Translater

23 مارچ 2019

آخر کیوں ہو رہی ہے مایاوتی ،کانگریس پر اتنا حملہ آور!

لوک سبھا کا سمر سامنے ہے امیدروارںکا امتحان شروع ہو چکا ہے ۔چناﺅی عمل کا آغاز ہو گیا ہے پورے دیش کے لئے حکمت عملی اور جوڑ توڑ کا سلسہ جاری ہے لیکن ہمیشہ کی طرح یوپی سب سے زیادہ سرخیاں بٹور رہا ہے اس لئے نہیں کہ یہاں بی جے پی کو سپا،بسپا اتحاد سے بڑی چنوتی مل رہی ہے نہ ہی اس لئے کہ یوپی وزیر اعظم نریندر مودی کا وائر ثابت ہو سکتا ہے بلکہ یہاں پارٹیوں میں یہ دوڑ مچی ہے کہ وہ خود کو بی جے پی کا سب سے کٹر مخالف ثابت کریں بھلے ہی ایسا کرنے میں آپس میں تو تو میں میں ہونے لگے ۔پچھلے کچھ دنوں سے کانگریس ،سپا ،بسپا ،کے بڑے نیتا ﺅں کے بیانات اور حکمت عملیوں پر نظر ڈالیں تو دلچسپ تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے کانگریس پارٹی یہ دکھانا چاہتی ہے کہ وہ اپنے دم خم پر چناﺅ لڑ رہی ہیں ۔ضرور لیکن ان کی سد بھاﺅنا سپا ،بسپا،آر ایل ڈی ،اتحاد کے ساتھ ہے لیکن مایا وتی کی طلسمی مخالفت ابھر رہی ہے وہ جتنا حملہ بھاجپا پر نہیں کر رہی ہیں اس سے زیادہ کانگریس پر حملہ آور نظر آرہی ہیں ۔شروع میں تو لگا کہ کانگریس پر سیدھا حملہ نپا تلا سیاسی حصہ ہو سکتا ہے لیکن اب لگ رہا ہے کہ اس میں کچھ دم ہے مایاوتی کے تازہ بیان کانگریس کو بے عزت کرنے جیسا لگتا ہے ۔بسپا چیف اپنے حمایتوں سمیت کسی کے بھی دل میں یہ غلط فہمی نہیں پیدا کرنا چاہتی کہ وہ وزیر اعظم کے عہدے کی دعویدار نہیں ہے سیاست کے حصاب کتا ب میں دو اور دو چار نہیں ہوتا اور سیاست میں دو اور دو پانچ بھی ہو سکتا ہے مایا وتی شاید اسی حساب کتاب کی بنیاد پر کام کر رہی ہیں ۔جہاں اکھلیش یادو کانگریس کے معاملے میں تحمل سے پیش آرہے ہیں وہیں سوال یہ بھی ہے کہ آخر بہن جی اتنی بڑ بولی کیوں ہوتی جا رہی ہیں ؟کیونکہ اگر کانگریس کی حکمت عملی دیکھیں تو پارٹی نے خاص طور سے مشرقی اتر پردیش میں جو توجہ دی ہے اور اسی کڑی کے طور پر پرینکا گاندھی کو اس علاقہ کے لئے سیکریٹری جنرل بنایا ہے ان کی بوٹ یاترا بھی اسی علاقہ میں ہو رہی ہے ۔بسپا کے پاس خاص طور سے مغربی یوپی کی سیٹیں ہیں تو مایا وتی کانگریس کے ساتھ بچنے کی وجہ سے مغربی یوپی میں محدود ہیں یہاں کے مسلم ووٹوں کا فیصلہ کن ہوتا ہے یہاں کم سے کم 20سیٹیں واضح طور پر مسلم ووٹوں سے طے ہوتی ہیں اگر کانگریس چناﺅ میدان میں کھل کر اترتی ہے تو مسلم ووٹوں کا رجحان کانگریس کی طرف ہو سکتا ہے ۔اگر یہ ووٹ کانگریس کو جاتا ہے تو اس کا سیدھا نقصان سپا ،بسپا اتحاد کو ہوگا،مایاوتی کو یہ ڈر اکھلیش کے مقابلے میں اس لئے بھی زیادہ ستا رہا ہے کہ بسپا ،ماضی گذشتہ میں بھاجپا کے ساتھ سرکار بنا چکی ہے بھاجپا کے خلاف سیاست میں بسپا کا کھونٹا سپا کے مقابلے میں کمزور مانا جا سکتا ہے شاید یہی وہ کچھ وجوہات ہیں جس سے مایاوتی ابھی سے واضح کرنے میں لگ گئی ہیں ۔کانگریس سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے ۔اصل سیاسی صورت حال یہ ہے کہ تمام تلخی کے باوجود بسپا اور کانگریس کو آگے چل کر آپسی حمایت کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔اگر مایاوتی وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہی ہیں اور راہل گاندھی بھی یہ سپا پال رہے ہیں تو چناﺅ کے بعد ایک دوسرے کی ضرور ت پڑ سکتی ہے ۔

(انل نریندر)

چوکیدار امیروں کے ہوتے ہیں اس حکومت کی ایکسپائیری ڈیٹ پوری ہو چکی!

