Translater

13 جون 2026

کیوبا ہے ٹرمپ کا اگلا نشانہ؟

بھارت میں ایک کہاوت ہے’ وناش کالے وپریت بدھی ‘یعنی جب آپ کا دماغ خراب ہوتا ہے تو آپ کی سب سے پہلے بدھی بھرشٹ ہوتی ہے ۔ یہی حال ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اس کے وزیر دفاع پیٹر ہیگسیتھ کا ۔ انہوں نے تازہ بیان دیا ہے جس سے لگتاہے کہ ٹرمپ کا اگلانشانہ کیوبا ہے ۔ پیٹر ہیگسیتھ نے حال ہی میں گوانتا ناموبے کا دورہ کیا اور کیوبا کو سخت الفاظ میں وارننگ دے ڈالی ۔ہیگسیتھ نے کیوبا کو صاف کر دیا کہ امریکہ کے خلاف کسی بھی طرح کی دھمکی برداشت نہیں کی جائے گی ۔انہوں نے مزید صاف کیا کہ تحران کے بعد یا ساتھ ساتھ کیوبا بھی ٹرمپ کے نشانہ پر ہیں ۔لگتا ہے کہ ٹرمپ اپنے پڑوسی ملک کیوبا کے خلاف جنگ چھیڑنے کے موڈ میں ہیں۔ ایران جنگ میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں اور باہر نکلنے کے لئے بے تاب ہیں اور اب کیوبا کو قبضانے کی دھمکی دے رہے ہیں ۔انہوں نے کیوبا کی اینرجی سپلائی کاٹنے کے بعد اب ایئر کرافٹ کیریئر یو ایس ایس نمیٹیج کو پورے کیریئر گروپ کے ساتھ تعینات کر دیا ہے ۔یہ تعیناتی ٹھیک اسی طرح کی ہے جسے انہوں نے وینزویلا پر حملہ کرنے سے پہلے وہاں کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانے کے لئے چاروں جانب تعینات کیا تھا ۔کیوبا پر حملے کی تیاری میں امریکہ نے کیوبا کے 94 سالہ سابق صدر رائل کاسترو پر قتل کا الزام بھی لگایاہے اس کے بعد قیاس آرائیاں بھی تیز ہو گئی ہیں کہ امریکہ کی تختہ پلٹ فہرست میں اگلانام کیوبا کا ہوسکتا ہے ۔امریکہ میں کسی وقت پریشر پالیسی کی وجہ سے کیوبا دہائیوں کا سب سے بڑا ایندھن اور بجلی بحران پیدا کرنے والا ہوگیا ہے ۔اسی درمیان ٹرمپ اور ان کے افسران مسلسل یہ کہہ رہے ہیں کہ 66 سال سے اقتدار میں موجود کمیونسٹ سرکار کا خاتمہ ہونا چاہیے ۔ وائٹ ہاؤس نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ وہ امریکہ کے ساحل سے 144 کلو میٹر دوری پر کسی باغی دیش کو برداشت نہیں کرے گا ۔اب یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ رائل کاسترو کو کوئی فوجی کاروائی چلاکر مادورو کی طرح گرفتار کرکے امریکہ لاسکتا ہے ۔انہیں امریکہ لاکر ان پر مقدمہ چلا سکتا ہے ۔اس سال کے آغاز میں ایک ایگزیکٹو حکم میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ کیوبا میں روس کا سب سے بڑا غیر ملکی جاسوسی سنٹر موجود ہے ۔بائیڈن انتظامیہ نے چین پر بھی الزام لگایا تھا کہ اس نے امریکہ کے ساحلوں سے صرف 90 میل دوری پر واقع اس کمیونسٹ جزیرہ پر جاسوسی سنٹر کھول رکھا ہے ۔یہی نہیں ٹرمپ انتظامیہ نے قریب 30 سال پرانے ایک معاملے کو اچانک تازہ کرکے کیوبا کے سابق صدر رائل کاسترو پر سنگین الزام لگا دیا ۔اصل میں 1996 میں سمندر میں پھنسے لوگ اور کیوبا سے بھاگ کر امریکہ آنے والے پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی ایک آرگنائزیشن چھوٹے شہری ریگولیشن کے ذریعے ریسکیو مشن چلارہا تھا اس کے دو شہری جہازوں کو کیوبا سے فوجی جہازوں نے مار گرایا اس میں 4 امریکی شہریوں کی موت ہو گئی تھی اس واردات کے بعد دونوں ملکوں کے رشتوں میں مزید کشیدگی بڑھ گئی تھی ۔اب تین دہائی بعد امریکی افسران نے سابق کیوبائی صدر رائل کاسترو پر قتل ،سازش رچنے اور جہاز گرانے سے وابستہ الزامات لگائے ہیں ۔رائل کاسترو کیوبا کی سیاست کے سب سے طاقتور چہروں میں سے ایک ہیں ۔انہوں نے اپنے بھائی فیدل کاسترو کے بعد دیش کی سیاست سنبھالی تھی ۔اب سوال ہے کہ آخر 30 سال بعدا س معاملے کو کیوں اٹھانا چاہتا ہے ؟ 
(انل نریندر)

