Translater

08 اگست 2026

کیا پاکستان اندر سے ٹوٹ رہا ہے ؟



پاکستان اس وقت سنگین اندرونی جدوجہد ،سیاسی عدم استحکام اور صوبوں میں مسلح بغاوت جیسی سنگین اندرونی چنوتیوں سے لڑرہا ہے ۔فوج کے بڑھتے دخل ، اقتصادی بحران اور دہشت گردوں کے تابڑتوڑ حملوں کے سبب دیش کے اندر خانہ جنگی جیسے حالات بنے ہوئے ہیں ۔پاکستان کے 4 صوبے ہیں ان میں سے بلوچستان صوبہ میں علیحدگی پسند بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے ) نے بغاوت کا جھنڈا بلند کیا ہوا ہے ۔خیبر پختونخواہ صوبہ میں افغان طالبان کا دبدبہ بڑھتا جارہا ہے ۔آئے دن طالبان کے حملوں سے یہاں پاک فوج کے پاؤں اکھڑ رہے ہیں ۔پی او کے میں پاکستانی فوج کی بربریت پر بغاوت کی صورتحال بنی ہوئی ہے ۔چلیے تفصیل سے ساری صورتحال کو بتاتے ہیں ۔بلوچستان پاک کا سب سے بڑا پھیلا ہوا تقریباً 45 فیصدی سب سے بڑا خطہ ہے ۔ایران سے اس کی سرحد لگتی ہے ۔بلوچستان کے بی ایل اے لڑاکے الگ دیش کی مانگ کررہے ہیں ۔حالت یہ ہے بلوچ لڑاکوں اور پستو (پٹھان ) باغیوں کا بلوچستان صوبہ میں تقریباً 70 فیصد حصے میں قبضہ ہوچکا ہے ۔اصلی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی سرکار پولیس اسٹیشن کھلا رخ رکھ سکتی ہے۔ سارے صوبہ پر ٹریفک چلاسکتی ہے بازار اور کاروبار بحال رکھ سکتی ہے اور لوگوں کو بغیر ڈر کے سفر کرنے کی سیکورٹی دے سکتی ہے ؟ خیبر پختونخواہ پاکستان کا سرحدی علاقہ ہے ۔ڈورنٹ لائن پاک اور افغانستان کو الگ کرتی ہے ۔ افغانستان میں طالبان سرکار کے پانچ سال میں خیبر کے زیادہ تر علاقہ میں انہیں کا دبدبہ ہے ۔خیبر میں پاک سرکار کا قانون نہیں بلکہ طالبان کا شرعی قانون چلتا ہے ۔دراصل اس علاقہ میں تقسیم کے وقت سے ہی قبائلی نظام لاگو رہا ہے ۔سوات اور سیدو چنگورا اور مردن میں لویا جرگا کے ذریعے قانون چلتا ہے ۔یہ جرگا اصل میں شرعیہ قانون کو لاگو کرتی ہے ۔افغان طالبان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی ) تنظیم کو اپنے اڈوں میں پناہ دیتا ہے ۔عمران خان کی سرکار نے 2021 میں ٹی ٹی پی کے ساتھ صلح کی کوشش کی لیکن عمران کی گدی جاتے ہی ٹی ٹی پی نے خیبر میں اپنےدبدبہ کواور بڑھا لیا ۔خیبر کے وزیرستان میں پاکستان فوج کئی فوجی کاروائیاں کر چکی ہے ۔لیکن یہاں ابھری ٹی ٹی پی قابض ہے ۔آئے دن ٹی ٹی پی کے حملوں کے سبب اسکول اور کالج بند رہتے ہیں ۔پنجاب اور سندھ کے اصل باشندے نگراں خیسر میں اپنی پوسٹنگ نہیں چاہتے ۔پاکستان کے قبضہ والے کشمیر (پی او کے) اور دیگر علاقوں میں کچلنے والی پالیسیوں اور اختیارات کی عدولی کو لے کر جنتا میں بھاری ناراضگی اور زبردست مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں ۔بڑی تعداد میں مظاہرین مارے جا چکے ہیں ۔اگر ہم سیاسی پش منظر کی بات کریں تو سرکار فوج کےبیچ اقتدار کے تجزیوں اور حالیہ آئینی ترامیم کو لے کر عدلیہ اور سیاسی گلیاروں میں تلخ کھینچ تان اور بغاوت کا ماحول ہے ۔کل ملا کر پاکستان کے اندرونی حالات بہت خراب ہو رہے ہیں ۔اگر یہی صورتحال رہی تو پاکستان کے کئی ٹکڑوں میں بٹنے کے امکان سے انکار نہیں کیاجاسکتا ۔
(انل نریندر)

