Translater
07 ستمبر 2024
مادھوی پوری بوچ کو خود عہدے سے ہٹ جانا چاہیے
سیبی کی چیئرپرسن مادھوی پوری بوچ کیخلاف آئے دن الزام لگتے رہتے ہیں کبھی ہنڈن برگ رپورٹ میں ان کیخلاف الزامات سامنے آتے ہیں تو کبھی سیبی کی کرمچاریوں کی طرف سے تو کبھی کانگریس پارٹی کی طرف سے سب سے پہلے تو ہنڈن برگ رپورٹ میں ان کا کانفلپٹ آف انٹریسٹ کے الزامات لگے ۔اب تازہ الزام کانگریس نے لگایاہے اس نے سیبی کی چیئر پرسن مادھوی بوچ کیخلاف مفادات کے ٹکراو¿ کے نئے الزامات لگاتے ہوئے پیر کو وزیراعظم نریندر مودی سے ان کی تقرری کے معاملے میں وزارت کی مقرر کمیٹی کے چیف کی شکل میں وضاحت کرنے کی مانگ کی ہے ۔کانگریس نے سیبی کے چیئر پرسن مادھوی بوچ پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عہدے سنبھالنے کے باوجود اائی سی آئی سی آئی بینک سے فائدہ کے عہدے پر ہیں ۔بتایا جارہا ہے کہ مادھوی نے کنسلٹنسی فرم چلا کر قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک دوسری کمپنی سے کروڑوں روپے کمائے ۔رائٹرس نے رجسٹرار آف کمپنیز کے حوالہ سے جانکار ی دی ۔مادھوی نے گورا ایڈوائزری نامی کمپنی سے سات سال میں 3.71 کروڑ روپے کمائے ۔کانگریس نے پیر کو سیبی چیف پر الزام لگائے کانگریس نے کہا مادھوی سال 2017 سے 2021 تک سیبی کی مستقل ممبر رہی ہیں ۔وہ سال 2022 میں چیئر پرسن بنیں اور سال 2017 سے 2024 کے درمیان انہوں نے آئی سی آئی سی آئی بینک سے 16.80 کروڑ روپے تنخواہ لی اور دوسری طرف آئی سی آئی سی آئی بینک نے بوچ کو بینک سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھایا اس کے بعد بینک نے انہیں سروس کے دوران ان کی اہلیت کے مطابق تنخواہ ریٹائرمنٹ فائدے بونس اور وغیرہ کی ادائیگی کی یعنی بینک نے مانا ہے کہ اس نے مادھوی بوچ کو اتنی رقم ادا کی ہے ۔یہ ہی نہیں ادھر ذی انٹرٹنمنٹ انٹر پرائز کے چیئرمین سبھاش چندرا نے بھی بوچ پر کرپشن کے الزام لگائے ہیں ۔ان کی کمپنی کیخلاف 2000 کروڑ روپے کی جعلسازی کی جانچ چل رہی تھی اس سال فروری میں منجیت سنگھ نامی شخص نے ایک قیمت کے عوض میں جانچ ختم کرنے کا آفر دیا تھا اور چندرا کے مطابق ایک بینک کے چیئرمین نے منجیت سنگھ کی سفارش سے ان سے کی تھی ۔چندرا کا الزام ہے کہ پہلے بوچ اور ان کے شوہر کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ تھی ۔مادھوی کے سیبی جوائن کرتے ہی یہ بڑھ کر چالیس سے پچاس کروڑ ہو گئی ۔چندرا نے کہا کہ یہ پتہ لگانا چاہیے کہ بوچ کے سیبی چیف رہتے کن کن کارپوریٹ کے خلاف جانچ نپٹائی گئی اس کے عوض میں انہیں اور ان کے قریبیوں کی کتنی فیس لی ۔دوسری طرف سیبی نے سبھاش چندر کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے اسے بدگمانی قرار دیا ہے ۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ مادھوی پوری بوچ پر جب اتنے الزام لگ رہے ہیں تو انہیں ان کے موجودہ عہدے سے کیوں نہیں ہٹایا جانا چاہیے ؟ اس سے بھاجپا کی قیادت پر بھی سوالیہ نشان لگ رہے ہیں ۔یہ اشو دبنے والا نہیں ہے مادھوی بوچ کو تو خود اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے وہ کہہ سکتی ہیں کہ جب تک آزادانہ اور منصفانہ جانچ پوری نہیں ہوتی میں اپنے عہدے سے مرضی سے ہٹتی ہوں تاکہ یہ کوئی نہ کہہ سکے کہ میں نے جانچ کو کسی طرح سے متاثر کر دیا ہے ۔
(انل نریندر)
کسی کا بھی گھر یوں ہی نہیں ڈھایا جاسکتا!
