Translater

‏9/11 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏9/11 لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

21 فروری 2012

امریکی پارلیمنٹ کو اڑانے کی سازش ناکام بنائی


Published On 21st February 2012
انل نریندرامریکہ نے ایک بار پھر یہ دکھا دیا ہے کہ وہ9/11 آتنکی حملے کے بعد کتنا چوکس ہے۔ اس کا دہشت گردی مخالف آپریشن تب رنگ لایا جب ایس بی آئی نے امریکی پارلیمنٹ (کیپیٹل ہل) کو اڑانے کی سازش کو ناکام بنا دیا۔ امریکہ کے محکمہ انصاف کے مطابق خودکش حملہ کرکے امریکی پارلیمنٹ کو اڑانے کی سازش رچنے والے ماسکو کے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ 29 سالہ امین الخلیفی کے طور پر اس کی پہچان کی گئی ہے۔ خلیفی کو امریکی پارلیمنٹ کے پارکنگ لاٹ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ خلیفی ایک بموں سے بھری جیکٹ پہن کر ہاتھ میں مشین گن لے کر امریکی پارلیمنٹ کو اڑانا چاہتا تھا۔ اسے یہ نہیں معلوم تھا جو بموں سے لدی وردی اس کو دی گئی اور جو ہتھیار دئے گئے وہ سب نقلی تھے۔ دراصل ایف بی آئی نے ایک اسٹنگ آپریشن کے تحت پہلے سے ہی اپنے ایک ایجنٹ کو القاعدہ کے اس گروہ میں شامل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی تھی۔ وہی انڈر کور ایجنٹ القاعدہ کا ورکر بن کر خلیفی کی سرگرمیوں پر نظر رکھتا رہا۔ اسی نے خلیفی کو یہ نقلی ہتھیار دئے جب وہ اپنے پلان کے مطابق کیپیٹل ہل کی پارکنگ ایریا میں پہنچا تو اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کرلیا۔ امریکہ کی ایف بی آئی اور جوائنٹ ٹریریزم ٹاسک فورس کا یہ مشترکہ آپریشن کامیاب رہا۔ خلیفی کو اجتماعی تباہی کے ہتھیار کا استعمال کرکے پبلک پراپرٹی کو نقصان پہنچانے اور عام جنتا پر گولہ باری کرنے کی کوشش کا ملزم بنایا گیا ہے۔ امریکی اٹارنی نال میکس برائٹ نے کہا خلیفی کو لگ رہا تھا کہ وہ القاعدہ کے لئے کام کررہا ہے لیکن وہ القاعدہ کا فرضی آپریشن چلا رہی ایف بی آئی کے شکنجے میں پھنس چکا تھا۔ خلیفی کا الزام ثابت ہوجاتا ہے تو اسے عمر قید کی سزا مل سکتی ہے۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق خلیفی 1999ء میں ویزا پر امریکہ آیا تھا لیکن ویزا کی میعاد ختم ہونے کے باوجود وہ یہاں ٹکا رہا۔ اس نے کبھی بھی امریکہ کی شہریت حاصل کرنے کے لئے درخواست نہیں دی تھی۔ ایف بی آئی کے جنوری 2011ء کے حلف نامے میں بتایا گیا ہے کہ ایک مصدقہ ذرائع نے اسے بتایا کہ خلیفی نے ورجینیا کے ایک گھر میں کچھ لوگوں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران ایک شخص نے اسے اے کے ۔47 دو ریوالور اور دھماکوں سامان دئے۔ خلیفی نے ہتھیار لیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل مسلمانوں کے خلاف جنگ ہے۔ہمیں جنگ کے لئے تیار ہوجانا چاہئے۔ خلیفی کو ایک ریستوراں پر بھی حملہ کرنا تھا لیکن پچھلے ماہ اس نے اپنی اسکیم بدل دی اور اس نے پارلیمنٹ ہاؤس پر حملہ کرنے کی منشا ظاہر کی۔ ا س نے مغربی ورجینیا میں باقاعدہ حملے کی ریہرسل بھی کی تھی۔ پارلیمنٹ پر حملہ کرنے کے لئے اس نے17 فروری کا دن چنا تھا۔ پچھلے ماہ اس نے کیپیٹل ہل کے آس پاس چکر لگا کر موزوں جگہ کی تلاش بھی کرلی تھی لیکن اسے حملے سے پہلے ہی دھرلیا گیا۔ امریکہ کی سکیورٹی اور خفیہ مشینری کتنی مضبوط ہے یہ ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے۔
9/11, America, Anil Narendra, Daily Pratap, Terrorist, USA, Vir Arjun

