Translater

27 اگست 2016

اسکارپین ڈاٹا فاش سے ہماری سلامتی کو چنوتی

اگر انگریزی اخبار ’دی آسٹریلین‘ کی رپورٹ پر یقین کرتے ہوئے مان لیں کہ فرانس کی کمپنی ڈی سی این ایس کے ذریعے ممبئی کے مڈگاؤں بندرگاہ پر بنائی جارہی اسکارپین کیٹگری کی 6 آبدوز کے 22 ہزار صفحات کے اعدادو شمار چوری ہوگئے ہیں تو یہ صرف آبدوز بنانے والی فرانسیسی کمپنی کیلئے ہی تشویش کاباعث نہیں بلکہ بھارت سمیت کئی دیگر ملکوں کیلئے بھی پریشان ہونے کی وجہ ہے۔ بھارت بی سی این ایس نے 6 اسکارپین آبدوز خرید رہا ہے اس کے علاوہ آسٹریلیا، ملیشیا، چلی اور برازیل کے پاس بھی یہ آبدوز ہیں یا ان دیشوں کا بھی ان سے سودا ہو چکا ہے۔ اس اہم ترین پروجیکٹ پر بھارت کی سمندری سلامتی کا کافی دارومدار ہے لیکن اگر اس سے وابستہ خفیہ راز پہلے ہی دشمن کے پاس پہنچ جائیں گے تو اس سے ہماری سلامتی کیلئے خطرہ پیدا ہوگا۔ آسٹریلیائی اخبار نے اسکارپین سے متعلق22 ہزار دستاویزوں کے فاش ہونے کی جو خبر دی ہے اس نے اس کی رفتار سے لیکر اس کے سینسر اور بحری سسٹم اور کمیونیکیشن صلاحیت کی معلومات ہے جو بیحد حساس مانی جاسکتی ہے۔ اگر اس کے پیچھے ہیکنگ ہے، جیسا کہ وزیر دفاع منوہر پاریکر نے اندیشہ ظاہر کیا ہے، تو بھی اس آبدوز سے متعلق اہم معلومات اب انٹرنیٹ کے ذریعے عام ہوچکی ہیں اور ان کے پاکستان اور چین جیسے پڑوسی ملکوں کے ہاتھوں چلے جانے کا خطرہ ہے، جن کی بڑھتی سانجھے داری بھارت کے لئے چیلنج بنتی جارہی ہے۔ جو معلومات فاش ہوئی ہیں ان میں ان آبدوز کی تمام اہم معلومات جیسے کونسی فری کوئنسی استعمال کرتی ہے ،مختلف رفتار میں اس کی آواز کیسی ہوتی ہے، آبدوز میں ایسے محفوظ مقام کونسے ہیں جہاں پر ہونے والی بات چیت کودشمن کے آلات تک نہیں پکڑسکتے۔ یہ تو شاید جانچ کے بعد ہی پتہ چل سکے گا کہ یہ دستاویز لیک کہاں سے ہوئے؟
ایک اندیشہ یہ ہے کہ یہ بھارت سے لیک ہوئے ہیں جہاں آبدوز بنانے والی کمپنی بھارت کیلئے یہ آبدوز بنا رہی ہے لیکن زیادہ اندیشہ اسی بات کا ہے کہ فرانس میں کمپنی کے ہیڈ کوارٹر سے دستاویز لیک ہوئے ہیں۔ زیادہ اندیشہ یہی ہے کہ دستاویز 2011ء میں کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے کسی شخص نے چرائے ہوں۔ اس لئے بھارت کا یہ کہنا بھی صحیح ہے کہ جو جانکاریاں دی گئی ہیں وہ پرانی ہیں۔ اس سے آبدوز کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن اسکارپین آبدوز کی ڈیزائن الگ الگ ملکوں کے لئے بھلے ہی مختلف ہوتی ہوں، لیکن بنیادی تکنیک یکساں ہوتی ہے۔ اس لئے یہ اعدادو شمار ہندوستانی آبدوز کے نہیں بھی ہوں پھر بھی پریشانی کم نہیں ہے، اگر اعدادو شمار متضاد رائے سے ہندوستانی آبدوز کے بارے میں لیک ہوئے ہیں تو زیادہ پریشان کن صورتحال ہے۔ بحریہ کو زیر تیاری آبدوز کے ڈیزائن میں تبدیلی جیسے قدم اٹھانے ہوں گے۔
(انل نریندر)

