Translater

02 فروری 2013

تملناڈو کی سیاست کے دلدل میں کمل ہاسن کی فلم ’وشوروپم‘

یہ ایک تلخ سچائی ہے کے اپنے آرٹ اور کلچر اور خوبی کے ذریعے دنیا بھر میں اپنی خاص پہچان بانے والے میرے بھارت مہان میں ایک اداکار کو اس حد تک پریشان کیا جاتا ہے کہ وہ دیش چھوڑنے تک کی دھمکی دینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ میں بات کررہا ہوں جنوبی ہندوستان کے مشہور فلم ساز کمل ہاسن کی۔ اپنی ایک فلم ’وشوروپم‘ پر تملناڈو میں پابندی کو لیکر وہ اتنے پریشان تھے کے انہوں نے کہہ ڈالا کے اگر میرے ساتھ یہاں(تملناڈو میں) انصاف نہیں ہوا تو میں ریاست چھوڑ جاؤں گا اور بھارت میں کوئی سیکولر جگہ تلاش کروں گا۔ لیکن اگر مجھے پورے دیش میں ایسی جگہ نہیں ملی تو میں دوسرا سیکولر ملک دیکھوں گا جیسے ایم ایف حسین نے دیکھا تھا۔ میں یہ دیش چھوڑ دوں گا۔ یہ فلم 25 جنوری کو تملناڈو میں ریلیز ہونی تھی لیکن کچھ مسلم تنظیموں نے اس فلم کے کچھ مناظر اور مقالوں کو لیکر اعتراض جتایا تھا تو ریاستی حکومت نے اس پر15 دن کے لئے پابندی لگادی۔ کمل ہاسن نے مدراس ہائی کورٹ میں سرکار کے اس قدم کو چیلنج کیا تھا اور منگلوار کی شام کورٹ کی سنگل بنچ نے فلم پر لگی پابندی ہٹانے کے احکامات دئے تھے لیکن جے للتا کی انا ڈی ایم کے حکومت نے راتوں رات بڑی بینچ میں نظر ثانی عرضی دائر کردی اور عدالت نے پھر سے ’وشوروپم‘ پر روک جاری رکھنے کا حکم پاس کردیا۔ اس عرضی سے کمل ہاسن اتنے پریشان ہوئے کے انہوں نے دیش تک چھوڑنے کی بات کہہ ڈالی۔ فلم میں کونسے ایسے مناظر یا مقالے ہیں یہ تو پتہ نہیں لیکن سارا جھگڑا ریاستی سرکار نے کھڑاکیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ریاستی سرکار کمل ہاسن کی اس بات سے ناراض ہے جس میں انہوں نے پی چدمبرم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ دھوتی پہننے والے کسی تمل کو دیش کا وزیراعظم بننا چاہئے۔ تملناڈو میں حکمراں پارٹی کا ایک قریبی ٹی وی چینل فلم ٹیلی کاسٹ کے رائٹس خریدنا چاہتا تھا لیکن اس کی کم بولی پر ہاسن راضی نہیں ہوئے اور اس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔ فلم میں کمل ہاسن نے ایسی خفیہ اطلاعات کا استعمال کیا ہے جو بیحد راز والی ہیں۔ وہ ان تک کیسے پہنچیں؟ ریاستی سرکار اس بات سے ناراض ہے۔ سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فلم میں مسلموں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے مناظر اور مقالے ہیں اورفلم سے فرقہ وارانہ فساد ہوسکتا ہے۔ ریاستی سرکار کے اس موقف سے یہ بحث شروع ہوگئی ہے کے کسی ریاستی سرکار کو فلم ریلیز پر روک لگانے کا اختیار ہے بھی یا نہیں؟ جبکہ فلم ریلیز کا سرٹیفکیٹ مرکزی سینسر بورڈ کی طرف سے جاری ہوتا ہے، جو مرکزی سرکار کے ماتحت ہے اور سینسر بورڈ کی طرف سے اس فلم کو پوری اجازت مل چکی ہے۔ فلم اداکارہ شبانہ اعظمی اس بات کو لیکر حیران ہیں کے ریاستی سرکار نے فلم کو دیکھے بغیر اس پر کیسے پابندی لگادی۔ یہ تو سیدھے طور پر اظہار آزادی پر شکنجہ کسنے کی کوشش لگتی ہے۔ مرکزی سرکار نے بھی تملناڈو سرکار کے رویئے پر ناراضگی ظاہر کی ہے لیکن اب یہ معاملہ عدالت میں ہے۔ کمل ہاسن نے کہا کے وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا انتظار کریں گے اگر انہیں انصاف نہیں ملا تو پھر نئی حکمت عملی بنائیں گے۔ یہ ہمارے وقت کا سب سے بڑا کلچر بحران ہے کے کچھ ذاتی مفادات یا سیاسی خوش آمدی کے لئے بھی جن چیزوں سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے یا پھراسے اپنی آسانی سے تشریح دی جارہی ہے۔ بین الاقوامی آتنک واد پر مرکوز فلم ’وشوروپم‘ کو ایک پورے فرقے سے جوڑنے کے پیچھے دراصل ایسی ہی سیاست ہے۔ فلم پر کیونکہ مدراس ہائی کورٹ نے ابھی روک لگا رکھی ہے اس لئے اس کی اسٹوری پر بات کرنا ٹھیک نہیں لیکن اس معاملے سے سینٹرل سینسر بورڈ کے جواز پر سوال بھی اٹھتا ہے۔ اس بورڈ نے فلم کو نہ صرف منظوری دی ہے بلکہ اس کی چیئرپرسن لیلہ سیمسن نے تملناڈو سرکار کی نیت پر سوال اٹھایا ہے۔ اگر اسی طرح فلموں یا کتابوں پر سرکاریں سیاسی بنیاد پر پیسہ لینے لگیں تو اظہار آزادی کا مطلب ہی نہیں رہ جائے گا۔
(انل نریندر)

