Translater

28 اپریل 2012

اگلے صدر کیلئے ریس شروع ہوچکی ہے



Published On 28 April 2012
انل نریندر
بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی صدارتی چناؤ کے بارے میں غور و خوض او ر بحث میں تیزی آنے لگی ہے۔ دیش کے اعلی عہدے پر اس بار کون بیٹھے گا؟ سیاسی پارٹیوں نے ابھی سے ایک دوسرے کو ٹٹولنا شروع کردیا ہے۔ پارٹیاں صدارتی چناؤ کو اپنی طاقت کے مظاہرے کی ایک سخت آزمائش مان رہی ہیں۔ موجودہ صدر محترمہ پرتیبھا پاٹل کے عہدے کی میعاد جولائی کے آخری ہفتے میں پوری ہورہی ہے۔ فروری مارچ کے مہینے میں اترپردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت پانچ ریاستو ں کے اسمبلی چناؤ کے نتائج اور پھر اس کے ٹھیک بعد58 راجیہ سبھا سیٹوں کے لئے ایک ساتھ چناؤ ہونے کے بعدسیاسی تجزیئے بدلنے لگے ہیں۔ سیاسی نتیجہ غیر کانگریس غیر بی جے پی پارٹیوں کے حق میں زیادہ رہے اور اس سے تھرڈ فرنٹ کی سمت میں کام شروع کر ملائم سنگھ یادو اور ممتا بنرجی جیسے لیڈر سرگرم ہوگئے ہیں۔ وہیں این سی پی لیڈر شرد پوار نے بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنی بات مضبوطی سے رکھیں گے۔ خود ساختہ تھرڈ فرنٹ کے لیڈروں کو سرگرم ہوتے دیکھ دونوں کانگریس اور بھاجپا بھی اب اپنی اپنی پسند کے امیدوار آگے بڑھانے میں لگ گئے ہیں۔ کانگریس ہائی کمان نے یوپی اے امیدوار کو ہی رائے سنہا ہلس (راشٹر پتی بھون) پہنچانے کی مہم کا آغاز کردیا ہے۔ یہ آغاز سونیا گاندھی نے این سی پی لیڈر شرد پوار سے شروع کیا ہے۔ بھلے ہی کانگریس کے امیدوار کے نام پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوپایا ہے مگر قیاس آرائی یہ ہے کہ نمبروں کے کھیل کو دیکھتے ہوئے پرنب مکھرجی کانگریس کا چہرہ ہوسکتے ہیں۔ کانگریس جانتی ہے کہ ان کے نام پر غیرا ین ڈی اے پارٹیوں کو بھی راضی کیا جاسکتا ہے۔ اگر سپا ،بسپا ،ترنمول کا ساتھ کانگریس مل جاتا ہے تو کانگریس اپنا امیدوار جتا سکتی ہے۔ کسی کانگریسی امیدوار پر اتفاق رائے نہ ہونے کی صورت میں موجودہ نائب صدر حامد انصاری کو ہی یوپی اے کا صدارتی امیدوار بنانے کے لئے پلان تیار ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی پہلی پسند سابق صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ہوسکتے ہیں۔ اس معاملے پر بھاجپا نے اپنی اتحادی پارٹیوں کے ساتھ غیر یوپی اے اور دیگر سیاسی پارٹیوں کا دل ٹٹولنے کی کارروائی آہستہ آہستہ شروع کردی ہے۔ بھاجپا کلام کے علاوہ کسی دوسرے نام پر اسی صورت میں غور کرے گی جب اسے جیتنے کے لئے ضروری حمایت ان کے نام پر ملتی نظر نہ آئے۔ صدارتی چناؤ کی گھڑی بھلے ہی سماج وادی پارٹی چیف ملائم سنگھ یادو بہت دور مان رہے ہیں لیکن پارٹی اپنا ہوم ورک پورا کرنے میں لگی ہوئی ہے۔ 2014ء میں لوک سبھا چناؤ کی چناوی جنگ کو سامنے رکھتے ہوئے سپا پوری شدت کے ساتھ مسلم امیدوار کی تلاش میں لگی ہے۔ اسی سلسلے میں ملائم کی ہدایت پر سپا کے دو بڑے لیڈروں نے پیر کو چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی سے خفیہ ملاقات کی تھی۔ دوسری طرف سپا کی پسندیدہ فہرست سے عبدالکلام کا نام بھی تقریباً باہر ہوچکا ہے۔ قریشی کے ساتھ حامد انصاری کے نام پر بھی سپا میں سنجیدگی سے غور و خوض جاری ہے۔ کانگریس میں اور بھی کئی نام چل رہے ہیں لوک سبھا کی اسپیکر میرا کمار کو ذات پات کی حیثیت سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھایا جارہا ہے اور ڈاکٹر کرن سنگھ ، سشیل کمار شنڈے، فاروق عبداللہ اور سیم پترودہ جیسے نام بھی اچھالے جارہے ہیں۔ ریس شروع ہوچکی ہے فی الحال یہ پیشگوئی نہیں کی جاسکتی کہ ہندوستان کا اگلا صدر کون ہوگا۔
Anil Narendra, APJ Abdulkalam, BJP, Congress, Daily Pratap, Hamid Ansari, Mulayam Singh Yadav, Pranab Mukherjee, President of India, Samajwadi Party, Vir Arjun

