Translater

21 جولائی 2018

بھیڑ کا اندھا قانون برداشت نہیں

حالیہ دنوں میں اخبار وں کے پہلے صحفے پر روز ہی کسی افواہ کے سبب بھیڑ میں تبدیل ہوگئے لوگوں کے تشددمعاملے کی واقعات سامنے آرہے ہیں ۔وہ بیحد تشویشناک ہیں ۔اس کی وجہ سے کئی لوگوں کی جان چکی ہے ۔تکلیف دہ پہلو تویہ ہے کہ کچھ لوگ نہ تو قانون پرواہ کرتے ہیں اور نہ ہی یہ جاننے کی کوشش بھی کرتے ہیں کہ مشتبہ شخص واقعی قصور وار ہیں یا نہیں ؟ایسے بڑھتے واقعات پر سپریم کورٹ نے سخت رویہ اپنایا ہے ۔منگلوار کو سپریم کورٹ نے اس ٹرینڈ پر تشویش جتائی ہے ۔اور کہا کوئی بھی شہری اپنے ہاتھ میں قانون نہیں لے سکتا ،جمہوریت میں ماب لنچنگ کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔عدالت نے سرکار سے بھیڑ کے ہاتھوں قتل کو ایک الگ جرم کے زمرے میں رکھنے اور اس کی روک تھام کیلئے نیا قانون بنانے کو کہا اس نے ساتھ یہ بھی کہا کہ ہجوم کی یہ گھناؤنی حرکتیں قانون کے راج کے تصور کو مسترد کرتی ہیں ۔یہ بھی سماج میں امن قائم رکھنا مرکزی سرکار کی ذمہ داری ہے ۔ عدالت نے اپنی ہدایت میں کہا کہ بھیڑ کے تشدد کا شکار ہوئے لوگوں یا ان کے رشتہ داروں کو 30دن کے اندر معاوضہ دیا جانا چاہئے ۔سپریم کورٹ نے ماب لنچنگ پر کنٹرول کیلئے ایک باقاعدہ سسٹم بنانے کی بات بھی کہی ہے ۔اس کے مطابق ریاستی سرکاریں ہر ضلع میں ایس پی سطح کے افسر کو نوڈل افسر مقرر کرے جو ایسے واقعات سے نمٹنے کیلئے اسپیشل ٹاسک فورس بنائے گا ۔ایسے معاملوں میں آئی پی سی کی دفعہ 153(A)کے تحت فورًاکیس درج ہو اور فورًا فاسٹ ٹریک عدالت میں مقدمہ چلاکر 600مہینے کے اندر قصور واروں کو زیادہ سے زیادہ سزا دی جائے ۔اس کیلئے متاثرہ فریق کے وکیل کا خرچ سرکار برداشت کرے ۔ابھی تک جتنے معاملے ہوئے ان کو پہلے سے رائج قانون کے تحت نپٹایا جارہا ہے ۔ظاہر ہے اگر الگ سے اسکے لئے قانون بن جائے تو پھر پولس انتظامیہ کے لئے کارروائی زیادہ آسان ہوجائے گی ۔لیکن پارلیمنٹ میں قانون تو تبھی بن سکتا ہے جب اس کی سبھی پارٹیاں حمایت کریں ۔دیکھنا یہ ہے کہ سرکار کیا کرتی ہے ؟راضی قانون ریاستوں کا کام ہے اس لئے سپریم کورٹ نے زیادہ انتظامات ریاستو ں کیلئے مقرر کرنے کی نصیحت دی ۔عدالت کے اس حکم سے پہلے کئی ریاستیں افواہوں کو لیکر میڈیا میں اشتہارات جاری کر لوگوں کو آگاہ کررہی ہے ۔مرکز نے بھی ریاستی حکومتوں کیلئے ایڈ وائیزری جاری کی ہے اور واٹس ایپ سے افواہوں سے روکنے کیلئے قدم اٹھانے کو کہا ہے ۔اتنا ہونے کے باوجود بھیڑ کا تشدد جاری رہنا انتہائی افسوسناک ہے اور اس کا مطلب ہے کہ ابھی اس سمت میں کافی کچھ کیاجاناہے ۔ مرکز سے زیادہ ریاستی سرکاروں پر ماب لنچنگ کو روکنے کی ذمہ داری ہے ۔سیاسی سرپرستی دینا بند کریں اور بے مطلب تشدد روکیں ۔
(انل نریندر )