تلنگانہ اشو پر بری پھنسی کانگریس ادھر کنواں تو ادھر کھائی

تلنگانہ اشو ایک بار پھر تیزی پکڑتا جارہا ہے۔ سرکار کی جانب سے وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے 20 دسمبر کو ہوئی آل پارٹی میٹنگ میں ایک مہینے میں اس معاملے پر فیصلہ لینے کی بات کہی تھی۔ وزیر داخلہ کا وہی بیان اب مرکزی سرکار کے لئے مصیبت بنتا دکھائی دے رہا ہے۔ وزیر خزانہ پی چدمبرم نے بھی کچھ اسی طرح کا بیان دیا تھا۔ دراصل وزرا کے ان بیانوں کی بنیاد پر آندھرا پردیش کی ایک مقامی عدالت نے پولیس کو ان الزامات کی جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے کے کیا ان مرکزی وزرا نے الگ ریاست کی تشکیل کے مسئلے پر اپنے بیان کے ذریعے تلنگانہ علاقے کے لوگوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ عدالت نے سماعت کے بعد وزیر داخلہ شندے اور وزیر خزانہ پی چدمبرم پر دفعہ420 کے تحت مقدمہ درج کرنے کے احکامات دئے ہیں۔ عرضی پر سماعت کے بعد رنگاریڈی میٹرو پولیٹن کورٹ نے دونوں لیڈروں پر الگ تلنگانہ ریاست کی تشکیل پر اپنا وعدہ پورا نہ کرنے کا الزام پہلی نظر میں صحیح پایا ہے اور شندے پی چدمبرم کے خلاف ایل بی نگر پولیس کو دفعہ420 کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔ تلنگانہ کو الگ ریاست بنانے کی مانگ کو لیکر پھر سے تحریک شروع ہوگئی ہے وہیں ریاست کے باقی حصے میں آندھرا کو تقسیم نہ کرنے کے حق میں ماحول بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ تلنگانہ کو علیحدہ ریاست بنانے کی تجویز ترئی آندھرا اور رائل سیماکے سیاستدانوں کے گلے آسانی سے نہیں اترے گی۔ یہ بات شروع سے ہی صاف تھی لیکن مسلسل بے یقینی کی حالت بنی رہنے کے لئے کانگریس کا دوہرا یا ٹال مٹول والا رویہ ذمہ دار ہے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں جب مرکز نے اس طرح کا ٹال مٹول والا رویہ دکھایا ہے۔ دسمبر2009 ء میں تب کے مرکزی وزیر داخلہ رہے پی چدمبرم نے بھی کچھ ٹھوس فیصلہ لینے کا یقین دلایا تھا لیکن تب سے اب تک تین سال گذر گئے ہیں۔ مرکزی سرکار پریشانی میں بھول رہی ہے کہ تلنگانہ میں الگ ریاست کی چاہت کتنی مضبوط اور بڑی ہے۔ یہ ایک بار نہیں کئی بار ظاہر ہوچکا ہے لیکن بات صرف اتنی ہی نہیں ہے۔2004ء میں کانگریس اور تلنگانہ راشٹرسمیتی نے مل کر چناؤ لڑا تھا اس گٹھ جوڑ کی بنیادپر ٹی آر ایس کو کانگریس جانب سے دی گئی یقین دہانی کہ اگر وہ اقتدار میںآئی تو تلنگانہ کو الگ ریاست بنانے پر کام کرے گی۔ کانگریس آندھرا میں اقتدار میں آگئی اور مرکز میں بھی اس نے ٹی آر ایس سے کئے وعدے ٹھنڈے بستے میں ڈال دئے۔ شاید اس لئے آندھرا میں کانگریس کو اپنے دم پر اکثریت مل گئی تھی اور وہاں سرکار چلانے کے لئے اسے ٹی آر ایس پر منحصر نہیں رہنا پڑا تھا۔ آخر کار ہار کے بعد چندرشیکھر راؤ یوپی اے سے الگ ہوگئے۔ آج حالت یہ ہے کہ الگ ریاست کی مانگ پوری نہ ہونے پر تلنگانہ کے کانگریسی ممبران اسمبلی و پارلیمنٹ چھوڑکر ٹی آر ایس میں شامل ہونے کی دھمکی دے رہے ہیں وہیں کانگریس کو بھی یہ خوف ستا رہا ہے کہ تلنگانہ کی مانگ مان لینے پر ساحلی آندھرااور رائل سیما وادی کے ایم پی ،ممبر اسمبلی جگنموہن ریڈی کی وائی ایس آر کانگریس کی طرف کہیں رخ نہ کرلے۔ پھر بڑا سوال یہ بھی ہے کہ اگر مرکزی سرکار تلنگانہ کی مانگ مان لیتی ہے تو دیش کے باقی حصوں میں علیحدہ ریاستوں کی مانگ طول پکڑ سکتی ہے۔ اگلے عام چناؤ میں اب تھوڑا وقت رہ گیا ہے۔ اس صورت میں کوئی بھی قدم اٹھایا گیا تو اس کے دوررس نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ کانگریس بری پھنسی ہے۔ ادھر کنواں ہے تو ادھر کھائی۔
(انل نریندر)