بھارت کی میزائل خاتون عرف اگنی پتری ٹیسی تھامس



Published On 28 April 2012
انل نریندر

ٹیسی تھامس اب ہندوستان کی میزائل لیڈی کے نام سے جانی جائیں گی۔ اگنی 5-سپر پاور میزائل کا کامیاب تجربہ 19 اپریل کو ہوچکا ہے۔ پانچ ہزار کلو میٹر دوری تک مار کرنے والے اس میزائل کو تیار کرکے بھارت نے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ ساتھ ساتھ دنیا کو بھارت کو ایک نئے چشمے سے دیکھنے کا کام بھی کر دکھایا ہے۔ اس کامیابی کا سہرہ ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈولپمنٹ آرگنائزیشن (ڈی آر ڈی او) کے اگنی پروجیکٹ کی ڈائریکٹر ٹیسی تھامس کو جاتا ہے۔ 48 سالہ ٹیسی کا خواب ہے کہ ایک ایسی اگنی میزائل تیار کی جائے جو اب تک دنیا میں نہ بنی ہو۔ ٹیسی کی ٹیم اگنی 5- کی کامیابی کے بعد ایک ایسا میزائل بنانے کے کام میں لگنے والی ہے جس سے نکلا وار ہیڈ نشانے پر پہنچ کر کامیابی کی رپورٹ بھی بیس لیب میں دیکھی جاسکے۔ ٹیسی کی پیدائش 1964ء میں کیرل کے الپوجھا ضلع میں ہوئی تھی۔ ان کے والد ایک فرم میں اکاؤنٹنٹ تھے ۔ بچپن سے ہی ٹیسی نے راکٹ بنانے کا خواب دیکھنا شروع کیا تھا اس کی وجہ تھی کے الپوجھا کے پاس ہی ڈی آر ڈی او کا ایک راکٹ سینٹر ہے جہاں سے تجربے کے طور پر راکٹ لانچ ہوتے رہتے ہیں۔ وہ 1988 ء میں اگنی ٹیم میں شامل ہوئیں ترشو انجینئرنگ کالج سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 1985 میں ٹیسی ڈی آر ڈی او سے وابستہ ہوئی تھیں۔ بعد میں انہوں نے پونے کے ڈیفنس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے ''گائٹڈ میزائل''تکنیک سے ایم ٹیک کی ڈگری لی۔ ٹیسی یاد کرتی ہیں کہ اگنی 3-کا پہلا تجربہ ناکام رہا تھا۔ اس دور میں میزائل پروجیکٹ کے چیف ڈاکٹر اے پی جے عبداکلام تھے۔ ٹیسی کہتی ہیں میزائل سیکٹر میں ڈاکٹر کلام ہی سب کے رول ماڈل ہوا کرتے تھے۔ وہ ڈاکٹر کلام کو اپنا استاد مانتی ہیں، کہتی ہیں کہ آج بھلے ہی لوگ انہیں اگنی پتری یا میزائل وومن کہیں لیکن میزائل تکنیک کے اصلی ہیرو تو ڈاکٹر کلام ہی ہیں۔ ٹیسی اپنی 75 سالہ والدہ کو اپنا سب سے بڑا راہ عمل کا ذریعہ مانتی ہیں ۔ ان کا نام ان کی ماں نے نوبل انعام یافتہ مدر ٹریسا کی ایمانداری اور سچائی سے متاثر ہوکر رکھا تھا۔ ٹیسی کہتی بھی ہیں کہ جس طرح سے مدر ٹریسا نے پوری انسانیت کے لئے کام کیا تھا ٹھیک اسی طرح وہ بھی اپنے دیش کی بھلائی کے لئے کام کے لئے جٹی ہوئی ہیں۔ جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ میزائلوں کا تجربہ تو تباہ کاری کے لئے ہی ہوگا تو ایسے میں آپ اپنے کام کو انسانیت کو امن سے کیسے جوڑ سکتی ہیں؟ اس پر ان کا جواب تھا جب کوئی دیش طاقتور بن جاتا ہے تو دوسرا دیش اس کے خلاف جنگ کرنا تو دور بلکہ اسے آنکھ تک دکھانے کی ہمت نہیں کرتا۔ ایسے میں درپردہ طور سے اگنی 5- جیسے میزائل پرامن کردار نبھائیں گے۔ قابل ذکر ہے کہ اگنی 5- سے پورے چین تک مار کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح سے نیوکلیائی سیکٹر میں اس کامیابی کے بعد بھارت کو ایک نئی طاقت مل گئی ہے اب وہ میزائل سیکٹر میں امریکہ، فرانس، روس ، چین کی برابری میں کھڑا ہوگیا ہے۔ اس کامیاب تجربے کے بعد چین کی زبان بھی بدل گئی ہے اور اب وہ بھارت کو اپنا پڑوسی دیش کہنے لگا ہے۔
Agni Missile, Anil Narendra, Daily Pratap, Tessy Thomas, Vir Arjun 

27 اپریل 2012

راجدھانی میں بچیوں کے سوداگروں کا دھندہ



Published On 27 March 2012
انل نریندر

راجدھانی دہلی میں چھوٹی بچیوں کے ان سوداگروں کو آفت مچا رکھی ہے۔ پچھلے دنوں ایسی اٹھائی گئی 8 بچیوں کو چھڑایا گیا۔ایک پلیسمنٹ ایجنسی پر چھاپہ مار کر جن 8 بچیوں کو چھڑایا گیا انہوں نے آپ بیتی 'چائلڈ ویلفیئر کمیٹی '(سی ڈبلیو سی) کو بتائی۔ اس کے بعد سی ڈبلیو سی نے پولیس کو حکم دیا کے ان لڑکیوں سے ملے سراغوں کی بنیاد پر پلیسمنٹ ایجنسیوں اور اس ریکٹ میں شامل لوگوں کی پہچان کی جائے اور ان پر سخت کارروائی کی جائے۔ سی ڈبلیو سی لاجپت نگر نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ٹریفکنگ کے جال میں پھنسی باقی بچیوں کو بھی آزاد کرایا جائے۔ واضح ہے کہ پچھلے دنوں سی ڈبلیو سے کے حکم پر دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے ایک پلیسمنٹ ایجنسی پر چھاپہ مارکر 8 بچیوں کو آزاد کرایا تھا۔ ان بچیوں کو مغربی بنگال کے الگ الگ گاؤں سے یہاں لایا گیا تھا۔ پلیسمنٹ ایجنسی نے انہیں نوکرانی کے کام پر لگادیا تھا۔ الزام ہے کہ وہاں ان کا استحصال ہورہا تھا۔ ذرائع کے مطابق کم سے کم 20 بچیاں ان کے جال میں ہیں۔ وسنت وہار جیسے پاش علاقے سے پچھلے دنوں ایک 8 سال کی بچی کو ایک گھر سے چھڑایا گیا۔ یہ بچی یہاں نوکرا نی تھی۔ بٹرفلائی چائلڈ ہیلپ لائن نے وسنت وہار تھانے میں اس بارے میں شکایت کی تھی۔ ایڈیشنل ڈی سی پی (ساؤتھ) پرمود کشواہا نے بتایا کہ بچی بہار کے چھپرا کی رہنے والی ہے۔ جس گھر سے بچی کو چھڑایا گیا ہے اس کے مالک کا کہنا ہے کہ بچی ان کی دور کی رشتے دار ہے اور 10 دن پہلے ہی اس کی دادی اسے وہاں چھوڑ کر آئی تھی۔ چھڑائی گئی 8 لڑکیوں کو سی ڈبلیو سی کے سامنے پیش کیا گیا۔دو لڑکیوں نے صاف بتایا کہ ان کے ساتھ بہت بے رحمی برتی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ایمپلائر نے فزیکلی ایبیوز کیا ہے ۔ پلیسمنٹ ایجنسی کے مالک کے خلاف بھی شکایت ہے کہ اس نے بچیوں کو کوئی محنتانہ بھی نہیں دیا۔ایک لڑکی نے بتایا کہ مالویہ نگر میں جہاں وہ کام کرتی تھی اس کی مالک اسے چھوٹی چھوٹی باتوں پر پیٹتا تھا۔ اسے کبھی پیسے نہیں دیتا تھا۔ دوسری لڑکی نے بتایا کہ اسے بری طرح سے مارا جاتا تھا۔اس نے دائیں آنکھ پر چوٹ کے نشان بھی دکھائے۔ اس نے بتایا کہ کس طرح مالک کا بیٹا کئی بار اس کے جسم کو چھوتا اور سیکسول ہیرس کرتا تھا۔ جب کوئی گھر میں نہیں ہوتا تھا تو وہ مجھے اپنے کمرے میں بلاتا تھا۔ جب میں نے یہ سب کرنے سے منع کردیا تو اس نے برا برتاؤ شروع کردیا۔ میں نے ڈر کے مارے کسی کو کچھ بھی نہیں بتایا۔ ایک نابالغ لڑکی جو میڈ کا کام کرتی تھی، اس کو پولیس اور 'بچپن بچاؤ آندولن' کے ورکروں نے گیتا کالونی سے چھڑایا۔ علاقے کے گھر میں نوکرانی کا کام کرنے والوں پر مالک کا ڈر اتنا حاوی تھا کہ اس نے چار سال پہلے اپنی ماں کو ہی پہچاننے سے انکار کردیا۔بدھوار کو جب وہ اپنے پریوار کو ملی تو اس کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ راجدھانی میں میڈوں کے نام پر ٹریفکنگ کا دھندہ پھل پھول رہا ہے اور اس میں کچھ پلیسمنٹ ایجنسیوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ اسے کیسے روکا جائے یہ پولیس کے علاوہ ماں باپ اور سماج کی ذمہ داری بنتی ہے۔
Anil Narendra, Crime, Daily Pratap, Delhi, delhi Police, Trafficking, Vir Arjun

