Translater
29 جون 2024
آکاش 47 دن میں کیسے سنجیدہ ہوگئے؟
بسپا چیف مایاوتی اپنے چوکانے والے فیصلوں کے لئے جانی جاتی ہیںسبھی حیران ہوئے تھے جب انہوں نے اپنے بھتیجے آکاش آنند کو لوک سبھا چناو¿ کے بیچ میں 7 مئی کو اپنے جانشین اور قومی کوآرڈینیٹر کے عہدے سے ہٹا دیا تھا ۔تب انہوں نے سنجیدہ ہونے تک عہدے سے ہٹانے کی بات کہی تھی ۔اب ٹھیک 47 دن بعد اتوار کو بسپا کی قومی میٹنگ میں آکاش کو پھر سے آشیرواد دے دیا ۔اور وہ پہلے کی طرح عہدوں پر بحال ہو گئے ۔سیاسی گلیاروں میں یہی سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر 47 دنوں میں ا ٓکاش آنند کیسے سنجیدہ ہو گئے ۔کیوں کہ ان کو ہٹاتھا اور پھر بحال کر دیا گیا ؟ایسا کرنے کے پیچھے سیاسی کہانی ہے یا کوئی مجبوری ۔لوک سبھا چناو¿ میں بسپا کو بڑا جھٹکا لگا ہے اور وہ اپنے کیڈر بورڈ کوبھی نہیں بچا سکی ہیں ۔بسپا کے لئے یہ سب سے برا دور ہے ۔بہن جی نے آکاش آنند کو پھر سے کیوں بحال کیا ۔پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آکاش کی واپسی تو ہونی ہی تھی ۔لوک سبھا چناو¿ کے بعد اہم عہدیداران اور کوآرڈینیٹروں سے بہن جی نے جب فیڈ بیک لیا تو اس میں یہی بات سامنے آئی کہ آکاش کو چناو¿ کے بیچ ہٹانے سے کافی نقصان ہوا ہے کیوں کہ نوجوان ان کو پسند کرتے ہیں ۔بی ایس پی کے پاس اب خود مایاوتی کے علاوہ پہلے کی طرح بڑے چہرے نہیں ہیں ۔ایسے میں آکاش یہ چہرہ ہوسکتے ہیں خاص طور سے جب کانگریس میں راہل گاندھی وپرینکا گاندھی ہیں ۔سپا میں اکھلیش جیسے چہرے ہیں ایسے ہی آکاش کے ساتھ نوجوان جڑیں گے ادھر آزاد سماج پارٹی کے صدر چندرشیکھر خود بھاری اکثریت سے جیتے ہیں ۔ان کے ساتھ نوجوان جڑ رہے ہیں ایسے میں خطرہ یہ بھی ہے کہ کہیں بسپا کے کیڈر ووٹ اور نوجوان وہاں نہ چلے جائیں ۔ڈھلتی عمر کے ساتھ ساتھ پارٹی کے کھستے ووٹ بینک کو دیکھتے ہوئے مایاوتی کو اور اپنے بھتیجے آنند سے چمتکار کی بڑی امید ہے ۔سال 2027 میں اسمبلی چناو¿ ہونے ہیں ۔دو دہائی پرانے 2007 کے نتیجے دہرانے کے لئے مایاوتی نے آکاش پر بڑا داو¿ کھیلا ہے۔2006 میں کاشی رام کے نا رہنے کے بعد 2007 کے اسمبلی چناو¿ میں جس بسپا نے 30.45 فیصد ووٹ اور 206 ممبران اسمبلی کے ساتھ پہلی بار ریاست میں اکثریت کی حکومت بنائی تھی ۔اس کا اس وقت نا لوک سبھا میں اور نہ رہی ریاستی اسمبلی میں کوئی ممبر ہے ۔اسمبلی میں صرف ایک ممبر ہے جبکہ ودھان پریسد میں کوئی ممبرنہیں ہے ۔پارٹی کے تیزی سے کھسکتے ووٹ بینک کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اٹھارہویں لوک سبھا ان کو صرف 9.39 فیصد ووٹ ملے ۔اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ محروم سماج میں بھی اب بہن جی کا پہلے جیسا جادو نہیں چلا ۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ مانی جاتی ہے کہ مایاوتی نے غلط وقت پر غلط فیصلے کئے ۔بسپا ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ میں لوک سبھا چناو¿ میں ہار کے اسباب کا جائزہ لیا گیا ۔اس میں کہا گیا کہ اپوزیشن پارٹیوں نے آئین بچاو¿ جیسے اشو کو زور شور سے اٹھایا اور وہ دلتوں کو بھا گیا ۔سپا کا پردے کے پیچھے بی جے پی کا ساتھ دینا اور انڈیا یادو کیساتھ نا آنا بھی بہن جی کو بہت بھاری پڑا ۔دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا بسپا اب اپنے کھوئے ہوئے ووٹ بینک کو واپس لا سکے گی ؟
(انل نریندر)
راہل گاندھی اپوزیشن کے لیڈربنے!
