Translater

04 مئی 2013

29 سال بعد بھی84 ء کے فساد متاثرین کو انصاف کا انتظار

کانگریس پارٹی کے لیڈرسجن کمار کو 1984ء کے سکھ دنگوں کے معاملوں میں بری کئے جانے کے خلاف ناراضگی مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔بدھوار کو مظاہرین نے دہلی کی لائف لائن میٹرو کے پہئے جام کردئے۔ ناراض لوگوں نے سڑک پر اتر کر زور دار مظاہرے کئے۔ مظاہرین کا سلسلہ اکیلے دہلی میں نہیں دیکھنے کو مل رہا ہے بلکہ یہ دیش کے کئی حصوں میں جاری ہے۔ جمعرات کو بڑی تعداد میں لوگوں نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کی رہائش گاہ 10 جن پتھ کے باہر مظاہرہ کیا۔دہلی گورودوار سکھ پربندھک کمیٹی کے پردھان منجیت سنگھ جی کے نے کہا کہ انصاف کیلئے یہ لڑائی جاری رہے گی۔ کورٹ سڑک اور کوئی پارلیمنٹ ہر جگہ مظاہرہ ہوگا۔ ہم اپنے سکھ بھائیوں کا درد سمجھ سکتے ہیں۔ انہیں 29 سال کے بعد بھی انصاف نہیں ملا۔ 84 ء کے فساد میں مرنے والوں کی صحیح تعداد شاید ہی پتہ چلے۔ پارلیمنٹ میں اٹل بہاری واجپئی نے بتایا تھا کہ ان کی واقفیت کے مطابق2733 سکھ فساد کا شکار ہوئے۔ اس پر حکومت نے کوئی تردید نہیں کی۔حقیقی تعداد 5033 ہے۔ پولیس نے ہزاروں لوگوں کو لاپتہ دکھا کر خانہ پوری کردی۔ تب سے اب تک یہ ہی خانہ پوری جاری ہے ۔ بہرحال بڑا سوال یہ ہے کہ عام طور پر عدلیہ کے فیصلے کو شک کے دائرے سے باہر نکالا جائے۔ ایک بڑا طبقہ اتنے وسیع پیمانے پر خفا کیوں ہے، کیوں انہیں شکایت ہے۔ یہ دراصل عدالتی فیصلہ نہیں بلکہ سرکاری دباؤ میں آیا فیصلہ ہے۔ اس کی ہمیں کچھ وجوہات صاف طور پر نظر آرہی ہیں۔پہلے جانچ ایجنسیوں کی مبینہ مختاری کی جو پول کوئلہ الاٹمنٹ معاملے میں ابھی سپریم کورٹ نے کھولی ہیں ،لوگوں کے شبہات کی اس سے تصدیق ہوتی ہے۔ دہلی پولیس اور سی بی آئی نے جانچ کے دوران ایسے سراغ چھوڑے ہیں جن سے ہائی پروفائل ملزمان کے بچ نکلنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ 16 سال بعد 2000ء میں ناناوتی کمیشن کی جانچ میں دہلی چھاؤنی کے دنگے کے معاملے میں سجن کمار کا نام پہلی بار سامنے آیا اور2005ء میں یعنی فسادات کے 21 سال بعد کمیشن کی سفارش پر ہی 6 دیگر ملزمان سمیت ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔اب نچلی عدالت کا فیصلہ آتے آتے 29 سال لگ گئے۔ جب الزام میں ہی اتنے جھول ہوں کہ معاملہ آنے میں دو دہائی سے زیادہ کا وقت لگ جائے تو جگدیش ٹائٹلر ہوں یا سجن کمار ہوں ہر معاملہ اسی طرح کے فیصلے سے زیادہ اور امید کیا کی جاسکتی ہے؟ یہ بھی کہا جاسکتا ہے جو ناراضگی اس مسئلے کو لیکر سڑکوں پر دکھائی پڑ رہی ہے عدالت کے تئیں اتنی نہیں جتنی جانچ کے ڈھلے پن اور اس کے طریقوں کے خلاف ہے۔ سب سے بڑا سوال جوابدہی کا ہے۔ اکثر 2002ء میں گجرات دنگوں کی بات ہوتی ہے۔ 27 فروری 2002ء کو سابرمتی ایکسپریس میں زندہ جائے گئے 59 کار سیوکوں کے رد عمل کے نتیجوں میں ہوئے فساد میں مرنے والوں کی تعداد 1260 تھی ان میں 790 مسلمان تھے،254 ہندو باقی دیگر تھے۔ ان فسادات کے سلسلے میں 27901 گرفتاریاں ہوئیں۔ ان میں 7656 مسلمان تھے، باقی تعداد ہندوؤں کی تھی۔ کل 19 کیس درج ہوئے ان معاملوں میں 184 ہندوؤں ،65 مسلمانوں کو ملا کر 219 کو سزا ہوئی۔ان میں منتری مایاکوڈنانی کو بھی سزا ہوئی۔ نریندر مودی کی سرکار و انتظامیہ نے پوری ایمانداری سے جانچ اور عدالت سے انصاف دلانے میں مدد کی۔ دوسری طرف 84ء کے دنگوں میں گجرات کے دنگوں سے پانچ گنا زیادہ بے قصور لوگ مارے گئے۔ آج 29 سال بعد بھی ایک وزیر کو بھی سزا نہیں ہوئی اور کسی بچے پولیس افسر اور ایم پی وزیر کی بات تو چھوڑو جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں متاثرہ خاندانوں کو اتنی دلچسپی اس میں نہیں ہے کے کونسا لیڈر لاپتہ ہے۔ انہیں ضرورت ہے جوابدہی کی۔ سرکار اور انتظامیہ نے کبھی بھی ایمانداری سے 84ء کے دنگوں کی جانچ صحیح طریقے سے نہیں کرائی۔ ہرمعاملے کو دبانے کی کوشش ہوئی۔ سکھ سنگت جانتی ہے کہ عدالت کا کام جانچ کرنا نہیں ہوتا وہ تو پیش حقائق اور ثبوتوں کو پرکھ کر اپنا فیصلہ لیتی ہے۔ متاثرین کی ناراضگی کی دوسری وجہ پوری عدلیہ مشینری کی سستی ہے۔ عدالت سے فیصلہ آنے میں 29 برس لگ جائیں تو معاملے کو ہائی کورٹ ، سپریم کورٹ تک پہنچنے اور آخری فیصلہ ہونے تک ممکن ہے نہ تو انصاف مانگنے والے بچیں گے اور نہ ہی سزا پانے والے ۔
(انل نریندر)