اوراب ڈیزل بھی لگا سکتا ہے آگ



Published On 27 March 2012
انل نریندر

دیش کی عوام کو اب ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے لئے تیار ہوجانا چاہئے۔سرکار نے پیٹرول کی طرح ڈیزل کی قیمتیں بھی سرکاری کنٹرول سے آزاد کرانے کی تیاری کرلی ہے یعنی اب عام آدمی خاص کر کسانوں کو مہنگا ڈیزل ملے گا۔ سرکار نے اعلان کیا ہے کہ ڈیزل کو کنٹرول سے آزاد کیا جائے گا۔اس فیصلے کو سدھانتک منظوری دے دی گئی ہے لیکن اسے نافذ کرنے کی تاریخ کا اشارہ نہیں دیا گیا ہے۔وزیر مملکت برائے خزانہ نرائن مینا نے راجیہ سبھا کو یہ جانکاری دی۔ مینا نے این کے سنگھ کے ذریعے پوچھے گئے سوال کے تحریری جواب میں ایوان کو بتایا کہ سرکار نے ڈیزل کی قیمتوں کو بازار کے ذریعے مقرر کرنے پر اپنی رضامندی دے دی ہے۔ حالانکہ ابھی اسے عمل میں نہیں لایا گیا ہے لیکن رسوئی گیس کی قیمتوں کو سرکاری کنٹرول سے آزاد کئے جانے کا ابھی کوئی سجھاؤ نہیں ہے حالانکہ مینا نے اس کے متعلق سرکار کی مجبوری بھی بتائی۔ انہوں نے کہا کہ سرکار بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور گھریلو مہنگائی کی حالت میں عام آدمی کو بچانے کے لئے ڈیزل کی ریٹیل قیمتوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش جاری رکھے گی۔ جیسے ہی مینا نے یہ جواب دیا اس کا رد عمل ہوگیا۔ اپوزیشن دلوں کے ساتھ ہی سہیوگی دلوں کی بھنویں تن گئیں۔ سب سے پہلے بھاجپا نے اس کی تنقید کی۔ پارٹی ترجمان پرکاش جاویڈ کرنے کہا ایسا لگتا ہے کہ سرکار بہت جلد ہی ڈیزل کی قیمت بڑھانے جارہی ہے۔ سرکار کے اس طرح کے کسی قدم کی بھاجپا پوری مخالفت کرے گی۔ اس سے نہ صرف سفر کا خرچ بڑھے گا بلکہ دوسری چیزوں میں بھی تیزی آئے گی۔بھاجپا کے بعد یوپی اے کی سہیوگی ترنمول کانگریس نے بھی صاف کردیا کہ وہ پیٹرو قیمتوں میں اضافے پر اپنے اڑیل رخ میں کوئی بدلاؤ نہیں کرنے جارہی۔ ممبر پارلیمنٹ سکھیندو رائے نے کہا کہ ڈیزل کی قیمت طے کرنے کا حق تیل کمپنیوں کو دینے کی مخالفت کی جائے گی۔ دراصل ڈیزل کی قیمت کو کنٹرول سے آزاد کرنے کا فیصلہ پچھلے سال جون میں ہی ہوگیا تھا لیکن مخالفت کے چلتے اس پر کبھی عمل نہیں ہوا۔ ڈیزل کی قیمت ابھی بھی سرکار ہی طے کرتی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ سرکاری تیل کمپنیاں ڈیزل کو 12 روپے فی لیٹر کے گھاٹے میں بیچ رہی ہیں۔گھاٹے سے عاجز آکر تیل کمپنیوں نے دھمکی دی ہے کہ یا تو قیمت بڑھانے کی اجازت دی جائے ورنہ آگے ایندھن کی سپلائی کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ سیاسی وجوہات ، خاص کر پانچ ریاستوں کے گزرے ودھان سبھا چناؤ کی وجہ سے یوپی اے سرکار دسمبر2011 کے بعد سے پیٹرولیم اشیاء کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کرپائی ہے۔ اب سرکار بجٹ اجلاس کے خاتمے کے بعد پیٹرولیم اشیاء کی ریٹیل قیمت بڑھانے کی اجازت تیل کمپنیوں کو دینا چاہتی ہے لیکن لگتا نہیں کہ اس کے لئے اب بھی ایسا کرنا آسان ہوگا۔ ڈیزل سبھی عام عوام کو متاثر کرے گا۔ کسان سے لیکر پبلک ٹرانسپورٹ ،ریلوے وغیرہ سبھی سیدھے متاثر ہوں گے۔ سرکار کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے سبھی پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کرنا بہتر ہوگا۔ ایک بار ڈیزل کو سرکاری کنٹرول سے ہٹا لیا تو حالت بالکل بے قابو ہوسکتی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Diesel, Inflation, Petrol Price, Vir Arjun

26 اپریل 2012

اور پھر پڑی پھوٹ ٹیم انا میں



Published On 26 March 2012
انل نریندر

ٹیم انا میں پھوٹ پڑ چکی ہے۔ ٹیم انا کی کور کمیٹی کی میٹنگ میں ایتوار کے روز جم کر ہنگامہ ہوا۔ نوئیڈا کے سیکٹر 43 میں ٹیم کی کور کمیٹی کی میٹنگ ہوئی۔ اس کا ایجنڈا تھا تحریک کی حکمت عملی تیار کرنا۔ اس میں بابا رام دیو کے ساتھ سانجھہ تحریک پر بھی غور خوص ہونا تھا۔ ٹیم انا کی کور کمیٹی کی اس اہم میٹنگ میں اروند کیجریوال ، پرشانت بھوشن، کرن بیدی ایک واحد مسلم چہرہ مولانا شمعون قاسمی، گوپال رائے، منیش سسودیا، کمار وشواس موجود تھے۔ رام دیو کے ساتھ تحریک کے سوال پر کرن بیدی نے کہا کہ جب برے پھنسے لوگ ساتھ آسکتے ہیں تو اچھے لوگ کیوں نہیں؟ اس پر قاسمی نے کہا اہمیت کم ہونے کے اندیشے سے کیجریوال کو ان پر اعتراض ہے۔ بحث بیچ میں جاری تھی کہ کور کمیٹی کے ممبر گوپال رائے کی نظر شمعون قاسمی پر گئی، وہ موبائل پرباتیں کررہے تھے، رائے نے قاسمی سے موبائل مانگا۔ الگ کمرے میں جاکر چیک کرنے پر میٹنگ کی ریکارڈنگ ملی۔ پرشانت بھوشن نے قاسمی سے پوچھا کہ آخر آپ نے ریکارڈنگ کیوں کی؟ اس پر قاسمی چپ رہے۔ بھوشن نے انہیں ٹیم سے نکلنے اور میٹنگ سے باہر جانے کو کہا۔ قاسمی بغیر کسی طرح کی صفائی دئے شام چار بجے میٹنگ سے اٹھ کرچلے گئے۔ کمار وشواس نے بعد میں کہا قاسمی میٹنگ کا آڈیو ریکارڈ کرتے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ پرشانت بھوشن نے کہا کہ قاسمی ریکارڈنگ کرنے کی کوئی خاص وجہ نہیں بتا پائے۔ اروند کیجریوال نے کہا اگنی ویش کی طرح رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں قاسمی۔ سالم علمی کے دھوکہ کرنے پر انہیں ٹیم سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ادھر مولانا شمعون قاسمی نے کہا میں شروع سے ہی تحریک سے جڑا رہا ہوں ۔ کیجریوال انا کا استعمال کررہے ہیں۔ تحریک مسلم مخالف ہورہی ہے۔ایک مسلم ممبر کو یہ دیکھنا نہیں چاہتے۔ انا ہزارے بھی قسم کھا کر کہتے ہیں کور کمیٹی کی میٹنگ میں جو کچھ ہوا وہ پہلے سے ہی طے شدہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک کی سیاست فرقہ پرستی کا شکار ہوگئی ہے۔ وہ خود ہی کور کمیٹی چھوڑرہے ہیں۔ قاسمی نے ٹیم انا کے کئی ممبران پر سنسنی خیز الزام لگائے۔ انہوں نے کہا کہ کور کمیٹی کی میٹنگ میں اروند کیجریوال اور کمار وشواس کے درمیان زور دار جھڑپ ہوئی۔ وشواس پر ریاستی سرکار کی دلالی کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ خود انا نے کیجریوال کے ہماچل دوروں پر سوال اٹھائے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پرشانت بھوشن اور کچھ دیگر ممبر چناؤ لڑنا چاہتے ہیں حالانکہ کیجریوال نے ان الزامات پر کوئی رد عمل ظاہر کرنے سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ نکالے جانے کی وجہ سے قاسمی اس طرح کی بیہودہ باتیں کررہے ہیں۔ انا کی تحریک میں اندرونی رسہ کشی کا یہ دوسرا موقعہ ہے۔ اس سے پہلے پچھلے سال جن لوک پال تحریک شباب پر تھی اسی دوران سوامی اگنی ویش پر بھی سرکار کے لئے جاسوسی کرنے کا الزام لگا تھا۔ قاسمی اور اگنی ویش کے علاوہ پی وی راج گوپال اور جل پروش راجندر سنگھ بھی ٹیم انا سے الگ ہوچکے ہیں۔ دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ انا ہزارے کی مقبولیت دن بدن کم ہوتی جارہی ہے اب وہ بات نہیں رہی۔
Anil Narendra, Anna Hazare, Arvind Kejriwal, Daily Pratap, Kejriwal, Kiran Bedi, Lokpal Bill, Shamoon Qasmi, Vir Arjun