پوروانچل (اترپردیش)کے سیاسی حالات جاننے کے لئے نکلی کانگریس جنرل سیکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے پریکاگ راج سے وارانسی تک گنگا یاترا شروع کی تھی ۔اور انہوںنے پریاگ راج میں ہنومان جی کے درشن کے ساتھ ساتھ سنگم ساحل پر ماں گنگا کی پوجا کی اور لوک سبھا چناﺅ کے ٹھیک پہلے مشرقی اترپردیش میں وہ سیاسی تجزیوں کو ایک ساتھ جائزہ لینے کی کوشش کر رہی ہیں ۔اپنی ہندو مخالف ساکھ کو لوگوں میں جو بسی ہے اس کو ختم کرنے کی کوشش تھی ۔بی جے پی اور دیگر ساﺅتھ پنتھی تنظیمیں اکثر ان پر عیسائی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے نقطہ چینی کرتی رہی ہیں ۔پرینکا نے ہنومان جی کی پوجا کر کے بی جے پی کے اس نظریے کو دور کرنے کی کوشش کی ہے یہی نہیں پوری یاترا کے دوران وہ کئی مندروں میں بھی گئیں راستے میں ماں ودیا واسنی ،شیتلا ماتا ،سیتا جی اور بھگوان شیو کے مندر بھی گئیں ۔انہوںنے اپنی اس گنگا یاترا کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی پر سیدھے کٹاش کئے اور مودی کے چوکیدار ابھیان پر پرینکا کہتی ہیں چوکیدار تو امیروں کے ہوتے ہیں کسانوں کو اپنی فصل کی چوکیداری خود ہی کرنی پڑتی ہے۔پرینکا نے بھاجپا کے چوکیدار ابھیان پر بھی طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کی (مودی)مرضی ہے وہ اپنے نام کے آگے کیا لگاتے ہیں۔ لیکن مجھ سے ایک کسان بھائی نے کہا تھا کہ چوکیدار تو امیروں کے ہوتے ہیں ہم کسان لوگوں کے نہیں کسان اپنی چوکیداری خود کرتے ہیں پرینکا نے اپنی تقریر میں کہا کہ چناﺅ کے وقت بڑے فیصلے لینے کی گھڑی ہے موجودہ وقت میں دیش کے جو حالات ہیں ویسے پچھلے 45برسوںمیں کبھی نہیں تھے ۔اس حکومت نے دیش کے ہی پبلک اداروں کو ہی کمزور کیا ہے ۔سرکار کسی کی جاگیر نہیں ہے ،لیکن کچھ لوگ ایسا ماننے لگے ہیں کہ اس کے لئے خود کھڑے ہونے کی ضرورت ہے ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ دیش بھگتی کی بات تو کرتے ہیں لیکن اس سے بڑی دیش بھگتی کچھ نہیں ہو سکتی کہ آپ بے دار ہوں ۔فضول کے اشو نہیں اٹھانے چائیں ۔صرف دیش اور ترقی کی بات ہونی چاہیے ۔گوتھی گنج میں روڈ شو کے بعد اخبار نیوسوں سے پرینکا نے کہا کہ دراصل یہ سرکار ایکسپائیری ڈیٹ ہو چکی ہے ۔اس کے بڑے بڑے دعوں کی زمینی حقیقت کو جان چکے ہیں اس لئے وہ صفر نظر آرہی ہے ۔کانگریس مسلسل مودی پر صنعت کاروں ،سرمایہ داروں کے حق میں کام کرنے والا وزیر اعظم ہونے کا الزام لگاتی ہیں ۔اشاروں کی زبان سبھی لوگ نہیں سمجھتے چناﺅ میں سیدھے سیدھے بات کرنا ہی صحیح حکمت عملی ہے ۔اس لئے بات ایسی ہونی چاہیے ۔جس سے بھاجپا کی کمزوریاں اور خامیاں جھلکیں اور ووٹر کانگریس کو ووٹ دینے کا من بنائیں پرینکا کو دیکھنے بھاری بھیڑ اکھٹی ہو رہی ہے دیکھنا یہ ہوگا کہ کانگریس اپنی کھوئی زمین واپس حاصل کر سکے گی ؟پرینکا فضول کے اشو سے ہٹ کر ان اشو پر بات کر رہی ہیں جن سے جنتا کا سیدھا تعلق ہے ۔بالا کوٹ سے پیدا قومیت روٹی ،کپڑا ،مکان، سے زیادہ اہم نہیں ہے ۔پرینکا کے سمجھانے کی یہ کوشش ہے کہ انہوںنے مرزا پور میں وکیلوں سے ملاقات کی اور وعدہ کیا کہ کانگریس کی سرکار آتے ہی ان کے ساری پریشانیاں دور ہو جائیں گی ۔ان کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت نے اپنا جو رپورٹ کارڈ پیش کی ہے اس کا زوردار طریقہ پر پرچار بھی کیا ہے ۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ سرکار پوری طرح خلاف ہے ۔

(انل نریندر)