کانگریس نے منگلوار کو اعلان کیا کہ راہل گاندھی لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر بن گئے ہیں ۔2004 میں چناوی سیاست میں آئے راہل تبھی سے کوئی عہدہ لینے سے بچتے رہے ہیں یہاں تک کہ پارٹی چیف کے عہدے سے بھی استعفیٰ دے دیا تھا ۔لیکن اب راہل گاندھی ایک سنجیدہ لیڈر کی ساکھ کی طرح ڈھل رہے ہیں پہلے نانا کرتے رہے اب عہدہ سنبھال لیا ہے ۔لوک سبھا میں اپنی بات رکھی د س سال بعد ان کو اپوزیشن لیڈر کا عہدہ ملا ہے ۔بدھوار کو لوک سبھا میں بطور اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی پہلی بار بولے انہوں نے اسپیکر اوم برلا کے پھر سے اسپیکر بننے پر بھی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ سرکار کے پاس سیاسی طاقت ہے لیکن اپوزیشن بھی بھارت کے لوگوں کی آواز کی نمائندگی کر رہی ہے ۔اپوزیشن آپ کو پارلیمنٹ چلانے میں مدد کرے گی یہ بات بہت اہم ہے کیوں کہ تعاون کے بھروسہ کے ساتھ ہونا چاہیے اپوزیشن کی آوازپارلیمنٹ میں سنائی دے یہ بہت ضروری ہے ۔ہمیں پوری امید ہے کہ اپوزیشن کی آواز پارلیمنٹ میں دبائی نہیں جائے گی ۔راہل گاندھی کو کروڑوں د یش واسیون نے اس امید کیساتھ چنا ہے کہ وہ جنتا کے اشو پارلیمنٹ میں زور وشور سے اٹھائیں گے اس سرکار کے تیور پہلے جیسے ہی ہیں ۔آج بھی یہ سرکار ویسے ہی چلانے کی کوشش کرر ہی ہے جیسے پچھلی لوک سبھا میں چلی تھی ۔تھوڑا سا دبنگی بیشک کم ہوئی ہے لیکن تیور وہیں کے وہیں ہیں ۔موصولہ اشاروں سے صاف ہے کہ ڈر کے سہارے ای ڈی کے سہارے اور سی بی آئی کے سہارے انکم ٹیکس کے سہارے یہ سب ویسے ہی چلیں گے ۔راہل گاندھی و تمام اپوزیشن اس کا کیسے مقابلہ کرے گی ؟اروند کیجریوال کی مثال ہمارے سامنے ہے ،ہیمنت سورین کا کیس کسی سے چھپا نہیں ہے ۔راہل اب اپوزیشن لیڈر ہیں ناکہ صرف کانگریس نیتا انہیں پورے اپوزیشن کا خیال رکھنا ہوگا ۔اروند کیجریوال ہیمنت سورین جیسے کیسوں کے خلاف بھی انہیں اب پوری طاقت سے احتجاج کرنا ہوگا۔ پارٹی مفاد سے بالا تر ہوکر آئین کی حفاظت کرنی ہوگی ۔یہ پھر سے ڈر وخوف کا جو ماحول پچھلی سرکار نے بنایا تھا اس کا سخت مقابلہ کرتے ہوئے انہیں فیل کرنا ہوگا ۔جن اشوآئین ،مہنگائی ،بے روزگاری،پیپر لیک ہونے ای ڈی اور دیگر ایجنسیوں کا بیجا استعمال روکنے کا پارلیمنٹ میں زور شور سے معاملہ اٹھانا ہوگا ۔اور دیش کو ڈر وخوف کے ماحول سے نجات دلائی جائے اس پر حکمت عملی تیار کرنی ہوگی ۔