دیش بھر میں مختلف معاملوں کے ملزمان کے گھروں پر ہورہے بلڈوزر ایکشن پر سپریم کورٹ نے سوال کھڑے کئے ہیں ۔اس بات کو لے کر پچھلے کچھ وقت سے سوال اٹھنے شروع ہو گئے تھے کہ اگر کوئی شخص کسی کرائم کا ملزم ہے تو صرف اس وجہ سے اس کے گھر کو بلڈوزر سے کیسے گرایا جاسکتا ہے؟ اب اس معاملے پر داخل عرضیوں کی سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سخت ناراضگی دکھائی ہے اور صاف کر دیا ہے کہ کسی بھی شخص کا مکان محض الزام کی بنیاد پر نہیں گرایا جاسکتا ۔پیر کو سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس دیوی وشوناتھ کی بنچ نے ریاستی حکومتوں کے بلڈوزر ایکشن پر سوال کھڑے کئے اس معاملے میں یوپی سرکار کا موقف رکھ رہے سرکاری وکیل تشار مہتا سے جسٹس گوئی نے پوچھا کہ کسی کا گھر محض اس بنیاد پر کیسے ڈھایا جا سکتا ہے کہ وہ کسی معاملے میں ملزم ہے ۔جسٹس گوئی نے یہ بھی کہا کوئی شخص قصور وار بھی ہے تو قانونی خانہ پوری کی تعمیل کئے بنا اس کے گھر کو مسمار نہیں کیا جاسکتا حالانکہ اتر پردیش کے وزیراعلیٰ کے سیکریٹریٹ کا ایک ٹوئٹ کہتا ہے کہ ریاست میں بلڈوزر کی کاروائی مبینہ پیشہ آور جرائم پیشہ اور مافیاو¿ں کیخلاف ہے ۔الگ الگ ریاستوں میں ملزمان اور ملزمان کےخلاف کی جارہی بلڈوزر کاروائی زیروٹارلنس کی علامت کی شکل میں استعمال کرنے کا ٹرینڈ بڑھتا جارہا تھا جس سے کئی طرح کے سوال کھڑے ہو رہے تھے یہ ٹرینڈ اترپردیش سے شروع ہوا اور اس کا استعمال دیگر ریاستوں میں بھی شروع ہو گیا تھا غیر بی جے پی سرکاریں بھی فوری انصاف کا پیغام دینے کے لئے اس طرح کی کاروائی کا استعمال کرنے سے خود کو بھی روک نہیں سکیں ۔حالانکہ اس طرح کی کاروائی کے حق میں ہر جگہ دلیل یہی دی جارہی تھی کہ سرکاری بلڈوزر ناجائز تعمیرات کو ہی نشانہ بنا رہے ہیں لیکن جس طرح سے ایک مذہب کے لوگوں کے خلاف یہ کاروائی کی جارہی تھی اس سے صاف تھا کہ معاملہ صرف ناجائز تعمیرات کا نہیں تھا تازہ مثال کانگریس کے مقامی لیڈر حاجی شہزاد علی کی ہے۔مدھیہ پردیش میں شیوراج سنگھ چوہان کے عہد میں شروع ہوئی ایسی کاروائی آگے بھی چلتی رہی ۔حاجی شہزاد علی مدھیہ پردیش کے چھترپور میں پچھلے تین مہینے یعنی اگست میں مسلم فرقہ کے لوگوں نے ایک متنازعہ تبصرے کے خلاف مظاہرہ کیا تھا اس دوران پولیس کو میمورنڈم دینے پہونچی بھیڑ نے کوتوالی پر پتھر بازی کر دی تھی اس معاملے میں حاجی شہزاد کے مکان پر بلڈوزر چلا دیا گیا تھا ۔گھر کے باہر کھڑی تین کاروں کو بھی زمین دوز کر دیا گیا ایسے میں سپریم کورٹ کے تازہ موقف کی باریکیاں خاص طور پر غور کرنے لائق ہیں ۔