Translater

Abbotabad لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Abbotabad لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

01 مئی 2012

یوں ہوا اسامہ بن لادن کا خاتمہ



Published On 1 May 2012
انل نریندر
امریکہ کی نامور میگزین دی ٹائم نے پہلی مرتبہ اسامہ بن لادن کے متعلق ایک خفیہ رپورٹ شائع کی ہے جس میں صدر براک اوبامہ نے لادن کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔ حالانکہ اس پورے آپریشن کی ساری کارروائی پہلے بھی منظر عام پر آچکی ہے لیکن میگزین ٹائم کی رپورٹ ایک طرح سے پختہ رپورٹ مانی جاسکتی ہے۔ خفیہ میمو میں اوبامہ نے بحریہ کے سیلس کمانڈو کی ایک ٹیم کو لادن کے ایبٹ آباد میں واقع ٹھکانے سے پکڑنے کے احکامات دئے تھے۔ اس میمو پر سی آئی اے کے اس وقت کے چیف لیون پینیٹا نے بھی دستخط کئے ہیں۔ اسامہ کے ٹھکانے پر نہ ملنے کی صورت میں اس کو تلاش کرنے کے بعد ہی لوٹنے کا دیا تھااب جبکہ اسامہ بن لادن کی موت کو ایک سال ہوجائے گا میمو میں مزید کہا گیا تھا کہ وقت اور آپریشن کے چلانے اور فیصلے اور حملے کے کنٹرول سے متعلق سبھی معاملات کی کمان ایڈمرل میکربین کے ہاتھوں میں ہوں گی۔ اسامہ پر فیصلہ لئے جانے سے پہلے وائٹ ہاؤس میں مہینوں چلی خفیہ و مشکل تبادلہ خیالات پر ٹائم میگزین نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس کے لئے اوبامہ صدارتی عہدے کا داؤ لگا رہے تھے۔ دنیا کے انتہائی مطلوب شخص کو پاکستان میں امریکی کمانڈو بھیج کر پکڑنے کا فیصلہ اتنا آسان نہیں تھا۔ اسامہ کے ساتھ آخری مڈبھیڑ پر ٹائم میگزین نے لکھا ہے کہ اندھیری رات تھی ،بجلی گل تھی اورگھپ اندھیرا تھا اس نے اسامہ کی بے چینی بڑھا دی۔اس نے اس گیٹ کو کھولا جو اس کے کمرے تک پہنچنے کے سبھی راستوں کو بند کرتاتھا اور گیٹ کو صرف اندر سے ہی کھولا جاسکتا تھا۔اس نے یہ دیکھنے کیلئے سر باہر نکالا کہ وہاں کیا ہورہا ہے؟ فوراً وہ سیلس کمانڈوں کی نظروں میں آگیا اور وہ سیڑھیوں پر چڑھ گئے۔ اسامہ نے ایک بڑی غلطی اور کردی، وہ دروازہ بند کرنا بھول گیا جس سے کمانڈو سیدھے اس کے کمرے میں دھابہ بول دیا۔ کمانڈو نے لادن کے سینے اور بائیں آنکھ میں گولیاں مالیں۔ اس سے اسے موقعہ پر ہی ماردیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے یہ ایک ناقابل بیاں منظر تھا۔ اس کے دماغ کے پرخچے اڑ گئے اور چھت سے جا چپکے۔ اس کا کچھ حصہ آنکھوں سے باہر نکل آیا۔ بستر کے نزدیک کی جگہ بھی اسامہ کے خون سے لت پت ہوگئی۔ ایک دہائی سے چھپتا پھر رہا اسامہ بیحد تھکا ہوا لگ رہا تھا۔ بچ کر نکلنے کی اس نے کئی اسکیمیں نہیں بنائی تھیں اس کے گھر سے کوئی خفیہ راستہ باہر نہیں جاتا تھا۔ لادن مارے جانے سے پہلے پاکستان میں کئی حملوں کی اسکیم بنا رہا تھا۔ ایبٹ آباد کمپلیکس سے ملے دستاویز سے ایک بات سامنے آئی ہے۔ میڈیا میں شائع رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ لادن نے القاعدہ کے نمبر دو سرغنہ ایمن الظواہری اور بڑے آتنکیوں کے ساتھ مل کر پاکستان پر بہت سے حملوں کی اسکیم بنائی تھی۔ ادھر امریکہ کی ایک فیڈرل عدالت نے لادن کو تقریباً ایک برس پہلے پاکستان میں مارے جانے کے ویڈیو اور تصویریں جاری کرنے کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ ایبٹ آباد میں مارے جانے کے بعد لادن کی لاش کو سمندر میں دفنا دیا گیا لیکن سکیورٹی وجوہات سے اس آپریشن سے وابستہ ویڈیو اورتصویریں پبلک کے سامنے نہیں لائی گئی تھیں۔ اسامہ بن لادن کی برسی سے چند دن پہلے پاکستان نے اس کی تین بیوہ بیویوں سمیت 14 رشتے داروں کو ملک سے نکال کر سعودی عرب بھیج دیا ہے۔ سخت حفاظت کے درمیان لادن کے خاندان کو درمیانی رات میں راولپنڈی کے چکلال فوجی ہوائی اڈے سے لیجایا گیا جہاں سے خاص جہاز سے انہیں سعودی عرب بھیج دیاگیا۔ لادن پچھلے سال 2 مئی کو مارا گیا تھا۔
Abbotabad, Anil Narendra, Daily Pratap, Obama, Osama Bin Ladin, Pakistan, Vir Arjun

