Translater

Lokayukta لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Lokayukta لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

18 مئی 2012

مدھیہ پردیش کے یہ بھرشٹ افسر

اس دیش میں لگتا ہے کہ افسروں نے بھرشٹاچار کے سارے ریکارڈ تور دئے۔ مدھیہ پردیش کے بھرشٹ افسروں اور کاروباریوں کی تجوریوں سے بے پناہ پیسہ نکل رہا ہے۔ گذشتہ ایک سال کے آنکڑوں پر نظر ڈالیں تو 120 کروڑ روپے سے زیادہ کی جائیداد منظر عام پر آچکی ہے۔ یعنی ہر ماہ 100 کروڑ روپے بھرشٹوں کی جیب سے نکلے ہیں۔ انکم ٹیکس لوکایکت سمیت دوسری ایجنسیوں کے ذریعے ڈالے گئے چھاپوں میں یہ رقم منظر عام پر آئی ہے۔ انکم ٹیکس اور لوکایکت افسروں نے کہا ہے کہ اگر انہیں اور ادھیکار دے دئے جائیں تو وہ اس منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کو اور بھی پکڑ سکتے ہیں جو بھرشٹ طریقے سے اکٹھا کی گئی ہے یا جس میں کالے دھن کا استعمال کیا گیا ہے۔ سال2011-12 میں مختلف ایجنسیوں کی چھاپہ مار کارروائی میں اندور، بھوپال، جبلپور اور گوالیار میں کی گئی 17 چھاپہ مار کارروائیوں میں انویسٹی گیشن ونگ نے 482 کروڑ روپے سرنڈر کرائے ہیں۔سریش بھد بنسل گروپ ، ساگر گروپ، سگریٹ گروپ،اوکھابلڈر۔جامدار، امبیکا سالویکس وغیرہ گروپوں پر کارروائی ہوئی۔ نقد اور منقولہ جائیداد 45 کروڑ کی ضبط کی گئی۔ آندھرا پردیش میں182 سروے کئے گئے۔ بھوپال میں 87 اور اندور میں 95 سروے میں باالترتیب 56 کروڑ اور 323 کروڑ روپے سرنڈر ہوئے۔ یہ سروے بیوپاریوں ، اداروں اور بزنس گروپوں پر کئے گئے۔یہ ہی اس دیش کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے کہ جو پیسہ ترقی کے منصوبوں پر لگانا چاہئے تھا وہ ان بھرشٹ افسروں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔جتنے پیسے ان افسروں نے لوٹے اس سے توپردیش میں گاؤں اور قصبوں تک 7 میٹر چوڑائی کی 3 ہزار کلو میٹر سڑک بنائی جاسکتی تھی یا فٹ پاتھوں پر رہنے والے یا غریبوں کے لئے1.20 لاکھ گھر بن سکتے ہیں۔پرائمری تعلیم کیلئے 8 ہزار اسکول کی عمارتیں بنائی جاسکتی تھیں۔ سبھی سہولیات سے آراستہ جدید 5 ہسپتال بن سکتے تھے۔پردیش میں کم سے کم ایک اچھا ہسپتال بن سکتا تھا۔
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Lokayukta, Madhya Pradesh, Vir Arjun, 