01 فروری 2013

جے جے بورڈ کا متنازعہ فیصلہ اوپری عدالت میں چنوتی دینی ہوگی

دہلی اجتماعی آبروریزی کا چھٹا اور سب سے خطرناک مجرم لگتا ہے سستے میں چھوٹ جائے گا، اس لئے کہ جونائیل بورڈ نے اسے نابالغ قراردیا ہے۔بورڈ نے یہ انتہائی افسوسناک اور مایوس کن فیصلہ سنایا ہے۔ یہ فیصلہ ملزم کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر لیا گیا ہے۔ بورڈ نے نابالغ ملزم کو اترپردیش کے بدایوں ضلع کے بھوانی پور کے اس اسکول کے سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر نابالغ مانا ہے جہاں وہ دوسری کلاس تک پڑھا تھا۔ اسکول کے پرنسپل نے جے جے بورڈ کے سامنے 15 جنوری کو کہا تھا کہ اسکول ریکارڈ کی بنیادپر واردات والے دن اس ملزم کی عمر17 سال6 مہینے12 دن تھی۔ بورڈ کے سامنے اسکول کے سابق ہیڈ ماسٹر پیش ہوئے تھے۔ ریکارڈ کے مطابق ملزم نے 2002ء میں اسکول میں داخلہ لیا تھا تب اس کے والد نے اس کی عمر4 جون 1995ء لکھوائی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا دوسری کلاس میں والد کے ذریعے لکھائی گئی تاریخ پیدائش صحیح ہے۔ اس کی عمر جانچنے کے لئے آج کل تو میڈیکل سائنس نے بہت ترقی کرلی ہے کیا اور کوئی سرٹیفکیٹ یا میڈیکل ٹیسٹ ایسا نہیں ہے جو عمر کا صحیح اندازہ لگا سکے؟ دہلی پولیس کے فرد جرم کے مطابق یہی نابالغ ملزم واردات کا سب سے بڑا گناہگار ہے۔ لڑکی کے ساتھ اس نے ہی سب سے زیادہ زیادتی کی تھی۔ منریکا بس اسٹینڈ پر لڑکی کو اس ملزم نے بہن بنا کر بس میں بٹھوایا تھا اور بدفعلی کے بعد اسی نابالغ ملزم نے لڑکی کے جسم میں لوہے کی زنک والی راڈ ڈالی تھی اور اس کے جسم سے آنتیں باہر کھینچ لی تھیں۔ بعد میں اسی نے لڑکی اور اس کے دوست کو برہنہ حالت میں بس کے نیچے پھینکنے کو کہا تھا۔ اب نابالغ قراردینے کے بعد اسے زیادہ سے زیادہ تیا سال کی سزا ہوسکتی ہے۔ یہ میعاد بھی اسے جیل میں نہیں بلکہ جونائیل اصلاح گھر اور اسپیشل ہوم میں کاٹنے ہوگی۔ بورڈ کا دہلی پولیس کی اس عرضی کو خارج کرنا اپنی سمجھ سے باہر ہے جس میں پولیس نے ملزم کی صحیح عمرپتہ لگانے کے لئے ہڈیوں کا ٹیسٹ کرانے کی مانگ کی تھی۔ دہلی پولیس کو یقینی طور سے بورڈ کے فیصلے کو اوپری عدالت میں چنوتی دینی چاہئے۔ یہ درندہ اتنی آسانی سے نہیں چھوٹنا چاہئے۔ نابالغ ہونے کی رعایت سے پہلے بھی بہت نقصان ہوچکا ہے۔ لکھنؤ میں17 سال کے ترون نے 3 سال کی بچی کے ساتھ بد تمیزی کی تھی اور بچی بے ہوش ہوگئی تھی اور اگلے دن جب ہوش آیا تو وہ ہسپتال میں تھی۔ ترون محض تین سال کی قید کے بعد باہر آگیا اور بچی آج بھی بیمار ہے۔ دوسرا کیس دہلی کے بدرپور کا ہے ۔ تین سال کی بچی سے پڑوس کے 17 سال لڑکے راہل نے بدفعلی کی اور اسے ادھ مری حالت میں چھوڑ کر بھاگ گیا۔ پولیس نے جانچ کے بعد راہل کو گرفتار کرلیا۔ کورٹ نے نابالغ قراردے کر تین سال کی سزا سنائی۔ تیسرے کیس میں کئی سال پہلے بہادرشاہ ظفر مارگ پر خونی دروازے کے اندر مولانا آزاد میڈیکل کالج کی طالبہ سے آبروریزی میں پکڑے گئے لڑکے نے عمر کا ثبوت اور اسکول سرٹیفکیٹ کی بنیاد پر خود کو نابالغ بتایا تھا لیکن اس کی ہڈیوں کی جانچ ہوئی تو وہ حقیقت میں نابالغ ثابت ہوا۔ دہلی پولیس کے پاس یہ کیس ہے اور ہمیں یقین ہے کے وہ اوپری عدالت ضرور جائے گی اور اس درندے کی ہڈیوں کی جانچ کا حکم حاصل کرے گی تاکہ وہ اتنی آسانی سے چھوٹ نہ سکے۔ یہ محض تین مثالیں ہیں۔ دیش بھر میں ایسے کئی معاملے ہیں جہاں خطرناک جرائم کے باوجود ملزم اس لئے بچ جاتا ہے کیونکہ وہ نابالغ ہے۔نو عمری انصاف قانون میں ایسے اطفال ملزمان کے لئے تین سال تک کی ہی سزا کی سہولت ہے۔ اس کے پیچھے مقصد ہے ان کی اصلاحات کی کوشش۔ لیکن کیا ملزم سدھرتے ہیں؟ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی مانیں تو سدھار کے بجائے اس سے جرائم پیشہ افراد کا حوصلہ بڑھتا ہے۔ ایک دہائی میں اطفال ملزمان کے ذریعے جرائم میں تیزی آئی ہے۔ سال2000 میں جہاں نابالغ کے ذریعے کی گئی واردات کی تعداد198 تھی وہیں 2011ء میں یہ بڑھ کر1149 ہوگئی ہے ، یعنی پانچ گنا زیادہ۔ اس دوران نابالغوں کے ذریعے بدفعلی کے معاملوں میں بھی 70 فیصدی اضافہ ہوا ہے۔ معاملے بڑھنے کی خاص وجہ نابالغ کو ملنے والی معمولی سزا ہے۔ ظاہر ہے کے نابالغ ہونے کا سارا فائدہ ان درندوں کو مل رہا ہے جس سے نہ صرف ان کے حوصلے بڑھ رہے ہیں بلکہ کرائم کا گراف بھی تیزی سے بڑھتا جارہا ہے۔
(انل نریندر)

سکھبیر سنگھ بادل اب بنے دہلی کے سردار

دہلی سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے انتخابات میں سکھبیر سنگھ بادل دہلی کے سردار بن گئے ہیں۔ ان کی پارٹی شرومنی اکالی دل(بادل) نے 12 برسوں کے بعد اپنا پرچم لہرادیا ہے۔ دہلی کی سنگتوں نے تقریباً10 برس بعد شرومنی اکالی دل(بادل) کو 44 میں سے37 سیٹیں جتا کر دو تہائی اکثریت دے کر کمیٹی کی سیوا کرنے کا موقعہ دیا ہے۔ پنجاب کے نائب وزیر اعلی اور شرومنی اکالی دل (بادل) کے پردھان سکھبیر سنگھ بادل دہلی کے بھی سردار بن گئے ہیں کیونکہ چناؤ مہم کی کمان خود انہوں نے ہی سنبھالی ہوئی تھی۔ شرومنی اکالی دل(سرنا) کو زبردست جھٹکا لگا ہے۔ اسے محض8 سیٹوں پر ہی تسلی کرنی پڑی۔ اس کے پردھان اور دہلی گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین پرمجیت سنگھ سرنا کو اپنے حریف بادل اکالی دل کا امیدوار سردار منجندر سنگھ سرسا سے 4554 ووٹوں سے ہار کا منہ دیکھنا پڑا۔ سرنا کی ہار کے ساتھ ہی دہلی کانگریس کو بھی زبردست جھٹکا لگا ہے۔ سرنا گروپ کا چناؤ میں پتتا صاف ہوگیا ہے۔ پرمجیت سنگھ سرنا نہ صرف اپنی روایتی سیٹ پنجابی باغ سے چناؤ ہارے بلکہ اپنی ضمانت تک نہیں بچا پائے۔ چناؤ مہم اتنی تلخ تھی کہ خون خرابہ بھی ہوا۔ دونوں فریقوں نے اسے اپنے وقار کا سوال بنا لیا تھا۔ سرنا گروپ نے برسوں سے دہلی گورودوارہ پربندھک کمیٹی پر اپنی بالادستی قائم کررکھی تھی اور انہیں ہٹانا آسان نہیں تھا لیکن سکھبیر سنگھ بادل نے ثابت کردیا کے وہ چناؤ جتانے میں ماہر ہوچکے ہیں۔ انہوں نے پنجاب اسمبلی چناؤ میں بھی قابل قدر رول نبھایا تھا۔ اس چناؤ میں بادل نے سرنا گروپ کو تو ہرایا ساتھ ساتھ کانگریس سرکار (دہلی) کو بھی پٹخنی دے دی۔ پرمجیت سنگھ سرنا نے بری ہار کے بعد الزام لگایا کے دہلی سرکار کے ذریعے تعاون نہ کرنے سے ان کی پارٹی چناؤ ہاری ہے۔ وہیں شرومنی اکالی دل (بادل) کے قومی پردھان اور پنجاب کے نائب وزیر اعلی سکھبیر سنگھ بادل نے اسے سنگت کی جیت بتایا ہے۔12 صفدرجنگ روڈ پر اپنے گھر پر اخبارنویسوں سے بات چیت میں سکھبیر نے کہا کہ جگدیش ٹائٹلر اورسجن کمار کا گنگان کرنے والوں کو سکھ سنگت نے کرارا جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا 1984ء کے مظالم کو لیکر سکھوں میں بہت ناراضگی ہے۔ اس جیت کے دوررس نتائج سامنے آئیں گے۔ سکھبیر سنگھ بادل نے اس موقعہ پر2014ء میں ہونے والے لوک سبھا چناؤ کا بھی ذکرکرڈالا۔ بولے کے ہم نریندر مودی کے لئے پی ایم عہدے کی دعویداری کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم بی جے پی کے ساتھ ہر حال میں ہیں اور اگر پردھان منتری کے عہدے کے لئے نریندر مودی کا نام آتا ہے تو اکالی دل بی جے پی کا ساتھ دے گا۔ اس چناؤ نتائج سے دہلی میں بھاجپا کو بھی فائدہ ہوگا۔ بھاجپا دہلی پردیشن کے پردھان وجندر سنگھ گپتا نے بغیر موقعہ گنوائے کانگریس پر نشانہ داغ دیا اور کہا سکھ گورودوارہ پربندھک کمیٹی کے اہم چناؤ میں کانگریس گروپ کی شرمناک ہار کو وزیر اعلی شیلا دیکشت اور گورودواروں کے انتظام دیکھنے والے وزیر اروندر سنگھ لولی کی یہ شخصی ہار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پچھلے دو سخت تجربوں میں کانگریس کی زبردست ہار ہوئی ہے۔ کانگریس کے زوال کی شروعات پچھلے عام چناؤ سے ہی ہوگئی تھی۔
(انل نریندر)

