Translater

Ashok Gehlot لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Ashok Gehlot لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

07 اپریل 2012

اشوک گہلوت سرکار سنکٹ میں پھنسی


Published On 7 March 2012
انل نریندر
کانگریس کے ستارے ان دنوں گردش میں چل رہے ہیں۔ آئے دن کوئی نیا انکشاف ہوجاتا ہے اور کانگریس اعلی کمان اس سے مقابلے میں لگ جاتی ہے۔ اچھی چل رہی ریاستی حکومت اس کے لئے نیا درد سر پیدا کردیتی ہے۔ اب آپ راجستھان میں اشوک گہلوت سرکار کا ہی قصہ لے لیجئے۔ اچھی چل رہی سرکار میں اپنی ہی پارٹی والوں نے اشوک گہلوت حکومت کے لئے نئی پریشانی کھڑی کردی ہے۔ دیش بھر سے مل رہی سیاسی شکست کے بعد اب راجستھان میں بھی اس کے ممبران اسمبلی نے اپنی ہی گہلوت حکومت کے خلاف بغاوت کردی ہے۔ پچھلے کئی دنوں سے راجستھان کے قریب دو درجن ممبران اسمبلی نے دہلی میں ڈیرا ڈالا ہوا ہے۔ ان کی مانگ ہے کہ پارٹی ہائی کمان فوراً وزیر اعلی اشوک گہلوت کو کرسی سے ہٹاکر مرکزی وزیر سی پی جوشی کو ریاست کی باگ ڈور سونپے۔ ان ممبران اسمبلی نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل سے مل کر حکومت کے خلاف شکایت کی ہے۔ انہوں نے کا کہ ریاستی حکومت میں ان کی کوئی سن نہیں رہا ہے اس سے ممبران اسمبلی اور ورکروں میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ ممبران اعلی کمان کو آگاہ کیا ہے کہ اگر وقت رہتے حالات نہیں ٹھیک کئے گئے تو پارٹی کو اگلے چناؤ میں بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔
اتنا ہی نہیں اپنے چہیتے لوگوں کو کھلی چھوٹ دے رہے ہیں جس سے ایک طرف کرپشن کو شہ مل رہی ہے تو دوسری طرف کانگریس پارٹی کی ساکھ ملیامیٹ ہورہی ہے۔ ناراض ممبران اسمبلی نے راہل گاندھی سے بھی ملاقات کی اور انہیں صاف طور سے بتادیا ہے کہ اگر اشوک گہلوت وزیر اعلی کے عہدے پر بنے رہے اور انہیں فوراً ہٹایا نہیں گیا تو قریب ڈیڑھ سال بعد ہونے والے اسمبلی چناؤ میں کانگریس کے ساتھ ساتھ اس کا بھی بھٹا بیٹھ جائے گا۔ کہا جارہا ہے کہ ناراض ممبران کی تعداد بڑھ رہی ہے اب یہ60 کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ 200 نفری راجستھان اسمبلی میں کانگریس کے پاس106 ممبران ہیں۔ یہاں یہ بھی غور طلب ہے کہ راہل اپنے گھر تغلق روڈ کے بجائے سونیا گاندھی کی رہائش گاہ 10 جن پتھ پر ملے لیکن سونیا ان سے نہیں ملیں۔ ان ناراض ممبران اسمبلی کی ناراضگی تو پہلے وزرا کے تئیں تھیں لیکن اب وزیر اعلی بھی ان کے نشانے پر آگئے ہیں۔
بجٹ اجلاس سے پہلے جے پور میں ہوئی کانگریس اسمبلی پارٹی کی میٹنگ میں بھی ناراضگی سامنے آئی تھی۔ میٹنگ میں ممبران اسمبلی نے وزرا کے طریقہ کار پر تشویش ظاہر کی تھی۔ اس میٹنگ میں وزیر اعلی گہلوت نے ممبران سے کہا تھا کہ وزرا کی شکایت ان سے کی جائے اوروزیر اعلی نے ہی کوئی شکایت نہیں سنی ہے تو پھر کانگریس صدر کو بتائیں۔ ہمارا خیال ہے اشوک گہلوت ایک اچھے لیڈر ہیں جن پر شخصی کوئی الزام نہیں لگا۔ ایسا لگتا ہے کہ انہیں اپنا عوامی رابطہ اور ممبران سے تال میل بہتر بنانا ہوگا۔ انہیں اس مسئلے کو خود ہی سلجھانا چاہئے۔ یہ کانگریس ہائی کمان کا مسئلہ نہیں ہونا چاہئے لیکن جب ممبران کی بات کوئی سنے گا ہی نہیں تو ان کے پاس دہلی آنے کے علاوہ کوئی متبادل ہی رہ جاتا ہے۔ کانگریس کی آپسی لڑائی کہیں پارٹی کو راجستھان میں بھی نہ ڈوبا دے۔
Anil Narendra, Ashok Gehlot, Congress, Daily Pratap, Rajassthan, Vir Arjun