راہل گاندھی کے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر بننے سے پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر ان کا قدبڑھا ہے ۔انڈیا گٹھ بندھن کے اتحادی پارٹیوں کے بیچ لو ک سبھا میں تامل میل بٹھانا ہوگا۔پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپوزیشن ایک حکمت عملی بنا کر چلے اور اس پر دھیان دینا ہوگا ۔اپوزیشن لیڈر شیڈو پردھان منتری ہوتاہے ۔اپوزیشن کی نہ صرف وہ قیادت کرتا ہے بلکہ کئی ضروری تقرریوں میں بھی پی ایم کے ساتھ بیٹھتا ہے ۔پی ایم کے نظریہ اور اپروچ میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے ۔راہل کیسے ایڈجسٹ کریں گے وہ دیکھنا ہوگا ۔قائم کرپانا راہل گاندھی کے لئے چنوتی ہوگی ۔اپوزیشن کے لیڈر کی سب سے اہم رول پارلیمانی کمیٹیوں اور سلیکشن کمیٹیوں میں ہوتا ہے ۔سلیکشن کمیٹی ،انفوسمنٹ ڈائرکٹوریٹ سی بی آئی ،سینٹرل ویجلنس کمیشن ،سینٹرل انفارمیشن کمیشن ،لوک پال ،ساتھ ہی چناو¿ کمشنروں ،قومی انسانی حقوق کمیشن کے چیئر مین جیسے کافی اہم عہدوں پر تقرری کرتی ہے ۔بھارت جوڑو یاترا کے دوران راہل گاندھی نے میڈیا سے کہا تھا کہ میں نے سب کچھ چھوڑ دیا ہے ۔اب میں وہ راہل گاندھی نہیں ہوں ۔
(انل نریندر)
26 جون 2024
چرچ میں گھس کر پادری کا قتل وفائرنگ!
روس کے نارتھ کراکش میں واقع داغستان میں اتوار کو مسلح حملہ آوروں نے چرچ اور سنیگاگ یعنی (یہودیوں کی عبادت گاہ) کو نشانہ بنایا ۔اس حملے میں 15 پولیس جوانوں سمیت کئی لوگ مارے گئے ۔پولیس کی جوابی کاروائی میںچھ حملہ آور مارے گئے ۔مسلح لوگوںنے روس کے شمالی صوبہ میں واقع داغستان کے ڈربٹ اور مخام کالا میں اس وقت حملہ کیا جب لوگ ایک مذہبی تیوہار منا رہے تھے ۔حملہ آروں کی پہچان تونہیں ہو پائی لیکن اس علاقہ میں پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں مرنے والوں میں پولیس ملازمین کے علاوہ گرجا گھر کے پادری اور سیکورٹی گارڈ وغیرہ شامل ہیں ۔داغستان حملے سے پہلے بھی خبروں میں چھایا رہ چکا ہے ۔پچھلے سال اکتوبر میںشہر کے ایئر پورٹ میں کچھ لوگ گھس گئے تھے تو اسرائیل راجدھانی تل ابیب سے آئے تھے ۔تل ابیب سے آئے لوگوں کی تلاش کررہے تھے یہ سبھی فلسطین حمایتی تھے جو یہودیوں مخالف نعرے لگا رہے تھے اس واردات کا ویڈیو سامنے آیا تھا جس میں دیکھا گیا تھا کہ ویسے سینکڑوں لوگ ایئر پورٹ ٹرمنل پر یہودی مخالف نعرے بازی کر رہے تھے اور ہاتھوں میں فلسطینی جھنڈے لئے ہو ئے تھے اور اللہ اکبر کے نعرے لگا رہے تھے ۔روس کی تفتیشی کمیٹی نے اسے دہشت گردانہ حرکت کہا ہے ۔