Translater

15 دسمبر 2012

نہیں رہے بھارت کے انمول رتن پنڈت روی شنکر

بھارتیہ شاستری سنگیت کومغربی ممالک سمیت پوری دنیا میں مقبولیت دلانے والے مہان ستاروادک اور کمپوزر پنڈت روی شنکر نہیں رہے۔ ستار کے اس سرتاج کا امریکہ کے شہر سینڈڈیگو میں ہندوستانی وقت کے مطابق صبح6 بجے دیہانت ہوگیا۔ وہ92 برس کے تھے۔ پنڈت روی شنکر کے سازوں کے جادو کا اثر یہ تھا کہ دی ویلز جارج ہیری سن اور یہودی مینوہن جیسی سرکردہ شخصیات بھی ان سے زبردست متاثر تھیں۔ مغربی ممالک میں ہر گھر میں پہچان بنا چکے پہلے ہندوستانی تھے پنڈت روی شنکر ایک مکمل میوزک ماہر تھے اس لئے انہوں نے سنگیت کو کسی شیلی دھارا یا جغرافیائی حد کے اندر باندھ کر نہیں رکھا۔ سیکھا اور رچا۔ تاعمر مختلف شیلیوں کے انداز سے ملاتے ہوئے اپنے ستار کو زندہ رکھا۔ عالمی سنگیت میں بھارت کے وقار کو بنائے رکھا۔ یوں تو پنڈت روی شنکر نے میہر گھرانے کے استاد الاؤالدین خاں سے باقاعدہ ہندوستانی شاستری سنگیت میں ستار کی تعلیم لی تھی۔ مگر جلد ہی انہوں نے لوک سنگیت اور پاشچتے سنگیت وغیرہ کو جوڑ کر نئے تجربے کئے۔ اس میں انہیں آل انڈیا ریڈیو کی نوکری کرتے وقت زیادہ آسانی ہوئی۔ حالانکہ ان کے سنگیت کا سفر اپنے بھائی اور مشہور ڈانسر ادے شنکر کے ساتھ شروع ہوا تھا۔ جب وہ 10 سال کے تھے تو انہوں نے مختلف ملکوں کے دوروں پر جانا شروع کردیا تھا۔ اس دوران انہوں نے مختلف واد انسٹومنٹ بجانا سیکھا ۔ ساتھ ہی کئی زبانی اور مختلف ملکوں کا سنگیت بھی سیکھنے کی کوشش کی۔18 سال کی عمر تک روی شنکر اپنے استاد کے ساتھ رہے لیکن نرتیہ کلا میں عالمی پہچان بنانے کا حوصلہ ان میں آگیا اور انہوں نے ستار کے تاروں کو اپنی روح کی آواز بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ کیریئر اور کامیابی کے مقابلہ جاتی دور میں اس فیصلے کے پیچھے شدت کو سمجھنا تھوڑا مشکل ہے۔ روی شنکر کے لئے یہ فیصلہ محض اپنے راستے اپنی منزل پانے کی دھن بھر نہیں تھا۔ دراصل نرتیہ کا ساتھ چھوڑ کر وادن میدان میں آنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی انتھک کوششوں اور تجربوں کو نیا فروغ تھا۔ ستار اور روی شنکر ایک دوسرے کی علامت بن گئے جسے دیش اور دنیا کا سنگیت بھی دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ پنڈت روی شنکر نے ہندوستانی شاستری سنگیت میں تنہا اور ایک اجتماعی پروگراموں کے ذریعے دنیا بھر میں اپنے سنگیت کا جادو بکھیرا ۔ اسی طرح پاشچتے سنگیت کاروں کے ساتھ مل کر آرکیسٹرا کے ذریعے بھی خوب شہرت کمائی۔ حالانکہ ان کے شاستری سنگیت سماروہ میں آرکیسٹرا کے استعمال پر کئی لوگوں نے اعتراض کیا مگر پنڈت روی شنکر نے اس کی کبھی پرواہ نہیں کی۔ انہوں نے ملک بیرون ملک کئی نامی گرامی سنگیت کاروں کے ساتھ جگل بندیاں کیں اور سرود وادک علی اکبر خاں ، یہودی مینوہن ،جارج ریسن ،جوبن مہتہ وغیرہ کے ساتھ ان کے کام سب سے زیادہ سراہے گئے۔ ستیہ جیت رے کی فلم ’کابلی والا‘ اور رچرڈ اینرو کی ’گاندھی‘ فلم میں دئے ان کے سنگیت آج بھی یاد کئے جاتے ہیں۔’ گاندھی‘ فلم میں بنیادی سنگیت کے لئے انہیں بھاسکر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا کوی گورو رابندناتھ ٹیگور اور پنڈت روی شنکر تک بھارت کی پاسچوی تہذیبی روایت ایک ہی بات دوہراتی ہے کہ ہماری مقامیت اور عالمیت کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کی پورک ہے۔ اس کی محافظ ہے۔ ان کے جانے سے سنگیت دنیا کو گہرا جھٹکا پہنچا ہے۔پنڈت روی شنکر کے دیہانت پر نامی گرامی کمپنی گریمی ایوارڈ دینے والی ریکارڈنگ اکیڈمی نے اعلان کیا ہے کہ پنڈت روی شنکر کو بعد از مرگ لائف ٹائم اچیومنٹ گریمی ایوارڈ دیا جائے گا۔ یہ 10 فروری کو لاس اینجلس میں 55 ویں گریمی ایوارڈ تقریب میں دیا جائے گا۔ پنڈت روی شنکر یہ مایاناز ایوارڈ پانے والے پہلے ہندوستانی ہوں گے۔
(انل نریندر)