سیاست میں لوٹنے کی حسرت لئے مشرف کی امیدوں پر پھرا پانی

سیاست میں واپسی کی حسرت لئے پاکستان لوٹے تاناشاہ پرویز مشرف کی مصیبتیں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں۔ کبھی کبھی تو وہ یہ ضرور سوچتے ہوں گے کہ کاش میں پاکستان واپس ہی نہ لوٹا، لندن میں ہیں صحیح تھا۔ منگل کو مشرف کی مصیبتوں کی لسٹ میں ایک اور اضافہ ہوگیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے مشرف کے چناؤ لڑنے پر تاحیات پابندی لگادی۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی والی چار نفری ججوں کی بنچ نے کہا صدر رہتے ہوئے مشرف کے ذریعے آئین کو منسوخ کرنے اور ججوں کو حراست میں رکھنے کے معاملے میں یہ پابندی لگائی گئی۔ساتھ ہی عدالت نے نامزدگی منسوخ کرنے والے فیصلے کو چنوتی دینے والی مشرف کی عرضی بھی خارج کردی۔ پاکستان لوٹنے کے بعد مشرف کے لئے عدالت کا یہ حکم سب سے بڑا جھٹکا مانا جارہا ہے۔ وہیں انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیر اعظم بے نظیربھٹو کے قتل کے مقدمے میں مشرف کو 14 دن جوڈیشیل ریمانڈ میں دیا۔ سابق تاناشاہ چناؤ کے دن11 مئی کو بھی جیل میں ہوں گے۔ معاملے کی سماعت 14 مئی رکھی گئی ہے۔ بنچ نے کہا مشرف نے دو بار آئین پر حملہ کیا۔ انہوں نے دیش پر ناجائز طریقے سے ایمرجنسی لگائی اور عدلیہ نظام کو نشانہ بنایا۔ ان الزامات پر عدالت نے ان کے چناؤ لڑنے پر تاعمر پابندی 9 صوبائی اور قومی اسمبلی کے علاوہ سینیٹ کے لئے بھی وہ چناؤ نہیں لڑ پائیں گے۔ مشرف اسلام آباد کے باہری علاقے میں اپنے فارم ہاؤس میں قید رہیں گے۔ اس فارم ہاؤس کو ضمنی جیل اعلان کیا گیا ہے۔ چار سال جلاوطنی کے بعد مشرف11 مئی کو ہونے والے چناؤ میں حصہ لینے کے لئے 25 مارچ کو پاکستان لوٹے تھے لیکن چناؤ لڑنے کے لئے نا اہل قرار دئے جانے کے چلتے ان کی سیاسی خواہشات پہلے ہی ختم ہو چکی تھیں ۔جب26 اپریل کوعدالت نے انہیں پوچھ تاچھ کے لئے چار دن کے لئے فیڈرل جانچ ایجنسی کو سونپا تھا۔ اس ایجنسی کے وکیل ذوالفقار علی نے بتایا کے مشترکہ تفتیشی ٹیم نے مشرف کے خلاف جانچ پوری کرلی ہے۔ ان کے خلاف ٹھوس ثبوت اکٹھے کئے گئے ہیں۔ مشرف نے اپنی جوابدہی اور ذمہ داری دوسرے پر ڈالنے کی کوشش کی تھی لیکن ایسے ٹھوس ثبوت ہیں جو ان کو قصوروار ثابت کرتے ہیں۔ مشکل دور میں کیا مشرف کا ساتھ پاک فوج دے گی یا نہیں ابھی واضح نہیں ہے۔ حالانکہ فوج کے ایک ریٹائرڈ جنرل کہہ چکے ہیں کہ فوج اس معاملے میں گہری نظر رکھ رہی ہے اور کسی حدتک مشرف کی بے عزتی کو برداشت نہیں کرے گی۔ فوج میں9 ایسے فوجی کمانڈر ہیں جنہیں مشرف نے اپنے عہد میں ترقی دی تھی۔ بہرحال ابھی تک عدلیہ کے کام میں فوج نے کسی طرح کی مداخلت نہیں دکھائی ہے۔
(انل نریندر)

03 مئی 2013

سربجیت معاملے میں ایک بار پھر پاک بے نقاب ہوا

آخر وہ ہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ لاہور کے جناح ہسپتال میں زندگی اور موت کے درمیان لڑ رہے ہندوستانی شہری سربجیت نے بدھوار کی دیر رات دم توڑدیا۔ میڈیکل بورڈ کے چیف محمود شوکت نے سربجیت کی موت کی تصدیق کی۔سربجیت کی موت ایسے وقت ہوئی جب ان کا پریوار ان کے بہتر علاج کی مانگ کو لیکر صبح ہی ہندوستان لوٹ آیا تھا۔ ایک بے قصور آدمی دونوں دیشوں کی سیاست کا شکار ہوگیا۔ 22 سال کم نہیں ہوتے وہ بھی اس گناہ کے لئے جو کیا ہی نہ گیا ہو۔ غلط پہچان کی بنیاد پر کسی انسان کو جیل میں رکھنا اور پہچان بتانے والے ثبوتوں کو درکنار کردینا، حیرانی کی بات ہے۔ یہ ہے اس بدقسمت سربجیت کی کہانی۔ 49 سالہ سربجیت کو1990 میں پاکستانی پنجاب صوبے میں ہوئے بم دھماکوں میں شامل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان دھماکوں میں 14 لوگوں کی جانیں گئی تھیں۔ سربجیت کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ بھارت اسے غلط پہچان بتاتا رہا ہے۔ سربجیت پنجاب کے ترنتارن ضلع کے سکھونڈ گاؤں کا رہنے والا تھا۔اویس شیخ پاکستان میں سربجیت کے وکیل تھے ، کا کہنا ہے جن دفعات میں سربجیت پر مقدمہ چلایا گیا تھا ان میں سربجیت کے ملوث ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ اس معاملے کا اصلی ملزم کوئی منجیت سنگھ ہے۔یہ پوری طرح غلط انسان کو ملزم سمجھ کر سزا دئے جانے کا معاملہ ہے۔ انہوں نے سربجیت پر ایک کتاب ’’Sarabjeet singh a mistakin of identity ‘‘ لکھی ہے۔ 26 جون 2012 ء کو اچانک سے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے ذریعے سربجیت سنگھ کی پھانسی کی سزا معاف کرنے اور اسے چھوڑنے کی خبریں آنے لگیں تھیں لیکن 5 گھنٹے کے بعد ہی پاکستان اپنے موقف سے پلٹ گیا۔ کہا کہ سربجیت کی نہ تو رہائی ہوگی اور نہ ہی اس کی سزا کم ہوگی۔ جس شخص کی رہائی ہونی ہے اس کا نام سرجیت سنگھ ہے۔ مانا جاتا ہے کہ صدر زرداری کٹر پسندوں آئی ایس آئی اور پاکستانی فوج کے دباؤ میں آکر جھک گئے اور اپنے فیصلہ پلٹ دیا۔ سربجیت کی رہائی پر پلٹنے والے پاکستان کے جھوٹ اویس شیخ نے سامنے لاکر رکھ دیا۔ انہوں نے سربجیت کی رہائی کے اعلان کے فوراً بعد سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ فیس بک پر کہا تھا سربجیت کی رہائی پکی ہے تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ۔ لیکن اگلے تین چار دن میں سربجیت کو سنگھ کو لیکر میں خود بھارت آرہا ہوں۔ کچھ گھنٹے پہلے پاکستان صدر کے ترجمان نے ٹی وی پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ زرداری نے سربجیت سنگھ کی سزا معاف کردی ہے۔ پاکستانی جیلوں میں ہندوستانی قیدیوں کا کیا حال کیا جاتا ہے ،وہاں کے ایک سزا بھگتنے والے نے بتایا لاہور کی خطرناک لکھپت جیل میں قید رہے سورن لال کا کہنا ہے کہ جیل میں جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ بے رحمی سے پیٹتے ہیں ، چھوٹے چھوٹے کمروں میں بند کردیا جاتا ہے اور نچے لٹاکر بازو پکڑلیتے ہیں اور ٹانگیں اٹھا کر چار پانچ لوگ جوتوں سمیت پورے جسم کو روندتے ہیں۔ کمر کی چمڑی اتر جاتی ہے اور جسم ٹماٹر سے زیادہ لال کردیتے ہیں۔ سورن لال کے مطابق ایک بدقسمت اس چکر میں مارا جاتا ہے۔ ہندوستانی قیدیوں کو وہاں گھسیٹتے ہوئے ایک بیرک سے دوسرے بیرک میں چکر لگاتے ہیں اور مار مار کر گرادیتے ہیں۔ سورن لال کا کہنا ہے کہ میں سربجیت سے کئی بار ملا ،وہ بھلا انسان تھا لیکن اسکی جان کو خطرہ تھا۔ سورن لال کا کہنا تھا کہ ہمیں پتہ تھا کہ قصاب اور افضل گورو کی پھانسی کے بعد اس پر حملہ ہوگا۔ جس جگہ سربجیت تھا وہ سیل الگ ہے وہاں پر عام لوگ نہیں جاسکتے۔ کھانا تک خود پولیس کی ٹیم لیکر جاتی ہے ایسے میں اس پر حملہ ہونا ایک سازش ہے۔ پہلے ہندوستانی قیدی چمیل سنگھ مارا گیا تھا۔ مینڈھر میں جوانوں کے سر کاٹے گئے ،اب سربجیت سنگھ کو ماردیاگیا، یہ سب قصاب اور افضل گورو کی موت کا بدلہ ہے۔ یہ ہی بات کوٹ لکھپت جیل میں 12 سال کی سزا کاٹنے کے بعد لاہور سے جموں پہنچے ونود ساہنی نے کہا کہ جس قیدی کو موت کی سزا ہوتی ہے اسے الگ سیل میں رکھا جاتا ہے۔ وہاں پر کوئی قیدی نہیں جاسکتا۔ سربجیت پر قاتلانہ حملہ سوچی سمجھی سازش کا نتیجہ تھا۔ ہماری خفیہ ایجنسیوں کے لوگ وہاں صرف مرغے کھانے بیٹھتے ہیں، ہندوستانی کی کوئی مدد نہیں کرتے۔مار مار کر ہندوستانی قیدیوں کی لاشوں کو صفائی کرمچاری کے حوالے کردیتے ہیں اور وہ اسے گٹر میں پھینک دیتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جموں کے تین لوگوں کی موت ہوئی ہے ایک کا سنسکار میں نے کیا تھا۔ آتے وقت اس کی استھیاں لیکر آیا تھا۔ بہرحال سربجیت کو اس بے رحمی سے ماراگیا ا س کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ پاکستان ایک بار پھر اپنی اس سازش سے بے نقاب ہوگیا ہے۔ سربجیت کی موت پر ہمیں دکھ ہے ایک غلط فہمی کے چکر میں وہ مہرہ بن گیا۔
(انل نریندر)