کورٹ نے پہلے تو یہ صاف کیا کہ اس بنیاد پر کسی کابھی گھر نہیں ڈھایا جاسکتا کہ وہ کسی معاملے میں ملزم ہے یہاں تک کہ اگر کسی کا جرم ثابت ہو جاتا ہے تب بھی اس کا گھر نہیں گرایا جاسکتا ۔پھر سپریم کورٹ نے یہ بھی صاف کر دیا کہ وہ کسی بھی شکل میں غیر قانونی تعمیرات کی بچاو¿ نا کرنے کے موڈمیں نہیں ہے ۔ریاستی سرکاروں کے بلڈوزر ایکشن پر یہ سوال اٹھایاجاتا ہے کہ کوئی شخص کسی جرم میں ملزم ہے تو اس کی سزا پورے خاندان کو کیوں دی جائے شاید یہی وجہ رہی ہے کہ بڑی عدالت نے متعلقہ فریقین سے تجاویز مانگی تاکہ اچل پراپرٹیوں کو گرانے سے بچایا جاسکے اور اس مسئلے پر پورے دیش کے لئے ایک ٹھوس گائڈ لائنس جاری کی جاسکے ۔
(انل نریندر)
05 ستمبر 2024
اب نماز بریک تنازعہ میں پھنسے ہیمنت سرما!
آسام کے بڑ بولے وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما ایک بار پھر تنازعات میں گھرتے نظر آرہے ہیں وہ اکثر متنازعہ بیان دیتے رہتے ہیں ۔تازہ معاملہ آسام اسمبلی کے کام کاج سے جڑے ایک فیصلے کو لیکر ان کے اس بیان سے جہاں اپوزیشن لیڈر حاوی ہوئے ہیں وہیں این ڈی اے کچھ اتحادی پارٹیاں بھی اس کے خلاف کھل کر سامنے آچکی ہیں ۔دراصل وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرمانے ریاستی اسمبلی میں مسلم ممبران اسمبلی کو نماز کے لئے ملنے والے دو گھنٹے کے بریک ختم کر د یا ہے ۔اس فیصلے کی جہاں اپوزیشن پارٹیاں نکتہ چینی کررہی ہیں وہیں این ڈی اے میں بھی اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھ رہی ہے ۔این ڈی اے کی دو بڑی اتحادی پارٹیاں جے ڈی یو لوک جن شکتی پارٹی نے بھی اس کی نکتہ چینی کی ہے۔بتادیں مسلم ممبران کو نماز کے پیش نظر دو گھنٹے کا بریک دینے کی روایت 1937 سے چلی آرہی روایت کو بسوا سرمانے ختم کر دیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ہندو اور مسلم ممبران اسمبلی کے ساتھ بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا ہے ۔لیکن این ڈی اے کی اتحادی پارٹیوں نے آئین میں دی گئی مذہبی آزادی کی خلاف ورزی بتاتے ہوئے فیصلہ کی نکتہ چینی کی ہے۔آر جے ڈی نیتا اور بہار کے سابق نائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادو نے جمعہ کو کہا تھا کہ آسام کے وزیراعلیٰ سستی مقبولیت حاصل کرنے کے لئے ایسا کرتے رہتے ہیں ۔انہوں نے اپنے ایکس پر ویڈیو کے ساتھ کچھ ایسے لفظ لکھے جس کو لے کر بی جے پی کا الزام ہے کہ یہ نسلی تبصرہ ہے انہوں نے اپنی پوسٹ میں یوپی کے وزیراعلیٰ آدتیہ ناتھ کا موازنہ آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنت بسواسرما سے کرتے ہوئے ذکر کیا ہے ۔