تھوک مہنگائی نے پچھلے چار سال کا ریکارڈ توڑا

ایک بار پھر سزیوں اور پٹرول اور ڈیز ل کی قیمتیں بڑ ھنے سے تھوک مہنگائی یعنی ڈبلیوٹی آئی پر مبنی افراط زر نہ صرف بڑھ گئی بالکل پچھلے چار سال میں سب سے زیادہ سطح پر پہنچ گئی ۔سرکاری اعجازوشمار کے مطابق اس مرتبہ جون میں یہ 5.77فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ یہ مئی میں 4.43فیصد تھی اور پچھلی جون میں یہ محض 0.90فیصد تھی ۔اس سے پتہ چلتاہے کہ مہنگائی کس تیزی سے بڑھ رہی ہے اور عام آدمی پر اس کی مار کیسے بڑھ رہی ہے ۔پچھلے ایک کے دوران بڑھی مہنگائی اور پھر ایک مہینے کے اندر مزید اضافہ ہوگیا ۔تھوک مہنگائی میں 22.62فیصدی کی حصہ داری رکھنے والی ابتدائی ضروری چیزوں کے دام میں جون میں 5.30فیصدی کی تیزی رہی ۔مئی میں یہ 3.16فیصدی پر تھی ۔ اس میں سبزیوں کی مہنگائی تین گنا بڑھی یعنی جون میں یہ 8.12فیصدی ہوگئی ۔جومئی میں 2.51فیصدی تھی ۔صارفین پر اس کا سیدھا اثر پڑ تا ہے ۔خردہ مہنگائی پر بھی اثر پڑیگا ۔جس سے بازار میں نقدی کا چلن متاثر ہوگا اس ماہ کے آخر میں ہونے والی ریزر وبینک کی کرنسی نظر ثانی میٹنگ میں ریپوریٹ بڑھانے پر بھی غور ہوسکتا ہے ۔پچھلی میٹنگ میں آربی آئی نے ریپوریٹ 0.25فیصدی بڑھادیا تھا ۔چوکانے والی بات یہ ہے تھوک مہنگائی میں یہ اضافہ سبزیوں اور ایندھن کے دام بڑھنے کا نتیجہ ہے ۔پچھلے کچھ مہینوں میں پٹرول او رڈیزل کے دام سارے ریکارڈ توڑ تے ہوئے نئی اونچائیا چھوگئے تھے ۔تبھی اس بات کے پختہ آثار نظر آنے لگے تھے اب مہنگائی کا گراف اوپر جائے گا ۔اس کا سیدھا اثر پھل سبزیوں اور دیگر غذائی اجناس پر تیزی سے پڑے گا ۔کچے تیل کے دام بڑھتے ہی پیٹرولیم مصنوعات میں ذرا بھی تیزی آتی ہے تو اس کا سب سے پہلا اثر مال ڈھلائی اور کرایہ پر پڑ تا ہے ۔اور اس کا بوجھ صارفین کی جیب پر پڑتا ہے ۔منڈیوں میں ایک دن میں دام چڑھ جاتے ہیں اس لئے مہنگائی تھوک ہو یا خردہ اثر دونوں کا ہی پڑ تا ہے ۔امید اچھے مانسون کو لیکر بھی ہے ۔اگر مانسو ن اچھا رہتا ہے تو کھیت لہراتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آنے والے وقت میں افراط زر حالت میں بہتری آجائے لیکن فی الحال مہنگائی کو قابورکھنے اور غریب آدمی کی کمر توڑ نے والی اس مہنگائی کو تھامنا سرکار کے لئے ایک بڑی چنوتی ہے ۔ امید کی جاتی ہے آنے والے دنوں میں مہنگائی گھٹے گی اور جنتا کو راحت ملے گی ۔
(انل نریندر)

20 جولائی 2018

راہل گاندھی کی نئی سینا

لمبے انتظار کے بعد پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس سے ٹھیک پہلے منگل کے روز کانگریس صدر سونیا گاندھی نے سال2019 لوک سبھا چناؤ لڑنے کیلئے اپنی سینا تیار کرلی ہے۔ انہوں نے پارٹی کی سپریم پالیسی ساز ادارہ کانگریس ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی ) کی تشکیل نو کی ہے۔ راہل گاندھی نے کانگریس صدر کا عہدہ سنبھالنے کے سات مہینے بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی بنائی ہے۔ پچھلی ورکنگ کمیٹی کو مارچ میں اجلاس سے پہلے توڑدیا گیا تھا۔ اجلاس میں پارٹی صدر راہل گاندھی کو اپنی ٹیم چننے کے لئے اختیار دیا گیا تھا۔ تب سے راہل کوکمیٹی تشکیل کرنے میں چار مہینے لگ گئے۔ راہل گاندھی کی کانگریس ورکنگ کمیٹی میں کل 51 ممبر ہیں، ان میں 23 ممبر اور 18 مستقل ممبر ،10 خصوصی مندوبین ممبر بنائے گئے ہیں۔ راہل گاندھی نے پہلی بار یووا مورچہ این ایس یو آئی، مہلا کانگریس، انٹیک اور سیوا دل کے پردھانوں کو سی ڈبلیو سی میں خصوصی مندوبین ممبر بنایا گیا ہے۔ کانگریس صدر نے اپنی نئی ٹیم میں بڑی تعداد میں نوجوانوں کو شامل کرکے صاف اشارہ دے دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں کانگریس اپنے انہی نوجوان چہروں کے دم پر آگے بڑھے گی۔ حالانکہ کانگریس ورکنگ کمیٹی میں تجربہ کار لیڈروں کو بھی پوری توجہ دی گئی ہے۔ پارٹی کے سنگٹھن کو آنے والے تین ریاستوں میں اسمبلی چناؤ مثلاً راجستھان، مدھیہ پردیش،چھتیس گڑھ کے سب سے اہم لیڈروں کو خاص طور پر شامل کیا گیا ہے حالانکہ تجربہ کو ترجیح دی گئی ہے۔ راہل کی ورکنگ کمیٹی میں سونیا گاندھی، منموہن سنگھ، موتی لال ووہرا، احمد پٹیل، اشوک گہلوت کو ممبر کے طور پر جگہ ملی ہے۔ وہیں دہلی کی سابق وزیر اعلی شیلا دیکشت، پی چدمبرم جیسے لیڈروں کو مستقل مندوبین ممبر کے طور پر چنا گیا ہے۔ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے مغربی بنگال، آندھرا پردیش، تلنگانہ، بہار جیسی ریاستوں کی کوئی نمائندگی نہیں ہے۔ جنرل سیکریٹری کے عہدے سے ہٹائے گئے کسی بھی لیڈر کو ورکنگ کمیٹی میں جگہ نہیں دی گئی ہے اسی وجہ سے سی پی جوشی ، موہن پرکاش، بی کے ہری پرساد کو ورکنگ کمیٹی نے ہٹا دیا گیا ہے۔ لال بہادر شاستری کے لڑکے انل شاستری کافی عرصہ سے خصوصی مندوبین ممبر کے طور پر تھے لیکن اس مرتبہ ان کو بھی جگہ نہیں ملی۔ پنجاب کے وزیر اعلی کیپٹن امرندر سنگھ کو ورکنگ کمیٹی میں جگہ نہ ملنا حیرت کرنے والا ضرور ہے۔ مندوبین ممبروں کو جوڑ لیں تو بھی عورتوں کی تعداد 51 میں سے صرف 7 ہے یعنی 15فیصد سے بھی کم۔ حال فی الحال دلت تحریک کی پرچھائی اس کمیٹی کے انتخاب میں نظر آئی۔ دلت چہروں کی شکل میں ملکارجن کھڑگے، کماری شیلجا، پی ایل پنیا کو شامل کیا گیا ہے۔ راہل گاندھی کی نئی ٹیم کا اصلی امتحان آنے والے اسمبلی چناؤ اور 2019 لوک سبھا چناؤ میں ہوگا۔
(انل نریندر)