18 فروری 2012

اور اب ایک سرکاری ڈاکٹر جوڑے سے ملے 35 کروڑ روپے



Published On 18th February 2012
انل نریندر
سرکاری محکموں میں کرپشن کا بول بالا چونکانے والا ہے۔ کچھ سرکاری افسران نے تو ناجائز املاک بنانے کی دوڑ کی ساری حدیں پار کردی ہیں۔ ایک ایسی مثال ہمیں پچھلے دنوں مدھیہ پردیش سے ملی ہے۔ مدھیہ پردیش لوک آیکت ٹیم نے پچھلے دنوں ایک سرکاری ڈاکٹر جوڑے کے اجین اور ناگدہ میں واقع گھر پر چھاپہ مارا۔ ضلع کے محکمہ صحت میں کام کررہے ڈاکٹر ونود و ڈاکٹر ودیا لہری کے پاس آمدنی سے زیادہ کروڑوں روپے کی املاک ملی ہے۔پانچ مکان، ایک پیٹرول پمپ، گودام، 150 بیگھہ زمین،پوہا فیکٹری کا پتہ چلا ہے۔ایک اندازے کے مطابق ان کی املاک کی کل مالیت35 کروڑ روپے مانی جارہی ہے۔ لوک آیکت ایس پی ارون مشرا نے بتایا کہ اندرا نگر کے باشندے ڈاکٹر ونود لہری اور ان کی اہلیہ ودیا لہری 22 برسوں سے سرکاری ملازمت میں ہیں۔ دونوں ہی دو برس سے معطل ہونے کے سبب جوائنٹ ڈائریکٹر دفتر اجین میں رہ رہے ہیں۔ انہیں اب تک کی اس سرکاری نوکری میں قریب80 لاکھ روپے تنخواہ ملی ہے۔ ڈاکٹر جوڑے کی اتنی آمدنی ہوتی ہے کہ وہ ہاتھوں سے نوٹ نہیں گن پاتے تھے۔ ان کے گھر پر نوٹ گننے کی مشین بھی ملی ہے۔ لوک آیکت کی دوسری ٹیم جب ناگدہ میں ڈاکٹر لہری کے اسپتال روڈ پر واقع مکان کی تلاشی لی گئی تو وہ مکان دیکھ کر چونک پڑا کیونکہ وہاں مکان نہیں بلکہ محل بنا ہوا تھا۔ کافی عرصے سے بند پڑے اس محل کے اندر جدید نرسنگ ہوم اور ایک سوئمنگ پول بھی ملا ہے۔ جوڑے پر بدعنوانی انسداد ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔جوڑے کی املاک کی مالیت کے تخمینے کے بعد اس کی قیمت کا صحیح اندازہ لگ سکے گا۔ ادھر ذرائع کے مطابق لوک آیکت املاک کی قیمت 35 کروڑ سے زیادہ مانتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں ڈاکٹر جون 2010 ء سے معطل چل رہے ہیں۔ ناگدہ سروس سینٹر میں شکایتوں کے چلتے معطل ہوئے تھے۔ سوال یہ ہے کہ سرکار اب اس ڈاکٹرجوڑے کے خلاف کیا کارروائی کرے گی؟ ان معاملوں میں بہار نے اچھی پہل کی ہے۔ حال ہی میں پٹنہ کی مونیٹرنگ عدالت کے اسپیشل جج رمیش چندر مشر نے ایک فروری کو بہار کے سابق ڈی جی پی نارائن مشر کی آمدنی سے قریب ایک کروڑ40 لاکھ روپے سے زیادہ کی املاک ضبط کرنے کے احکامات دئے۔ بہار میں کرپشن کے خلاف جاری مہم میں یہ پہلا ایک بڑا کارنامہ ہے۔ ایک طرف جہاں ٹوجی اسپیکٹرم لائسنس کو منسوخ کروانے کے لئے لوگوں کو سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے وہیں بہار سرکار نے ایک نیا قانون بنوا کر اپنی مسلح پولیس کے افسر کی املاک کو ضبط کروانے میں کامیابی پائی ہے۔ اس سے پہلے بھی پٹنہ کی مونٹیرنگ عدالت بہار کیڈر کے آئی ایس افسر ایس ایس ورما سمیت کئی سرکاری ملازمین کی املاک ضبط کرچکا ہے۔ ورما کے پٹنہ میں واقع نجی مکان میں اب سرکاری اسکول چل رہا ہے۔ نگرانی عدالت پٹنہ فائننشیل آفس کے سابق افسر گریش کمار، گیانگم کے سابق افسر یوگیندر سنگھ اور محکمہ جنگلات کے افسر بھولا پرساد جیسے کئی دیگر متنازعہ افسروں کی بھی املاک ضبط کرنے کے بھی احکامات دے چکی ہے۔ سوال صرف سیاسی قوت ارادی کا ہے اور بہار نے راستہ دکھا دیا ہے۔ مدھیہ پردیش سرکار کو بھی بہار سے سبق لینا چاہئے۔
Anil Narendra, Black Money, Corruption, Daily Pratap, Lokayukta, Madhya Pradesh, Vir Arjun

