Translater

26 مئی 2018

راجیہ سبھا و لوک سبھا میں بدلتا پارٹی حساب کتاب

ضمنی چناؤ کے سبب دونوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں پارٹیوں کی پوزیشن بدلتی رہتی ہے۔ پہلے بات کرتے ہیں لوک سبھا کی۔ اس میں پارٹی وائز حساب کتاب مسلسل بدل رہا ہے۔ کرناٹک کے بھاجپا نیتا یدی یرپا اور بی شراملو کے علاوہ جے ڈی ایس کے سی ایس پتا راجو کے استعفیٰ منظور ہوجانے کے بعد بھاجپا کو موجودہ تعداد 272 پہنچ گئی ہے۔ دراصل کیرانا سمیت4 لوک سبھا سیٹوں پر چناؤ ہورہا ہے اس کے بعد کرناٹک کی 3 لوک سبھا سیٹوں کو ملا کر کل 7 سیٹیں خالی رہیں گی۔ اس لحاظ سے ایوان کے موجودہ نمبری طاقت میں بھاجپا کی پوزیشن تھوڑی سی مشکل والی بنی رہے گی لیکن اپوزیشن اخلاقی طور سے دباؤ کے لئے اپنے بڑی نمبروں کی طاقت کو بنیاد بنانے کی کوشش ضرور کرے گی۔ اس ضمنی چناؤ کی ہار کے باوجود بھاجپا کی رہنمائی میں این ڈی اے کی طاقت حریف پارٹیوں کے مقابلے میں کافی زیادہ ہے۔ اس کے پاس 306 کے آس پاس سیٹیں ہیں جبکہ کانگریس کے ساتھ کھڑی پارٹیوں کے علاوہ غیر جانبدار مانی جارہی انا ڈی ایم کے ، ٹی آرا یس، بی جے ڈی اور سیاسی پارٹیوں کو بھی ملا لیں تو لوک سبھا میں اس کی تعداد 230 کے آس پاس ہے۔ بڑی اپوزیشن پارٹی کانگریس نے اپنی بنیادی تعداد44 میں 4 سیٹوں کا اضافہ کیا ہے۔ ایوان میں کانگریس کے موجودہ ممبروں کی تعداد48 ہے۔ کانگریس نے بی جے پی سے 2 سیٹیں راجستھان اور 1 مدھیہ پردیش سے چھینی ہے۔ سماجوادی پارٹی نے 2 سیٹیں اترپردیش میں گورکھپور اور پھولپور کی انتہائی اہم ترین سیٹیں بی جے پی سی چھینی ہیں۔ یہ دونوں سیٹیں وزیر اعلی اور نائب وزیر اعلی کے استعفے سے خالی ہوئیں تھیں۔ کانگریس کے بعد انا ڈی ایم کے کے نمبر اس کے پاس ہیں جس کی 37 سیٹیں ہیں۔ ترنمول کانگریس 34 سیٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر بڑی پارٹی ہے جبکہ بی جے ڈی کی تعداد 20 اور شیو سینا کی تعداد 18 سیٹیں ہیں۔ تیلگو دیشم کے پاس 16 سیٹیں ہیں اور ٹی آر ایس کے پاس کل 11 لوک سبھا سیٹیں ہیں۔16 ویں لوک سبھا چناؤ کے بعد بھاجپا نے 282 سیٹیں حاصل کی تھیں۔ اب اس کی تعداد گھٹ کر 272 رہ گئی ہے۔ راجیہ سبھا کی 58 سیٹوں کے لئے حال ہی میں ہوئے ضمنی چناؤ کے بعد بھاجپا کے کھاتے میں 11 سیٹوں کا اضافہ ہوا ہے جبکہ کانگریس نے اپنی چار سیٹیں کھو دی ہیں۔ نمبروں کا حساب کتاب یہ دکھاتا ہے کہ 245 ممبری راجیہ سبھا میں اب بھاجپا کی سیٹوں کی تعداد موجودہ 58 سے بڑھ کر 69 ہو جائے گی۔ کانگریس کی سیٹیں اب 54 سے گر کر 50 رہ جائیں گی۔ حالانکہ اب بھی بھاجپا اتحاد این ڈی اے راجیہ سبھا میں اکثریت سے بہت دور ہے۔ پارٹی کو ابھی حال ہی میں ایک اور جھٹکا لگا ہے جب چار سال سے اس کی ساتھی رہی تیلگودیشم پارٹی نے اس سے ناطہ توڑ لیا ہے۔ ایوان میں اس وقت ٹی ڈی پی کے 6 ممبر ہیں۔ درکار نمبروں کی طاقت نہ ہونے کے سبب مودی سرکار کے ذریعے لائے گئے بل لوک سبھا میں پاس ہونے کے باوجود اپوزیشن پارٹیوں کے متحد ہوجانے کے سبب اٹک جاتے ہیں۔
(انل نریندر)