بلڈروں کی لاپرواہی۔ لالچ حادثہ کا ذمہ دار

گریٹر نوئیڈا کے شاہ بیری گاؤں میں منگل کی رات قریب10 بجے دو منزلہ عمارت ڈھے گئی۔ ان عمارتوں کے ڈھنے میں تین لاشیں ملنے کے ساتھ اس حادثے میں مرنے والوں کی تعداد 8 تک جا پہنچی۔دبے لوگوں کو نکال لیا گیا ہے۔ پولیس نے تین لوگوں کو گرفتار کیا ہے دیگر 18 کے خلاف غیر ارادتاً قتل اور آئی پی سی کی دیگر دفعات کے تحت معاملہ درج کرلیا گیا ہے۔ حادثہ کی مجسٹریٹ جانچ کا بھی حکم دے دیا گیا ہے۔ بچاؤ راحت رسانی پوری ہوگئی ہے۔ اس درمیان اترپردیش کے وزیر اعلی آدتیہ ناتھ یوگی نے حادثہ پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متوفی افراد کے رشتہ داروں کو 2-2 لاکھ روپے مالی مدد دینے کے احکامات دئے ہیں۔ ادھر گریٹر نوئیڈا اتھارٹی نے اسپیشل ایگزیکٹیو افسر (او ایس ڈی) وبھا چہل کو عہدہ سے ہٹا دیا ہے۔اس کے علاوہ ناجائز تعمیرات کرنے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کر قصوروار لوگوں کو گرفتار کرنے کے احکامات دئے گئے ہیں۔ شاہ بیری گاؤں میں ان دو عمارتوں کے گرنے سے مقامی لوگوں میں ناراضگی پیدا ہونا فطری ہی ہے۔ چشم دید گواہوں کا کہنا تھا شاہ بیری گاؤں میں بلڈروں نے اونے پونے داموں پر زمین خرید لی اور بغیر کسی قائدے کی تعمیل کئے تعمیرات کرنے لگے۔ یہاں نوئیڈا اور گریٹر نوئیڈا کے مقابلہ میں سستے مکان بنائے جارہے ہیں لیکن یہ سستے مکان خراب کوالٹی کے سامان سے بنائے گئے ہیں۔ ایک مقامی شخص نے بتایا کہ گاؤں میں تعمیر ہونے کی وجہ سے اتھارٹی کا کوئی بھی لینا دینا نہیں ہے۔ اس کا فائدہ اٹھا کر بلڈر اپنی منمانی چلاتے ہیں اور لوگ بھی سوچتے ہیں کہ انہیں کم قیمت میں آشیانہ مل رہا ہے لیکن پیمنٹ کے بعد وہ پھنس جاتے ہیں۔ یہاں پر زیادہ تر وہ لوگ مکان لیتے ہیں جو بس کسی طرح اپنا گھر چاہتے ہیں اور اسی لئے بڑی آسانی سے بلڈر کے بنے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ بلڈر کبھی پوری جانکاری ٹھیک سے نہیں دیتے۔ اس سے بھولے بھالے لوگ پھنس جاتے ہیں اور ایسی جگہ رہنے لگتے ہیں جہاں بعد میں بھاری دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایک خاندان نے منگل کو ہی پوجا پاٹھ کرنے کا اپنا سامان نئے فلیٹ میں شفٹ کیا تھا،کچھ اور پریوار بھی آنے والے تھے لیکن اس حادثہ میں کئی پریواروں کا سپنا ٹوٹ گیا۔موقعہ پر پہنچے لوگوں نے بتایا تعمیرات میں استعمال بلڈنگ میٹریل گھٹیا تھا۔ حادثہ کے دوران چار پریوار اور اس کے برابر والی بلڈنگ میں 12 پریوار رہ رہے تھے۔ ان سبھی پریواروں کے کئی لوگ ملبہ میں دب گئے۔ اس کے علاوہ بلڈنگ کے برابر میں ایک دو جھگی جھونپڑی میں رہنے والے لوگوں کو بھی ملبہ سے نکالا گیا۔ نوئیڈا اتھارٹی کو چاہئے کہ وہ ناجائز تعمیرات پر نگاہ رکھے تاکہ آئندہ اس طرح کا حادثہ نہ ہوپائے۔
(انل نریندر)