جب امریکہ نے کارگو جہاز میں 115 ارب نقد ایران بھیجے

روزنامہ اخبار ’’بھاسکر‘‘ نے ایک انگریزی اخبار ’دی نیویارک ٹائمس‘ کے حوالے سے ایک آرٹیکل شائع کیا ہے۔ اس کا مضمون نہایت دلچسپ ہے۔ میں اسے پیش کررہا ہوں۔ امریکی چناؤ میں صدارتی عہدے کے لئے ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان زبردست مقابلہ چل رہا ہے۔ آخری جائزوں میں ہلیری کلنٹن کا پلڑا بھاری بتایا جارہا ہے جبکہ ٹرمپ کے حمایتی دعوی کررہے ہیں کہ نومبر میں ہونے والے الیکشن میں ان کے امیدوار کی جیت پکی ہے۔اس درمیان ایک نئی بحث اچانک چھڑ گئی ہے یہ پیلٹس آف کیش ہیش ٹیک۔ یہ115 ارب روپے نقد ایران میں جانے کا اشو ہے۔ اوبامہ حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے جنوری میں ایک کارگو جہاز سے یہ رقم نقد ( 115 ارب روپے) ایران پہنچائی تھی۔ اپوزیشن ریپبلکن پارٹی نے اسے بڑا اشو بنا کر بحث چھیڑ دی ہے جس میں کہا جارہا ہے کہ سرکار ایسے دیش کے آگے جھک گئی جو دہشت گردی کو بڑھاوا دیتا ہے۔ اس کے لئے ریپبلکن پارٹی ہلیری کلنٹن کو بڑا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔ امریکی چناؤ سرگرمی میں ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کا دور جاری ہے۔ اچانک 115 ارب روپے نقد ایران بھیجنے کا معاملہ گڑھا گیا ہے۔ براک اوبامہ کی سرکار نے کہا کہ اس نے ایران کے ساتھ دہائیوں پرانے مالی جھگڑے کا نپٹارہ کرنے کے لئے اس سال جنوری میں 115 ارب روپے نقد پہنچائے تھے یہ رقم ایسے کارگو جہاز میں رکھی گئی تھی جس پر سامان پہنچانے کی سیل نہیں تھی۔ اتنی رقم کا اعلان تب کیاگیا تھا جب ایران سے نیوکلیائی معاہدہ ہوا اور اس نے چار یرغمال امریکیوں کو رہا کیا تھا۔ ریپبلکن پارٹی نے اس اشو کو بڑی چناوی بحث میں بدل دیا ہے اور کہا کہ ایسا کوئی پرانا جھگڑا تھا ہی نہیں، حکومت نے ایک طرف دیش کو زر فدیہ کے طور پر اتنی بڑی رقم ادا کی ہے یہ موضوع پہلے ہی سیاسی تنازع بنا پھر اس نے زیادہ طول اس وقت پکڑ لیا جب ایک انگریزی جریدے ’’دی وال اسٹریٹ جرنل‘‘ نے اس کی مفصل تفصیلات شائع کردیں ۔ اس میں بتایا گیا کہ پہلی قسط کے طور پر ایران کو 2720 کروڑ روپے (400 ملین ڈالر) امریکی یرغمال کو رہا کرنے کے بدلے چکائے گئے ہیں۔ اس سے سرکار کا جھوٹ سامنے آگیا ہے۔ چناوی ماحول میں اس کی نکتہ چینی ہونے لگی۔ ریپبلکن لیڈر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس اشو کو بھنانے سے نہیں چوکے۔ انہوں نے اس ادائیگی کے لئے فوراً اپنی حریف ہلیری کلنٹن پر تنقید شروع کردی۔ انہوں نے کہا کہ اس زرفدیہ کی بات چیت ہلیری نے ہی شروع کرائی تھی اور انہوں نے ٹیم کی قیادت کی تھی۔ حالانکہ ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ خبر کو وائٹ ہاؤس نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ چھ مہینے پرانی خبر ہے۔
(انل نریندر)

25 اگست 2016

دہشت گردی کی وجہ سے دیوالیہ ہوتا جارہا ہے پاکستان

کشمیرمیں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کیلئے پاکستان جس ڈھنگ سے پیسے خرچ کررہا ہے اس سے اس کا خزانہ خالی ہوتا جارہا ہے۔ پچھلے 15 سال میں پاکستان کو دہشت گردی کی وجہ سے درپردہ طور پر 11800 کروڑ ڈالر (قریب 9.91 لاکھ) کروڑ روپے سے بھی زیادہ کا نقصان ہوچکا ہے۔ باوجود اس کے وہ اپنے ناپاک ارادوں سے باز نہیں آرہا ہے۔ پاکستان کے اقتصادی سروے 2015-16 کی رپورٹ میں صاف طور پر دہشت گردی کی وجہ سے الگ الگ سیکٹر میں ہوئے اقتصادی نقصان کا ذکر کیا گیا ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان کی ساکھ میں آئی گراوٹ کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسے 2014-15 میں 455 کروڑ ڈالر اور 2015-16 میں 204 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔ اگر ہم پچھلے چار سال کے اعدادو شمار پر نظر ڈالیں تو2009-10 میں اسے 1356 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا تھا جو 2010-11 میں بڑھ کر 2370 کروڑ ڈالر ہوگیا۔ 2011-12 میں 1198 کروڑ ڈالر ،2012-13 میں 957 اور 2013-14 میں 770 کروڑ ڈالر۔ یہ اعدادو شمار پاکستان کے اقتصادی سروے رپورٹ میں دئے گئے ہیں۔ جموں و کشمیر میں تین سال میں 738 حملے ہوئے ہیں۔ ان پاک حمایتی دہشت گردوں نے 2013 ء میں 170 حملے کئے۔270 گھس پیٹھ کی کوششیں کی گئیں،38 آتنک وادی مارے گئے،53 ہندوستانی جوان شہید ہوئے اور15 شہریوں کی موت ہوئی۔2014 ء میں یہ حملے بڑھے اور 222 تک پہنچ گئے۔
دراندازی کی 222 کوششیں ہوئیں اور 52 دہشت گرد مارے گئے،47 جوان (ہمارے) شہید ہوئے اور 28 شہری مارے گئے۔ 2015ء میں208 حملوں میں 46 دہشت گرد مارے گئے اور 39 جوان شہید ہوئے۔ 121 بار دراندازی ہوئی، 17 بے قصوروں کی جان گئی۔ 2016 میں اب تک 138 حملے ہوئے،150 درانداز اور 5 آتنکی اور 29 جوان شہید ہوئے ہیں4 شہری بھی مارے گئے ہیں۔ کشمیر میں دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے لئے اب پاکستان سے خلیجی ملکوں میں کام کرنے والے کشمیریوں کو مہرہ بنایا ہے۔ ان کے کھاتوں میں بیرونی ملک سے پیسہ بھیجا جاتا تھا۔بعد میں دہشت گردوں اور پاکستانی ایجنٹوں تک پہنچ جاتا تھا۔ امریکہ نے بھی اب پاکستان کو دینے والی مالی امداد پر روک لگا دی ہے۔ پینٹاگن نے پاکستان کو دی جانے والی 30 کروڑ ڈالر کی فوجی امداد روک دی ہے۔ ساری دنیا اب یہ ماننے پر مجبور ہوتی جارہی ہے کہ دنیا میں دہشت گردی پھیلانے میں پاکستان کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی نرسری بن گیا ہے اور چین اب بھی پاکستان کی مالی مدد کررہا ہے اور اسی سے پاکستان زندہ بھی ہے لیکن دہشت گردی کو اسی رفتار سے پاکستان بڑھاوا دیتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان دیوالیہ ہوجائے گا۔
(انل نریندر)

