Translater

Egypt لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Egypt لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

22 فروری 2012

جوالہ مکھی کے ڈھیر پر بیٹھا مشرقی وسطیٰ



Published On 22nd February 2012
انل نریندر

مغربی ایشیا ایک بار پھر جنگ کی جوالہ مکھی کے ڈھیر پر کھڑا ہوتا جارہا ہے۔ نیوکلیائی چھڑیں بنانے میں لگے ایران نے جہاں اپنے جنگی بیڑے جدہ بندرگاہ سے شام کے ساحل کے قریب تعینات کردئے ہیں۔ وہیں ایرانی ریولیوشنری گارڈ ز نے دوروزہ زمینی فوجی جنگی مشقیں شروع کر امریکہ اور پڑوسی اسرائیل جیسے کٹر مخالفوں کو منہ توڑ جواب دینے کی تیاری کرلی ہے۔ ادھر برطانیہ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملہ ہوا تو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ یہ جنگی بیڑے ایران نے سوئس سمندر کے راستے بھومدے ساگر کے کنارے بسے شام بھیجے ہیں تاکہ اس کے نیوکلیائی ٹھکانوں پر کسی طرح کا حملوں کا جواب دے سکیں۔ ادھر نارتھ کوریا نے بھی فوجی مشقوں کی صورت میں حملے کی وارننگ دے ڈالی ہے۔ ایران کی خبر رساں ایجنسی اِرنا نے دیش کے بحریہ کے چیف ایڈمرل حبیب اللہ سیاری کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران بھومدے ساگر میں اپنے جنگی بیڑے تعینات کرکے مخالفین کو علاقے میں اپنی طاقت کا احساس کرادیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی بحریہ اسلامی انقلاب کے بعد دوسری بار سوئس دریا کے راستے بھومدے ساگر تک پہنچی ہے۔ایران کے ریولوشنری گارڈز کا کہنا ہے کہ اس نے ممکنہ باہری خطروں سے دیش کی حفاظت کے پیش نظر اپنی سرگرمیاں بڑھانے کے لئے دو روزہ ایک زمینی مشق شروع کردی ہے۔ یہ ریولوشنری گارڈز ایران کی سب سے طاقتور فوجی یونٹ ہے۔ غور طلب ہے کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے اٹھایا ہے۔
امریکہ کے وزیر دفاع لیون پینیٹا نے کل ہی ایران کو سخت وارننگ دی تھی کہ اگر اس نے ہرموز آبی معاہدہ توڑا یا نیوکلیائی ہتھیار بنائے تو اس کے خلاف کارروائی کے ہر متبادل کھلے ہیں۔ پینیٹا نے کہا ہم صاف کرچکے ہیں کہ ایران نیوکلیئر ہتھیار نہیں بنا سکتا، ہم اسے ہرگز برداشت نہیں کریں گے کہ وہ بین الاقوامی کاروبار کے اہم آبی راستے ہرموز آبی معاہدے کو توڑے۔ اس علاقے سے دنیا کے پانچویں حصے کا تیل کاروبار ہوتا ہے۔ یہ بین الاقوامی آبی خطہ ہے ہم ایران کو اسے بند کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
قابل غور ہے کہ امریکہ نے عراقی تیل ذخائر کو ہڑپنے کے لئے کویت کے ذریعے عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین کو خطرناک کیمیاوی ہتھیار ختم کرنے کے بہانے سے نیست و نابود کردیا تھا جبکہ جان و مال اور تیل کنوؤں کی بھاری تباہی کے باوجود عراق میں ایسا کوئی ہتھیار نہیں ملا۔ ایران کو ڈر ستا رہا ہے کہ امریکہ اس کے نیوکلیائی پلانٹس میں خطرناک ہتھیار بنانے کے الزام کے بہانے اسرائیل کے تعاون سے اس پر کبھی بھی چڑھائی کر سکتا ہے۔ ایران نے بھی ایسے کسی طرح کے حملے کا منہ توڑ جواب دینے کی پوری تیاری کرلی ہے۔ ادھر خلیج فارس میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان برطانیہ نے اسرائیل سے کہا ہے کہ ایران کے نیوکلیائی اداروں کو تباہ کرنے کے لئے پہلے کوئی حملہ کرنے کی منفی پہل نہ کرے اور ایسا کرنا اس کے لئے نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ امریکہ کے مشہور اخبار دی واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ دراصل لیون پینیٹا سے بات چیت کے بعد ہمارے ایک صحافی نے لکھا ہے پینٹاگان کے چیف کا یہ ماننا ہے کہ اس بات کا ٹھوس اندیشہ ہے کہ اپریل، مئی یا جون کے مہینے میں اسرائیل سرکار ایران پر حملہ کرے گی۔ مشرقی وسطیٰ جوالہ مکھی کے ڈھیر پر بیٹھا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔
America, Anil Narendra, Daily Pratap, Egypt, Iran, Israil, Middle East, Syria, USA, Vir Arjun