31 جنوری 2013

شاہ رخ کے چھوٹے سے تبصرے پر اتنا بڑا واویلا

بالی ووڈ کے سپر اسٹار شاہ رخ خان کی سلامتی پر ناپاک نصیحت بھارت اور پاکستان کے درمیان تکرار کا نیا سبب بن گیا ہے۔ آخر یہ معاملہ کیا ہے؟ 21 جنوری نیویارک ٹائمز کے اشتراک سے شائع میگزین آؤٹ لک ٹرننگ پوائنٹس کا شمارہ بازارمیں آیا۔ میگزین کو دئے گئے انٹرویو میں شاہ رخ خان نے اپنے دل کی کئی باتوں کا ذکر کیا۔ جس میں انہوں نے کہا بھارت میں کچھ ہی لیڈردراصل مسلمان کو دیش میں شبہ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اس ڈر سے ایک مسلم ہونے کے ناطے وہ کئی بار خود گذرے ہیں۔ ایسے میں انہیں دیش پریم جتانے کیلئے کچھ نہ کچھ بولنا پڑتا ہے جبکہ ان کے والد ایک مجاہد آزادی رہے ہیں۔ ان کی بیوی گوری ایک ہندو ہے، ان کی زندگی میں کبھی بھی مذہب کے سوال پر جھگڑا نہیں ہوا۔ لیکن کچھ لوگ مسلمانوں کو غلط نظریئے سے دیکھتے ہیں۔ ایسے میں ان کے جیسا شخص بھی کئی بار اپنے آپ کو غیر محفوظ پاتا ہے۔ انٹرویو دیتے وقت شاہ رخ خان کو شاید ہی اندازہ رہا ہوگا کے اس پر اتنا بڑا واویلا کھڑا ہوجائے گا۔ اس انٹرویو کے شائع ہوتے ہی ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ اور دہشت گرد تنظیم جماعت الدعوی کے سرغنہ حافظ سعید نے شاہ رخ خان کی آپ بیتی کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں پاکستان میں بسنے کی دعوت دے ڈالی اور ان کی پوری سلامتی کی گارنٹی لی۔ حافظ سعید سے نہ تو کسی نے پوچھا کے وہ بھارت کے اندرونی معاملوں میں ٹانگ اڑائیں اور نہ ہی شاہ رخ کو آپ جیسوں کی ہمدردی یا مدد درکار ہے۔لیکن ٹانگ زبردستی اڑانے کی پاکستان کی عادت سی بن گئی ہے۔ سعید کے بیان کے دو دن بعد پاک کے وزیر داخلہ رحمان ملک بھلے پیچھے کیسے رہتے ، وہ بھی بن بلائے مہمان کی طرح میدان میں کود پڑے۔ رحمان ملک نے اسلام آباد کے ایک ٹی وی چینل پر کہہ دیا کے بھارت کے لوگ اور وہاں کی حکومت سپر اسٹار شاہ رخ کو اور زیادہ سکیورٹی دے کیونکہ یہ اداکار بھارت کے ساتھ ان کے ملک میں بھی بہت مقبول ہے۔ رحمان ملک نے کہا میں بھارت سرکار سے اپیل کرتا ہوں کے براہ کرم وہ شاہ رخ کو سکیورٹی مہیا کرے۔ رحمان ملک کے اس بیان پر بھارت سرکار اور تمام سیاسی پارٹیوں نے تلخ ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ملک کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے مرکزی داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نے کہا کے ہم اپنے شہریو ں کی سلامتی کرنے میں اہل ہیں۔ وزیر اطلاعات منیش تیواری نے بھارت سرکار کے سبھی شہریوں کی یکساں دیکھ بھال کی دلیل دیتے ہوئے کہا ملک کو اپنے دیش میں اقلیتوں کی حالت سدھارنی چاہئے۔ کانگریس نے کہا اپنے دیش میں اقلیتوں کی فکر کریں رحمان ملک۔ تو بھاجپا نے اسامہ بن لادن کو پناہ دینے والے دیش کے وزیر داخلہ کے بیان کو مضحکہ خیز قراردیا۔24 گھنٹے کی خاموشی کے بعد خود شاہ رخ خان نے ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں تبصرہ کرنے سے پہلے لوگ آرٹیکل کو ٹھیک سے پورا پڑھیں اور سمجھیں۔ انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ انہیں بھارت میں ڈر لگتا ہے وہ یہاں پوری طرح محفوظ ہیں۔ مجھے اپنی دیش بھکتی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ شاہ رخ نے کہا ’’ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا، انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا‘ مجھے کروڑوں لوگوں کا پیار ملا ہے اور بھارتیہ ہونے پر مجھے فخر ہے۔ انہوں نے میڈیا پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا وہی لوگوں کو دکھائے کچھ لوگوں نے فائدے کے لئے مجھ پر حملہ بولا ہے۔ مجھے دکھ ہوتا ہے کے آج مجھ سے دیش بھکتی ثابت کرنے کو کہا جارہا ہے۔ شاہ رخ نے بغیر کسی شخص کا نام لئے واضح کیا کوئی انہیں بے وجہ صلاح نہ دے۔انہوں نے پاک وزیر داخلہ رحمان ملک کو بھی صلاح دی کے باہری لوگ اس معاملے میں اپنے تبصرے نہ کریں ۔جیسا میں نے کہا کے شاہ رخ خان نے کبھی تصور نہیں کیا ہوگا کے اتنی چھوٹی سی بات کا اتنا بڑا بتنگڑ بن جائے گا۔
(انل نریندر)