نایاب جڑی بوٹیوں کی کھوج

یہ بہت خوشی کا موضوع ہے کہ پچھلے کچھ برسوں سے بھارت کے پرانے ادویا علاج کوبڑھاوا ملا ہے۔ چاہے وہ آیوروید ہو چاہے وہ حکمت ہو۔ ہندوستانی کمپنیوں نے جدید تکنیک اور پیکنگ کرکے نہ صرف بھارت میں ہی بلکہ پوری دنیا میں ایسی دواؤں کی مقبولیت بڑھائی ہے۔ ڈابر، پتنجلی، بیدناتھ، ہمالے، ہمدرد( ریکس ریمیڈکس) کمپنیوں کی دوائیں آج ساری دنیا میں جا رہی ہیں۔ آیوش وزارت نے بھی آیورویدک دواؤں کی برآمدات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حال ہی میں 150 ملکوں میں ان دواؤں کی برآمدات ہوتی ہے۔ بین الاقوامی بازار پر اور پکڑ بنانے کے لئے ان دواؤں کی تیاری کی طرف اور امکانات کا پتہ لگایا جارہا ہے۔ ادویہ پروڈیوسروں اور صنعتکاروں اور آیوش انسٹی ٹیوٹ کے نمائندوں کو بین الاقوامی نمائش اور میلوں میں بھی بھیجنے کا منصوبہ ہے۔ آیوروید اوشدھیوں میں حالانکہ تھوڑی کمی ریسرچ کی ہے۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ کبھی کبھی اس کے مضر اثرات کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس مرض کے لئے دوا لی جاتی ہے اس میں تو آرام مل جاتا ہے لیکن شوگر ، بلڈپریشر وغیرہ بڑھ جاتا ہے اس لئے ان کمپنیوں کو اپنی ریسرچ بڑھانی ہوگی۔ 
ہمارے ویدوں اور قدیمی طبی کتابوں میں سنجیونی کے برابر نایاب جڑی بوٹیوں کو اکثر ذکر آتا ہے۔ آیوش وزارت سنجیونی کے برابر ایک نایاب جڑی بوٹیوں کی تلاش میں ریاستوں کی مدد کرے گا۔ مرکزی کی آیورویدک سائنس انسٹیٹیوٹ کونسل نے قدیمی پانڈو لپیو کو دوبارہ سے رائج کرنے اور ان کو پھر سے شائع کرنے کی مہم تیز کردی ہے۔ اس کے تحت درلبھ رسم الخطوں سے 30 کتابوں کی اشاعت ہوچکی ہے۔ ان میں ابھینو،چنتا منی، اشٹانگ، سنگرہ، میلہ اور چاروچرچا ، دھنوتی، سارندھی، سہستریوگ، وید، مناریما، ویدک اثاثہ جیسی کتابیں شامل ہیں۔ حال ہی میں دیش بھر میں صرف 6 فیصد آبادی ہندوستانی طبی طریقے سے علاج کراتی ہے۔ ایک سروے کے مطابق صحت سے متعلق سماجی استعمال پر کرائے گئے اس سروے نے بتایا کہ آیوروید ،یونانی، ہومیوپیتھک یوگ اور قدرتی طبیبیت سے علاج کرانے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے لیکن یہ اب بھی کم ہے۔ سینٹرل یونانی میڈیکل ریسرچ کونسل نے یونانی علاج کی قدیم نسخوں کے تحفظ کی مہم بھی شروع کی ہے ان میں 50 نسخوں کی کتاب کی شکل میں اشاعت کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ یہ سبھی نسخے، اردو،عربی، فارسی میں ہیں۔ نیشنل اوشدھی بورڈ نے آیورویدک کے قدیم طبی علاج کے فروغ کے لئے ٹریننگ کے مرکز اسپانسر پروگرام شروع کیا ہے۔ اس کے تحت اتراکھنڈ اور دیگر ریاستوں میں جڑی بوٹیوں کی تلاش اور ان کے تحفظ میں مرکزی مدد بڑھان کی تجویز ہے۔ اتراکھنڈ میں طبی ونسپتی سروے بھی شروع کیا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