گڑ کھا کر اب گلگلے سے پرہیز ہے ترنمول کانگریس کو؟

آئندہ 20 مئی کو ممتا بنرجی کی حکومت کو دو سال پورے ہوجائیں گے ان دو برسوں میں اس سرکار کو خار دار راستے سے گزرنا پڑا ہے۔ ان دو برسوں میں ممتا سرکار کی کچھ کامیابی ضرور ہیں جیسے جنگل محل اور دارجلنگ میں امن قائم کیا۔ لیکن تنازعوں سے اس سرکار کو کبھی چھٹکارا نہیں ملا۔ فی الحال کچھ دنوں سے شاردا گروپ کے چٹ فنڈ گھوٹالے کی بحث زوروں پر ہے۔ ایک پرانی کہاوت ضرور فٹ بیٹھتی ہے’’ گڑ کھائیں گلگلے سے پرہیز‘‘شاردا چٹ فنڈ گھوٹالے کے سامنے آنے کے بعد مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کی رہنمائی والی ترنمول کانگریس پر یہ کہاوت بالکل کھری اترتی ہے۔ پچھلے تین برسوں میں خاص کر سدیپ سین کی رہنمائی والے شاردا گروپ کے میڈیا میں قدم رکھنے کے بعد ترنمول کانگریس کے ایم پی ، نیتاؤں اور وزرا نے اس کی ٹی آر پی کے سبب گڑ تو جم کر کھایا لیکن اب ہزاروں کروڑ روپے کے چٹ فنڈ گھوٹالے کے سامنے آنے کے بعد سدیپ اور شاردا نام کے گلگلے سے پرہیز کررہے ہیں۔ پارٹی نیتاؤں کی شاردا گروپ کے گھوٹالے کے خلاصے کے بعد آنے والے پنچائتی چناؤ سے پہلے ممتا بنرجی اور ان کی پارٹی کو سکتے میں ضرور ڈال دیا ہے۔ اب تک ایک ایجنٹ اور دو سرمایہ کاروں نے خود کشی کرلی ہے۔ گروپ کی اسکیموں میں سرمایہ کار اپنی زندگی کی جمع پونجی سے تو وہ پہلے ہی ہاتھ دھو چکے تھے مایوس لوگوں نے خودکشی کا راستہ چن لیا۔بدلے حالات میں کل تک ترنمول کے جو لیڈر شاردا گروپ کے پروگراموں میں آیا کرتے تھے اب وہ اپنا پلہ جھاڑنے لگے ہیں۔ سب کی صفائی تقریباً ایک جیسی ہے ان کو گروپ کے اس چٹ فنڈ کاروبار کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں تھی۔ صحافی اور فلم اداکار سے ترنمول کانگریس کے ذریعے پارلیمنٹ تک پہنچے لوگ اب بڑی مایوسی سے کہتے پھر رہے ہیں کہ ان کو اس بارے میں ذرا بھی پتہ نہیں تھا۔ صحافی کوٹے سے بنے ایم پی دو نیتاؤں کے رول پر تو ترنمول کانگریس سے لڑائی جاری ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر ان کے خلاف کارروائی کے حق میں ہیں لیکن وزیر اعلی ممتا سمیت دوسرے گروپ کی دلیل ہے کہ ان کے خلاف کسی بھی کارروائی سے پنچائت چناؤ سے پہلے ریاست میں غلط پیغام جائے۔ شاردا چٹ فنڈ گھوٹالے میں سی بی آئی جانچ کی مانگ کرتے ہوئے ریاست کی بڑی اپوزیشن پارٹی مارکسوادی نے وزیر اعلی ممتا بنرجی کے بھتیجے پر انگلی اٹھائی ہے۔ لیفٹ کا کہنا ہے ممتا کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی اس طرح کی اسکیموں میں شامل ہیں اور ممتا کو اس کی صفائی دینی چاہئے۔ مارکسوادی سینٹرل کمیٹی کے ممبر گوتم دیو نے ایک ریلی میں کہا کہ ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھیشیک بنرجی جو ترنمول کانگریس یوتھ کے لیڈر بھی ہیں، ایک کمپنی چلاتے ہیں جس کا کا م ریئل اسٹریٹ اور مائکرو فائننس سے جڑا ہوا ہے۔
اس کمپنی نے پچھلے دو تین سال میں بیحد موٹا منافع کمایا ہے۔ چٹ فنڈ کا نام مائکرو فائننس ہے۔انہوں نے الزام لگایا کے شاردا گروپ کے چیئرمین سدیپتو سین کو اکثر ترنمول لیڈروں کے ساتھ دیکھا جاتا ہے انہیں میں سے ایک ایم پی سندیپ گھوش کا نام اس گھوٹالے میں اچھل رہا ہے۔ ممتا نے بیان دیا تھا کہ ان کے ذریعے بنائی گئی پینٹنگ بیچ کر پارٹی کاخرچ چلایا جاتا ہے۔ اس پر دیب نے کہا ممتا کو اس کمپنی کے بارے میں جواب دینا پڑے گا۔ اس کمپنی کے چیئرمین اور سی ایم ڈی ابھیشیک بنرجی ہیں۔ ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے بھتیجے چٹ فنڈ چلاتے ہیں یا نہیں؟ اب صرف سی بی آئی پورے سچائی سے پردہ اٹھا سکتی ہے۔ ترنمول کانگریس کے لیڈروں ، وزرا و قریبیوں کے تعلقات کے سبب شاردا گروپ کو بازار سے رقم اکٹھا کرنے میں کافی مدد ملی۔ کمپنی کے ایجنٹوں نے پیسہ اکٹھا کرتے وقت اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ ترنمول کے دو دو ایم پی اور کئی وزیر اس گروپ کے ساتھ ہیں اور ممتا بنرجی سرکار کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس سے گروپ پر سرمایہ کاروں کا بھروسہ بڑھا۔ عام لوگوں کو لگا کہ جس گروپ کو حکمراں پارٹی کا آشیرواد حاصل ہو وہ بھلا ان کی معمولی رقم لیکر کیسے بھاگے گی؟
(انل نریندر)