سارے گلے شکوے دور ہوگئے پھر بھارت۔ پاک بھائی بھائی؟

بات کڑوی ہے لیکن تلخ سچائی ہے۔ یوپی اے کی سرکار میں نہ تو قوت ارادی نظر آتی ہے اور نہ ہی یہ کسی اشو پر مضبوطی سے کھڑی ہوسکتی ہے۔ آج اس حکومت کا نہ تو دیش کے اندر کسی کو کوئی ڈر ہے اور نہ ہی دیش کے باہر۔ پڑوسی پاکستان اس سچائی کو سمجھ گیا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ بھارت ایک نرم گو ملک بن چکا ہے اور ہم جو چاہیں جب چاہیں کرلیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کوئی جواب طلبی کرنے والا نہیں۔ آج تک لانس نائک ہیمراج کا کٹا سر ہمیں نہیں ملا۔ نہ چمیل سنگھ کی جیل میں پیٹ پیٹ کر ہتیا کا تسلی بخش جواب ملے گابھی کبھی نہیں۔پاکستان ہر بات سے انکارکردیتا ہے اور ہم دو تین دن شور مچاتے ہیں اور پھر خاموش ہوکر بھائی چارے کی باتیں کرنا شروع کردیتے ہیں۔ تازہ خبر ہے بھارت پاکستان میں سب اختلافات دور ہوگئے ہیں اور پھر سے امن کی آشا واپس پٹری پر آگئی ہے۔ جموں و کشمیر کو بھارت پاکستان کے درمیان تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن کے آر پار سامان کی آمدورفت کو پھر سے بحال کردیا گیا ہے۔ وہیں تجارت بھی شروع ہوگئی ہے۔ سب سے پہلے80 مسافروں کو لیکر بھارت کے پونچھ علاقے سے جہاں لانس نائک ہیمراج کا سر کاٹا گیا تھا ٹھیک وہیں سے تین بسیں پاکستان کے راولکوٹ کے لئے روانہ ہوئیں۔ کشیدگی بڑھنے سے قریب100 لوگ بس بند ہونے سے پھنس گئے تھے۔ 8 جنوری سے یہ راستہ بند تھا۔ پاکستان کے قول اور فعل کی ایک اور تازہ مثال سامنے آئی ہے۔ 1999 ء میں پاکستان کے اس وقت کے فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف کی جانب سے کارگل میں مجاہدین کے بھیس میں پاکستانی فوجیوں کی بیوقوفی اور شرارت انگیز حرکت اور اسے چھپانے کا پردہ فاش اس وقت کے آئی ایس آئی کے تجزیہ ونگ کے چیف شاہد عزیز نے کچھ نئے حقائق کے ساتھ ایک آرٹیکل میں کیا ہے۔ پاکستانی اخبار ’دی نیشن‘ ’میں پٹنگ آوور چلڈرن ان لائن آف فائر‘ کے عنوان سے 6 جنوری کو شائع مضمون نے پاکستان میں ہلچل پیدا کردی ہے۔پاک فوج کے سابق لیفٹیننٹ جنرل عزیز کا کہنا ہے کارگل جنگ میں پاکستان کی طرف سے مجاہدین نہیں بلکہ پاک فوجی جوان لڑے تھے۔ اب تک پاکستان کہتا رہا ہے کہ کارگل میں حملہ کرنے والے آتنک وادی تھے۔ آرٹیکل میں شاہد عزیز نے کہا کارگل میں حملہ جھوٹے قیاسوں پر مبنی ایک بیکار منصوبہ تھا۔ بعد میں جنرل مشرف نے اس پورے معاملے کو دبادیا اور پاکستانی جوانوں کو چارے کی طرح استعمال کیا گیا۔ عزیز نے لکھا کارگل کی لڑائی میں کوئی مجاہدین نہیں تھا ۔ صرف وائرلیس پر مجاہدین کے نام لیکر جھوٹے پیغام بھیجے جارہے تھے۔ اس سے کسی کو کوئی بیوقوف نہیں بنایا جاسکا۔ ہمارے فوجیوں کو ہتھیار اور گولہ بارود کے ساتھ خندقوں میں بٹھایا گیا۔ پاکستانی جوانوں کو کہا گیا تھا کہ بھارت حملے کا جواب نہیں دے گا لیکن بھارت نے جب جوابی حملہ کیا تو نہ صرف پاک جوان الگ تھلگ پڑ گئے بلکہ ان کی چوکیوں سے بھی رابطہ ٹوٹ گیا۔ اس وقت این ڈی اے کی حکومت تھی جس نے فوج کو کھلی چھوٹ دے دی تھی کے آپ جوابی کارروائی کریں۔ اس سرکار میں اتنا دم نہیں ہے؟
(انل نریندر)