بتادیں تیجسوی کے بیان پر بی جے پی اور منی پور کے وزیراعلیٰ بیرن سنگھ اپنا اعتراض جتا چکے ہیں لیکن اب خود ہیمنت کا بیان آچکا ہے ۔انہوں نے اخبار نویسوں سے کہا کون کیا بیان دیتا ہے اس سے ہمارا کام تھوڑی رکے گا ۔ہماراکام تو آگے ہی لے جانا ہے ۔تیجسوی نے اپنے بیان میں کہاتھا کہ ہیمنت اور یوگی آدتیہ ناتھ کا چائنیز ورژن ہے وہ صرف پولارائزیشن کی سیاست کررہے ہیں ۔باقی نتیش کمار کی پارٹی کے نیتا نیرج کمار نے اس فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہیمنت بسوا سرما کو غریبی ختم کرنے اور سیلاب روک تھام جیسے مسئلوں پر دھیان دینا چاہیے ۔آسام کے وزیراعلیٰ کی جانب سے لیا گیا فیصلہ دیش کے آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے ۔ہر مذہبی عقیدت کو اپنی روایت کو بنائے رکھنے کا اختیار ہے۔میں ا ٓسام کے وزیراعلیٰ سے پوچھا چاہتا ہوں آپ رمضان کے دوران جمعہ کی چھٹیوں پر بھی پابندی لگا رہے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سے کام کی رفتار بڑھے گی ۔ہندو روایت کا ایک اہم ترین حصہ بھی بائیو اتما اس سے کام کی صلاحیت بڑھے گی ۔کیا آپ وہاں بلی کی پرتھا پر پابندی لگا سکتے ہیں ؟ سینئر جے ڈی یو نیتا کے سی تیاگی نے کہا کہ آئین کی تشریح میں اظہار آزادی ، یقین دھرم اور عبادت کی آزادی کی سہولت ہے کسی کو بھی ایسا کچھ نہیں کرناچاہیے جس سے آئین کے وقار کو ٹھینس پہنچے ۔اور لوگوں کی دھارمک عقیدتوں کو بھی ٹھینس پہنچے ۔چراغ پاسوان نے بھی اس فیصلے پر اعتراض جتایا ہے ۔
(انل نریندر)
بہار میں کیا کھیلا چل رہا ہے ؟
بہار میں کوئی نا کوئی کھیلا ضرورچل رہا ہے کم سے کم جنتا دل یونائیٹڈ میں تو ضرور چل رہا ہے ۔حکمراں جنتا دل یونائیٹڈ کے وزیراشوک چودھری کے بیان پر پارٹی ایک رائے نہیں ہے بلکہ کہیں تو بٹی ہوئی ہے اشوک چودھری کا ایک ویڈیو کلپ شوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس میں وہ درپردہ طور سے جہاں آباد لوک سبھا سیٹ پر پارٹی کی ہار کے لئے بھومیار برادری کو ذمہ دار مان رہے ہیں جہان آباد میں ورکروں سے خطاب میں اشوک چودھری علاقہ کے دبنگ بھومیار لیڈر ہیں ۔بھومیار لیڈر جگدیش شرما کو نشانہ پر لے رہے تھے ۔دلت نیتا اشوک چودھری نے کہا تھا کہ کچھ لوگوں نے جے ڈی یو کی حمایت نہیں کی ۔انہوں نے جہان آباد کی شیٹ پر جے ڈی یو امیدوار چندریشوری کی ہار کے لئے بھومیاروں کو قصوروار ٹھہرایا تھا انہوں نے کہا جو صرف کچھ پانے کے لئے نیتا جی کے ساتھ رہتے ہیں ہمیں ویسے نیتا نہیں چاہیے ہم بھومیاروں کو اچھی طرح جانتے ہیں اس سال لو ک سبھا چناو¿ میں جے ڈی یو کے بڑے لیڈر بھنور پرساد چندر ورشی راشٹریہ جنتا دل کے امیدوار سریندر یادو سے ہار گئے تھے ۔