17 نومبر 2011

گرتی ساکھ کو بچانے کیلئے گہلوت نے اٹھایا سخت قدم




Published On 17th November 2011
انل نریندر
پچھلے کئی دنوں سے راجستھان میں اشوک گہلوت کی کانگریس سرکار تنازعوں سے گھری ہوئی ہے۔ نرس بھنوری دیوی کا لاپتہ ہونا اور بھرت پور میں ہوئے فسادات۔ دونوں باتیں ہی اشوک گہلوت کے لئے بھنور جیسی بن گئی ہیں۔ کانگریس پہلے ہی دلدل میں پھنسی تھی۔ کرپشن ، کالی کمائی کی واپسی ، جن لوک پال بل جیسے اشو کانگریس کو پریشان کررہے ہیں۔ اب راجستھان کے ان دونوں اشوز میں پانچ ریاستوں خاص کر اترپردیش میں ہونے والے انتخابات کے لئے کانگریس کو بیک فٹ پر لادیا ہے۔ اس لئے اشوک گہلوت بھی بھنور میں ہیں۔ پہلے بھرت پور کے قریب گوپال گڑھ کے دنگوں پر راجستھان سرکار میں راج دھرم کا پالن ٹھیک طرح سے نہیں کیا۔ پولیس کے مظالم کے سبب راجستھان حکومت سرخیوں میں رہی۔ ان دنگوں میں 9 لوگ مارے گئے تھے۔ مسلم فرقے میں بھی بھاری ناراضگی تھی۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ چاہے بھنوری دیوی کا معاملہ رہا ہو یا بھرت پور دنگوں کا ، دونوں معاملوں میں انتظامیہ کی بدانتظامی تھی۔ معاملہ دہلی دربار تک بھی پہنچ گیا اور گہلوت کو کئی بار دہلی آنا پڑا۔ ڈیڑھ مہینے میں وہ 15 بار دہلی کے چکر لگا چکے ہیں۔ انہوں نے موقعے کی نزاکت سمجھی اور بغیر کسی دیر کے دونوں ہی معاملوں کو سی بی آئی کے حوالے کردیا۔ کیونکہ بھنوری کانڈ میں راجستھان سرکار کے ایک سے زیادہ وزیر کے شامل ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے گہلوت نے فٹا فٹ سبھی وزرا سے استعفے لے لئے اور کیبنٹ کے سبھی افراد نے اپنے استعفے وزیر اعلی کو کیبنٹ کی میٹنگ میں سونپ دئے۔گہلوت جلد ہی کانگریس اعلی کام کی ہدایت لے کر نئی کیبنٹ بنائیں گے۔ وزیر داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دینے والے شانتی دھاریوال نے میٹنگ کے بعد بتایا کہ سبھی وزرا نے گہلوت کی لیڈر شپ پر بھروسہ جتاتے ہوئے ایک رائے سے یہ فیصلہ لیا ہے کہ وزیراعلی دہلی میں کانگریس ہائی کمان کے سامنے کہہ سکیں کہ پوری ٹیم ان کے ساتھ ہے۔ دھاریوال نے کہا سرکار کو کوئی خطرہ نہیں ہے استعفیٰ دینے کے لئے گہلوت نے نہیں کہا تھا۔ طویل عرصے سے ریاست کی سیاست میں بے یقینی کا ماحول بنا ہوا تھا۔ پارٹی ہائی کمان کی بھی ہدایت تھی۔ ایسے میں ہم نے گہلوت کی طاقت بڑھانے کے لئے اجتماعی طور سے استعفے دینے کا فیصلہ کیا۔ دراصل بھنوری معاملے میں مہیپال مدیرنا کے ملزم ہونے کے بعد سے ہی کیبنٹ میں ردو بدل کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی تھیں۔ پچھلے دنوں وزیر کھدان رام لال جاٹھ کے کردار پر اٹھے سوال سے بھی گہلوت پریشان تھے حالانکہ دونوں بھنوری سیکس اسکینڈل اوربھرت پور دنگوں میں اشوک گہلوت کسی بھی طرح ملوث نہیں تھے لیکن سرکار کے سربراہ کی حیثیت سے وہ ذمہ داری سے نہیں بچ سکتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ گہلوت نے صحیح قدم اٹھایا ہے۔ گرتی ساکھ کو بچانے کے لئے یہ کچھ حد تک ضروری بھی تھا۔
Anil Narendra, Ashok Gehlot, Bhanwri Devi, CBI, Daily Pratap, Rajassthan, Rajasthan High Court, Vir Arjun