برے پھنسے سنگھوی:ادھر کنواں تو اُدھر کھائی



Published On 26 March 2012
انل نریندر

پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ شروع ہونے سے پہلے ہی کانگریس پارٹی نے اپنے تیز طرار اپارٹی ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی سے پیر کو پارلیمانی کمیٹی کے چیئرمین اور ترجمانی کے عہدے سے استعفیٰ لے لیا۔ پارٹی نے اپنی اور سرکار کی فضیحت بچانے کی کوشش کی ہے۔ فحاشی ویڈیو دیکھنے کے معاملے میں پہلے سے بدنام بھارتیہ جنتا پارٹی کو اب کانگریس سے بدلہ لینے کا موقعہ مل گیا ہے۔ ابھیشیک منو سنگھوی سی ڈی کے معاملے میں بری طرح پھنس گئے ہیں۔ سنگھوی سے متعلق ایک سی ڈی 10 دن پہلے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی تھی اس میں وہ مبینہ طور پر کسی خاتون کے ساتھ قابل اعتراض حالت میں دکھائے گئے ہیں۔سی ڈی میں دکھائی گئی خاتون وکیل بتائی گئی ہے۔ اس کے مطابق سنگھوی نے اسے جج بنوانے کا لالچ دے کر اس کے ساتھ رشتے بنائے۔ سی ڈی معاملے پر دہلی ہائی کورٹ نے روک لگادی ہے لیکن انٹر نیٹ پر یہ سی ڈی کھل کر چل رہی ہے۔ کہا جارہا ہے سنگھوی کے ڈرائیور نے یہ سی ڈی بنائی۔ بعد میں اس نے سی ڈی سے چھیڑ چھاڑ کئے جانے کی بات بھی مانی ہے۔ سنگھوی نے اس معاملے میں صفائی پیش کرتے ہوئے کہا میں نے استعفے کا فیصلہ اپنے بارے میں تقسیم کی جارہی سی ڈی کو لیکر پارلیمنٹ کی کارروائی میں رکاوٹ ہونے کے خدشات کو دور کرنے کے لئے کیا ہے۔ مجھ پر لگے سبھی الزام پوری طرح سے بے بنیاد اور جھوٹے ہیں۔ سی ڈی پر قیاس آرائیاں کرنے کے بجائے لوگوں کو عزت کا خیال رکھنا چاہئے۔ بیشک سنگھوی نے استعفیٰ تو دے دیا ہے لیکن ہمیں نہیں لگتا کہ کانگریس کی فضیحت اتنی آسانی سے ختم ہوجائے گی۔ سنگھوی نے اپنی مرضی سے استعفیٰ نہیں دیا بلکہ انہیں ایسا کرنے کے لئے مجبورکیا گیا۔ بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے میں سرکار پہلے ہی سے دباؤ میں ہے اور وہ اب کوئی نیا درد سر نہیں لینا چاہتی لیکن بھاجپا پہلے سے جھیل رہی سی ڈی معاملے (کرناٹک اسمبلی) ایسا موقعہ اپنے ہاتھ سے کیسے جانے دیتی؟ بھاجپا کے نیتا و راجیہ سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر ارون جیٹلی اس معاملے میں چیئرمین حامد انصاری سے بھی ملے اور انہوں نے چیئرمین کو کہا کہ ایسا شخص کسی بھی پارلیمانی کمیٹی کا چیئر مین نہیں ہوسکتا جس پر بیحد قابل اعتراض الزامات لگ رہے ہوں۔ یہ پیغام کانگریس کے فلور منیجروں تک بھی پہنچایا جائے۔ بھاجپا نے دو طرفہ طریقے سے سرکار اور کانگریس کو پارلیمنٹ میں گھیرنے کی حکمت عملی بنائی ہوئی ہے۔ بھاجپا نیتاؤں کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس نے پارلیمنٹ کی اس دلیل کو مان لیا کہ سی ڈی صحیح نہیں ہے اور اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی ہے اور ان کا ڈرائیور بلیک میل کررہا ہے تو یہ معاملہ پارلیمانی استحقاق قواعد کے تحت جانچ کے دائرے میں آجاتا ہے۔ اس کے مطابق کسی بھی ممبر پارلیمنٹ کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ اس کی توہین کے دائرے میں آتا ہے۔ دوسری طرف سی ڈی مبینہ طور سے کسی کو جج بنوانے کے وعدے کا الزام صحیح ہے تو یہ معاملہ پارلیمنٹ کی ایتھکس کمیٹی کے پاس بھیجا جانا چاہئے۔ سنگھوی کے استعفے کے بعد بھی بھاجپا اس معاملے کو چھوڑنے کو تیار نہیں۔ جیٹلی نے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں یہ معاملہ ضرور اٹھائیں گے۔ ممبر پارلیمنٹ ہونے کی حیثیت سے مسٹر سنگھوی کو یہ بتانا پڑ سکتا ہے کہ انہوں نے استعفیٰ کس وجہ سے دیا ہے۔ ممبر پارلیمنٹ ہونے کی وجہ سے سنگھوی کی یہ ذاتی زندگی پر آنچ اس لئے آسکتی ہے کیونکہ وہ پبلک میں ہیں اور اس کے چلتے ایسا معاملہ ذاتی نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ وہ جنتا کے چنے ہوئے نمائندے ہیں اسی وجہ سے پارلیمنٹ کی آئینی معاملوں کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین بنائے گئے تھے۔اسی لئے پارلیمنٹ کو یہ جاننے کا حق ہے کہ وہ ایسی کونسی ذاتی وجہ ہے جو ان کی عام زندگی کو متاثر کررہی ہے؟ دوسری طرف اگر وہ کہتے ہیں کہ یہ سی ڈی انہیں بدنام کرنے یا ان کی ساکھ کو ملیا میٹ کرنے کے لئے کسی نے غلط طریقے سے بنوائی ہے تو یہ کسی بھی ممبر پارلیمنٹ کے مخصوص اختیارات کی خلاف ورزی کا سیدھا معاملہ ہے اور اگر سی ڈی سچی ہے تو یہ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کا معاملہ بنتا ہے جس میں کسی بھی ایم پی کی ذاتی زندگی میں آنے پر سماجی برتاؤ کا نوٹس لیا جاتا ہے۔ ویسے اگر سنگھوی کو اس سے تشفی ہوتی ہے کہ ان کی سیکسی سی ڈی، یو ٹیوب میں ڈالنے والے شخص نے دعوی کیا ہے کہ اس کے پاس وزیر داخلہ پی چدمبرم کی روسی طوائف کے ساتھ سیکس سی ڈی ہے جسے وہ تبھی جاری کرے گا جب سنگھوی کو کانگریس سے نکالا نہیں جائے گا۔ بہرحال برے پھنسے سنگھوی ان کے لئے ادھر کنواں تو ادھر کھائی ہے۔
Abhishek Singhvi, Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Sex, Sex Scandal, Sexy Photo, Vir Arjun