30 جنوری 2013

تنازعہ ہی بن گئے ہیںیہ پدم ایوارڈ

ہر سال یوم جمہوریہ کے موقعہ پر دئے جانے والے پدم ایوارڈ کا تنازعوں سے پرانا رشتہ ہے۔ الگ الگ میدانوں میں تعاون دینے والوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی محنت اور ہنر کو تسلیم کرنے کے اس سلسلے میں آزادانہ چناؤ ہونے سے کہیں زیادہ چاپلوسی،امتیاز برتے جانے کی بو آنے لگی ہے۔ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کسی کو ایوارڈ نہ ملنے کی مایوسی ہے تو کسی کو ایوارڈ اس کے کارنامے کے مقابلے کم لگتا ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جواپنے تازہ ترین کارنامے کوپدم ایوارڈ میں نہ بدلتے دیکھ دکھی ہوتے ہیں۔ ایک ایسے دیش میںیہ سب کچھ ہوتا ہے جہاں ان کے کارناموں کے بغیر پہچان اور سنمان کے اس لہر میں گم ہوجاتی ہیں۔ سبھی جانتے ہیں کہ پدم ایوارڈوں کی فہرست میں ایسے لوگوں کے نام شامل ہوتے ہیں جو اقتدار اعلی کے کافی قریب ہوتے ہیں۔ آپ کو ایسے نام مل جائیں گے جو شاید اس ایوارڈ کے لائق ہوں اور اقتدار اور سچائی ایک دوسرے کے کٹر مخالف ہیں اس لئے اقتدار کو سچائی لکھنا اور بولنا اچھا نہیں لگتا۔ آپ نے کیا اچھے کام کئے یہ اتنا اہم نہیں ہوتا بلکہ یہ ضروری ہوتا ہے کہ آپ حکمراں فریق کے کتنے قریب ہو۔ آپ حکمراں لیڈروں کے گھر کتنی حاضری لگاتے ہو۔ اگر آپ حکمران اعلی طبقے کی چاپلوسی نہیں کرتے تو آپ کو کبھی بھی پدم ایوارڈ نہیں مل سکتا کیونکہ ماضی گذشتہ میں کئی بار روایت سے ہٹ کر ایوارڈ اقتدار کے نزدیکی لوگوں کو بھی دے دئے جاتے ہیں اس لئے اب انتخاب پر انگلی اٹھانا آسان ہوگیا ہے۔ جو ان اعزاز کی ایک طرح سے توہین ہے۔ لیکن اس کو بدقسمتی ہی کہیں گے کے تنقیدوں کے باوجود انتخاب کا طریقہ نہیں بدلتا۔ یہ ایوارڈ کئی بار کس طرح سے خانہ پوری کرکے دے دئے جاتے ہیں اس کی تازہ مثال راجیش کھنہ ہیں۔ ہندی سنیما کے اس پہلے سپر اسٹار کوبعدازمرگ پدم بھوشن ایوارڈ دیا گیا ہے۔ کیا وہ زندہ رہتے ہوئے اس اعزاز کے حقدار نہیں تھے؟ یا بوڑھاپا اور موت ہی کسی فنکار کو ایوارڈ کے لائق بناتی ہے؟ ساؤتھ انڈیا کی مشہور گلوکارہ جانکی نے اس بار خود کو ملے پدم بھوشن کے اعزاز کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ ان کی شکایت ہے کہ انہیں یہ ایوارڈ بہت دیر سے دیا گیا۔جانکی کے طویل کیریئر کو دیکھتے ہوئے ان کا یہ اعتراض واجب لگتا ہے۔ حالانکہ انہوں نے پدم ایوارڈ کے سلسلے میں نارتھ انڈین کو ترجیح دینے کا جو الزام لگایا ہے وہ ایک جذباتی شکایت زیادہ لگتی ہے۔ اگر سلیکشن کمیٹی کانظریہ شمالی ہندوستانیوں کو لیکر نرم ہوتا تو دو بار اولمپک میڈل ونر سشیل کمار کو انہی کی طرح ناراض نہیں ہونا پڑتا۔ سشیل کی شکایت ہے مسلسل دو بار اولمپک میڈل جیتنے والے اکلوتے ہندوستانی ہونے کے باوجود پدم بھوشن نہیں دیا گیا۔ قابل غور ہے سشیل نے 2008 میں بیجنگ اولمپک میں تانبے کا میڈل جیتا اور 2012ء میں لندن اولمپک میں سلور میڈل جیتا تھا۔ کہا جارہا ہے کہ انہیں اس بار ایوارڈ دینے میں قاعدے آڑے آگئے جو ایک شخص کو ملنے والے دو ایوارڈوں کے درمیان باقاعدہ وقفے کی مانگ کرتے ہیں لیکن اسے کمزور بہانہ کہا جائے گا کیونکہ خصوصی معاملوں میں اس قاعدے میں تبدیلی کی سہولت موجود ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ بار بار تنازعات کے باوجود پدم ایوارڈ دینے کا طریقہ کیوں نہیں بدلا جاتا؟ اگر طریقہ نہیں بدل سکتا تو بہتر ہو کے انہیں بند کردیں۔
(انل نریندر)