21 جنوری 2012

گجرات ہائی کورٹ نے لوک آیکت معاملے میں دیا مودی کو جھٹکا



Published On 21th January 2012
انل نریندر
گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی کو لوک آیکت معاملے میں یقینی طور سے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے سے جھٹکا لگا ہے۔ گجرات ہائی کورٹ نے گورنر کی جانب سے لوک آیکت مقرر کرنے کو پوری طرح سے آئینی اور قانونی طور پر جائز ٹھہرایا ہے۔ لوک آیکت کی تقرری کو لیکر مودی حکومت کے ٹال مٹول کے بعد گورنر محترمہ کملا بینی وال نے پچھلے سال25 اگست کو ریٹائرڈ آر اے مہتہ کو ریاست کا لوک آیکت مقرر کیا تھا۔ گجرات میں نومبر 2003ء سے لوک آیکت کا عہدہ خالی پڑا تھا۔گورنر نے جسٹس مہتہ تو لوک آیکت قانون 1986 کی ضمنی دفعہ3 کے مخصوص اختیارات کا استعمال کرکے مقرر کیا تھا۔ 26 اگست کو گجرات حکومت نے ہائی کورٹ میں اس فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی۔ تین مہینے پہلے ہائی کورٹ نے منقسم فیصلہ دیا تھا۔ بدھوار کو تیسرے جج وی ایم سہائے کی عدالت نے اختلافی نقطوں پر سماعت کے بعد گورنر کے فیصلے کو صحیح ٹھہرایا تھا۔ دونوں فریقین کے وکیلوں کی رائے اپنے حساب سے رکھی گئی تھی۔ عقیل قریشی کا کہنا تھا کہ لوک آیکت کی تقرری صحیح اور آئین کے تحت ہے جبکہ سونیا بین گونکنی کا کہنا تھا کہ مہتہ کو لوک آیکت مقرر کرنے کا فیصلہ غیر آئینی ہے۔ اب معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے۔ گجرات حکومت نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو چیلنج کردیا ہے۔ یہ اچھا ہوا کہ یہ معاملہ عدالت عظمیٰ میں پہنچ گیا۔ پچھلے سال پورے وقت دیش میں کرپشن پر روک لگانے کیلئے لوکپال قانون کی مانگ گونجتی رہی۔ اس شور و غل کے درمیان لوگوں کو یاد نہیں رہا کہ کئی ریاستوں میں کرپشن پر نظررکھنے کے لئے لوک آیکت نامی ایک ادارہ پہلے سے ہی قائم ہے۔ ہم نے گذشتہ دنوں بھی یہ دیکھا کہ لوک آیکت کیا کیا کرسکتے ہیں۔ اترپردیش میں لوک آیکت نے مایاوتی سرکار کا ناک میں دم کررکھا ہے اور نتیجے کے طور پر کئی وزرا ء کو باہرکا راستہ دکھانے پر مایاوتی مجبور ہوئیں یہ بات اور ہے کہ ریاستوں میں لوک آیکتوں کے وجود اور ان کے اختیارات وہاں کی حکومتوں کے رحم و کرم پر ہیں۔کئی ریاستوں نے تو اتنے ہنگامے کے باوجود لوک آیکتوں کو اب تک ضروری نہیں سمجھا اور کچھ ریاستوں نے وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اس عہدے کو بنایا تو لیکن اپنے حساب سے کاٹ چھانٹ کرتے ہوئے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے لوک آیکت کے معاملے میں پورے دیش میں ایک رائے سامنے آئے گی اور پارٹیوں کو مرکز بنام ریاست کی آڑ میں سیاست کرنے کا موقعہ نہیں ملے گا۔ گجرات کا نمونہ آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے ۔ گجرات بیشک اپنے صنعت اور کاروبار کے لئے سب سے معقول ریاست ہونے کا پروپگنڈہ کرتا رہے لیکن تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ریاست پچھلے 8 برسوں سے لوک آیکت کے بغیر چل رہی تھی۔ وہاں کے گورنر اور وزیر اعلی کی چخ چخ کے بارے میں سبھی جانتے ہیں۔ویسے بھی پچھلے کچھ عرصے سے لگتا ہے کہ نریندر مودی میں تھوڑا غرور آگیا ہے۔ یہ جھٹکا ان کیلئے بھی اچھا ہے۔ اب وہ تھوڑا زمین پراتریں گے۔ مودی سرکار کہہ رہی ہے کہ گورنر نے ریاستی کیبنٹ کی توثیق کے بغیر لوک آیکت بنا کر ریاست کے اختیارات میں مداخلت کی ہے جبکہ 2-1 سے آئے گجرات ہائی کورٹ کے فیصلے میں وزیراعلی کے طریقہ کار کی بخیا ادھیڑی گئی ہیں۔ فیصلے میں مودی کی نکتہ چینی میں بھی کہا گیا ہے کہ وہ ریاست میں لوک آیکت قانون میں تبدیلی لا کر چیف جسٹس کو ہی تقرری عمل سے ہٹانا چاہتے تھے۔ سچائی کیا ہے یہ تو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ہی پتہ چلے گا لیکن اندرونی طور سے ابھی دونوں فریق صحیح لگ رہے ہیں۔ بیشک گورنر مرکز کے نمائندے ہوتے ہیں اس لئے اپنی من مرضی ریاست کی منتخبہ سرکار پر نہیں تھونپ سکتے۔ مودی کو ان ریاستوں سے حمایت مل سکتی ہے جہاں غیر کانگریسی حکومتیں ہیں لیکن آج کی تاریخ میں کرپشن روکنے کے کسی بھی عمل کو روکنے کی کوشش جنتا کو نہیں پسند آئے گی۔ مودی کی لڑائی سیاسی ہے دائرہ اختیارات کے قبضے کا معاملہ ہے وہ کرپشن کو روکنے کے خلاف نہیں دکھانا چاہئے۔ دلچسپ یہ بھی ہے کہ جو بھاجپا مضبوط لوکپال کی وکالت کرتی نظر آتی ہے اور جس نے متعلقہ بل میں ایک ترمیم یہ بھی تجویز کی تھی کہ لوکپال کے انتخاب میں مرکزی حکومت کا رول کم کیا جائے۔ وہ اس بات کو لیکر ناراض رہی ہے کہ گجرات میں لوک آیکت کی تقرری ریاستی حکومت کی مرضی سے کیوں نہیں کی گئی۔ کیا پارٹی یہ چاہتی ہے کہ لوک آیکت کون ہو ، اور اس کے اختیارات کیا ہوں ، اس کا فیصلہ ریاستی حکومتوں کے اوپر چھوڑ دیا جائے؟ پھرکیا ایسا سسٹم کرپشن کو روکنے میں پائیدار ثابت ہوسکتا ہے؟
Anil Narendra, Daily Pratap, Gujarat, Lokayukta, Narender Modi, Vir Arjun