25 اپریل 2012

تھالی سے غائب ہوتی سبزیوں کی اصل وجہ؟



Published On 25 March 2012
انل نریندر
مہنگائی بڑھتی جارہی ہے جنتا کو دو وقت کی روٹی کھانے میں بھی اب بڑی مشکل آرہی ہے۔تھالیوں سے سبزیاں غائب ہوتی جارہی ہیں۔ سبھی سبزیوں کے دام آسمان چھورہے ہیں۔ عام آدمی کے کچن کا سارا بجٹ بگڑ چکا ہے۔ عام طور پر جب گرمی بڑھتی ہے تب سبزیوں کے دام بڑھتے تھے لیکن اس بار اپریل میں سبزیوں کے دام مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ 15 دن پہلے تک 12 سے14 روپے کلو بکنے والا آلو18 روپے کلو بک رہا ہے۔ جو لوگ25 سے18 روپے تک ٹماٹر خریدتے تھے اب وہ55 سے60 روپے بک رہا ہے۔ بھنڈی اور ٹنڈے جیسی سبزیوں کے دام 75 سے100 روپے کلو کے درمیان ہیں۔ غور طلب ہے کہ راجدھانی کے تھوک بازار سبزی منڈی میں ایک ماہ میں مختلف سبزیوں کے دام تین گنا سے زائد بڑھ گئے ہیں۔ اس کے چلتے عام آدمی کی تھالی سے سبزیاں آہستہ آہستہ غائب ہوچکی ہیں۔ پیاز، ٹماٹر، آلو جیسی سبزیاں بھی لوگوں کی خرید سے باہر ہیں۔ تجارتی ماہرین کا خیال ہے کہ ایسا سبزیوں کی سپلائی میں آئی بھاری کمی کے چلتے ہورہا ہے۔ کاروباری لیڈر اس کے پیچھے خاص وجہ بتائے جارہے ہیں۔ پہلا تو پیداوار میں کمی دوسرا پاکستان کو ہو رہی درآمدات ہے۔ راجدھانی کے باشندوں کے حصے کی سبزیاں پاکستانی کھارہے ہیں۔ آزاد پور منڈی کے ایک بڑے آڑتی نے بتایا کہ موسم میں آئی تیزی اورخوشک سالی سے سبزیوں کی پیداوار میں کمی آئی ہے۔ میدانی علاقوں میں ایک ساتھ دھوپ بڑھ جانے سے پیداوار میں گراوٹ آئی ہے۔ پہاڑوں کی سبزیوں کی آمد بیحد کم ہے۔
مانگ کے مطابق سبزیاں آنے میں ابھی کم سے کم 15 دن کا وقت لگے گا۔ اس کے بعد ہی جنتا تھوڑی راحتکی امید کر سکتی ہے۔گرین ویجی ٹیبل ایسوسی ایشن کے ممبر پنکج شرما کا کہنا ہے کہ اس سال پاکستان کو سبزیوں کی برآمدات بھاری مقدار میں ہوئی ہے اور اب بھی جاری ہے۔ اس کے چلتے گھریلوں منڈیوں میں بھی سبزیاں کم ہی پہنچ پارہی ہیں۔ اس بات بھنڈی، ٹماٹر، لوکی جیسی سبزیوں کے دام ایک بار بھی نیچے نہیں آئے۔ شملہ اور ہماچل پردیش جیسے مختلف شہروں میں سبزیوں کی معمولی آمد ہورہی ہے۔200 گاڑیوں کے بجائے 2 گاڑیاں ہی آرہی ہیں۔ پاکستان کو بھیجی جانے والی سبزیوں میں ٹماٹر، پیاز قابل ذکر ہیں۔ گرمی کے موسم میں اسٹوریج کی دقتیں ہوتی ہیں۔ بھنڈی ،ٹنڈے کے دام زیادہ ہونے سے لوگ اسے 300 گرام یا آدھا کلو ہی خریدتے ہیں۔ کم بکری ہونے کے چلتے سبزی بیچنے والوں کو بھی اپنا خاطر خواہ منافع نکالنا ہوتا ہے اس لئے منڈی میں بھی مہنگی مل رہی ان سبزیوں کے دام عام آدمی تک پہنچتے پہنچتے کافی زیادہ ہوجاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ گھریلو مارکیٹ کے لئے سبزیوں کی کھپت کے مطابق سپلائی نہیں ہے تو بھارت سبزیوں کو پاکستان کیوں بھیج رہی ہے؟ پہلے اپنے دیش واسیوں کو تو پوری سبزیاں دستیاب کروادو، ان کی تھالی میں سبزیوں کا انتظام کردو، پھر انہیں پاکستان بھیجنے کی سوچو۔ گرمی کے موسم میں پاکستان کو درآمد فوراً بند کردی جائے اور جب بھرپور مقدار میں سبزیاں آجائیں تب ایکسپورٹ کی سوچنا۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Inflation, Price Rise, Vir Arjun

یوپی اے سرکار کی تین سالہ رپورٹ کارڈ


Published On 25 March 2012
انل نریندر
اترپردیش ، پنجاب، گوا اسمبلی انتخابات میں ہار کے بعد دہلی میونسپل کارپوریشن میں کانگریس کی 
مسلسل پانچویں ہار ہے۔ کانگریس قیادت والی یوپی اے حکومت 22 مئی کو اپنے تین سال پورے کرنے جارہی ہے۔ روایت کے مطابق سرکار اسی دن ''رپورٹ ٹو دی پیوپل'' جاری کرے گی۔ پتہ نہیں منموہن سنگھ سرکار اور کانگریس پارٹی اس دوران اپنے کیا کیا کارنامے گنائے گی۔ وقت آگیا ہے کانگریس پارٹی جائزہ لے کے آخر وہ کس طرف جارہی ہے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ اب لوک سبھا چناؤ زیادہ دور نہیں ہیں اور اس سے پہلے پارٹی کو گجرات، ہماچل ،مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ اور دہلی میں اسمبلی چناؤ کا سامنا کرنا ہے۔ یوپی اے حکومت کی دوسری پاری مسلسل تنازعات میں گھری رہی۔ کامن ویلتھ گیمز ، ٹوجی اسپیکٹرم گھوٹالہ اور آدرش ہاؤسنگ سوسائٹی جیسے تمام گھوٹالے مہا گھوٹالے سرخیوں میں رہے۔ ان کے چلتے کانگریس کو مسلسل فضیحت جھیلنی پڑ رہی ہے۔ کہیں سے بھی سیاسی راحت نہیں ملتی دکھائی پڑتی۔ پارلیمنٹ میں پچھلے کئی مہینوں سے غیر کانگریسی لیڈر یوپی اے سرکار کے خلاف مورچہ بندی تیز کررہے ہیں۔ خود بھی یوپی اے کے اندر کئی پارٹیاں حکومت کا درد سر بڑھا رہی ہیں۔ سب سے زیادہ دقت ممتا بنرجی کی قیادت والی ٹی ایم سی کی طرف سے ہے۔مسلسل ایک معمہ بنا ہوا ہے کہ ٹی ایم سی کب تک سرکار میں بنی رہے گی؟ کیونکہ وہ ہر مہینے یوپی اے سرکار کے خلاف کوئی نہ کوئی سیاسی واویلا کھڑا کردیتی ہے۔بگڑتے ٹریک ریکارڈ کے چلتے یوپی اے ۔II سرکار اور پارٹی عدم اعتماد کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کانگریس کے تمام لیڈر اب ایک دوسرے پر الزام تراشی میں لگے ہوئے ہیں۔سرکار اور پارٹی میں تال میل کی باتیں ضرور ہورہی ہیں لیکن تصویر کچھ اور ہی ہے۔ بڑے نیتاؤں کی نوراکشتی اس وقت پورے شباب پر ہے۔10 جن پتھ میں بڑی بڑی میٹنگیں ہورہی ہیں لیکن پارٹی کی سپریم پالیسی متعین کرنے والی یونٹ کانگریس ورکنگ کمیٹی میں حال میں ایک بھی بڑے اشو پر بحث نہیں ہوپائی۔اگر مل رہی خبروں پر یقین کیا جائے تو مہاراشٹر کے وزیر اعلی اشوک چوہان کو گزشتہ ملاقات میں پارٹی صدر سونیا گاندھی نے دو ٹوک کہہ دیا ہے کہ وہ یا توا لتوا میں پڑے معاملوں پر فیصلہ لے کر کام شروع کریں ورنہ پارٹی لیڈر شپ ان سے آگے کے بارے میں غور وخوص کرے گا۔ اسی طرح راجستھان میں لیڈر شپ تبدیلی کی مانگ زور پکڑ رہی ہے۔