24 اگست 2016

میڈل جیتنے پر دھن ورشا کی جگہ ٹریننگ پر خرچ کیا جائے

ریو میں میڈل جیتنے کے بعد سے ہی بیڈمنٹن سلور میڈل جیتنے والی پی وی سندھو اور ساکشی ملک کو پہلوانی میں کانسے کا میڈل جیتنے پر انعاموں کی بوچھا ہورہی ہے۔ اب تک سندھو کو تلنگانہ حکومت نے 5 کروڑ روپے، آندھرا حکومت نے3 کروڑ روپے، دہلی سرکار نے 2 کروڑ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ 3 کروڑ روپے انہیں دیگر کھیل انجمنیں دیں گی ساتھ ہی آندھرا حکومت نے انہیں 1 ہزار مربع گز زمین اور اے گریڈ سرکاری نوکری بھی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کل ملا کر اب تک سندھو کو13 کروڑ روپے نقد انعام کا اعلان ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں بی ایم ڈبلیو کار بھی ملے گی۔ اسی طرح ساکشی ملک کو بھی ہریانہ سرکار 2.5 کروڑ ،دہلی سرکار 1 کروڑ اور تلنگانہ سرکار1 کروڑ روپے دے گی ساکشی کو ریلوے50 لاکھ اور ترقی دے گا۔ ان کے پتا جو بس کنڈیکٹرہیں، کو بھی ترقی ملے گی۔ یہ سب قریب5 کروڑ روپے بنتا ہے ذرا سوچئے اگر کھلاڑیوں کو سنوارنے پر اتنا خرچ کیا جاتا تو شاید نتیجے کچھ اور ہوتے۔ یہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں اولمپک میں سب سے زیادہ میڈل جیتنے والے امریکہ، برطانیہ اور چین جیسے ملکوں کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ وہاں کے کھلاڑیوں کو ٹریننگ اور سہولیت پر زیادہ خرچ کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ میں ایک کھلاڑی پر 74 کروڑ روپے، ریو اولمپک کی تیاری پر خرچ ہوئے لیکن انعام میں گولڈ میڈل جیتنے والے کو صرف16 لاکھ روپے انعام میں ملتا ہے۔ برطانیہ جس نے ریو اولمپک میں کمال کردکھایا ہے اور چین جیسے ملک کو پچھاڑدیا ہے۔ فی کھلاڑی 48 کروڑ روپے اس کے ٹیلنٹ کو نکھارنے پر خرچ کرتا ہے۔ میڈل جیتنے والے کو کوئی الگ سے انعام نہیں ملتا۔ اب بات کرتے ہیں چین کی۔ وہاں فی کھلاڑی 47 کروڑ روپے خرچ کئے جاتے ہیں اور میڈل جیتنے والے ونر کو24 لاکھ روپے نقد انعام دیا جاتا ہے۔ اب اپنا حال بھی جان لیں۔ مرکزی حکومت نے ریو اولمپک جانے والے سبھی کھلاڑیوں پر 160 کروڑ روپے خرچ کئے۔ انسانی وزارت وسائل ترقی کی اسٹنڈنگ کمیٹی کے مطابق بھارت میں صرف 3 پیسے فی شخص یومیہ کھیل پر خرچ ہوتا ہے جبکہ امریکہ ، برطانیہ اور چین جیسے ملکوں کے اعدادو شمار بتاتے ہیں کہ یہ دیش کھلاڑیوں کو بہت ہی کم نقد انعام دیتے ہیں لیکن دیش کے کھلاڑیوں کی ٹریننگ اور سہولیت پر زیادہ خرچ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے میڈل ٹیلی میں یہ دیش آگے رہتے ہیں۔ میڈل جیتنے کے بعد بھارت میں ریاستی حکومتیں اور کھیل انجمنیں اپنی تجوریاں کامیاب کھلاڑیوں کے لئے کھول دیتی ہیں لیکن اس کے لئے سخت محنت کر رہے ایتھلیٹ اپنی سرکاروں سے بھی روپیہ ملنے کی آس لگائے کنگال ہوجاتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ میڈلوں سے خوش ہونے کی جگہ میڈلوں کی تیاریاں کرنے پر زیادہ توجہ دی جائے۔ دیش میں کھیل ریاستوں کا اشو ہے لیکن پوری تیاریوں پر پورا خرچ مرکزی حکومت کرتی ہے۔ میڈل جیتنے پر یہی ریاستی حکومتیں کروڑوں انعام دینے کا اعلان کرکے اپنا پرچار کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھی ریاستی حکومتیں ایسے ایتھلیٹوں کو بھی ریاست کا بتا دیتی ہیں جو وہاں پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اور نہ ہی کھیلے تھے۔ اس بار اترپردیش سرکار نے بھی ساکشی ملک کو رانی لکشمی بائی ایوارڈ دینے کا اعلان کیا لیکن ایسی ریاستوں کو سوچنا چاہئے کہ ان کے پردیش میں ایتھلیٹ کھیلوں میں کھیل کا اچھا مظاہرہ کیوں نہیں کررہے ہیں؟ سندھو نے 2010ء میں عالمی چمپئن شپ میں تانبے کا میڈل جیتا تھا۔ اگر اس وقت اتنی مدد کی جاتی تو آج وہ گولڈ میڈل ضرور لاتیں۔ وہ تو مرکزی سرکار کے تحت آنے والے اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا اور گوپی چند اکیڈمی کا بھلا ہو کہ جنہوں نے اس کی مدد کی۔ مرکزی سرکار کو پالیسی بنانی چاہئے کہ صرف وہی انعام کا اعلان کرے کیونکہ ریاستی سرکاروں کا اس طرح کا برتاؤ باقی ایتھلیٹ کو غلط راستہ اپنانے پرمجبور کرتا ہے۔پھر میڈل جیتنے کیلئے ایتھلیٹ غلط راستے بھی کبھی کبھی اپنالیتے ہیں۔ ریاستی حکومتوں کو انعاموں کی رقم ایتھلیٹ کی ٹریننگ اور سہولیات پر خرچ کرنی چاہئے اور یہ کام اسکولی سطح سے شروع ہونا چاہئے۔
(انل نریندر)