07 اپریل 2012

نوٹنکی باز پاکستان


Published On 7 March 2012
انل نریندر
جب میں نے یہ خبر پڑھی کہ پاکستان کی ایک عدالت نے القاعدہ کے سابق سرغنہ اسامہ بن لادن کے خاندان کے14 افراد کو9 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے ، کیونکہ ان پر الزام ہے کہ وہ غیر قانونی طریقے سے پاکستان آئے اوررہے تو مجھے ہنسی آگئی۔ پاکستان کو نوٹنکی کرنے کی عادت سی بن گئی ہے۔ بن لادن کی تین بیویوں دو بیٹیوں کو باقاعدہ طور سے 3 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا۔ تین بیویوں میں سے سب سے چھوٹی یمن کی ہے اور باقی دو سعودی عرب کی باشندہ ہیں۔
پچھلے سال2 مئی کو ایبٹ آباد میں امریکی کمانڈوز نے لادن کو مار گرایا تھا۔ انہیں وہیں سے پکڑا گیا تھا۔ اب یہ کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اسامہ بن لادن برسوں سے پاکستان میں ہی رہ رہا تھا۔ اس کا سیدھا رابطہ پاکستان خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے بنا ہوا تھا۔ برطانیہ کے اخبار دی ٹیلی گراف نے دوبارہ سرگرم ہوئی انٹر نیٹ ویب سائٹ وکی لکس کے ذریعے شائع کردہ 50 لاکھ نئے دستاویزات سے اس کی تصدیق کی ہے۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کے کم سے کم 12 افسران کو لادن کے ایبٹ آباد میں واقع محفوظ مقام پر چھپے ہونے کی خبر تھی اور وہ اپنی موت سے پہلے اسامہ جس مکان میں رہ رہا تھا اسے بنوانے کے لئے آئی ایس آئی نے خاص طور سے ایک آرکیٹیکٹ مقرر کیا تھا۔
امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خفیہ ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ لادن کے اس ٹھکانے پر لشکر طیبہ کے لوگ بھی آتے جاتے رہتے تھے۔ رپورٹ میں آگے بتایا گیا پاکستان کی فوجی اکیڈمی کے پاس بنے لادن کے ایبٹ آباد میں واقع ٹھکانے کے اصلی دستاویزتو غائب ہیں لیکن اس کے آرکیٹیکٹ کو آئی ایس آئی نے باقاعدہ طور پر مقرر کیا تھا۔ آرکیٹیکٹ کو یہ کہہ کر مقرر کیا گیا تھا کہ ایک معزول انتہائی اہم شخص اس مکان میں رہنے آرہا ہے ۔ یہ ہی نہیں اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں اپنے چار بچوں کے ساتھ رہتا تھا اور اس کے دوبچوں کی پیدائش ایبٹ آباد کے سرکاری ہسپتال میں ہوئی تھی اور پھر بھی پاکستان یہ دعوی کرے کے اسے اسامہ کے پاکستان میں رہنے کی جانکاری نہیں تھی، مضحکہ خیز نہیں ہے تو یہ کیا ہے؟ یہ کس کو بیوقوف بنا رہے ہیں؟ آج تک پاکستان نے کسی بھی بات کو قبول کیا ہے؟
یہ تو داؤد ابراہیم کو بھی نہیں جانتے۔ بار بار یہ ہی کہتے ہیں کہ داؤد پاکستان میں نہیں ہے جبکہ ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ کراچی کے کلکٹن ایریا میں برسوں سے رہتا ہے اور وہیں سے اپنی سرگرمیاں چلا رہا ہے۔ اب لادن کی بیوی اور بچوں کو جیل میں یہ کہہ کر ڈالنا کے وہ غیر قانونی طریقے سے پاکستان میں رہ رہے تھے، یہ نوٹنکی نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ لیکن اب پاکستان کی نوٹنکی بے نقاب ہوچکی ہے۔ ساری دنیا اسے جان چکی ہے اس لئے شاید ہی کوئی اب یہ مانے کے پاکستانی فوج آئی ایس آئی اور پاک سرکار کو یہ معلوم نہیں تھا کہ ایبٹ آباد میں کون رہ رہ ہے۔
Abbotabad, Anil Narendra, Daily Pratap, Osama Bin Ladin, Pakistan, Terrorist, Vir Arjun

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...