خبر کے مطابق جگدیش شرما اس سیٹ پر اپنے بیٹے کو ٹکٹ دلوانا چاہتے تھے ۔جنتا دل یونائیٹڈ کے اندر حالیہ دنوں میں کئی باتیں سننے کو ملی ہیں ۔2024 کے لوک سبھا چناو¿ کے بعد جے ڈی یو کے کئی نیتاو¿ں نے کئی برادریوں پر ووٹ نا دینے کا الزام لگایا ہے ۔اس کے بعد کے سی تیاگی نے جے ڈی یو کے قومی ترجمان کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ۔حالیہ دنوں میں کے سی تیاگی این ڈی اے کا حصہ رہتے بی جے پی کی پالیسیوں کی کھل کر نکتہ چینی کررہے تھے ۔مانا جارہا ہے کہ کے سی تیاگی کو اسی وجہ سے جانا پڑا ۔یہ سب ایسے وقت پر ہورہا ہے جب وہار کی سیاسی پارٹیاں ریاستی اسمبلی چناو¿ کیلئے تیاریاں کررہی ہیں ۔اسی سال لوک سبھا چناو¿ میں بارہ سیٹیں جیت کر نتیش کمار نے کئی سیاسی پنڈتوں کو حیران کر دیا تھا لیکن ان کی اس جیت کا سہرا بی جے پی کے ساتھ اتحاد کو بھی جاتا ہے بہارمیں بھومیار نتیش کمار کو ہی ووٹ دیتے ہیں ۔للن سنگھ بھومیار برادری سے ہیں جنہیں نتیش نے مودی کیبنیٹ میں شامل کروایا ۔للن سنگھ کا مسلمان یادو کی مد د نا کرنے والا بیان کی نتیش کی سیاست سے میل کھاتا ہے ؟ جہان آباد کے بھومیار اور یادو برادریوں کا چناو¿ میں بڑا اثر رہا ہے ۔اشوک چودھری کے بیان پر نئے ترجمان راجیو رنجن پرساد کہتے ہیں اب اس پر کہنے کے لئے کچھ نہیں بچا ہے کیوں کہ انہوں نے وضاحت کر دی ہے ۔جنتا باضمیر ہے ۔بہار کے ذات پات سروے کے اعداد شمار کے مطابق ریاست میں بھومیار آبادی تین فیصدی سے تھوڑی کم ہے لیکن باقی برادریوں کے مقابلے میں بھومیار اقتصادی اور سیاسی طور سے خوشحال طبقہ ہے ۔چودھری کے بیان پر ترجمان اور بہار ودھا ن پریشدنیرج کمار نے بھی اس پر تنقید ہے ۔جس کے بعد جے ڈی یو کے اندر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا ۔نیرج کمار خود بھی ایک بھومیار برادری سے آتے ہیں ۔حالانک ایسا پہلی بار نہیں جب جے ڈی یو نیتا نے اس سال کے لوک سبھا چناو¿ میں ووٹ نا دینے کے لئے کسی برادری یا مذہب کے لوگوں پر طنز نہ کیا ہو۔اس سے پہلے سیتا مڑی سے ایم پی دیویش چندر ٹھاکر نے لوک سبھا نتیجہ آنے کے بعد کہا تھا کہ یادو اور مسلمانوں نے انہیں ووٹ نہیں دیا ہے اس لئے وہ ان کی کوئی مدد نہیں کریں گے ۔بہار میں اسمبلی چناو¿ اگلے سال ہونے ہیں ۔جنتا دل کے اندر سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہا ہے کئی مور چوں پر لڑائی چھڑی ہوئی ہے جو نتیش کے لئے ٹھیک نہیں ہے ۔
(انل نریندر)
03 ستمبر 2024
ہریانہ چناو ¿ کی کمان سنگھ کے ہاتھ !
