Translater

Qasab لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Qasab لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

20 مئی 2012

قصاب کی مہمان نوازی پر ہورہے 20 کروڑ کا خرچ کون برداشت کرے؟

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ رحم کی اپیلوں کے معاملے میں اس کے سامنے دو معاملے التوا میں ہیں۔ ان معاملوں میں وہ کچھ ایسی ہدایت دے سکتی ہے جو صدر کے پاس التوا میں پڑی رحم کی اپیلوں کو لائن میں لگا سکتی ہے۔اس لئے بہتر ہوگا کہ وہ رحم کی اپیلوں کے نپٹارے کے لئے کوئی وقت یا میعاد مقرر کرے۔ جسٹس جی ایس سنگھوی، ایس جے مکھ اپادھیائے کی ڈویژن بنچ نے کہا ہے کہ مرکز وقت اور میعاد مقرر کرنے پر غور کرے۔ حالانکہ معافی دینے کے صدر کے مخصوص اختیارات پر وہ کوئی ہدایت نہیں دینا چاہتے۔ عدالت نے کہا ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ سرکار جلد بازی میں فیصلہ کرے کیونکہ اس سے اس کے سامنے التوا معاملوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ عدالت نے یہ رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ حالانکہ ہم نے دیکھا ہے کہ حکومت نے بھلر کے معاملے میں سرگرمی تبھی دکھائی جب اس نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی تھی۔ اس کی عرضی کے ایک ماہ بعد ہی حکومت نے اسے خارج کردیا۔ اس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا اس کے مقدمے کے نفع نقصان کی بنیاد پر فیصلہ ہوا ہے۔ صدر کے سامنے رحم کی عرضیوں کے برسوں تک لٹکے رہنے کے خلاف موت کی سزا یافتہ دو قصورواروں دیویندر سنگھ بھلر اور مہندر ناتھ داس نے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ انہیں آئین کی دفعہ 21 کے تحت ملے اختیارات کی خلاف ورزی ہے اس لئے ان کی سزاؤں کو اب عمر قید میں بدل دیا جائے۔ دونوں عرضیوں پر صدر کے یہاں تقریباً 7 برسوں سے زیادہ کی تاخیر ہوچکی ہے۔ادھر سکھا راحت کے معاملے پر دہلی ہائی کورٹ سے خالی ہاتھ لوٹے مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان نے کہا ہے کہ آرتھر روڈ جیل میں بند اجمل قصاب کی سکیورٹی کا خرچ مہاراشٹر سرکار کے سر ڈالنا سراسر غلط ہے۔ چوہان نے وزیر داخلہ پی چدمبرم کو ایک خط لکھ کر مانگ کی ہے کہ قصاب کی سلامتی پر خرچ ہوئے قریب20 کروڑ روپے کو مرکزی سرکار برداشت کرے۔ چوہان نے یہ خط این سی پی نیتا اور ریاست کے وزیر داخلہ آر آر پاٹل کے اس بیان کے بعد لکھا ہے جس میں انہوں نے قصاب کی اتنی لمبی دیکھ بھال کو غلط بتایا تھا۔ اجمل قصاب کی سلامتی میں لگی انڈو تبت پولیس نے مہاراشٹر سرکار کے پاس 28 مارچ 2009 سے لیکر 30 ستمبر 2011 تک کے قریب20 کروڑ روپے کا بل بھیج دیا ہے۔ یہ بل آئی ٹی بی پی کے ان ملازمین کی تنخواہ اور بھتوں پر خرچ ہوا ہے جو قصاب کی سلامتی میں لگے ہوئے ہیں۔ پہلے ہی سے اقتصادی بحران کا شکار مہاراشٹر سرکار پر 20 کروڑ روپے کا خرچ کسی بوجھ سے کم نہیں ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے وزیر اعلی چوہان نے چدمبرم کو خط بھیجا ہے۔ مرکزی سرکا ر اور ریاستی سرکار کے درمیان رسہ کشی کا یہ معاملہ آنے والے دنوں میں طول پکڑ سکتا ہے۔ قصاب کو مبینہ طور سے سرکاری مہمان کے طور پررکھے جانے کو لیکر شیو سینا کئی بار مرکز اور ریاستی سرکار پر حملہ کرچکی ہے۔ این سی پی کو بھی اب لگنے لگا ہے کہ مراٹھی مانش کے اشو سے دور ہوجانے کی وجہ سے حال کے بلدیاتی انتخابات میں ممبئی کے ووٹروں نے اسے پوری طرح سے نامنظور کردیا ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کب تک اجمل قصاب کی دیش یوں ہی خاطر داری کرتا رہے گا؟ آخر کوئی وقت ،میعاد تو طے کرنی ہی ہوگی؟