اتراکھنڈ میں دہک رہے ہیں جنگل آدمی اور جانور سبھی ہلکان

نارتھ انڈیا میں گرمی اپنے شباب پر ہے اور ابھی سے کئی شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سیلسیس پہنچ گیا ہے۔ پنجاب، ہریانہ، اترپردیش، راجستھان، مہاراشٹر کا ودربھ علاقہ راجدھانی دہلی گرمی سے زیادہ متاثر ہے۔ اتراکھنڈ کے جنگلوں میں گرمی کے سبب آگ لگی ہوئی ہے۔ دہلی میں منگلوار کو اس سیزن کا سب سے گرم دن درج کیا گیا جہاں درجہ حرارت عام سے 4 ڈگری سیلسیس زیادہ رہا۔ صفدرجنگ میں 44 ڈگری درج ہوا۔ محکمہ موسمیات صفدرجنگ اسٹیشن میں درج درجہ حرارت کو دہلی کا اوسطاً مانا جاتا ہے۔ وہیں پالم میں 46 ڈگری سیلسیس درج ہوا۔6 نیشنل پارک ،4 کنزرویشن ریزرو والا اتراکھنڈ جنگلوں کی آگ سے ہلکان ہے۔ 71 فیصد جنگل والی ریاست میں جنگل آگ سے جھلس رہے ہیں۔ ا س سے جنگلی وراثت کو تو خاصہ نقصان پہنچ ہی رہا ہے بے زبان بھی جان بچانے کو ادھر ادھر بھٹک رہے ہیں۔ یہی نہیں جنگلی جانوروں کے آبادی کے نزدیک آنے سے انسان اور اس کے درمیان جدوجہد تیز ہونے کااندیشہ سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ایسے میں جنگل کی دہلیز پار کرتے ہوئے ان کے شکار کا بھی اندیشہ ہے۔ حالانکہ دعوی ہے کہ ریاست بھر میں دیہات شہروں سے لگی جنگلوں کی سرحد پر چوکسی بڑھا دی گئی ہے۔ منگلوار کو پوڑی کے ایک سینٹرل اسکول اور کمشنر کے مکان تک آگ پہنچ گئی۔ بچوں کو بچانے کے لئے اسکول میں چھٹی کرنی پڑی۔ جنگل سے گزرنے والی سڑکوں پر ٹریفک روکنا پڑا۔ ماہرین کا کہنا ہے درجہ حرارت میں اضافہ آگ کی خاص وجہ ہے۔ آگ سے چاروں طرف پھیلی دھند کے سبب ہمالیہ تک نظر نہیں آرہا ہے۔ ہمالیہ نہیں دکھائی دینے سے ٹورازم پر بھی خاصہ اثر پڑا ہے۔ پیر کو ریاست میں آگ لگنے کی 386 واقعات درج کئے گئے تھے جو منگل کو بڑھ کر 917 ہو گئے۔ اس فائر سیزن میں اب تک 800 مقامات پر کل 1213 ایکڑ جنگل تباہ ہوچکے ہیں۔ بے قابو ہوتی جنگلوں کی آگ پر قابو پانے کے لئے ہیلی کاپٹروں کی مدد لینے کی تیاری ہے۔ منگل کو چمولی میں وزیراعلی ترویندر سنگھ راوت نے کہا کہ ضرورت پڑی تو آگ بجھانے کے لئے ہیلی کاپٹر کی مدد لی جائے گی۔ آگ پر قابوپانے کے لئے پوری طاقت جھونک دی گئی ہے۔ محکمہ جنگلا کے ملازمین کیساتھ پولیس ، این ڈی آر ایف کے جوان اور بڑی تعداد میں مقامی لوگ آگ بجھانے میں لگے ہیں ان کی تعداد 4306 ہے۔جنگلوں کی آگ پر کنٹرول کے پیش نظر 248 گاڑیاں بھی لگائی گئی ہیں۔ جنگلی جانوروں کی حفاظت کو دیکھتے ہوئے سبھی محفوظ اور غیر محفوظ جنگلی علاقوں میں گاؤں اور شہروں سے لگی سرحد پر محکمہ جنگلات کے ملازمین کی باقاعدہ گشت بڑھا دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی جنگلوں میں بنائے گئے واٹر ہول میں پانی کا انتظام کرنے پر خاص توجہ دی جارہی ہے۔
(انل نریندر)