20 جنوری 2012

چھتیس برس کی نوکری،22 لاکھ تنخواہ اور 29 کروڑ کی املاک؟



Published On 20th January 2012
انل نریندر
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمارے دیش میں سیاستداں تو بلیک منی کے لئے ضرورت سے زیادہ بدنام ہیں اصل تو ناجائز کمائی افسر شاہوں کے پاس ہے۔ مدھیہ پردیش میں پچھلے کچھ عرصے سے افسر شاہی برادری پر چھاپے پڑ رہے ہیں۔ ان چھاپوں کے نتیجوں سے تو یہی لگتا ہے کہ لوگ جو سوچتے ہیں وہ صحیح ہے۔ نچلی افسرشاہی نے اتنی لوٹ کھسوٹ مچا رکھی ہے جس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ منگلوار کو اجین میں لوک آیکت کی ٹیم نے پی ایچ آئی (عوامی صحت نگرانی محکمہ) کے ایک اسسٹنٹ انجینئر رمیش کمار ولد کندن لال دویدی کے گھر چھاپہ مارا اور تلاشی میں زرعی زمین، مکان، سونے چاندی کے زیورات ، لکژری گاڑیوں سمیت قریب20 کروڑ روپے کی املاک ہونے کے دستاویز ملے۔ لوک آیکت ایس پی ارون مترا نے بتایا کہ دویدی کی 1976 میں ڈپٹی سکریٹری کے عہدے پر نوکری لگی تھی۔ اسے 2010ء تک کل 22 لاکھ روپے تنخواہ ملی۔ کورٹ کے ایک فیصلے کے سبب ڈیڑھ برس سے تنخواہ نہیں لی ہے۔ دویدی کے گھر تلاشی لینے گئی ٹیم کو جب طبیلے میں واقع گھر میں جانا پڑا تو وہ چونک گئے اور انہیں لگا کہ وہ غلط گھر میں تو نہیں گھس آئے۔ بعد میں 20 کروڑ کی املاک کی تفصیل ملی اور طبیلے کی چھان بین ہوئی تب جاکر انہیں لگا کہ وہ صحیح جگہ پر آئے ہیں۔ لوک آیکت کی تلاشی میں دویدی کے گھر پر ایک کار ڈرائیور اور دو نوکر ہونے کا بھی ریکارڈ ملا ہے۔ ان تینوں ملازمین کو دویدی تقریباً15 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دیتا تھا جبکہ اس کی خود تنخواہ 24 ہزار روپے ماہانہ تھی۔ چھاپے میں کیا کیا ملا اس پر غور فرمائیں۔86 بیگھہ زمین قیمت17 کروڑ روپے، 4مکان (اندور، اجین) ڈیڑھ کروڑ روپے، 3 لکژری کاریں21 لاکھ روپے، دو ڈمپر، ٹریکٹر25 لاکھ روپے، دو بائک 1 لاکھ روپے، 13 تولہ سونا 3.64 لاکھ روپے، 2.5 کلو چاندی قیمت85 ہزار روپے،بیوی سادھنا، لڑکاپرینک، پیوش ، اور بہو میگھا کے نام سے بینکوں میں16 کھاتوں میں4 لاکھ روپے۔ دویدی کی9 لاکھ کی بیمہ پالیسی ملی۔
ابھی کچھ عرصے پہلے ہی اندور میں مدھیہ پردیش پولیس کی کرائم جانچ بیورو (ای او ڈبلیو) نے ٹرانسپورٹ محکمے کے ایک کلرک کی 40 کروڑروپے سے زیادہ کی بے حساب املاک کا پردہ فاش کیا تھا۔ زونل ٹرانسپورٹ دفتر میں کلرک کی شکل میں مقرر رمیش عرف رمن پھلدوہے کے خلاف مبینہ کرپشن سے بے حساب دولت بنانے کی شکایت ملی تھی۔ اس شکایت پر اس کے تین مقامی ٹھکانوں پر ایک ساتھ چھاپے مارے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ کلرک کی بے حساب املاک میں الگ الگ مقامات پر کل 49 بیگھہ زمین، 4 پلاٹ، اعلی شان بنگلہ،ایک ہوٹل ، ایک مکان شامل ہے۔ چھاپوں کے دوران پھلدوہے کے ٹھکانے پر زیورات کی شکل میں تقریباً1 کلو سونا اور ساڑھے چار کلو چاندی ملی۔ اس کے علاوہ پانچ بینک کھاتوں اور بیمہ اسکیموں میں سرمایہ کاری کے دستاویز بھی برآمد ہوئے۔ چار مہنگی گاڑیاں، اسکوٹر بھی کلرک کی بے حساب املاک کی فہرست میں ہیں۔ پھلدوہے 1996ء میں سرکاری ملازمت میں آیا تھا اور فی الحال اس کی تنخواہ قریب16 ہزار روپے ماہانہ ہے۔16 ہزار روپے تنخواہ پانے والے نے40 کروڑ روپے کی املاک کیسے بنا لی؟ اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ پکڑی گئی ایسی املاک کا کیا کیا جائے؟ ایک حل تو بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار نے دکھایا ہے۔ ایک کرپٹ ملازم گریش کمار کے پٹنہ میں واقع عالیشان بنگلے میں اب نتیش کمار نے لڑکیوں کا رہائشی اسکول کھول دیا ہے۔ پچھلے کئی مہینوں سے یہ بنگلہ بند تھا۔ پارک روڈ پر واقع اس 28 کمروں والے بنگلے کو پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والی طالبات کی کلاس و رہائشی اسکول میں تبدیل کیا گیا ہے ۔ یہاں 6 سے10 برس تک کی 140 طالبات رہیں گی اور سبھی کلاسیں اسی عمارت میں ہوں گی۔ گریش کا مکان آمدنی سے زیادہ املاک معاملے میں سرکار نے ضبط کیا تھا۔ گریش کمار نے سال1992ء سے 2004ء کے درمیان آمدنی سے 96 لاکھ روپے کی زیادہ املاک بنائی تھی۔ عدالت نے15 نومبر کو ضلع افسر کو گریش کی پراپرٹی ضبط کرلینے کا حکم دیا تھا۔ ڈیڑھ کٹا زمین جو اس کی بیوی کے نام تھی، کو بھی ضبط کرلیا گیا۔ اس اسکول کی پہلی گھنٹی نئے سال (2012ء) میں 2 جنوری کو بجی۔ پسماندہ طبقے کی طالبات جب نئے اسکول کے کمروں میں پہنچیں تو وہ چوک گئیں۔ 10 ویں طالبہ سونی کا کہنا ہے کہ کتنی بڑی الماری ہے؟ ٹیچر میرا آریہ نے ٹوکا: یہ الماری نہیں وارڈ روب ہے ۔ پہلی بار یہ لفظ سن رہی سونی نے الٹا سوال داغا۔ یہ وارڈروب کیا ہوتا ہے؟
Anil Narendra, Corruption, Daily Pratap, Lokayukta, Madhya Pradesh, Vir Arjun