21 مارچ 2019

لوک سبھا 2019چناﺅ عمل کا شری گنیش ہو گیا

ہولی کے تہوار سے ٹھیک تین دن پہلے لوک سبھا چناﺅ کا عمل کا شری گنیش ہو گیا ۔چناﺅ کے پہلے مرحلے کے تحت 91سیٹوں کے لئے پیر کو فرمان جاری ہونے کے ساتھ با قاعدہ چناﺅ کی کارروائی شروع ہو گئی ہے اس کے ساتھ ہی آندھرا پردیش ،اروناچل پردیش ،سکم،سبھی سیٹوں اور اڑیسہ کی 28اسمبلی سیٹوں کے لئے انتخاب کے لئے بھی نوٹیفیکیشن جاری ہو گیا ہے ۔پرچہ داخل کرنے کی آخری تاریخ 25مارچ ہے جبکہ پرچوں کی جانچ 26مارچ اور نام واپس لینے کی آخری تاریخ 28مارچ ہے۔پہلے مرحلے کے چناﺅ کے تحت 11اپریل کو ووٹ پڑیں گے اسی کے ساتھ چناﺅ ی سروں کا بھی موسم آگیا ہے ۔پہلا سروے ہے جو ٹائمس ناﺅ ،وی ایم آر کا اور دوسرا اسٹیٹس انندو چکر ورتی کا ہے ۔ان دونوں کے سروے کے مطابق مودی سرکار کی واپسی ہو سکتی ہے این ڈی اے کو 543سیٹوں میں سے 283سیٹیں مل سکتی ہیں جبکہ ایس پی اور بی ایس پی مہاگٹھ بندھن کے چلتے این ڈی اے کو کافی نقصان اُٹھانا پڑ سکتا ہے جبکہ دوسری طرف کانگریس کی قیادت والی یو پی اے کو 135سیٹوں کے ساتھ کافی پیچھے ہونے کا دعوی کیا گیا ہے ۔جبکہ دیگر کو 125سیٹیں ملنے کا امکان جتا یا گیا ہے ۔وہیں چکرورتی کے مطابق سیاسی پنڈتوں نے 2009میں پہلی بار کانگریس صدر کو سنجیدگی سے لیا اور حال کے اسمبلی چناﺅ اور لوک سبھا ضمنی چناﺅ میں انہوںنے یہ ثابت کر دیا کہ کانگریس کے لئے یہ چناﺅ گیم چینجر ہو سکتے ہیں ۔کانگریس نے اپنی اسٹار پرینکا گاندھی واڈرا کو ووٹروں کو راغب کرنے کے لئے میدان میں اتار دیا ہے ۔ان کا خیال ہے کہ پرینکا ،راہل یوپی میں بے کار استعمال کئے جا رہے ہیں ۔مرکز میں کثیر پارٹی سرکار کی قیادت کرنے میں اہل ہونے کے لئے کانگریس کو تقریبا 120سے130سیٹیں چائیں اس کے لئے یو پی کی ضرورت نہیں ہے اس کے بجائے راہل کو ان ریاستوں میں توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جہاں ان کی پارٹی بھاجپا کے ساتھ سیدھے مقابلے میں ہے ۔اور اترپردیش جیسی حریفوں کے خلاف نہیں ہے ۔جہاں کانگریس کو اکھلیش اور مایا وتی کو بی جے پی سے سیدھی ٹکر دینی چاہئے شروعات راجستھان سے کرتے ہیں اگر ہر ایک اسمبلی حلقے میں ووٹ جوڑتے ہیں اور انہیں لوک سبھا چناﺅ کی طرف لے جاتے ہیں تو اس ریاست کی 25میں سے 24سیٹوں پر کانگریس آگے ہے اگر راہل ان چناﺅ حلقوں میں وقت گزاریں تو ان کے ووٹوں میں اضافہ ہو سکتا ہے مدھیہ پردیش کی گنتی بتاتی ہے کہ ریاست کی 29لوک سبھا سیٹوں میں سے تیرہ پر کانگریس آگے ہے۔چھتیس گڑھ کی 11میں سے نو سیٹیں جیت کر کانگریس شاندار جیت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے راجستھان،مدھیہ پردیش کے امکانی سروے کو جوڑیں اور کانگریس کے ان تین ہندری راجیوں 65میں سے 44سیٹیں جیتنے کا سیدھا موقعہ ہے یہ اتنی ہی سیٹیں ہیں جتنی 2014میں کانگریس نے پورے دیش میں جتی تھیں ۔بہرحال چناﺅ عمل کا آغاز ہو گیا ہے ۔روزانہ سیاسی حالات بدلیں گے آئے دن چناﺅ ی سروے آئیں گے ۔خیر ہولی کا تہوار ہے آپ کو ہولی کی شبھ کامنائیں ہم امید کرتے ہیں کہ آپ صاف ستھرے رنگوں سے ہولی کھیلں گے ۔

(انل نریندر)

لوک پال :دیر آید درست آید

لمبے انتظار کے بعد دیش کو لوک پال آخر کار مل ہی گیا سپریم کورٹ کے سابق جسٹس پناکی چندر گھوش نے منگل کے روز دیش کا پہلا لوک پال مقرر کیا ہے ۔ایک سرکاری حکم کے مطابق ایس ایس بی کے سابق چیف ارچنا راما سندرم ،مہاراشٹر کے سابق چیف سیکریٹری دنیش کمار جین ،مہندر سنگھ اور اندر جیت پرساد گوتم کو لوک پال کا غیر عدلیہ ممبر مقر ر کیا گیا ہے ۔جسٹس دلیپ وی بھونسلے ،جسٹس پردیپ کمار موہنتی ،جسٹس اجے کمار ترپاٹھی کو کرپشن انسداد باڈی کا جوڈیشیل ممبر مقر ر کیا گیا ہے ۔یہ تقرریاں اس تاریخ سے نافذ العلم ہوں جس دن سے وہ اپنے اپنے عہدوں کا چارج لیں گے ۔لوک سبھا چناﺅ کے اعلان کے فورا بعد نریندر مودی نے لوک پال مقرر کر کے اپوزیشن کے ہاتھ سے ایک اہم اشو چھین لیا ہے ۔لوک پال کا عہدہ بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں کے ذریعہ کئے جا رہے کرپشن کی شکایتیں سننے و اس پر کارروائی کرنے والا ایک طاقتور ادارہ ہے ۔اعتراضات کو ایک طرف رکھ دیں تو کہا جا سکتا ہے کہ اب سے کوئی سات سال پہلے شروع ہوئی کرپشن مخالف تحریک لوک پال کی تشکیل کے ساتھ ہی اپنے انجام تک پہنچی ہے ۔لیکن اس تحریک سے جڑے لوگ مطمئن نہیں ہیں ۔پہلی بات مرکزی حکومت نے لوک پال کی تقریری میں پانچ سال کی دیری کی پھر اس کے سیکشن کے عمل میں اپوزیشن کو باہر رکھا گیا ۔لوک پال کا رول بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگوں پر نگرانی رکھنے کا ہے اس عہدے کی اہمیت کے مطابق اس کے سیلکشن کو بھی با وقار رکھنے کی ضرورت تھی ۔لیکن حکومت نے ایک عام ادارے کی طرح دیکھا۔قانون کے مطابق لوک پال کا انتخاب پانچ نفری کمیٹی کو کرنا ہوتا ہے ۔جس میں وزیر اعظم لوک سبھا اسپیکر ،اپوزیشن کے لیڈر ،چیف جسٹس اور ان کے ذریعہ بھیجے گئے نمائندے مل کر ا س اہم ترین قانونی سربراہ اکا انتخاب کرتے ہیں اس کے بعد پانچ نفری کمیٹی لوک پال کو چنتی ہے لیکن لوک سبھا میں درکار ممبر نہ ہونے کی وجہ سے بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس کے نمائندے ملک ارجن کھڑگے کو لیڈر اپوزیشن کے طور پر نہیں تسلیم کیا گیا ۔کھڑگے نے خصوصی مدعو کی شکل میں دعوت کے بعد لوک پال کے لئے کمیٹی کی میٹنگ کا بائکاٹ کیا تھا ۔رہی پال لوک پال پنا کی چندر گھوش کی تو اپنی ساکھ بے داغ رہی ہے ۔لیکن ان کے انتخاب کی کارروائی کو دیکھتے ہوئے کوئی ان کے فیصلے کو حکمراں پارٹی سے جوڑ کر بھی دیکھ سکتا ہے بہرحال جسٹس گھوش کو اپنی بے داغ ساکھ کو برقرار رکھنے کے لئے سارے معاملوں کو غیر جانب دار ہو کر دیکھنا اور پرکھنا ہوگا ۔لوک پال کو کامیاب بنانے کے لئے ساری پارٹی کے تعاون کی ضرورت ہوگی ۔کہنے کو کہا جا سکتا ہے کہ کرپشن کے خلاف ایک ٹھوس قدم ہے اور امید کرتے ہیں کہ آنے والے وقت میں یہ ادارہ صحیح معنوں میں غیر جانب داری اور انصاف کرنے کا ثبوت دئے گا ۔بہرحال دیر آید درست آید۔