19 جولائی 2018

ٹرمپ اور پوتن کے درمیان تاریخی بات چیت

ساری دنیا کی نظریں پیر کو ہوئی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے درمیان تاریخی چوٹی کانفرنس پر لگیں تھیں۔ یہ چوٹی کانفرنس پیر کو فن لینڈ کی راجدھانی ہیلنسکی میں طے ہوئی۔ یہ چوٹی کانفرنس صدارتی پیلس میں ہوئی۔ فن لینڈ ناٹو کا حصہ نہیں ہے۔ روس نیٹو دونوں کو اپنا دشمن مانتا ہے۔ 1995 میں فن لینڈ یوروپی یونین میں شامل ہوا تھا لیکن فوجی اتحاد کا حصہ نہیں بنا اس لئے دونوں کے لئے ہیلنسکی غیر جانبدار جگہ ہے۔ اس کے علاوہ ماسکو سے ہیلنسکی کی دوری محض 3 گھنٹے کی ہے۔ دو گھنٹے سے زیادہ بات چیت کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے 2016 کے امریکی صدارتی چناؤ میں مداخلت پر روس کو کلین چٹ دے دی ہے۔ چناؤ میں مداخلت کے ایف بی آئی کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا اس معاملہ میں کریملن پر شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ سی آئی اے کے سابق چیف نے بھی روس کو قصوروار بتایا تھا لیکن وہ اس سے باآور نہیں تھے۔ پوتن نے اس بات کو پورے دم کے ساتھ مسترد کردیا۔ ان پر شبہ کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے پوتن نے کہا کہ ٹرمپ نے اس میں روس کا ہاتھ ہونے کی بات کہی لیکن میں نے واضح طور پر بتا دیا کہ روس اس میں شامل نہیں رہا۔ پوتن کا کہنا ہے روس نے کبھی امریکہ کے اندرونی معاملوں میں دخل نہیں دیا اور نہ ہی مستقبل میں ایسی منشا ہے۔ اس سے پہلے دونوں دیشوں کے نیتاؤں نے پرانی کڑواہٹ بھلا کر نئے سرے سے رشتے بنانے کی بات کہی اور ہم اس کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ دونوں دیشوں کی دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان جاری کشیدگی سے ساری دنیا پریشان تھی۔ مشترکہ بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ہمارے پاس اب بات کرنے کے لئے بہت سی اچھی چیزیں ہیں۔ ہمارے درمیان تجارت، فوج، میزائل ، نیوکلیائی ہتھیار، چین جیسے کئی اشو پر بات ہوچکی ہے۔ امریکہ کی غلطیوں کی وجہ سے دونوں دیشوں کے درمیان لمبے عرصے تک کڑواہٹ بنی رہی۔ مجھے لگتا ہے کہ اس بات چیت کے ذریعے اب دونوں دیشوں کے درمیان اچھے رشتے بنیں گے اور دونوں نیتاؤں کے درمیان اکیلے میں 90 منٹ کی بات چیت ہوئی۔ اس دوران ان کے ساتھ صرف ایک عورت ٹرانسلیٹر تھی۔ دراصل ٹرمپ نے افسران سے کہا کہ وہ پوتن کے ساتھ اکیلے بات چیت کرنا چاہتے ہیں تاکہ ان کے درمیان حساس اشو پر ہو رہی بات چیت افشاں نہ ہو۔
(انل نریندر)

آسام کی پہلی ٹرانسجینڈر جج

ٹرانسجینڈر کو جج بنانے والا آسام نارتھ ایسٹ کی پہلی دیش میں تیسری ریاست بن گیا ہے۔ گواہاٹی کے کام روپ ضلع کی لوک عدالت نے سواتھی بدھان بروا نے کام کاج سنبھالا۔ عدالت کی 20 ججوں کی بنچ میں سواتھی ایک ہیں۔ 2012 تک وہ مرد تھیں، نام تھابدھان۔ اس کے بعد سرجری کرائی اور نیا نام سواتھی اپنایا۔ بی ۔ کام کے بعد قانون کی پڑھائی کی اور اب عدالت میں پیسے کے لین دین سے جڑے معاملے دیکھ رہی ہیں۔ سب سے پہلے مغربی بنگال نے جولائی 2017 میں دیش کے پہلے ٹرانسجینڈر جج کی شکل میں جایتامنڈل کو مقرر کیا تھا۔ اس کے بعد اس سال فروری میں مہاراشٹر میں ناگ چھاتر بال کو نند پور کی لوک سبھا عدالت میں مقرر کیا گیا۔ ٹرانسجینڈر ایکٹویٹ سواتھی بروا کے یہاں تک پہنچنے کی کہانی دلچسپ ہے۔2012 میں سواتھی (تب بدھان) نے نئی پہچان اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے لئے سرجری کروانے کی ٹھانی تو ان کا خاندان بھی احتجاج میں آگیا۔سواتھی ممبئی میں نوکری کررہی تھی ، پریوار نے انہیں زبردست گواہاٹی واپس بلا لیا۔ نوکری کرکے انہوں نے سرجری کے لئے پیسے اکھٹے کئے۔ سرجری نہ ہوپائے اس لئے خاندان نے ان کے بینک اکاؤنٹ بلاک کروا دئے۔ اس کے بعد بروا بمبئی ہائی کورٹ پہنچیں، وہاں عدالت نے ان کے سرجری کروانے کا راستہ صاف کردیا۔ اس کے بعد بدھان نے سواتھی کی شکل میں نئی پہچان اپنائی۔ اب سواتھی کے خاندان کو بھی ان سے کوئی گلا نہیں رہا۔ وہ کہتی ہیں مجھے امید ہے کہ بطور جج میری تقرری لوگوں کو احساس کرائے گی کہ ٹرانسجینڈر بھی سماج کا حصہ ہیں۔ کچھ پالیسیوں کے ناکام ہونے کی وجہ سے ہی انہیں مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا ورنہ ٹرانسجینڈر بھی سماج کے لئے کام کرسکتے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق آسام میں پانچ ہزار سے زیادہ ٹرانسجینڈر ہیں ۔ اسی کو دیکھتے ہوئے سواتھی نے2017 میں گواہاٹی ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی تھی۔ انہوں نے ٹرانسجینڈر کے لئے سرکار کو پالیسی بنانے کا حکم دینے کی مانگ کی تھی۔ بروا آل اسم ٹرانسجینڈر کی لیڈر بھی ہیں، وہ کہتی ہیں ٹرانسجینڈر پبلک مقامات پر پریشانی کا سامنا کرتے ہیں، انہیں بے عزت کیا جاتا ہے، طنز کسے جاتے ہیں، اسے روکنے کی ضرورت ہے۔ یہ ٹھیک نہیں ہے ۔ اپنے مشن کو تب پورا مانوں گی جب یہ دکھائی دے گا کہ ٹرانسجینڈر کو امتیاز کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے اور انہیں بھی پکی نوکریاں مل رہی ہیں۔
(انل نریندر)