03 جنوری 2012

اترپردیش میں وزیر اور لوک آیکت میں چھڑا تنازعہ


Published On 3rd January 2012
انل نریندر
نئے سال کا آغاز ہی ایک سیاسی تنازعے سے ہوا ہے اترپردیش میں چناوی جنگ کے ٹھیک پہلے اترپردیش کے وزیر برقیات رام ویر اپادھیائے نے یوپی کے لوک آیکت جسٹس این کے مہروترہ کے خلاف اعتراض آمیز رائے زنی کرکے نئے تنازعے کو جنم دے دیا ہے۔ مایاوتی حکومت کے کئی وزرا لوک آیکت کی جانچ کے دائرے میں ہونے کے چلتے وزیر موصوف اپنا آپا کھو بیٹھے۔ جمعہ کی شام ہاتھرس کی ایک عوامی ریلی میں رام ویر نے کہا انہیں جج (لوک آیکت) کے مقابلے قانون کی زیادہ سمجھ ہے۔ لوک آیکت کے ساتھ شخصی رشتے نہیں ہوتے تو میں سپریم کورٹ کی پناہ لے کر انہیں برخاست بھی کرا سکتا تھا۔ وزیر برقیات یہیں نہیں رکے اور کہا کہ میں قانون کا طالبعلم رہا ہوں اور اسے اچھی طرح سے سمجھتا ہوں۔ میں قانون ان سے زیادہ جانتا ہوں اپادھیائے نے ان کے خلاف بھاجپا کے سکریٹری جنرل وراٹ سومیا کے ذریعے لوک آیکت کو کی گئی شکایت کے سلسلے میں یہ بات کہی۔ اس تبصرے پر لوک آیکت نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مایاوتی نے اب تک جو بھی کچھ کیا ہے رام ویر نے اس پر پانی پھیردیا ہے۔ مہروترہ نے کہا کہ رام ویر سے ان کے شخصی تعلقات نہیں ہیں۔
وزیر ہونے کے ناطے انہوں نے رام ویر کو احترام دیا جسے وہ غلط سمجھ بیٹھے۔ انہیں پتہ نہیں کہ ایسے تبصرے کے لئے رامویر نے اپنی سرکار سے اجازت لی یا نہیں لیکن ان کا یہ رویہ مایوسی کی علامت ہے اور عہدے کے وقار کے منافی ہے۔ ہاتھرس کے تاجروں کی جانب سے جمعہ کی رات یہاں گھنٹا گھر پر منعقدہ عوامی ریلی میں اپادھیائے کا یہ تبصرہ تھا جب بھاجپا ضلع پردھان دویندر اگروال کو اس کی جانکاری ملی تو انہوں نے وزیربرقیات پر لوک آیکت کی توہین کا الزام لگانے کے ساتھ ضلع انتظامیہ و لوک آیکت سے وزیر برقیات کے ساتھ ایک ایف آئی آر درج کرنے اور وزیر اعلی سے انہیں برخاست کرنے کی مانگ کر ڈالی۔ حال ہی میں لوک آیکت مہروترہ نے اترپردیش کے طاقتور وزیر نسیم الدین صدیقی کے خلاف ایف آئی آر درج کر ان کے اور ان کی بیوی ودھان پریشد ممبر حسنی صدیقی کے خلاف کے شکایتوں کو مضبوط پاتے ہوئے دونوں کے خلاف معاملہ درج کر وزیر اعلی مایاوتی کو اطلاع دے دی۔ دراصل مایاوتی کی پارٹی کے کچھ لیڈر جسٹس مہروترہ سے سخت نالاں ہیں اور ان کی سفارش پر کئی وزیروں کو اپنے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑا ہے۔ مایاوتی نے آناً فاناً میں کئی وزیروں کو برخاست کردیا ہے۔
چناؤ سر پر دیکھتے ہوئے خبر یہ ہے کہ بہن جی بہت سے موجودہ ایم ایل اے کے ٹکٹ بھی کاٹ رہی ہیں۔ مہینوں پہلے ہی اسمبلی چناؤ کے لئے امیدواروں کا اعلان کرنے والی بہوجن سماج پارٹی میں چناؤ کی تاریخ آنے کے بعد امیدواروں میں تیزی سے بدلاؤ ہورہے ہیں۔ بسپا پردھان نے گذشتہ پیر کو آگرہ، بندیل کھنڈ اور کانپور حلقوں کی سیٹوں پر پھر سے غور کیا ہے۔ مایاوتی نے گذشتہ دنوں میں اپنے کئی وزرا ء اور ممبران اسمبلی کے ٹکٹ کاٹ کر ان کی جگہ نئے امیدواروں کو طے کرلیا ہے۔ ہمارا خیال ہے کہ بہن جی تھوڑی بوکھلاہٹ میں اب کام کررہی ہیں۔ ایسے موجودہ ممبران کو آخری وقت میں بدلنا پارٹی کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ان لوگوں نے مہینوں سے اپنے علاقوں میں کام کیا ہے، زمین تیار کی ہے، آخری وقت میں نئے امیدوار کے لئے ایسا کرپانا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ پھر ظاہر سی بات ہے کہ جن کوبے عزت کرکے ٹکٹ کاٹے گئے ہیں ان میں سے کچھ ضرور پارٹی کے نئے سرکاری امیدوار کو ہرانے کی کوشش کریں گے۔
Anil Narendra, Bahujan Samaj Party, Daily Pratap, Lokayukta, Uttar Pradesh, Vir Arjun