آنے والی 4 اکتوبر کو ہریانہ اسمبلی چناو¿ میں بھاجپا کو ہیٹ ٹرک دلوانے کے لئے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آر ایس ایس نے کمان چناو¿ کی سنبھال لی ہے ۔سنگھ کے سبھی سسٹر انجمنیں پوری طاقت کے ساتھ بھاجپا کے ساتھ کھڑی ہوں گی ۔چناو¿ میں ٹکٹ تقسیم کو لے کر حکمت عملی تیار کرنے جیسے سبھی معاملوں میں سنگھ سے رائے مشورہ کیا جارہا ہے ۔بھاجپا کی جیت یقینی کرنے کے لئے سنگھ زور شور سے ووٹ فیصد بڑھانے اور 60 فیصدی سیٹوں پر حریفوں سے بڑھت حاصل کرنے کا نشانہ ہے اس کے لئے سنگھ میں بھاجپا ہائی کمان کو 70 فیصدی سیٹوں پر نئے چہروں کو ٹکٹ دینے کا موقع دئیے جانے کی صلاح دی ہے ۔سنگھ کے ذرائع کے مطابق لوک سبھاچناو¿ میں بھاجپا کی مایوس کن پرفارمنس کی وسیع جائزہ میں پایا گیا کہ ورکروں کی ناراضگی اندرونی رسہ کشی اور بے بھروسہ اور بہتر تال میل کی کمی کے سبب پارٹی آدھے سے زیادہ بوتوں پر اپنے سیاسی حریفوں سے پیچھے رہ گئی تھی ۔جن بوتھوں پر پارٹی امیدوار پیچھے رہے وہاں لچر انتظام اور ورکروں کی ٹال مٹولی سب سے بڑی وجہ رہی ۔سنگھ نے طے کیا ہے کہ سبھی بوتوں پر بھاجپا کے ساتھ سنگھ کے ورکر بھی سرگرم رہیں گے ۔پولنگ سے پہلے ہر حال میں ایک ایک پریوار سے رابطہ قائم کیا جائے گا۔لوک سبھاچناو¿ میں پارٹی 19 ہزار 812 ووتوں میں سے 10072 بوتوں پر پیچھے رہ گئی اسکیم 11 ہزار بوتوں پر بڑھت حاصل کرنے کی ہے اس کے لئے رابطہ مہم میں سنگھ کی سبھی انجمنیں حصہ لیں گی ۔ادھر ہریانہ اسمبلی چناو¿ سے ٹھیک پہلے ہوئے ایک پری پول سروے آیا ہے اس کے مطابق 90 اسمبلی سیٹوں والی ریاستی اسمبلی میں بی جے پی کے ساتھ بنا کھیلا ہوسکتا ہے ۔ہریانہ کو لے کر لوک پول نے سروے کیا ہے اس پری پول سروے میں کسے کتنی سیٹیں ملنے والی ہیں اس کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے ۔یہ پری پول سروے 30 اگست 2024 کو نو بھارت ٹائمس میں شائع ہوا ہے ۔اوپینین پول کا سائز 67500 ہے یعنی اس میں ہریانہ کے 67500 لوگوں سے رائے لی گئی تھی اس کے مطابق ہریانہ میں اس بار کانگریس سب سے بڑی پارٹی بن کر واپسی کرے گی ۔کانگریس کو اس چناو¿ میں 88 سے 65 سیٹیں ملنے کا اندازہ ہے ۔اس چناو¿ میں کانگریس کا ووٹ شیئر 46سے 48 فیصد ہو سکتا ہے ۔وہیں بھاجپا کی بات کریں تو اسے 20سے 29سیٹیں مل سکتی ہیں ۔ا س کا ووٹ شیئر 35سے 37 فیصد رہ سکتا ہے ۔سروے کے مطابق 5 سیٹیں دیگر کے حصے میں جاسکتی ہیں ۔