اور اب آئی سی یو میں گھس کر گولیاں داغیں

گوڑ گاؤں میں ایک ہسپتال میں ہوئی فائرنگ نے چونکادیا ہے۔ ایسے پہلے شاید کبھی ہوا ہے کہ ہسپتال کے آئی سی یو میں گھس کر مریضوں پر گولیاں چلائی گئی ہوں؟ مگر ایسا ہوا ہے گوڑ گاؤں کے سن رائس ہسپتال میں۔ باپ بیٹے آئی سی یو میں بھرتی تھے اس سے پہلے دونوں گروپوں میں مار پیٹ ہوئی۔ مارپیٹ میں ستبیر نامی شخص شدید طور سے زخمی ہوگیا۔ ستبیر کا بیٹا جوگیندر عرف جانی اسے گاؤں کے ہی ہسپتال میں لے گیا۔ اس کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے اسے آئی سی یو میں منتقل کیا جارہا تھا کہ اسی وقت دوسرے گروپ کے 8-9 لوگوں نے باپ بیٹے پر تابڑ توڑ پانچ گولیاں برسا دیں۔ پولیس کے مطابق جوگیند کے سر اور پیر میں گولیاں لگی ہیں اور ستبیر کے کندھے میں۔ مارپیٹ کے دوران اس کے سر میں شدید چوٹیں آئیں ہیں۔ ڈی سی پی نے بتایا کھانڈسا گاؤں میں ڈیڑھ سال پہلے جوگیندر اور منوج میں پراپرٹی کو لیکر جھگڑا شروع ہوا تھا۔ اس میں منوج کی شکایت پر جوگیندر اور اس کے چچیرے بھائی کے خلاف اقدام قتل کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ منگل کو سماعت کے دوران دوسرے گروپ کے لوگوں نے ان پر جان لیوا حملہ کردیا۔ زخمی باپ بیٹے اب میدانتا ہسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی حالت ابھی نازک بتائی جاتی ہے۔ ڈی سی پی کرائم مہیشور دیال نے بتایا کہ ملزمان کی دھڑ پکڑ کے لئے پانچ پولیس ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ دونوں لڑکوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حملہ آوروں کو پکڑنے کی کوشش جاری ہے۔ اس معاملے میں پولیس کی لاپرواہی اجاگر ہوئی ہے۔ اگر کورٹ میں سماعت کے دوران دونوں گروپوں میں ہوئے جھگڑے کو پولیس سنجیدگی سے لیتی تو شاید یہ تکلیف دہ حالات نہ پیدا ہوتے۔ وہیں میدانتا ہسپتال میں علاج کے دوران بیٹے کی موت کے بعد باپ کو دہلی ریفر کیا جانا بھی سوالوں کے گھیرے میں بتایا جارہا ہے۔ لیکن اتنا طے ہے کہ جب شہری اور دیہاتی علاقے کی 90فیصدی آبادی شہر کے انہی ہسپتالوں کے سہارے ہے۔ کئی ہسپتالوں میں میٹل ڈٹیکٹر تک نہیں ہے۔ کچھ بڑے ہسپتالوں میں ضرور خانہ پوری کے طور پر لگے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب ان ہسپتالوں میں فائرنگ کے واقعات ہونے لگے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج گوڑ گاؤں کا پھیلاؤ عالمی سطح کے شہر کی شکل میں ہورہا ہے۔ یہ شہر دنوں دن میڈیکل ہب بنتا جارہا ہے لیکن شہر کا دوسرا حصہ ایسا بھی ہے جس میں پرانے وقت کے کئی قدیمی ہسپتال بہتر علاج کا تو دم بھرتے ہیں لیکن سکیورٹی کو لیکر سنجیدہ نہیں ہیں۔ کئی میں تو گارڈ تک نہیں ہیں۔اگر سرکشا انتظامات صحیح ہوتے تو حملہ آور ہتھیار لے کر ہسپتال میں گھسنے کی جرأت نہیں کرپاتے اور ایک بڑے واقعہ سے بچا جاسکتا تھا۔
(انل نریندر)

14 دسمبر 2012

ہر فتویٰ سب پر نافذ نہیں:اسلامی دانشور

بازو پر ٹیٹو ہے تو نماز جائز نہیں ہے۔مسلم خاتون استقبالیہ میں نہیں بیٹھ سکتیں، موبائل فون پر مقدس قرآن پاک کی آیتیں لوڈ نہیں کی جاسکتیں۔ یہ کچھ ایسی فتوے ہیں جن کو لیکر حالیہ دنوں میں کئی سوال کھڑے ہوئے ہیں۔ جسم پر گدوائے جانے والے ٹیٹو کو مسلمانوں کے لئے مفتی کرام نے غیر شرعی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے ٹیٹو بنوانے سے جسم کی کھال پر خاص سیاہی آجاتی ہے جس پر وضو کا پانی بھی اثر نہیں کرتا۔درالعلوم کے فتوے کے محکمے سے ایک شخص نے یہ سوال پوچھا تھا کیا وہ ٹیٹو گدوا کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے ایک دوسرے فتوے میں مسلم خواتین کو استقبالیہ دفتر میں مقرر کئے جانے کے خلاف ایک فتوی جاری کرتے ہوئے اسے غیرشرعی اور ناجائز قراردیا ہے۔ پاکستان میں واقع ایک کمپنی نے دیوبند سے پوچھا تھا کیا وہ ایک مسلم عورت کو استقبالیہ ملازم مقرر کرسکتی ہے۔ اس کے جواب میں 29 نومبر کو فتویٰ ملا جس میں بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کسی ادارے یا کسی مفتی کی طرف سے جاری کیا گیا فتوی کیا سبھی مسلمانوں پر نافذ ہوگا؟ دیش کے بڑے مسلم عالموں کی مانیں تو ہر فتوی سبھی پر نافذ نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ حوالہ اور حالاتِ خاص پر منحصر کرتا ہے۔ حالانکہ بنیادی عقیدت سے وابستہ فتوے پر کسی مسلمان کے لئے عمل کرنا ضروری ہے۔ جامیہ ملیہ اسلامیہ کے اسلامک اسٹڈیز کے چیف پروفیسر اخترالواسیع کا کہنا ہے کہ زیادہ تر فتوؤں کے ساتھ حالات اور تقاضے جڑے ہوتے ہیں اور ایسے میں وہ سب لاگو نہیں ہوسکتے۔ واسیع صاحب کا کہنا تھا سبھی فتوے سب پر لاگو نہیں ہوتے۔ فتویٰ کسی سوال کا جواب ہوتا ہے۔ ایسے میں قابل غور بات یہ ہے کہ سوال کن حالات اور کن اسباب کے تحت پوچھا گیا ہے۔ مثال کے طور پر مسلم خاتون کے استقبالیہ میں ملازم ہونے سے وابستہ فتوی سب پر نافذ نہیں ہوسکتا۔ دیش کے سب سے بڑے اسلامی ادارے دارالعلوم دیوبند کے شعب�ۂ دارلافتاۂ کی جانب سے حال ہی میں بہت سے فتوے جاری ہوئے جو بحث کا موضوع بنے رہے۔ مثلاً اس نے کہا کے بازو پر ٹیٹو ہونے یا الکوحل ملے عطر کا استعمال کرکے نماز ادانہیں کی جاسکتی۔ دارالعلوم کی طرح سنی مسلمانوں کے ایک دوسرے مذہبی ادارے بریلی مرکزسے بھی کئی بار ایسے فتوے آتے رہے ہیں۔ کچھ مہینے پہلے اس نے ایک فتویٰ دیا تھا کہ اسلام میں تصوراتی نماز جائز ہے۔ اسلامی مسئلوں پر کئی بین الاقوامی تحقیق سے جڑے پروفیسر جنید حارث صاحب کا کہنا ہے اس کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔فتویٰ شرعی حکم ہے جو پوری طرح ہر ایک کے لئے ماننا ضروری ہے لیکن اگر کوئی فتویٰ غیر ضروری لگتا ہے تو اس کو ماننے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس بارے میں کسی بھی عالم یا مفتی سے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ایک فتویٰ سبھی پر نافذ نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا وقت کے ساتھ بہت سی چیزیں بدلی ہیں۔
(انل نریندر)