26/11 معاملے میں ڈیوڈ ہیڈلی کو کم سزا پر بحث

ممبئی پر2008 میں ہوئے حملے کی سازش میں شامل رہے ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کو امریکی عدالت نے 35 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ امریکی تفتیشی ایجنسی ایف بی آئی نے پاکستانی نژاد 52 سالہ امریکی شہری ہیڈلی کو ممبئی حملے کی سازش رچنے اور اسے انجام دینے میں اس کی شمولیت کے الزامات میں اکتوبر2009ء میں گرفتارکیا تھا۔ ہیڈلی نے امریکی تفتیشی ایجنسی سے ایک سمجھوتہ کیا تھا جس کے چلتے وہ موت کی سزا سے بچ نکلنے میں کامیاب رہا۔ اس سزا میں پیرول کی کوئی سہولت نہیں ہے اور قصوروار کو اپنی سزا کی کم سے کم 85 فیصدی پوری کرنی ہوگی۔ شکاگو کے جج نے اپنے عدالتی چیمبر میں سزا سناتے ہوئے کہا ہیڈلی ایک آتنک وادی ہے اس نے جرائم کو انجام دیا ہے اور اس میں تعاون دیا ہے۔ اس تعاون کے بعد میں انعام بھی پایا۔ امریکی ضلع مجسٹریٹ جج ہیری لینے ویبر نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میں کیا کرتا ہوں ، اس سے آتنک وادی رکیں گے نہیں۔ 35 سال کی سزا صحیح نہیں ہے لیکن میں یہ سزا دئے جانے کو سرکار کی تجویز مانتا ہوں اور35 سال کی سزا سناتا ہوں۔ جج کا کہنا تھا کہ موت کی سزاسنانا زیادہ آسان ہوتا ہے آپ اسی کے حقدار ہیں۔ ہیڈلی کو موت کی سزا سنائے جانے پر تنازعہ چھڑ گیا ہے۔ تمام لوگ اس جرم کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سزا کو مناسب مان رہے ہیں۔ یہاں تک کہ فیصلہ سنانے والے جج لینے ویبر نے بھی یہ ہی کہا۔ مانا جارہا ہے کہ کیونکہ ہیڈلی نے ایف بی آئی کے ساتھ تعاون کیا ہے اس لئے سرکاری وکیل نے ان کی موت کی سزا کی مانگ نہیں کی۔لیکن ہیڈلی کو عمر قید بھی نہ ہونا لوگوں کے گلے نہیں اتر رہا ہے۔ سزا کا اعلان ہوتے وقت عدالت میں موجود متاثروں و ان کے رشتے داروں نے بھی کہا کہ ان کی اکٹھا کردہ اطلاعات کی بنیاد پر جس طرح بربریت اور قتل عام کا مظاہرہ کیا گیا اسے دیکھتے ہوئے ہیڈلی کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ غور طلب ہے کہ 26 نومبر 2008 کو ممبئی پر ہوئے آتنکی حملے میں 166 لوگ مارے گئے تھے جس میں 6 امریکی شہری شامل تھے۔ ہیڈلی نے اکتوبر2009ء میں شکاگو میں گرفتار ہونے کے بعد یہ قبول کیا تھا کہ اس نے 2006-08 کے درمیان ممبئی کا کئی بار دورہ کیا اور حملے کے نشانوں کی جانکاریاں اکٹھا کیں اور انہیں لشکر طیبہ تک پہنچایا۔ پچھلے ہفتے آتنک واد کے فروغ میں ہیڈلی کے ساتھی رہے تحور حسین رانا کو بھی عدالت نے14 سال کی سزا سنائی تھی۔ بھارت ہیڈلی کی حوالگی کی مانگ کررہا ہے۔ مشکل اس میں یہ آرہی ہے کہ امریکی قانون کے مطابق کسی جرم کے لئے ایک بار سزا ہونے کے بعد ملزم کو دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ حالانکہ جانکاروں کے مطابق ہیڈلی دہلی اور کئی جگہ دورہ کرکے مقامات کی ٹوہ لی تھی اور امریکی عدالت نے اس کے لئے اسے سزا نہیں دی۔ اس لئے بھارت حوالگی کی اپنی مانگ جاری رکھ سکتا ہے۔ امریکہ نے ہیڈلی کو بھارت بھیجنے کی مانگ کو مسترد کردیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان وکٹوریا نولینڈ نے کہا کہ ہیڈلی کے خلاف امریکہ میں مقدمہ چلا ہے۔اسے یہیں قصوروار پایا گیا ہے اور وہ سزا بھی امریکہ میں ہی گذارے گا۔ ہمارے مطابق انصاف ہوچکا ہے اور یہ آتنک واد کے خلاف لڑائی میں امریکہ اور بھارت کو تعاون ایک بہت مثبت مثال مانی جاسکتی ہے۔ انہوں نے کہا امریکہ اور بھارتیہ حکام کے درمیان بہترین تعاون اور تال میل کے سبب ڈیوڈ ہیڈلی کے خلاف جانچ اور مقدمے آگے بڑھ گئے ہیں۔ ممبئی میں 26/11 معاملے میں خصوصی وکیل اجول نکم کا ردعمل تھا کے ہیڈلی کو اس معاملے میں سرکاری گواہ بنا دینا چاہئے تاکہ گناہگاروں کو سزا مل سکے۔ نکم کا کہنا ہے کہ یہ اہم ہے کے ہیڈلی کی سزا ہو لیکر کئے گئے سمجھوتے ہو قبول کیا جانا تھا اور وہ26/11 آتنکی حملے میں امریکہ کی طرف سے گواہی دے گا۔ اب پاکستان کو ہیڈلی کو 26/11 معاملے میں ملزم بنانا چاہئے۔ انہوں نے کہا پاکستان کو اسے سرکاری گواہ بنانا چاہئے اور ویڈیو کے ذریعے اس کا بیان درج کرانا چاہئے۔ پاکستان ہمیشہ کہتا ہے لشکر طیبہ کے چیف حافظ سعید کے خلاف اس کے پاس ثبوت نہیں ہیں لیکن اجمل قصاب نے اپنے بیان میں سعید کا نام لیا تھا۔ ہیڈلی نے 26/11 کی سازش میں اہم کردار نبھایا تھا اور قبول بھی کیا ہے۔ ہیڈلی کے خلاف ثبوت بہت اہم ہیں کیونکہ دنیا بھر میں خوف پیدا کرنے کے ارادے سے ممبئی میں قتل عام کی اسکیم لشکر طیبہ کی سازش کو پورا کرنے کے لئے ہیڈلی نے اس کے بڑے نیتاؤں سے بات کی ہوگی۔ بہرحال بہتر ہوگا کے ہیڈلی کی حوالگی کی مانگ کے ساتھ ساتھ ہم امریکہ کی عدالتی کارروائی پر بھی گہرائی سے غور کریں۔ چست عدالتی کارروائی اور مقررہ وقت میں عدالتی سماعت کی کمی کی وجہ سے ہیڈلی جیسوں کی حوالگی سے کیا حاصل ہوگا؟
(انل نریندر)

29 جنوری 2013

پاکستانیوں نے ہندوستانی قیدی کو پیٹ پیٹ کرمار ڈالا

دو ہندوستانی فوجیوں کی لاشوں کے ساتھ پاکستانی فوجیوں کی بربریت کا معاملہ ٹھنڈا نہیں ہوا تھا کہ وہاں کی جیل میں ہندوستانی قیدیوں کے ساتھ بربریت کی ایک اور واردات سامنے آئی ہے۔ الزام یہ ہے کوٹ لکھپت جیل کے افسروں نے نل پر کپڑے دھونے جیسی معمولی بات پر نہ صرف جموں و کشمیر کے اکھنور کے باشندے قیدی چمیل سنگھ کو مار ڈالا بلکہ واقعے کے ہفتے بھر بعد بھی چمیل سنگھ کی لاش بھارت بھیجنے کا کوئی انتظام نہیں کیا۔ پاکستانی جیل افسروں کی بربریت کو اجاگر کرنے والے لاہور کے وکیل تحسین خاں کے مطابق پاکستان کے افسر چاہتے ہیں کے لاش اتنی دیر میں بھارت بھیجی جائے جس سے چوٹ اور خون کے نشان مٹ جائیں۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی چمیل کی موت کی تصدیق کی ہے۔ لاہور میں اقلیتوں کے حق کے لئے جیسس ریسکیو نام کی این جی او چلانے والے وکیل تحسین خاں نے بتایا کہ 15 جنوری کو وہ بھی لاہور کی کوٹ لکھپت کی سینٹرل جیل میں بند تھے۔ اس دن صبح 8 بجے غلطی سے سرحد پار کرجانے سے پانچ سال کی سزا بھگت رہے جموں کشمیر اکھنور سیکٹر کے پرنوال باشندے چمیل سنگھ ،ولد ایسال سنگھ بیرک کے باہر لگے نل پر کپڑے دھونے لگا۔ تبھی ہیڈ وارڈن محمد نواز اور محمد صدیق نے اسے گندگی نہ پھیلانے کو کہا۔ اس پر چمیل (عمر قریب45 برس) نے کہا کے اسے کپڑے دھونے کی جگہ بتادیں۔ اس وقت وہاں جیل کا نائب سپرنٹنڈنٹ بھی آگیا اس کے سامنے ہی دونوں وارڈن نے چمیل کے سر اور آنکھ پر مارنا شروع کردیا۔ اچانک چمیل کی پٹائی سے آنکھ اور ماتھے سے خون نکلتا دیکھ جیل کے نائب سپرنٹنڈنٹ وہاں سے چلتے بنے۔ وکیل نے بتایا کے وہ اور دوسرے قیدی جب چمیل کے پاس پہنچے تو اس کی موت ہوچکی تھی۔ پاکستان کی جیسی عادت ہے اس نے چمیل کی موت کی ایک اور کہا نی سنادی۔ کوٹ لکھپت جیل کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ اشتیاق احمد کا کہنا ہے کہ 15 جنوری کو ناشتہ کرتے وقت چمیل کے سینے میں درد ہوا تھا۔ انہیں فوراً ایک سرکاری ہسپتال لے جایا گیا۔ ہم انہیں جناح ہسپتال لے گئے لیکن وہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قراردے دیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق چمیل کو دل کا دورہ پڑا تھا۔ بہرحال تمام الزامات اور میڈیا رپورٹ کی وجہ سے جیل حکام نے جوڈیشیل جانچ حکم دیا ہے۔ جوڈیشیل مجسٹریٹ افضل عباس نے ان 14 ہندوستانی قیدیوں کے بیان درج کئے جو چمیل کی بیرک میں ہی بند تھے۔جناح ہسپتال میں فورنسک محکمے کے افسر سید مدثر حسین نے کہا چمیل کی لاش کا ابھی پوسٹ مارٹم نہیں ہوا ہے۔ کوٹ لکھپت جیل کے ریکارڈ کے مطابق چمیل کو 2010 ء میں سیالکوٹ بارڈر کے پاس پکڑا گیا تھا۔ انہیں پچھلے سال جون میں لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کیا گیا تھا۔ سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ چمیل سنگھ کی سزا 2015 میں پوری ہونے والی تھی۔ کوٹ لکھپت جیل میں اس وقت33 ہندوستانی قیدی بند ہیں۔ ایک بار پھر پاکستان بے نقاب ہوا ہے۔ انہیں بھارتیہ فوجیوں سے انسانی برتاؤ کرنا آتا ہے نہ ہی ان کی جیلوں میں بند ہندوستانیوں کی سلامتی کی کوئی فکر ہے۔
(انل نریندر)