(انل نریندر)

20 مارچ 2019

ایک درجن ریاستوں میں بھاجپا کانگریس میں سیدھا مقابلہ

2019کے لوک سبھا چناﺅ میں اب مشکل سے 24,25دن ہی بچے ہیں جبکہ بکھری اپوزیشن گٹھ بندھن اور کانگریس جہاں اپنے ہتھیاروں کو تیز کر رہی ہے وہاں بھاجپا بھی لاﺅ لشکر سے تیار ی میں لگی ہے ۔لیکن پھر بھی بھاجپا کے لئے کچھ ریاستوں میں چھوٹی موٹی پارٹیوں سے کچھ ریاستوں میں کانگریس سے سیدھا مقابلہ ہوگا ۔دیش کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں دو بڑی علاقائی پارٹیوں سماج وادی پارٹی اور بھوجن سماج پارٹی سے لڑ رہی بھاجپا اب کانگریس میں پرینکا گاندھی کے سرگرم سیاست میں آنے سے نئے پیدا سیاسی حالات کا بھی سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔بھاجپا کو پریشانی تقریبا ایک درجن ریاستوں اور مرکزی انتظام ریاستوں کو لے کر ہے یہاں پر ا سکے اور کانگریس کے درمیان سیدھا مقابلہ ہونے کا امکان ہے ۔ان کی 112لوک سبھا سیٹوں میں سے بھاجپا نے 2014میں سب سیٹیں جیتی تھیں جبکہ کانگریس کے پاس کل تین سیٹیں تھیں ۔نئے چنوتیوں سے نمٹنے کے لئے بھاجپا دیگر تیاریوں کے ساتھ اپنے عہد کے پرانے لیڈروں کی پھر سے پرکھ کرنے میں لگ گئی ہے ۔دیش کی 11ریاستوں اور مرکزی ریاستیں ایسی ہیں جن میں کانگریس بھاجپا میں سیدھا مقابلہ ہوتا رہا ہے ۔ان میں گوا،گجرات،ہماچل پردیش،مدھیہ پردیش،راجستھان،چھتیس گڑھ،دہلی وغیرہ شامل ہیں ۔2014میں بھاجپا پچھلی تین دہائی سے اپنے دم پر لوک سبھا میں اکثریت والی پارٹی بنی تھی 2019میں کیا پارٹی اپنی پرانی کارکردگی دہر اپائے گی ؟یہ سوال آج سبھی پوچھ رہے ہیں ۔حالانکہ میں بڑی ریاستوں میں اس کی پرفارمینس سامنے رکھنی ہوگی ان میں اترپردیش ،اترکھنڈ،بہار،جھارکھنڈ،مدھیہ پردیش،راجستھان،وغیرہ شامل ہیں ۔لوک سبھا کی 543سیٹیوں میں سے اس کی آدھی سیٹیں یعنی 278مندرجہ بالا ریاستوں میں آتی ہیں ۔بھاجپا کے لئے یہ ریاستیں کتنی اہم ہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کی ماننا پڑئے گا کہ لوک سبھا چناﺅ کے مقابلے کانگریس کی پوزیشن بدلی ہوئی ہے اب پانچ سال پہلے جیسا ماحول آج نہیں ہے وہیں 2014میں جو مودی لہر تھی وہ آج نہیں ہے کانگریس اپوزیشن میں ہے اور کرپشن ،بے روزگاری ،اور زرعی بحران جیسے اشو مودی سرکار کو کٹ گھر ے میں کھڑا کر رہے ہیں ۔سال 2014کے انتخابات میں شہری اور دیہی ووٹروں نے کانگریس کا ساتھ چھوڑ دیا تھا لیکن حالایہ تین ریاستوں کے اسمبلی چناﺅ کے نتیجوں اور لوک سبھا کے ضمنی چناﺅ نتائج میں کامیابی سے صاف ہے دیہ ووٹر کانگریس کی طرف لوٹ آیا ہے ۔راہل گاندھی کے لئے بھی پارٹی صدر کے طور پر یہ پہلا لوک سبھا چناﺅ ہے اور اس کے سامنے خود کو ثابت کرنے کی چنوتی ہے ۔پچھلے پانچ برسو ں میں راہل نے اپنی ساکھ بدلی ہے کئی ریاستوں کے چناﺅ میں ہار کے باوجود میدان میں ڈٹے رہے کانگریس صدر کی حیثیت سے پارٹی پر پکڑ مضبوط کرنے کے ساتھ خود کو جارحانہ اور صاف ستھرے نیتا کے طور پر پیش کیا ہے ۔گجرات اسمبلی چناﺅ راہل کے لئے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا کرناٹک میں ہاری بازی پلٹ کر جے ڈی ایس کے ساتھ گٹھ بندھن سرکار بنانے تین ریاستوں میں پرجوش راہل مرکزی حکومت پر روزانہ جارحانہ حملے کر رہے ہیں ۔بھاجپا کے لئے اس بار کانگریس کا صفایا کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا ۔