01 مئی 2013

کرناٹک اسمبلی چناؤ میں کانگریس کا پلڑا بھاری

بھاجپا پردھان راجناتھ سنگھ اور ان کی نئی ٹیم کے لئے پہلا امتحان کرناٹک اسمبلی چناؤ جیتنا ہوں گے، جو 5 مئی کو ہونے جارہ ہیں۔224 سیٹوں والی کرناٹک اسمبلی چناؤ کے بارے میں ایک پری پول سروے کے مطابق کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ سروے بتاتا ہے کانگریس کو117 سے 129 سیٹیں ملنے کا امکان ہے جبکہ بھاجپا 39-49 سیٹوں تک سمٹ جائے گی۔ جے ڈی ایس 33-44 اور دیگر14 سے 22 سیٹیں پا سکتی ہے۔ سروے کے مطابق ایچ ڈی کمار سوامی کو 1890 ووٹر وزیر اعلی کے طور پر پسند کرتے ہیں جبکہ وی ایس یدی یروپا کو10 فیصد ، سدھو رمیا کو 9 فیصد اور ایس ایم کرشنا کو 7-8 فیصد،جگدیش شٹار کو6 فیصدلوگ پسند کرتے ہیں۔ IBN-7 اور CSDS کا پری پول سروے بتا رہا ہے کہ کرناٹک میں سرکار اور اپنی ساکھ بچانے کی جدوجہد میں لگی بھاجپا کو امید ہے کہ نریندر مودی کی طوفانی تقاریر اور دورے کے بعد پارٹی کی پوزیشن میں بہتری آئے گی۔ سا بق ومیر اعلی وی ایس یدی یروپا کی نئی پارٹی کے جی پی کے میدان میں اترنے سے بھاجپا کو تو نقصان ہوہی رہا ہے لیکن اتنا نہیں جتنا اندیشہ تھا۔ پارٹی کو لگتا ہے کہ اگر اس کی سرکار نہیں بن پائی تو وہ نئی سرکار کی تشکیل میں فیصلہ کن رول نبھا سکتی ہے۔ پارٹی کے نیتا چاہتے ہیں ایک دو دن میں نریندر مودی گجرات سے کرناٹک آجائیں تو پارٹی کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ دراصل بھاجپا نریندر مودی کو وہاں کے حالات میں داؤں پر نہیں لگانا چاہتی۔مودی بھی خود ایسا نہیں چاہتے ،صورتحال یہ بنی ہوئی ہے کہ بھاجپا نیتاؤں کی مشکل یہ ہے کہ اقتدار تک پہنچنے کے لئے اس کی راہ میں سبھی پارٹیوں کی رکاوٹیں ہیں۔ 8 مئی کو نتیجے کچھ بھی ہوں لیکن یہ بات طے ہے بھاجپا کے لئے جس ریاست میں جنوبی ہندوستان کا دروازہ کھلا تھا وہ آج اس کے لئے بند ہونے جارہا ہے۔ حالانکہ اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کے کانگریس کی ہی وہاں تاجپوشی ہوگی کیونکہ کسی کے پاس جیت کا جادوئی نمبر نہیں ہے یا یوں کہیں بھروسہ نہیں ہے۔ ایسے میں بھاجپا کے دو گروپ ہوں یا کانگریس یا پھر دیوگوڑا کی جے ڈی ایس دوسرے کی راہ میں روڑے اٹکا رہی ہے۔ چار سال وزیراعلی رہے بی ایس یدی یروپا کو کرپشن کے الزام میں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ انہوں نے بھاجپا چھوڑ کر کرناٹک جنتا پارٹی بنا لی۔ بلاری کی کوئلہ کانوں میں مافیہ ریڈی بھائیوں جنہوں نے اپوزیشن ممبران اسمبلی کو بھاجپا کے پالے میں لانے کے لئے تجوریاں کھولی تھیں ،اس بار وہ میدان سے باہر ہیں۔ بھلے ہی اس وقت ہو جیل میں ہوں لیکن ان کے اہم سپہ سالار وی ایس شری رامولو نے ضرور الگ پارٹی بنا لی ہے و بی ایس آر کانگریس۔ جناردن ریڈی کے ایک بھاری کروناکر بھاجپا کے ٹکٹ پر چناؤ لڑ رہے ہیں تو دوسرے بھائی سوم شیکھر شری رامولو کی پارٹی سے میدان میں ہیں۔ جناردن ریڈی سے جڑنے سے پہلے شری رامولو ایک کانگریسی لیڈر کے ڈرائیور ہوا کرتے تھے۔ بی ایس یدی یروپا کے وزیر اعلی بننے سے پہلے سیاست سے سنیاس لینے کا من بنا چکے دونوں بھلے ہی اب اپنے بوتے پر سیٹ نہ جیت پائیں لیکن بھاجپا کو کئی سیٹوں پر نقصان تو پہنچا ہی سکتے ہیں۔ بھاجپا کی بدحالی سے کانگریسیوں میں خوشی لازمی ہے لیکن پارٹی بھی الجھن میں ہے کے ابھی تک کانگریس نے کسی کو وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار اعلان نہیں کیا ہے۔ سدھورمیا اور پردیش کانگریس کے صدر جی پرمیشور دونوں خود کو اگلے وزیر اعلی کی طرح پیش کررہے ہیں۔ دونوں دھنواں دھار ریلیاں کررہے ہیں۔ پارٹی کے اس اندرونی مقابلے کے پیش نظر سابق وزیر اعلی ایس ایم کرشنا چناؤ پرچار سے دور ہیں۔ راہل گاندھی کی چناؤ ریلی میں کرشنادکھی دل سے سامنے آئے۔ اس چناوی تجزیئے نے ایک نیا نکتہ سابق وزیر اعلی ایچ ڈی کمار سوامی کی جنتادل سیکولر سے تال میل بنا لیا ہے۔ سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوگوڑا کے بیٹے کمار سوامی ایک مخصوص فرقے کے اسٹوڈنٹ لیڈر ہیں لیکن گھوٹالوں کی سیاہی سے وہ بھی نہیں بچے ہیں۔ کل ملاکر چناوی پوزیشن واضح نہیں ہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کانگریس اور بھاجپا کے بیچ لڑائی میں کانگریس کا ہی پلڑا بھاری لگتا ہے۔چناؤ کے بارے میں ہم پہلے سے پیشگوئی نہیں کرسکتے ۔اب زیادہ دن انتظار نہیں کرنا پڑے گا18 مئی کو نتیجے آجائیں گے اور لوگوں کے سامنے اس ریاست کی تصویر صاف ہوجائے گی۔
(انل نریندر)