بوکھلائے نتن گڈکری اب دھمکیوں پر اتر آئے

بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق پردھان نتن گڈکری آج کل بہت غصے میں لگتے ہیں۔ انہیں دوبارہ میعاد نہ ملنے سے وہ بوکھلا گئے ہیں۔ ویسے بھی گڈکری اپنی زبان پر قابو نہیں رکھ پانے کے لئے جانے جاتے ہیں۔ان کے غیر مہذب تبصرے تو بہت ہیں لیکن کئی بار انہیں اس کے لئے معافی بھی مانگنی پڑی ہے۔ دوبارہ بھاجپا پردھان بنتے بنتے رہ گئے گڈکری اب کھلے عام دھمکیوں پر اترآئے ہیں۔ بھاجپا پردھانی سے آزاد ہوئے گڈکری نے جمعرات کو اپنے گھر ناگپور پہنچے تھے۔ اسٹیج مینجمنٹ اتنا اچھا تھا کے مانو وہ کوئی بڑا قلعہ فتح کر کے آئے ہو۔ پارٹی ورکروں کو خطاب کرتے ہوئے گڈکری اپنی عادت اور مزاج والی زبان بولنے لگے۔ انہوں نے انکم ٹیکس محکمے کے ان افسران کو سبق سکھانے کی دھمکی دے ڈالی اور کہا ہماری سرکار آنے دو۔ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا، تب دیکھوں گا کے ان افسران کو بچانے کے لئے نہ تو چدمبرم آئیں گے اور نہ ہی سونیا۔ گڈکری نے آگے کہا کہ میں مرد ہوں جب بھاجپا پردھان تھا کئی مریاداؤں کاپالن کرنا ہوتا تھا لیکن اب میں آزاد ہوں، میرے خلاف جانچ کررہی انکم ٹیکس محکمے کی ٹیم میں قریب آدھے افسر مجھ سے اور میری پارٹی سے ہمدردی رکھتے ہیں، وہ مجھ اندر کی خبر دیتے رہتے ہیں۔ میرے خلاف جو افسر سازش رچ رہے ہیں میں ان کے نام جانتا ہوں۔ کانگریس کی کشتی ڈوب رہی ہے۔ جب ہمارا اقتدار آئے گا تب میرے خلاف تحقیقات میں لگے افسران کو بچانے نہ چدمبرم آئیں گے نہ سونیا گاندھی۔ کانگریس میں ایک مالکن ہے باقی سب نوکر ہیں۔ ملائم اور مایاوتی کو بھی سی بی آئی کا ڈردکھا کر بلیک میل کیا جارہا ہے۔ یہ پہلا موقعہ نہیں جب گڈکری نے انکم ٹیکس محکمے کو دھمکی بھرا پیغام دیا ہے۔ پچھلے سال بھی انہوں نے اس طرح کی دھمکی دی تھی جب انکم ٹیکس محکمے نے ان کی کمپنی پورتی گروپ میں سرمائے کے ذرائع کی جانچ شروع کی تھی۔ اس بار ان کا رد عمل کہیں زیادہ بوکھلاہٹ بھرا ہے۔ شاید اس لئے بھی انکم ٹیکس کے چھاپوں نے بھاجپا کے تمام لیڈروں کو نظرثانی کرنے کے لئے مجبور کردیا اور انہیں آخری لمحوں میں بائی پاس کرکے راجناتھ سنگھ کو صدارت کی کرسی سونپ دی۔ سوال یہ ہے کہ اگر گڈکری مانتے ہیں کے وہ پاک صاف ہیں تو انہیں ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی اس طرح کی دھمکیاں دینی چاہئیں۔ اگلے چناؤ کے بعد مرکز میں این ڈی اے سرکار بنے یا نہیں اتنا تو طے لگتا ہے گڈکری اقتدار کا کیسا بیجا استعمال کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کیا اچھے انتظامیہ کی بھاجپا کی یہ ہی تشریح ہوگی؟ اپنے خلاف لگے الزامات کو بے بنیاد ٹھہرایا یا جانچ شروع ہونے سے پہلے سیاست یاسیاسی بدلے کے جذبے سے کام کرنا سیاستدانوں کی فطرت رہی ہے لیکن اقتدار میں آنے پر افسروں کو دیکھ لینے کی جو بات گڈکری نے کہی ویسی دوسری مثال ملنا مشکل ہے۔ پورتی گروپ کے گورکھ دھندے کے بارے میں ارون کیجروال کے انکشاف کے کچھ وقت کے بعد ایک انگریزی اخبار نے اس بارے میں کچھ اور جانکاریاں دی ہیں اور ان کو شائع کیا ہے۔ گڈکری ان حقائق کی کوئی تردید یا کاٹ پیش نہیں کرپائے ہیں لیکن وہ انکم ٹیکس محکمے اور میڈیا کا حوصلہ توڑنے کی کوشش ضرور کررہے ہیں۔ گڈکری اور بھاجپا دونوں کے لئے بہتر ہوگا کہ وہ اپنی بوکھلاہٹ پر قابو پائیں۔
(انل نریندر)

بند-کھلا-بند -ہرمز پر سسپنس

ہرمز جل ڈروم سنٹرل کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان ٹکراؤ انتہا پر پہنچ رہا ہے ۔امریکہ اور ایران کے بیچ پچھلے قریب 50 دنوں سے جاری کشیدگ...