(انل نریندر)

سادگی پسند گلی بوائے تھے منوہر پاریکر

ہندوستانی سیاست میں مسٹر کلین کی شکل میں جانے جانے والے گوا کے وزیر اعلیٰ منوہر پاریکر ہمارے درمیان نہیں رہے ۔ان کا دیہانت اتوار کی شام میں ہو گیا تھا ان کو چودہ فروری 2018کو پیٹ میں درد کی شکایت کے بعد ممبئی کے لیلاوتی ہسپتال میں داخل کریا گیا ۔ابتداءمیں بتایا گیا فوڈ پوائزنگ سے بیمار ہیں بعد میں پتا چلا کہ انہیں کینسر ہے ۔یعنی ان کے گردے میں یہ خطرناک مرض ہے ان کا گوا ممبئی دہلی ،اور نیویارک کے اسپتالوں میں علاج ہوا انہیں 31جنوری کو دہلی کے ایمس میں داخل کرایا گیا لیکن بیماری اتنی خطرناک تھی کہ دیکھتے دیکھتے ان کا دیہانت ہو گیا ۔منوہر پاریکر ایک سادگی پسند ٹیکنو کریٹ و وزیر اعلیٰ تھے ۔گوا میں کانگریس کی تقسیم کے بعد اکتوبر 2000میں جب وہ پہلی بار بھاجپا سے وزیر اعلیٰ بنے تب سے لے کر آخری سانس تک پاریکر دو دہائی تک سیاست میں چھائے رہے ۔ان کی گوا ہی میں نہیں بلکہ پورے دیش میں اچھی ساکھ تھی اور ایک سیدھے سادھے مہذب اور نرم گو انسان تھے ۔لیکن سرجیکل اسٹرائیک حملے نے دکھا دیا دیش کے مفاد میں سخت فیصلوں سے بھی نہیں ہچکچائے سیاسی حریف بھی ان کی بے داغ ساکھ کے قائل رہے ۔63سالہ پاریکر چار مرتبہ گوا کے وزیر اعلیٰ رہے ۔اور نریندر مودی کی قیادت میں مودی وزیر دفاع کے طور پر تین برس خدمات پیش کیں ۔ان کے عہد میں ہندوستانی فوج نے پی او کے میں گھس کر آتنکی ٹھکانوں کو تباہ کیا تھا ۔آدھی بازوں والی شرٹ اور لیدر سینڈل ان کی پہچان تھی۔وزیر اعلیٰ بننے کے بعد بھی پاریکر نے رہن سہن میں ذرا بھی تبدیلی نہیں لائے وہ اپنی ریاستی اسمبلی خود اسکوٹر چلا کر جایا کرتے تھے انہوںنے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد بھی اپنے جدی گھر کو نہیں چھوڑا اور سرکاری مکان میں نہیں گئے منوہر پاریکر کو گوا کا گلی بوائے بھی کہا جاتا تھا ۔2014میں جب بھاجپا کا اجلاس ہوا تھا اور دیش میں بحث چھڑی ہوئی تھی کہ نریندر مودی پی ایم امیدوار ہوں گے یا نہیں ؟لیکن بھاجپا کی طرف سے مودی کا نام کوئی کھل کر آگے بڑھانے کو تیار نہیں تھا اسی اجلاس کے پہلی بار منوہر پاریکر نے نریندر مودی کے نام بطور پی ایم امیدوار کے لئے پیش کیا تھا ۔جب مودی 2014میں پی ایم بنے تو انہوںنے وزیر دفاع کا عہدہ سنبھالنے کو کہا لیکن شروع میں پاریکر راضی نہیں تھے اور انہوںنے دو مہینے کا وقت مانگا اور پھر دہلی آگئے ۔ان کے عہد میں 28,29ستمبر2016کی رات میں فوج نے پی او کے میں سرجیکل اسٹرائک کیا تھا ۔عام زندگی میں وہ ایک مثال بھی تھے ۔بیماری کے باوجود ڈھائی مہینے بعد اس سال دو جنوری کو اچانک سی ایم آفس پہنچ کر سب کو حیران کر دیا تھا ۔وہ ٹھیک سے چل بھی نہیں پا رہے تھے ناک مٰں ڈپ لگی تھی لیکن عوامی خدمت کرنے میں ان کا جذبہ کم نہیں ہوا وہ وی آئی پی ہوٹل کے بجائے فٹ پاٹھ پر چائے ناشتہ کیا کرتے تھے یہیں تھے اپنے محلہ کی خبر گیری کر لیا کرتے تھے لیکن وہ چاہتے تھے کہ سبھی نیتاﺅں کو سڑک پر چائے والوں سے چائے پینی چاہیے کیونکہ ریاست کی ساری معلومات یہیں سے مل جاتی ہیں آخری وقت تک اپنی خطرناک بیماری سے لڑتے رہے ایسے نیتا کم ہی ہوتے ہیں ہم ان کو اپنی شردھانجلی پیش کرتے ہیں ۔