جانباز کانسٹیبل آنند سنگھ کے جذبے کو سلام

باہری دہلی دیہات میں مسلسل بگڑتے لاء اینڈ آرڈر نے علاقوں کے لوگوں کی نیند اڑادی ہے۔ لوگ پریشان ہیں پھر بھی خاندان اور سماج کی ترقی کے لئے جٹنے کے بجائے نوجوان طبقہ جرائم کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حالت یہ ہے کہ اب خاکی کا خوف بھی جرائم پیشہ میں نظر نہیں آتا۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس والوں پر اکثر حملے ہوتے ہیں اور جمعہ کی رات جرائم پیشہ کا مقابلہ کرتے ہوئے ایک پولیس سپاہی شہید ہوگیا۔ بتایا جاتا ہے بوانا انڈسٹریل ایریا میں جمعہ کی دیر رات بائیک سوار بدمعاشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے دہلی پولیس کے کانسٹیبل آنندسنگھ (49 سال) کی جان چلی گئی۔ بدمعاشوں نے انہیں قریب سے گولی ماری۔ پولیس والوں کا نام سنتے ہی اکثر لوگوں کے دماغ میں منفی نظریہ ہی بنتا ہے لیکن کچھ پولیس والے وردی کی عزت رکھتے ہوئے اپنے کام کو پوری ایمانداری سے کرنے میں بھی نہیں ہچکچاتے ، چاہے ایسا کرنے میں انہیں اپنی جان گنوانی کیوں نہ پڑجائے۔ ایسا ہی واقعہ جمعہ کی رات دہلی کے بوانا علاقے میں دیکھنے کو ملا جب دہلی پولیس کے اس جانباز کانسٹیبل نے بدمعاشوں کو پکڑنے کیلئے اپنی جان کی بازی لگادی۔ لیکن بدمعاشوں نے اس کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ پولیس کے مطابق ہریانہ کے سونی پت جاٹی کلا گاؤں کے باشندے کانسٹیبل آنند سنگھ بوانا کے انڈسٹریل ایریا کے سیکٹر 5 میں اپنی ڈیوٹی پرتعینات تھے۔ تبھی ایک خاتون کے چلانے اور مددمانگنے کی آواز سنائی پڑی۔ مینا نام کی یہ خاتون سموچے چوک کے پاس ریڑھی لگاتی ہے۔ مینا رات کو دوکان بند کرکے گھر جا رہی تھی تبھی موٹر سائیکل سوار تین بدمعاشوں نے اسے لوٹنے کی کوشش کی۔ اس نے شور مچایا تو پاس میں گشت کررہے آنند سنگھ بدمعاشوں کو پکڑنے لگے۔ اسی دوران دونوں میں دھکا مکی ہوئی اور آنند نے ایک بدمعاش کو پکڑ لیا اور ساتھی کو پولیس کی گرفتار میں دیکھ دوسرے بدمعاش نے آنند کو گولی مار دی۔ گولی لگنے کے بعد آنند نیچے گر گئے لیکن پھر اٹھ کر بدمعاشوں کا پیچھا کرنے لگے ،تبھی دوسرے بدمعاش نے ان کے سر پر ہیلمٹ مارکر انہیں زمین پر گرادیا۔ شدید زخمی آنند کو مہرشی بالمیکی اسپتال لے جایا گیا ، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ دہلی سرکار کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے آنند سنگھ کے جذبے کو سلام کیا ہے اور دہلی سرکار نے شہید ہونے والے جانباز پولیس والے کے خاندان کو 1 کروڑ روپے کی مدد دینے کا اعلان کیا ہے جس کا ہم تہہ دل سے خیر مقدم کرتے ہیں۔ اخلاقیات ، سماجیات اور قانون کو ایک دم طاق پر رکھ کر نشے کے عادی ان لڑکوں کے دل میں نہ تو عورتوں اور نہ ہی بزرگوں کو لئے شرم رہ گئی ہے۔ ہم جانباز کانسٹیبل آنند سنگھ کے جذبے کو سلام کرتے ہیں اور ان کے پریوار کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے دکھ میں ہم بھی شامل ہیں۔
(انل نریندر)