اور اب آئی سی یو میں گھس کر گولیاں داغیں

گوڑ گاؤں میں ایک ہسپتال میں ہوئی فائرنگ نے چونکادیا ہے۔ ایسے پہلے شاید کبھی ہوا ہے کہ ہسپتال کے آئی سی یو میں گھس کر مریضوں پر گولیاں چلائی گئی ہوں؟ مگر ایسا ہوا ہے گوڑ گاؤں کے سن رائس ہسپتال میں۔ باپ بیٹے آئی سی یو میں بھرتی تھے اس سے پہلے دونوں گروپوں میں مار پیٹ ہوئی۔ مارپیٹ میں ستبیر نامی شخص شدید طور سے زخمی ہوگیا۔ ستبیر کا بیٹا جوگیندر عرف جانی اسے گاؤں کے ہی ہسپتال میں لے گیا۔ اس کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے اسے آئی سی یو میں منتقل کیا جارہا تھا کہ اسی وقت دوسرے گروپ کے 8-9 لوگوں نے باپ بیٹے پر تابڑ توڑ پانچ گولیاں برسا دیں۔ پولیس کے مطابق جوگیند کے سر اور پیر میں گولیاں لگی ہیں اور ستبیر کے کندھے میں۔ مارپیٹ کے دوران اس کے سر میں شدید چوٹیں آئیں ہیں۔ ڈی سی پی نے بتایا کھانڈسا گاؤں میں ڈیڑھ سال پہلے جوگیندر اور منوج میں پراپرٹی کو لیکر جھگڑا شروع ہوا تھا۔ اس میں منوج کی شکایت پر جوگیندر اور اس کے چچیرے بھائی کے خلاف اقدام قتل کا معاملہ درج کیا گیا تھا۔ یہ معاملہ کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ منگل کو سماعت کے دوران دوسرے گروپ کے لوگوں نے ان پر جان لیوا حملہ کردیا۔ زخمی باپ بیٹے اب میدانتا ہسپتال میں زیر علاج ہیں جہاں ان کی حالت ابھی نازک بتائی جاتی ہے۔ ڈی سی پی کرائم مہیشور دیال نے بتایا کہ ملزمان کی دھڑ پکڑ کے لئے پانچ پولیس ٹیمیں بنائی گئی ہیں۔ دونوں لڑکوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حملہ آوروں کو پکڑنے کی کوشش جاری ہے۔ اس معاملے میں پولیس کی لاپرواہی اجاگر ہوئی ہے۔ اگر کورٹ میں سماعت کے دوران دونوں گروپوں میں ہوئے جھگڑے کو پولیس سنجیدگی سے لیتی تو شاید یہ تکلیف دہ حالات نہ پیدا ہوتے۔ وہیں میدانتا ہسپتال میں علاج کے دوران بیٹے کی موت کے بعد باپ کو دہلی ریفر کیا جانا بھی سوالوں کے گھیرے میں بتایا جارہا ہے۔ لیکن اتنا طے ہے کہ جب شہری اور دیہاتی علاقے کی 90فیصدی آبادی شہر کے انہی ہسپتالوں کے سہارے ہے۔ کئی ہسپتالوں میں میٹل ڈٹیکٹر تک نہیں ہے۔ کچھ بڑے ہسپتالوں میں ضرور خانہ پوری کے طور پر لگے ہیں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اب ان ہسپتالوں میں فائرنگ کے واقعات ہونے لگے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ آج گوڑ گاؤں کا پھیلاؤ عالمی سطح کے شہر کی شکل میں ہورہا ہے۔ یہ شہر دنوں دن میڈیکل ہب بنتا جارہا ہے لیکن شہر کا دوسرا حصہ ایسا بھی ہے جس میں پرانے وقت کے کئی قدیمی ہسپتال بہتر علاج کا تو دم بھرتے ہیں لیکن سکیورٹی کو لیکر سنجیدہ نہیں ہیں۔ کئی میں تو گارڈ تک نہیں ہیں۔اگر سرکشا انتظامات صحیح ہوتے تو حملہ آور ہتھیار لے کر ہسپتال میں گھسنے کی جرأت نہیں کرپاتے اور ایک بڑے واقعہ سے بچا جاسکتا تھا۔
(انل نریندر)


13 دسمبر 2012

کیا لابنگ کے نام پررشوت یا دلالی دی گئی ہے؟

خوردہ کاروبار میں سرمایہ کاری کے اپنے فیصلے پر پارلیمانی اکثریت کا انتظام کرنے کے لئے یوپی اے حکومت نے کیسی کیسی ترکیبیں اپنائیں اور کچھ پارٹیوں میں ووٹنگ نے وقت کس طرح سے پینترے بدلے۔ اس کی بحث ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ ایک اور تنازعے نے طول پکڑ لیا ہے۔ خبر ہے کہ امریکہ کی بڑی کمپنی والمارٹ نے خوردہ کاروبار میں سرمایہ کاری کی اجازت کی خاطر لابنگ کی مد میں پچھلے چار برسوں میں 250 لاکھ ڈالر یعنی قریب سوا سو کروڑ روپے خرچ کئے۔ غور طلب ہے کہ یہ کسی کا الزام نہیں بلکہ یہ حقیقت خود والمارٹ کی ایک رپورٹ بتاتی ہے جو اس نے امریکی سینیٹ کو سونپی ہے۔ 300 ارب ڈالر سے زائد کے ہندوستانی خوردہ بازار پر نظر رکھنے والی والمارٹ نے اپنے حق میں گول بندی کرنے کے لئے سواسو کروڑ روپے پھونک دئے۔ وہ چاہتی تھی کہ کسی بھی طرح بھارت کا بازار اس کے لئے کھول دیا جائے۔ بیشک یہ اپنے کاروباری مفادات کی تکمیل کے لئے خرچ کی گئی رقم ہے اور امریکہ میں اس طرح کی لابنگ کو اجازت حاصل ہے۔ مگر بھارت میں والمارٹ کی بے تابی اور طور طریقے مشتبہ لگے ہیں۔ لابنگ اور کمیشن ایجنٹ شپ بھارت کو پوری طرح ممنوع ہے۔ یہاں اس کا مطلب سیدھے رشوت خوری سے لگایا جاتا ہے جو کرپشن مخالف قانون کے تحت ایک جرم ہے۔ سابق وزیر قانون اور سینئر وکیل شانتی بھوشن کے مطابق والمارٹ نے ایف ڈی آئی پر لابنگ کی ہے تو یہ معاملہ صاف طور سے رشوت کا ہے۔ کمپنی نے اسی شخص کو پیسہ دیا ہوگا جو دیش میں ایف ڈی آئی کو اجازت دلانے کی طاقت و اہلیت رکھتا ہے۔ بھوشن فرماتے ہیں کہ کچھ برس پہلے دفاعی سامان خرید معاملے میں ایجنٹوں کو اجازت دینے کی تجویز تھی۔ اس میں ایجنٹ کسی کمپنی یا دیش کی جانب سے جو صرف اپنے پروڈکٹس کو بہتر بنانے کے لئے سرکار سے بات کرتے تھے جس کے لئے فیس طے ہوتی ہے۔ یہ اسی طرح سے ہے جیسے ایک وکیل اپنے موکلوں کا موقف کورٹ میں رکھنے کے لئے فیس لیتا ہے، جو پوری طرح سے جائز ہے۔ لیکن بوفورس سودے میں دھاندلی کے پیش نظر اس ریزولیوشن کو نامنظور کردیا گیا۔ اس کے علاوہ کارپوریٹ لابسٹ نیرا راڈیہ نے بھی ٹو جی اسپیکٹرم لائسنس دلانے کے لئے مبینہ طور پر لابنگ کی تھی۔ یہ ہی نہیں والمارٹ نے بھارت میں ایف ڈی آئی پر جاری بحث کو متاثر کرنے کے لئے بھی رقم خرچ کی ہے۔ایسے میں یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ کیا ملٹی برانڈ خوردہ میں ایف ڈی آئی کا دروازہ کھولنے کے لئے یوپی اے سرکار پر کسی طرح کا دباؤ تھا؟ آخر وہ کونسے لوگ ہیں جنہیں والمارٹ نے متاثر کیا اور پیسہ دیا؟ ان میں کتنے ہندوستانی شامل ہیں۔پچھلے برس ایف ڈی آئی کا فیصلہ ٹالنے کے بعد سے یوپی اے سرکار کو جس طرح سے بین الاقوامی میڈیا اور دوسری ایجنسیوں کی تنقید جھیلنی پڑی تھی کیا وہ اس پر دباؤ بنانے کا ہتھکنڈہ تھا؟ کیونکہ بھارت میں لابنگ غیر قانونی ہے اور کروڑوں روپے کمپنی نے اس مقصد سے خرچ کئے ہیں۔ یہاں اس کی بہتر رہنمائی ہوسکے اس لئے سوال اٹھنے لگے ہیں کہ سرکار پر دباؤ ہوگا کہ وہ شفافیت کے ساتھ یہ بات کہے کہ اس کی پالیسی سازی ترجیحات کا نہ تو کسی کمپنی خاص سے کوئی لینا دینا ہے اور نہ ہی اس کی سرگرمی سے۔ سرکار کا جواب اس نقطہ نظر سے بھی صاف ہونا چاہئے کہ وہ اس بابت دیش کو واقف کرائے۔ اگر ایف ڈی آئی کا دروازہ تمام اعتراضات کے باوجود بھی کھولا جارہا ہے تو اس میں کسی کا ذاتی مفاد نہیں ہے۔ دراصل صاف تو یہ ہونا چاہئے اگر کوئی ادائیگی ہوئی تو وہ کسے کی گئی اور کس منشا سے؟ 
(انل نریندر)