18 جولائی 2018

فوجی کارروائی کیساتھ سیاسی پہل بھی ضروری

سرحد پر ہندوستانی فوج کی کارروائی میں 4 پاکستانی فوجیوں کے مارے جانے کے درمیان فوج کے چیف جنرل بپن راوت نے پاکستان کو سخت وارننگ دی ہے کہ اگر وہ باز نہیں آتا تو بھارت ایک بار پھر مجبوری میں دوسرا متبادل اپنانے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ جنرل راوت نے 70 ویں آرمی ڈے کے موقعہ پر شاندار پریڈ کی سلامی لینے کے بعد اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی فوج دراندازوں کی مدد کرتی رہے ہی۔ اگر ہمیں مجبور کیا گیا تو اور مضبوط کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا فوج کے اکساوے کی کسی حرکت کا منہ توڑ جواب دینے کی طاقت رکھتا ہے۔ جموں و کشمیر میں قیام امن کے لئے فوجی آپریشن کے ساتھ سیاسی پہل بھی جاری رہنی چاہئے۔ ان کے کہنے کا مقصد یہی ہے کہ سرکار بات چیت کے ذریعے پاکستان کی حکومت کو دہشت گردی پھیلانے اور دراندازی سمیت تمام مسئلوں پر غور کرنے کو کہے۔ لیکن فوج کا دہشت گردوں کے خلاف سختی کا رخ برقرار رہے گا۔ جنرل راوت دہشت گردوں کے خلاف اپنے سخت رویئے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ حالانکہ فوج کے چیف نے اس کے علاوہ دو اور اہم باتیں کیں۔ پہلی یہ کہ جموں و کشمیر میں کام کررہی مسلح فورس تماشائی نہیں رہ سکتی، انہیں ہمیشہ چوکس رہنا ہوگا اور اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لانی ہوگی اور دوسری اہم بات انہوں نے یہ کہی کہ اگر صحیح طریقے سے فوجی اور سیاسی غور و خوض ہوگا تو ریاست میں مستقل طور پر امن کا پرچم لہرائے گا۔ جموں و کشمیر میں جنرل راوت کی پہل پر آپریشن آل آؤٹ چل رہا ہے۔ اس دوران 210 آتنکی مارے جاچکے ہیں۔
یہ اعدادو شمار تین سال میں سب سے زیادہ ہیں۔ حالانکہ سال بھر کے دوران آتنکی تشدد کے واقعات بڑھے ہیں۔10 دسمبر تک جہاں 2016 میں 302 آتنکی وارداتیں ہوئیں وہیں 2017 میں یہ بڑھ کر 335 ہوگئیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے آتنکی پاکستانی فوج کے تعاون سے سرحد پر تعینات جوانوں کو نشانہ بنا نے اور دراندازی میں مشغول ہیں۔ سرحد پر فوجی چوکسی بڑھانے کے باوجود پاک فوج جس طرح آئے دن جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتی ہے اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ابھی اسے ضروری سبق سکھایا جانا باقی ہے۔ پاکستان کی طرف سے 2017 میں 820 جنگ بندیوں کی خلاف ورزی کے واقعات ہوئے ہیں اور یہ سب کچھ تب ہے جب فوج کی سختی ہے۔ اس ناطے فوج کے چیف نے ایک طرح سے سرکار کو بات چیت سے مسئلے کو سلجھانے کی کارروائی جاری رکھنے کا اشارہ بھی دے دیا ہے اور پاکستان کو کہا ہے کہ ہم اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔
(انل نریندر)

ضمنی چناؤ میں وسندھرا راجے کی ساکھ داؤں پر لگی

سال2019 میں ہونے والے عام چناؤ اور اگلے سال مجوزہ راجستھان اسمبلی چناؤ کے سنگرام سے پہلے پردیش کی دو لوک سبھا اور ایک اسمبلی سیٹ کے لئے 29 جنوری کو ہونے والے ضمنی چناؤ میں حکمراں بھاجپا اور بڑی اپوزیشن کانگریس کی اگنی پریکشا ہوگی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس تینوں ضمنی چناؤ جیتنے کا دعوی کررہی ہیں لیکن دعوؤں کی اصلیت 1 فروری کو چناؤ نتیجے بتائیں گے۔ یوں تو تینوں چناوی حلقوں میں چناؤ کمپین کا گھمسان شروع ہوچکا ہے لیکن 16 جنوری کو وزیر اعظم نریندر مودی کی باڑھ میڑ میں پنچ پدرا ریفائنری پروجیکٹ کے کام کوشروع کرنے کے بعد اس میں تیزی آئے گی۔ وزیر اعلی وسندھرا راجے نے تینوں سیٹوں پر بھاجپا کا قبضہ برقرار رکھنے کے لئے چناؤ کے باقاعدہ اعلان سے پہلے تینوں حلقوں میں دھنواں دھار دورہ کر ورکروں میں جوش بھرنے کی کوشش کی ہے۔ ادھر کانگریس نے پھول پور کے ضمنی چناؤ میں ملی کراری ہار سے سبق لیتے ہوئے امیدواروں کے اعلان الور پارلیمانی سیٹ سے سابق ایم پی ڈاکٹر پریم سنگھ یادو کو چناؤ میں اتار کر بڑھت ضرور بنالی تھی لیکن بعد میں دونوں حلقہ اجمیر، ماؤلگڑھ میں وہ بھاجپا سے پچھڑ گئی۔ بھاجپا کے پردیش صدر اشوک پٹنامی نے تینوں ضمنی چناؤ میں تاریخی جیت کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے ذریعے ترقی کے سبب بھاجپا بھاری اکثریت سے جیتے گی۔ ساتھ ہی اگلے سال ہونے والے اسمبلی چناؤ میں بھاجپا پھر سے سرکار بنائے گی۔ دوسری طرف کانگریس کے پردیش صدر ستن پائلٹ نے پٹنامی کے دعوؤں کوکھوکھلا بتاتے ہوئے پردیش کی جنتا سے اگلے سال ہونے والے اسمبلی چناؤ اور بھاجپا سرکار کی بدائی کرے گی۔ اس کی الٹی گنتی ضمنی چناؤ سے شروع ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اتحاد سے چناؤ میں جٹ گئی ہے اور تینوں ضمنی چناؤ جیتے گی۔ کانگریس ذرائع نے کہا کہ چناؤ کمپین شروع ہوچکی ہے، سابق وزیر اعلی اشوک گہلوت اور پردیش پردھان سچن پائلٹ اور دیگر نیتا چناؤ کمپین میں جٹے ہوئے ہیں۔ بھاجپا کیندر اور ریاستی حکومت کی ترقیاتی اسکیموں، فلیگ شپ اسکیموں کے زور پر تینوں سیٹیں جیتے گی جبکہ کانگریس کا کہنا ہے کہ پردیش کے بگڑے قانون و نظام و بے روزگاری اور کسانوں کو نظر انداز کی مخالفت میں تینوں حلقوں میں ووٹر بھاجپا کے خلاف ووٹ ڈالیں گے۔ یہ ضمنی چناؤ مکھیہ منتری وسندھرا راجے کے لئے ایک طرح سے ساکھ کا سوال بن گیا ہے کیونکہ اگلے سال اسمبلی چناؤ نتیجہ اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
(انل نریندر)