ہریانہ میں اہم مقابلہ کانگریس اور بھاجپا میں رہے گا۔ جے جے پی اور آئی ایل این ڈی جیسی علاقائی پارٹیوں کا اثر نا کے بربار رہے گا ۔لوک پول نے 26 جولائی سے 24 اگست 2024 کے درمیان سروے کیا تھا ۔جس کا سیمپل سائز 67500 تھا پورٹیول ڈیوائس پر لوگوں سے رائے لی گئی ۔فیس انٹر ویو کئے گئے تھے ۔اس سروے کو مان لیا جائے تو سکھ اور جاٹ بڑی سطح پر کانگریس کی حمایت میں جائیں گے ۔اینٹی انکم پینسی فیکٹر کا اثر بھی بی جے پی پڑ رہا ہے ۔
(انل نریندر)
کروڑوں میں بنیں شیواجی کی مورتی 8 ماہ میں ڈھہ گئی !
مہاراشٹر کے مالواہ میں سمندری ساحل پر آٹھ مہینے پہلے پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے بنوائی گئی چھترپتی شیواجی مہاراج کی مورتی پیر کو ٹوٹ کر اچانک ڈھہ گئی ۔شیواجی مہاراج کی 35 فٹ اونچی مورتی کے ڈھہ جانے کے واقعہ صرف اسلئے تکلیف دہ نہیں ہے بلکہ یہ پرتیما ہمارے ایک مہا نائک کی عظیم یادگاروں میں سے جڑی تھی اور اس سے ہندوستانی بحریہ کی ساکھ بھی وابسطہ تھی بلکہ یہ اس لئے بھی شدید تشویش کا موضوع ہے کہ ہمارے پبلک تعمیراتی کاموں کی کوالٹی کی کلائی بھی کھل گئی ہے ۔غور کیجئے اس مجسمہ کے بنانے میں کروڑوں روپے کی لاگت آئی تھی اور اسی 4 دسمبر کو نیوی ڈے پر اس کی نقاب کشائی وزیراعظم نریندر مودی کے ذریعہ کی گئی تھی اس واقعہ پر وزیراعظم نریندر مودی نے شیواجی سے معافی مانگی ۔انہوں نے جمعہ کو ایک ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اس واقعہ پر سر جھکا کر معافی مانگتا ہوں ۔ہمارے لئے شیواجی ایک ادادھیہ دیو ہیں ۔انہوں نے یہ بیان جمعہ کو ریاست کے پال گھر ضلع میں ودھاون بندرگاہ پروجیکٹ کا سنگ بنیاد سماروہ کے دوران دیا تھا ۔اس سے پہلے ریاست کے وزیراعلیٰ ایکناتھ شندھے نے بھی کہا تھا کہ وہ اس واقعہ پر 100 بار معافی مانگنے کو تیار ہیں ۔وہیں ریاست کے نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار بھی اس واقعہ کے لئے معافی مانگ چکے ہیں ۔پی ایم مودی کی جانب سے معافی مانگنے کے باوجود اپوزیشن کے ان پر کٹاش جاری ہیں ۔اپوزیشن کہہ رہی ہے کہ کرپشن کی وجہ سے مورتی گری ہے ۔اس لئے وزیراعلیٰ شندھے اور دونوں ڈپٹی سی ایم کو ہٹایا جائے اور جلد ہی اسمبلی کے چناو¿ ہونے جارہے ہیں ۔بھاجپا اور ان کے ساتھیوں کی پہلے سے ہی حالت پتلی ہے جیساکہ لوک سبھا چناو¿ نتائج نے دکھا دیا ہے ۔