اور اب سرکاری نوکریوں میں ترقی کا پینچ پھنسا

سرکاری ملازمتوں میں ترقی میں بھی ایس سی ایس ٹی کو ریزرویشن کا اشو سرکار کے لئے گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔ جہاں بہوجن سماج پارٹی نے دو تین دنوں کے اندر اس کے لئے آئینی (ترمیمی) بل پارلیمنٹ میں پیش نہ کرانے پر سرکار کے خلاف کسی حد تک جانے کی دھمکی دے ڈالی ہے وہیں سماجوادی پارٹی اس بل کو کسی بھی قیمت پر پاس نہ ہونے دینے کی بات کہہ رہی ہے۔ سماجوادی پارٹی کی وجہ سے ترقی میں ریزرویشن سے متعلق بل کو حکومت راجیہ سبھا میں پیش نہیں کرپائی۔ وزیر مملکت پرسنل نارائن سوامی نے اس پر بحث شروع کرنے کی کوشش کی لیکن سپا کی زور دار مخالفت کے سبب کارروائی ملتوی کرنی پڑی۔ سرکاری نوکریوں میں درجہ فہرست ذاتوں و قبائلی طبقات کو ترقی پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ ہونا کوئی غیر متوقعہ بات نہیں ہے۔ اس کے پورے آثار تھے یہ بھی صاف تھا کہ جہاں بہوجن سماج پارٹی اس بل کو ہر حال میں پاس کروانا چاہے گی وہیں سماجوادی پارٹی ایسا نہ ہونے دینے کے لئے پورا زور لگادے گی۔ آخر کار ایسا ہی ہوا اور اسکے چلتے پارلیمنٹ ہنگامے کا شکار ہوگئی۔ لیکن یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس پر زور زبردستی کی سیاست کی جائے یا ووٹ بینک کی سیاست کے حساب سے فیصلہ لیا جائے۔ یہ دیش کی بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ ایسا ہورہا ہے۔ ہمیں تو یہ سمجھ میں آتا ہے کہ سپا بسپا اپنے اپنے ووٹ بینک کو اہمیت دیں لیکن اس کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتیں یہ ایک حساس ترین اشو ہے اور آئینی ترمیم سے جڑا ہوا اشو ہے۔ اتنا ہی نہیں یہ آئینی ترمیم ترقی میں ریزرویشن پر سپریم کورٹ کے اہم فیصلے کے بعد کیا جارہا ہے۔ اسی سے وابستہ ایک اور مسئلہ سپریم کورٹ میں آیا ہے۔ فوج میں مذہب ،ذات اور علاقے کی بنیاد پر ہونے والی بھرتیوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ جسٹس کے۔ ایس ۔رادھا کرشن اور جسٹس دیپک مشرا کی بنچ نے ڈاکٹر آئی ایس یادو کی مفاد عامہ کی عرضی کو سماعت کیلئے داخل کرلیا ہے۔ عدالت نے سالیسٹر جنرل روہٹن نریمن سے پوچھا ہے کہ کیا فوج میں مذہب، ذات اور خطے کی بنیاد پر تقرری مناسب ہے؟ ڈاکٹر یادو کا کہنا ہے کہ ایئرفورس و بحریہ کے برعکس فوج میں مذہب، ذات اور خطے کی بنیاد پر امتیاز ہوتا ہے جو نہیں ہونا چاہئے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ آئینی تقاضہ ذات، مذہب یا خطے کی بنیاد پر کسی کے ساتھ امتیاز برتتا۔فوج میں 15 لاکھ لوگ کام کرتے ہیں ان میں سے25 فیصد ہر سال ریٹائرڈ ہوتے ہیں۔ مادرِ وطن کی خدمت کرنے کا حق کسی طبقہ خاص کے لئے نہیں ہے۔ سیاسی پارٹیوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ نوکریوں میں ترقی جیسے حساس ترین اشو کے حل کا کوئی ایسا فارمولہ نکالے جس سے نہ کوئی درجہ فہرست یا شیڈول قبائل کے مفادات کی خلاف ورزی نہ ہو اور نہ ہی دیگر طبقوں کے سرکاری ملازمین میںیہ احساس پیدا ہو کہ ان کے حقوق میں غیر ضروری کٹوتی کی جارہی ہے۔ آئینی نکتہ نظر سے اس کا جواز نہیں کہ نوکری میں ریزرویشن کا فائدہ پانے والے ترقی میں بھی ریزرویشن کی سہولت حاصل کریں لیکن سماجی ماحول اور امتیاز یا کسی اسباب سے ان ذاتوں کے طبقات کے سرکاری ملازم اعلی عہدوں پر نہیں پہنچ پارہے ہیں تو پھر سرکار کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ترقی کے موجودہ سسٹم میں بہتری لائیں۔ یہ بہتری کچھ اس طرح کی ہونی چاہئے جس سے اہلیت اور جواز نظرانداز نہ ہو پائے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ جس خاندان کو ایک بار ریزرویشن کا فائدہ مل چکا ہو اسے پیڑھی در پیڑھی یہ فائدہ ملتے رہنا چاہئے؟ ویسے اگر ہم اترپردیش میں دیکھیں تو یہ طریقہ تو ایک طرح سے گھما پھرا کر لاگو کررہی ہے۔ جب سماجوادی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو ایک طبقہ خاص کو ترجیح ملتی ہے اور جب بہوجن سماج پارٹی آتی ہے تو یہ دوسرے طبقہ خاص کو آگے بڑھاتی ہے۔ ہاں سینٹرل سروسز میں ابھی یہ سلسلہ نہیں چل رہا ہے۔
(انل نریندر)