(انل نریندر)

19 مارچ 2019

وی وی پیٹ پرچیوں کی گنتی کی مانگ

لوک سبھا چناﺅ میں پچاس فیصدی ای وی ایم اور وی وی پیٹ کے اچانک معائنے کی مانگ کو لے کر اکیس اپوزیشن پارٹیوں نے عرضی دائر کی ہے ان کا کہنا ہے کہ آزادانہ اور منصفانہ چناﺅ کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے آندھرا پردیش کے وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کجریوال سمیت شرد پوار،کیسو وینو گوپال،شرد یادو،اکھلیش یادو،ستیش چندر مشرا ،ایم کے اسٹالن ،فاروق عبداللہ ،اجیت سنگھ ،وغیرہ لیڈروں کا کہنا ہے کہ ای وی ایم وی وی پیٹ کے بھروسے پر سوال ہے ایسے میں کم سے کم پچاس فیصد ای وی ایم اور وی وی پیڈ کا اچانک معائنہ ہونا چاہیے عرضی میں کہا گیا ہے کہ لوک سبھا چناﺅ کے نتیجے اعلان کرنے سے پہلے اس کے معائنے کی ضرورت ہے ۔یہ قدم تب اُٹھایا گیا جب اپوزیشن پارٹیوںنے شرد پوار کے گھر پر ایک میٹنگ کی ان پارٹیوںنے ستر سے پچہتر فیصد عوام کی نمائندگی کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ای وی ایم کے بھروسے پر سنگین شبہ ہے حال ہی میں چناﺅ کمیشن نے چناﺅ کا اعلان کرتے ہوئے لوک سبھا کے ہر حلقے میں پولنگ بوتھ پر ای وی ایم اور وی وی پیٹ کا انتظام کیا جائے گا ۔چیف جسٹس رنجن گگوئی ،جسٹس گپتا اور سنجیو کھنہ کی بنچ نے جمعہ کو اپوزیشن پارٹیوں کی پولنگ کارروائی پر شبہ ظاہر کرنے والی اس عرضی کی سماعت کے لئے 25مارچ مقرر کی ہے ساتھ ہی عدالت عظمی نے ہفتے میں چناﺅ کمیشن سے اس بارے میں جواب مانگا ہے چناﺅ کمیشن کو اس معاملے میں ان کی مدد دینے کے لئے اپنا ایک چناﺅ اوسر دینے کو بھی کہا ہے عام چناﺅ عام طور پر صاف ستھری طریقے کے ساتھ ای وی ایم اور وی وی پیٹ کے ذریعہ سے کروانے کا اعلان پہلے ہی الیکشن کمیشن کر چکا ہے ۔ووٹ ڈالنے کے بعد ووٹر اپنی پرچی دیکھ سکیں گے کہ ان کا ووٹ اسی امیدوار کو گیا ہے جسے انہوں نے دیا ہے یہ پرچی مشین پر سات سیکنڈ تک رہے گی سابق چیف الکشن کمشنر نوین چاولا نے ای وی ایم کو صحیح مانتے ہوئے کہا کہ اس کو نہ تو کوئی ہیک کر سکتا ہے اور نہ ہی اس سے کسی طرح کی چھیڑ چھاڑ کی جا سکتی ہے انہوںنے دعوی کیا کہ کسی باہری مشین سے ای وی ایم کو جوڑا نہیں جا سکتا اور یہ انتظامیہ کے سنئیر افسران کی نگرانی میں رکھی جاتی ہے اس لئے ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا ہیک کرنا ممکن نہیں ہے ہماری رائے میں تو اپوزیشن کی مانگ جائز ہے آزادانہ منصفانہ چناﺅ ہماری جمہوریت کی بنیاد ہے اسے پوری طرح شفاف بنانے میں چناﺅ کمیشن کو بھی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے ۔ای وی ایم میں کئی بار پچھلے انتخابات میں خرابی آئی ہے تب بتایا گیا کہ یہ گرمی کی وجہ سے خراب ہوتی ہے تو کئی مرتبہ تکنیکی خرابی کی آڑ لے لی جاتی ہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ بصد احترام سپریم کورٹ دیش کی جمہوریت کی خاطر مناسب فیصلہ لے گی ۔

(انل نریندر)

نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ

جمع کے روز جب نیوزی لینڈ میں لوگ مسجدوں میں نماز ادا کرنے کی تیاری کر رہے تھے وہاں اندھا دھند فائرنگ کر کے درجنوں لوگوں کو مارنے کی واردات قابل مذمت ہی نہیں بلکہ اس سے وابسطہ کئی اسباب بھی اتنے ہی باعث تشویش ہیں ۔کرائسٹ چرچ شہر کی النور مسجد اور لنک ووڈ مسجد میں نماز پڑھنے آئے لوگوں پر مسلحہ حملہ آور نے اندھا دھند گولیاں چلائیں جس میں 50کے قریب لوگ جاں بحق ہو گئے النور مسجد میں نماز جمعہ کے وقت دہشتگردانہ حملے کے منظر کے گواہ بنی بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم تھی ہندوستانی کرکٹ مبسر سری نواس چندر شیکھر نے بتایا کہ شروعات میں ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ یہ آتنکی حملہ تھا میں یہ سمجھ نہیں پایاکہ کیا ہو رہا ہے تبھی ایک عورت بے بس ہو کر گر گئی ہمیں لگا کوئی میڈیکل ایمرجنسی ہے اس لئے کچھ کھلاڑی ان کی مدد کرنے کے لئے بس سے اترے تبھی احساس ہوا کہ ہم جو سمجھ رہے ہیں یہ اس سے بڑا واقعہ ہے ۔خون سے لہولہان لوگ جان بچانے کے لئے بھاگ رہے تھے بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے منیجر خالد یوسف خوفناک منظر کے بعد سہم اٹھے انہوں نے مسجد میں ٹیم ڈیڑھ بجے نماز پڑھنے جانے والی تھی لیکن کپتان محموداللہ کی پریس کانفرنس 7منٹ دیر سے ختم ہوئی اس سے ہم موت کے منھ میں جانے سے بچ گئے بس میں آٹھ دس منٹ تک بیٹھے رہے پھر ہمیں لگا آتنکی واپس آکر نشانہ بنا سکتے ہیں تو ہم نے فیصلہ کیا کہ پارک کے راستے اسٹیڈیم تک جائیں گے یہ وارداتیں ایک ایسے دیش کے ایسے شہر میں ہوئیں جو دہشتگردی کی کالی آندھی کے قہر سے بہت کچھ بچا رہا ہے ۔واردات نے یہ ثابت کر دیا کہ جب تک نفرت اور لڑائی اور ان کے آس پاس چلنے والی سرگرمیاں اس دنیا میں ہیں کوئی بھی پوری طرح سے محفوظ نہیں ہے ۔کس نے سوچا تھا کہ نیوزی لینڈ کے جنوبی جزیرے کا وہ خوبصورت شہر بھی دہشتگردی کی وجہ سے سرخیوں میں آجائے گا جس کا ذکر میڈیا میں اکثر کرکٹ میچ کے وقت ہی ہوتا ہے اس قتل کو انجام دینے والا شخص کٹر ساﺅتھ پنتھی ہے ۔اور خطرناک ساﺅتھ پنتھی اینڈرس برک وک کے رابطے میں رہا بتایا جاتا ہے جس شخص پر 2011میں ناروے کے اٹاوا جزیرے پر ہوئے 69لوگوں اور اسلو کار بم کے ذریعہ کچھ لوگوں کی جان لینے کا الزام ہے کار میں ہتھیار لے کر دونوں مسجدوں تک جانے اور عبادت میں جھکے بندوں کو نشانہ بنانا گولیاں ختم ہونے پر دوسری کار تک جا کر دوسری بندوق لانے جیسی حرکت بے حد خوفناک ہے بتایا جاتا ہے کہ وہاں گوروں اور کالوں کے تیں اس کے دل میں کیسی نفرت تھی قاتل کے پاس صرف بندوق ہی نہیں موبائل بھی تھا اور اس نے اس تشدد کا ویڈیو فیس بک پر ڈال دیا جو پوری دنیا تک سیدھا پہنچ رہا تھا قاتل کے پاس برآمد کاغذوں میں ڈونالڈ ٹرمپ کو حکم بتایا جانا اور مارے گئے لوگوں کو حملہ آور کہہ کر مخاطب کیا جانا بتاتا ہے کہ دنیا بھر میں اسلامی دہشتگردی کے خلاف ناراضگی کس حد تک پہنچ گئی ہے آج دہشتگردی سے چاہے وہ کسی بھی ذریعہ سے ہو کسی کے خلاف ہی کیوں نہ ہو پوری دنیا متاثر ہے ہم اس بزدلانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس کے شکار ہوئے لوگوں کو شردھانجلی دیتے ہیں ۔تشدد چاہے کسی طرح کا ہو اس کا احتجاج ہونا چاہئے۔

(انل نریندر)