آندھرا پردیش ، ہریانہ، اتراکھنڈ میں بھی لیڈر شپ کے لئے پریشانیاں کھڑی ہیں۔ ان حالات میں پارٹی کے حکمت عملی سازوں کو ایک مضبوط اور کارگر حکمت عملی بنانی ہوگی جس سے کے منصوبہ بند طریقے سے آگے آنے والی چنوتیوں سے موثر ڈھنگ سے نپٹا جاسکے۔ کانگریس کے ایک بڑے نیتا کا کہنا ہے یوپی اے کے دوبارہ مرکز میں برسر اقتدار ہونے کے بعد اس کی ساکھ ایک کرپٹ اور مہنگائی بڑھانے والی حکومت کی بنتی چلی گئی ہے اور آج تک یہ ہی ساکھ دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے جس کے سبب کانگریس کو پچھلے تین سالوں میں دیش بھر میں ہوئے چناؤ اور ضمنی انتخابات میں تقریباً ہر جگہ ہار کا منہ دیکھنا پڑا ہے لہٰذا پارٹی کے حکمت عملی ساز چاہتے ہیں تنظیم کے سبھی بڑے لیڈر اس بات کے لئے مل بیٹھ کر آتم چنتن کریں اور غور خوض کریں کے مرکزی سرکار کون کون سے ایسے قدم اٹھائے جس سے اس کی ساکھ بہتر ہو۔ انہیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اتحادی پارٹیوں کے دباؤ سے کیسے آزاد ہواجائے۔ تال میل پر مبنی سیاست کو کتنی اہمیت دی جائے۔ عام لوگوں کے قریب آنے اور پرانی مقبولیت کو حاصل کرنے کے لئے کیا کیا جائے جس سے کے پارٹی ورکر پھر سے نئے جوش کے ساتھ میدان میں اتر سکیں۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے سے کام نہیں چلے گا۔
Anil Narendra, Congress, Daily Pratap, Mamta Banerjee, Manmohan Singh, Scams, UPA, Vir Arjun

24 اپریل 2012

بھاجپا میں اقتدار کی تین دھریاں



Published On 24 March 2012
انل نریندر

بھارتیہ جنتا پارٹی میں دہلی میونسپل کارپوریشن جیتنے کے بعد ایک نیا حوصلہ پیدا ہوا ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ2014ء کے لوک سبھا چناؤ میں پارٹی بازی مار سکتی ہے لیکن سب سے بڑی کمی جو سامنے آرہی ہے وہ ہے کلیئر لیڈر شپ کی کمی۔ یہ کسی سے پوشیدہ نہیں پارٹی کے ایک بڑے گروپ خاص کر ممبران پارلیمنٹ کے دل میں یہ ایک سوال بار بار گھر کر رہاتھا کہ آخر یوپی اے II- میں وزیر اعظم منموہن سنگھ کی قیاد ت والی حکومت مہنگائی، کرپشن اور گھپلوں کے اشو پر گھری رہی لیکن سرکار کی ناکامی کا بھاجپا کو توقع سے زیادہ فائدہ نہیں مل سکا۔ اس کے چلتے مرکزی سرکار کے خلاف ماحول کو بھنانے کے لئے پارٹی کو لوک سبھا چناؤ سے پہلے اپنا وزیر اعظم کا امیدوار اعلان کرنے ہے۔ یہ وقت اور یہ صورتحال ہے کہ بھاجپا تین دھریوں پر چل رہی ہے۔ سب سے پہلے شری نتن گڈکری جو پارٹی کے صدر ہیں انہیں آر ایس ایس کی حمایت ہے۔ دوسری طرف ڈی فور نیتا ان میں اڈوانی جی، سشما سوراج، ارون جیٹلی قابل ذکر ہیں تیسری دھری نریندر مودی ہیں جو اپنے آپ کو پارٹی سے بالاتر مانتے ہیں اور خود کو وزیر اعظم کے عہدے کا سب سے مضبوط دعویدارمانتے ہیں۔ ان تینوں دھریوں میں سبھی نیتا اپنی الگ الگ سمت میں چل رہے ہیں۔ نتن گڈکری کے ایک طرف نریندر مودی سے اختلافات ہیں اور دوسری طرف دیگر سے اکثر کھینچ تان ہوتی رہتی ہے۔ تازہ مثال سریندر سنگھ اہلووالیہ کی ہے جن کا پہلے راجیہ سبھا سے ٹکٹ کٹنا پھر جب ڈی فور نے زور دار مخالفت کی تو انہیں پھر سے امیدوار اعلان کرنا۔ کئی ماہ سے گڈکری اور نریندر مودی کے درمیان بات چیت تک نہیں ہورہی ہے۔ بات چیت کی کمی کی اس حالت کو گڈکری نے خود تسلیم کیا ہے۔ سوال یہ بھی کیا جارہا ہے کہ گڈکری نے مودی سے نہ ہوئی بات چیت کے بارے میں عام کیوں نہیں کیا؟ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ نریندر مودی بھاجپا کے سابق تنظیمی جنرل سکریٹری سنجے جوشی کو دوبارہ سے بھاجپا میں سرگرم کئے جانے کے فیصلے سے ناراض ہیں۔ گڈکری نے سنجے جوشی کو اترپردیش اسمبلی چناؤ میں خاص اہمیت دی تھی۔ اسی کے بعد دونوں میں 'کٹی' ہوگئی۔ اس سوال کا جواب بھاجپا کی جانب سے کون دے گا۔ وزیر اعظم کے امیدواری کے بارے میں بھاجپا کے سینئر لیڈر وینکیانائیڈونے حیدر آباد میں کہا کہ اگلے عام چناؤ سے پہلے پارٹی اپنے وزیر اعظم عہدے کے لئے امیدوار کا نام اعلان کردے گی ابھی اس کا صحیح وقت نہیں آیا ہے۔ادھر نریندر مودی نے مرکزی سیاست میں آنے کے واضح اشارے کردئے ہیں۔
پچھلے دنوں مجوزہ قومی انسداد دہشت گردی سینٹر کی مخالفت میں سارے وزراء اعلی دہلی میں جمع ہوئے تھے مودی نے خاص طور سے تاملناڈو کی وزیر اعلی جے للتا اور بیجو جنتا دل کے چیف اور اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک کے ساتھ ملاقات کی تھی۔ حالانکہ اعلی سطح پرتو یہ میٹنگ مرکزی سرکار کے مجوزہ این سی ٹی سی کو لیکر تھی لیکن اندر خانے یہ وزراء اعلی 2014ء میں ہونے والے عام چناؤ کے بارے میں غور وخوص کے لئے اکٹھے ہوئے تھے۔ مودی نے اپنے آپ کو وزیر اعظم کا امیدوار دکھانے کی چالیں چلنی شروع کردی ہیں۔ آنے والے دنوں میں رسہ کشی اور تیز ہونا ممکن ہے۔
Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Daily Pratap, Jayalalitha, L K Advani, Manmohan Singh, Narender Modi, NCTC, Nitin Gadkari, Sanjay Joshi, Sushma Swaraj, Tamil Nadu, UPA, Vir Arjun