اس نے داغستان میں حملے کی جانچ شروع کر دی ہے ۔داغستان روس کی ایک بری مسلم آبادی والا صوبہ ہے جو چیچنیا کے پڑوس میں ہے ۔حملہ میں مرنے والے پادری کی پہچان فادر نیکولاج کی شکل میں ہوئی ہے ۔اس سے پہلے حکام نے بتایا تھا کہ حملہ آورون نے ان کا گلا کاٹا اس کے بعد چرچ کے باہر تعینات ایک سیکورٹی گارڈ کوبھی مار ڈالا ۔روسی یہودی کانگریس نے بتایا کہ ڈربٹ ماخم کالا میں ایک یہودی پر حملہ کیا گیا ۔اس کے چالیس منٹ پہلے پرارتھنا ہو چکی تھی اور وہاں کوئی موجود نہیں تھا حملہ آوروں نے سنیگاگ کی بلڈنگ کو بھی آگ لگا دی ۔اس دوران باہر کھڑے پولیس ملازم و سیکورٹی گارڈ حملے میں 4 مار ے گئے ۔روسی یہودی کانگریس نے کہا کہ متوفین اور زخمیوں کی صحیح تعداد کے بارے میں نہیں بتایا جاسکتا ۔جغرافیائی طور سے یہ علاقہ بہت خوبصورت نظر آتا ہے لیکن اندر سے اتنا ہی کمزور ہے ۔19 ویں صدی سے ہی داغستان نے اب تک مضبوطی نہیں دیکھی ہے ۔وہاں زار کی حکومت رہی پھر اسٹالن کا دور آیا اس صوبہ کے لوگوں نے ہمیشہ مشکلوں کا سامنا کیا ہے ۔اسلامی طاقتوں نے اس علاقہ میں اپنی موجودگی ہمیشہ درج کروائی ہے ۔سماج واد کے دور کے بعد اسلامی داغستان میں خوب پھیلا اور اس جگہ پر تقریباً 3 ہزار مسجدیں ،اسلامی ادارے اور اسکول ہیں ۔سال 2012 میں ایک سروے کے مطابق 83 فیصد لوگ اسلام کو ماننے والے ہیں ۔داغستان میں گزشتہ کچھ دہائیوں میں ایسا دیکھا گیا ہے جب اسلامی انتہا پسند تنظیم روسی سیکورٹی فورسز کیساتھ لڑتے رہے ہیں لیکن 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہوئی اسرائیل فلسطین جنگ کے بعد داغستان میں یہودیوں پر حملے تیز ہوئے ہیں یہاں کی اکثریتی آبادی سنی مسلمانوں کی ہے ۔داغستان مشہور اسلامی ہیرو امام شمیل کا وطن بھی ہے ۔
(انل نریندر)
کون ہوگا بھاجپا کا نیا صدر؟
پی ایم مودی نے اپنی نئی کیبنیٹ میں بھاجپا کے قومی صدر جے پی نڈا کو بھی جگہ دی ہے ۔وزیر بنائے جانے کے بعد اب بھاجپا کے نئے صدر کی تلاش تیز ہوگئی ہے ۔بطور صدر نڈا کی میعاد اسی سال جنوری میں ختم ہو چکی ہے ۔پھر بھی لوک سبھا چنا و¿ تک ان کے عہدے میں توسیع کر دی گئی تھی جو اب چند دنوں میں ختم ہونے والی ہے ا س درمیان میڈیا میں خبر ا ٓئی کہ اس سال چار ریاستوں مہاراشٹر ،جھارکھنڈ ،ہریانہ و جموںکشمیر اسمبلی چناو¿ تک جے پی نڈا صدر بنے رہ سکتے ہیں ۔مودی جی اور امت شاہ چاہتے ہیں کہ نیا بھاجپا صدر ان کی پسند کا ہو لیکن آر ا یس ایس کو شاید یہ قبول نہ ہو ۔