Translater

22 نومبر 2025

پی کے کیوں چاروں کھانے چت ہوئے

2025 کے بہار اسمبلی انتخابات پرشانت کشور اور ان کی جن سورج پارٹی کے لیے پہلا بڑا انتخابی امتحان تھا۔ اس انتخاب نے پرشانت کشور کی اپنی پیشین گوئی کو ثابت کر دیا کہ ان کی پارٹی یا تو اوپر اٹھے گی یا نیچے گر جائے گی۔ نتائج نے پارٹی کو نیچے رکھا۔ پرشانت کشور کی تصویر پر بنائی گئی جارحانہ اور وسیع مہم کے باوجود جن سورج پارٹی اپنے ابتدائی جوش کو ووٹوں میں تبدیل کرنے میں ناکام رہی۔ اس نے 243 میں سے 238 سیٹوں پر الیکشن لڑا، ایک بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی۔ دس میں سے چار رائے دہندگان (تقریباً 39 فیصد) نے فون کال، ایس ایم ایس، واٹس ایپ، یا سوشل میڈیا کے ذریعے پارٹی کی طرف سے کم از کم ایک سیاسی پیغام موصول کرنے کی اطلاع دی، جس میں سب سے زیادہ تعداد بی جے پی کی ہے۔ اسی طرح 43 فیصد نے گھر گھر رابطہ کرنے کی اطلاع دی، جس سے جن سورج پارٹی ووٹروں سے رابطہ کرنے کے اس طریقہ کار کے لحاظ سے تیسری سب سے بڑی پارٹی بن گئی۔ رابطے کی اس سطح نے پارٹی کو عملی طور پر بہار کی بہت سی زیادہ قائم پارٹیوں کے برابر کر دیا ہے۔ اتنی موجودگی کے باوجود اس کی حمایت محدود رہی۔ اس کے بعد سے یہ سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا پرشانت کشور سیاست چھوڑ دیں گے۔ منگل کو پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس میں پرشانت کشور نے اپنے بیان کی وضاحت کی۔ انہوں نے کہا، "میں بالکل اس پر قائم ہوں، اگر نتیش کمار کی حکومت نے ووٹ نہیں خریدے تو میں سیاست سے ریٹائر ہو جاؤں گا۔" پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے جواب دیتے ہوئے پوچھا کہ جب انہوں نے یہ بیان دیا تو انہوں نے شرائط کیوں نہیں بتائیں۔ پرشانت کشور نے جواب دیا، "میں کون سا عہدہ رکھتا ہوں کہ میں استعفیٰ دوں گا؟ میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ میں بہار چھوڑ دوں گا۔ میں نے سیاست چھوڑ دی ہے، میں اب سیاست دان نہیں ہوں، لیکن میں نے یہ نہیں کہا کہ میں بہار کے لوگوں کے مسائل کو اٹھانا چھوڑ دوں گا۔" جن سورج پارٹی کا دعویٰ ہے کہ نتیش کمار کی حکومت نے انتخابات سے قبل متعدد اسکیمیں شروع کیں اور بہار کے لوگوں کے کھاتوں میں رقم منتقل کی۔ ان اسکیموں نے این ڈی اے کو دوبارہ اقتدار میں لایا، اور جن سورج پارٹی کو شکست ہوئی۔ تاہم، پرشانت کشور خود اپنی جن سورج پارٹی کے لیے بہت کچھ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے کئی مواقع پر دعویٰ کیا کہ اس بار بہار میں تبدیلی آئے گی اور نتیش کمار وزیر اعلیٰ نہیں بنیں گے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ پرشانت کشور اس شکست کے باوجود سیاست نہیں چھوڑیں گے۔ وہ لمبی دوری کا رنر ہے۔ انہوں نے پڑھے لکھے لوگوں سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی اور اچھے مسائل اٹھائے۔ پرشانت کشور نے نامہ نگاروں سے کہا، "جہاں گزشتہ 50 سالوں سے ذات پات کی سیاست کا غلبہ ہے، وہاں ہماری پہلی کوشش میں 10 فیصد ووٹ حاصل کرنا ہمارا کرشمہ ہے یا کچھ اور، فیصلہ آپ کریں۔" پرشانت کشور نے مزید کہا، "اگر ہماری پارٹی کو 10 فیصد ووٹ ملے ہیں تو یہ میری ذمہ داری ہے، اگر یہ میری اکیلے کی ذمہ داری نہیں ہے تو بھی میں پیچھے ہٹنے والا نہیں ہوں۔ اس 10 فیصد کو بڑھا کر 40 فیصد کرنا ہوگا۔ چاہے ایسا ایک سال میں ہو یا پانچ سال میں۔" -انیل نریندر