23 اگست 2016

میں نے غائب کرائی تھی بوفورس کی فائل:نیتا جی

نیتا جی ملائم سنگھ یادو سنسنی خیز باتوں کے لئے مشہور ہے۔وہ کبھی کبھی ایسی بات کہہ ڈالتے ہیں جس سے تنازعہ کھڑا ہوجاتا ہے تازہ انکشاف میں لکھنؤ میں نیتا جی نے ڈاکٹر رام منوہر لوہیا نیشنل لاء یونیورسٹی کے دسویں جلسہ تقسیم اسناد میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے وزیر دفاع رہتے انہوں نے جموں وکشمیر کے دور دراز علاقوں میں فوج کے حالات دیکھے ہیں وہ رات گزاری ہے یہاں تک تو ٹھیک تھا انہو ں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے بوفورس کو لیتے ہوئے راجیو گاندھی پر بہت سنگین الزام لگے تھے ہم نے اس توپ کو چلتے ہوئے دیکھا ہے اس نے سرحدی علاقوں میں اچھا مظاہرہ پیش کیا ہے۔ ہم نے وزیر دفاع رہتے بوفورس معاملے کو آگے نہیں بڑھایا۔ ہم نے اس کی فائل بھی غائب کی تھی ہماری رائے یہ ہے کہ سیاسی لوگوں پر مقدمے نہیں چلنے چاہئے۔ سیاست آسان کام نہیں ہے آپ کسی ایم ایل اے کو رات کے دو بجے بھی اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن کیا آئی اے ایس اور آئی پی ا یس افسر کو رات کے دو بجے جگا سکتے ہیں؟ سیاسی لوگوں پر بدلے کے جذبے سے کارروائی نہیں ہونی چاہئے۔ ان پر مقدمہ نہیں چلنا چاہئے۔ سیاسی لوگ جیل جائیں گے تو سیاست کیسے ہوگی؟ ویسے تو یہ گڑے مردے اکھاڑنے والی بات ہے لیکن تب بھی قارئین کو بتا دیں کہ آخر بوفورس اشو کیا تھا؟ راجیو گاندھی حکومت نے مارچ 1986 میں سویڈن کی اے وی بوفورس کمپنی سے 400 ہوئٹزر توپے خریدنے کا معاہدہ کیاتھا۔ ان توپوں کی خرید میں دلالی کاانکشاف اپریل 1987میں سویڈن ریڈیو نے کیاتھا۔ اس کے مطابق بوفورس کمپنی نے 1437 کروڑ روپے کاسودا حاصل کرنے کے لئے ہندوستان کے بڑے سیاست دانوں اور فوج کے افسروں کو رشوت دی تھی۔ اس انکشاف سے ہندوستانی سیاست میں کھلبلی مچ گئی تھی۔1989 کے لوک سبھا چناؤ میں بوفورس کو سورگیہ وی پی سنگھ نے اہم اشو بنادیاتھا اور چناؤ میں راجیو گاندھی حکومت اقتدار سے باہر ہوگئی۔ وی پی سنگھ راشٹریہ مورچہ( نیشنل فرنٹ) حکومت کے وزیراعظم بن گئے ۔1990 میں نئی سرکار نے بوفورس دلالی کی جانچ سی بی آئی کو سونپ دی تھی۔ کئی قانونی ارچنوں کے بعد سی بی آئی 1997میں سویڈن سے بوفورس دلالی سے جڑے 500 صفحات کا دستاویز لانے میں کامیاب رہی۔ اس کی بنیاد پر سی بی آئی نے 1999میں ون چڈھا، کواتروچی وسابق ڈیفنس سیکریٹری ایس کے بھٹناگر و دیگر کے خلاف چارج شیٹ میں سابق وزیراعظم راجیو گاندھی کو بھی ملزم بناگیا تھا۔ 2000 میں سی بی آئی نے ضمنی چارج شیٹ دائر کی۔ 2002میں اہم ملزمان ون چڈھا اور ایس کے بھٹناگر کی موت ہوگئی۔ 2004میں دہلی ہائی کورٹ میں راجیو گاندھی کے خلاف تمام الزامات کو خارج کردیا۔ سوال یہ ہے کہ نیتا جی نے گڑے مردے کو آخر پھر کیوں زندہ کرنے کی کوشش کی ہے؟
(انل نریندر)

27 دن کی کشتی میں ڈوپنگ سے ہارے نرسنگھ یادو

ریو ا ولمپکس میں ہندوستانی کھلاڑیوں کی مایوس کن کارکردگی کے درمیان نرسنگھ یادو پر بین الاقوامی ڈوپنگ انسداد ایجنسی واڈا کر طرف سے 4سال کے لئے پابندی لگانے کے لئے اس ہونہار پہلوان کے لئے تو بھاری جھٹکا ہے ہی لیکن اس حشر میں ہمارا سارا کھیل انتظامیہ بھی کوئی کم ذمہ دار نہیں ہے۔مردفری اسٹائل کشتی کے 74کلوگرام گروپ کا امیدوار نرسنگھ اولمپکس کے پہلے دو ٹیسٹ میں ناکام پایا گیا لیکن اس پر سنجیدگی جتانے کے بجائے ہماری کھیل مشینری نے اسے جس غیر پیشے ور ڈھنگ سے لیا ہے وہ نہ صرف حیران کرنے والا نہیں تھا اس پر ہندوستانی کھیلوں کے ماتھے پر داغ بھی لگ گیا ہے۔ اگر ناڈا نے تبھی اس پر کچھ کارروائی کی ہوتی تو اولمپکس کے دوران ایسی کری کری نہ ہوتی لیکن سب نے بغیرٹھوس ثبوت کے نرسنگھ کی اس دلیل کو منظور کرلیا کہ اس کے خلاف سازش ہوئی ہے۔ اگر سازش ہوئی تھی تو کیا اسے ثبوت نہیں اکٹھے کرنے چاہئے تھے اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے تھی؟ صرف یہ نہیں کہ دو دو نشے کے ٹیسٹ میں فیل ہونے کے باوجود اسے کلین چٹ دینے میں جلد بازی کی گئی۔ کلین چٹ کیوں دی گئی اس بارے میں سامنے نہیں لایا گیا بلکہ ہماری کھیل مشینری شایدیہ امید کررہی تھی کہ واڈا ہماری ان صفائیوں کو جوں کا توں منظور کرلے گا جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ڈوپنگ معاملوں میں خود کو بے قصو ر بنانے کی دلیل زیادہ تر بے اثر ثابت ہوتی ہے ویسے تو دنیا کے ہر دیش میں اس طرح کے تمام کارنامے ہوتے رہتے ہیں اس میں کھیل کاجذبہ اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ وہاں اچھے و کامیاب کھلاڑیوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ سب چیزوں کو بیکار مان کر کنارے کردی جاتی ہیں۔ لیکن ہندوستانی کھیل دنیا میں جب نرسنگھ یادو جیسے چند ہی متبادل ہو ان کو اچھائی قومی خوشی کا موضوع بنیں گی اور برائی کا سر باب ہوگا۔ اب دنیا میں جہاں بھی انسان ہے وہاں رقابت کاجذبہ رہے گا اور وہ اپنے حریف کو بچھاڑنے کی کوشش کرے گا۔ لیکن اسی کے ساتھ ایک ہیلتھی کھیل جذبہ بھی جڑا ہوا ہے جو وہاں کے کھلاڑیوں کے ذریعے میڈلوں کی بارش کی جاتی ہیں۔ واڈا نے نرسنگھ کو ڈوپنگ کو قصور وار تو پایا ہی ہے لیکن یہ بھی کہا ہے کہ سونی پت کے سائیں کیمپس میں سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی میں کسی بھی کھلاڑی کے کھانے میں ملاوٹ کرنا ناممکن ہے۔ ہماری کھیل مشینری تو یہ کہہ رہی ہیں کہ کھیل پنچایت کیس نے یہ فیصلہ لیا ہے لیکن وہ یہ نہیں بتا رہا ہے کہ ریو میں نرسنگھ کابچاؤ کرنے کے لئے اس نے نہ تو کوئی وکیل کاانتظام کیا بلکہ واڈا کی دلیلوں اورالزاموں کا صحیح طریقے سے جواب بھی نہیں دیا۔ پورا معاملہ ہمارے کھیل سسٹم کی پول کھولتا ہے اور ناڈا کی ساکھ بھی متاثر کرتا ہے۔
(انل نریندر)