25 مئی 2018

جموں وکشمیر کے سرحدی گاؤں میں چھایا سناٹا،ہزاروں زندگیاں داؤں پر

سنسان گلیاں،خاموشی اس قدر کے تنکا بھی گرے تو آواز سنائی دے۔ جموں و کشمیر کے سرحدی گاؤں میں ماحول اب بدسے بدتر ہوتا جارہا ہے۔ 6 کلو میٹر کی دوری پر واقع دیہاتی محفوظ نہیں ہیں ایسے میں اب ہزاروں کنبوں کی زندگی داؤ پر لگی ہے۔ جموں و کشمیر سے ہمارے نامہ نگار انل ساکشی کی یہ رپورٹ چونکانے والی رپورٹ پیش ہے۔ آج ہی جموں و کشمیر کی سرحدی دیہات میں پاکستانی فوج نے زبردست بمباری کرکے جنگ جیسے حالات بنائے ہوئے ہیں جو تباہی اس کے چلتے پانچ اور شہریوں کی موت ہوچکی ہے۔ گولہ باری سے 70 سے زائد لوگ زخمی ہیں،400 سے زیادہ جانور مارے جاچکے ہیں۔ 250 گھروں کو مالی نقصان پہنچا ہے۔ 50 ہزار سے زیادہ لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں اور یہ سب سیز فائر کے چلتے ہورہا ہے۔ پاک فوج نے جموں خط کی بین الاقوامی سرحد کے ساتھ لگی محاذی چوکیوں اور دیہاتوں کو نشانہ بنا کر مورٹار کے گولے داغے۔ اس دوران گولہ باری میں 70 سالہ ایک عورت سمیت آدھا درجن سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئے۔ سینکڑوں دیہاتیوں نے اپنا گھر چھوڑ کر یا تو دور دراز علاقوں میں اپنے رشتے داروں کے یہاں یا سرکار کے ذریعے بنائے گئے راحت کیمپوں میں پناہ لی ہے۔ اس پورے علاقہ میں تعلیمی ادارے اب بھی بند ہیں۔ بین الاقوامی سرحد پر 80 کلو میٹر اور 120 ملی میٹر مورٹار گرنے سے قریب ایک درجن دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ حکام نے کہا گولہ باری اور مورٹار کے گولہ گرنے کا یہ سلسلہ پوری رات جاری رہتا ہے اور اکھنور سے لیکر سانبا تک سرحد سے لگے سبھی سیکٹر اس کی زد میں ہیں۔ بی ایس ایف کی جوابی کارروائی میں کچھ پاکستانی رینجروں کے زخمی ہونے کی بھی خبر ہے اور ان کے کئی بنکر تباہ ہوئے ہیں۔ پاکستان کے ذریعے پچھلے کچھ دنوں سے سرحدپر گولہ باری تیز ہوگئی ہے۔ جموں کے پولیس ڈائریکٹرجنرل ایس ڈی سنگھ جگوال نے کہا کہ پولیس ٹیموں کی تعیناتی کی گئی ہے جو لوگوں کو متاثرہ علاقوں سے محفوظ مقامات پر جانے میں مدد کررہی ہیں۔ جموں کے منڈل کمشنر ہیمنت کمار شرما نے باتیا سرحد سے لگنے والے علاقوں میں راحت کیمپ قائم کئے گئے ہیں خاص طور پر آر ایس پورہ اورمڈنیا سیکٹر میں۔ پاک رینجرس کے ذریعے جموں ، سانبا اور کٹھوا ضلعوں میں فوج اور غیر فوجی ٹھکانوں پر مسلسل جاری گولہ باری اور بمباری کے سبب سرحدی گاؤں سے 50 ہزار سے زیادہ لوگ کو اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر ہجرت کرنے کو مجبور ہونا پڑا ہے۔ پولیس نے بتایا کچھ لوگوں نے انتظامیہ کے ذریعے بنائے گئے عارضی کیمپوں میں پناہ لی ہے جبکہ زیادہ تر اپنے رشتے داروں اور دوستوں کے گھروں میں پناہ لینے کے لئے مجبور ہوئے ہیں حالانکہ مویشیوں اور گھروں کی رکھوالی کے لئے ہر گھر میں ایک مرد ممبر کو چھوڑدیا گیا ہے۔
(انل نریندر)

سونا ۔چاندی کا 60 ارب ڈالر کا ذخیرہ

اب سمجھ میں آیا کہ چین آخر اروناچل پردیش پر اپنا حق کیوں جمانا چاہ رہا ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق اروناچل سرحد کے پاس بڑے پیمانے پر سونا۔ چاندی کے ذخیرے پائے گئے ہیں۔ بتایا جارہا ہے یہا ں سونا۔چاندی اور دیگر بیش قیمتی مادنیات کا کوئی 60 ارب ڈالر کا ذخیرہ پایا گیا ہے۔ چین کے سرکاری اخبار ’ساؤتھ چائنا مارنگ پوسٹ‘ کے مطابق کان پروجیکٹ بھارت کی سرحد سے لگے چینی خطے میں پڑنے والے لنڈے جے کاؤنٹی میں چلایا جارہا ہے۔ اخبار نے مقامی حکام اورچینی اراضی ماہرین اور حکمت عملی سازوں سے ملی جانکاری کی بنیاد پر یہ دعوی کیا ہے۔ بیجنگ میں واقع چین کی اراضی سائنس یونیورسٹی کے پروفیسر یونگ ینگے کے مطابق نئے پائے گئے اس بیش قیمت ہمالیہ خطے میں چین اور بھارت کے درمیان توازن بگاڑ سکتے ہیں۔ ایسے میں سرحد سے لگے اس علاقہ میں چین پی پروجیکٹ سے ڈوکلام کے بعد ایک بار پھر دونوں ملکوں میں کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ یہ ایسے وقت ہورہا ہے جب ایک ماہ پہلے وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان ڈوکلام جیسے ڈیڈلاک کو ٹالنے پر تبادلہ خیال ہوا تھا۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق کھدائی کی کام کو چین کے ذریعے اروناچل کو اپنے کنٹرول میں لینے کی حکمت عملی کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس کے مطابق کھدائی کے کام سے واقف لوگوں کا خیال ہے کہ یہ بیجنگ کی اہم ترین یوجنا کا حصہ ہے جس سے وہ ساؤتھ تبتی علاقہ میں اپنا دعوی پختہ کر سکتا ہے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کے قدرتی وسائل پر چین کا دعوی جتانے کی اس کی کوشش اور تیزی سے تعمیراتی کام کرنے کے چلتے یہ علاقہ ساؤتھ چین ساگر بن سکتا ہے۔ رپورٹ میں مقامی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ چین کو اراضی ماہرین اور فوجی امور کے ماہرین نے حال ہی میں اس علاقے کا دورہ کیا۔ چین نے ساؤتھ چین ساگر میں جزیرے بنائے اور اپنا کنٹرول کر رکھا ہے۔ چین نے ساؤتھ چین ساگر میں شروعات میں معدنیاتی چیزوں کو نکالنے کے نام پر معمولی شروعات کے بعد 9 فوجی ٹھکانے بنالئے ہیں۔ چین کی نگاہ اروناچل پردیش سمیت بھارت کے دیگر سرحدی علاقوں پر ہے۔ بھارت اور چین کے درمیان مقرر سرحد نہیں ہے جس کے چلتے اکثر تنازع پیدا ہوتا رہتا ہے۔ حالیہ دنوں میں چینی فوجیوں کے ذریعے ہندوستانی خطہ میں گھس پیٹھ کے کئی نئے واقعات سامنے آچکے ہیں۔ اب جب سونا۔ چاندی اور بیش قیمت دھاتوں کے نکلنے کی بات سامنے آرہی ہے تو نئے سرے سے تنازع پیدا ہوسکتا ہے۔
(انل نریندر)