31 جولائی 2011

کانگریس پر یدی یروپا کی وداعی بھاری پڑسکتی ہے

Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 31st July 2011
انل نریندر
 کرناٹک کے وزیر اعلی بی ایس یدی یروپا کے استعفے سے کانگریس نے بھلے ہی ظاہری طور پرخوشی کا اظہار کیا ہولیکن اندرونی طور پر اسے بھاری تشویش ضرور ہوگی۔ اب تک کانگریس کے اپنے کئی وزیر اور وزراء اعلی کو یدی یروپا کی آڑ میں بچا رکھا تھا اور انہی کے نام پر وہ اپنے گھوٹالوں کو انصاف پر مبنی ٹھہرا رہی تھی لیکن یدی یروپا کے استعفے کے بعد کانگریس کے کئی وکٹ گرنے کا خطرہ منڈرانے لگا ہے۔ راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت اپنوں کو فائدہ دلانے کے الزام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ دہلی کی وزیر اعلی شیلا دیکشت اور ان کے سینئر وزیر راجکمار چوہان پہلے سے ہی لوک آیکت کے نشانے پر ہیں۔ ایسے میں جب بڑی اپوزیشن پارٹی بھاجپا نے اپنے محض ایک داغی وزیراعلی ہٹا دیا تو کانگریس کے اوپر بھی ایسے داغیوں پر کارروائی کرنے کا دباؤ ضرور بڑھے گا۔ یکم اگست سے شروع ہورہے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں اپوزیشن جارحانہ ہو سکتی ہے۔ اس دوران مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کے استعفے کی مانگ اٹھ سکتی ہے۔ ٹو جی اسپیکٹرم لائسنس الاٹمنٹ گھوٹالے کے الزام میں جیل میں بند سابق وزیر مواصلات اے راجہ نے عدالت میں مورچہ کھول دیا ہے۔ راجہ کے علاوہ سابق ٹیلی کام سکریٹری سدھارتھ بیہورہ کے بیان نے بھی سرکار کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ حکومت کو اس معاملے میں صفائی دینی پڑ رہی ہے۔ بیہورہ نے کہا کہ دسمبر2007 ء میں لائسنس فیس کو لیکر ہوئی میٹنگ میں ریزرو بینک کے گورنر سبا راؤ اور اس وقت کے وزیر مالیات پی چدمبرم موجود تھے۔ بیہورہ کے اس بیان پر مرکزی وزیر مواصلات کپل سبل کو صفائی دینی پڑی۔ اپوزیشن اب ان سبھی بیانات اور اطلاعات کو اکٹھے کرنے میں جٹ گئی ہے۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر اور پی اے سی کے چیئرمین ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی نے پہلے ہی چدمبرم کے خلاف مورچہ کھولا ہوا ہے ۔ وہ چدمبرم کو بھی ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے کا حصے دار بتاتے ہیں، ان کے استعفے کی مانگ کررہے ہیں۔ حالانکہ سرکار اس سلسلے میں حالات کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے آپریشن ڈمیج کنٹرول میں جٹ گئی ہے۔ اس کے لئے زمین تحویل ترمیم بل ، لوکپال بل سمیت دیگر بل پارلیمنٹ میں پیش کئے جانے کی حکمت عملی بنائی جارہی ہے تاکہ اپوزیشن کی دھار کو کمزور کیا جاسکے۔ یدی یروپا کے استعفے کے بعد اب کانگریس کے پاس کوئی اور ایسی بھاجپا کی مثال نہیں بچی جس سے وہ اپنا بچاؤ کرسکے۔
Tags: Anil Narendra, BJP, Congress, Daily Pratap, Karnataka, Lokayukta, Vir Arjun, Yadyurappa