20 اکتوبر 2011

حصار سے اٹھی تبدیلی اقتدار کی آندھی کانگریس روک پائے گی؟



Published On 20th October 2011
انل نریندر
حصار لوک سبھا ضمنی چناؤ کانگریس کے لئے دوررس اثر ڈال سکتے ہیں۔دونوں ٹیم انا اور اپوزیشن پارٹیوں کے حوصلے بلند ہیں۔ ہریانہ کے حصار اور پارلیمانی حلقے سمیت جن پانچ ریاستوں کی اسمبلی سیٹوں کے لئے 13 اکتوبر کو ضمنی چناؤ ہوئے تھے ان میں چار کے نتیجے کانگریس کے خلاف گئے۔ یہ ہی نہیں حصار میں کانگریس امیدوار کی ضمانت بھی ضبط ہوگئی۔ ان میں آندھرا پردیش، مہاراشٹر، بہار ریاستیں شامل تھیں۔ حصار پارلیمانی حلقے کو کانگریس نے اپنے وقار کا اشو بنا لیا تھا۔ انا کی اپیل کو پنکچر کرنے کے لئے کانگریس نے اپنی پوری طاقت لگا دی تھی۔ اپنے امیدوار جے پرکاش کی ساکھ بتانے کے لئے پارٹی نے پیسہ پانی کی طرح بہایا اور اغل بغل تین وزرائے اعلی اور ہریانہ کے سبھی وزیر اور دہلی سے اسٹار کمپینر کو حصار بھیجا گیا۔ راجستھان سے اشوک گہلوت، دہلی سے شیلا دیکشت گئیں اور خود ہریانہ کے وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا بھی وہیں ڈیرا ڈالے رہے۔ ساری انتظامی مشینری کا استعمال اور پلاٹ بانٹے گئے۔ وظیفے تقسیم کئے گئے۔ ہیڈ کوارٹر سے کئی جنرل سکریٹریوں نے حصار میں اپنی حکمت عملی بنائی۔ اسٹار کمپینر راج ببر نے خود ریلیاں کیں ، نتیجہ رہا صفر ۔جے پرکاش اپنی ضمانت بھی نہیں بچا سکے۔ مہاراشٹر کی کھڑک واسلا اسمبلی سیٹ کے لئے کانگریس نے مشترکہ امیدوار اتارا۔ سورگیہ رمیش واگلے کی بیوہ شردھا واگلے کو ٹکٹ دیا گیا تاکہ انہیں ہمدردی کی لہر مل سکے لیکن بھاجپا امیدوار بھیم راؤ نے کانگریس اور این سی پی کے مشترکہ امیدوار کو چاروں خانے چت کردیا۔ راج ٹھاکرے کی پارٹی مہاراشٹر نو نرمان سینا کے ممبر اسمبلی رمیش واگلے کی موت کے بعد یہ سیٹ خالی ہوئی تھی۔ ان کی بیوی شردھا کو این سی پی کا امیدوار مرکزی وزیر شرد پوار کی خاص ہدایت کے بعد بنایا گیا تھا اور ان کے بھتیجے ریاست کے نائب وزیر اعلی اجیت پوار نے شردھا کے حق میں چناؤ مہم کرنے کے لئے دن رات ایک کردی تھی۔