11 جون 2026

کیا اسرائیل امریکہ کی جاسوسی کررہا ہے ؟

ایران جنگ کو لے کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کے درمیان ٹکراؤ بڑھتا حکمت عملی نظریہ نے پینٹاگن کی پریشانی بڑھا دی ہے ۔امریکی وزارت دفاع کو اسرائیلی جاسوسی کا خوف لگنے لگا ہے ۔اس نے خبردار کیا ہے کہ سینئر امریکی افسران سخت اسرائیلی نگرانی کا نشانہ بن سکتے ہیں ؟ این بی سی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ کے دوموجود و ایک سابق افسر نے بتایا کہ پینٹاگن کی ڈیفنس انٹیلی جینس ایجنسی ڈی آئی اے نے حال ہی میں اسرائیل کے لئے کاؤنٹر انٹیلی جینس خطرے کے سطح کو کریٹیکل یعنی سنگین قرار دیا ۔یہ ان کا سب سے اونچا اندرونی تجزیاتی معیار ہے ۔ایک موجودہ افسر نے امریکی صحافی کو بتایا کہ امریکہ پہلے ہی سے اسرائیل کا سرکاری دوروں کے دوران سیکورٹی اقدامات کرتا ہے کیوں کہ اسرائیلی جاسوسی ایجنسیوں کو معلومات اکٹھاکرنے کے معاملے میں بہت ہی جارحانہ اور چالاک ماناجاتا ہے ۔پینٹاگن کی نئی تشویشات سے پتہ چلتا ہے کہ ا سرائیل مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے سلسلے میں امریکی حکمت عملی مباحثوں فیصلوں کی جانکاری حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اسرائیلی جاسوسی نیٹورک خاص کر ان کی خفیہ ایجنسی ایسے کاموں کے لئے دنیا میں بدنام ہے ۔چونکانے والی بات یہ ہے کہ اسرائیلی جاسوسی ایجنسی موساد نے اپنے سب سے بھروسہ مند ساتھی امریکہ کو بھی نہیں بخشا ہے ۔
(انل نریندر)

صحافی بولا:بے ایمان اور بے وقوف!