30 جولائی 2011

آخرکار یدی یروپا کو جانا ہی پڑا


Daily Pratap, India's Oldest Urdu Daily
Published On 30th July 2011
انل نریندر
آخر کار بھاجپا ہائی کمان نے ہمت اور ہوشیاری دکھائی اور کرناٹک کے وزیر اعلی بی ۔ایس یدی یروپا کوہٹانے کا فیصلہ کرہی لیا۔ حالانکہ انہوں نے اپنی کرسی بچانے کیلئے سب طرح کے ہتھکنڈے اپنائے لیکن بھاجپا اعلی کمان کے آگے ان کی ایک نہ چلی۔ بھاجپا اعلی کمان نے بدھوار دیر رات ہی انہیں بتا دیا تھا کہ پارٹی چاہتی ہے کہ وہ اپنا عہدہ چھوڑ دیں ۔ اس کے بعد جمعرات کی صبح پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ میں انہیں وزیراعلی کے عہدے سے ہٹانے کے بارے میں کئے گئے فیصلے پر مہر لگادی گئی۔ پارٹی نے یدی یورپا کو ہٹانے کے بارے میں تب ہی ذہن بنا لیا تھا جب لوک آیکت جسٹس سنتوش ہیگڑے کی رپورٹ کے کچھ حصے افشا ہو گئے تھے۔ لیکن پارٹی چاہتی تھی کہ پہلے لوک آیکت اپنی رپورٹ باقاعدہ طور پر حکومت کو سونپ دیں۔ رپورٹ سپرد کرنے کے فوراً بعد ہی یدی یورپا کو دہلی طلب کیا گیا۔ انہیں کرسی چھوڑنے کو کہا گیا۔ یدی یورپا بغیر استعفیٰ دئے بنگلورو پہنچ گئے اور انہوں نے اپنی طاقت آزمائی کے لئے ممبران اسمبلی و وزرا کی میٹنگ بلائی ، جس میں ان کے ہاتھ مایوسی لگی۔ ان کی طلب کردہ میٹنگ میں کل13 ممبران اسمبلی ہی پہنچے تھے۔ دراصل بھاجپا ہائی کمان یدی یورپا کی چال کو سمجھ گیا تھا۔ ادھریدی یورپا سے ناراض گڈکری نے ممبران اسمبلی کو ان سے دوری بنانے کیلئے فون کردیا تھا۔ وزیروں کو صاف کہا گیا کہ اگر انہوں نے یدی یورپا کا اب بھی ساتھ دیا تو انہیں اگلی کیبنٹ میں نہیں لیا جائے گا۔ ہائی کمان نے ایم وینکیانائیڈو کو آپریشن یدی یورپا کیلئے بنگلورو روانہ کردیا۔ پارٹی کے سخت رویئے کو دیکھتے ہوئے یدی یورپا نے عہدہ چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا اور کہا کہ وہ 31 جولائی کو باقاعدہ استعفیٰ نامہ دیں گے۔ اکیونکہ 31 جولائی کو شکل پکش شروع ہورہا ہے۔ 30 جولائی کو اماوسیہ ہے اور جیوتشیوں نے انہیں شبھ مہورت میں استعفیٰ دینے کی صلاح دی ہے۔
یدی یورپا نے اپنے جانشین کے طور پر ممبر پارلیمنٹ سدانند گوڑا کا نام تجویز کیا ہے لیکن پارٹی جمعہ کو ہوئی ودھان منڈل کی میٹنگ میں نیتا کا فیصلہ کرنے والی تھی۔ تازہ اطلاع کے مطابق گوڑا کے نام پر یدی یورپا کے اختلاف کی وجہ سے یہ میٹنگ ٹل گئی ہے۔ دہلی سے ارون جیٹلی اور راجناتھ سنگھ کو مشاہد بنا کر بھیجا گیا۔ وزیر اعلی کے دعویداروں میں ایشورپا ، بی ایس آچاریہ، سریش کمار اور انند کمار بھی دعویدار ہیں۔ یدی یورپا لنگوت ہیں۔کرناٹک کی سیاست میںیہطبقہ کا فیصلہ کن کردار نبھاتا ہے۔اپنی اس ذات کی طاقت پر ہی یدی یورپا ہائی کمان کو بلیک میل کررہے تھے۔ ریاست کی کل آبادی میں لنگائیت قریب27 فیصد ہے جبکہ اس کے بعد دوسرے مقام پر ووک لنگ ہیں جو17 فیصد ہیں۔ سابق وزیر اعلی ایچ ڈی دیوگوڑا اسی طبقے سے آتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں یدی یورپالنگوت فرقے کے بڑے نیتا کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ کرناٹک بھاجپا اسمبلی پارٹی میں بھی 35 سے زیادہ ممبران اسمبلی اسی طبقے ہیں اور ممبران کے بلبوتے پر ہی اسمبلی چناؤ ہوں یا لوک سبھا چناؤ یا پنچایت چناؤ لنگوت کارڈ کھیل کر یدی یورپا بھاجپا کو چناؤ جیتانے کے ساتھ ساتھ اپنی جڑیں بھی جماتے رہے ہیں۔ بھاجپا کو جانشین چنتے وقت کرناٹک کے ذات پات کے تجزیوں کو ضرور ذہن میں رکھنا ہوگا۔ جہاں تک ممکن ہو یدی یورپا کا جانشین بھی لنگوت فرقے سے ہی ہوگا۔
کرناٹک کی سیاست میں ایک بہت بڑا سیکٹر ریڈی بندھو بھی ہیں۔ ان کی کہانی کسی فلمی سے کم نہیں لگتی۔ پولیس کانسٹیبل کے بیٹے جن کے پاس سائیکل خریدنے کی ہمت تھی ان کے پاس آج اپنا ہیلی کاپٹر ہے۔ سیاسی پکڑ ایسی کے وزیر اعلی یدی یورپا اور مرکزی لیڈر شپ بھی انہیں کنارے کرنے کی ہمت نہیں جٹا پارہی ہے۔ ان پر لوہے اور ابرق کے ناجائز کھدائی کرانے کے سنگین الزام لگے ہوئے ہیں۔ وہ قریب1500 کروڑ کے معدنیاتی کاروباری ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سال 2002 ء میں کھدائی اور اس کے درآمدات کے کاروبار میں اترنے کے بعد ان کی املاک اربوں میں ہے۔ اوبلا پورم مائننگ کمپنی کا مالکانہ حق کرناٹک کے وزیر سیاحت بی جناردن ریڈی کے پاس ہے تو یدی یورپا سرکار میں بڑے بھائی جی کروناکرن ریڈی وزیر محصول ہیں جبکہ چھوٹے بھائی سمیشور بلاری سے اسمبلی کے ممبر ہیں۔ سال2009 ء میں بھی ریڈی بندھوؤں نے یدی یورپا کے خلاف اس لئے بغاوت کردی تھی کہ انہیں بلاری میں اپنے من پسند افسران کی تقرری کا اختیار نہیں دیا گیا تھا۔ تب بھی سشما سوراج کی مداخلت سے معاملہ سلجھ گیا تھا۔ بھاجپا کے سینئر لیڈر کہتے ہیں کہ بلاری میں کانگریس کے گڑ کو توڑنے کے لئے بھاجپا کو ان کا سہارا لینا پڑا۔ ریڈی بندھوؤں کا سیاسی عروج بلاری پارلیمنٹ سیٹ سے پہلی بار کانگریس صدر سونیا گاندھی کے چناؤ لڑنے کے دوران ہوا تھا۔ بھاجپا نے سونیا کے خلاف سشما سوراج کو میدان میں اتارا تھا تب ریڈی بندھوؤں نے سشما کو کاچی ماں کا درجہ دیتے ہوئے ان کی جیت کے لئے ہر ممکن کوشش کی تھی۔ لیکن جیت سونیا گاندھی کی ہوئی۔ ریڈی بندھوؤں کے سشما سوراج سے رشتوں کو لیکر اکثر سوال اٹھتے رہے ہیں لیکن حال ہی میں سشما نے دو ٹوک الفاظ میں یہ کہہ دیا کہ ریڈی بندھوؤں سے ان کا کوئی کاروباری مفاد نہیں ہے۔ یدی یورپا کے جانشین کے چننے کے وقت بھاجپا اعلی کمان کو ریڈی بندھوؤں سے کیا سیاست اپنانی ہے اس پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا ۔ کیونکہ یہ سرکار بنانے اور اکھاڑنے میں اہم کردار نبھاتے آئے ہیں۔
Tags: Anil Narendra, Arun Jaitli, BJP, Daily Pratap, Hegde, Karnataka, Lokayukta, Rajnath Singh, Sushma Swaraj, Vir Arjun, Yadyurappa

پوتن سے جنگ ختم کرنے کی اپیل

جنگ انسانی تہذیب کی سب سے بڑی ٹریجڈیوں میں سے ایک ہے اور آج ایک نہیں کئی جنگیں چل رہی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ جنگ سے مسائل کا حل تو دور ا...