آر ا یس ایس نے لگتا ہے کہ فیصلہ کر دیا ہے کہ بھاجپا کا نیا صدر ان کی رضامندی سے بنے ۔وہ نہیں چاہتا کہ مودی شاہ اپنی مرضی سے فیصلہ تھوپیں ۔دراصل سنگھ کے ذرائع سے پتہ چلتا ہے کہ یہ فیصلہ کر لیاہے کہ پارٹی کو مودی شاہ کی جوڑی سے دور رکھا جائے ۔مودی شاہ اپنی سرکار چلائیں اور پارٹی سنگھ کے اشارے پر چلے ۔یہ ایک رائے ہے ۔وہ مودی شاہ کی جوڑی کی سرکار اور پارٹی د ونوں پر مکمل کنٹرو ل نہیں چاہتی کیوں کہ ان کا خیال ہے کہ بھاجپا اس ڈھنگ سے کام نہیں کررہی ہے جیسے انہیں کرنا چاہیے ۔ویسے پچھلے دنوں مودی شاہ کے اشارے پر جے پی نڈا نے سنگھ کو صاف اشارہ دے دیا تھا کہ اب بھاجپا کو سنگھ کی ضرورت نہیں ہے ۔واجپائی کے ٹائم پر بھاجپا کمزور تھی اور اسے سنگھ کی ضرورت تھی لیکن اب بھاجپا بہت بڑی پارٹی بن گئی ہے اور ا نہیں سنگھ کی ضرورت نہیں ہے ۔سنگھ اپنے تہذیبی پروگرام چلائے ۔بھاجپا صدر کے چناو¿ کی کاروائی میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے کیوں کہ پارٹی انجمن چناو¿ بھی جلد ہوں گے جن کے پورا ہونے میں وقت لگ سکتا ہے ایسے میں ممکن ہے کہ مرکزی پارلیمانی بورڈ تب تک نڈا کو صدر بنائے رکھ کر نگراں صدر کی تقرری کر سکتاہے ۔دونوں ہی حالات میںآر ایس ایس کا رول اہم ہے ۔سنگھ سیدھے طور پر بھاجپا کے کام میں دخل نہیں دیتی لیکن سنگھ کی ایک سسٹر انجمن ہونے کے ناطے بھاجپا انجمن کا تانا بانا سنگھ ہی بنتا ہے ۔سنگھ سے آئے مکمل پرچارک بھاجپا میں تنظیم کے جنرل سیکریٹریوں کا رول نبھاتے ہیں ۔چاہے وہ مرکزی سطح پر ہو یا ریاستی سطح پر مرکزکی چناوی سطح کوئی بھی کرلے لیکن تنظیم کی ریڑھ کی ہڈی سنگھ ہی رہتا ہے ۔حال کے چناو¿ میںبھاجپا اور سنگھ کے درمیان تال میل کی کمی سامنے آئی ہے ۔اب سنگھ کی کیرل میں ہونے والی تال میل کی میٹنگ میں جب بھاجپا صدر بھی حصہ لینے جائیں گے تب آگے کا مشورہ ہو سکتا ہے ۔ذرائع کے مطابق سنگھ بھاجپا کے صدر کی شکل میں ایسے شخص کو پسند کر سکتا ہے جو سنگھ پریوار سے ہو بلکہ تنظیم کو لیکر چوکس اور ورکروں کو ایک ساتھ جوڑ کر چلنے والا ہو ۔سنگھ نہیں چاہتا کہ تنظیم کا مکھیہ سرکار کا پچھل پنگو لگے ۔ابھی کسی ایک کا نام پر غور شروع نہٰیں ہوا ہے ۔حالانکہ بحث میں کئی نام ہیں حالانکہ ابھی کسی کے نام پر غورنہیں ہوا ہے وہ بھی رہیں گے لیکن فیصلہ کس پر ہوگا اسے لیکر سنگھ اور بھاجپا کی سینئر لیڈر شپ کے درمیان ابھی تبادلہ خیال ہونا باقی ہے ۔
(انل نریندر)
25 جون 2024
8پارلیمانی حلقوں میں ای وی ا یم کی جانچ ہوگی!
الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم ) کو لیکر کھینچ تان جاری ہے ۔چناو¿ نتائج پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے سیاسی پارٹیوں کی طرف سے ای وی ایم میں گڑ بڑی کی شکایت کرتے ہوئے سینٹرل چناو¿ کمیشن سے جانچ کی مانگ کی گئی ۔کمیشن نے 1 جون 2024 کو جاری ایس او پی کے تحت ملی کل 11 شکایات ناموں کا نوٹس لیتے ہوئے 6ر یاستوں میں 8 پارلیمانی سیٹوں کی 92 پولنگ اسٹیشنوں جبکہ آندھرا پردیش ،اڈیشہ ریاستی اسمبلی کی کل 3 سیٹوں کے 26 پولنگ بوتھوں پر ای وی ایم کی جانچ کے احکامات جاری کئے گئے ہیں ،تلنگانہ ،تملناڈو،مہاراشٹر میں 3 لوک سبھا سیٹوں کے 66 پولنگ اسٹیشنوں پر ای وی ایم کی شکایت بھاجپا نے کی تھی ۔لوک سبھا چناو¿ میں ہریانہ کے کرنال ،فرید آباد سیٹ سے بھاجپا نے جیت درج کی تھی ۔کرنال سیٹ پر جیت درج کر منوہر لال کھٹر وزیر بن گئے ۔جبکہ فرید آباد سے جیتے کرشن پال گوجر کو مرکزی مملکت وزیر بنایا گیا ۔ادھر آندھرا پردیش اور اڈیشہ کی تین ا سمبلی سیٹ کے لئے بھی ای وی ایم ویری فکیشن کے احکامات جاری کئے گئے ہیں ۔ہریانہ کی دونوں سیٹوں پر ای وی ایم ویریفکیشن کے لئے کانگریس کی طرف سے درخواست دی گئی ہے ۔کرنال لوک سبھا سیٹ کے 4 پولنگ مراکز جبکہ فرید آباد کے بڈکل پولنگ اسٹیشن پر ای وی ایم جانچ کے لئے درخواست دی گئی ہے ۔دونوں سیٹ پر کانگریس امیدواروں کی طرف سے شکایتیں کی گئی ہیں ۔تملناڈو کی دو سیٹوں پر بھاجپا اور ڈی ایم کے امیدوار نے ای وی ایم کی ویریفکیشن کے لئے درخواست دی ہے ۔اس کے علاوہ مہاراشٹر ،چھتیس گڑھ ،آندھرا پردیش ،تلنگانہ کی ایک ایک سیٹ پر درخواست ملی ہے ۔چھتیس گڑھ کی کانکیر مہاراشٹر کے احمد نگر ،تلنگانہ کے ظہیر آباد،اور آندھرا پردیش کے وجے نگر سیٹ کے پولنگ بوتھوں پر ای وی ایم ویریفکیشن کے لئے درخواست دی گئی ہے ۔لوک سبھا کل 8 میں سے بھاجپا کو 3 سیٹ پر اور کانگریس کو 2 سیٹ پر جیت ملی ہے ۔تین سیٹیں دوسری سیاسی پارٹیوں کے کھاتے میں گئی ہیں ۔الیکشن کمیشن کے مطابق 6 ریاستوں کی 8 پارلیمانی سیٹوں کے لئے ای وی ایم جانچ کی مانگ کی گئی ہے ۔چناو¿ کمیشن کی طرف سے ایک جون کوجاری ایس اوپی کے مطابق دوسرے اور تیسرے مقام پر آنے والے امیدوار کو ای وی ایم کے لئے 47200 روپے ادا کرنی ہوگی ۔متعلقہ او سی پی کے مطابق ای وی ایم بنانے والی کمپنیاں بھارت الیکٹرانک لمیٹڈ اور الیکٹرانک کارپوریشن آف انڈیا لمٹڈ اور الیکٹرانک کارپوریشن آف انڈیا لمٹڈ نے چالیس ہزار روپے اور اٹھارہ فیصدی جی ایس ٹی کی رقم طے کی ہے ۔اب چناو¿ عرضی کے اسٹیٹش کی تصدیق کی بنیا د پر ای وی ایم بنانے والے ایس او پی کی تعمیل کا پروگرام جاری کر چار ہفتہ کے اندر ای وی ا یم کی جانچ شروع کرائی جائے گی ۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ کاروائی پہلی بار شاید ہو رہی ہے دیکھیں جانچ میں کیا نکلتا ہے ۔
(انل نریندر)
سینکڑوں حاجیوں کی دردناک موت!