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سربراہ مملکت سے تو بے عزتی سے پیش آتے ہی ہیں لیکن اپنے دیش کے صحافیوں خاص کر خاتون صحافیوں سے کیسے پیش آتے ہیں تازہ واقعہ سے پتہ چلتا ہے ۔ ٹرمپ نے این بی سی جیسے بڑے ٹی وی نیٹور ک سے ایک انٹرویو کے دوران اچانک بات چیت درمیان میں ہی ختم کر دی ۔پروگرام کی میزبان ترشٹن ویلکر بار بار ان کے (ٹرمپ ) کے دعووں پر سوال اٹھارہی تھیں ۔اتوار کو ٹیلی کاسٹ ہوئے پروگرام ’’ میٹ دی پریس‘‘ میںٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کیلیفورنیا میں چل رہے پرائمری چناؤ سال 2020 کا امریکی صدارتی چناؤ دونوں ہی دھاندلی بھرے تھے ۔جب ویلکر نے چناؤ میں دھاندلی کے دعوے کی حمایت میں ثبوت مانگے تو ٹرمپ نے کہا ’’ مجھے بس دیکھنا اور سننا ‘‘ بھر ہے ۔اس پر ویلکر نے کہا یہ ثبوت نہیں ہے ۔اس کے بعد ٹرمپ نے میڈیا کو بے ایمان ہونے کا الزام لگایا اور انٹرویو ختم کرتے ہوئے کہا ،معاف کیجئے ،اب اسے یہیں ختم کرتے ہیں ۔معاف کیجئے اب اسے یہیں ختم کرتے ہیں ۔میرے لئے بہت ہو گیا اب انٹرویو ختم ہے ۔انٹرویو شروع ہونے کے تقریباً 50 منٹ بعداسے چھوڑ دیا ۔ویلکر کے سوالوں کے جواب میں ٹرمپ نے کہا امریکہ کو ایران کے نیوکلیائی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لئے کاروائی کرنی ضروری تھی اور یہ آخر جنگ نہیں ہوگی ۔ہم وہاں کچھ ماہ کے لئے رہیں گے اور اس کے بعد خطرہ کافی حد تک ختم ہو جائے گا ۔اس کے بعد بات چیت ان دنگوں پر پہنچی اور جب ٹرمپ نے سال 2020 کے چناؤ میں دھاندلی کا اپنا پرانا بغیر ثبوت والاوعدہ دہرایا تو ترسٹن ویلکر نے انہیں چیلنج کیا ۔ٹرمپ نے پھر کیلیفورنیا کے بلدیاتی چناؤ کا ذکر کیا جہاں گورنر سمیت کئی عہدوں کے لئے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی چناؤ میں کون سے دو امیدوار ہوں گے ، یہ طے کرنے کے لئے ووٹوں کی گنتی جاری تھی ۔پھر انہوں نے الزام لگایا کہ وہ چناؤ میں دھاندلی کررہے ہیں ۔پلٹ کر ویلکر نے پوچھا کیا آپ کے پاس اس کی حمایت میں کوئی ثبوت ہے ؟ ٹرمپ : مجھے صرف دیکھنا اور سننا ہے ۔ویلکر نے بیچ میں ٹوکا ، لیکن یہ کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ ٹرمپ نے ناراضگی سے کہا کہ وہ بے ایمان ہے بالکل آپ کی طرح اس پر ویلکر نے جواب دیا منصفانہ بات کریں تو میں بے ایمان نہیں ہوں لیکن بات چیت جاری رکھیں ۔اس پر ٹرمپ نے کہا یا تو آپ بے ایمان ہیں یا پھر بے وقوف اور یہ کہتے ہوئے ٹرمپ اٹھ گئے اور کہا اسے یہیں ختم کرتے ہیں میرے لئے بہت ہوگیا۔ شکریہ ڈارلنگ ۔آپ کو اپنے پریس کو سدھارنا چاہیے کیوں کہ ایک دیش کبھی مہان نہیں بن سکتا اگر اس کی پریس بے ایما ن ہو ۔ہم اس مہان پترکار کو سلام کرتے ہیں جنہوں نے اپنی بے عزتی کے باوجود ڈٹی رہیں ۔
(انل نریندر)