24 مئی 2018

کمار سوامی کی حلف برداری میں اپوزیشن اتحاد کا پیغام

کرناٹک میں ایچ ڈی کمار سوامی کی حلف برداری تقریب میں اپوزیشن اتحاد دکھانے کا ایک موقعہ مل گیا ہے۔ بنگلورو میں بدھوار کی شام ہوئی حلف برداری میں سبھی اپوزیشن پارٹیوں کے نیتا شامل ہوئے ۔ کانگریس صدر راہل گاندھی ، یوپی اے کی چیئرپرسن سونیا گاندھی، بسپا صدر مایاوتی قابل ذکر ہیں۔ دراصل کرناٹک کی کشتی میں بھاجپا کوملی مات معاملہ سے ترنمول کانگریس کی چیف ممتا بنرجی ، مایاوتی، اکھلیش یادو، چندرابابو نائیڈو اور تلنگانہ کے نیتاؤں کی بانچھیں کھلنے لگی ہیں۔ کرناٹک کے سیاسی واقعات سے ایک بات تو صاف ہوگئی ہے کہ بھاجپا کے سامنے متحد ہوکر چناؤ لڑنے سے ہی اقتدار حاصل ہوگا ساتھ ہی این ڈی اے کے کچھ اتحادی پارٹی بھی تیسرے مورچے میں شامل ہوسکتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شری کمار سوامی کی حلف برداری تقریب کو لوک سبھا کے نظریئے سے دیکھا جائے تو تقریب میں جن پارٹیوں کودعوت دی گئی ہے وہ لوک سبھا کی 270 سے زیادہ سیٹوں پر مضبوط دعویداری رکھتی ہیں۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے چھتیس گڑھ کے دورہ پر مدیروں سے بات چیت میں پوچھے جانے پر کہ کیا وہ 2019 میں مودی کے خلاف جیت حاصل کر پائیں گے؟ راہل گاندھی نے جواب دیا اپوزیشن اگر متحد ہوجائے گی تو وہ دن یقینی طور سے آئے گا۔ اپوزیشن اتحاد کی قیادت کیا وہ کریں گے یہ پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کانگریس سامنے والی پارٹی کی آئیڈیا لوجی کا احترام کرتی ہے جبکہ بھاجپا اپنی آئیڈیالوجی کوماننے کو مجبور کرتی ہے۔2019 میں اگر بھاجپا بنام اپوزیشن ون ٹو ون مقابلہ ہوتا ہے تو بھاجپا کو ہرایا جاسکتا ہے۔ دوسری طرف کرناٹک میں جس طرح کانگریس نے جے ڈی ایس جیسی چھوٹی علاقائی پارٹیوں کا جونیئر پارٹر بننا قبول کیا ہے اس سے تو یہ ہی ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس کو 2019 لوک سبھا چناؤ میں علاقائی پارٹیوں کے پچھلپنگو کا کردار نبھانا پڑسکتا ہے۔ کانگریس نے بہت بھاری بھول کی کرناٹک میں نتیجے بتاتے ہیں کہ اگر کانگریس میں جے ڈی ایس سے چناؤ سے پہلے اتحاد یعنی پری پول الائنس کیا ہوتا تو نہ تو گورنر یدیرپا کو پہلے بلاتے اور نہ ہی اتنا ہنگامہ ہوتا۔ اگر پری پول اتحاد ہوتا تو کرناٹک کی 224 میں سے157 سیٹوں پر اتحاد کی جیت ہوتی یعنی بھاجپا کو محض 65 سیٹوں پر سمٹنا پڑتا۔ انہی نتیجوں کو اگر لوک سبھا کی سطح پر دیکھا جائے، بھاجپا کرناٹک کی 28 سیٹوں میں سے 10 سیٹوں پر ہی جیت پائے گی۔ ممتا بنرجی، مایاوتی نے کانگریس کو جے ڈی ایس کے ساتھ چناؤ سے پہلے اتحاد کی صلاح دی تھی تب سدا رمیا کوکنڑ اور لنگائیت کارڈ کی بدولت جیتنے کا بھروسہ دیا تھا۔ کرناٹک کے نتیجوں نے سدا رمیا کا غرور تو توڑا ساتھ ہی جیتی ہوئی بازی بھی ہاتھ سے نکال دی۔
(انل نریندر)