04 اکتوبر 2011

امریکہ کا القاعدہ کو دوہرا جھٹکا



Published On 4th October 2011
انل نریندر
امریکہ اور القاعدہ لشکر طیبہ کے درمیان لڑائی جاری ہے۔ لشکر اور القاعدہ نے مل کر امریکہ کے ڈیفنس ہیڈ کوارٹر پینٹاگان کو اڑا نے کی سازش رچی تو ادھر یمن کی پہاڑیوں پر امریکہ نے ایک ہوائی حملہ کرکے القاعدہ کی یمن شاخ کو خطرناک آتنک وادی انور الاولاکی کو مار ڈالا۔ پہلے بات کرتے پنٹاگان پر حملے کی سازش کی۔ امریکہ کے محکمہ انصاف نے بتایا کہ ایک 26 سالہ امریکی شہری رضوان فردوس پر غیر ملکی دہشت گرد تنظیم خاص کر القاعدہ کو بیرونی ممالک میں امریکی فوجیوں پر حملے کرنے کیلئے دھماکوں سامان اور وسائل مہیا کرانے کی کوشش کا الزام لگایا گیا ہے۔ رضوان فردوس کو فرسنگم سے گرفتار کیا گیا۔ ایک حلف نامے کے مطابق 2011 جنوری کے آغاز میں تعاون کرنے والی گواہوں کی گواہی ریکارڈ کی گئی۔ بات چیت میں فردوس نے بتایا تھا کہ اس نے پنٹاگان پر چھوٹے بے پائلٹ جہازوں سے حملہ کرنے کی سازش تیار کی تھی۔ اس میں د ھماکو ہوتے ہیں اور جہاز کو جے پی سی سسٹم کے ذریعے چلایا جانا تھا۔ اپریل 2011ء میں فردوس نے اپنی سازش کی تفصیل بنا کر اس میں ایک دوسرے مقام پر حملے کو بھی شامل کیا۔ 2011ء کے مئی اور جون میں فردوس نے چھپا کر دو پین ڈرائیو سونپے جس میں پنٹاگان اور کیپرول پر حملے کی سازش کا قدم بہ قدم اور باقاعدہ تمام تفصیل تھی۔ سازش کے مطابق اس حملے کیلئے ریمورٹ کنٹرول سے چلنے والے تین جہازوں اور چھ افراد کا استعمال کیا جانا تھا جس میں وہ شخص بھی شامل تھا جس نے خود کوامیر بتایا ہے۔ عربی زبان میں امیر کا مطلب قیادت کرنے والا ہوتا ہے۔ فردوس کی گرفتاری امریکی سکیورٹی ایجنسیوں کی ایک شاندار کامیابی ہے۔ وقت رہتے ایک خطرناک سازش کا پردہ فاش کرکے انہوں نے ایک بڑا سازشی حملہ ہونے سے بچا لیا۔
ادھر اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد امریکہ نے القاعدہ کو ایک اور زبردست جھٹکا دیا ہے۔ یہ جھٹکا القاعدہ کی یمن شاخ کے خونخوار آتنک وادی انور الاولاکی کا مارا جانا ہے۔ اولاکی امریکی نژاد دہشت گرد تھا۔ فٹا فٹ انگریزی بولنے اور انٹر نیٹ کے ذریعے امریکہ میں حملوں کے ذریعے آتنک وادیوں کی بھرتی کرنے کے چلتے اس نے القاعدہ میں اہم درجہ حاصل کرلیا تھا۔ ایک بار پھر امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں نے قابل قدر کام کرکے دکھایا ہے۔ اس کار میں اولاکی سفر کررہا تھا اس پر ڈرون اور جیٹ جہازوں سے حملہ کیا گیا۔ وہ حملے میں مارا گیا۔ یمن کی حکومت نے کہا پہاڑی صوبہ جاف کے کاشف شہر کے باہر صبح9:55 پر الاولاکی کو نشانہ بنایا گیا، وہ ماراگیا ہے۔ جاف راجدھانی ثنا سے 40 کلو میٹر مشرق میں واقع ہے۔ مقامی قبائلیوں اور سکیورٹی ایجنسیوں نے کہا کہ اولاکی دو کاروں کے ساتھ سفر کررہا تھا۔ اس کے ساتھ القاعدہ کی یمن شاخ کے دو اور آتنکی بھی تھے۔ جس وقت اس پر ہوائی حملہ ہوا وہ الجاف کے پاس واقع مرند صوبے میں جارہا تھا۔ اولاکی میکسیکو میں پیدا ہوا۔ اس کے والدین یمن کے تھے۔ اس نے اپنی تعلیم یونیورسٹی سے امریکہ میں حاصل کی۔ اولاکی سینڈیگو میں دو لوگوں سے رابطے میں تھا جنہوں نے9/11 کے حملے میں خودکش اغوا کاروں کا کردار نبھایا تھا۔ ایف بی آئی نے اس سے پوچھ تاچھ کی لیکن ایجنسی کو اسے حراست میں لینے کی کوئی وجہ نہیں ملی اور اسے چھوڑدیا گیا۔2004 ء میں اولاکی یمن آیا۔ وہ ایک مذہبی پیشوا بن گیا اور اس نے برسوں سے انٹرنیٹ پر اپنے رہنما اصولوں میں امریکہ کی مخالفت کی اور جہاد کی اپیلیں کرتا رہا۔ امریکہ کو یہ دوہری کامیابی اس کی آتنک مخالف چوکسی کے سبب ملی۔ اس کی خفیہ جانکاری حاصل کرنے کی مشینری ایک بار پھرایک طرف تو اپنے دیش میں خطرناک حملے کو روکنے میں کامیاب رہی دوسری طرف ایک کٹر امریکی مخالف آتنک وادی کو صاف کرنے میں کامیابی حاصل کر پائی۔ ہندوستان کی خفیہ اور جانچ ایجنسیوں کو امریکی سسٹم سے کچھ سیکھنا چاہئے۔ ہم آج تک کسی بھی جانچ میں کامیاب نہیں ہوئے اور نہ ہی ہمیں حملے سے پہلے کوئی اطلاع بھی ملتی ہے۔ یوں ہی نہیں امریکہ کی سرزمین پر9/11 حملے کے بعد سے ایک بھی حملہ نہیں ہوسکا۔
 9/11, Al Qaida, America, Anil Narendra, CIA, Daily Pratap, FBI, Haqqani Network, USA, Vir Arjun