12 دسمبر 2012

کرناٹک میں بری پھنسی بھاجپا ادھر کنواں تو ادھر کھائی

جنوبی ہندوستان میں بھاجپا کو پہلی بار اقتدار دلانے والے دبنگ لیڈر بی ایس یدی یروپا کے آخر کار پارٹی سے بغاوت کر نئی پارٹی کے اعلان کے بعد کرناٹک میں بھاجپا سرکار پر عدم استحکام کے بادل منڈرانے لگے ہیں۔ آج ایک بار پھر کرناٹک میں بھاجپا کو اپنے کو دوراہے پر کھڑا پا رہی ہے۔ آج جب پورے دیش میں ممکنہ سیاسی تصویر کی بات ہورہی ہے اور بھاجپا مرکز میں اقتدار میں آنے کا خواب لے رہی ہے ایسے وقت میں کرناٹک میں اس کی سرکار کے مستقبل کو لیکر قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ ایتوار کو یدی یروپا کی کرناٹک جنتا پارٹی کی ریلی میں بھاجپا کے 13 ممبران کے شامل ہونے کے بعد کھلبلی مچ گئی ہے۔ 224 نفری اسمبلی میں بھاجپا سے118 ممبر ہیں جبکہ کانگریس کے71 ، جنتا دل (ایس ) کے 26 اور 7 آزاد ممبران ہیں۔ بھاجپا سے 13 ممبران کے نکل جانے کے بعد ان کی تعداد105 رہ جائے گی۔ یہ اکثریت کے نمبر سے کافی کم ہے۔ کرناٹک میں بھاجپا کی مشکل یہ ہے کہ باغی اپنے اوپر کارروائی کرنے کی پارٹی لیڈر شپ کو کھلی چنوتی دے رہے ہیں ،وہیں پارٹی کو یہ بھی پتہ ہے کہ اگر ڈسپلن شکنی کا ڈنڈاچلایا گیا تو سرکار کا گرنا طے ہے۔ پارٹی کے سینئر لیڈر کے مطابق کیونکہ کرناٹک اسمبلی کے چناؤ اپریل کے مہینے میں ہوسکتے ہیں ایسے میں ممبران کے خلاف پارٹی کوئی کارروائی کرتی ہے تو یہ آگ میں گھی ڈالنے جیسی ہوگی۔ یہ ہی نہیں ڈسپلن شکنی کی کارروائی کرنے پر باغیوں کی تعداد بھی بڑھے گی اور ان کی طاقت بھی۔ اگرچہ پارٹی کوئی کارروائی نہیں کرتی تو اس کا پیغام نہ صرف کرناٹک بلکہ پورے دیش میں پارٹی ورکروں کے درمیان غلط پیغام دے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کرناٹک ایسی ریاست ہے جس نے جنوبی ہندوستان کی سیاست میں بھاجپا کی مضبوط پیٹ کے امکان کو بنیاد فراہم کی تھی لیکن کرپشن اور اندرونی رسہ کشی نے پارٹی کے اس امکان کو مدھم کرکے رکھ دیا ہے۔ کرناٹک میں بھاجپا ایک طرح سے اسی طرح کی علاقائی واد ساکھ کی سیاست سے لڑ رہی ہے جس طرح آندھرا پردیش میں کانگریس۔ بھاجپا کی مشکل یہ ہے کرناٹک میں یدی یروپا کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اس کی اب کوئی گنجائش نہیں بچی ہے۔ مرکز میں کرپشن کے اشو پر یوپی اے سرکار کو گھیرنے کو لیکر کرناٹک کی حالت پہلے ہی پارٹی کو کافی نقصان پہنچا چکی ہے اور دوسری طرف یدی یروپا کے بغاوتی تیوروں کے ساتھ وزیر اعلی جگدیش شیٹر کتنے دن اور اپنی سرکار چلا سکتے ہیں۔ اگلے کچھ دن میں کرناٹک کی سیاست میں تبدیلی کافی دلچسپ ہوسکتی ہے۔ اس درمیان ممکن ہے کہ وزیر اعلی جگدیش شیٹر خود ہی اسمبلی توڑنے کی سفارش کردیں کیونکہ ایسی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ یہ اہم فیصلہ کسی بھی وقت آسکتا ہے اگر شیٹر اسمبلی توڑ دیتے ہیں تو ایک طرف پارٹی اور سرکار پوری طرح اگلے چھ مہینے میں ہونے والے چناؤ پر توجہ دے گی وہیں کسی بھی وقت سرکار کے گرنے کا خطرہ بھی ٹک جائے گا۔ اس کے برعکس یدی یروپا کی رہنمائی والی کرناٹک جنتا پارٹی اب سیدھے بھاجپا کے خلاف مورچہ کھول کر ریاست میں حمایت اور تنظیم کی اپنی زمین کو مضبوط کرناچاہیں گے حالانکہ بھاجپا لیڈر شپ اب بھی ڈیمیج کنٹرول کرنا چاہے گی اور اب امید کرے گی کہ کچھ اور وقت نکل جائے۔
  1. (انل نریندر)

زی گروپ پر بھاری پڑتے نوین جندل

زی نیوز بنام نوین جندل معاملے میں جندل بھاری پڑتے نظر آرہے ہیں۔ جہاں سدھیر چودھری اور سمیر اہلووالیہ تہاڑ جیل میں بند ہیں اور دو بار ان کی ضمانت مسترد ہوچکی ہے وہیں مالک سبھاش چندرا اور ان کے بیٹے پنیت گوئنکا کو تھوڑی مشقت کے بعد راحت مل گئی ہے۔ دہلی کی میٹرو پولیٹن عدالت نے والد و بیٹے کو انترم راحت دیتے ہوئے ان کی گرفتاری پر14 دسمبر تک روک لگادی ہے۔ عدالت نے سبھاش چندرا اور زی انٹرٹینمنٹ کے منیجنگ ڈائریکٹر گوئنکا کو جانچ میں شامل ہونے اور تعاون کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جانچ کرنے والی دہلی پولیس کو بھی عدالت نے ہدایت دی کہ وہ14 دسمبر کو ایک تازہ رپورٹ دائر کرے۔ عدالت نے چندرا اور گوئنکا کو بھی ہدایت دی کے وہ پولیس کے پاس اپنا پاسپورٹ جمع کرادے۔ ایڈیشنل سیشن جج راج رانی مترا نے کہا میں نے بڑی توجہ سے بحث سنی ہے اور میرے سامنے رکھے گئے دستاویزات کا بھی مطالع کرتے ہوئے معاملے کے حالات اور سنجیدگی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ بچاؤ وکیل اس بارے میں کوئی نتیجہ نہیں پہنچا ہے۔ عرضی گذاروں کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ ضروری ہے یا نہیں۔جس طرح سے یہ معاملہ ابھی تک چلا ہے اس میں دو تین باتیں تو ابھر کر سامنے آرہی ہیں ،پہلی کہ نوین جندل نے پوری تیاری کرکے ہی معاملہ درج کرایا ہے اورا ن کے ثبوتوں کی ابھی تک زی والے کاٹ نہیں کرسکے، نہ ہی زی والے ابھی تک اپنے بچاؤ میں کوئی ٹھوس ثبوت لے کر آئے ہیں۔زی چینل ڈفینسنگ موڈ میں دکھائی پڑ رہا ہے۔ تعجب اس بات کا بھی ہے کوئی الیٹرانک میڈیا نیوز چینل اخبار زی نیوز چینل کی حمایت لیتا نظر نہیں آرہا ہے۔ سدھیر چودھری اور سمیر اہلووالیہ کی بیشک دو مرتبہ ضمانت عرضی خارج ہوچکی ہے لیکن اس پر اوپری عدالتوں میں ضمانت لینے کی کوشش کیوں نہیں کی جارہی ہے؟ موصولہ اشاروں سے پتہ لگتا ہے کہ جندل گروپ سے 100 کروڑ روپے کی مانگ کے معاملے میں زی نیوز چینل کے چیئر مین سبھاش چندرا پر 286 سیکنڈ بھاری پڑ سکتے ہیں۔ زی نیوز کے مدیر سدھیر چودھری اور سمیر اہلووالیہ کی جب حیات ہوٹل میں جندل گروپ کے حکام کے ساتھ میٹنگ ختم ہوئی تو سمیر نے سبھاش چندرا سے فون پر تقریباً5 منٹ بات کی تھی۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ چندرا اور گرفتار مدیروں کو آمنے سامنے بٹھا کر یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ اس دوران کیا بات ہوئی تھی؟ کرائم برانچ نے دعوی کیا ہے پولیس کے پاس چندرا کے خلاف کافی ثبوت ہیں۔ پولیس کے ذرائع نے بتایا ہوٹل کی میٹنگ ختم ہونے کے بعد ہوئی یہ بات چیت ہی چندرا کے خلاف ثبوت بنتی جارہی ہے۔ مدیروں کی جندل گروپ کے ساتھ تین ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ مدیر میٹنگ سے پہلے اور بعد میں بھی چندرا سے بات کرتے تھے۔ موبائل کال ریکارڈ سے یہ بات صاف ہوئی ہے۔ دوسری طرف زی گروپ نے جندل سے روپے وصولنے کے لئے جو قانونی کاغذات تیار کئے تھے ان میں100 کروڑ روپے چیک سے دینے کی بات کہی تھی۔ چیک زی گروپ کے نام سے مانگے گئے تھے۔ وصولی کا قانونی لیٹر زی گروپ کے ٹین اسپورٹس کے لا ڈپارٹمنٹ میں تعینات ایڈوائزر وریش دویہار نے بنایا تھا۔ کرائم برانچ نے پوچھ تاچھ کے لئے انہیں بلایا تھا لیکن وہ پیش نہیں ہوئے۔ ابھی تک تو یہ کہا جائے گا کہ نوین جندل زی گروپ پر بھاری پڑ رہے ہیں۔
(انل نریندر)