آروشی اور ہیمراج کا قتل ڈاکٹر راجیش اور نپر تلوار نے ہی کیا تھا

سرخیوں میں چھائے آروشی قتل کانڈ کیس میں قتل کیسے ہوئے اس کی پوری داستان سالیسٹر جنرل اے ایس پی اے جی ایل کول نے عدالت میں بیاں کردی۔ آروشی ہیمراج دوہرے قتل کانڈ میں اہم جانچ افسر رہے اے جی ایل کول نے ڈفینس کی چوتھی جریح کے دوران کورٹ میں کہا کہ15-16 مئی 2008 کی آدھی رات کو راجیش تلوار اپنے کمرے میں جاگے ہوئے تھے۔ اسی درمیان انہوں نے ایک آواز سنی، وہ ہمیراج کے کمرے میں گئے وہاں ہیمراج نہیں تھا۔ ڈاکٹر راجیش تلوار نے کہا وہاں رکھی دو گولف اسٹک میں سے ایک کو اٹھایا اور آروشی کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ آروشی کے کمرے کا دروازہ اندر سے لاک نہیں تھا۔ انہوں نے دروازہ کھولا تو پایا کے آروشی ہیمراج قابل اعتراض حالات میں تھے۔ اس سے بوکھلائے راجیش نے ہیمراج کے سر پر گولف اسٹک سے حملہ کیا اور دوسرا حملہ کرنے پر گولف اسٹک آروشی کے ماتھے پرجالگی۔ راجیش نے ایک کے بعد ایک کئی حملے کئے۔اس آواز سے جاگی نپر تلوار بھی آروشی کے کمرے میں پہنچ گئی۔ تب تک سر میں لگی چوٹ سے ہیمراج بیڈ سے نیچے گر گیا تھا۔ حملہ آور جوڑے نے آروشی کی نبض دیکھی تو اسے مردہ پایا اور انہوں نے وہیں پر پلان کیا کے ہیمراج کا قتل کرکے اس کی لاش چھپا دی جائے۔
موقعہ لگتے ہی اسے ٹھکانے لگادیں۔ دونوں نے ہیمراج کو چادر میں باندھا اور اسے گھسیٹ کر سیڑھیوں سے چھت تک لے گئے۔ وہاں دھار دار ہتھیار سے اس کا گلا کاٹ دیا۔ اس کے بعد چھت پر رکھے کولر کا پینل نکال کر ہیمراج کی لاش کو کونے میں رکھ دیا۔ چھت کے دروازے سے اندر کی طرف تالا لگادیا گیا اور دونوں آروشی کے بکھرے سامان اور کھلونوں کو ٹھیک طرح سے رکھ دیا گیا اوربسترکی چادر ٹھیک کی اور مر چکی آروشی کا گلا کاٹ ڈالا۔ نپر نے آروشی کے پوشیدہ حصوں کو صاف کیا، اسے انڈرویئر اور پائجامہ پہنایا، جہاں جہاں خون گرا ہوا تھا وہاں صفائی کی۔اپنے خون سے سنے کپڑوں اور چادر کو ایک طرف رکھ دیا تاکہ صبح ہوتے ہی انہیں پھینکا جاسکے۔ دھار دار ہتھیار انہیں کپڑوں کے ساتھ چھپا دیاگیا۔ گولف اسٹک بھی صاف کرکے آروشی کے کمرے کے سامنے بنی دفتی میں چھپا دی گئی اور باہر کا دروازہ اندر سے بندکردیا گیا۔ لوہے کا دروازہ باہر سے باند کردیا۔ اس سب کے بعد راجیش صبح ہونے کا انتظار کرنے لگے اور صبح ہوتے ہی خون سے لت پت اورکپڑے اور دھار دار ہتھیار باہر لے جاکر چھپا دئے گئے اور واپس فلیٹ میں آکر 6 بجنے کا انتظار کرنے لگے۔ صبح جب نوکرانی بھارتی نے آکر فلیٹ گھنٹی بجائے تو نپر نے لکڑی والا دروازہ کھولا اور پوچھا کے ہیمراج کہاں ہے؟ اس کے بعد نپر ہیمراج کے کمرے میں گئی اور وہاں سے چابی کا گچھا لیکر باہر آئی اور پھر بھارتی سے کہا کہ وہ بال کنی سے چابی نیچے پھینک رہی ہے فلیٹ کے اندر آنے پر بھارتی نے تلوار جوڑے کو روتے ہوئے پایا۔ نپر نے بھارتی سے کہا دیکھو ہیمراج کیا کرگیا ہے۔ اس کے بعد نپر بھارتی کو آروشی کے بیڈ روم میں لے گئی ۔ اس دوہرے قتل کانڈ کی سماعت جاری ہے اب دیکھیں ڈاکٹر راجیش تلوار اور ان کی بیوی نپر تلوار کا اپنے اس کیس کے بارے میں کیا کہنا ہے۔
(انل نریندر)