سیاچن پر جنرل کیانی کے بیان کی حقیقت؟



Published On 24 March 2012
انل نریندر

پاکستان میں فوج اور زرداری حکومت میں اختلافات ہیں اس کی ایک مثال ہمیں پاک فوج کے سربراہ اشفاق کیانی کے سیاچن سے متعلق بیان سے ملتی ہے۔ بہت کم جنتا میں بولنے والے جنرل کیانی نے پچھلے دنوں کہا تھا بھارت اور پاکستان دونوں کو سیاچن سے اپنی فوجیں واپس بلا لینا چاہئیں اور دونوں ملکوں کو سیاچن کے اشو کو بات چیت سے حل کرنا چاہئے۔ خیال رہے کہ سیاچن میں اس مہینے کے شروع میں برفیلی چٹانے گرنے سے 125 پاک فوجی سمیت139 لوگوں کی دب کر موت ہوگئی تھی۔ جہاں ہمیں اس بات کا دکھ ہے کہ اتنے پاکستانیوں کی موت ہوئی ہے ہم ان کے کنبوں کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں وہیں ہم یہ بھی کہنا چاہیں گے کہ ہمیں جنرل کیانی کی باتوں پر زیادہ یقین نہیں کرنا چاہئے۔ادھر جنرل کیانی کا بیان آیا تو ادھر کچھ دیر بعد ہی پاک وزارت خارجہ نے وضاحت جاری کردی کے سیاچن مسئلے پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اس سے سوال اٹھتا ہے کہ کیا جنرل کیانی کے سیاچن کے دورہ میں جہاں پاکستانی فوجیوں کی موت ہوئی تھی وہ اس موت کے قہر پر ان کا محض جذباتی رد عمل تھا؟ کیا ہم اس کا یہ مطلب نکال سکتے ہیں کہ صدر آصف علی زرداری کے دورۂ بھارت کے ساتھ رشتوں میں بہتری کی کوشش کو پاکستانی فوج کی حمایت حاصل ہے؟اتفاق سے پاکستان کے سابقوزیر اعظم نواز شریف نے بھی زرداری کے دورۂ ہند کی حمایت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ سیاچن مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لئے وہ اپنی طرف سے پہل کریں۔ مشکل یہ ہے کہ پاکستان کے قول اور فعل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ پاکستان سے ملنے والے متضاد بیانات اکثر مشکلیں پیدا کردیتے ہیں ۔
حال ہی میں پاکستانی لیڈروں کے بیانوں سے کچھ مثبت اشارے ملے ہیں مثلاً وزیر داخلہ رحمان ملک کی ہندوستان کوآگاہی کرنا کے طالبانی جنگجو بھارت میں دراندازی کرسکتے ہیں اور اسے روکنے کیلئے پاکستان بھارت سے پورا تعاون کرنے کو تیار ہے۔ لیکن انہی رحمن ملک نے نواز شریک کی اس تجویز پر بھی نکتہ چینی کی کے پاکستان کو ایک طرفہ قدم اٹھاتے ہوئے سیاچن سے اپنی فوج ہٹا لینی چاہئے۔ ایسے سلسلوں کی وجہ سے ہم جنرل کیانی کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لے سکتے۔ جو اپنے دیش اپنے استحکام کو بھارت سے دشمنی کے حوالے سے تشریح کرتا آرہا ہے اور جہاں تقسیم کے ناقابل عمل ایجنڈے کو پورا کرنے کی باتیں کھولے عام کہی جاتی ہوں ،وہاں کے فوج کے سربراہ کی باتوں پر بھلے ہی یقین نہ آئے لیکن یہ فطری ہی ہے تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے کم سے کم تین مرتبہ سیاچن سے بھارت کی فوجوں کو ہٹانے کیلئے ناکام فوجی آپریشن کئے۔ یہاں کا موسم اتنا خطرناک ہے کہ جنگ کی بہ نسبت برفیلی چٹانیں گرنے اور سرد لہر سے زیادہ لوگ مرتے ہیں۔ دونوں ہی دیشوں کو یہاں اپنی ڈیفنس فوج پر جتنا خرچ کرنا پڑتا ہے اس کے عوض انہیں کوئی خاص فائدہ نہیں ملتا۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ ہم اپنی فوجوں کی واپسی پر بات چیت کرسکتے ہیں لیکن اس سے پہلے دونوں ہندوستان ۔پاکستان کی فوجیں اس وقت کہاں کہاں ہیں ان کی نشاندہی کی جائے اور یہ کرنے سے پاک بچتا رہا ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, General Kayani, Indo Pak War, Pakistan, Siachin, Vir Arjun