17 جولائی 2018

تھرور کے ہندو پاکستان والے بیا ن پر واویلا

ہندوستانی سیاست میں شاندار انگریزی بولنے کے ساتھ ساتھ مغربی شان وشوکت نے اسمارٹ دکھائی دینے والے افسر رہے سیاسی لیڈ رکی پہچان بنانے والے کانگریسی نیتا ششی تھرور اکثر اپنے متنازعہ بیانات کے لئے سرخیوں میں چھائے رہتے ہیں ۔اب ان کے تازہ بیان پر تنازعہ چھڑگیا ہے ۔اس مرتبہ ترواننت پورم میں بد ھ کو کہا کہ بھاجپا اگر اقتدار میں آئی تو وہ آئین کو پھر سے لکھے گی ۔اور ہندو پاکستان کی تشکیل کا راستہ ہموار کرے گی ۔تھرور کا عام الفاظ میں یہ خیال ہے کہ 2019کے عام چناؤ میں اگر بھاجپا کامیاب ہوتی ہے تو بھارت ہندو پاکستان بن جائے گا ۔حالانکہ وہ پہلے بھی اس طرح کے باتیں کرتے رہے ہیں ۔
بھارت کو ہندو پاکستان جیسا بننے سے بچنا چاہئے، لیکن اس مرتبہ حد کو پارکر یہ کہہ گئے کہ پھاجپا پھر سے اقتدا رم یں آنے پر ویسی ہی ہوگی جیسے آج پاکستان ۔کانگریس نے ششی تھرور کے اس بیان سے کنارہ کرلیا ہے ۔پارٹی نے کہا کہ بھارت کی جمہوریت اور اس کی قدریں اتنی مضبوط ہے کہ بھارت کبھی پاکستان بننے کی پوزیشن میں نہیں جاسکتا ۔بھارت کے ترجمان رندیپ سرجے والا نے اپنے لیڈروں کوبھی نصیحت دی کی بھاجپا کی نفرت کا جواب دیتے ہوئے وقت میں وہ پوری احتیاط برتیں ۔بھاجپا کے ترجمان سنبت پاترا نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ موازنہ کرنا ہندوستانی جمہوریت کی توہین ہے ۔کانگریس کو اب ڈر کا کاروبار بند کردینا چاہئے ۔لیکن ششی تھرور اب اپنے بیان پر قائم ہیں انھوں نے فیس بک بوسٹ پر لکھا میں نے پہلے بھی کہاتھااور پھر کہوں گا پاکستان کی تعمیر مذہب کی بنیاد پر ہوئی تھی ۔جو اقلیتوں کے ساتھ امتیاز کرتا ہے ۔تلخ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں جمہوریت کی پرانی تاریخ رہی ہے اور جدید جمہوریت کو سست روایات ہمیں وراثت میں ملے ہیں اس لئے بھاجپا اور کوئی دوسری پارٹی ہندو ستانی جمہوریت کو ختم نہیں کرسکتی ۔ اس لئے ششی تھرو ر کے اس نظریہ سے متفق نہیں ہوسکتا اور نہی یقین کرسکتا بھاجپا 2019میں دوبارہ اقتدار میں آتی ہے تو ایسے آئین کی تعمیر کریگی جو ہندو راشٹر کے مفادات کا تحفظ کرے ۔تھرور پڑھے لکھے منصف اور تھنکرکے طور پر جانے جاتے ہیں ان سے ایسے بیان کی بالکل توقع نہیں تھی کہ وہ اتنی بے تکی بات کہیں گے ۔انھوں نے خود ایک خراب اور غیر ضروری بیان دیا ہے اس کی تصدیق اس سے ہوتی ہے کہ خود انکی پارٹی کانگریس نے ان کے بیان سے کنارہ کرلیا ہے ۔حقیقت میں تھرور کا بیان الٹا کانگریس سیاسی نقصان پہنچا سکتا ہے ۔عام چناؤ قریب ہیں نیتا ؤں کو سوچ سمجھ کر بیا ن دینے ہونگے اور اپنی زبان سنبھالنی ہوگی ۔
(انل نریندر)