اور اب چمگادڑسے پھیلنے والا نیپاہ وائرس

آج کل ہم عجیب و غریب وائرس کے بارے میں سن رہے ہیں۔ میں نے توکم سے کم ایسے وائرس کے بارے میں سنا ہی نہیں۔ دیش میں پہلی بار آئے ملیشیائی وائرس نیپاہ نے کیرل میں 9 لوگوں کی جان لے لی۔ کیرل کے کوچی کوڑ ضلع میں سردرد ، تیز بخار کے بعد ایک ہی خاندان کے تین لوگوں کی موت ہوگئی۔ ان کی دیکھ بھال کرنے والی نرس کی بھی صبح میں موت ہوگئی۔ ملاپورم ضلع میں بھی انہی اثرات کے ساتھ پانچ لوگوں کے مرنے کی خبر ہے۔ جانور سے پھیلنے والا یہ وائرس چمگادڑ کے ذریعے پھیلا ہے۔ فرڈ بیٹ کہے جانے والے چمگادڑ خاص طور سے پھل یا پھل کے رس کا استعمال کرتا ہے۔ نیپا وائرس جانوروں سے آدمیوں میں پھیلنے والا ایک وائرس ہے۔ یہ انسانوں اور جانوروں کو سنگین طور سے بیمار کردیتا ہے۔ کوزی کوٹ جس خاندان میں اس وائرس سے تین لوگوں کی موت ہوئی ہے اور کچھ دیگر کاعلاج چل رہا ہے، ان کے گھر کے کنویں میں یہ فروٹ بیٹ ملا ہے۔ وزیر صحت کے کے شیلاجا نے بتایا کہ اب یہ کنویں میں بند کردیا گیا ہے۔ اس وائرس کی سب سے پہلے پہچان 1998 میں ملیشیا میں ہوئی تھی۔ اس وقت یہ خنزیروں میں پھیلا تھا۔ یہ وائرس چمگادڑ کے ذریعے کھائے گئے پھل کھانے سے پھیلتا ہے۔ فروٹ بیٹ نسل کا چمگادڑ اس انفکشن کو تیزی سے پھیلاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ڈنک مارنے والا ہے جو اڑ سکتا ہے اور پیڑ پر لگے پھلوں کو کھا کر انفیکٹڈ کردیتا ہے۔ جب پیڑ سے گرے ان انفیکٹڈ پھلوں کو انسان کھا لیتا ہے تو وہ بیمار کی زد میں آجاتا ہے۔ اس بیماری کے اثرات کچھ ایسے ہوتے ہیں دھندلا دکھائی دینا، سانس میں تکلیف ، انفلائٹس جیسے اثرات، سر میں لگاتار درد رہنا، چکر آنا۔ بچنے کے طریقے: پیڑ سے گرے پھل نہ کھائیں۔ جانوروں کے نشان ہوں تو ایسی سبزیاں نہ خریدیں، جہاں چمگادڑ زیادہ رہتے ہیں وہا کھجور کھانے سے پرہیز کریں۔ انفیکٹڈ مریض جانوروں کے پاس نہ جائیں۔ فی الحال نیپاوائرس کے انفکشن کا کوئی علاج نہیں ہے۔ ایک بار انفکشن پھیل جانے پر مریض 24 سے28 گھنٹے تک نزع میں جاسکتا ہے اور موت ممکن ہے اس لئے آپ اپنا دھیان رکھیں اور جہاں چمگادڑ ہوں وہاں فروٹ ،سبزی رکھنے اور انہیں کھانے سے بچیں۔
(انل نریندر)

23 مئی 2018

جموں سرحد پر بسے ہندوؤں کی دردشا

آئے دن ہمیں بتایا جاتا ہے کہ جموں وکشمیر میں ہندوستانی فوج کے زبردست منہ توڑ جواب سے پاکستان میں ہائے توبہ مچ گئی ہے اور پاکستانی رینجرس بی ایس ایف حکام سے بین الاقوامی سرحد پر امن قائم کرنے کے لئے گڑ گڑا رہے ہیں۔ بیشک یہ صحیح بھی ہو لیکن پھر اسی دن رات کو پاک کی طرف سے پھر فائرنگ شروع ہوجاتی ہے اس کا کیا مطلب ہے؟ اس سال پاکستان نے ابھی تک جموں و کشمیر میں واقع بین الاقوامی سرحد اور کنٹرول لائن پر 700 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس سے سکیورٹی فورس کے 18 جوانوں سمیت 38 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ہزاروں لوگ اپنے گھروں کو چھوڑنے کے لئے مجبور ہوگئے ہیں۔ جموں و خط میں تو پاکستانی گولہ باری سے اتنی تباہی ہورہی ہے جس کا کوئی حساب نہیں۔ جموں وکشمیر میں بی جے پی کی محبوبہ مفتی کی ٹی ڈی پی کے ساتھ حکومت ہے۔ پاکستانی فوجیوں نے کل یعنی پیر کو جموں ضلع میں سرحدی گاؤں کو مور ٹار و گولوں و چھوٹے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا جس سے 8 مہینے کے ایک بچے کی موت ہوگئی اور ایک اسپیشل افسر سمیت 6 لوگ زخمی ہوگئے۔ میں نے کل ہی ایک ویڈیو کلپ دیکھا جس میں جموں و کشمیر کے سرحدی گاؤں میں بمباری کے سبب ایک نوجوان کی موت ہوگئی اور اس کے بھائی نے کلپ میں بتایا کہ وہ اپنے بھائی اور دوسرے مرے لوگوں کی لاشیں ٹریکٹروں پر لانے پر مجبور ہوئے۔ کیا سرکار انہیں اتنی بھی سہولت نہیں دے سکتی ؟ بی جے پی کو جتنے بھی ووٹ ملے وہ جموں وکشمیر خطہ سے ہی ملے آج اگر وہ اقتدار میں ہے تو وہ ہندوؤں کی وجہ سے ہی ہے۔بی جے پی نے جموں کے ہندوؤں کی سکیورٹی اور ترقی کے لئے آخر کیا کیا ہے؟ آج حالت اتنی خراب ہوگئی ہے کہ جموں سے ہندوؤں کا دیش کے دوسرے حصوں میں ہجرت شروع ہوگئی ہے اور وہ مجبور ہوگئے ہیں کہ اپنے گھر بار چھوڑ کر بچوں کو لیکر دہلی ،چنڈی گڑھ یا بھارت کے دیگر حصوں میں جا بچیں۔ اس دن کے لئے جموں کے ہندوؤں نے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا؟ ترقی کی تو چھوڑیئے ان کی سکیورٹی تک نہیں ہوسکی۔ ریاست میں بی جے پی نے محبوبہ مفتی کے سامنے جیسے گھٹنے ٹیک دئے ہیں بھاجپا نے رمضان میں سیز فائر کے فیصلے پر اپنی مہر کیوں لگادی۔ جبکہ فوج کہتی رہی ہے کہ ہم اس طرح کے ایک طرفہ سیز فائر کے خلاف ہیں لیکن بی جے پی نے ایک نہیں سنی، کیا جموں وکشمیر میں ہندوستانی فوجیوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے؟ نریندر مودی کے جموں و کشمیر دورہ سے ٹھیک پہلے مرکزی حکومت نے کشمیر میں سیز فائر کا فیصلہ کیا۔ اس کے تحت رمضان کے مقدس مہینے کے دوران ریاست میں آتنک وادیوں کے خلاف فوج اپنی کارروائی ملتوی رکھے گی۔ ادھر مرکزی حکومت نے کہا کہ رمضان میں بندوقیں بند رہیں گی۔ ادھر شوپیاں ضلع میں سکیورٹی فورسز پر حملہ ہوا۔ ترال میں فوج کی پیٹرولنگ پارٹی پر دہشت گردوں نے بم پھینکا۔ فوج جب آتنکیوں کو مارنے کے لئے گھیرتی ہے تو کشمیری نوجوان ان پر پتھر مارتے ہیں اور تھوکتے ہیں اور فوج برداشت کرتی ہے۔ پیٹھ پر ہاتھ باندھ کر آپ فوج کو کیسے لڑنے کے لئے کہہ سکتے ہیں؟ کیا ہمارے فوجیوں کی زندگی کی کوئی قیمت نہیں ہے؟ آخر کار یہ سلسلہ کب تک چلے گا؟اس سے بہتر تو یہ ہے کہ بھاجپا جموں و کشمیر اتحاد سے الگ ہو اور ریاست میں صدر راج لگا کر ریاست کو فوج کے حوالے کردیا جائے۔ بھاجپا کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہ ہندوؤں کے ووٹوں سے ہی اقتدار میں آئی ہے۔ آج انہی ہندوؤں کی سلامتی اور ترقی کرنے میں ناکام ہے، وہ بھی ایک علیحدگی پسندی کے نظریئے کی مکھیہ منتری کے لئے؟
(انل نریندر)

