نے ایسا ترمیم کے ذریعے کیا ہے۔ دیو رائے کے اس آرٹیکل پر نکتہ چینی کی جا رہی ہے ۔کئی نیتا اور ممبر پارلیمنٹ اس پر اپنی رائے دے رہے ہیں۔ لالو پر ساد یادو نے بھی اس آرٹیکل پر کہا ہے کہ کیا یہ سب کچھ پی ایم کی مرضی سے ہو رہا ہے ؟ انہوںنے ٹویٹر پر لکھا کہ وزیر اعظم مودی کا کوئی اقتصادی مشیر ہے ویویک دیو رائے وہ بابا صاحب کے آئین کی جگہ نیا آئین بنانے کی وکالت کر رہا ہے ۔ کیا وزیر اعظم کی مرضی سے یہ سب کہا اور لکھا جا رہا ہے۔ سی پی ایم ایم پی جان وسواش لکھتے ہیں کہ ویویک دیو رائے نیا آئین چاہتے ہیں ۔ ان کی خاص پریشانی آئین کی بنیادی ڈھانچے میں درج سماج وادی ،سیکولر ، جمہوریت جیسے الفاظ ہیں۔ حقیقت میں وہ ہندو راشٹر کی وکالت کرتے ہیں۔ اگر انہوںنے نجی حیثیت سے لکھا ہے تو اپنا عہدہ آرٹیکل کے ساتھ کیوںلکھا ؟سال 2017میں اس وقت کے وزیر مملکت اننت ہیگڑے نے بھی آئین بدلنے کو لیکر بیان دیا تھا۔ اور ان کا کہنا تھا کہ بھاجپا آئین بدلنے کے وعدے پر اقتدارمیں آئی ہے ۔ اور یہ مستقبل قریب میں ایسا کیا جائے گا۔ ہم یہاں آئین کو بدلنے کیلئے آئے ہیں ۔ہم اسے بدل دیںگے۔ (انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...