ان کے ذریعے کھڑک واسلا سیٹ پر اپنا امیدوار اعلان نہ کئے جانے اور کانگریس این سی پی کے امیدوار کی حمایت کردئے جانے کے بعد یہ سیٹ حکمراں محاذ کے لئے کسوٹی بن گئی تھی۔ شرد پوار اور ان کے بھتیجے اجیت پوار کی اپنے ہی گڑھ میں ہوئی اس مار کا مہاراشٹر کی سیاست پر گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔ وہیں پہلے سے بھاجپا شیو سینا محاذ میں آر پی آئی کے جڑ جانے سے ریاست کی سیاست میں کھڑک واسلا سیٹ کے نتیجے آنے والے دنوں کی چناوی لہر کا پہلا بڑا اشارہ بن کر سامنے آئے ہیں۔ انا کی کانگریس ہٹاؤ اپیل سے حصار میں تبدیلی کی جو آندھی اٹھی ہے یہ ویسی ہی ہے جیسی 1974ء میں جبلپور اور 1989ء میں الہ آباد ضمنی چناؤ سے اٹھی تھی۔
حصار کا نتیجہ کرپٹ راج کے خاتمے کی کہیں شروعات تو نہیں ہے ؟ اب تبدیلی کا یہ سلسلہ اگر اترپردیش میں ان چار ریاستوں میں بھی جاری رہتا ہے۔ جہاں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے ہیں تو یہ کانگریس کے لئے بڑی تشویش کا موضوع بن جاتا ہے۔ 1989ء میں تاریخ نے الہ آباد کے چناؤ میں تبدیلی اقتدار کی اپیل وشوناتھ پرتاپ سنگھ نے بوفورس گھوٹالے کے بعد بھی اپوزیشن وی پی سنگھ کے پیچھے متحد ہوئی تھی۔ ضمنی چناؤ میں کانگریس کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ اس ضمنی چناؤ سے اٹھی کانگریس مخالف ہوا کو اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی روک نہیں سکے تھے۔ آج تو راجیو جی کے مقابلے ایک بہت کمزور وزیر اعظم ہیں اور رہا سوال گھوٹالوں کا تو پوچھئے مت۔ کانگریس خوش فہمی پال سکتی ہے کہ اہم چناؤ ابھی دور ہیں تب تک گھر سنبھال لیا جائے گا لیکن ساکھ گنوا چکی سرکار کو حصار کا مینڈیڈ چاروں طرف سے گھیرے گا۔ یہ مینڈیڈ اپوزیشن بکھراؤ کو روکے گا۔ حصار 1974ء اور 1989 ء کی طرح اپوزیشن اتحاد کی ایک دھری بن سکتا ہے۔ کانگریس اگر اب بھی نہیں جاگی تو اسے بھاری خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Ashok Gehlot, Congress, Daily Pratap, Elections, Hissar By Poll, Sheila Dikshit, State Elections, Vir Arjun