کرناٹک فارمولہ پر 5 ریاستوں میں سرکار بنانے کا موقعہ

کرناٹک میں اکثریتی کانگریس جے ڈی ایس اتحاد کے بجائے 104 ممبران اسمبلی والی بھاجپا کو سرکار بنانے کے لئے دعوت دیکر گورنر وجوبھائی والا نے ایک نیا مسئلہ کھڑا کردیا ہے۔ ان کے اس فیصلہ کا اثر دیگر ریاستوں میں بھی پڑنا شروع ہوگیا ہے۔ جمعہ کو کانگریس نے گوا، منی پور و میگھالیہ، آر جے ڈی نے بہار اور این سی پی نے ناگالینڈ میں سب سے بڑی پارٹی ہونے کے ناطہ سرکار بنانے کا موقعہ دینے کی مانگ کرڈالی ہے۔ کاناٹک میں سرکار بنانے کے فیصلے و دعوت دینے کے پورے واقعہ کا سیدھا اثر دیش کی ان پانچ ریاستوں پر پڑا ہے۔ بہار میں آر جے ڈی نیتا اور سابق نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو ،کانگریس اور مالے کے لیڈر کے ساتھ راج بھون پہنچے۔ انہوں نے گورنر ستیہ پال ملک کے سامنے بہار میں سرکار بنانے کا دعوی پیش کیا۔ گورنر نے نمائندہ وفد کو معاملہ پرغور کرنے کی یقینی دہانی کرائی۔ تیجسوی نے بتایا کہ انہوں نے بصداحترام گورنر صاحب سے ملاقات کر ممبران اسمبلی کی حمایت کا خط سونپا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ آر جے ڈی، کانگریس ، ہم اور مالے کے 111 ممبر ہیں۔ اس کے علاوہ جے ڈی یو کے کئی ممبر ان کے رابطہ میں ہیں۔ پر زور ٹیسٹ کا موقعہ ملنے پر وہ آسانی سے اپنی اکثریت ثابت کردیں گے۔ بہار میں آر جے ڈی کے 50 ، کانگریس کے 27 ممبر اسمبلی ہیں جبکہ جے ڈی یو 71، بھاجپا 53 ممبر ہیں۔ منی پور کانگریس کے نمائندہ وفد نے نگراں گورنر جگدیش مکھی سے ملاقات کر سرکار بنانے کا دعوی پیش کیا۔ پردیش کانگریس کے ترجمان جے کشن سنگھ نے بتایا کانگریس ممبر اسمبلی کے 9 لیڈروں نے سابق وزیر اعلی آکے رام روبروسنگھ کی رہنمائی میں گورنر سے ملاقات کی۔ منی پور میں کانگریس 28 دیگر 7 بھاجپا کے21 ایم ایل اے ہیں۔ میگھالیہ میں کانگریس کی طرف سے ابوالسنگما نے گورنر گنگا پرساد سے ملاقات کی اور ریاست میں سرکار بنانے کا دعوی پیش کیا۔ ریاست میں کانگریس 21 ممبران کے ساتھ سب سے بڑی پارٹی ہے لیکن بھاجپا نے 20 ممبر والی این پی پی کو حمایت دی۔ ساتھ ہی دیگر17 کو حمایت حاصل کرنے میں مدد کی۔ نتیجتاً ریاست میں کانگریس اقتدار حاصل نہیں کرسکی۔ ادھر گووا میں بھی کانگریس 17 ممبران اسمبلی کیساتھ سب سے بڑی پارٹی ہے۔ دیگر 7 اور بھاجپا13 اور آزاد 3 ہیں۔ بڑی پارٹی ہونے کے ناطہ انہیں بھی سرکار بنواکراکثریت ثابت کرنے کا موقعہ ملنا چاہئے۔ کانگریس نے گورنر نردولا سنہا سے اپیل پر غور کرنے کے لئے 7 دن کا وقت دیا ہے۔ اس دوران کانگریس کے 14 ممبران موجود تھے۔ ناگالینڈ میں سب سے بڑی پارٹی این پی ایف نے بھی سرکار بنانے کا دعوی پیش کیا۔ ان کے نمائندہ وفد نے گورنر پی وی آچاریہ سے ملاقات کی اور خط سونپا۔ اسمبلی چناؤ میں ایم پی ایف نے 26 سیٹیں جیتی تھیں جبکہ بھاجپا کو 18 سیٹیں ملی تھیں۔ وہیں این ڈی پی پی کو 18 اور دیگر کو 4 سیٹوں پر کامیابی ملی۔ جیسا میں نے کہا کہ کرناٹک میں گورنر کے ایک فیصلے نے نیا مسئلہ کھڑا کردیا ہے۔
(انل نریندر)