21 اگست 2016

بیٹیوں نے بچائی ریو میں ملک کی عزت

شکر ہے کہ بھارت کی بیٹیوں نے ملک کی عزت ریو اولمپکس میں بچا لی. گواہ ملک نے پہلے فری اسٹائل کشتی میں کانسی کا تمغہ جیت کر اور پھر پی وی سندھو نے چاندی کا تمغہ جیت کر مایوس ملک کو تھوڑی خوشی ضرور دی. اب یوگیشور دت کا میچ باقی ہے. نرسنگھ تو چار سال کے لئے پابندی ہو گئے ہیں. بھارت نے ریو میں 119 کھلاڑی بھیجے۔ اس امید میں کہ لندن اولمپکس کے چھ میڈل سے کم سے کم دوگنے میڈل تو آئیں گے. لندن کے مقابلے میں اس بار سہولیات کئی گنا بڑھی ہیں. کورس دیپا کرماکر کی کارکردگی اور حوصلے نے سب کا دل جیت لیا، لیکن انتہائی معمولی فرق سے تمغہ ان کے ہاتھ سے پھسل گیا. گواہ ملک نے شاید اپنے دل میں ہارنے سے انکار کر دیا تھا اسی لئے آخری منٹ میں انہوں نے بازی پلٹ دی. سندھو کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے. دنیا کے نمبر ون بیڈمنٹن کھلاڑی کو جیت کے لئے انہوں نے چنے چبوا دیئے. ان تینوں خواتین نے یہ دکھا دیا کہ بیٹیوں کو کبھی بھی کمتر نہ سمجھیں. اگر اور بہتر سہولیات ملتیں تو اور بھی بہتر نتائج آ سکتے تھے. گواہ اور سندھ کے تمغوں کے ذریعے ملک میں کھلاڑیوں کے تنازعات سے وابستگی محسوس کرنے والوں کو کتنی طاقت دی ہے اور لڑکیوں کا حوصلہ کتنا بڑھا ہے. اس کا اندازہ کرکٹر وریندر سہواگ کی رائے سے ہوتا ہے. گواہ کی فتح کے بعد سہواگ نے ٹویٹ کیا ۔ پورا ملک اس بات کا گواہ ہے، جب کوئی مشکل ہوتی ہے تو اس ملک کی لڑکیاں ہی مالک ہیں تھینک یو گواہ ملک. یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ ریو اولمپکس کا یہ پہلا میڈل ہریانہ کی ایک بیٹی کشتی میں لے کر آئی. نہ صرف اس لئے کہ ہریانہ کھاپ پنچایتوں کے عورت مخالف فیصلوں کے لئے جانا جاتا رہا ہے، بلکہ اس لئے بھی کہ بھارت میں خواتین کشتی محض ایک کھیل نہیں، اپنے آپ میں ایک قیمت ہے. اب ہندوستانی کھیلوں کی تاریخ میں تمغہ جیتنے والی عورت کے طور پر گواہ اور سندھو کا نام ریو اولمپکس کی کامیابی کے ساتھ چمکتا رہے گا. گواہ اور سندھو کی کامیابی نے یقینی طور پر مایوس ہو رہے ملک کو تھوڑی خوشی ضرور دی ہے. پر تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ بین الاقوامی کھیل مقابلہ کی دنیا میں ہندوستان کو ابھی وہاں پہنچنا باقی ہے، جہاں توقعات کچھ کم ترقی یافتہ ملک تمغوں کی دوڑ میں امریکہ، روس یا چین جیسے ممالک چیلنج دیتے ہیں. چھوٹا سا ملک جمیکا نے تیزی ریسو میں اپنا دبدبہ بنا رکھا ہے. بحرین اور دیگر عرب ممالک نے بھی بہت اچھی کارکردگی ہے، لمبی دوڑ میں افریقی ممالک کا دبدبہ ہے تو باکسنگ میں کیوبا اور سابق سوویت یونین کا بول بالا ہے. وزارت کھیل نے ٹارگٹ (اوپر) اسکیم بنائی تھی جس میں ریو کے ساتھ ساتھ 2020 میں ہونے والے ٹوکیو اولمپک بھی شامل ہیں. اسکیم کا بجٹ 45 کروڑ تھا. دو سال میں 100 سے زیادہ کھلاڑیوں کو بیرون ملک ٹریننگ پر 180 کروڑ روپے خرچ کئے گئے. شوٹر، آرچر، ترقی گوڑا اور سیما پنیا جیسے ڈسکس تھرور اپنا اوسط کارکردگی بھی نہیں کر سکے. سائی میں اینٹی گیبٹی ٹریڈنل جیسے جدید سہولیات دستیاب کی مشن اولمپک سیل ان کا خیال رکھتی ہے. فوڈ سپلیمنٹس کے لئے 700 روپے دیے گئے. پہلے 300 روپے ملتے تھے. وزارت کھیل کے مطابق کھلاڑیوں کو ان کے واقعہ سے 15۔