کبھی کھیتوں میں دوڑتی تھی ،جوتے تک نہیں تھے اور گولڈ جیتا

کبھی ورلڈ کپ فٹبال میں زیادہ راغب ہونے کے سبب ایتھلیٹ ہما داس کی تاریخی جیت دب گئی ۔لیکن اس نے بھارت کا پرچم اونچا کردیا ۔فینڈ لینڈ میں آئی اے ایف ورلڈ انڈر ۔20ایتھلیٹوں چیمپین میں ہماداس نے 400میٹر کی دور جیت لی ہے ۔ہماداس گولڈ میڈل جیتی ہے عالمی سطح پر ٹریک مقابلے میں گولڈ میڈل جیتنی والی ہندوستانی پہلی کھلاڑی ہیں ۔ اس سے پہلے بھارت کی کسی بھی خاتون یا مرد کھلاڑی نے جونےئر یا سینئر نے کسی بھی سطح پر عالمی مقابلوں میں گولڈ میڈ ل نہیں جیتا اس طر ح ہما داس کا کارنامے ان تمام کھلاڑیوں پر بھاری ہے جن کے نام دہائیوں پر غور کریں تو ہم تھوڑی بہت تشفی کرسکتے ہیں ۔لیکن چاہے وہ فلائنگ ملکھاسنگھ ہو یا پی ٹی اوشا میدان ٹریک ایوینٹ میں دیش میں پہلی مرتبہ سونے کا تمغہ دلاکر تاریخ بنانے والی ہماداس کی کہانی کسی فلمی اسٹو ری سے کم نہیں ہے ۔18سال کی ہماداس نے محض دوسال پہلے ہی ریسنگ ٹریک پر قدم رکھا تھا ۔اس سے پہلے انھیں اچھے جوتے بھی نصیب نہیں تھے ۔آسام کے چھوٹے سے گاؤ ں کی یہ لڑکی خاندان میں بچوں میں سب سے چھوٹی تھی ہما پہلے لڑکوں کے ساتھ والد کے دھان کے کھیتوں میں فٹبال کھیلا کرتی تھی ۔مقامی کوچ نے ایتھلیٹکس میں ہاتھ آزمانے کی صلاح دی ۔پیسوں کی کمی ایسی تھی کہ ہما کے پاس اچھے جوتے تک نہیں تھے ۔سستے جوتے پہن کر جب ہما نے ضلع ریس مقابلہ جیتا تو کوچ نپن داس بھی حیران رہ گئے ۔ وہ ہما کو گوہاٹی لے آئے اور انھیں انٹر نیشنل اسٹنڈر ڈجوتے پہننے کو ملے ۔ اس کے بعد ہمانے پیچھے موڑ کر نہیں دیکھا ۔400میٹر ریس میں گولڈ میڈ ل یافتہ لڑکی ریس میں خا ص بات یہ تھی کہ اس دوڑ کو 35ویں سیکنڈ تک ٹاپ تھری میں نہیں پہنچی تھی۔
لیکن آخری کچھ لمحوں میں ہما نے ایسی رفتا ر پکڑ ی کے سبھی کو پیچھے چھوڑ دیا ۔ہندوستانی قومی ترانہ بجا تو ہما کے آنکھوں میں آنسو تھے ۔اس جیت پر ان کے گاؤں میں میٹھائیاں بانٹی گئیں اور ان کے گھر والوں کو مبارکباد دینے والوں کا سلسلہ بڑھتا چلاگیا ۔اپنی کارکردگی کے بارے میں ہما نے کہا کہ میں میڈ ل کے بارے میں سوچ کر ٹریک پر نہیں اتری تھی میں صرف تیز دوڑ نے میں ہی مگن تھی اور مجھے لگتا ہے کہ اسی توجہ میں میڈل جیتنے میں کامیاب رہی ۔میں نے ابھی کوئی ٹارگیٹ مقر رکیا ہے ۔جیسے کی ایشیائی یا اولمپک کھیلوں میں میڈ ل جیتنا میں ابھی صرف اس سے خوش ہوں کہ میں نے کچھ خاص حاصل کیا ہے او راپنے دیش کا وقار بڑھایا ہے ۔ہماداس کی اس تاریخی جیت پر ہم مبارکبارکباددیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی وہاں ایسی ہی دیش کی شان بڑ ھائیں گی 
(انل نریندر)