20 نومبر 2025

بہار نتائج قومی سیاست پر گہرا اثر کریں گے

بھارت میں 10 سال سے مرکز اور زیادہ تر ریاستوں میں سرکار چلا رہی بی جے پی جب لوک سبھا چناؤ2024 میں 240 سیٹوں پر اٹک گئی اور بیساکھیوں کے سہارے اقتدار میں آئی تو کئی تجزیہ نگاروں کو لگا تھا کہ یہاں سے ہندوستانی سیاست میں شاید بی جے پی ڈھلان پر آجائے لیکن اسکے بعد سے دیش کی کئی ریاستوں میں ہوئے چناؤ میں مسلسل جیت کر بی جے پی نے ثابت کر دیا کہ یہ جائز ے کہیں نہ کہیں غلط تھے ۔ہریانہ مہاراشٹر دہلی اور اب بہار میں جیت درج کرنے کے بعد بی جے پی نے یہ ثابت کر دیا وہ چناؤ جیتنا جانتی ہے ۔آج بھی چناؤی حکمت املی بنانے اور اسے کامیاب کرنے میں بی جے پی کے سامنے کوئی سیاسی پارٹی ٹھہرتی نہیں ہے تازہ مثال بہار کی ہے ۔اب بھارت کے اہم ہندی زبان والی ریاست بہار میں بھی بی جے پی ،جے ڈی یو اور کئی علاقائی پارٹیوں کے این ڈی اے اتحاد نے غیر متوقع اور بے مثال جیت درج کی ہے ۔بہار اسمبلی چناؤ کا نتیجہ بھارت و قومی سیاست پر گہرا اور دورندیشی اثر ڈال سکتا ہے۔یہ نتیجہ بی جے پی کےلئے ایک بڑی جیت اور مثبت اشارے کی شکل میں دیکھا جا رہا ہے جس نے مرکز کی این ڈی اے سرکار اور اسکی قیادت کو مضبوطی دی ہے وہیں اپوزیشن کےلئے ےہ چنوتی اور زمینی ستہ پر تنظیم کو مضبوط کرنے کا الرٹ ہے۔تجزیہ نگار مانتے ہیں کہ اپوزیشن کو اپنی پالیسیوں و قیادت اور حکمت املی میں وسیع بہتری لانے ہوگی تاکہ وہ قومی ستح پر ٹھوس چنوتی پیش کر سکیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ بی جے پی نتائج سے اور مضبوط ہو کر ابھرے گی اور اسکا اثر کئی آنے والے انتخابات پر دیکھائی دے گا ۔تجزیہ نگار یہ بھی مان رہے ہیں بی جے پی کے اندر نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ اور مضبوط ہوں گے بھاجپا کے چانکیہ امت شاہ کی چناؤی حکمت املی ایک بار پھر سہی ثابت ہوئی ۔بہار چناؤ نتیجے نے بی جے پی ،نریندر مودی اور امت شاہ کی لیڈر شپ کر پھر سے مضبوط کر دیا ہے۔تجزیہ نگار ہمنت ورنی کے مطابق بہار چناؤ نے مرکز کی سرکار کی پوزیشن جو 2024 کے لوک سبھا چناؤ میں اقلیتی پوزیشن کا سامنا کر رہی تھی اب کھل کر اپنے ایجنڈے کو چلا سکے گی۔ اب اسے مرکزی سرکار کی کمزوری پر لگتے سوالیہ نشانوں کی زیادہ فکر نہ ہوگی ۔اب بی جے پی اور اسکی حکمت املی پر اپوزیشن کے حملے کم ہو سکتے ہیں اور بی جے پی دلتوں پجھڑوں طبقوں سے حمایت حاصل کرنے کی اپنی صلاحیت کو پیش کرے گی ۔بی جے پی صدر کا فیصلہ جو پچھلے کئی ماہ سے لٹکہ ہوا تھا اب اسکا فیصلہ بھی جلد ہو سکتا ہے۔اب پھر سے اس نظریہ کو تقویت ملے گی کی مودی اجے ہیں انہیں کوئی بھی اقتدار سے ہلا نہیں سکتا۔اس سے اپوزیشن کے حوصلے پر بھی اثر پڑے گا۔سی ایس ڈی ایس کے ڈائریکٹر پروفیسر سنجے کمار مانتے ہیں کہ ہندوستانی سیاست پر بھاجپا کا ایک طرفہ راج مضبوط ہو رہا ہےجو لوک سبھا چناؤ کے بعد لگنے لگا تھا کہ شائد بی جے پی کا اثر کم ہو رہا ہے ۔لیکن لگاتار کئی ریاستوں میں پارٹی کی جیتنے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اجے ہیں اور چناؤ حکمت املی میں اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔ بہار کے چناؤ نتیجوں سے بی جے پی کا بھروسہ اور وبڑھے گا پارٹی کےلئے یہ ایک جوش بڑھانے والا نتیجہ ہے ،خاص کر ،آسام تامل ناڈو،کیرل اور مغریبی بنگال کے چناؤ سے پہلے ۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کسی ایک ریاست کے نتیجے سے کچھ سبق تو سکھے جا سکتے ہیں لیکن اس سے پورے دیش کا مزاج بدلنا مشکل نظر آتا ہیں۔تجزیہ نگار اس بات سے متفق ہیں بہار نتیجوں نے یہ ثابت کیا ہے اب عورتوںکو الگ ووٹر گروپ کی شکل میں دیکھا جائے بہار نتیجوں کا سبق یہ ہے کہ سیاسی پارٹی خاتون ووٹر کی اہمیت سمجھیں گےاور یہ سمجھ بڑھے گی کی عورتوں کو اپنے ساتھ رکھنا ہے اور اپنے چناؤی منشور میں اس بات کا خیال رکھ کر اسکیمیں بنانی ہوں گی۔این ڈی اے اتحاد نے یہ دیکھایا کی کچھ ایسے واعدے کریں جنہیں پورا کر سکیں آنے والی وقت میں ہندوستانی سیاست پر بہبود یعنی سماجی بہبودی اسکیموں کا اثر زیادہ نظر آ سکتا ہے۔ یہ بات این ڈی اے کی بہار جیت سے صاف ہو چکی ہے۔ انل نریندر