06 اگست 2026

پھر پلٹے ٹرمپ : ایران میں ذہنی جنگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران پر بڑے حملے کی دھمکی کےبعد ایک بار پھر پلٹ گئے ہیں ۔ٹرمپ کی یہ تو پلٹنے کی عادت بن گئی ہے ۔یہ4تھی مرتبہ بار ہے جب ٹرمپ دھمکی دے کر پلٹے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ اب ان کی دھمکی کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا ۔ان کا کھلے عام مذاق اڑایاجاتا ہے ۔ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مغربی ایشیا کے ساتھی ملکوں نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کو ختم کرنے کے لئے ایک معاہدے کی شکل میں لائن پر رضامندی بنا لی ہے۔ فی الحال وہ پانچ ماہ سے جاری اس لڑائی میں ایران پر نئے فوجی حملے کا حکم نہیں دیں گے ۔اُدھر ،ایران نے ٹرمپ کی دھمکیوں کو ذہنی جنگ بتایا ہے۔ ٹرمپ نے سنیچر کو کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں ہرمز جل ڈروم وسط کو فوراً پوری طرح کھولنا و اس کے نیوکلائی خطرے کا خاتمہ شامل ہوگا ۔کہاں اس درخواست کی بنیاد پر میں نے مستقبل کے مفاد میں حملوں کو روکنے کی رضامندی دی تھی بشرطیکہ جلد ہی کوئی سمجھوتہ ہو سکے ۔ٹرمپ نے سمجھوتے میں اسرائیل کی رضامندی کی بات بھی کہی ہے ۔کیا ٹرمپ ایران پر نیوکلیائی حملہ کرنے کے بارےمیں سوچ رہا ہے ؟ جب ٹرمپ یہ کہتے ہیں کہ میں نے دنیا کے مستقبل کو خطرے میں ڈالنے سے بچنے کے لئے فی الحال ایران پر حملے کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کا مطلب یہ نکالیں کہ ٹرمپ ایران پر ایٹم بم مارنے کی سوچ رہے ہیں ؟ ویسے بھی ٹرمپ اتنی بار اپنے بیانوں سے پلٹے ہیں کہ اب انہیں شایدہی کوئی سنجیدگی سے لیتا ہو؟ ایران نے ٹرمپ کے حملے ٹالنے کے فیصلے کا مذاق بھی اڑایا ہے ۔ایرانی میڈیا نے ٹرمپ کے دعووں کو جھوٹ بتاتے ہوئے لکھا کہ تہران میں کبھی حملے روکنے کی اپیل نہیں کی ۔ایرانی میڈیا نے ٹرمپ کے دعوؤں کو جھوٹا بتاتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی میزائلوں کی کمی اور بڑھتے دباؤ کے سبب ٹرمپ پیچھے ہٹے ہیں ۔ٹرمپ کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا امریکہ نے اپنی کمزور ی چھپانے کے لئے پوری کہانی گھڑی ہے ۔ٹرمپ کی ہوا ایک بار پھر ایران نے نکال دی ہے۔ یہ پہلی بار نہیں پہلے بھی ٹرمپ دھمکی دے کر اپنے قدم پیچھے کر چکے ہیں ۔ایران کی مرف سرکاری نیوز ایجنسی فارم نے ٹرمپ پر طنز کرتے ہوئے لکھا کے بے وقوف ٹرمپ کی ساری ہوا نکل گئی ہے ۔وہیں مہر نیوز ایجنسی نے کہا کہ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی کھوکھلی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ کر اسے دنیا کے سامنے احسان کی طرح پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ایجنسی مہر نے فوجی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ایرانی فوج پوری طرح چوکس ہے اور کسی بھی صورتحال کا جواب دینے کےلئے تیار ہے ۔ایجنسی نے ٹرمپ کے دعوؤں کو ایک اور جھوٹ بتایا ۔ایران نے امریکہ کو ایک بار پھر وارننگ دی ہے ایران نے کہا کہ اگر امریکی فوج نے ایرانی ٹھکانوں پر نئے حملے کئے تو وہ اس کا زوردار جواب دےگا اس سے پورے مشرقی وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ جائے گی ۔یہ وارننگ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد آئی ہے ، جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ تہران کے ساتھ بات چیت سے ان کا بھروسہ کم ہورہا ہے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ ان پر حملہ کرے گا ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے فوجی چیف عاصم منیر وترکیہ کے وزیر خارجہ حکن فدان اور سعودی وزیر خارجہ پرنس فیصل بن فرحان کے ساتھ الگ الگ فون پر بات چیت کے ذریعے اس کی جانکاری دی ۔ٹرمپ ایک بار پھر پلٹ گئے ۔
(انل نریندر)