17 مارچ 2019

مودی ہے تو ممکن ہے...لوک پروو2019

2014کے چناﺅ میں بی جے پی اکیلے 282سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی تھی یہ اس کی شاندار پرفارمینس تھی اب جب کہ 2019کا چناﺅ کا عمل جاری ہے اس وقت سب سے بڑ ا سوال یہی ہے کہ بھاجپا کیا 2019میں پھر سے 2014کی تاریخ دہرا پائے گی ؟خود کے یا این ڈی اے کے بوتے بی جے پی کے لئے اقتدار کی راہ آسان ہے یا پھر اپوزیشن اتحاد اسے اقتدار سے بے دخل کرنے میں کامیاب ہو پائے گا ؟بی جے پی تو یہ مان کر بیٹھی ہے موجودہ ماحول اس کے حق میں ہے لیکن کئی ایسے اشو ہیں جو راہ میں روڑے ثابت ہو سکتے ہیں بی جے پی ہی نہیں بلکہ اپوزیشن بھی یہ مان رہی ہے کہ اس وقت دیش میں سب سے مضبوط پارٹیوں میں بھاجپا سب سے اوپر ہے اس کی اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس فی الحال زور آزمائش کرنے کے باوجود یہ دعوی کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اقتدار میں لوٹے گی ۔بی جے پی کے حق میں مضبوط پہلو اس کے لیڈر و پی ایم نریندر مودی ہیں اس کا دعوی ہے کہ پانچ برس اقتدار میں بتانے اور کئی سخت اور متنازع فیصلوں کے باوجود اس کے لیڈر کی مقبولیت نے کوئی کمی نہیں آئی ہے ابھی بھی وہ دیش میں کسی بھی اپوزیشن لیڈر کے مقابلے کہیں زیادہ مقبو ل ہے ۔2014میں بھی اسی لیڈر شپ کے بوتے بی جے پی اپنے زور پر مکمل اکثریت کے ساتھ اقتدار میں آئی تھی اپوزیشن بھلے ہی الگ الگ ریاستوں میں اتحاد کر رہی ہو۔لیکن بی جے پی لیڈر شپ نے این ڈی اے کے پاس سب سے زیادہ پارٹیاں ہیں جن کی تعداد چالیس کے آس پاس ہے جو 2014کے مقابلے میں زیادہ ہیں مہاراشٹر،پنجاب،بہار میں پرانے ساتھیوں کو متحد رکھنے میں کامیاب رہی بی جے پی اب ساﺅتھ سے لے کر نارتھ ایسٹ کنارے تک کے نئے ساتھیوں کے ساتھ اپوزیشن کی ہر چنوتی کا جواب دینے کو تیار ہے ایسے میں متحد اور پہلے سے بڑے این ڈی اے کے سامنے فی الحال بکھری ہوئی اپوزیشن کتنی چنوتی دے پائے گی یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔آج شیو سینا اکالی دل سمیت اپنی طاقت پر اپنے ریاستوں میں بے حد مضبوطی کے ساتھ بی جے پی کا ساتھ دے رہی ہیں پارٹی کو لگ رہا ہے کہ دیش بھر میں اس کے یہ ساتھی پارٹیوں کا ووٹ بھی اسے ملے گا شاید بی جے پی کو یہ بھی احساس ہونے لگا ہے کہ تمام پارٹیوں کے باوجود وہ 2014کو نا دہرا پائیں ؟وزیر اعظم نریندر مودی نے مرکز میں مضبوط و مکمل اکثریت والی حکومت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پچھلی تین دہائیوں سے معلق پارلیمنٹ نے دیش کی ترقی میں رکاوٹ ڈالی ہے صورت کی ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے نوٹ بندی کو اپنی سرکار کے فیصلے کا بچاﺅ کیا اور جس وجہ سے مکانوں کی قیمتوں میں کمی آئی ہے اور سستے مکان خریدنا ممکن ہو سکا ہے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ جیسا آپ سب جانتے ہیں کہ معلق پارلیمنٹ کے سبب بھارت کو تیس برسوں تک غیر مضبوط حکومت کا سامنا کر نا پڑا چونکہ کسی پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی اور صورتحال کئی مورچوں پر پیچھے ہو گئی اعداد شمار بتاتے ہیں کہ جب جب مرکز میں مضبوط حکومت رہی تب تب لوگوں کی بہبودی کے کام ہوئے مودی سرکار کا مطلب ہے کہ مکمل اکثریت والی سرکار جب دو یکساں نظریات والی پارٹیاں چناﺅ سے پہلے یا بعد میں مل کر حکومت بناتی ہیں تو اس طرح کے اتحاد میں سرکار کھلے طور پر کام کرنے کی امکان زیادہ ہوتے ہیں ۔جب پارٹیاں صرف اقتدار کے لئے اتحاد بناتی ہیں اور ان کی کوئی پروگرام نہیں ہوتا تو دیش کئی برسوں پیچھے چلا جاتا ہے ۔بے شک وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ مضبوط قیادت اور تنظیم کے بوتے تین سو سیٹیں جیتنے کا دعوی کر رہے ہوں لیکن کہیں نہ کہیں بھاجپا لیڈر شپ کو پوری طرح پتہ نہیں ہے کہ شاید وہ اس نمبر تک پہنچ پائیں جس وہ 2014میں پہنچے تھے ۔بی جے پی کی سیٹیں کم ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔ٹائمس ناﺅ ،وی ایس آر،کے اپونین پول کی کئی باتیں سامنے آئیں ہیں جس کے مطابق نارتھ ایسٹ،مہاراشٹر ،کجرات،راجستھان،اتراکھنڈ کے نتیجے این ڈی اے کے لئے خوشخبری لا سکتے ہیں وہیں اترپردیش میں مہاگٹھ بندھن کو بڑی کامیابی ملتی دکھائی دے رہی ہے جہاں اس کو 57سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے این ڈی اے کو 27سیٹوں پر سمٹنے کا خطرہ منڈرا رہا ہے وہیں یو پی اے کو محض2سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے این ڈی اے کا ووٹ دشیر 4.4فیصد تک گھٹ کر 38.9ہو سکتا ہے جبکہ یو پی اے کے ووٹ شیر میں 4.1فیصد اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔پچھلی بار 543میں سے 336سیٹیں جیتنے والی این ڈی اے کو 252سیٹیں مل سکتی ہیں یو پی اے کو 147دیگر کو 144سیٹیں جا سکتی ہیں صاف ہے کہ این ڈی اے 272کے نمبر سے دور رہنے والی ہے ۔سیاسی مبصرین کا خیا ل ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ بی جے پی کو سیدھے سیدھے بہتر سیٹیں ملنے جا رہی ہیں اس کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ 2014میں جو ماحول مودی کی لہر کی وجہ سے تھا اب اتنا نہیں نظر آرہا ہے دوسری بڑی پریشانی اس کی 2004کی تاریخ ہے اس وقت بھی بھاجپائی سرکار کے حق میں بھارت ادے جیسی کمپین چل رہی تھی لیکن نتیجے آئے تو پتہ چلا کہ بی جے پی کے ہاتھ سے اقتدار چلا گیا یو پی جیسی ریاست میں پچھلی مرتبہ ریکارڈ توڑ سیٹیں اس لئے جیتی تھیں کیونکہ پوری اپوزیشن بکھری ہوئی تھی لیکن اس مرتبہ سپا بسپا کے اتحاد سے سخت چیلنج ملنے والا ہے اسی طرح بہار میں بھی کانگریس آر جے ڈی مضبوط گٹھ بندھن ہے یہی نہیں راجستھان گجرات مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں جہاں اس نے 90سے لے کر سو فیصدی تک سیٹیں جیتی تھیں ان میں سے گجرات کو چھوڑ کر باقی ریاستوں میں اب کانگریس اقتدار میں آچکی ہے ۔ایسے میں ان ریاستوں میں جو نقصان ہوگا اس کی بھرپائی کیسے ہوگی اس کے لئے سب سے بڑی چنتا یہ ہے کہ دیگر ریاستوں میں کانگریس بھلے ہی لیکن ترنمول کانگریس ڈی ایم کے کانگریس گٹھ بندھن ،چندر بابو نائیڈو سمیت مضبوط اپوزیشن علاقائی اپوزیشن پارٹیوں سے کڑی چنوتی ملے گی ۔دیکھیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟(ختم)
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...