07 فروری 2012

مصر کے پورٹ سعید فٹبال میچ میں تشدد کے پیچھے؟



Published On 7th February 2012
انل نریندر
گذشتہ بدھوار کو ایک ایسا فٹبال میچ ہوا جیسا شاید ہی کبھی پہلے دیکھا گیا ہو یا ہوا ہو۔ مصر کے حالات پوٹ سعید میں مقامی المصری اور قاہرہ کی الاہلے ٹیموں کے درمیان میچ ہوا۔ الاہلے ٹیم کو الماصری نے 3-1 گول سے ہرادیا جس کے بعد حمایتی آپس میں بھڑ گئے۔ میچ ختم ہوتے ہی الماصری حمایتی میدان میں گھس گئے اور انہوں نے جم کر غنڈہ گردی مچائی۔ ان حمایتیوں نے پتھراؤ کیا، پٹاخے چھوڑے، بوتلیں پھینکیں جس سے کئی شائقین اور کھلاڑیوں کو چھوٹیں آئیں۔ چشم دید لوگوں نے بتایا کہ اس پورے میدان میں افراتفری پھیل گئی اور نہ صرف کھلاڑی بلکہ شائقین بھی خود کوبچانے کے لئے ادھر ادھر دوڑتے نظر آئے۔ میچ کے دوران بھڑکے تشدد میں کم سے کم74 لوگ مارے گئے جبکہ 1 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ مصر کے کھیل کی تاریخ میں یہ سب سے دردناک واقعہ ہے۔ اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مصر میں سیاسی حالات ابھی بھی دھماکو بنے ہوئے ہیں۔ ایک عام سے فٹبال میچ میں اتنا تشدد ہوسکتا ہے۔ کیا یہ محض اتفاق تھا یا پھر سوچی سمجھی تشدد کرنے کی ایک چال تھی؟ بیشک زیادہ تر اموات بھگدڑ میں ہوئیں لیکن کئی لوگوں کو چاقوؤں سے بھی مارا گیا۔ اس سے تو یہ ہی لگتا ہے کہ پہلے سے تیار اس سازش کو انجام دیا گیا ہے۔ المصری کے حمایتی چاقو لاٹھیاں لیکر الاہلے حمایتیوں پر ٹوٹ پڑے۔ دیکھا جائے تو ان کے حملہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں نظر آتی۔ میچ تو ان کی ٹیم نے 3-1 سے جیت لیا تھا۔ کیا دیش میں فوجی حکومت کے خلاف ہوا بنانے اور نئی آگ بھڑکانے کا یہ بہانہ تھا؟ کیونکہ میچ کے بعد سارا غصہ تو فوجی حکومت اور پولیس کے خلاف نکلا۔ مظاہرین نے فوجی حکمرانو ں کو ہٹائے جانے کی مانگ تیز کردی ہے وہیں راجدھانی میں پولیس کے ساتھ ہوئی تازہ جھڑپوں میں تین لوگوں کی موت اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔ لوگ پہلے ہی سے جمہوری اصلاحات کی دھیمی رفتار سے مایوس ہیں۔ میچ کے دوران ہوئے تشدد نے ان کے غصے کو چنگاری دکھا دی ہے۔ مظاہرین قاہرہ میں وزارت داخلہ کے سامنے مظاہرے پر ڈٹے تھے تبھی فوج نے ان پر آنسو گیس کے گولے چھوڑے۔ نماز جمعہ کے بعد زبردست احتجاج اور مظاہرے کے لئے لوگ سڑکوں پر اتر آئے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ مصری فوج نے عوام کو بانٹنے کے لئے یہ سازش رچی اور پولیس نے جان بوجھ کر وقت رہتے فساد کو روکنے کی کوشش نہیں کی۔ حسنی مبارک کے حمایتیوں نے مبارک کو بے دخل کرنے والی جنتا کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا اور بدلہ لینے کی کوشش کی۔ دراصل حسنی مبارک کو زبردستی ہٹا تو دیا گیا لیکن مصر کے اندرونی حالات کبھی بھی قابو میں نہیں آسکتے۔مسلم برادر ہڈ جو حالیہ چناؤ جیتی تھی اس نے اور وہاں کے سیکولر لوگوں میں تب سے جھڑپیں ہورہی ہیں۔ مسلم برادر ہڈ اور فوج لگتا ہے مل کر کام کررہے ہیں۔اس سے مصر کی عوام میں یہ ڈر پیدا ہورہا ہے کہ کہیں پھر سے فوجی حکومت یا مسلم برادر ہڈ کا ہٹلری عہد نہ تھونپ دیا جائے۔ عوام میں بے چینی ہے اور مصر میں عدم استحکام کا دور چل رہا ہے۔ فٹبال میچ کا واقعہ معمولی نہیں تھا اس کے پیچھے گہری سازش لگتی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Egypt, Vir Arjun