04 اگست 2026

امریکہ میں 7 جگہ حملے کس نے کئے ؟

امریکہ کے 7 ریاستوں میں ایک کے بعد ایک زبردست اٹیک ہوئے ہیں یہ حملے سیدھے اس لائف لائن پر ہوئے ہیں ،جس کی درد سے عام جنتا کراہ اٹھی ۔اس حملے کے بعد ٹرمپ کا ایسا حال ہو گیا ہے کہ وہ ایران کا نام بھی نہیں لے پارہے ہیں ۔ٹرمپ الٹے اپنے ہی لوگوں کو بدنام کرنے میں لگ گئے ہیں ۔لیکن اپنے سب سے بڑے دشمن کی چالاکی دنیا کے سامنے یہ قبول نہیں کر پارہے ہیں ۔ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے درمیان امریکہ میں اچانک کچھ ایسا ہوگیا ہے جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے پسینے چھڑا دیے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے طاقتور ملک کی چھاتی پر ایک نہیں دو بلکہ ایک کے بعد ایک پورے سات بڑے حملے ہوئے ہیں ۔یہ حملے کسی عام جگہ نہیں ہوئے بلکہ سیدھے امریکی عوام کی لائف لائن پر ہوئے ہیں ۔شبہ ہے کہ اس پورے کھیل کے پیچھے امریکہ کا سب سے بڑا دشمن ایران ہی ہے ۔لیکن ٹرمپ کھلے عام اس کا نام لے رہے ہیں ۔اگر ٹرمپ نے دنیا کے سامنے یہ مان لیا کہ حملہ ایران نے ہی کیا ہے تو ثابت ہو جائے گا کہ تکنیکی معاملے میں وہ امریکہ سے آگے نکل چکا ہے ۔دراصل یہ حملے امریکہ کی پانی سپلائی کرنے والی سب سے اہم پائپ لائن اور پلانٹس پر ہوئے ہیں ۔اس سرکاری انفراسٹرکچر پر سات جگہ سے سائبر اٹیک کئے گئے ۔حالات اتنے خراب ہو گئے ہیں کئی ریاستوں میں پانی سسٹم کو بچانے کے لئے ڈومیٹک سسٹم بند کرکے ہاتھوں سے کام سنبھالنا پڑا۔ اب اس پورے کھیل میں سب سے بڑا جھٹکا امریکی سیاست اور ڈونلڈ ٹرمپ کو لگا ہے ۔کیوں کہ جب دنیا کی نظریں ایران پر ٹکی رہی ہیں تب ٹرمپ سیدھے طور پر ایران کا نام لینے سے بچ رہے ہیں۔ اس بڑے سنسنی خیز سائبر حملے کی پہلی منیسوٹا اسٹیٹ سے لگی 26 اور 27 جولائی کے درمیان یہاں سے 30 سے زیادہ کمیونٹی واٹر سسٹم کو ہیکرس نے اپنا نشانہ بنایا ۔منے سوٹا آئی ٹی سروس نے جب آناً فاناً میں جانچ شروع کی تو پتہ چلا کہ کسی نے جان بوجھ کر پانی کی سپلائی لائن کنٹرو ل کرنے والے سسٹم کا ایکسس ہتھیا لیا تھا ۔ترجمان ایملی نیمر کا کہنا تھا کہ معاملے کی جانچ بہت تیزی سے چل رہی ہے ۔جس طریقہ سے اس معاملے کو انجام دیا گیا وہ ٹھیک ویسا ہی ہے جیسا ہمارے فیڈرل پوٹرلس نے پہلے کریٹیبل انفراسٹرکچر پر ہوئے حملوں میں دیکھا تھا ۔ہیکرس نے بہت ہی چالاکی سے پانی کے پلانٹس میں لگے پروگرام ویل لیکج کنٹرولرس کو اپنا شکا ر بنایا ۔امریکہ کی جانچ ایجنسیاں مان رہی ہیں کہ اس حملے کا پیٹرن ایران کے پرانے سائبر حملوں سے کافی ملتا جلتا ہے لیکن سب سے بڑا ڈرامہ تب شروع ہوا جب صدر ڈونلڈ  ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ۔ٹرمپ نے اس خوفناک حملے کا قصور سیدھے ایران پر ڈالنے کے بجائے اپنے ہی سسٹم پر پھوڑ دیا ۔کابینہ میٹنگ کے دوران ٹرمپ نے ایران کا بچاؤ کرتے جیسا بیان دیا اور کہا کہ لوگ کہہ رہے ہیں کہ منیسوٹا کے 30 واٹر پلانٹس پر جو حملہ اس کے پیچھے ایران ہے ۔مجھے ایسا بالکل نہیں لگتا میں اس کے لئے منیسوٹا کے ناکام انتظامیہ اور وہاں کے کرپٹ گورنر کو ذمہ دار مانتاہوں ۔ایران کے پاس منیسوٹا کےبارے میں سوچنے سے بہت بڑے اشوہیں ۔ٹرمپ کے اس رویہ سے ہر کوئی حیران ہے ۔جہاں ایکسپرٹرس اسے سیدھے طور پر ایران سے جوڑ رہے ہیں وہی ٹرمپ ایران کا نام لینے سے کترا رہے ہیں ۔اور اپنے ہی حکام کو قصوروار ٹھہرا رہے ہیں اس پر منیسوٹا کے گورنر نے جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کو اچھی طرح پتہ ہے کہ حملہ آور کون ہے وہ سچائی سے بھاگ رہے ہیں ۔
(انل نریندر)

مہنگی چینی : کیا وجہ اتھنول تو نہیں ؟

بھارت میں چینی کے دام پچھلے ماہ سے تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرس کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف اسی ماہ بھارت میں چینی کی قیمتوں م...