11 دسمبر 2012

ابھی لمبی ہے ایف ڈی آئی کی راہ!


والمارٹ نے امریکی سینیٹ کو دی گئی اپنی رپورٹ میں قبول کیا ہے کہ اس نے بھارت میں سرمایہ کاری اور دیگر لابنگ سرگرمیوں پر اس نے2008 ء سے 2.5 کروڑ ڈالر یعنی (تقریباً125 کروڑ روپے) خرچ کئے ہیں۔ اس میں بھارت میں ایف ڈی آئی پر بحث سے متعلق اشو بھی شامل ہے۔ سہ ماہی کے دوران والمارٹ نے امریکی سینیٹ اور امریکی ایوان نمائندگان، امریکی ٹریڈ انجمن اور امریکی محکمہ خارجہ کے سامنے اپنے معاملے میں لابنگ کی ہے۔ امریکہ میں کمپنیوں کو کسی معاملے میں محکموں یا ایجنسیوں کے سامنے لابنگ کی اجازت تو ہے لیکن لابنگ پر ہوئے خرچ کی رپورٹ سہ ماہی کی بنیاد پر سینیٹ میں دینی ہوتی ہے۔ ادھر جیسی امید تھی امریکہ نے ایف ڈی آئی کو منظوری دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ اس نے کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اشتراک مزید مضبوط ہوگا۔ موصولہ اشاروں سے لگتا ہے کہ دہلی میں سب سے پہلے والمارٹ اپنے اسٹور کھولے گی۔ دہلی سرکار نے سب سے پہلے ایف ڈی آئی کے لئے اپنا ماڈل ایکٹ تیار کرلیا ہے۔ دہلی کیبنٹ کی منظوری ملتے ہیں اس ماڈل ایکٹ کو مرکزی سرکار کو بھیج دیا جائے گا۔ مرکز کی ہری جھنڈی ملتے ہیں دہلی غیر ملکی خوردہ اسٹور چلانے والی کمپنیوں کے لئے دروازے کھول دے گی۔سب سے پہلے ایف ڈی آئی کو منڈیوں میں لایا جائے گا۔ ادھر والمارٹ کے پریسیڈینٹ اور سی ای او (ایشیا) اسکاٹ پرائس نے امید ظاہر کی ہے والمارٹ ڈیڑھ سال کے اندر بھارت میں اپنی خوردہ دوکانیں کھول سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا گیا ہے کہ بھارت میں کتنے اسٹور کھولے جانیں ہیں۔ پرائس نے یہ بھی کہا کہ کمپنی بھارتیہ انٹرپرائز کے ساتھ چل رہے 17 اسٹورو کی سانجھے داری رکھے گی۔ سرکار نے ملٹی برانڈ خوردہ میں ایف ڈی آئی پر بھلے ہی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں منظوری حاصل کرلی ہو لیکن عام آدمی کو غیر ملکی پرچون کی دوکانوں کے لئے بھی ابھی انتظارکرنا پڑے گا۔ دیش کے کئی شہروں میں تو2014ء کے عام چناؤ کے بعد ہی یہ سہولت حاصل ہوگی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرکار کے اس فیصلے کو قطعی شکل دینے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ سرکار نے ایک شرط جوڑی ہے جس کے مطابق ایف ڈی آئی کا کم سے کم 50 فیصدی حصہ تین سال کے اندر کولڈ اسٹوریج بنانے جیسی سہولیات پر خرچ ہونا چاہئے۔ خاص بات یہ ہے کہ کولڈ اسٹوریج کے لئے زمین خریدنے یا کرائے پر خرچ نہیں مانا جائے گا۔ اس کے علاوہ2014ء میں ہونے والے عام چناؤ کے چلتے بھی کئی ریاست ایف ڈی آئی لاگو کرنے میں تیزی سے بچ سکتی ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر پارٹیوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔ پارلیمنٹ کی منظوری ملتے ہیں مرکزی وزارت تجارت دنیا کی چار سب سے بڑی خوردہ کمپنیوں کے قریب تین درجن پرستاؤ پر عمل کرنے کی تیاری میں لگ گئی ہے۔ ان میں سے قریب 10 تجاویز امریکی کمپنی والمارٹ سے آ چکی ہیں۔ قریب اتنی ہی تجاویز سوئڈن کی مشہور فرنیچر کی سب سے بڑی خوردہ کمپنی یین آر نے دی ہیں۔ برطانیہ کے سب سے بڑے ریٹیل برانڈ ٹیسکو سے 8 اور فرانس کی ملٹی نیشنل کمپنی کیئر فور سے 6تجاویز آئی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر تجاویز غذائیت، کپڑا، الیکٹرانک سامان اور تکنالوجی کے سامان سے وابستہ ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنیوں نے گفٹ آئٹم، کتابیں، کھلونیں اور دوسری قسم کے سامان بیچنے کے لئے بھی تجاویز دی ہیں۔ ریاست میں ان کی پہلی پسند مہاراشٹر۔ہریانہ ہیں۔ ان دونوں ریاستوں میں سب سے زیادہ دوکانیں کھولنے کی تجویزیں آئی ہیں۔
(انل نریندر)