24 مئی 2011

القاعدہ کا مصری کنکشن: سیف العدیل

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
 
24مئی 2011 کو شائع
انل نریندر
القاعدہ سرغنہ اسامہ بن لادن کے مرنے کے بعد اس انتہا پسند تنظیم نے اپنا نیا لیڈر چن لیا ہے۔ القاعدہ کا مصری رابطہ کار سامنے آگیا ہے۔ بن لادن کا جانشین ہے مصر کا ایک سابق فوجی افسر اس کا نام ہے سیف العدیل۔ یہ بن لادن کے مارے جانے کے قریب 15 روز بعد عارضی طور پر لیڈر چنا گیا ہے۔عدیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ1981 ء میں مصر کے سابق صدر انور سعادات کے قتل کے لئے ذمہ دار تنظیم اسلامک جہاد کا ممبر رہ چکا ہے۔ وہ افغانستان میں 1980 کی دہائی میں سوویت روس کی فوج کے خلاف لڑائی میں بھی شامل رہا۔2001ء میں طالبان کے زوال کے بعد وہ ایران بھاگ گیا تھا۔ سی این این میں دو دہائی سے زیادہ وقت سے القاعدہ سے واقف نعمان کے حوالے سے بتایا کہ سیف العدیل القاعدہ کا روپوش لیڈر ہے۔ خبر کے مطابق العدیل کی تنظیم میں طویل عرصے سے اہم کرداررہا ہے۔
ادھر اسامہ کو زندہ یا مردہ پکڑنے سے امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ 25 لاکھ ڈالر یعنی11 کروڑ روپے کا انعام کسی کو نہیں دیا جارہا ہے۔ امریکی حکام نے یہ سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اسامہ کے خاتمے کی وجہ کوئی مخبر نہیں بلکہ جدید ترین مشینیں اور خفیہ ایجنسیاں تھیں۔ اس فیصلے سے ان قیاس آرائیوں پر روک لگ گئی جن میں دعوی کیا گیا تھا کہ انتہا پسند تنظیم سے وابستہ کسی شخص نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو اسامہ تک پہنچایا۔ اسامہ بن لادن امریکہ کی موسٹ وانٹڈ دہشت گردوں کی فہرست میں سب سے اوپر شامل تھا۔
ویب سائٹ بی بی سی ، کوم کو ڈاٹ یو کے نے اسامہ کے ذریعے ان کی موت سے کچھ عرصے پہلے مبینہ طور پر ریکارڈ کیا گیا ایک آڈیو ٹیپ جاری کیا ہے۔ لادن کا یہ آڈیو ٹیپ 12 منٹ کا ہے جسے ایک اسلامی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے۔ ٹیپ میں لادن نے تیونس اور مصر کے مخالف مظاہرین کو نصیحت دی ہے لیکن شام اور لیبیا اور یمن کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ لادن نے کہا مجھے لگتا ہے کہ اللہ کی مرضی سے پوری مسلم دنیا میں تبدیلی کی لہر چلے گی۔ آپ کے سامنے دو راہیہ ہے۔ مسلم فرقے کے ساتھ کھڑے ہونے اور خود کو حکمرانی کی توقعات ، انسانی قوانین اور مغربی بالا دستی سے نجات کرانے کا ایک واحد اور سنہرہ تاریخی موقعہ ہے۔ لادن نے کہا توآپ کس کا انتظار کررہے ہیں؟
لادن کی موت کے بعد القاعدہ کے عارضی چیف سیف العدیل نے دھمکی دینے میں زیادہ وقت نہیں لگایا۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق سیف نے لادن کی موت کا بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے۔ اخبار نے طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کے حوالے سے کہا ہے کہ ہمارے لیڈر لندن میں بڑے حملے کی تیاری کررہے ہیں۔ احسان کے مطابق العدیل کا خیال ہے برطانیہ یوروپ کی ریڑھ ہے اور اسے توڑنے کی ضرورت ہے۔ ایسے میں لندن پر بڑا حملہ کرکے یوروپ سمیت پوری دنیا کو ہلایا جاسکتا ہے۔ اس درمیان یہ بھی خبر ہے کہ طالبان القاعدہ لیڈر پاک سرحد سے ملحق افغانستان کے علاقوں میں ملے ہیں اور آگے کی حکمت عملی پر غور خوض ہوا ہے۔ العدیل کو ایمن الظواہری اور الیاس کشمیری کو نئی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔
Tags: Al Qaida, Anil Narendra, Vir Arjun, Daily Pratap, Egypt, Osama Bin Ladin, Aiman Al Zawahiri,

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...