22 جون 2011

افغانستان میں 10 سال پہلے امریکہ گھسا کیوں تھا؟

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
22جون 2011 کو شائع
انل نریندر
افغانستان میں تیزی سے سیاسی حالات بدل رہے ہیں۔ امریکہ نے اب وہاں سے بھاگنے کے اقدامات پر عمل کرنا شروع کردیا ہے۔ حالیہ دنوں میں دو خبریں ایسی آئی ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ وہاں کچھ کھیل چل رہا ہے۔ پہلی خبر جو آئی تھی وہ یہ کہ بھارت سمیت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سبھی 15 ممبردیشوں میں پابندیوں کے لحاظ سے ایک ایسی فہرست کو منظوری دی ہے جس میں طالبان اور القاعدہ کو الگ الگ نظریئے سے دیکھا جائے گا۔ اس کا مقصد طالبان اور افغانستان میں صلاح کرانے کی کوششیں بتائی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں سکیورٹی کونسل نے گذشتہ جمعرات کی رات مکمل اکثریت سے ریزولیشن پاس کئے ہیں۔ ان میں پابندیوں کو لیکر طالبان کے لئے القاعدہ سے الگ فہرست بنانے کی بات کہی گئی ہے۔ اس اہم قدم کے بعد القاعدہ اور طالبان آتنکیوں کو الگ الگ پیمانوں میں تولا جائے گا۔ دوسرا واقعہ افغانستان کے صدر حامد کرزئی کا یہ کہنا کہ امریکہ طالبان سے بات چیت کررہا ہے، اس بارے میں پہلی بار سرکاری طور پر توثیق ہوئی ہے۔ کرزئی نے کابل میں ایک کانفرنس میں کہا طالبان کے ساتھ بات چیت شروع ہوگئی ہے اور اچھی پیشرفت ہوئی ہے۔ غیر ملکی فوجیں خاص کر امریکہ خود ہی بات چیت کرارہا ہے۔ امریکہ میں لیڈر شپ میں افغانستان میں جاری جنگ10 ویں سال میں داخل ہوگئی ہے اور وہاں پر لڑائی کے سیاسی حل کی آوازیں بھی تیز ہونے لگی ہیں۔
افغان صدر حامد کرزئی نے جو انکشاف کیا ہے وہ افغانستان کے لئے جتنا خطرناک ہے اتنا ہی امریکہ کے مفاد پرمبنی ہے اور یہ دوہرے پن کا ایک ثبوت بھی ہے۔ افغانستان کے خلاف امریکہ نے آخر جنگ کیوں چھیڑی تھی؟ جہاں تک ہم سمجھ سکے ہیں 9/11 حملے کے لئے القاعدہ اور طالبان کو ذمہ دار مانتے ہوئے انہیں سبق سکھانے کے لئے یہ جنگ چھیڑی گئی تھی۔ پچھلے10 برسوں میں پہلے تو امریکہ نے اسی طالبان حکومت کو اقتدار سے معذول کیا تھا اور اب وہی طالبان اسے اچھے لگنے لگے ہیں اور ان سے دوبارہ اقتدار سنبھلوانے کی تیاری ہورہی ہے۔ ہم صدر براک اوبامہ اور امریکہ کی مجبوری کو سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ اعلان کررکھا ہے کہ 2014 ء ادطعرتتک افغانستان سے امریکی فوج کی پوری واپسی ہونی ہے اس لئے اناً فاناً میں مسئلے کا حل نکالنا چاہتے ہیں۔ اسی کے تحت طالبان سے بات چیت شروع کی ہے جو حالانکہ ابھی ابتدائی دور میں ہے۔ امریکہ کے کٹھ پتلی ادارے اقوام متحدہ نے طالبان اور القاعدہ پر اس لئے پرانا سسٹم روکتے ہوئے جو پیغام دیا ہے اس کا لب لباب یہ ہی ہے کہ اگر القاعدہ کا ساتھ چھوڑ کر طالبان افغانستان کا دوبارہ تعمیر نو میں معاون بنتا ہے تو اسے معافی دے دی جائے گی۔ ہمیں تھوڑا تعجب اس بات پر بھی ہوا ہے کہ آخر بھارت نے کیا سوچ کر سلامتی کونسل کے ریزولیشن پر اپنی مہر لگائی تھی۔ بھارت کی نظروں میں یہ طالبان ایک اچھی تنظیم بن گئی ہے جس سے بھارت کو اب کوئی خطرہ نہیں ہے؟ سوال یہ نہیں کہ طالبان کیسا ہے، سوال یہ ہے ایک آتنکی تنظیم جس نے اپنا ایجنڈا عام کردیا ہو، ا س سے آپ سمجھوتے کی بات کررہے ہوں وہ بھی بکواس شرطوں پر؟ معاملہ تو یہ ایک آتنکی تنظیم سے بات چیت کر امریکہ نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے اس کے تمام فیصلوں کے پیچھے صرف اسکا اپنا مفاد ہوتا ہے۔ اسے اس بات کی قطعی پرواہ نہیں کہ اس گھوٹالے کا بھارت، پاکستان، ایران ملکوں پر کیا اثر پڑنے والا ہے؟ نہ ہی اسے اب عالمی آتنک واد سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی کوئی سروکار۔ اس لئے بات چیت میں افغان سرکار کو شامل نہیں کیا گیا۔ خود افغانی مانتے ہیں کہ یہ انتہائی خطرناک قدم ہوگا اور ملک پھر2001 ء سے پہلے کے حالات میں چلا جائے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کا سیدھا نقصان بھارت کو بھی ہوگا۔ بھارت کے ذریعے افغانستان میں جاری مختلف تعمیراتی اسکیموں کو جھٹکا لگے گا۔ اس سے کرزئی حکومت کی ساکھ اور طریقہ کار اور مستقبل پر نامناسب اثر پڑے گا۔ لیکن امریکہ کو ان سب سے کیا لینا دینا۔ اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی کہ ایک دہائی پہلے جو امریکہ ’وار آن ٹیرر‘ کا نعرہ دیکر افغانستان میں اس لئے داخل ہوا تھا کہ القاعدہ اور طالبان کو وہ ختم کرسکے، آج وہ اسے نہیں آتنکیوں کے حوالے کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے تاکہ افغانستان سے اسے بھاگنے کا راستہ مل جائے؟
Tag: 9/11, Afghanistan, Al Qaida, America, Anil Narendra, Daily Pratap, India, Iran, Osama Bin Ladin, Pakistan, Security Council, Taliban, UNO, USA, Vir Arjun

گیا نیش کمار کا حفاظتی کوچ؟

ووٹ چوری کے الزامات کو دوہراتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کو خبر دار کیا ہے اور تجویز بھ...