30 اپریل 2013

سربجیت کی جان کو خطرہ ہمیشہ تھا،حکومت ہند سوتی رہی

پنجاب کے سکھی ونڈ باشندے سربجیت سنگھ نے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں اپنی جان کو سنگین خطرے کے بارے میں پہلے سے ہی بتادیا تھا۔ کچھ ماہ پہلے لاہور سے اپنے وکیل کی معرفت بہن دلبیر کور کو بھیجے خط میں اس نے لکھا تھا کہ جیل میں میری جان کو ہر وقت خطرہ بنا ہوا ہے۔ مجھے شک ہے ’سلوپوائزن‘ دیکر یا حملہ کرکے پاکستانی مجھے جیل میں مار دیں گے۔ سربجیت کا اندیشہ صحیح ثابت ہوتا لگ رہا ہے۔ جمعہ کو لاہور کی سینٹرل جیل میں سربجیت سنگھ پر پانچ پاکستانی قیدیوں کے ذریعے اینٹ اور لوہے کی پلیٹ سے حملہ کیا گیا، جس میں وہ شدید زخمی ہوگیا اور وہ نزع میں ہے اور اسے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔ ڈاکٹروں نے ایتوار کو بتایا کہ سربجیت 49 سال کی حالت زیادہ نازک ہونے کی وجہ سے اس کا آپریشن نہیں کرپائیں گے۔پاکستانی ہائی کمیشن نے سربجیت کے خاندان کے چار افراد کو ویزا جاری کیاتھا تاکہ وہ لاہور کے ایک ہسپتال میں بھرتی سربجیت سے مل سکیں۔سربجیت کی بیوی سکھ پریت کور، بیٹیاں پونم اور سوپن دیپ اور بہن دلبیر کور ایتوار کو لاہور گئیں۔ انہیں 15 دن کا ویزا ملا ہے۔ سربجیت کی بہن دلبیر کور نے بتایا کے ان کے بھائی سربجیت پر اس قاتلانہ حملے کی خبر پاکستان کے ایک صحافی نے دی تھی۔ پاک سرکار نے دوپہر میں ہوئے واقعہ کے بارے میں جانکاری اس کے کنبے کو دینا مناسب نہیں سمجھا ۔ اپنے بھائی پر حملے سے دکھی بہن کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ حملے کے قصوروار افضل گورو کو پھانسی پر لٹکائے جانے کے بعد ان کے بھائی کی جان کو خطرہ تھا۔ افضل کی پھانسی سے ناراض پاکستانی قیدیوں نے کئی بار سربجیت کو جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ میں نے یو پی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی اور وزیر اعظم منموہن سنگھ سے اپیل کی تھی کہ وہ ہند وستانی ہائی کمیشن کے حکام کو سربجیت کی حفاظت سخت کرنے کے لئے کہیں۔ سربجیت کو 1990 میں پاکستان کے پنجاب میں ہوئے دھماکوں میں شامل ہونے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان میں 14 لوگوں کی موت ہوئی تھی۔ سربجیت کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تھی۔ صدر آصف علی زرداری کی مداخلت کے چلتے اس کی پھانسی کی سزا لٹکی ہوئی ہے۔ پاکستان سے انسانی حقوق رضاکار انصار برنی نے کہا یہ سربجیت کو جیل میں مروانے کی سازش ہے تاکہ ان کا قتل ہو جائے اور رہا نہ کرنا پڑے۔ ان کی عمر قید کی میعاد نکل چکی ہے اس کے بعد اسے پھانسی نہیں دی جاسکتی۔ کوٹ لکھپت جیل میں4 ہزار قیدیوں کو رکھنے کی سہولت ہے لیکن فی الحال وہاں 17 ہزار سے زیادہ قیدی بند ہیں۔ اسی جیل میں 15 جنوری کو ہندوستانی قیدی چمیل سنگھ پر بھی حملہ ہوا تھا اور ان کی موت ہوگئی تھی۔ چمیل کو جیل کے سکیورٹی ملازمین نے مار پیٹ کر مار ڈالا تھا۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے حکومت ہند نے سربجیت کو بچانے کے لئے کوئی بھی کوشش نہیں کی۔ خاص طور پر جب 15 جنوری کو چمیل سنگھ کو اسی جیل میں قتل کردیاگیا تھاتو بھارت سرکار کو اس معاملے کو موثر ڈھنگ سے اٹھانا چاہئے تھا۔ ہندوستانی فوجیوں کے سر کاٹ دئے گئے، پاک جیلوں کے اندر ماردیا جائے، بھارت سرکار کی مجال ہے کہ وہ ایک لفظ بھی اپنے شہریوں کے لئے اپنے منہ سے نکالے۔ سربجیت کی موت ہوتی ہے تو اس میں بھارت سرکار بھی کم قصوروار نہیں ہوگی۔
(انل نریندر)

اعظم خاں کی بوسٹن ہوائی اڈے پر بے عزتی کا معاملہ

امریکہ کی دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالارینس کی پالیسی کے خلاف امریکی ہوائی اڈوں پر بڑے سے بڑے شخص چاہے وہ ایک ڈپلومیٹ ہو یا ایک وزیر ہو، ان کی گہری جانچ پڑتال ہوتی ہے۔ امریکہ کے ہوائی اڈوں پر ہندوستانی کے سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام، فلم اداکار شاہ رخ خان، عامر خان سمیت کئی اہم ہندوستانی لوگوں کو سکیورٹی کے نام پر روکا جاچکا ہے۔ تازہ معاملہ اترپردیش کے وزیر شہری ترقی اعظم خاں سے وابستہ ہے۔ ان کو بوسٹن ہوائی اڈے پر روکنے اور ان سے پوچھ تاچھ کرنے کے واقعے سے ایک بار پھر تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے کے مسلم نام والے اشخاص سے ہی خاص طور سے پوچھ تاچھ کی جاتی ہے؟ کیا امریکی حکام یہ سمجھتے ہیں کے بھارت سرکار یا بھارت کی کسی ریاست کا ایک ذمہ دار وزیر کسی بھی طرح کی دہشت گردانہ سرگرمی میں شامل ہوسکتا ہے؟ اداکار کمل ہاسن بھی اس کا شکارہوئے ، ان کا نام مسلم معلوم ہوتا ہے حالانکہ وہ مسلمان نہیں۔ یہ ہی نہیں جس شخص کا رنگ و شکل و نسل گوری نہ ہو وہ ان کی زد میںآسکتا ہے خاص طور پر اگر وہ مشرقی وسطیٰ یا مشرقی ایشیا کا دکھائی پڑتا ہو۔ ویسے بوسٹن ان دنوں اس لئے بھی زیادہ سرگرم مانا جائے گا کیونکہ کچھ ہی دنوں پہلے بوسٹن میراتھن میں دو بم دھماکے ہو چکے ہیں ممکن ہے اس کے پیش نظر ہوائی اڈوں پر سکیورٹی انتظامات زیادہ پختہ ہوں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ بوسٹن میراتھن میں حملہ کرنے والے مبینہ دونوں شخص گورے ہی تھے اور نہ ہی وہ مشرقی وسطیٰ سے تھے اور نہ ہی وہ سینٹرل ایشیا سے تھے۔ کیونکہ امریکہ آج واحد بڑی طاقت ہے اور اپنے آپ کو کسی کے لئے جوابدہ نہیں مانتا اس لئے اسے اس بات کی قطعی فکر نہیں کہ کس آنے جانے والے شخص سے کس طرح کا برتاؤ کررہا ہے اور کیا وہ ضروری بھی ہے۔ ویسے بھی امریکہ کو نہ تو دوسرے کے کلچر کے بارے میں کوئی واقفیت ہے اور نہ ہی وہ جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ جو شخص مرنے مارنے کے ارادوں میں اٹل ہو وہ تو امریکہ کے خفیہ ایجنسی ایس بی آئی میں بھی گولی باری کردیتا ہے۔ دنیا میں اب تک سب سے بڑا حملہ 9/11 کے وقت کا ہے جسے روکنے میں امریکی سکیورٹی ایجنسی ناکام رہیں۔اب وہ اتنی سخت ہوگئی ہیں کہ وہ سکیورٹی کے نام پر جسے چاہے بے عزت کردیتی ہیں۔ بہت سے لوگ تو ان اوچھی حرکتوں کی وجہ سے امریکہ کے دشمن بن جاتے ہیں۔ باہر کی بات چھوڑو امریکہ کے اندر ہی کالے اور سپینی شہریوں کے ساتھ امریکی سماج کا برتاؤ ایک جیسا نہیں ہے۔ اب وہ شخص جو امریکہ جانے سے پہلے 10 بار سوچتا ہے اعظم خاں سے ہوائی اڈے پر بدسلوکی کے بعد امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے لیکچرر کا بائیکاٹ کرکے اترپردیش کے وزیر اعلی نے نہ صرف امریکہ کو معقول جواب دیا بلکہ انہوں نے ایک تیر سے کئی نشانے لگانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے نہ صرف امریکہ کے نظام کو معقول جواب دیا بلکہ ایسے واقعات سے دکھی مسلمانوں کے زخموں پر بھی مرحم لگایا ہے۔ دراصل 9/11 کے واقعے کے بعد امریکہ میں سکیورٹی کے نام پر ساری دنیا میں مسلمانوں پر ذیادتیاں بڑھی ہیں۔ یوں بھی دنیا بھر میں خاص طور پر بھارت کے مسلمانوں کے جذبات امریکہ کے خلاف بڑھکتے جارہے ہیں اور یہ تب ہے جب امریکہ کا صدر براک اوبامہ خود کو مسلمان کہتا ہے۔
(انل نریندر)