29 نومبر 2011

اجمل قصاب پر اب تک 100 کروڑ روپے خرچ ہوئے



Published On 29th November 2011
انل نریندر
26 نومبر کو مجھے ایک دوست سے ایس ایم ایس ملا کہ شرد پوار کو تھپڑ مارنے والے ہروندر سنگھ کوجلد ہی سزا ہو جائے گی اور درجنوں بے قصوروں کو مارنے والے اجمل قصاب کو اتنے برس گذرنے کے بعد بھی سزا نہیں ہوئی۔26/11 کے آتنکی حملے کے تین سال بعد بھی اجمل قصاب کو پھانسی نہیں ہوسکی۔پھانسی دینا تو دور رہا اسے ہم پال پوس رہے ہیں، بریانی کھلا رہے ہیں۔ خبر ہے کہ قصاب پر حکومت ہند اور مہاراشٹر سرکار نے اب تک 100 کروڑ روپے خرچ کردئے ہیں۔ اس سیاہ دن کا محض ایک زندہ ملزم قصاب اس وقت ممبئی کی جیل میں بند ہے۔ یہ خرچ اس کی اسپیشل سکیورٹی ، اسپیشل وارڈ اور اچھے کھانے پینے اور وکیل کی فیس پر کیا گیا ہے جبکہ بدقسمتی دیکھئے کہ حملے کے متاثرین کے ورثاء کو13.73 کروڑ روپے ہی دئے گئے ہیں۔ حملے میں مارے گئے لوگوں کے ورثاء نے جمعہ کو مہاراشٹر کے گورنر سے مل کر ان کو حکومت کی جانب سے کئے گئے وعدے پورے کرنے کی اپیل کی۔ اسی دن 26/11 کی تیسری برسی پر مہاراشٹر کے وزیر اعلی پرتھوی راج چوہان سے ملنے جارہیں ۔متوفی افراد کی بیواؤں اور رشتے داروں کو حراست میں لیکر حوالات میں ڈال دیا گیا۔ یہ لوگ وزیر اعلی کو ان کے سرکاری وعدے کی یاد دلانے جارہے تھے جو اب تک پورے نہیں ہوئے۔ صرف قصاب کو ہی اب تک پھانسی نہیں دی گئی بلکہ مہاراشٹر سرکار نے متوفین کے ورثاء سے جو وعدے کئے تھے وہ بھی پورے نہیں کئے۔ حراست میں لئے گئے لوگوں میں 26/11 کے علاوہ ممبئی میں اب تک تین آتنکی واردات میں متاثرہ افراد کے لوگ شامل تھے۔ان کے مطابق مرکزی وزارت داخلہ کے ذریعے دہشت گردی کا شکار خاندان کو دی جانے والی تین لاکھ روپے کی رقم بہت سے خاندانوں کو اب تک نہیں ملی کیونکہ ریاستی حکومت نے متاثرین کو یہ پیسہ دلانے کی پہل ہی نہیں کی۔اس مارچ کی قیادت کررہے سابق ایم پی کرٹسومیا کے مطابق 26/11 کے حملے میں مرے 163 لوگوں میں سے صرف61 کے رشتہ داروں کو ہی یہ معاوضہ مل سکا ہے۔ اسی طرح فروری 2010ء میں پنے میں ہوئے جرمن بیکری کانڈ میں مارے گئے 17 لوگوں میں سے صرف11 کے رشتے داروں کو اب تک معاوضہ رقم ملی ہے۔26/11 کو ہوئے آتنکی حملے میں بچ نکلنے میں کامیاب رہے لوگ اب بھی قصوروار ٹھہرائے گئے پاکستانی بندوقچی اجمل قصاب کو پھانسی پر چڑھائے جانے کا انتظار کررہے ہیں۔ وہ اس بات سے حیرت زدہ ہیں کہ آخر کار سرکار قصاب کو کیوں بچانے میں لگی ہے؟ 13 سالہ لڑکی دیویکاشیکھرن نے کہا کہ'' قصاب کو ابھی تک کیوں نہیں پھانسی پر لٹکایاگیا؟ ہماری حکومت آخر کس چیز کا انتظار کررہی ہے؟ کیا ایک اور26/11 جیسے حملے کا انتظار ہے؟ دیویکا کے والد نٹور لال یہاں چھترپتی شیواجی ٹرمنل پراپنی بیٹی اور بیٹے کے ساتھ ٹرین کا انتظار کررہے تھے اسی دوران آتنک وادیوں نے ریلوے اسٹیشن پر گولیاں چلانی شروع کردیں۔ آتنک وادیوں کی ایک گولی دیویکا کے داہنے پاؤں پر لگی ، جو عدالت میں گواہی دینے کے دوران سب سے نوجوان چشم دید گواہ تھی۔ دیویکا کو طویل عرصے تک بیساکھی کے سہارے چلنا پڑا۔ اوبرائے ہوٹل میں اپنے پتی پنکج کو کھونے والی کلپنا شاہ کیلئے آتنک وادیوں کو معاف کرنا یا بھولنا اس کے لئے آسان نہیں۔ انہوں نے کہا میں اپنے شوہر کو روزانہ یاد کرتی ہوں اور ان کی کمی زندگی بھر رہے گی۔ 26/11 میں مارے گئے باپو صاحب ٹورگڑے کی بیوی ارونا نے کہا میرے شوہر اے ٹی ایس میں افسر تھے ان کی شہادت نے مجھے اور مضبوط بنا دیا۔ میں نے وقت کے ساتھ جینا سیکھ لیا ہے لیکن حملوں کے تین سال بعد بھی میں یہ نہیں سمجھ پائی کہ اجمل قصاب اب تک کیوں زندہ ہے۔ شہید پولیس ملازم ارون چتتے کی بیوی منیشا چتتے کا کہنا ہے کہ میری بڑی بیٹیوں کو پتہ ہے ان کے پاپا اب شہید ہوگئے ہیں لیکن چھوٹی اب ان کی فوٹو دیکھتی رہتی ہے کہ شہید کیا ہوتا ہے؟ میں جاننا چاہتی ہوں کہ قصاب کو پھانسی کب دی جائے گی۔''
26/11, Anil Narendra, Daily Pratap, Qasab, Vir Arjun

زندہ ہیں مجتبیٰ خامنہ ای ؟

پچھلی 28 فروری سے جب سے امریکہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا جس میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے خاندان والے افراد کی شہادت ہوئی تھی ...