18 نومبر 2025

بہار میں نتیش کمار کی بھروسہ مندی!



بہار اسمبلی چناؤ کے نتیجوں نے یہ تو ثابت کر ہی دیا ہے کہ 20سالہ عہد کے بعد بھی نتیش کمار کا ابھی بھی بھروسہ بنا ہوا ہے۔آج بھی نتیش بہار کے سب سے بڑے مظبوط لیڈر ہیں۔ اسمبلی چناؤ مہم کے دوران انکی صحت اور سرگرمی پر سوال چھائے رہے۔میڈیا سے انکی دوری کچھ سطحوں سے انکے بیان اور انکے ترج عمل پر لوگ سوال پر سوال اٹھا رہے تھے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اسٹیج پر انکی غیر موجودگی اور روڈ شو میںبرابر نہ شامل ہونا تنازعہ اشو بنا ہوا تھا۔بہار کے اپوزیشن لیڈر تجسوی یادو نتیش کمار لاچار وزیر اعلی کہتے تھے لیکن یہ سب کے باوجود بہار کے عوام کہ رہے تھے نتیش کمار کی پارٹی اس مرتبہ اچھی پرفارمینس پیش کرے گی۔جے ڈی یو نے غیر متوقع جیت درج کی پارٹی دفتر سے لےکر وزیر اعلی ہاؤس تک پوسٹر لگے۔ٹائگر ابھی زندہ ہے جے ڈی یو کے نگراں صدر سنجے جھا پہلے سے ہی اپنے انٹرویو میں کہہ چوکے تھے نتیش کمار کو جب جب ہلکے میں لیا جاتا ہے تو وہ اپنی پرفارمینس میں لوگوں کو چوکاتے ہیں۔ اس بار بہار میں 67.3فیصد پولنگ ہوئی جو پچھے چناؤ سے 9.6فیصد زیادہ ہے۔مردوں کے مقابلے میں عورتوں کا پولنگ 8.15فیصد زیادہ رہا۔عام طور پر یہ مانا گیا تھا نتیش کمار کو اس مرتبہ عورتوں کی بھاری حمایت مل رہی ہے اور یہ چناؤ نتائج میں بھی نظر آیا۔ ممکن ہے کہ ایم جے بی کو بھی اسکا احساس تھا۔اس لئے پہلے مرحلے کی پولنگ سے مہج 15دن پہلے تجسوی یادو نے جیویکا دیدیوں کیلئے پکی نوکری تیس ہزار تنخواہ ،قرض معافی دو سال تک سودھ نجات کریڈت ،دو ہزار کا مزید بھتہ ،پانچ لاکھ تک کا بیمہ کرنے جیسے لمبے چوڑے وعدہ کئے اسکے باوجود نتیجہ انکے حق میں نہیں آئے مہا گٹھ بندھن نے چناؤ سے ایک ماہ پہلے نتیش کمار سرکار کی طرف سے جیویکا دیدیوں کے خاتے میں دس دس ہزار روپے کیش بنے پھر فائدہ این ڈی اے کو ہوا۔ایسا نہیں کہ اپنی طویل معاد میں نتیش نے فلاحی اسکیمیں نہیں چلائی ۔