28 اپریل 2013

لوٹ کھسوٹ کی اسکیم بنتی منریگا! کسان وہیں کا وہیں رہ گیا

اپنے دیش میں بہت کچھ بدل گیا لیکن ایک چیز نہیں بدلی وہ ہے سرکاری اسکیموں اور وسائل کے لوٹ کھسوٹ کے طریقے۔ تازہ مثال مہاتما گاندھی قومی روزگار گارنٹی (منریگا) کی ہے۔ بھارت کے کمپٹرولر آڈیٹر جنرل (کیگ) کی ایک رپورٹ سامنے آئی ہے جو بتاتی ہے کہ کیسے منریگا کے تحت غریبی دور کرنے کے لئے شروع کی گئی اسکیم کو کھلے عام کرپشن کا اکھاڑا بنا دیا گیا۔ طریقہ وہی فرضی نوکری کارڈ بنوائے گئے، کاغذوں میں کام دکھایا گیا۔ نتیجہ بھی وہی جو پیسہ غریبوں میں بانٹنا چاہئے تھا، غریبوں کا پیٹ بھرنے کے لئے الاٹمنٹ کیا گیا تھا، وہ کرپٹ لوگوں کی تجوریوں میں پہنچ گیا۔ غورطلب ہے کہ منریگا کی اسکیم میں ایک مالی سال میں ایک خاندان کو 100 دن کا روزگار پانے کا حق ہے یعنی کسی خاندان میں بالغ 10 ممبر ہیں ان میں سے جو روزگار کی مانگ کرتے ہیں اپنے ہر ایک شخص کو نہیں بلکہ سب کو جوڑ کر100 دن کا روزگار دینے کی سہولت ہے۔ مرکزی دیہی ترقی وزارت نے 20 نئے کام جوڑ کر منریگا ۔2 کا نام دے دیا۔ یہاں منریگا کے بے روزگاری بھتے نے گاؤں والوں کی نیت خراب کردی۔ اسکیم آتے ہی یہ بات زوروں سے پھیلائی گئی کے منریگا میں جنہیں روزگار نہیں مل پائے گا انہیں بے روزگاری بھتہ ملے گا۔ اس طرح زیادہ روزگار اور زیادہ بے روزگاری بھتہ پانے کے لئے 10 بالغ شخص کو مشترکہ خاندان نہ ہوکر بلکہ الگ الگ پانچ خاندان دکھاتے ہوئے پانچ جاب کارڈ بنوا لئے جبکہ وہ ایک ہی گھر میں رہ رہے ہیں، ایک ہی چولہے پر ان کا کھانا بنتا ہے۔ ادھر زیادہ تر سرپنچوں و پنچایت سکریٹریوں نے یہ چالاکی کی۔ فرضی جاب کارڈ بنوا کر اپنے قبضے میں کرلئے تاکہ ان کے نام پر مسٹرول بھرواکر رقم ہتیائی جاسکے۔ مندرجہ بالا کرپشن کے طریقے پر غور کیجئے کہ اترپردیش کے رائے بریلی کے مہارج گنج بلاک کی گرام پنچایت پھورینا میں 80 فٹ لمبا اور70 فٹ چوڑا پکا تالاب ہے۔ سال 2009-10 ء میں اس ماڈل تالاب کو بنانے کی اسکیم بنی اور 9.10 لاکھ روپے منظور ہوئے ۔ اس میں 5.28 لاکھ روپے، تالاب بنانے میں خرچ ہوگئے۔ اصلیت تو یہ ہے تالاب کے نام پرایک گڈھا ہی کھدا ہوا ہے۔ ایسی درجنوں کہانیاں ہیں۔ محترمہ سونیا گاندھی نے اچھی اسکیم رکھی تھی اور اس کی اڈوانی جی نے بھی اقوام متحدہ میں تعریف کی تھی لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ سبھی سطح پر ہوئی دھاندلی اور کرپشن کے سبب جو امیدیں بندھی تھیں وہ چوپٹ ہوکر رہ گئیں۔ امید تو یہ تھی کہ ہر ایک کنبے کو ہر سال کم از کم100 دن کا روزگار ملے گا۔ منریگا کی دفعہ۔16(3) کے مطابق گرام پنچایتوں کو سالانہ اسکیم بنانی تھی۔1 لاکھ26 ہزار961 کروڑ روپے کی اسکیم منظور کی گئی۔ ریاستوں کو اس اسکیم پر عمل سے متعلق قاعدے بنانے تھے۔ کرپشن روکنے کے لئے جاب کارڈ پر فائدہ پانے والے کا فوٹو لگوانا ضروری تھا۔ کوئی جاب کارڈ بننے کا مطلب روزگار کی گارنٹی ۔ اس روزگار اسکیم پر عمل پر نگرانی کے لئے دیہی وزارت ترقی قانون سے بندھی ہے اس کے لئے منریگا نے مرکزی روزگار گارنٹی کونسل کا قیام کی بات کہی تھی۔سی اے جی کی رپورٹ کے مطابق یہ کونسل نگرانی کے کام میں ناکام رہی ہے۔ اس کی تشکیل کو 6 سال ہوچکے ہیں لیکن اس کے ممبر اب تک محض 13 فیلڈ دورے ہی کر پائے۔
اس اسکیم کے تحت کروائے جارہے کام کی نگرانی کے لئے نیشنل کوالٹی مانیٹرز سسٹم بنایا جانا تھا لیکن مرکزی سرکار ابھی تک اسے عملی جامہ نہیں پہنا سکی۔ فنڈ کی منظوری اور انہیں جاری کرنے کے معاملے میں خود وزارت نے منمانی سے کام لیا۔ سی اے جی نے اس معاملے میں 1960.45 کرور روپے کی گڑ بڑی پکڑی ہے۔ سونیا گاندھی کی اس پیاری اسکیم کا موازنہ اندرا گاندھی کی غریبی ہٹاؤ یوجنا کے ساتھ کیا گیا اور اسے بہت اچھا قراردیا گیا تھا۔ اس اہم اسکیم میں انتہا پر پھیلے کرپشن کو دیکھ کر یہ ظاہر ہوتا ہے یہ سب کچھ سیاسی سازش کے تحت ہورہا ہے۔ یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نہ صرف مرکزی سرکار اور ریاستی سرکار اس کو صحیح معنوں میں کامیاب ہوتے دیکھنا چاہتے۔ دیگر سرکاری اسکیموں کی طرح منریگا بھی کرپشن کی بھینٹ چڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ یہ اب لوٹ کھسوٹ کی اسکیم بن کر رہ گئی ہے۔ غریب کسان جس کے فائدے کے لئے اسے بنایا گیا تھا وہ ہی اس کے فائدے سے محروم رہ گیا۔
(انل نریندر)