15 دن پہلے ریو بھیجا گیا. پہلے دو چار دن پہلے بھیجا جاتا تھا. پہلی بار نیشنل کیمپ یا اس سے باہر ذاتی کوچ اور سپورٹ اسٹاف دیے گئے. اتنا ہی نہیں، بھارتی ٹیم میں 40 فیصد سے زیادہ غیر ملکی کوچ ہیں. اس بار پرسنل کوچ، فزیو، مساجر اور ٹرینر بڑھا دیئے گئے تھے. بھارت کے ان سب کے باوجود پھسڈی رہنے کے پیچھے وسائل کی کمی کو لے کر پرتیبھاؤں کو نظر انداز اور سیاسی دخل اندازی تک کئی وجوہات رہیں. بہترین کارکردگی کے باوجود دیپا کرماکرمیڈل سے چوک جانے کے بعد جب ان کے بہت سی کمیوں سے گزرنے کو لے کر ریو میں ان فیزیو کے ان کے ساتھ نہیں جا پانے کی خبر آئی جب یہ بھی صاف ہوا تھا کہ بھارتی کھلاڑیوں کے پچھڑنے کے لئے کون۔ کون سا سسٹم ذمہ دار ہے. اولمپکس میں بھارت کو اپنی بہتری کے لئے کیا کرنا چاہئے، اس معاملے پر حال میں ہی لیکچر دینے والا چین ریو میں اپنے کھلاڑیوں کی خراب پرفارمنس سے خود ہی پریشان ہے. چینی میڈیا کے مطابق ان کے ملک میں اولمپکس سپورٹ کنٹرول کرنے والے اس کی وجہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ آخر کہاں خرابی ہوئی. چین نے ریو میں 29 کھیلوں میں 412 ایتھلٹس بھیجے تھے. اولمپکس میں امریکہ اور چین کے درمیان میڈلو کی دوڑ لگی رہتی ہے. مگر اس بار گریٹ برطانیہ کے علاوہ بھی کئی اور ممالک نے چین کے حصے میں میڈل جھٹک لئے. بس کنٹریکٹر کی ایک معمولی سی ملازمت کرنے والے گواہ کے والد (اور ماں) بھی اس لئے مبارک باد کے مستحق ہیں کہ سخت مرد کے تسلط والے معاشرے میں انہوں نے اپنی بیٹی کو کشتی جیسے کھیل میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا. چار پانچ سال پہلے صرف ڈریس کے لئے کشتی کھیلنے والی ساکشی اتنی اونچائی پر پہنچے گی یہ کسی نے نہیں سوچا تھا. ان کے والد سکھبیر ملک نے بتایا کہ ریو جانے سے پہلے گڑگاؤں میں ایک لاکھ کی گھڑی پسند کی تھی اور جیتنے پر گفٹ مانگا تھا. تین ستمبر کو اس کی سالگرہ ہے. اسے وہی گھڑی گفٹ کروں گا. بیجنگ اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والے بھارتی شوٹر ابھینو بندرا نے ٹویٹ کر کے کہا کہ ریو اولمپک میں بھارتی کھلاڑیوں کی طرف سے میڈل جیت حاصل کرنے کے لئے بھارت کا سسٹم ذمہ دار ہے. ابھینو بندرا نے برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نے ہر تمغہ پر 55 لاکھ برطانوی پاؤنڈ (تقریبا 48 کروڑ روپے خرچ کئے ہیں اور جب تک ملک میں نظام کو درست نہیں کیا جاتا، تب تک تمغہ کی امید نہیں کی جانی چاہئے. بندرا نے اپنے ٹویٹ میں برطانیہ کے اخبار 'دی گارڈین میں شائع مضمون میں دئے اعداد و شمار کا حوالہ دیا ہے. آخر میں میں تو یہی کہوں گا کہ کل ملا کر کچھ کھلاڑیوں کی کارکردگی اچھی رہی پر میڈل لانے کے لئے اور سخت محنت، بہتر پلا ننگ اور طویل لمبی ٹریننگ پر زور دینا ہوگا. اولمپکس سے دو چار سال پہلے ٹریننگ سے گولڈ نہیں آ سکتا. ہمیں اسکول کی سطح سے ہی باصلاحیت کھلاڑیوں کو منتخب کرنا ہوگا اور تبھی سے ان ٹر یننگ،سہولیات پر توجہ دینی ہو گی۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...