22 اپریل 2012

نئے فتوے: مسلم خواتین بیوٹی پارلر میں نہ کام کریں، مرد دوسری شادی سے بچیں



Published On 22 March 2012
انل نریندر
دیوبندی مسلک کی سب سے بڑی اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے فتوے ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ دیوبند نے ایک فیصلے میں خواتین کے بیوٹی پارلر میں کام کرنے سے منع کیا ہے، ایسا کرنا شریعت کے خلاف ہے۔ دیوبند کے اس فیصلے پر سیاسی سطح پر اور سماجی سطح پر تلخ رد عمل سامنے آرہا ہے۔ کچھ مسلم لیڈروں نے اس فیصلے کو عورتوں کی سماجی و اقتصادی بھلائی کے نکتہ نظر سے اسے غلط مانا ہے۔ کانگریس کے ترجمان راشد علوی نے کنی کاٹتے ہوئے کہا کہ کسی مذہبی معاملے میں رد عمل ظاہر کرنا ٹھیک نہیں ہے وہیں بھاجپا کی ترجمان نرملا سیتا رمن کہتی ہیں کے مسلم خواتین کو آگے بڑھنے کی اسی طرح آزادی ہونی چاہئے جس طرح دیگر مذاہب کی خواتین کو ملی ہوئی ہے۔ فتوے خواتین کی اقتصادی و سماجی فروغ میں رکاوٹ نہیں بننے چاہئیں۔ دوسری طرف راجیہ سبھا کے آزاد ایم پی محمد عدیب کا کہنا ہے دیکھنا چاہئے کے دیوبند نے یہ فتوی کیو جاری کیا؟ ان کا کہنا ہے کہ دارالعلوم دیوبند سے کسی نے پوچھا ہوگا۔ اگر کسی بیوٹی پارلر میں مرد بھی آتے ہیں تو کیا ایسے پارلر میں خواتین کا کام کرنا مناسب ہوگا؟ اس کے جواب میں فتوی آیا ہوگا کے ایسی جگہوں پر عورتوں کا کام کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ اس کے برعکس سماجی رضاکار رنجنا کماری نے اس فتوے کو پوری طرح غلط بتایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلے عورتوں کی اقتصادی و سماجی ترقی میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ مذہبی اداروں کو ایسے فتوے جاری کرنے سے پہلے سماجی سطح پر ہو رہی تبدیلیوں کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ خواتین کے لئے بیوٹی پارلر آج روزگار کا اہم ذریعہ بن گیا ہے اور اس کے ذریعے اگر کوئی خاتون اپنے گھر کی پرورش کرتی ہے تو اس میں آخر برائی کیا ہوسکتی ہے؟ دوسری صلاح مسلمانوں کے ذریعے دوسری شادی کرنے سے متعلق ہے۔
دارالعلوم دیوبند میں اپنے نظریئے میں ایک اہم تبدیلی لاتے ہوئے ایک سے زیادہ شادیاں کرنے سے بچنے کی صلاح دی ہے۔ شرعی قانون کے تحت ایک سے زائد شادیاں جائز ہیں لیکن اب دیوبند نے پہلی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کے خواہشمند ایک شخص کو نصیحت دی ہے کہ جدید دور کے تقاضوں اور ضرورت کے حساب سے یہ صحیح نہیں ہے۔اس شخص کے پہلی بیوی سے دو بچے ہیں۔ شریعت کے مطابق ایک مسلم شخص کو ایک ہی ساتھ دو بیویاں رکھنے کا حق ہے لیکن دارالعلوم ۔دارالافتاء جو دارالعلوم کا آن لائن فتوی جاری کرنے کا شعبہ ہے کا کہنا ہے کہ اس طرح کی باتیں (ایک سے زیادہ شادی) آج کی ہندوستانی روایات میں قابل تسلیم نہیں ہے۔ ہندوستان میں ایسا کرنا سینکڑوں مصیبتوں کو دعوت دینا ہے۔ اس کے علاوہ اس طرح کی شادی میں دونوں بیویوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا کسی بھی آدمی کے لئے کافی مشکل ہے۔ اس لئے آپ دوسری شادی کا ارادہ ترک کردیجئے۔ فتوی کمیٹی کے چیئرمین مفتی ارشد فاروقی نے کہا کے بغیر کسی ٹھوس بنیاد کے سبب دوسری اور تیسری شادی نہیں کرنی چاہئے۔ گھر کے چھوٹے موٹے جھگڑوں کو طلاق یا دوسری شادی کی بنیاد کبھی نہیں بنانا چاہئے۔ شریعت میں ایک مسلم شخص کو ایک ساتھ چار بیویاں رکھنے کی اجازت ضرور دی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی صاف صاف کہا ہے کہ چاروں کے ساتھ ایک جیسا برتاؤ کیا جانا چاہئے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبر ڈاکٹر نعیم حامد کا کہنا ہے کہ پہلے ایک سے زیادہ شادیوں کی روایت اس لئے تھی کہ کئی غریب لڑکیاں مختلف اقتصادی اور سماجی اسباب سے کنواری رہ جاتی تھیں لیکن اب مسلم سماج کو چار تو کیا دوسری شادی سے بھی بچنا چاہئے۔ دوسری شادی کرنا خاندانی ڈھانچے کو بری طرح سے متاثر کرتا ہے۔ پہلے دارالعلوم ایک سے زیادہ شادیوں کو منع نہیں کرتا تھالیکن اب اس کی زیادہ توجہ مسلمانوں کو اقتصادی اور سماجی طور سے اٹھانے پر مرکوز ہوچکی ہے۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Deoband, Fatwa, Islamabad, Vir Arjun

رام سیتو اشو پر پھر سامنے آیا یوپی اے سرکار کاہندو مخالف چہرہ



Published On 22 March 2012
انل نریندر
یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ منموہن سنگھ کی یوپی اے سرکار نے کروڑوں ہندوؤں کی عقیدت سے جڑے رام سیتو سمندرم مقدمے میں اپنا موقف صاف نہیں کیا ہے۔ مرکزی حکومت نے جمعرات کو رام سیتو کو قومی وراثت قرار دینے کے مسئلے پر اپنا موقف رکھنے سے انکار کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے ہی اس معاملے پر فیصلہ سنانے کی اپیل کی۔مرکز کی جانب سے موقف نہ رکھے جانے پرعدالت نے اس مسئلے پر اگست میں آخری سماعت کرنے کا فیصلہ دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے جنتا پارٹی کے صدر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کی درخواست پر حکومت سے جواب طلب کیا تھا لیکن حکومت نے جواب دینے سے انکار کرکے یہ صاف کردیا ہے کہ وہ ہندوؤں کے مذہبی جذبات سے وابستہ اس برننگ اشو سے دور رہنا چاہتی ہے۔ بنچ کے سامنے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ہرین راول نے کہا کافی غور وخوض کے بعد سرکار اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ رام سیتو کو قومی وراثت اعلان کرنے کے مسئلے پر وہ کوئی موقف نہیں رکھنا چاہتی۔ انہوں نے کہا کے سرکار اپنے 2008ء میں داخل کردہ جواب پرقائم ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وہ سبھی مذہبوں کا احترام کرتی ہے لیکن مذہبی اعتقاد کے مسئلے پر اسے جواب دینا نہیں چاہئے۔ بنچ جنتا پارٹی کے پردھان سبرامنیم سوامی کی جانب سے داخل اس اپیل پر سماعت کررہی تھی جس میں قدیمی وراثت رام سیتو کو قومی وراثت قرار دینے کی مانگ کی گئی تھی۔ عدالت عظمیٰ کی جانب سے اس مسئلے پر حکومت کو 29 مارچ سے پہلے بھی دو ہفتے کا وقت دیا جاچکا ہے۔ مرکز نے کہا کہ وہ کوئی اپنا موقف نہیں رکھنا چاہتی ایسے میں عدالت اس فیصلے پر فیصلہ لے۔ اس پر بنچ نے کہا کہ اگر حکومت حلف نامہ داخل نہیں کرنا چاہتی تو عدالت دلیلیں پیش کرنے کی کارروائی کی طرف رخ کرے گی۔ 
یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ یوپی اے کی یہ حکومت کروڑوں ہندوؤں کے جذبات کو درکنار کرنے کی جو ہمت دکھا رہی ہے۔ کروڑوں ہندوؤں میں یہ مانیتا ہے کہ یہ رام سیتو ہنومان جی نے بھگوان شری رام کو لنکا پہنچانے کے لئے بنوایا تھا۔ یہ سیتو آج بھی صاف نظر آتا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ رام سیتو کو قومی وراثت اعلان کرنے میں کسی اور مذہب ، کسی فرقے کو کوئی اعتراض نہیں۔ یہاں تک کہ دیش کے کروڑوں مسلمان ،سکھ، عیسائی بھی اس کی حمایت کرتے ہیں۔ رامائن سبھی کی مقدس گرنتھ ہے۔ ہاں مخالفت کررہی ہے تو ڈی ایم کے پارٹی ۔ راوڑ ونش کے یہ لوگ اس سیتو کوتور کر راستہ بنانا چاہتے ہیں۔ اس کے پیچھے ان کی کیا نیت ہے یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اپنے آپ کو ہندو پارٹی کہنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی ووٹوں کی خاطر ڈاکٹر سوامی کی کبھی کھل کر حمایت نہیں کی۔ ہاں وشوہندو پریشد نے ضرور حمایت دی ہے۔ وشو ہند پریشد کے ورکنگ صدر پروین بھائی توگڑیا نے کہا کہ مرکزی سرکار نے سیتو سمندرم پروجیکٹ کو ختم کرنے کا حلف نامہ نہ دیکر ایک بار پھر ہندو مخالف نیت کا ثبوت دیا ہے۔ اپنی اپنی مانیتا ہے شری ہنومان کے ذریعے بنائے گئے اس سیتو کو کوئی توڑ نہیں سکتا۔ جے ہنومان، جے شری رام۔
Anil Narendra, Daily Pratap, Manmohan Singh, Ram Setu, Subramaniam Swamy, Tamil Nadu, UPA, Vir Arjun

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...