09 جون 2026

جنگ بندی کے نام پر دھوکہ؟

کیا امریکہ ایران پر زمینی حملے کی تیاری کررہا ہے اور سیز فائر کے نام پر ایران کو بے وقوف بنارہا ہے ؟ امریکی وارشپ یو ایس ایس تریپولی بیڑے کی تعیناتی کے بعد یہ سوال پھر اٹھ گیا ہے کہ امریکہ کی اصل نیت کیا ہے ؟ تریپولی کی تعیناتی کے بعد یہ سوال بھی اٹھنا لازمی ہے ۔امریکی فوجی نے سنیچر کو اس نے ایران کی جانب سے لانچ کئے گئے ڈرون کو تباہ کر دینے کا دعویٰ کیا ۔وہیں اب ہرمز میں یو ایس ایس تریپولی کی تعیناتی کی تازہ خبر آئی ہے ۔سوال اٹھتا ہے کہ اب ایران پر زمینی حملہ ہونے جارہا ہے ؟ امریکہ اور ایران کے بیچ امن مذاکرات کہنے کو تو ابھی جاری ہیں لیکن زمین اور سمندر پر جو حالات نظر آرہے ہیں وہ کچھ اور ہی کہانی کی جانب اشارہ کررہے ہیں ۔پچھلے 72 گھنٹوں میں ہوئی کئی فوجی کاروائیوں نے مغربی ایشیا میں نئے سوال کھڑے کر دئیے ہیں ۔سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ صرف ایران پر دباؤ بنارہا ہے یا پھر ہرمز جل ڈروم وسط پر بالادستی حاصل کرنے کی تیاری کررہا ہے ؟ کیوں کہ جو تیاری امریکہ کررہا ہے اسے دیکھ کر تو ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ اب ایران کے آئی لینڈ پر قبضہ کرنے جارہا ہے ؟ ان واقعات کی شروعات اس خبر سے ہوئی جس میں بتایاگیا کہ ایرانی جھنڈے والے چار تیل ٹینکر ہرمز پار کرنے میں کامیاب رہے ہیں ۔یہ جہاز مبینہ طور پر قریب 70 لاکھ بیرل تیل لے کر نکلے تھے اور بندشوں کے باوجود آگے بڑھ گئے ۔لیکن اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعدا مریکی انڈو پیسفک کمانڈ نے اعلان کیا کہ اس نے بحر ہند میں ممنوعہ تیل ٹینکر ، ڈیبینا کو روک کر اس پر قبضہ کر لیا ہے ۔فی الحال یہ صاف نہیں ہے کہ قبضہ میں لیا گیا جہاز انہیں 4 ٹینکروں میں سے ایک تھا یا نہیں ۔لیکن ٹائمنگ نے کئی قیاس آرائیوں کو جنم دیا ہے ۔اس مسئلے پر سنبھل ہی رہا تھا کہ اس پر امریکہ نے حملہ کر دیا ۔سنیچر کو ہی امریکی سنٹرل کمان نے دعویٰ کیا کہ اس نے ہرمز کی جانب بڑھ رہے 4 ایرانی حملہ آور ڈرون مار گرائے ۔اس کے فوراً بعد امریکی فوج نے ایران کے گوشک اور کیشم جزیرہ پر موجود ساحلی راہار ٹھکانوں پر حملے کئے ۔یہ پہلی بار نہیں ہے جب کیشم کو نشانہ بنایاگیا ہے ۔لیکن موجودہ حالات میں اس جزیرہ کا نام بار بار سامنے آنا فوجی تجزیہ کاروں کی توجہ کھینچ رہا ہے ۔جواب میں ایران نے بھی کویت اور بحرین کی جانب سات میزائلیں داغی اس میں سے چھ کو امریکہ نے روکنے کا دعویٰ کیا ۔اسی بیچ امریکہ نے یو ایس ایس تریپولی کی بحر عرب اور ہرمز خطہ میں تعیناتی کی ہے۔ یو ایس ایس تریپولی کوئی عام جنگی بیڑا نہیں ہے یہ ایک عمار حملہ آور جہاز ہے ، جس کا مطلب ہے کہ یہ جہاز پانی سے تو حملہ کر ہی سکتا ہے ضرورت پڑنے پر زمین کے بے حد قریب جاکر فوجیوں کو اتار بھی سکتا ہے ۔ایسے جہاز سمندر سے سیدھے فوجی آپریشن چلائے جانے کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔ اِدھر کیشم ایران کا سب سے بڑا جزیرہ ہے اوریہ ہرمز کے مہانے پر موجود ہے ۔اسے نہ ڈوبنے والاایئر کرافٹ کیریئر بھی کہاجاتا ہے ۔ایران نے یہ برسوں سے راڈار سسٹم ، ڈرون بیس ، اینٹی شپ میزائلیں ، انڈر گراؤنڈ سرنگیں اور بحری اڈے بنائے ہوئے ہیں اگر امریکہ اس جزیرہ پر قبضہ کر لیتا ہے تو اسے کئی اسٹریٹجک فائدے مل سکتے ہیں ویسے امریکہ کے لئے کیشم پر قبضہ بالکل بھی آسان نہیں ہونے والاہے ۔اس کا مطلب ہوگا کہ سیدھے انگاروں کو ہاتھ میں لینا ہے ۔کیشم ایرانی زمین سے بے حد قریب ہے اگر امریکہ اپنے فوجیوں کو یہاں اتارتا ہے تو اسے ایران کی میزائلیں، ڈرون اور بحری حملوں اور امکانی گوریلا جنگ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ یو ایس ایس تریپولی کی موجودگی کیشم پر مسلسل حملے اور تیاریوں کو روکنے جیسی کاروائیوں نے یہ بحث تیز کر دی ہے کہ امریکہ ہرمز پر حکمت عملی بڑھت لینے کی کوشش کررہا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ امن بات چیت کرنے کے باوجود مغربی ایشیا میں کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھتی دکھائی دے رہی ہے ۔
(انل نریندر)

عاصم منیر کے قتل کی سازش؟

جو لوگ بھی اسرائیل اور اس کی خونخوار خفیہ ایجنسی موساد سے واقف ہیں وہ جانتے ہیں کہ موساد سیاسی قتل کروانے میں ماہر ہے ۔اسرائیل کی تاریخ میں ...