آخر چین چاہتا کیا ہے؟ ان حرکتوں کے معنی کیا ہیں

کشمیر کے لداخ میں چین کی پیپلز لبریشن آرمی پی ایل اے کی ایک پلٹون15 اپریل کی رات ڈی بی او سیکٹر میں واقع ہندوستانی سرحد کے10 کلو میٹر اندر آنے اور وہاں ٹینٹ لگانے سے تقریباً کارگل جیسے حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ جیسے کارگل میں سرحدی چوکیوں کو خالی چھوڑنا مہنگا پڑا تھا لداخ فرنٹیئر میں بھی چین سے ملحق سرحدی چوکیوں پر فوجیوں کوکبھی بھی تعینات نہیں کیا گیا اور اب ہندوستانی فوج لداخ میں واقع اپنی کور کے پورے جوانوں کو اس میں جھونکنے پر مجبور ہوگئی ہے۔خبر یہ بھی ہے کہ ہندوستانی سرحد میں دراندازی کرنے والے چینی فوجیوں کے ذریعے لداخ کے دولت بیگ اولڈی سیکٹر میں اپنی قبضائی جگہ سے ہلنے سے بھی انکار کردیا ہے۔ دو چینی ہیلی کاپٹروں نے لداخ سے کئی سو کلو میٹر جنوب مشرق میں واقع چمار کے ہندوستانی ایئربیس خطے کی خلاف ورزی کی جس کے بعد کشیدگی بڑھ گئی۔ حالانکہ مرکزی سرکار اور بھارتیہ فوج اس سے انکار کرتی گئی۔ چین کے ذریعے کوئی گھس پیٹھ کی جارہی ہے لیکن ملنے والی خبریں کہتی ہیں کہ لداخ سیکٹر میں چینی سرحد پر دونوں فوجوں کے درمیان کشیدگی کا ماحول جاری ہے جس کے نتیجے میں سرحد سے ملحق کئی گاؤں پہلے ہی خالی ہوچکے ہیں۔ لداخ کے مشرقی خطے یوشول میں بھارت چین کے فوجی حکام کی دو فلیگ میٹنگ ہوچکی ہیں اور دونوں بے نتیجہ رہیں۔ یہ جاننا اہم ہے کہ چین کی طرف سے یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب نئے چنے گئے چینی وزیر اعظم لی کیکیانگ اگلے ماہ بھارت کے دورہ پر آنے والے ہیں۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ انڈین ایئرفورس نے حال ہی میں اپنی مشقیں آپریشن ’’لائیو وائر‘‘ ختم کیا۔ جس دوران سرحد کے نزدیک حساس ہوائی ٹھکانوں کو چوکس کردیا گیا تھا۔ شاید اس سے بھی چینی بھڑکے ہوں۔ ادھر بھارت کو اندیشہ ہے کہ کہیں 1987ء کا واقعہ نہ دوہرایا جائے جب چین توانگ کے نارتھ میں سمووارونگ یو علاقے میں گھس آیا تھا اور پھر واپس نہیں گیا۔ وہ علاقہ آج بھی چین کے قبضے میں ہے۔ چین کی خارجہ پالیسی جارحانہ دکھائی پڑ رہی۔ بھارت ہی نہیں مشرقی چین ساگر میں جاپان سے ٹکرا رہا ہے۔ اب وہ خطرے کے زون میں داخل ہوگیا ہے۔
چین اور جاپان کے درمیان کافی عرصے سے تنازعہ چل رہا ہے۔ پچھلے سال اس جزیرے کو ذاتی مالک سے زیادہ جاپان کے ذریعے خریدے جانے کے بعد کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ تب سے لیکر اب تک چین اس خطے میں اپنی کشتیوں کے ذریعے نگرانی کرتا ہے جس پر جاپان نے کئی مرتبہ اعتراض جاتایا ہے۔ کسی بھی وقت یہ تنازعہ ایک خطرناک رخ اختیار کرسکتا ہے ۔ چین اپنے اعلان کے مطابق واقعی اگر بھارت سے مضبوط اور پائیدار اور طویل المدت رشتے قائم کرنا چاہتا ہے تو اسے بھارت کی مانگ کے مطابق فوراً لداخ کے ڈی بی او سیکٹر سے اپنی فوجیں واپس بلالینی چاہئیں جہاں وہ پہلے بیٹھی ہوئی تھیں۔ بھارت میں گھس کر اپنے ٹینٹ گاڑھ رہی ہیں کیونکہ بھارت اور چین کی سرحد صحیح طریقے سے لائن اپ نہیں کی گئی ہے اس لئے متنازعہ علاقے میں کسی بھی جگہ کو اپنا حصہ بتادینا آسان نہیں ہے۔ اگراشو یہ ہے کے اگر چین کی منشا ٹھیک ہے تو اسکی فوج ایسے اشتعال انگیز قدم کیوں اٹھا رہی ہے؟ چین نے اگر جلدمثبت قدم نہیں اٹھائے تودونوں دیشوں کے درمیان رشتوں میں بہتری کی امیدوں پر گرہین لگ سکتا ہے۔ پچھلے مہینے چین میں نئی لیڈر شپ نے اقتدار سنبھالا ۔ نئے صدر شی زنگ پنگ اور وزیر اعظم لی کیکیانگ کے بیانوں سے اشارہ ملتا ہے کے وہ بھارت کے ساتھ پائیدار رشتے بنانے ان کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ چین کے نئے وزیر اعظم لی کیکیانگ نے پروٹوکول کا خیال کرتے ہوئے بطور وزیر اعظم اپنے پہلا غیر ملکی دورہ کی شکل میں بھارت میں آنے کی خواہش جتائی ہے۔ چین کو اب سدھرنا ہوگا اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ اس کے قول اور وفعل میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...