اخبار نویشوں سے بات کر تے ہوئے جینت پاٹل نے کہا صرف آٹھ مہینے پہلے بنائی گئی مورتی گر گئی ہے یہ مورتی نہیں گری ہے بلکہ مہاراشٹر کی شان گری ہے ۔وزیراعلیٰ کہتے ہیں تیز ہوا چل رہی تھی اس لئے مورتی گری اگر ایسا ہوتا تو دو یا تین پیڑ بھی گر جاتے وہیں لگے ناریل کے پیڑوں سے لٹکے ناریل بھی گرجاتے لیکن ایسا کچھ ہوانہیں صرف مورتی ہی کیوں گری ؟ اس کا مطلب ہے کہ مورتی کا کام صحیح طریقہ سے نہیں ہوا ۔مورتی کا کام کم تجربہ والے شخص کو دیا گیا تھا ۔جسے دو فٹ کی مورتی بنانے کا تجربہ نہیں ہے ۔اسے 35 فٹ کی مورتی بنانے کا کام دے دیا گیا ۔کہا تو یہ بھی جارہا ہے کہ کروڑوں روپے کا کرپشن ہوا ہے ۔پردیش کے نائب وزیراعلیٰ دیونر فڑنویش نے اپوزیشن پر اس حملے کو لیکر سیاست کرنے کا الزام لگایا تھا ۔اس پر پریس کانفرنس میں شردپوار نے کہا اس میں ساست کہاں ہے ۔شیواجی مہاراج کے عہد کے دوران جب ایک لڑکی کی آبروریزی ہوئی تو شیواجی نے شخص کے ہاتھ اور پاو¿ کٹوا دئیے تھے ۔انہوں نے لوگوں کے سامنے جرم کو لے کر اتنا سخت رخ اپنایا تھا ۔لیکن آج کرپشن ہوا ہے وہ بھی شیواجی مہارا ج کی مورتی بنانے کے فیصلے میں انہوں نے کہا جہاں جہاں وزیراعظم خود گئے ہیں وہاں وہاں مورتیاں گری ہیں ۔ا س سے پتہ چلتا ہے کہ کرپشن کس حد تک پہونچ گیا ہے ۔مورتی بنانے میں جلد بازی کی گئی اس میں جتنا وقت لگنا چاہیے تھا وہ نہیں دیا گیا اور جلد بازی میں بنا دی گئی تاکہ اسمبلی چناو¿میں اس کا سیاسی فائدہ مل سکے ۔سیاسی فائدہ تو دور کی بات ہے اور تو اور نقصان کا تجزیہ کرنا چاہیے ۔
(انل نریندر)
سبسکرائب کریں در:
تبصرے (Atom)
ٹرمپ کے ڈاکیہ عاصم منیر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آج کل آنکھ اور کان پاکستانی فوج کے چیف عاصم منیر پر لگے ہوئے ہیں ۔یا یوں کہیں کہ ٹرمپ کی ناک کے بال بنے ہوئے ہیں ...
-
سپریم کورٹ میں بھی عجیب و غریب مقدمات آرہے ہیں۔ تازہ مثال بحریہ کے کچھ افسروں پر بیویوں کی ادلہ بدلی سے متعلق معاملات ہیں۔ بحریہ کے ایک اف...
-
ہندوتو اور دھرم پریورتن، گھر واپسی سمیت تمام معاملوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی اور آر ایس ایس پریوار سے جڑے لیڈروں کے متنازعہ بیانات سے وزیر...
-
مدھیہ پردیش کے ہائی پروفائل ہنی ٹریپ معاملے سے نہ صرف ریاست کی بلکہ دہلی کے سیاسی حلقوں میں مچا دئے معاملے میں اہم سازشی گرفتار ہو چکی شیو...