مصر کے تحریر چوک سے شروع ’انقلاب ‘اب بھی جاری ہے

ایک کامیاب انقلاب کے بعد جمہوریت کے قیام اور آئین بنانے کی ڈگر کافی مشکل ہوتی ہے۔ ہم نے اپنے پڑوسی ملک نیپال کا حال دیکھا ہے۔ نیپال میں اب تک اس مسئلے کا حل نہیں نکل سکا جس سے دیش کے تحریر چوک سے عرب دنیا میں انقلاب شروع ہوا ، اسی ملک کا اتنے دن گزرنے کے بعد بھی برا حال ہے۔ میں مصر کی بات کررہا ہوں۔ ڈکٹیٹر حسنی مبارک کو معذول کرنے والی مصری عوام ایک مرتبہ پھر تحریر چوک پر اتر آئی ہے اور اس بار نشانے پر ہیں موجودہ صدر محمد مورسی۔ اس کی وجہ ہے ان کا ایک متنازعہ اعلان۔22 نومبر کو مورسی نے ایک آئینی فرمان جاری کیا۔ اس کے مطابق ان کے کام کاج کو قانونی طور پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ مطلب یہ ہے وہ جو فیصلہ کریں گے کوئی بھی اس میں دخل نہیں دے پائے گا۔ حالانکہ انہوں نے مصر کا نیا آئین بنا رہی آئینی اسمبلی کی سکیورٹی کے سلسلے میں یہ سسٹم بنانے کی بات کہی ہے۔ اس کے علاوہ حسنی مبارک کے وقت میں جن لوگوں پر مظاہرین میں شامل لوگوں پر ظلم ڈھانے کا الزام تھا ان کے خلاف پھر سے مقدمہ چلانے کی بات کہی گئی ہے۔ مورسی کا کہنا ہے کہ یہ اعلان تب تک نافذالعمل رہے گا جب تک دیش کے نئے آئین پر ریفرنڈم نہیں ہوجاتا۔ مورسی کے اس اعلان کے بعد سے ہی دیش میں احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ لبرل سمیت دوسری اپوزیشن پارٹیوں نے ان کے اس قدم کی پر زور مخالفت کی ہے۔ ججوں کی برادری اس اعلان کی مخالفت کررہی ہے۔ ججوں کے گروپ کی سپریم کونسل کا کہنا ہے کہ یہ دیش کی عدلیہ کی آزادی پر زبردست حملہ ہے۔ مورسی پر کھلے عام الزامات لگائے جارہے ہیں کہ وہ تو مبارک سے بھی زیادہ طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ دیش میں اسلامی قانون نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ مصر میں حالات مسلسل کشیدہ ہورہے ہیں۔ اپوزیشن مظاہرین نے صدارتی محل کے باہر کھڑی کی گئی رکاوٹوں کو بھی توڑ دیا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو صدارتی محل پہنچنے سے روکنے کے لئے یہ رکاوٹیں کھڑی کی تھیں۔ ہزاروں لوگوں نے راجدھانی قاہرہ میں مارچ نکالا اور اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کی۔ صدر محمد مورسی کی اپیل کو نامنظور کردیا۔ مصر کی چناؤ کمیٹی چیف کا کہنا ہے کہ بیرون ملک میں مقیم مصری شہریوں کے لئے ووٹنگ میں اب دیر ہوگی۔ یہ لوگ ریفرنڈم میں ووٹ کرنے والے تھے۔ ہزاروں لوگ مانگ کررہے ہیں کہ ریفرنڈم ٹال دیا جائے۔ مصر کے نائب صدر محمود مکی نے اشارہ دیا تھا کہ صدر ریفرنڈم ٹالنے پر راضی ہوسکتے ہیں اگر یہ قانونی طور پر قابل قبول طریقے سے کیا جائے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے صدر نے اپنے اختیارات میں توسیع کرنے اور نئے آئین کے مسودے پر کوئی رعایت نہیں دی ہے۔ اس مسودے پر 15 دسمبر کو ریفرنڈم ہونا ہے۔ مصر کے کئی شہروں میں سرکار مخالفین اور حمایتیوں نے مظاہرے کئے ہیں۔ مورسی حمایتیوں نے مصر میں ہوئے تشدد میں مارے گئے لوگوں کی موت کا بدلہ لینے کا عزم دوہرایا ہے اور بھیڑ نعرے لگا رہی تھی کہ’ مصر اسلامی ملک ہے، یہ سیکولرازم یا اصلاح پسند دیش نہیں بنے گا‘۔ کل ملا کر مصر میں حالات دھماکہ خیز بنے ہوئے ہیں۔ تحریر چوک سے شروع ہوا انقلاب ابھی تک جاری ہے۔ مصر میں ڈرامائی تبدیلی میں دیش کے اسلامی صدر محمد مورسی نے خود کو وسیع اختیارات دینے والے متنازعہ فرمان کو ایتوار کے دن منسوخ کردیا لیکن اپوزیشن کے اس مطالبے کو نامنظور کردیا کہ نئے آئین پر ریفرنڈم ٹال دیا جائے۔ ریفرنڈم اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق15 دسمبر کو ہی ہوگا۔
(انل نریندر)

09 دسمبر 2012

چدمبرم ہوسکتے ہیں کانگریس کے 2014 میں پی ایم امیدوار؟

کانگریس آئے دن بھاجپا کے امکانی وزیر اعظم پر تو سوال جواب کرتی ہی رہتی ہے لیکن عوام کو کانگریس یہ بھی تو بتائے کہ2014ء کے چناؤ میں اس کا وزیر اعظم امیدوار کون ہوگا؟ابھی تک تو ہمیں یہ ہی خیال تھا کہ یووراج راہل گاندھی کانگریس کے امکانی وزیر اعظم ہیں لیکن اس دوڑ میں وزیر خزانہ پی چدمبرم کہاں سے ٹپک پڑے؟ اس کڑی میں نیا باب تب جڑگیا جب برطانوی میگزین’ دی اکنامسٹ‘ نے لکھ دیا کہ اگر کانگریس تیسرے مرتبہ اقتدار میں آئی تو وزیر خزانہ پی چدمبرم وزیر اعظم کے لئے امیدوار ہوں گے۔ میگزین کے مطابق اگلا لوک سبھا چناؤ معیشت کے اشو پر مرکوز ہوسکتا ہے۔ بی جے پی کے امکانی امیدوار نریندر مودی کو ایک اچھا اقتصادیاتی منیجر مانا جاتا ہے ایسے میں کانگریس کی جانب سے چدمبرم کو وزیر امیدوار بنایا جاسکتا ہے۔کانگریس کی ترجمان رینوکا چودھری نے اس پر فوری رد عمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کانگریس پارٹی وزیر اعظم کے عہدے کے لئے امیدوار اعلان کرتی۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کسی لیڈر کو وزیر اعظم بنانے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ میگزین کا کہنا ہے کہ موجودہ وزیر اعظم منموہن سنگھ 2014 ء تک 80 برس کو پار کرجائیں گے۔ کانگریس سکریٹری جنرل راہل گاندھی ابھی اس عہدے پر آنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس حالت میں چدمبرم کانگریس کے وزیر اعظم کے امیدوار ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ دیش کی اقتصادی چنوتیوں سے لڑنے میں پوری طرح اہل ثابت ہورہے ہیں۔ اکنامسٹ کی اس رپورٹ سے کانگریس میں طوفان مچ گیا ہے۔ چدمبرم کے خلاف کانگریس کے ایک ایم پی سجن سنگھ ورما نے تو یہاں تک کہہ ڈالا اگر اگلے عام چناؤ میں چدمبرم کو پارٹی کی طرف وزیر اعظم کا امیدوار اعلان کیا گیا تو انہیں کانگریس میں رہنے کے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنا پڑے گا۔ کانگریس وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے کے لئے جس طرح سے انگریزی میگزین اکنامسٹ نے چدمبرم کو پلانٹ کیا ہے اس کا 10 جن پتھ نے سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ اندر ہی اندر پوری پارٹی میں چدمبرم کی ان شاطر کوششوں کے تئیں گھمسان مچا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چدمبرم کی یہ کوشش کانگریس سکریٹری جنرل راہل گاندھی کو ’’سپر سیٹ ‘‘ یعنی(کنارے لگانے )کے لئے ہے۔راہل کوسائڈ لائن کیا جانا نہ صرف بڑے لیڈروں اور نہ ہی عام بنیادی کانگریس ورکروں کو راس آرہا ہے۔ راہل کانگریس کو کامیاب بنانے کے لئے گہری محنت کررہے ہیں لیکن مانا جارہا ہے کہ خود کو وزیر اعظم کی دوڑ میں جوڑ کر چدمبرم بے نقاب ہوگئے ہیں اور کانگریس کا ایک طبقہ تو انہیں وزیر کے عہدے سے چلتا کرنے کی بھی مہم چلانے کو تیار ہے۔ کانگریسی حلقوں میں بحث چھڑی ہوئی ہے کہ یہ وہی چدمبرم ہیں جنہوں نے شری راجیو گاندھی کے بے رحمانہ قتل کے بعد کانگریس سے کنارہ کرتے ہوئے تمل منیلا کانگریس بنا لی تھی اور کئی کانگریسیوں کے بیچ یہ بھی بحث چھڑی ہوئی ہے کہ راجیو گاندھی کے قتل کے بعد چدمبرم کو اپنا سیاسی مقصد پورا ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ آج کی تاریخ میں اب وہ اتنے شاطر ہوگئے ہیں کہ وزیر اعظم کے عہدے کے لئے بھی ابھی سے برطانوی اخباروں کا سہارا لینے لگے ہیں۔
(انل نریندر)