سعودی عرب میں دوران حج سینکڑوں حاجیوں کی موت کا تکلیف دہ واقعہ سامنے آیا ہے ان میں زیادہ تر لوگوں کی موت کاسبب شدید گرمی بتایاجاتاہے چونکہ لوگوں کو 52-53 ڈگری سیلسیس سے زیادہ درجہ حرارت کا سامنا کرنا پڑا۔خبر رساں ایجنسی اے ایف پی نے ایک عرب سفیر کے حوالے سے بتایا کہ دوران حج مصر کے 658 لوگوں کی موت ہوئی وہیں انڈونیشیا کا کہنا ہے کہ اس کے 200 سے زیادہ شہریوں کی موت ہوئی ہے ۔وہیں بھارت نے 98 لوگوں کے مرنے کی جانکاری دی ہے اس کے علاوہ پاکستان ،ملیشیا ،اردن ،ایران ،سینیگال ،سوڈان ،عراق کے قردستان نے بھی اپنے شہریوں کے مرنے کی تصدیق کی ہے ۔برطانیہ کے اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کا خیال ہے کہ حج سفر کے دوران کئی امریکی بھی مارے گئے ہیں ۔حج مسلمانوں کا سب سے بڑا مذہبی اجتماع ہے یہ اسلام کی پانچ فرائض میں سے ایک ہے یہ جسمانی اور اقتصادی طور سے مضبوط ہر مسلمان کے لئے فرض ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر سال ایک طے وقت پر دنیا بھر سے مسلم ممالک کے لاکھوں مرد اور عورتیں حج کرنے کے لئے سعودی عرب کے شہر مکہ میں جمع ہوتے ہیں ۔سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اس سال قریب 18 لاکھ لوگوں نے فریضہ حج ادا کیا ہے ۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق مرنے والوں میں آدھے سے زیادہ لوگوں نے اپنے سفر کا رجسٹریشن تک نہیں کرایا تھا جس کی وجہ سے انہیں ایئر کنڈیشن ٹینٹ اور بسوں جیسی سہولت نہیں مل پائی ۔سعودی عرب نے حج کے دوران ہوئی اموات پر ابھی تک کوئی رائے زنی نہیں کی ہے ۔اب بات کرتے ہیں ان اسباب کی جس کی وجہ سے عازمین حج کی اتنی تعداد میں موت ہوئی ۔ماناجارہا ہے کہ اس بار سعودی میں بہت زیادہ گرمی پڑ رہی ہے ۔وہاںچل رہی ہیٹ ویوو اتنی گرم تھی کہ بڑی تعداد میں حاجیوں کی موت ہوئی ۔حاجیوں کو زیادہ گرمی کے علاوہ جسمانی مشقت کرنی پڑتی ہے ۔بڑی بڑی کھلی جگہوں پر رکنا پڑتا ہے جس کے سبب گرمی زیادہ لگتی ہے ۔ہم حاجیوں میں کئی بزرگ اور بیمار بھی ہوتے ہیں ۔کئی رپورٹیں ایسی بھی آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ سعودی حکام کی بد انتظامی نے حالات مزید خراب کر دئیے ۔رہنے کا انتظام ٹھیک نہیں تھا خیموں میں ضرورت سے زیادہ لوگوں کو رکھا گیا ۔گرمی سے بچنے کے لئے ٹھیک انتظام نہیں تھے ۔38 سالہ امینہ پاکستان میں اسلام آباد کی باشندہ ہیں کا کہنا ہے کہ مکہ میں جن خیموں میں ہم رکے تھے وہ ایئر کنڈیشن نہیں تھے ۔جو کولر وہاں تھے ا ن میں زیادہ تر میں پانی نہیں ہوتا تھا ۔شکایت کرنے پر حکام سنتے نہیں تھے ۔ایک پرائیویٹ گروپ کے ذریعے حج سفر کا انعقاد کرنے والے محمد چاچا نے بی بی سی کو بتایا کہ گرمیوں کے دوران ایک عام حج مسافر کو جن میں قریب 13 کلو میٹر پیدل چلنا پڑتا ہے اس کی وجہ سے انہیں لو لگنے ،تھکان اور پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ہر سال حج کے دوران ہونے والی اموات کے لئے یہ وجہ بھی ہوتی ہے کہ زندگی بھر کی بچت کے بعد اپنی زندگی کے آخری وقت پر وہ حج پر جاتے ہیں ۔کئی مسلمان اس امید میں بھی مکہ جاتے ہیں کہ اگر کسی وجہ سے ان کی مو ت ہو تو حج کے دوران ہو کیوں کہ مقدس شہر میں مرنا ،وہاں دفن ہونا کسی دعاسے کم نہیں مانا جاتا ۔ایسے میں مرنے والوں کی پہچان اور ا نہیں دفن کرنے جیسے معاملے کا سعودی عرب سرکار خرچ اٹھاتی ہے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس
ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...