22 مئی 2018

کانگریس کی قلعہ بندی نے مودی۔شاہ کی حکمت عملی پر پانی پھیر دیا

کرناٹک معاملہ میں کانگریس صدر راہل گاندھی کی سیاسی گگلی نے سیاست کے چانکیہ مانے جانے والے وزیر اعظم نریندر مودی اور بھاجپاپردھان امت شاہ کے کئے دھرے پر پانی پھیردیا۔ ان کی حکمت عملی کو بخوبی انجام دیا ان کے دو سینئر سپہ سالاروں غلام نبی آزاد اور اشوک گہلوت نے۔ ریاست میں بھاجپا کو اقتدار پانے سے روکنے کے راہل گاندھی کے پلان پر دو واضح اشارہ دئے ہیں۔ پہلا کہ بھاجپا کو ہرایا جاسکتا ہے اور دوسرا اگر اپوزیشن ایک ہوجائے تو وہ اقتدار کی بازی جیت سکتی ہے۔ ماضی کی غلطیوں سے سبق لیتے ہوئے اس بار چناؤ نتیجے سے پہلے کی پوری تیاری کر لی گئی تھی اور سبھی کواس کے مطابق ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ کانگریس کے خراب مینجمنٹ کے سبب حالیہ دنوں میں کئی بار اقتدار کے قریب پہنچنے کے بعد بھی سرکار بنانے میں ناکام رہی ہے۔ اس بار وہ یہ نہیں دوہرانا چاہتی تھی اس لئے پہلے سے ہی پوری تیاری کرلی گئی۔ آخرکار سنیچر کو جب کانگریس کو اپنی حکمت عملی میں کامیابی ملی تب پارٹی نیتاؤں نے راحت کی سانس لی۔ پارٹی نے نتائج سے پہلے ہی تمام امکانات کے پیش نظر تیاری کے بعد پیر کو دیر رات اچانک اشوک گہلوت اور غلام نبی آزاد کوبنگلورو بھیجا تاکہ وہ پلان ’بی‘ کے ساتھ تیار رہیں۔ دیر شام وہاں پہنچ چکے تھے چناؤ نتائج سرکاری طور پر اعلان ہونے سے پہلے ہی کانگریس بلا قباحت جی ڈی ایس کو حمایت دینا واضح اشارہ دے رہا تھا کہ اس چناؤ میں کانگریس اقلیت میں آنے کے باوجود پوری حکمت عملی سے کام کررہی تھی۔ پلان ’بی‘ کے تحت پارٹی نے بغیر سرکاری شرط کے کمار سوامی کو وزیر اعلی بنانے پر حمایت دے دی۔ یہ بھی خاص بات تھی کہ صدر بننے کے بعد راہل گاندھی کی لیڈر شپ میں کرناٹک میں کانگریس پہلی بار چناؤ لڑ رہی تھی۔ چناؤ کے پہلے راہل گاندھی سلسلہ وار پبلک ریلیاں کرتے رہے جبکہ چناؤ کے بعد تینوں حکمت عملی سازوں نے آکر میدان سنبھال لیا۔ بساط بچھانے کے ساتھ ہی پوری حکمت عملی سونیا گاندھی کو بتائی جارہی تھی۔ سونیا گاندھی مسلسل ان تین لیڈروں کو ہدایت دے رہی تھیں جب گورنر نے کانگریس کو بلانے سے انکار کیا اوربھاجپا کو سرکار بنانے کی دعوت دے دی تو کانگریسی نیتا اور وکیل ابھیشیک منوسنگھوی نے قانونی طور پر مورچہ سنبھالا اور سپریم کورٹ گئے اور اسے اس سطح پرلے آئے کہ سپریم کورٹ کو آدھی رات میں سماعت کرنی پڑی۔ اس قانونی لڑائی میں کپل سبل، پی چدمبرم بھی ان کے ساتھ تھے۔ نتیجوں کے بعد چلی اتھل پتھل میں کمار سوامی جب گورنر سے ملنے پہنچے تو ان کے ساتھ اشوک گہلوت ،ملیکا ارجن کھڑگے موجودتھے۔ منگلوار کی رات کانگریسی نیتاؤں نے بنگلورو کے ہوٹل میں دیوگوڑا اور کمار سوامی سے ملاقات کی جہاں غلام نبی آزادبھی ٹھہرے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس کے سینئر لیڈر ڈی شیو کمار بھی ہوٹل میں موجود تھے۔ ان کی موجودگی کا ہی نتیجہ تھا کہ کرناٹک میں بی جے پی کی سرکار گر چکی تھی اور جسے کانگریس کی انتہائی سرگرمی اور خاص حکمت عملی کا نتیجہ بتایا جارہا ہے۔ کرناٹک سے پہلے گجرات میں راجیہ سبھا کے ایم پی چناؤ کے دوران بھی امت شاہ کی حکمت عملی کو ناکامی ہاتھ لگی تھی تب کانگریس کے کھیون ہار سونیا گاندھی کے قریبی احمد پٹیل بنے تھے۔ گجرات چناؤ کے دوران اگر احمد پٹیل پارٹی کے سنکٹ موچک بنے تو کرناٹک میں آزاد ،گہلوت، کھڑگے اور ڈی شیو کمار پارٹی کے سنکٹ موچک بنے۔ انہوں نے کرناٹک کے فلور ٹیسٹ سے پہلے تک کانگریسی ممبران کو ٹوٹنے سے بچائے رکھا۔ ان نیتاؤں نے یقینی کیا کہ کوئی بھی ممبر اسمبلی ٹوٹے نہیں۔ ممتا بنرجی، مایاوتی، سیتا رام یچوری نے بھی اس معاملہ میں اپنی رائے دی۔ وہیں ٹی ڈی پی اور پی آر ایس بھی کانگریس کے ان سرکردہ لیڈروں سے مسلسل رابطہ میں تھے۔ اس طرح سب نے مل کر مودی ۔ امت شاہ کی حکمت عملی کو مات دے ڈالی۔
(انل نریندر)