15 جولائی 2018

تاج کی دیکھ بھال نہیں کرسکتے تو اسے زمیں دوز کردیں

یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ دنیا بھر کے سیاحوں کو راغب کرنے والے تاج محل کی اتنی دردشا ہو، اس کی خستہ حالی اتنی ہے کہ سپریم کورٹ کو یہ کہنا پڑا کہ تاج کی حفاظت نہیں کرسکتے تو اسے بند کردیں یا زمیں دوز کردیں۔ لگتا ہے کہ متعلقہ محکموں کو تاج کی پرواہ نہیں۔ عدالت کی ناراضگی فطری ہے اس نے جو رائے زنی کی ہے وہ حکومت اور اے ایس آئی یعنی ہندوستانی آثار قدیمہ سروے محکمہ کے لئے شرمندگی کا سبب ہونا چاہئے۔ اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہوگی کہ دیش کی جو تاریخی وراثت دنیا بھر میں ایک خاص مقام رکھتی ہے ، یونیسکو کی فہرست میں جسے دنیا کا دوسرا سب سے بہترین یادگار مانا گیا ہے، اس کے رکھ رکھاؤ کے سوال پر سرکار اور متعلقہ محکمہ اس قدر لاپرواہ ہیں کہ وقتاً فوقتاً سرکار اور متعلقہ محکموں کو آگاہ کیا گیا لیکن اس کا کوئی اثر نہیں پڑا اس لئے سپریم کورٹ کو اتنے سخت ریمارکس دینے پڑے ہیں۔ عدالت کا تبصرہ اپنے آپ میں یہ بتانے کے لئے کافی ہے کہ تاج محل کو لیکر حکومت اور اس کی دیکھ ریکھ کرنے والے اے ایس آئی نے کس سطح کی لاپرواہی برتی ہے۔ یہ بے وجہ نہیں لمبے عرصے سے اس کے تحفظ کے سوال پر ٹال مٹول کی وجہ سے تاج محل پر بڑھتا خطرہ آج سنگین ہوچکا ہے۔ جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ نے کہا کہ تاج محل کے تحفظ کے معاملہ میں سرکار امید کے برعکس کام کررہی ہے۔ تاج محل کی حفاظت کو لیکر پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کے باوجود سرکار نے اب تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ بنچ نے مرکزی سرکار سے پوچھا کہ تاج کے تحفظ کو لیکر اب تک کیا کوششیں کی گئیں اور کیا قدم اٹھائے جائیں گے عدالت نے کہا یوپی سرکار کو بھی تاج کی کوئی فکر نہیں لگتی ، تاج تحفظ پر یوپی سرکار کی حکمت عملی پلان مانگا گیا تھا لیکن اس نے اب تک عدالت کو نہیں دیا۔ تاج محل کے آس پاس ترقیاتی کاموں کی نگرانی بڑی عدالت کی نگرانی میں ہورہی ہے۔بہتر ہوگا مرکزی سرکار یہ سمجھے تاج اور دیگر یادگاروں کے تحفظ میں آثار قدیمہ محکمہ کی ناکامی بہت مہنگی ثابت ہورہی ہے۔ دیش محض انمول وراثت کو نہیں کھو رہا ہے بلکہ غیر ملکی کرنسی سے بھی محروم ہورہا ہے۔ پیرس میں ایفل ٹاور کو دیکھنے کیلئے 8 کروڑ لوگ پہنچتے ہیں۔ تاج محل کو دیکھنے آنے والوں کی تعداد تقریباً 50 لاکھ ہی ہے جبکہ آثار قدیمہ سے لیکر اس کی اہمیت کے لحاظ سے تاج محل کو ایفل ٹاور سے کہیں زیادہ اہم ترین درجہ حاصل ہے۔ آج اگر تاج کی یہ حالت ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟
(انل نریندر)

دہلی کے سپرمین

دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ اختیارات کی جنگ میں دہلی کی تباہی تو ہورہی ہے کوڑے کے پہاڑ بنتے جارہے ہیں اور انہیں ہٹانے کے لئے کوئی ذمہ دار نہیں۔ تمام اختیارات سے آراستہ دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے ابھی تک نہ تو اس کچرے کے نپٹارے کی کوئی ٹھوس مستقبل اسکیم بنائی ہے اور نہ ہی کوئی قدم اٹھایا ہے۔ سپریم کورٹ نے کوڑے کے نپٹان میں ناکام رہنے پر دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کے رویئے پر سخت پھٹکار لگاتے ہوئے یہاں تک کہہ ڈالا کہ پاور کے معاملہ میں لیفٹیننٹ گورنر خود کو سپر مین سمجھتے ہیں لیکن شہر سے کوڑے کے پہاڑ صاف کرنے کے لئے کچھ نہیں کررہے ہیں۔ ایک کوڑے کے ڈھیر کی اونچائی تو تقریباً قطب مینار کے برابر پہنچ گئی ہے۔ عدالت نے کہا پچھلی سماعت پر کوڑے کا پہاڑ 62 میٹر اونچا تھا اب یہ 65 میٹر ہوگیا ہے۔ یہ قطب مینار سے صرف 8 میٹر کم ہے۔ دہلی سرکار کے حلف نامہ میں کہا گیا ہے کوڑے کے نپٹانے کو لیکر ہو رہی میٹنگ میں لیفٹیننٹ گورنر شامل نہیں ہوتے۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا جب آپ کے پاس کام آتاہے تو آپ دوسروں پر ذمہ داری ڈال دیتے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر مانتے ہیں کہ ان کے پاس پاور ہے وہ سپر مین ہیں، سب کچھ وہی ہیں تو میٹنگ میں کیوں نہی جاتے؟ کوڑا نپٹانے کی ذمہ داری کون لے گا؟ سارے اختیار آپ کے پاس ہیں تو ذمہ داری بھی آپ کی ہے۔ آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو کوئی چھو بھی نہیں سکتا کیونکہ آپ آئینی عہدہ پر بیٹھے ہیں۔ عدالت نے16 جولائی تک لیفٹیننٹ گورنر سے حلف نامہ دائر کرکے یہ بتانے کو کہا ہے کہ کوڑا نپٹانے کا کام کب تک پورا ہوگا؟ ایکشن پلان کیا ہے اور ابھی تک کیا کیا ہے؟ غازی پور، اوکھلا اور بھلسوا تینوں ہی لینڈ فل جگہوں پر اکٹھے کچرے کے نپٹارے کی ذمہ داری ہماری رائے میں یقینی طور پر دہلی کی تینوں کارپوریشنوں کی ہے۔ یہ مقامی بلدیاتی ادارہ اپنی ذمہ داری کو نبھانے میں اب تک ناکام رہے ہیں۔ اسے لیکر لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعے کئی میٹنگیں کئے جانے کے باوجود مسئلہ کا حل نہ نکل پانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس مسئلہ کو لیکر کتنے سنجیدہ ہیں۔ ہمیں تو لگتا ہے یہاں ہر سطح پر قوت ارادی کی کمی ہے۔ ان لینڈ فل جگہوں پر آگ لگنے کی بھی کئی وارداتیں ہو چکی ہیں۔ یہ کوڑے کا پہاڑ جہاں صحت کے لئے نقصاندہ ہے وہیں یہ آب و ہوا کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایسے میں یہ ضروری ہوگیا ہے کہ ان لینڈ فل جگہوں میں اکٹھے ٹھوس کچرے کے ازالے کے لئے مناسب انتظام کیا جائے اور مستقبل میں اس کے نپٹارے کی کوئی ٹھوس پالیسی بنائی جائے۔
(انل نریندر)

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...