ملائم سنگھ یادو نے مانگی حمایت کی قیمت

بیشک منموہن سنگھ سرکار نے سماج وادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کی مدد سے دونوں ایوانوں میں ایف ڈی آئی پر اکثریتی نمبر حاصل کر لئے ہوں لیکن اس کی سرکار اور کانگریس کو مستقبل میں قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ دیکھنا یہ بھی ہے کہ اترپردیش کی سیاست پر تازہ حالات کا کیا اثر پڑتا ہے۔ بہن جی نے جہاں 10 سال پرانی بات عام کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہو کہ کانگریس ہو یا بی جے پی دونوں میں سے کوئی کم نہیں وہیں مایا کے کٹر مخالف ملائم سنگھ کو بھی کرارا جھٹکا دینے کی کوشش کی۔ اترپردیش کے اقتدار سے مایا کو بے دخل کرنے والے ملائم سنگھ مسلسل کوشش کررہے ہیں کہ لوک سبھا چناؤ جلد ہوجائیں۔ اسمبلی چناؤ میں جو اکثریت سپا کو ملی تھی وہ لوک سبھا میں بھی ملے۔ زیادہ سے زیادہ سیٹیں جیت کر وہ دہلی پر راج کریں۔ اس کے لئے انہوں نے تیاری بھی کرلی ہے۔ یہ سبھی جانتے ہیں کہ اسمبلی چناؤ کے وقت جو ماحول سپا کے حق میں بنا تھا وہ گھٹ رہا ہے۔ جو فائدہ سپا کو ابھی مل سکتا ہے وہ شاید2014ء میں نہ ملے۔ مایا کے سرکار کے ساتھ کھڑا ہونے سے سپا کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرنی پڑ سکتی ہے۔ سبھی جانتے ہیں سپا چیف ملائم سنگھ یادو سیاست کے منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔ انہوں نے یو پی اے سرکار کی مدد تو کی لیکن اب وہ اس کی قیمت مانگ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سپا نے حمایت کے بدلے کانگریس پر بھاری دباؤ بنایا ہے کہ وکیل وشواناتھ چترویدی سے اثاثے سے زیادہ پراپرٹی والے کیس میں عرضی واپس کروائیں۔ بتایا جاتا ہے اس دباؤ کے چلتے کانگریس کی سینئر لیڈر موتی لال ووہرہ نے وکیل وشواناتھ چترویدی کو بلاکر ساری بات بتائی ہے اور ملائم ، اکھلیش، دمپل و پرتیک کے خلاف اثاثے سے زیادہ پراپرٹی معاملے میں سپریم کورٹ میں دائر عرضی کو واپس لینے کوکہا ہے۔ چترویدی نے کہا کہ ٹی ایس تلسی کو اس معاملے میں وکیل بنایا گیا ہے۔ آپ کو پتا ہی ہے کہ وہ ہر سماعت میں کافی پیسے لیتے ہیں۔ ابھی تک جتنی سماعت ہوچکی ہیں وہ بھی جانتے ہیں کئی برسوں سے اس مقدمے پرفیصلہ ملتوی چل رہا ہے۔ چترویدی نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں ملوث ملائم سنگھ و ان کی سرکار نے ہمارے خاندان پر کتنا زبردست ظلم کیا ہے۔ آپ اس بارے میں سبھی جانتے ہیں۔ مجھے تو تقریباً اجاڑ ہی دیا ہے۔ مجھ پر 7 مقدمے ہیں، ایسی حالت میں جب میری جان کو خطرہ ہے تو آپ مجھ سے مقدمہ واپس لینے کو کہہ رہے ہیں؟ معلوم ہو کے وشواناتھ چترویدی نے سپریم کورٹ میں دائر عرضی (سیول) نمبر633 دائر کی جس پر عدالت نے 1-3-2007 کو سی بی آئی جانچ کے احکامات دئے۔ ان احکامات کی بنیاد پرسی بی آئی نے ملائم سنگھ یادو و ان کے بیٹے اکھلیش یادو و اکھلیش کی پتنی ڈمپل یادو اور ملائم کی دوسری بیوی کے لڑکے پرتیک اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف 5-3-2007 آمدنی سے زیادہ پراپرٹی مقدمے میں (ابتدائی جانچ) نمبر21A/2007 سی بی آئی ؍اے سی یو آئی بی؍ نئی دہلی درج کیا۔ اس معاملے کی اسٹیٹس رپورٹ کے صفحہ نمبر10 سیریل نمبر 26 پر لکھا ہے کہ آن دی بیسز آف ریزلٹ آف افورسیڈ انکوائری رجسٹریشن آف اے ریگولر کیس انڈر سیکشن 13/(2)R15/1WB(1)E آف پی سی ایکٹ 1988 ء اگینسٹڈ ملائم سنگھ یادو اینڈ سیکشن 109 آئی پی سی آر ون ڈبلیو 13(2) ڈبلیو 13(1) (E) آف پی سی ایکٹ 1988 اگینسٹڈ اکھلیش یادو وغیرہ وغیرہ سے درج ہیں۔ یہاں دیکھنے کی بات یہ بھی ہوگی کہ کیا اتنی آخری اسٹیج پر وشواناتھ چترو یدی مقدمہ واپس لے بھی سکتے ہیں یا نہیں؟ کیا سپریم عدالت اب انہیں ایسا کرنے کی اجازت دے گی؟ ایوان میں جس طرح سے سپا اور بسپا نے سرکار کی حمایت کی ہے اس کا پردیش میں بھاجپا کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ دونوں نے بھاجپا کو ایک اشو تھمادیا ہے۔ بھاجپا پردیش میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ کانگریس ،سپا اور بسپا اندر خانے آپس میں ملی ہوئی ہیں۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...