19 اکتوبر 2011

سیکس اسکینڈل میں پھنسے وزیر مہیپال مدیرنا کی چھٹی



Published On 19th October 2011
انل نریندر
نرس بھنوری دیوی کے پراسرار حالات میں لاپتہ ہونے کے معاملے میں راجستھان کے متنازعہ وزیر مہیپال مدرینا کو وزیر اعلی اشوک گہلوت نے اپنی کیبنٹ سے باہر کردیا۔ انہوںنے گورنر شیو راج پاٹل کو اپنے فیکس میں مدرینا کی برخاستگی کی سفارش کی تھی جس کی بنیاد پر گورنر نے انہیںبرخاست کردیا۔ گہلوت نے پہلے ریاستی وزیر آبی وسائل مدرینا کو راضی کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہنے پر انہوں نے یہ قدم اٹھایا۔ ہم وزیر اعلی اشوک گہلوت کے ذریعے اٹھائے گئے اس حوصلہ افزا قدم کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ جودھپور ضلع میںبلاڑا کے ہیلتھ سینٹر میں کام کرنے والی نرس بھنوری دیوی گذشتہ یکم ستمبر سے پراسرار حالت میں لاپتہ ہے۔ اس کے شوہر امرچند بلاڑا میں بھنوری دیوی کے لاپتہ ہونے اور اسکی گمشدگی میں وزیرصحت و آبی وسائل مہیپال مدرینا کا ہاتھ ہونے سے متعلق بلاڑا تھانے میں معاملہ درج کرایا۔لیکن پولیس نے یہ معاملہ درج نہیں کیا۔ اس پر بھنوری دیوی کے شوہر نے بلاڑا کی سول عدالت میں مہیپال کے خلاف مقدمہ دائر کردیا۔ عدالت نے 23 ستمبر کو معاملے کی سماعت کرتے ہوئے پولیس کو اس کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی۔ نرس بھنوری دیوی 36 سال جودھپور ضلع کے جالیواڑہ گاﺅں کے ہیلتھ مرکز میں مقرر تھی۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے نرس عیش و آرام کی زندگی بسر کرتی ہے۔ اس کے سیاستدانوں سے گہرے تعلقات ہیں۔ وزیر مدرینا سے اس کے اچھے تعلقات تھے اور ان کے گھر آنا جانا تھا۔ بار بار فون کرنے پر بھنوری کے شوہر امر چند نے اس پر اعتراض جتایا تھا۔دو لڑکیاں اور ایک لڑکے کی ماں بھنوری کچھ مقامی سنگیت ویڈیو البم میںبھی کام کرچکی ہے۔ گمشدگی کے بعد پولیس نے ایک ٹھیکیدار سوہنا لال بشنوئی کو گرفتار کیا ہے۔ بھنوری نے بشنوئی کو ایک کار بیچی تھی اور یکم ستمبر کو اس سے پیسے لیکر لوٹتے ہوئے لاپتہ ہوگئی۔
دراصل وزیر اعلی اشوک گہلوت اپنے وزیر کے خلاف سخت کارروائی کرنے پر کچھ حد تک مجبور تھے۔ ایک طرف عدالت کا دباﺅ دوسری طرف سی بی آئی جانچ کے سبب انہیں مدرینا کو ہٹانے کا فیصلہ کرنا پڑا۔ سنیچر کو گہلوت نے مہیپال کو طلب کیا اور ان سے عہدے چھوڑنے کی نصیحت دی تھی کیونکہ پیر کو ہائیکورٹ میں اس معاملے میں اہم کارروائی ہونے جارہی تھی۔ وہیںسی بی آئی اب مہیپال پر ہاتھ ڈالنے کی تیاری میں تھی لیکن وہ اپنے اڑیل رویئے پر قائم رہے اور استعفیٰ نہیں دیا اور الٹے وہ دہلی روانہ ہوگئے۔ کہا جارہا ہے کہ وہ پارٹی اعلی کمان کے سامنے اپنا موقف رکھنا چاہتے تھے۔ پچھلے قریب ڈیڑھ مہینے سے جاری بھنوری دیوی معاملے میں مہیپال کو کیبنٹ سے ہٹانا اب گہلوت کی مجبوری ہوگئی تھی۔ کورٹ کے حکم کے بعد بھنوری دیوی معاملے میں مہیپال کے خلاف قتل اور اغوا کا معاملہ پولیس میں درج ہوچکا تھا۔
 سی بی آئی نے معاملے کی جانچ شروع کردی ہے اور پولیس نے معاملہ درج کرنے کے بعد ایک مرتبہ بھی مہیپال سے پوچھ تاچھ نہیں کئے جانے پر راجستھان ہائی کورٹ نے یہاں تک رائے زنی کی کہ اس سے زیادہ ناکارہ راجستھان سرکار اس نے اب تک نہیں دیکھی۔ دوسری طرف کانگریس اعلی کمان نے بھی مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے گہلوت کو دہلی طلب کیا جہاں وہ اپنی صفائی دینے پر مجبور ہوگئے۔ دوسری طرف مہیپال اپنے رویئے پر اڑے ہوئے تھے۔ اپنے والد پرس رام مدرینا کے جنم دن کے بہانے اپنی طاقت کا مظاہرہ بھی کرچکے تھے۔ ایسے میں مہیپال سے کیبنٹ سے روانگی کے علاوہ اشوک گہلوت کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔ بھنوری دیوی کہاں ہے ، کس حالت میں ہے؟ اس کا ابھی کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ وہ زندہ بھی ہے یا نہیں اس کا بھی پتہ نہیں۔ امید ہے کہ راجستھان پولیس اور سی بی آئی بھنوری دیوی کا کچھ پتہ لگا لے گی تبھی پورے معاملے کی سچائی سامنے آسکے گی۔
Anil Narendra, Ashok Gehlot, Bhanwri Devi, Daily Pratap, Rajasthan High Court, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...