گورنر کے ضمیرکے حق کا جائزہ ضروری ہے

بصد احترام سپریم کورٹ نے کرناٹک سماعت کے دوران بیباک تبصرہ کیا کہ گورنر کے ضمیر کے حق کا عدالتی جائزہ لیا جانا چاہئے اور بیشک وہ آئین کا سب سے بڑا ادارہ ہے لیکن ان کی کارروائی کو دیکھا جائے گا کہ قانونی طور سے جائز ہے یا نہیں؟ جسٹس اے کے سیکری کی سربراہی والی تین ججوں کی خصوصی بنچ نے کہا کہ یہ حساس اشو ہے اور اس کی سماعت 10 ہفتے بعد ہوگی۔ بنچ نے یہ ریمارکس سینئر وکیل اور ایم پی رام جیٹھ ملانی کی عرضی پر دئے۔ عرضی میں جیٹھ ملانی نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کو اس معاملہ میں فیصلہ دینا چاہئے کیونکہ گورنر نے ایسے طریقے سے کام کیا ہے جو انہیں نہیں کرنا چاہئے تھا۔ بنچ نے صاف کیا تھا کہ گورنر نے بھاجپا کو سرکار بنانے کے لئے بلانے کے معاملہ میں کسی دیگر کو فریق بننے کی اجازت نہیں دی تھی لیکن بنچ جیٹھ ملانی کو سننے کے لئے تیار ہوگئی۔ بنچ کے دیگر دو ججوں جسٹس بھوشن اور بی ڈے سومی سے بھی اجازت مانگی اور اس کے بعد کہا کہ گورنر کا حکم آئینی اختیارات کا زبردست بیجا استعمال ہے۔ اس سے آئین سازیہ بدنام ہوئی ہے اور بھاجپا نے جو کہا انہوں نے وہ ہی بیوقوفی پر مبنی کارروائی کردی۔ گورنر کا حکم کرپشن کو کھلی دعوت ہے۔ کرناٹک معاملہ کی سماعت میں سپریم کورٹ نے صاف کیا جہاں حقیقت خود کھل رہی ہے وہاں ضمیر حق نہیں ہونا چاہئے۔ اٹارنی جنرل کے وینو گوپال نے کہا کہ بھاجپا کے وزیر اعلی کے امیدوار یدی یرپا نے گورنر وجوبھائی والا کو لکھے خط میں اکثریت کا دعوی کیا تھا اس پربنچ نے پوچھا کیا آپ وہ خط لائے ہیں؟ وینو گوپال نے کہا کہ یہ خط روہتگی کے پاس ہے۔ ویسے سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ چناؤ کے بعد ہوئے اتحاد کی جگہ سب سے بڑی پارٹی سے نیچے ہوتی ہے۔ کانگریس ۔ جے ڈی ایس کی عرضی کی سماعت کررہی بنچ کے جسٹس اے کے سیکری نے کہا کہ سرکاریہ کمیشن کی سفارشوں کے مطابق سب سے بڑی پارٹی کو گورنر سرکار بنانے کے لئے بلائیں گے۔ اگر اس پارٹی کے پاس اکثریت ہے تو کوئی مسئلہ نہیں ہے، اگر نہ ہو تو دو صورت ہوتی ہیں چناؤ سے پہلے اتحاد اور چناؤ کے بعد کا اتحاد۔ چناؤ سے پہلے اتحاد کے پاس اگر اکثریت ہے تو سرکار بنانے کے لئے بلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حالانکہ چناؤ کے بعد اتحاد کی وہ پوزیشن نہیں ہوتی جو چناؤ سے پہلے اتحاد کی ہوتی ہے۔ ہم سپریم کورٹ کے ریمارکس کا خیر مقدم کرتے ہیں اور گورنر کبھی کبھی جانبدارانہ فیصلے کرتے ہیں ،جو غیر جمہوری ہوتے ہیں۔ آئین میں بھی گورنر کے اختیارات کی تشریح نہیں ہے اس لئے بہتر ہے کہ سپریم کورٹ گورنر کے اختیارات کی تشریح کرے اور ضمیر کے حق ختم ہونا چاہئے۔
(انل نریندر)

ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...