سال 2007میں ہی نتیش نے اس اسکیم کی شروعات کر دی تھی انہوں نے پہلے عہد میں ہی اسکول جانے والی لڑکیوں کے لئے سائکل ،اسکول وردی وار میٹرک امتحان میں فرسٹ ڈیویزن پاس کرنےوالی طالبہ کو دس ہزار روپے دئے اور بارویں میں فرسٹ کلاس پاس ہونے پر 25ہزار روپے اور گریجویشن میں50ہزار روپے کی حوصلہ افجا رقم دی جانے لگی۔اپنے پہلے عہد میں نتیش کمار نے عورتوں کو پنچایت چناؤ میں 50 فیصد ریزرویشن دیا۔پولس بھرتی میں 35 فیصد ریزرویشن کی سہولت دی اور وعدہ کیا تھا کہ اگر انکی سرکار بنی تو ریاست کی سرکاری نوکریوں میں بھی عورتوں کو 35 فیصد ریزرویشن دیا جائے گا۔اس مرتبہ نتیش کمار کو انتہائی پسماندہ طبقے کی حمایت ملی اہم برادریوں کے خلاف او بی سی برادریاں متحد نظر آئیں انہو ںنے این ڈی اے کو ووٹ دیا جس برادری سے نتیش کمار آتے ہیں وہ بہار کے آبادی کا صرف 2.91فیصد اسکے باوجود انتے بڑے اتحاد کے نیتا بنے۔عام طور پر مانا جا رہا ہے کہ تیجسوی کےلئے اب بھی پتا لالو پرساد یادو کی جنگل راج والی امیج سے نکل پانہ مشکل ہو گیا تھااور چناؤ میں یہ ایک اشو ضرور بنا دوسری طرف نتیش کمار کی اچھی سوشاسن بابو کی اپنی شاخ کو بنائے ہوئے رکھے ہیں۔20 سال اقتدار میں رہنے کے باوجود انکی صاف ستھری امیج ہے ان پر اب تک کرپشن کا الزام نہیں لگا ہےاور یہ انکے مخالفین بھی کہتے ہیں کہ نتیش کمار کی قیادت میں ڈبل انجن کی سرکار ہوتے ہوئے بھی بہار دیش کا سب سے غریب ریاست ہے اور وہاں سے ہجرت بھی ایک بہت بڑی حقیقت ہے نتیش نے ان اشوز کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور ان پر کام کرنا اب این ڈی اے سرکار کےلئے ایک بڑی چنوتی ہے۔تجزیہ نگاروں کا خیال ہے نتیش کمار کو حمدردی ووٹ بھی ملے ہیں اور ےہ الیکشن نتیش کمار کو بدائی دےنے کا چناؤ تھا بہار کے ووٹروں نے ووٹ کے ذریعہ اچھی جیت دلائی لوگوں میں ایک پیغام تھا کہ یہ شائد نتیش کمار کا آخری چناؤ ہے۔
انل نریندر

ایران-امریکہ ،اسرائیل جنگ : آگے کیا ہوگا؟

فی الحال 23 اپریل تک جنگ بندی جاری ہے ۔پاکستان دونوں فریقین کے درمیان سمجھوتہ کرانے میں لگا ہوا ہے ۔پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر تہران م...